73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 73:1–4

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑے میں لپٹنے والے۔

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات (کے وقت نماز) میں کھڑے رہا کرو مگر (ساری رات نہیں بلکہ) کم۔

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

(یعنی) آدھی رات یا اس سے (کچھ) کم کرلیا کرو

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ بڑھا دیا کرو، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔

[2] جس وقت ان آیات کا نزول ہوا نبی ﷺ چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ ﷺ کی اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب آپ ﷺ پاؤں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ ﷺ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔
Ayahs 73:5–7

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

یقینا ہم تم پر عنقریب ایک بھاری کلام (کا بوجھ) ڈالنے والے ہیں۔

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کا اٹھنا (نفس کو) خوب زیر کرتا ہے اور (قرآن) پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

(اور) بیشک دن کے وقت تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں۔

[3] یعنی قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل کرنے والے ہیں۔
Ayahs 73:8–9

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام لیتے رہو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

(جو) رب ہے مشرق و مغرب کا۔ کوئی معبود اس کے سوا نہیں، پس اسی کو (اپنا) کارساز بنائے رکھو۔

[4] دن کے وقت مشغولیت کا ذکر کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ '' اپنے رب کا نام لیتے رہو '' خودبخود یہ مفہوم ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں ہر طرح کے کام کرتے ہوئے بھی اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہ رہو۔
Ayahs 73:10–14

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور ان باتوں پر صبر کرو جو یہ (کافر تمہاری نسبت) کہتے ہیں اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہو۔

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور چھوڑ دو ہم کو اور ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں کو (ہم ان سے نپٹنے کے لئے کافی ہیں) ۔ اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے پاس (ان کے جکڑنے کے لئے) بیڑیاں اور (ان کو جھونک دئیے جانے کے لئے) دوزخ ہے۔

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور (ان کے کھانے کے لئے) گلے میں اٹکنے والا کھانا اور (بہت قسموں کے) عذاب دردناک (موجود) ہیں۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

(اور یہ عذاب ان کو اس دن ہوں گے) جب زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے ریت کے بھُربھُرے ٹیلے۔

[5] یعنی ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظرانداز کردو اور ان کی کسی بدتمیزی کا جواب نہ دو ۔
Ayahs 73:15–16

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(لوگو، ) بیشک ہم نے تمہارے پاس ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر (دیکھ لو جب) فرعون نے اس پیغمبر کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔

[6] رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول و فعل سے حق کی شہادت دیں اور روز آخرت اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دین حق پیش کردیا تھا۔
Ayahs 73:17–19

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

پس اگر تم (بھی رسول کے بھیجے جانے کے بعد) کفر (کا طریقہ اختیار) کرو گے تو اس دن (کی مصیبتوں) سے کیسے بچ سکو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس (کی سختی) سے آسمان پھٹا جا رہا ہوگا۔ یہ (اللہ کا) وعدہ ہے جسے پورا ہو کر ہی رہنا ہے۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

بیشک یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے پس جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف (جانے کا) راستہ اختیار کرلے۔

[7] عربی محاورے میں کنایہ ہے غایت شدت وہیبت سے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات نماز میں کھڑے رہتے ہو اور تمہارے ساتھیوں میں سے (بھی) ایک گروہ (یہ عمل کرتا ہے) ۔ اور رات اور دن کا (ٹھیک) اندازہ اللہ ہی کرسکتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کرسکتے۔ سو اس نے تمہارے حال پر عنایت کی (اور وقت کی قید اٹھا دی) تو (اب تہجد میں) جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے بعض آدمی بیمار ہوں گے اور بعض اللہ کے فضل کی تلاش میں ملک میں سفر کریں گے اور بعض اللہ کی راہ میں (دشمنوں سے) لڑتے ہوں گے تو (بہرکیف) جتنا قرآن (تہجد میں) آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور (زکوٰۃ کے علاوہ) اللہ کو اچھا قرض (بھی) دیا کرو۔ اور جو نیکی (بھی) اپنے لئے پہلے سے (زاد آخرت بنا کر) بھیجو گے اس کو اللہ کے ہاں (موجود) پاؤ گے (کہ) وہ (تمہارے حق میں دنیوی فائدوں سے) بہت بہتر اور اس کا اجر بھی بہت بڑا ہے۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو، بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[8] یعنی تم ٹھیک نہیں جان سکتے کہ کتنی رات آئی اور کتنی گئی۔ یہ ان وقتوں کا ذکر ہے جب گھڑی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور رات کے وقت خصوصاً جب آسمان پر گھٹا چھائی ہو وقت کا تعین مشکل تھا۔ [9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 169 صفحہ 112 اور سورة حدید حاشیہ 18 صفحہ 1330۔ [01] مطلب یہ ہے کہ تم نے آخرت کے لئے اپنے آگے جو کچھ بھیج دیا وہ تمہارے لئے اس سے زیادہ نافع ہے جو تم نے دنیا میں ہی روک کر رکھا اور کسی بھلائی کے کام میں اللہ کی رضا کی خاطر خرچ نہ کیا۔