72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 72:1–17

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، لوگوں سے) کہو کہ مجھے وحی ہوئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (مجھے قرآن پڑھتے ہوئے) سنا پھر (اپنی قوم کے لوگوں سے جا کر) کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے نہ تو کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے اور نہ بیٹا۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارا بیوقوف (سردار ابلیس) اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہتا رہا ہے۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے تو یہ سمجھا تھا کہ (کیا) آدمی اور (کیا) جن، (کوئی بھی) اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے بعض لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، تو (اس طرح) ان آدمیوں نے ان (جنوں) کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان آدمیوں نے بھی ویسا ہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو سخت پہروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم آسمانی ٹھکانوں میں سن گن لینے کے لئے (جا) بیٹھا کرتے تھے (لیکن) اب کوئی سننے کا قصد کرے تو وہ ایک شہاب (کے گولے) کو گھات میں (لگا ہوا) پاتا ہے۔

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ (اس انتظام سے) زمین والوں کے لئے کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب کا ارادہ ان کے حق میں بھلائی کرنے کا ہے۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ غرض ہم بھی مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ (اب) ہم نے سمجھ لیا کہ نہ تو ہم زمین میں (رہ کر) اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ (کسی طرف) بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی (تو) اس پر ایمان لے آئے۔ پس جو شخص اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خدشہ نہ ہوگا۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ تو مسلمان (ہو گئے) ہیں اور کچھ (بدستور سابق) بےراہ ہیں۔ تو جنہوں نے اسلام قبول کرلیا انہوں نے بھلائی کی راہ ڈھونڈ نکالی۔

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےراہ ہیں وہ دوزخ کا ایندھن (بننے والے) ہیں۔

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، لوگوں سے کہو کہ اللہ فرماتا ہے کہ) اگر لوگ (دین کے) سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو (پانی کی ریل پیل سے) خوب سیراب کرتے۔

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس (نعمت) سے ہم ان کو آزمائیں۔ اور جو شخص اپنے رب کی یاد سے روگردانی کرے گا تو اللہ اسے سخت عذاب میں داخل کرے گا۔

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی (کی عبادت) کے لئے ہیں تو (لوگو ان میں) اللہ کے ساتھ کسی (اور) کو نہ پکارو۔

[2] یعنی اللہ کے سوا کسی اور سے دعا نہ مانگو اور نہ کسی اور کو مدد کے لئے پکارو۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر پل پڑینگے۔

[3] مراد ہیں نبی ﷺ ۔ [4] یعنی ہونا تو یہ تھا کہ بیت اللہ میں غیر اللہ کا نام بھی نہ سنا جاسکتا لیکن اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ صرف اپنے رب ہی کی عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔
Ayahs 72:20–21

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہارے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا۔

[5] یعنی کہیں مجھ کو ہی مقصود اور پھر اس طرح مسجود و معبود نہ سمجھ لینا۔ میرے اختیار میں تو اتنا بھی نہیں کہ تم پر عذاب لے آؤں یا ایمان لانے پر تمہیں مجبور کر دوں۔ افسوس، '' یاروں نے بت شکن کو ہی بت بنا کر چھوڑا '' کا معاملہ انبیاء کی تاریخ میں باربار دہرایا جاتا رہا ہے اور آج کل کے مسلمانوں کا بھی اپنے نبی کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔
Ayahs 72:22–24

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ اللہ (کے غضب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ اس (کے دامن) کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے۔ اب جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو بلاشبہ اس کے لئے جہنم کی آگ ہے، (ایسے لوگ) اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(یہ کافر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے تو اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور (کس کا) جتھا (تعداد میں) کم ہے۔

[6] یعنی قیامت۔ [7] یعنی آج تو کافروں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت و جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے، وہ یا اللہ کا رسول جس کی تنبیہ کو انہوں نے حقیر جانا۔
Ayahs 72:25–27

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ نزدیک ہے یا میرے رب نے اس کے لئے کوئی مدتِ (دراز) رکھی ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب کا جاننے والا وہی ہے سو وہ اپنی غیب کی باتیں کسی پر ظاہر نہیں کیا کرتا۔

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے اس پیغمبر کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو، تو اس کے آگے پیچھے محافظ (فرشتے) لگا دیتا ہے۔

[8] اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر بذات خود عالم الغیب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو فریضہ رسالت کے انجام دینے کے لئے منتخب فرماتا ہے تو غیب کی باتوں میں سے جن کا علم چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ ان (فرشتوں) نے اپنے رب کے پیغام (ٹھیک ٹھیک) پیغمبر تک پہنچا دئیے، اور اللہ ان (محافظوں) کے تمام احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس نے تمام چیزوں کی گنتی (تک اپنی نظر میں) کر رکھی ہے۔

[9] یعنی اللہ تعالیٰ یوں تو جانتا سب کچھ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ جس کے باطن میں جو کچھ ہے وہ باہر آئے اور وہ اچھی طرح اس کا امتحان کرے۔ [10] یعنی وہ پیغمبر کی تحویل میں اپنی وحی کی جو امانت دیتا ہے اسے پوری طرح اپنی نگرانی میں رکھتا ہے اور اس کے ایک ایک حرف کو گنے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کی یہ مجال نہیں کہ اس میں تغیر ّ و تبدل کرسکے۔ یہ پہرے چوکیاں بھی شان حکومت کے اظہار اور بہت سی حکمتوں پر مبنی ہیں ورنہ جس کا علم ہر چیز پر حاوی ہو اسے ان چیزوں کی احتیاج نہیں۔