74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 74:1–4

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے کپڑے میں لپٹنے والے،

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور (لوگوں کو اللہ کے عذاب سے) ڈراؤ۔

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرو۔

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔

[1] اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اپنے کپڑے نجاست سے پاک رکھو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو، یعنی اس میں فخروغرور، نمائش، ٹھاٹھ باٹ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہو۔ ارشاد کا چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو، یعنی اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور گندگی سے دور رہو۔

[2] گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے۔ خواہ وہ عقائد و اخلاق کی گندگی ہو خواہ جسم و لباس کی۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے

[3] یعنی تبلیغ رسالت کا احسان لوگوں پر نہ جتاؤ اور اس کا کوئی فائدہ اپنی ذات کے لئے حاصل نہ کرو۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور (تبلیغ رسالت میں جو مشکلات پیش آئیں ان پر) اپنے رب (کی رضاجوئی) کے لئے صبر کرو۔

[4] سورت کے شروع میں یہ سات آیتیں وہ ہیں جن میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ دین کا حکم دیا گیا۔ سورة اقراء کی ابتدائی آیتوں کے بعد یہ دوسری وحی ہے جو آپ پر نازل ہوئی۔
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی

[5] '' صور '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طہٰ حاشیہ 45 صفحہ 740۔
Ayahs 74:9–11

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ دن بڑا سخت ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

ہلکا نہ ہوگا کافروں کے حق میں۔

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) چھوڑ دو ہم کو اور اس (نابکار) کو جسے ہم نے اکیلا پیدا کیا

[6] یعنی ہم اس سے نپٹنے کے لئے کافی ہیں۔ [7] یعنی بغیر مال و اولاد کے اور مراد اس سے ولید بن مغیرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اولاد فراوانی کے ساتھ دی تھی اور جو عرب کا سردار مانا جاتا تھا اور خود اپنے آپ کو بطور فخروتکبر وحید ابن الوحید (یعنی یکتا کا بیٹا یکتا) کہا کرتا تھا کہ قوم میں نہ میری کوئی نظیر ہے نہ میرے باپ مغیرہ کی مگر اس ظالم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور قرآن کو کلام الٰہی یقین کرلینے کے باوجود اس نے جھوٹی بات بنائی اور قرآن کو سحر اور رسول اللہ ﷺ کو ساحر کہا۔
Ayahs 74:12–17

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور (پھر) اس کو بہت سا مال دیا

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور حاضر باش بیٹے دئیے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور (اس طرح) اس کے لئے (عزت اور سیادت کے حصول کی) راہ ہموار کردی

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

اس پر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ ہم (اس کو کچھ) اور (بھی) دیں گے۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بیشک وہ تو ہماری آیتوں کا مخالف نکلا۔

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اسے عنقریب صعود پر چڑھائیں گے

[8] صعود دوزخ کی ایک پہاڑی کا نام ہے۔ دوزخی اس پر چڑھے گا اور پھر گرے گا۔ گرے گا اور پھر چڑھے گا۔ عذاب کی یہ صورت دائمی رہے گی۔
Ayahs 74:18–25

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

بیشک اس نے سوچا پھر ایک بات تجویز کی۔

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

تو (اللہ کی) مار اس پر، کیسی بات تجویز کی۔

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

ہاں (اللہ کی) مار اس پر، کیسی بات تجویز کی۔

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس نے نظر دوڑائی

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

آخرکار بولا کہ یہ تو بس (ایک قسم کا) جادو ہے جو (اگلوں سے) چلا آتا ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو محض انسانی کلام ہے۔

[9] روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ کسی قدر متاثر ہوا مگر ابو جہل نے اسے ورغلایا اور قریش میں چرچا ہونے لگا کہ ولید اگر مسلمان ہوگیا تو بڑی خرابی ہوگی۔ غرض سب جمع ہوئے اور آپ ﷺ کے بارے میں گفتگو کی۔ کسی نے آپ ﷺ کو شاعر کہا اور کسی نے کاہن بتلایا۔ ولید بولا کہ میں فن شعر میں خود بہت بڑا ماہر ہوں اور کاہنوں کی باتیں بھی سب سنی ہیں۔ قرآن نہ شعر ہے نہ کہانت۔ لوگوں نے کہا آخر تیری کیا رائے ہے ؟ کہنے لگا ذرا سوچ لوں۔ آخر تیوری چڑھا کر اور منہ بنا کر کہا کہ کچھ نہیں بس جادو ہے جو بابل والوں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے۔ ان آیات میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 74:26–28

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو دوزخ میں جھونک دیں گے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم کیا سمجھے کہ دوزخ ہے کیا چیز ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی

[10] یعنی کافروں میں سے کسی کو باقی رہنے نہ دے گی کہ اس کی گرفت میں آئے بغیر رہ جائے اور جو بھی اس کی گرفت میں آئے گا اسے عذاب دئیے بغیر نہ چھوڑے گی۔
Ayahs 74:29–31

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال جھلس دینے والی۔

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

انیس (کارکن) اس پر مقرر ہیں

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے یہ کارکن (آدمی نہیں بلکہ) فرشتے ہی بنائے ہیں اور ان کی (انیس کی) گنتی (بھی) اس غرض سے ٹھہرائی ہے کہ یہ آزمائش بنے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آجائے اور اہل ایمان کا ایمان اور بڑھ جائے اور اہل کتاب اور اہل ایمان (ان باتوں میں کسی طرح کا) شبہ نہ لائیں، اور جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ اور کفار (یہ سن کر) بول اٹھیں کہ ایسی باتوں کے کہنے سے اللہ کی کیا غرض ہے۔ اس طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہ دکھاتا ہے جسے چاہتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ (دوزخ کا ذکر) محض لوگوں کی نصیحت کے لئے (کیا گیا) ہے

[11] مراد شک کی بیماری ہے۔ فی زمانہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو قطعیت کے ساتھ اللہ، رسول، وحی، آخرت، جنت، دوزخ کا انکار کرتے ہوں۔ اکثریت انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو ان کے بارے میں شک میں مبتلا رہتے ہیں۔ [12] کافروں کو انیس فرشتوں کی تعین سن کر حیرت ہوئی کہ انیس کی تخصیص کیوں ؟ حالانکہ یہ اسرار الٰہی میں سے ہے۔ اس میں زیادہ کاوش کرنی لاحاصل ہے۔ کچھ مصلحت ہوگی جس کا ظاہر کرنا بندوں کے حق میں مناسب نہیں سمجھا گیا۔ سو اہل کتاب تو ایسی باتوں کے تسلیم کرنے میں تردد نہیں کرسکتے کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 74:32

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہرگز نہیں، (ہم کو) قسم ہے چاند کی

[13] یعنی یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے جس کا مذاق اڑایا جائے۔
Ayahs 74:33–37

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ جانے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب وہ روشن ہوجائے

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

یہ (دوزخ بھی) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

آدمی کے لئے ڈراوا

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

(یعنی) تم میں سے (ہر اس شخص کے لئے ڈراوا) جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔

[14] یعنی اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے بدی میں پھنس کر پیچھے رہ جائے۔ مقصود یہ ہے کہ دوزخ بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور کیونکہ اس ڈراوے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیز کی کھائی گئی ہے جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چناچہ پہلے چاند کو پیش کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ درجہ بدرجہ ہلال سے بدر کے مقام تک پہنچتا ہے اسی طرح انسان بھی مختلف اطوار و مراحل سے گزرتا ہوا بالآخر اس مقام تک پہنچے گا جس کی خبر دی جا رہی ہے۔ چاند کے بعد رات اور صبح کی قسم کھائی گئی ہے یعنی جس طرح رات کی تاریکی میں صبح کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا لیکن وقت آتا ہے کہ صبح نمودار ہوجاتی ہے۔ یہی حال قیامت کے ظہور کا بھی ہوگا۔ یہ دنیا رات کے مانند ہے جس کی تاریکی صبح قیامت کو ڈھانکے ہوئے ہے لیکن وقت آئے گا کہ یہ تاریکی کافور ہوگی اور قیامت اچانک نمودار ہوجائے گی۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں رہن ہے۔

[15] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة طور حاشیہ 9 صفحہ 1282۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

سوائے دائیں بازو والوں کے۔

[16] دائیں اور بائیں بازو والوں کا ذکر سورة واقعہ آیت 7 تا 47 صفحہ 1310، 1312، 1314 میں گزر چکا ہے