72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے محبوب1) تم فرماؤ کہ میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں میں سے ایک جماعت نے کان لگا کر میرا پڑھنا سنا تو (اپنی قوم میں واپس جاکر) انہوں نے کہا بیشک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے ۔

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

کہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے پس ہم اس پر ایمان لائے اور ہم (اب ) اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے ۔

جنات کا قرآن پر ایمان لانا۔ (ف 1) سورة احقاف میں گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے کئی جن ادھر سے گزرے اور قرآن شریف کی آواز کی سن کر فریفتہ ہوکرسچے دل سے ایمان لائے پھر اپنی قوم سے جاکرسب ماجرابیان کیا کہ ہم نے ایک کلام سنا ہے جو اپنی فصاحت وبلاغت ، حسن اسلوب، قوت تاثیر ، شریں بیانی طرز موعظت اور علوم ومضامین کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے معرفت ربانی رشد و فلاح کی طرف رہبری کرتا ہے اور طالب خیرکاہاتھ پکڑ کر نیکی اور تقوی کی منزل پر پہنچادیتا ہے اس لیے ہم سنتے ہی بلاتوقف فاس پر ایمان لائے اور ہم کو کچھ شک وشبہ نہیں رہا کہ یہ ایسا کلام اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اب ہم اس کی تعلیم وہدایت کے موافق عہد کرتے ہیں کہ آئندہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے ان کے اس تمام بیان کی آخرتک اللہ اپنے محبوب پر وحی فرمائی اس کے بعد گیارہ ہزار جنات کا قافلہ دین اسلام کی باتیں سکھنے آیا، آپ نے سورة رحمن پڑھ کر سنائی اور دین کی باتیں سکھلائیں۔
Ayahs 72:3–5

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا1 (کہ) ہمارے پروردگار کی بڑی شان ہے نہ اس کی بیوی کو اختیار کی اور نہ فرزند۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے بعض جاہل اللہ کی شان میں جھوٹ باتے کہتے تھے ۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارا (پہلے) یہ خیال تھا کہ انسان و جنات اللہ کی شان میں جھوٹ بات نہ کہیں گے ، (اس لیے ہم ان کی باتوں کی تصڈیق کرتے تھے) ۔

(ف 1) بیوقوف جن وانس حد سے بڑھ کر گستاخی کا یہ کلمہ جو اللہ کی شان میں کہتے تھے کہ اللہ صاحب اولاد ہیں ہم کو یہ گمان تھا کہ شاید وہ کلمہ جھوٹ نہیں کہتے مگر اب قرآن شریف کے سننے سے معلوم ہوا کہ اللہ کی عظمت کے مقابلہ میں اس کلمہ کا منہ سے نکالنا بڑی گستاخی ہے اور جن وانس میں سے جو یہ کلمہ کہتے ہیں ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے۔
Ayahs 72:6–7

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور2 یہ کہ بہت سے لوگ آدمیوں (یعنی بنی آدم) میں سے ایسے تھے ، کہ وہ جنات میں سے تھے بعضے مردوں کی پناہ لیتے تھے پس اس سے اور بھی ان جنوں کا تکبر بڑھا۔

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ جیسا انہوں نے گمان کیا ویسا ہی تمہیں گمان ہے کہ اللہ ہرگز کسی کو نہیں بھیجے گا۔

(ف 2) ایام جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ عرب کے لوگ مسافرت کی حالت میں جب کسی جنگل میں اترتے تو نعوذ لبید ھذالوادی من شرسفھاء قومہ کہا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس جنگل کے سردار سے ہم یہ حمایت چاہتے ہیں کہ اس سردار کی کوئی نادان جن ہماری جان اور مال کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائے۔ اسی دستور کو جنوں کی اس ٹکڑی نے یہ کہا کہ اس دستور نے جنات کے تکبر اور نخوت کو اور بڑھادیا کیونکہ اس دستور سے وہ سمجھنے لگے کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ انسان ہم سے حمایت چاہتے ہیں۔ یہ جنات کی ٹکڑی یہودی مذہب کی تھی اس لیے انہوں نے قرآن کو سن کر انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ کہا بعد عیسیٰ نہیں کہا۔ اس واسطے ان لن یبعث اللہ احدا کے مفسرین نے دو معنی کیے ہیں ایک تو یہ کہ ان جنات کا ویسا عقیدہ تھا جس طرح بنی آدم میں یہود کا عقیدہ تھا کہ قیامت تک کوئی ایسارسول نہ پیدا ہوگا جس کے سبب سے تورات کے احکام منسوخ ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ کفار کی طرح حشر کے منکر تھے حاصل یہ ہے کہ اس جنات کی ٹکڑی نے قرآن کے سننے کے بعد کہا کہ اب قرآن سے معلوم ہوا کہ اس نے ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے جو لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ تم سب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اور رتی رتی کا حساب دینا ہوگا، ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ جنات کا حال تو ایک دفعہ کے قران سننے سے یہ ہوا قریش باوجودیکہ انسان ہیں اور گھڑی گھڑی ان کو قران کی آیتیں سنائی جاتی ہیں جس پر ان کا یہ حال ہے کہ خود بھی قرآن کے منکر ہیں اور لوگوں کو بھی قرآن کی آیتیں سننے سے روکتے ہیں۔
Ayahs 72:8–9

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور1 ہم نے آسمان کو ٹٹولا (یعنی کلام سننے کے لیے آسمان دنیا پر جانا چاہا) پس ہم نے اسکو پایا مضبوط چوکیدار (فرشتوں) اور گرنے والوں ستاروں سے آسمان بھر دیا گیا ہے ۔

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم پہلے آسمانوں کے کچھ موقعوں پر (وہاں کی باتیں) سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے پس اب جو کوئی سنے تو اپنے لیے ایک تازہ (یعنی شعلہ) پائے۔

جنات کا آسمان پر نہ جانے کا سبب اور حضور کی نصیحت۔ (ف 1) قرآن شریف کے نازل ہونے کے قبل زمانہ جنات بعض روایوں کے موافق اول آسمان پر پہنچ کرچوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن کر آتے تھے اور ایک بات میں نوباتیں اپنی طرف سے ملاکرکاہن لوگوں کو کہہ دیتے تھے ، قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ ہوگیا، اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے آسمان تک جانے کا قصد کیا تو دیکھا کہ آج کل بہت سخت جنگی پہرے لگے ہوئے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے نہیں دیتے، اور جو شیطان ایسا ارادہ کرتا ہے اس پرچاروں طرف سے انگارے برستے ہیں اس سے پہلے اتنی سختی روک ٹوک نہ تھی اب اس قدر سخت ناکہ بندی اور انتظام ہے کہ جو سننے کا ارادہ کرے فورا شہاب ثاقب کے آتشیں گولے سے اس کا تعاقب کیا جاتا ہے اس کی تفسیر سورة حجر وغیرہ میں گذرچ کی ہے۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ1 ہم نہیں جانتے کہ اس سے زمین والوں کے حق میں کوئی برا مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے کوئی بہتری چاہی ہے ۔

(ف 1) ان جدید انتظامات اور سخت ناکہ بندیوں کو دیکھ کر حیرت میں تھے کہ یہ معاملہ کیا ہے کچھ نہ جانتے تھے کہ اتنی حراست کیوں ہے سوچتے تھے کہ گلشن تقدیر میں کیا نیاشگوفہ کھلا ہے نہیں جانتے تھے کہ خدا نے زمین والوں کے ساتھ کیا ارادہ کیا ہے ، آیا کوئی برائی کا قصد کیا گیا ہے کہ ہلاک کیے جائیں گے یا پروردگار بھلائی کا ارادہ فرما رہے ہیں کوئی رحمت و برکت نازل کرے گا جو ایسا بندوبست ہے کہ زمین پر آسمان کی خبر نہ آنے پائے اب جب قرآن شریف سنا تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم نزول اور محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے ہیں یہ انتظامات اس کا سبب ہوئے۔
Ayahs 72:11–17

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور2 یہ کہ (قرآن سننے کے بعد) کچھ تو ہم میں سے نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے ہیں ہم مختلف فرقے ہیں۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہم ہرگز زمین میں اللہ کو عاجز نہ کرسکیں گے اور بھاگ کر ہم اس کو ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے۔

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت (یعنی قرآن) سنی اس پر ایمان لائے، پس جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اس کو نہ کسی نقصان (یعنی ثواب کی کمی) کا اندیشہ ہے اور نہ کسی کی (بدیوں کی) زیادتی کا۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہیں اور کچھ گنہگار (یعنی کافر) ہیں، پھر جو کوئی مسلمان ہوگیا پس انہوں نے بھلائی کا رستہ تلاش کرلیا۔

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو گنہگار (یعنی کافر) ہیں پس وہ دوزخ کے ایندھن بن گئے۔

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور اے محبوب تم فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر بنی آدم سیدھے رستے پر رہتے بیشک ہم انہیں بہت سا پانی (یعنی رزق) دیتے۔

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم ان کو اس میں آزمائیں اور جس کسی نے اپنے پروردگار کی یاد سے منہ موڑا تو اللہ اس کو سخت عذاب میں داخل کردے گا۔

(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی طرح کاٹوٹا نہ ہوگا۔ کہ اس کی کوئی نیکی اور محنت یوں ہی رائگاں چلی جائے اور نہ زبردستی کسی دوسرے کے جرائم اس کے سرتھوپ دیے جائیں ، غرض وہ نقصان ، تکلیف اور ذلت ورسوائی سب سے مامون و محفوظ رہے گا، اور جو نافرمان ہیں وہ آخر کو دوزخ کا ایندھن بنیں گے ، اب جنات کے اس تذکرہ میں قریش کو یہ ارشاد ہے کہ اے محبوب ﷺ ان لوگوں سے کہہ دو کہ جس طرح مجھ کو یہ وحی اللہ کی طرف سے آئی ہے جنات کے ایک گروہ نے قرآن سنا اور وہ ایمان لے آئے اسی طرح یہ وحی آئی ہے کہ اگر ان جنات کی طرح یہ لوگ بھی سیدھے راستے پر آجائیں تو یہ قحط کی آفت ان پر سے ٹل سکتی ہے اور ان کی شکرگزاری آزمانے کے لیے ان کے رزق میں اچھی فراخی کردی جاتی، انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ عادت الٰہی جاری ہے کہ جو اللہ کی نصیحت نہیں مانتا، اللہ اسے ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جو روز بروز بڑھتا چڑھتا ہے ۔ مثلا کبھی مکہ کا سات برس کا قحط ہے کبھی بدر کی لڑائی اور قید کی آفت۔ پھر سب سے بڑھ کر دوزخ کا عذاب۔ جس کے بڑھنے چڑھنے کا کچھ ٹھکانہ نہیں ابن ماجہ ، مستدرک حاکم وغیرہ میں روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کم تولنے اور زکوۃ کے نہ ادا کرنے سے قحط پڑتا ہے۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور1 یہ کہ مسجدیں سب اللہ ہی (کی عبادت) کے لیے مخصوص ہیں پس2 اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔

(ف 1) یوں تو خدا کی ساری زمین اس امت کے لیے مسجدبنادی گئی ہے لیکن خصوصیت سے وہ مکانات جو مسجدوں کے نام سے خالص عبادت کے لیے بنائے جاتے ہیں ان کو اور زیادہ امتیاز حاصل ہے۔ (ف 2) جیسا یہودونصاری کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے گرجاؤں اور عبادت خانوں میں شرک کرتے تھے۔
Ayahs 72:19–23

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور3 جب اللہ کا خاص بندہ (یعنی محمد) اللہ کی عبادت کرنے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ (قرآن سننے کے لیے) موجود ہوجائیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ میں اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں۔

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

تم فرماؤ : (اگر میں حکم الہی پہنچانے میں کوتاہی کروں تو) ہرگز مجھے اللہ سے کوئی نہ بچائے گا اور میں اس کے لیے سوا کوئی پناہ (کی جگہ) نہ پاؤں گا۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

لیکن (میرا کام تو ) اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانا اور اس کے پیغام سنا دینا (ہے) اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بیشک اس کے لیے ودزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

(3) جب خدا بندہ کامل محمدرسول اللہ ﷺ خدا کی عبادت کو اس کی یاد کو کھڑے ہوتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں تو ٹھٹھہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں ، یعنی جب حضور بطن نخلہ میں قران پڑھ رہے تھے تو جن آئے اور حضرت کو دیکھ کر اور اپنے مقصود کو پاکر محبت سے تعجب سے قرآن سننے کو، رسول اللہ کا جمال پاک دیکھنے کو جمگھٹ کرکے حضرت کے اوپر جھکے پڑتے ہیں گویا حضرت پر فرط شوق میں گرپڑیں گے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(لیکن یہ کفار باز نہ آئیں گے )1 یہاں تک کہ جب (عذاب کو) دیکھیں گے جس کا وعدہ دیا جاتا ہے ، پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار زیادہ کمزور ہے اور کسی کی گنتی کم ہے ؟

(ف 1) اے محبوب ﷺ ان کو اس وقت تک مہلت دو جبکہ عذاب آجائے جب وہ اس عذاب الٰہی کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ ہے تو اس وقت جان جائیں گے کہ کمزور کون ہے قوی کون، کس کے مددگار کم ہیں کس کے زائد وہ زمانہ بھی قریب ہے۔
Ayahs 72:25–26

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ2 مجھے خبر نہیں آیا قریب ہے جس (عذاب کا) تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا میرا پروردگار اسے کچھ وقفہ دے گا۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب کا جاننے والا تو اپنے علم غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔

علم غیب کا ذکر۔ (ف 2) شان نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اس کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور فرمایا اے محبوب ﷺ تم ان عذاب کے جلد باز لوگوں کو جواب دیدو کہ میں نہیں جانتا کہ جس کا تم سے وعدہ ہے قریب ہے یا یہ کہ اس کے لیے خدا نے ایک وقت معین بنایا ہے کچھ مدت بعد اپنے وقت پر آئے گا، عالم الغیب حقیقی تو خدا ہی ہے وہی وقت نزول عذاب جانے وہ اپنی غیبی باتوں پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر رسولوں میں سے جس کو پسند کرتا ہے اور برگزیدہ بناتا ہے کہ ان کو اپنے کارخانہ قدرت کے اسرار وغیب جتنے چاہے بتادیتا ہے اور یہ علم غیب ان کے لیے معجزہ ہوتا ہے۔ اولیاء کو بھی اگرچہ غیب پر اطلاع دی جاتی ہے مگر انبیاء کا علم باعتبار کشف وانجلا اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا اور ارفع واعلی ہے ، اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وساطت اور انہی کے فیض سے ہوتے ہیں ، معتزلہ ایک گمراہ کن فرقہ ہے اور وہ اولیاء کے لیے علم غیب کا قائل نہیں اس کا خیال باطل اور احادیث کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تمسک صحیح نہیں بیان مذکورہ بالا میں اس کا ارشاد کردیا گیا ہے ۔ سیدالرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ رسولوں میں سب سے اعلی ہیں اللہ نے آپ کو تمام اشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحیح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور ﷺ کے اور تمام مرتضی رسولوں کے لیے غیب کا علم ثابت کرتی ہے۔
Ayahs 72:27–28

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوا اپنے پسندیدہ رسولوں میں سے کہ اس کے1 آگے اور اس کے پچھے فرشتوں کا حفاظت کے لیے پہرہ مقرر کردیتا ہے ۔

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ اللہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے اور جو کچھ ان کے پاس ہے سب اللہ کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی کر رکھی ہے ۔

(ف 1) اب یہاں سے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ رسولوں کو جو وحی پہنچائی جاتی ہے اس وحی کی حفاظت کا خدا کی طرف سے آسمان و زمین پر بہت بڑا انتظام ہے آسمان پر جگہ جگہ فرشتے تعینات ہیں جو حی کی خبر چوری سے سننے والے جنات پرچاروں طرف سے انگارے برساتے ہیں اور کوئی وحی کی خبر چوری ان کو سننے نہیں دیتے۔ آسمان سے زمین پر جب وحی کی خبرآتی ہے تو اللہ کے رسول کے اردگرد ہر طرف فرشتے اس بات کی چوکسی کرتے ہیں کہ ان میں کوئی شیطانی دخل نہ ہونے پائے۔ یہ سب انتظام اللہ نے ظاہری اسباب کے طور پر فرمایا ہے ورنہ علم باطنی کے طور پر ذرہ ذرہ سب اس کو معلوم ہے کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں جو چیز مخلوقات کی نظروں سے غائب ہے اس کو غیب کہتے ہیں عذاب قبر، جنت دوزخ یہ سب غیب کی چیزیں ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوذر ؓ جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ سے فرمایا جنت اور دوزخ کا جوحال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ تم کو معلوم ہوجائے تو تم ہنسا بالکل کم کردو، ہر وقت روتے رہو، بستی کو چھور کر جنگل کو چلے جاؤ، اور ہر دم اللہ سے لولگائے رہو، اس سے معلوم ہوا کہ بعض غیب کی باتیں دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لیے سوائے نبی ﷺ کے ان کی امت کے لوگوں پر تفصیل سے ظاہر نہیں کی گئیں۔