72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تدبر قرآن۔۔۔۔ ٧٢۔۔۔ الجن۔۔۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔ سورة کا عمود، سابق سورة سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ یہ سورة سابق سورة نوح کی توام سورة ہے۔ دونوں کی عمود میں کوئی بنیاد فرق نہیں ہے۔ قوم نوح کے لیڈروں نے جس ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا۔ پیغمبر کی دعوت سے جس طرح انہوں نے اپنے کان بند کرلیے اور پھر اس کا جو انجام ان کے سامنے آیا اس کی نہایت ہی موثر اور عبرت انگیز تصویر قریش کے لیڈروں کے سامنے سورة نوح میں رکھ دی گئی ہے۔ اب اس سورة میں ان کو یہ دکھایا جا رہا ہے کہ جس قرآن سے وہ اس درجہ بیزار ہیں کہ اس کو سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، منہ نوچ لینے کو جھپٹتے اور دامن جھاڑ کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اسی کو سن کر جنوں کی ایک جماعت اس قدر اثر پذیر ہوتی ہے کہ وہ فوراً اپنی قوم کے اندر اس کی دعوت پھیلانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جنوں کے جس واقعہ کا حوالہ یہاں ہے اس کا ذکر سورة احقاف کی آیت ٢٩، ٣٢ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس کو سنانے سے مقصود ایک تو قریش کی غیرت دلانا ہے کہ جنات، جو قرآن کے براہ راست مخاطب بھی نہیں ان کا حال تو یہ ہے کہ کبھی سررا ہے بھی ان کے کانوں میں اس کی بھنک پڑگئی ہے تو وہ اس کو سن کر تڑپ اٹھے اور ایک تم ہو کہ خاص تمہارے ہی لیے یہ اترا اور تمہی کو اس کی دعوت دینے کے لیے اللہ کا رسول اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہے لیکن تم ایسے بد قمست ہو کہ اس کی کسی بات کا تمہارے دلوں میں اترنا تو درکنار تم اس کے سنانے والوں کے جانی دشمن بن گئے ہو۔ دوسرا مقصد اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے اشرار اس قرآن کی ناقدری کر رہے ہیں تو آپ اس سے آر زدہ خاطر نہ ہوں۔ جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں وہ اس سے فیضاب نہیں ہوں گے، خواہ آپ کتنے ہی جتن کریں۔ البتہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہوگی ان کے کانوں میں اگر اتفاق سے بھی اس کے کچھ کلمات پڑجائیں گے تو وہ ان کے اندر گھر کرلیں گے، خواہ وہ اس کے مخاطب ہوں یا نہ ہوں اور خواہ ان کو سنانے کے لیے کوئی اہتمام کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ جنوں کے جس تاثر کا اس راہ میں حوالہ دیا گیا ہے اس سے اگرچہ وہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے جو صرف محسوسات کے غلام ہیں اور جو ان چیزوں کے سرے سے وجود ہی کے منکر میں جو ان کے محسوسات کے دائرہ سے باہر ہیں لیکن اس طرح کے لوگ یہاں مخاطب بھی نہیں ہیں۔ یہاں مخاطب مشرکین قریش ہیں جو اتنے بلید نہیں تھے کہ صرف انہی چیزوں کو مانیں جنہیں چھوتے اور دیکھتے ہوں۔ وہ جنوں کو نہ صرف مانتے تھے بلکہ ان سے رابطہ رکھنے کے لیے انہوں نے کہا نت کا پورا نظام قائم کر رکھا تھا اس وجہ سے قرآن نے ایک اہم واقعہ کی حیثیت سے ان کو جنوں کے یہ تاثرات سنائے کہ وہ چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھائے۔ کاہنون کے واسطے سے وہ جنوں کے اشرار کی القار کی ہوئی جھوٹی خبریں سنتے تھے۔ قرآن نے ان کے سامنے ان کے اخیار کی ایک سچی رپورٹ رکھی تاکہ جن کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی کچھ صلاحیت ہے وہ اس سے ایمان کی طرف رہبری حاصل کریں۔ قرآن نے غیب کے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ اسی مقصد سے بیان کیے ہیں کہ حق کے طالب ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگرچہ محسوسات پرست اس کو واہمہ کی خلاقی قرار دیں گے لیکن نا اہلوں کی ناقدری کے سبب سے قدرت خلق کو اپنی فیض بخشی سے محروم نہیں کرتی۔

Ayah 72:1

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

کہہ دو مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کو سنا تو انہوں نے اپنی قومی کو بتایا کہ ہم نے ایک نہایت دل پذیر قرآن سنا

جنوں کے تاثرات کی اطلاع پیغمبرؐ کو وحی کے ذریعہ ہوئی: ’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں وہ نبی ﷺ کو براہ راست جنوں کی زبانی نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوئے۔ ان کی ایک جماعت نے سرِ راہے کہیں نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے سنا جس کی کشش نے ان کے دلوں کو اس طرح موہ لیا کہ وہ اس کے سننے میں ہمہ تن محو ہو گئے اور پھر اس دل پذیر کلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پلٹے تو اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوئے۔ واقعہ کو سنانے کا مقصد: یہ کس موقع کا ذکر ہے؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ اسی واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورۂ احقاف میں ہوا ہے۔ وہاں روایات کی روشنی میں اس کے موقع و محل کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ جنوں کے ان تاثرات کی آپ کو اس لیے اطلاع دی گئی کہ اپنی قوم کو آپ سنا دیں کہ جس کلام بلاغت نظام کے ساتھ تمہارا سلوک یہ ہے کہ اس کو سن کر تم کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور اس کے سنانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہو درآنحالیکہ یہ کلام تمہارے ہی لیے اترا ہے، اس کلام کو سن کر ذی صلاحیت جنات اس طرح اس کے عاشق ہو جاتے ہیں کہ اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ وہ براہ راست اس کے مخاطب بھی نہیں۔ لفظ ’قُلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جنوں کے ان تاثرات سے نبی ﷺ کو اس مقصد سے آگاہ فرمایا گیا کہ آپ قریش کے لیڈروں کو یہ سنا دیں کہ ان کو کچھ غیرت آئے۔ ضمناً اس میں آپ کے لیے تسلی بھی ہے کہ نااہلوں کی ناقدری سے آپ آزردہ نہ ہوں۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس میں قصور نہ اس کلام کا ہے نہ آپ کا بلکہ یہ خود ان لوگوں کے اپنے دلوں کے فساد کا نتیجہ ہے۔ جنوں کی دعوت اپنی قوم کو: ’فَقَالُوْا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا‘۔ یہ وہ دعوت ہے جو انھوں نے اس کلام کو سننے کے بعد اپنی قوم کو دی۔ یعنی اس کو سن کر وہ صرف واہ واہ کر کے نہیں رہ گئے بلکہ انھوں نے حق کی قدردانی اور اپنی قوم کی خیرخواہی کا یہ لازمی تقاضا سمجھا کہ جس نعمت آسمانی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند فرمایا اس سے وہ اپنی قوم کو بھی بہرہ مند کریں۔ ’عَجَبٌ‘ مصدر ہے اس وجہ سے ’عجیب‘ کے مقابل میں اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ لفظ انھوں نے اس کلام کی دل پذیری، اثر انگیزی اور حکمت آفرینی کے پہلو سے استعمال کیا۔ عربی میں یہ لفظ صرف کسی شے کے انوکھے پن کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ اس کی دل پذیری اور اثر انگیزی کے پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ اسی پہلو سے آیا ہے۔ سورۂ احقاف میں یہی بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: قَالُوْا یَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا کِتَابًا أُنۡزِلَ مِنۡ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الاحقاف ۴۶: ۳۰) ’’اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اپنے پہلے کی پیشین گوئیوں کی مصداق بنا کر نازل کی گئی ہے جو حق اور ایک بالکل سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔‘‘ اس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جنات صرف اپنی ہی زبان نہیں بلکہ جس علاقہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس علاقہ کے انسانوں کی زبان بھی سمجھتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس زبان کے حسن و قبح کے اچھی طرح پرکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔
Ayah 72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

قرآن کی دعوت رُشد: یہ قرآن کی اسی دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ ’عجیب‘ اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی یہ کتاب اس حق و ہدایت کی طرف رہنمائی کر رہی ہے جس کو ہر سلیم الفطرت کا دل قبول کرتا ہے۔ سورۂ احقاف کی مذکورہ بالا آیت میں ’یَہْدِیْ إِلَی الْحَقِّ وَإِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں اسی مضمون کے لیے جامع لفظ ’رُشْدٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ان تمام بنیادی عقائد اور نیکیوں پر حاوی ہے جو انسانی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ انسان اپنے اختیار کے سوء اعمال سے اپنی فطرت بگاڑ نہ لے تو یہ اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کرتی ہے اور اگر غفلت کے سبب سے ان پر کبھی حجاب بھی آ جاتا ہے تو وہ معمولی تذکیر و تنبیہ سے دور ہو جاتا ہے بشرطیکہ انسان نفس کی خواہشوں کی پیروی میں اس کی ناقدری نہ کرے۔ اس ’رُشْدٌ‘ میں سب سے اونچا مقام توحید کا ہے۔ تمام بنیادی عقائد و اعمال کا منبع بھی وہی ہے اور اسی پر ان کی صحت کا مدار بھی ہے۔ رشد کا حق: ’فَاٰمَنَّا بِہٖ‘۔ یہ انھوں نے اس ’رُشْدٌ‘ کا حق بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت سے ہمیں آگاہ فرمایا تو ہم نے اس کا یہ فطری حق سمجھا کہ ہم اس پر ایمان لائیں، چنانچہ ہم نے اس کو صدق دل سے قبول کر لیا۔ رشد کا سرچشمہ: ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘۔ تمام رشد کا سرنامہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، توحید ہی ہے چنانچہ انھوں نے اس رشد پر ایمان کا تقاضا یہ بیان کیا کہ اب ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم کسی کو اپنے رب کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام بنیادی عقائد اور نیکیاں نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان مشترک ہیں بلکہ قرآن میں یہ وضاحت ہے کہ یہ تمام کائنات میں مشترک ہیں۔ ہمارے اور جنوں کے درمیان فرق ہے تو معاشرتی احکام میں ہے۔ توحید، معاد، جزا و سزا اور فضائل و رذائل میں فرق کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ انہی چیزوں کا یہاں ذکر آیا ہے اور قرآن نے مکی زندگی کے ابتدائی دور میں انسانی فطرت کے انہی ابتدائی مطالبات کی لوگوں کو دعوت بھی دی۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے نہ کوئی اولاد

یہ انھوں نے اپنے قول ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘ کی مزید وضاحت کر دی کہ اب ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ہمارے رب کی شان بیوی بچوں کی نسبتوں سے بالکل پاک اور نہایت ارفع ہے۔ نادان ہیں وہ لوگ جو اس طرح کی چیزیں اس سے منسوب کرتے ہیں۔ اس نے نہ اپنے لیے کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی اولاد۔ ’جد‘ کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔ یعنی اس کی ذات اتنی بلند ہے کہ کوئی چیز اس کی شریک و سہیم اور ہمہ رتبہ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بے نیاز اور ہر چیز سے مستغنی ہے۔ کسی کا یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہم سر ہو سکے۔ یہ قول اگرچہ جنات ہی کا ہے اس وجہ سے اس کو ’فَقَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا‘ کے تحت ہی ہونا چاہیے تھا لیکن نبی ﷺ کو یہ باتیں براہ راست نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوئیں اس وجہ سے اس کو ’قُلْ اُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّہٗ‘ کے تحت کر دیا گیا اور آگے جنات کے سارے اقوال اسی کے تحت آئیں گے۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارا بیوقوف سردار اللہ کے بارے میں حق سے بالکل ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے

سفیہ لیڈروں کی پیروی سے اجتناب کی دعوت: ’سَفِیْہٌ‘ کے معنی بے وقوف کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ جنوں نے اپنے سردار کے لیے استعمال کیا ہے اس لیے کہ قرآن سن لینے کے بعد اپنے سردار کی سفاہت ان پر واضح ہو گئی۔ ’شَطَطٌ‘ حق و عدل سے نہایت دور ہٹی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ جنوں پر جب توحید کی حقیقت واضح ہو گئی تو انھوں نے اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ ہمارا بدھو سردار اللہ تعالیٰ جل شانہٗ پر حق سے نہایت دور ہٹی ہوئی یہ تہمتیں جڑتا رہا ہے کہ اس کے بیوی بھی ہے اور اولاد بھی ہے، فلاں اور فلاں اس کے بیٹے اور فلاں اور فلاں اس کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ہم نے جو قرآن سنا ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہمارے احمق سردار کی یہ باتیں بالکل بے بنیاد تھیں۔ چنانچہ ہم نے ان خرافات سے توبہ کر لی اور ہم قوم کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ لوگ اس طرح کی باتوں سے توبہ کریں اور اس سفیہ کے چکمے میں نہ آئیں۔ اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ جنات عوام کے طبقہ سے تھے۔ ان کے سردار جس ڈگر پر ان کو چلاتے رہے اس پر وہ چلتے رہے لیکن جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی تو انھوں نے پوری ایمانی جرأت سے ان کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردنوں سے نکال پھینکا اور اللہ کی بنائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑے۔ آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے قریش کے عوام کو یہ باتیں اس لیے سنائی گئیں کہ ان کے اندر بھی اپنے احمق لیڈروں کے پھندے سے نکلنے اور اپنی عقل و بصیرت پر اعتماد کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن خدا پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتے

مغالطہ پر تنبیہ: یہ اس مغالطہ کی طرف اشارہ ہے جس کے سبب سے وہ اپنے ان سرداروں کے چکر میں پھنسے رہے۔ کہا کہ ہم نے گمان کیا کہ بھلا انسان اور جنات اللہ تعالیٰ پر یہ تہمت باندھنے کی جسارت کس طرح کر سکتے ہیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا اور ان کو مستحق عبادت ٹھہرایا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ جسارت کی اور ہم اپنی سادگی کے سبب سے ان کے چکموں میں آ گئے۔ یہ ان کی طرف سے اپنی قوم کے عوام کو آگاہی ہے کہ اپنے ان پروہتوں کے تقدس کے فریب میں مبتلا ہو کر اپنی عقل کو معطل نہ رکھ چھوڑو بلکہ اپنی سمجھ سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کہ مچھلی کے نام سے یہ تمہیں سانپ پکڑا دیں۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو جنوں میں سے بعض کی دہائی دیتے رہے ہیں تو انہوں نے ان کی شامت ہی میں اضافہ کیا

انسانوں کی بعض حماقتوں کی طرف اشارہ: اسی سلسلہ میں انھوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنا یہ انکشاف بھی بیان کیا کہ اس قرآن سے ہمیں یہ علم بھی ہوا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ افراد کی دہائی دیتے رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کچھ نفع پہنچنے کے بجائے ان کی شامت اور بدبختی ہی میں اضافہ ہوا۔ ’رَہَقٌ‘ کے اصل معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے ہیں۔ یہیں سے اس کا استعمال زیادتی، گناہ، حق تلفی اور تعدی کے معنی میں وسیع ہو گیا۔ چنانچہ آگے آیت ۱۳ میں یہ لفظ تعدی کے معنی میں آیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ کچھ بے وقوف انسانوں نے جنوں کی دہائی دے کر ان کے دماغ کو عرش پر پہنچا دیا ہے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اول تو اس کلام کا کچھ فائدہ سمجھ میں نہیں آتا ثانیاً لفظ ’رَہَقٌ‘ کے اصل مفہوم سے اس میں تجاوز بھی ہے۔ میرے نزدیک ’زَادُوْا‘ کا فاعل ’رِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ‘ اور ’ہم‘ کا مرجع ’رِجَالٌ مِّنَ الْإِنۡسِ‘ ہے یعنی بے وقوف انسانوں نے تو جنوں کی پناہ اس لیے ڈھونڈی کہ وہ ان کی آفتوں سے اپنے کو بچائیں لیکن جنوں نے جب دیکھا کہ کچھ انسان ان کے جال میں پھنسے ہیں تو انھوں نے اپنے شر سے محفوظ رکھنے کے بجائے ان کو اور تگنی کا ناچ نچایا۔ عرب کے مشرکین میں جنات سے متعلق یہ وہم تھا کہ وہ غیب کی خبریں معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں چنانچہ اسی چیز نے ان کے ہاں کہانت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا جس کی بنیاد تمام تر، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، جھوٹ اور فریب پر تھی۔ کاہن اپنے جال میں پھنسے ہوئے بے وقوفوں میں سے جس کو ڈرا دیتے کہ فلاں خطرناک جن تم پر بہت برہم ہے، اگر تم نے اس کے لیے فلاں چیز کی قربانی یا اتنی نذر نہ گزرانی تو وہ آفت میں مبتلا کر دے گا تو وہ لازماً ان کے حکم کی تعمیل کرتا۔ یہاں تک کہ انہی کاہنوں کے حکم سے بعض بے وقوف لوگ جنوں کو راضی کرنے کے لیے اپنی اولاد تک کو، جیسا کہ سورۂ انعام میں ذکر ہے، قربان کر دیتے۔ اسی نوع کا ایک دوسرا وہم یہ پایا جاتا تھا کہ ہر وادی اور ہر پہاڑی جنوں کے کسی خاص گروہ کا مسکن ہوتی ہے۔ اگر اس وادی میں رات گزارنے کی نوبت آئے تو ضروری ہے کہ اس کے سردار جن کی پناہ حاصل کر لی جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ کسی آفت میں مبتلا کر دے۔ چنانچہ دور جاہلیت میں اہل عرب جب کسی وادی میں شب گزارتے تو اس وادی کے سردار جن کی دہائی دے کر، اپنے گمان کے مطابق، اس کی پناہ حاصل کر لیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک خواہ مخواہ کی مصیبت تھی جس میں جنوں کے وہم نے ان کو مبتلا کر رکھا تھا۔ اسی طرح کی باتوں کی طرف ان مومن جنوں نے اشارہ کیا ہے اور ان کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ توحید کے شعور سے محرومی کے باعث بے وقوف اور شریر جنوں میں کس طرح گٹھ جوڑ رہا ہے اور اس سے کیا کیا روحانی و مادی مفاسد ظہور میں آ رہے تھے جن کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب نازل فرمائی ہے۔ لفظ ’رِجَالٌ‘ کی تنکیر تحقیر اور تفخیم دونوں پر دلیل ہو سکتی ہے۔ آپ یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ بے وقوف ہمارے اندر کے کچھ بے وقوفوں کی دہائی دیتے تھے اور یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ شریر ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے تھے بلکہ یہ معنی بھی اگر لیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ احمق ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے ہیں تو یہ بھی عربیت کے خلاف نہیں ہو گا۔
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ انہوں نے بھی تمہاری ہی طرح یہ گمان کیا کہ اللہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ کرنے والا نہیں ہے

توحید کے بعد قیامت کا حوالہ: توحید کے بعد یہ قیامت کے باب میں انھوں نے دونوں گروہوں کی غلط فہمی کی طرف اشارہ کیا کہ جس طرح تم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو زندہ نہیں کرے گا اسی طرح انسان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ جس طرح تمہارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر بھیجنے والا نہیں ہے اسی طرح انسانوں کے اندر یہ بھی غلط فہمی موجود تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول نے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا۔ اگرچہ آیت کے الفاظ کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ بات کھٹکتی ہے کہ قرآن کے اولین مخاطبوں میں، خواہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، پچھلی پیشین گوئیوں کی بنا پر ایک رسول کی بعثت کا انتظار تھا۔ اگرچہ اہل کتاب نے ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کا انکار نہ کر سکے۔ بنی اسماعیل کے اندر، ان کی امیت کے سبب سے، اس رسول کا تصور کچھ واضح نہیں تھا لیکن قطعیت کے ساتھ انکار انھوں نے بھی نہیں کیا۔ چنانچہ قرآن کے بعض مقامات میں ان کو ملامت فرمائی گئی ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے پہلے تو تم بڑھ چڑھ کر دعویٰ کرتے تھے کہ تمہارے اندر اللہ نے کوئی رسول بھیجا تو تم اس کی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرنے والے اور اس کی ہدایت پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے بنو گے لیکن جب اللہ نے اس نعمت سے تمہیں نوازا تو تم اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
Ayahs 72:8–9

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں کچھ سن گن لینے کو بیٹھا کرتے تھے پر اب جو بیٹھے گا تو وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔

ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ جنوں کے اس ذاتی تجربہ سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے تو گھات لگانے کی کچھ گنجائش تھی لیکن جس دور کا وہ یہ تجربہ بیان کر رہے ہیں اس دور میں آسمان کا ہر گوشہ پہرہ داروں اور شہابوں سے اس طرح بھر دیا گیا تھا کہ جنوں کے لیے دراندازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جنوں نے کائنات میں اس اہم تغیر کا ذکر تو کیا لیکن قوم کے سامنے اس کا کوئی سبب وہ نہیں بتا سکے۔ اس کی وجہ آگے کی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کی حکمت ان پر اچھی طرح واضح نہیں تھی۔ تاہم نزول قرآن کے واقعہ کے ساتھ اس واقعہ کو ملا کر انھوں نے لوگوں کو یہ تاثر دے دیا کہ آسمان کے نظام میں یہ تبدیلی بھی قرآن کے نزول ہی سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا یہ قیاس صحیح تھا۔ قران کے متعدد مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسمان میں جو پہرا اس کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے وہ نزول وحی کے زمانے میں نہایت سخت کر دیا گیا تھا تاکہ ان کو وحی میں کسی دراندازی کی راہ نہ ملے۔ یوں تو یہ پہرا ہمیشہ ہی رہا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے بھی شیاطین پر شہابوں کی مار پڑتی رہی ہے لیکن جس طرح حکومتیں اس شاہراہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دیتی ہیں جس پر سے شاہی خزانہ لے جایا جانے والا ہو یا بادشاہ کی سواری گزرنے والی ہو اسی طرح وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد و شد کے دور میں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ اچکوں کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔ جنوں کی اس اطلاع کا ذکر قرآن نے یہاں مشرکین عرب کے سامنے اس لیے کیا ہے کہ وہ قرآن پر یہ الزام جو لگاتے ہیں کہ یہ کاہنوں کے طرز کا کلام ہے جو نعوذ باللہ کوئی جن پیغمبرؐ پر القاء کرتا ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی تردید کے لیے خود جنوں کا یہ بیان کافی ہے کہ اس دور میں آسمان سے کوئی خبر لانا تو درکنار اس کے اندر ان کے جو ٹھکانے تھے اب ان تک پہنچنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ زمین والوں کے لیے کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے

اہل زمین کے لیے ایک مبارک قِران کی طرف اشارہ: ان جنوں پر نظام کائنات میں اس اہم تبدیلی کی اصل علت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اچھی طرح واضح نہیں تھی اس وجہ سے انھوں نے اس کی کوئی قطعی وجہ بیان کرنے کے بجائے اس پر صرف اپنے تردد کا اظہار کیا کہ اگرچہ اس کا سبب ہم پر واضح نہیں ہے تاہم یہ زمین میں کسی اہم انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ انقلاب اہل زمین کے لیے سبب شر ہو گا یا اس میں ان کے رب کی طرف سے کوئی بڑا خیر مضمر ہے تو اس کا فیصلہ مستقبل کرے گا۔ اگرچہ انھوں نے بربنائے احتیاط اپنی رائے واضح نہیں کی لیکن اسلوب کلام شاہد ہے کہ اہل زمین کے لیے انھوں نے اس کو ایک فال نیک سمجھا۔ چنانچہ شر کا ذکر تو انھوں نے مجہول کے اسلوب میں کیا لیکن رشد و ہدایت کی توقع کا ذکر بصیغۂ معروف ’اَمْ أَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا‘ کے الفاظ سے کیا۔ ان دونوں اسلوبوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے ادب و احترام کے پہلو سے جو فرق ہے اس کی وضاحت سورۂ کہف کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ یہاں خاص طور پر جو بات نگاہ میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کا ظن غالب یہ نہ ہوتا کہ اس میں اہل زمین کے لیے خیر ہے تو اس دوسرے فقرے کو بھی پہلے فقرے کی طرح مجہول کے مبہم اسلوب ہی میں کہتے۔ لیکن قرآن اور اس تبدیلی کو پہلو بہ پہلو دیکھ کر ان کا ذہن اسی طرف گیا کہ یہ دونوں واقعے اہل زمین کے لیے ایک ہی نوع کے ہیں اور یہ قِرانُ السعدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بھی نیک اور اس سے مختلف قسم کے لوگ ہیں، ہماری راہیں الگ الگ ہیں

وصل و فصل کی بنیاد ایمان و عمل پر ہونی چاہیے: یعنی اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کر دیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہم میں سب ایک ہی راہ پر چلنے والے نہیں ہیں بلکہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان اور کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہماری قوم اور قبیلہ کا ہے وہ ہمارا ہے، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، نیک ہے یا بد۔ یہ گویا انھوں نے اپنی قوم کے ان لوگوں سے اعلان براء ت کیا ہے جو ان کی اس دعوت ایمان کے بعد بھی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہنے کے لیے ضد کریں۔ اس طرح کا اعلان تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوموں کے سامنے کیا اور ہر دور کے مصلحین نے بھی انبیاء علیہم السلام کی اس سنت کی پیروی کی جس کی ایک واضح مثال اصحاب کہف کا رویہ ہے جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے۔ ’طَرَائِقُ‘ کے معنی راستے اور مسلک و مذہب کے ہیں اور ’قِدَدٌ‘ کے معنی متفرق کے۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے مان لیا کہ ہم اللہ کے قابو سے نہ زمین میں کہیں جا کر نکل سکتے اور نہ آسمان میں کہیں بھاگ کر

انسان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے: دعوت کے بعد یہ انھوں نے اپنی قوم کو انذار کیا کہ ہم پر یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ ہر وقت ہم خدا کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ جب چاہے ہمیں پکڑ سکتا ہے۔ نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے اور نہ آسمانوں میں کہیں بھاگ کر اس کے قابو سے نکل سکتے۔ اس آیت میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، بعض مقابل الفاظ محذوف ہیں جو قرینہ سے سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً پہلے ٹکڑے میں ’فِی الْأَرْضِ‘ ظاہر کیا گیا تو دوسرے ٹکڑے میں ’فِی السَّمَآءِ‘ حذف کر دیا گیا۔ اسی طرح دوسرے میں ’ہَرَبًا‘ کا لفظ آیا تو پہلے ٹکڑے میں اس کا مدمقابل حذف ہو گیا۔ ترجمے میں یہ محذوفات ہم نے کھول دیے ہیں۔ اردو میں یہ اسلوب غیر معروف ہے اس وجہ سے محذوفات کھولے بغیر مطلب ادا نہیں ہوتا۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی ہم اس پر ایمان لائے۔ پس جو اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی زیادتی کا

ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی: یہ قوم کے سامنے انھوں نے اپنی مثال پیش کی ہے کہ جب یہ ہدایت بخش دعوت ہمارے کانوں میں پڑی تو ہم نے اپنے اوپر یہ واجب سمجھا کہ اس کی قدر کریں چنانچہ ہم اس پر ایمان لائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی روش ان تمام لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے جن کے اندر حق و ہدایت کے لیے احترام موجود ہے جو لوگ اس سے بھاگیں گے ان کا اعراض گواہی دے گا کہ وہ اپنی عقل کے بجائے اپنی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ’فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَہَقًا‘۔ ’بَخْسٌ‘ کے معنی کمی کرنے اور ’رَہَقٌ‘ کے معنی، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، زیادتی کرنے کے ہیں۔ یہی مضمون معمولی تغیر کے ساتھ ’فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَلَا ہَضْمًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۱۲) کے الفاظ میں بھی ادا ہوا ہے۔ یہ انھوں نے دعوت ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اطمینان رکھیں کہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کا بھرپور صلہ دے گا، نہ ان کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہو گا نہ کسی تعدی کا۔ جو کچھ جس نے کیا ہو گا وہی اس کے سامنے آئے گا۔ ’فَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْرًا یَرَہٗ ۵ وَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ‘ (الزلزال ۹۹: ۷-۸)
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےراہ بھی تو جنہوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کی انہوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈی

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےراہ ہوئے تو وہ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔

خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ: یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ورنہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس کے خلق کے نزدیک معاذ اللہ نیکی اور بدی دونوں یکساں ہیں۔
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ قریش سیدھی راہ پر گامزن رہتے تو ہم ان کو خوب خوب سیر اب کرتے

کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف: جنوں کے تاثرات و اقوال کا حوالہ دینے کے بعد یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا۔ پہلی آیت میں لفظ ’قُلْ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ قرآن اور اس کی دعوت کے متعلق جنوں کی یہ باتیں آپ قریش کے ناقدروں اور مغروروں کو پہنچا دیں۔ اس کے بعد اب براہ راست قریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر استوار رہتے تو یہ خسارے کا سودا نہیں تھا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی راہ یہی ہے۔ ہم اس کے صلے میں ان پر اپنی رحمت کی گھٹائیں برساتے۔ ’مَآءٌ غَدَقٌ‘ کے لغوی معنی تو وافر پانی کے ہیں لیکن عربی میں یہ تعبیر ہے رزق و فضل کے بہتات کی۔ اس کی مثالیں پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہیں۔ سابق سورہ میں فرمایا ہے: اِسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ۵ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمۡ مِّدْرَارًا ۵ وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَارًا (نوح ۷۱: ۱-۱۲) ’’اپنے رب سے مغفرت مانگو۔ وہ نہایت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر اپنے ابرکرم کے دونگڑے برسائے گا اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تمہارے لیے باغ بھی پیدا کرے گا اور نہریں بھی جاری کرے گا۔‘‘ یہ قریش کے اس وہم کا ازالہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خوش حالی کو اپنے بتوں کا فیض سمجھتے اور ڈرتے ہیں کہ اگر قرآن کی دعوت انھوں نے قبول کر لی تو مال و اولاد کی جس فراوانی سے وہ بہرہ مند ہیں اس سے محروم ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ ان کی نادانی ہے کہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو انھوں نے اپنے فرضی دیوتاؤں سے منسوب کر رکھا ہے۔ یہ نعمتیں سب اللہ کی عنایت کردہ ہیں اور اس نے ان کی ناشکریوں کے باوجود جب ان سے ان کو بہرہ مند کیا تو شکرگزاری کی روش اختیار کرنے کے بعد بدرجۂ اولیٰ نہ صرف ان کو باقی رکھے گا بلکہ اس میں افزونی فرمائے گا۔ توحید کی راہ ایک جانی پہچانی راہ ہے: ’عَلَی الطَّرِیْقَۃِ‘ سے مراد توحید کی صراط مستقیم ہے۔ اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ گویا یہ ایک جانی پہچانی راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اس لیے کہ انسان کی فطرت اس کی گواہ ہے۔ عقل اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے، آفاق و انفس اس کی گواہی دے رہے اور اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں نے اسی راہ کی دعوت دی ہے۔
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

کہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور جو اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے تو وہ ان کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا

ایک برسر موقع تنبیہ: یہ برسر موقع ایک تنبیہ ہے کہ اس دنیا میں ہم رزق و فضل سے کسی کو جو بہرہ مند کرتے ہیں تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ اس سے مقصود اس کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار اور فرماں بردار رہتا ہے یا ناشکرا اور مغرور و متکبر بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کے یہ مغرور لیڈر اس واضح حقیقت کو فراموش کر بیٹھے۔ انھوں نے ان نعمتوں کو اپنا موروثی حق جانا اور اس غرور کے نشہ میں انھوں نے اس یاددہانی سے منہ موڑا جو اللہ نے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے نازل فرمائی۔ ’وَمَنْ یُعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا‘۔ یہ اسی کے ساتھ کی دوسری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کے غرور میں مبتلا ہو کر جو لوگ اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے وہ یاد رکھیں کہ اللہ ان کو ایک ایسے عذاب میں داخل کرے گا جو برابر ترقی ہی کرتا رہے گا۔ ’ذِکْرٌ‘ سے مراد یہاں قرآن ہے جس کی ناقدری پر قریش کو اوپر کی آیات میں ملامت کی گئی ہے۔ یہ لفظ قرآن کے لیے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ’عَذَابًا صَعَدًا‘ کے معنی لوگوں نے عام طور پر، ’عذاب شدید‘ کے لیے ہیں لیکن لفظ ’صَعَدٌ‘ کا اصل مفہوم ترقی کرنا ہے۔ اس وجہ سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اپنی کتاب کی تکذیب کی پاداش میں جن کو پکڑتا ہے ان کی سزا وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتی بلکہ اس میں برابر ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔ اس دنیا میں جس عذاب سے وہ دوچار ہوتے ہیں اس سے بڑے عذاب سے ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اور پھر آگے ان کے عذاب کی شدت میں ترقی ہی ہوتی رہے گی۔ اس کے ختم یا اس میں بالتدریج کمی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی عبادت کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائو

سجدہ گاہ صرف اللہ ہی کے لیے ہو سکتی ہے: اوپر والی آیت میں کلام غائب کے اسلوب میں تھا۔ اس آیت میں براہ راست خطاب کر کے متنبہ فرمایا کہ مسجدیں صرف اللہ کی عبادت کے لیے خاص ہوتی ہیں ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کا شریک عبادت نہ بناؤ۔ یہ توحید کا مضمون اس انذار ہی کا حصہ ہے جو اوپر والے ٹکڑے میں مضمر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جب اعراض کرنے والوں کو پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے یہ فرضی دیوی دیوتا بچانے والے نہیں بنیں گے تو اللہ کی مساجد کو ان کی پوجا سے آلودہ نہ کرو۔ عبادت کا سزاوار چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے، کوئی دوسرا سزاوار عبادت نہیں ہے اس وجہ سے ہر مسجد اپنے مقصد تعمیر ہی سے اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہوتی ہے۔ نہ اس کے سوا کسی اور کے لیے مسجد تعمیر ہو سکتی، نہ کسی مسجد میں غیر اللہ کی عبادت ہو سکتی۔ لفظ ’مساجد‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں خطاب قریش سے ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس کا مصداق اول بیت اللہ ہے۔ اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہی تمام مساجد کا قبلہ اور ان کا شیرازہ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جمع سے تعبیر کرنے کے سبب سے یہ حکم بالکل عام ہو گیا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۱۷ ’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَنۡ یَعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللّٰہِ‘ میں بھی یہی اسلوب بیان ہے۔ وہاں بھی ’مَسَاجِدَ اللّٰہِ‘ کا مصداق اول بیت اللہ ہی ہے لیکن حکم کو عام کرنے کے لیے اس کو تعبیر جمع کے لفظ سے فرمایا ہے۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ صرف اللہ ہی کو پکارتا کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس پر پل پڑیں گے

سب سے زیادہ مانوس چیز اجنبی بن کر رہ گئی ہے: یعنی ہونا تو یہ تھا کہ بیت اللہ میں غیر اللہ کا نام بھی سنا نہ جا سکتا لیکن اس کے بالکل برعکس صورت حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ صرف اپنے رب ہی کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ ’لِبَدٌ‘ جمع ہے ’لِبْدَۃٌ‘ کی، جس کے معنی کسی تہ بہ تہ اور گتھم گتھا شے کے ہیں۔ یہ تصویر ہے اس بات کی کہ جو گھر خالص اللہ واحد کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا اب اس میں بھی توحید ایک ایسی نامانوس چیز بن کے رہ گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور توحید خالص کی تعلیم پر مشتمل سورتوں کی تلاوت کرتا ہے تو لوگ اس کو ایک اعجوبہ یا دیوانہ سمجھ کر ہر سمت سے گھیر لیتے ہیں۔ بعینہٖ یہی صورت اس وقت بھی پیش آتی جب آپ دعوت کے لیے نکلتے اور لوگوں کو توحید کی سورتیں سناتے۔ اس وقت بھی شریر افراد آپ کو گھیر لیتے اور آپ کی توہین کرنے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتے۔ ’عَبْدُ اللّٰہِ‘ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس لفظ میں آپ کے لیے پیار بھی ہے اور اس حقیقت کا اظہار بھی کہ اللہ کے بندے کے لیے سب سے زیادہ معقول اور فطری کام کوئی ہو سکتا ہے تو یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اللہ ہی کو پکارے لیکن دنیا کا ضمیر اس طرح بگڑ چکا ہے کہ یہی سب سے زیادہ صحیح اور اعلیٰ کام لوگوں کے لیے ایک نہایت انوکھا اور ناگوار کام بن کے رہ گیا ہے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائوں گا۔

پیغمبر صلعم کی طرف سے فیصلہ کن اعلان: یہ آنحضرت ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ خواہ یہ لوگ کتنے ہی کان کھڑے کریں اور کتنا ہی برا مانیں لیکن تم ان کی مطلق پروا نہ کرو بلکہ ان کو صاف صاف سنا دو کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، کسی کو بھی اس کا ساجھی نہیں ٹھہراؤں گا، خواہ تم نے ان کو کتنا ہی بڑا خدا کا شریک کیوں نہ سمجھ رکھا ہو۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہہ دو میں نہ تمہارے لیے کسی ضرر پر کوئی اختیار رکھتا نہ کسی نفع پر

فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری دعوت سے نفور ہو، میری بات سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔ میں داعی بنا کر بھیجا گیا ہوں، تم پر داروغہ مقرر نہیں ہوا ہوں۔ نہ تمہارا نفع و ضرر میرے اختیار میں ہے نہ تمہاری ہدایت و ضلالت۔ میں صرف اللہ کی بات پہنچانے پر مامور ہوں سو یہ کام کر رہا ہوں۔ اس سے زیادہ میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہاں اسلوب کی یہ ندرت ملحوظ رہے کہ ’ضَرًّا‘ کے بعد ’نَفْعًا‘ اور ’رَشَدًا‘ کے مقابل ’غَیًّا‘ کو حذف کر دیا ہے اس لیے کہ تقابل خود اس پر دلیل ہے۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہہ دو مجھے اللہ سے کوئی پناہ دینے والا نہیں بنے گا اور نہ میں اس کے سوا کوئی ملجا پا سکوں گا۔

یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر میں تمہاری نازبرداری میں یا تم سے مرعوب ہو کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ اپنے رب پر ایسے افتراء کا ارتکاب کروں گا جو سب سے بڑا جرم ہے اور جس کی سزا سے نہ مجھے کوئی دوسرا پناہ دینے والا بنے گا اور نہ میں ہی اپنے لیے کوئی ملجا و ماویٰ اس کے مقابل میں پا سکوں گا۔
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

بس اللہ کی طرف سے پہنچا دینا اور اس کے پیغاموں کی ادائیگی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

اس آیت کا تعلق اوپر والی آیت ’لَا أَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا‘ سے ہے۔ یعنی میں نہ تمہارے مطالبہ پر تمہیں عذاب دکھا سکتا اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ بے کم و کاست میں تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تمہیں آگاہ کر دوں۔ ’رِسَلٰتِہٖ‘ کا عطف ’بَلٰغًا‘ پر ہے۔ ’بَلَاغٌ‘ کے بعد اس لفظ کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ میرا فریضۂ منصبی صرف بے کم و کاست پہنچا دینا ہے۔ نہ بلاغ کے سوا تمہاری ہدایت و ضلالت سے متعلق مجھ پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ مجھے یہ اختیار حاصل ہے کہ تمہاری خاطر خدا کے احکام میں سرمو کوئی رد و بدل کر سکوں۔ ’وَمَنْ یَعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَإِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَدًا‘۔ یعنی یہ فرض بلاغ ادا کر دینے کے بعد میں بری الذمہ ہو جاؤں گا۔ جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑے رہیں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے اس چیز کو جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے تب وہ جانیں گے کہ مدد گاروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور تعداد کے لحاظ سے سب سے حقیر کون ہے !

یعنی آج تو ان لوگوں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت اور جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے؟ وہ، یا اللہ کا رسول جس کے انذار کو انھوں نے حقیر جانا؟ ’مَا یُوْعَدُوْنَ‘ کے مفہوم میں وہ عذاب بھی داخل ہے جو رسول کی تکذیب کی پاداش میں لازماً اس کی قوم پر اس دنیا میں آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے قیامت میں سابقہ پیش آئے گا۔ سورۂ نوح کی آیت ۲۵ میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دو ، مجھے کچھ نہیں پتہ کہ جس چیز سے تمہیں آگاہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہی ہے یا میرا رب ابھی اس کو کچھ مدت اور ٹالنے والا ہے۔

یعنی جو لوگ عذاب یا قیامت کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں اور تمہیں زچ کرنے کو پوچھتے ہیں کہ اس کا ظہور کب ہو گا ان کو جواب دے دو کہ خدا نے مجھے اس سے صرف آگاہ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ سو میں نے اس سے آگاہ کر دیا۔ رہی یہ بات کہ اس کا ظہور کب ہو گا تو اس کی کوئی خبر مجھے نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ بالکل قریب آ لگا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ میرا رب کچھ مدت کے لیے اس کو ابھی اور ٹالے۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

یعنی حقیقی عالم غیب وہی ہے۔ اس نے جس غیب کے علم کو اپنے لیے خاص کر رکھا ہے اس کو کسی پر بھی ظاہر نہیں کرتا۔ ’عَلٰی غَیْبِہٖ‘ میں ہر غیب مراد نہیں بلکہ وہ غیب مراد ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی لیے خاص کر رکھا ہے، مثلاً عذاب و قیامت کے وقت مقررہ کا علم۔ اس طرح کی باتوں کا علم اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ اور رسولوں پر بھی ظاہر نہیں کرتا۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

رہے وہ جن کو وہ رسول کی حیثیت سے انتخاب فرماتا ہے تو وہ ان کے آگے اور پیچھے پہرہ رکھتا ہے

رہے اللہ کے رسول جن کو وہ منصب رسالت کے لیے انتخاب فرماتا ہے تو ان کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں تمام اسرار غیب سے آگاہ کر دے۔ فریضۂ رسالت کے ادا کرنے کے لیے ان کا غیب دان ہونا ضروری نہیں ہے البتہ ان کے آگے اور پیچھے وہ اپنا پہرہ رکھتا ہے تاکہ وہ دیکھتا رہے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغام و احکام بے کم و کاست پہنچا دیے یا نہیں؟ یہ استثناء عام معنی میں استثناء نہیں ہے بلکہ یہ اس طرح کا استثناء ہے جس طرح کا سورۂ غاشیہ میں ہے۔ فرمایا ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۴) ’’پس تم ان کو یاددہانی کر دو۔ تم تو بس ایک یاددہانی کرنے والے ہو۔ تم ان کے اوپر داروغہ نہیں مقرر ہوئے ہو۔ رہا وہ جو پیٹھ پھیرے اور کفر کرے گا تو اللہ اس کو عذاب اکبر کا مزا چکھائے گا۔‘‘ اسی طرح ’اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی‘ ہے۔ اہل نحو اس کو استثنائے منقطع کہتے ہیں۔ یعنی یہ سابق سے الگ بات ہوتی ہے جس کی وضاحت اس خبر سے ہوتی ہے جو اس کے بعد آتی ہے۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

کہ دیکھے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے اور وہ ان کے گرد و پیش کا احاطہ کیے اور ہر چیز کو شمار میں رکھے ہوتا ہے۔

’یَعْلَم‘ یہاں اسی مفہوم میں آیا ہے جس مفہوم میں ’حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنۡکُمْ‘ (محمد ۴۷: ۳۱) اور اس مفہوم کی دوسری آیتوں میں آیا ہے۔ اسی مفہوم میں ’لِنَنْظُرَ کَیْْفَ تَعْمَلُوْنَ‘ (یونس ۱۰: ۱۴) میں لفظ ’نَنْظُرَ‘ بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یوں تو جانتا سب کچھ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ جس کے باطن میں جو کچھ ہے وہ باہر آئے اور وہ اچھی طرح اس کا امتحان کر لے۔ ’وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْْہِمْ وَأَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا‘۔ یعنی وہ رسول کی تحویل میں جو امانت اپنے دین اور اپنی وحی کی دیتا ہے اس کو پوری طرح اپنی نگرانی میں رکھتا ہے۔ ایک ایک چیز کو گنے ہوئے ہوتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے شمار سے رہ جائے۔