72. Surah Al-Jinn
الجنThe Jinn · 28 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الجن سورة نمبر 72 کل رکوع 2 آیات 28 الفاظ و کلمات 287 حروف 1126 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث سے ثابت ہے کہ جس طرح انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اسی طرح جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے یہ ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی ہماری نظروں سے پوشیدہ اور بااختیار ہے۔ ان میں اللہ کے فرمانبردار اور نافرماں دونوں طرح کے جنات ہیں۔ جس طرح انسان شہروں اور آبادیوں میں رہتا ہے۔ جنات کا بسیرا ویرانوں اور جنگلوں اور پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے یہ جنات آسمانوں کی طرف نکل جاتے اور فرشتوں کی گفتگو سے آئندہ ہونے والے واقعات کی کچھ باتیں سن کر رہ اپنے کاہنوں کے پاس آتے۔ کاہن کچھ جنات سے سن کر اور کچھ اپنی طرف سے بیان کرکے آنے والے حالات کی پیشین گوئیاں کرکے لوگوں کو بیوقوف بنایا کرتے تھے۔ لوگ سمجھتے کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا تو اللہ نے جنات کا آسمان کی طرف آنا بند کردیا۔ جب وہ سن گن لینے آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے تو ان پر آگ کے گولوں (شہاب ثاقب) کی بارش کردی جاتی۔ جنات حیران تھے کہ آسمان پر ہر طرف پہرے لگا دئیے گئے ہیں اور جو آسمانوں کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر آگے کے گولے برسائے جاتے ہیں یقینا ضرور کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے۔ جنات کے کئی گروہ زمین کے اطراف میں پھیل گئے ایک مرتبہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے واپس آتے ہوئے عکاظ کے مقام پر فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو جنات پر مشتمل ایک گروہ نے جو حالات کی تحقیق کے لئے نکلا ہوا تھا قرآن کریم کو بڑے غور سے سنا۔ وہ قرآن کریم کی لذت اور کیفیت میں کھو گئے۔ آخر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت سن کر ایمان قبول کرلیا پھر وہ نو جنات اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان کو جو کچھ بتایا اللہ تعالیٰ نے ان کی گفتگو کے جملوں کو نقل فرمایا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے اللہ نے میری طرف وحی کرکے بتایا ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کریم کو سنا اور پھر اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلندو برتر ہے۔ اس نے کسی کو بیوی اور بیٹا نہیں بنایا ہے۔ ہم نے سمجھا تھا کہ جو لوگ اللہ کے بارے میں خلاف حقیقت باتیں کرتے تھے وہ جھوٹ نہیں بول رہے ہیں لیکن بعض لوگوں نے جنات سے پناہ مانگ کر ان کے غرور وتکبر میں اضافہ کیا ہے۔ اور انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا کہ تمہارا گمان تھا کہ اب اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ جنات نے کہا کہ جب ہم نے آسمانوں کو کھنگالا تو دیکھا وہ پہرے داروں سے بھرا ہوا تھا اور شہاب ثاقب برسائے جا رہے ہیں۔ پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمانوں میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے مگر اب یہ حال ہے کہ جب ہم پوری چھپے کچھ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم شہاب ثاقب اپنے پیچھے لگا ہوا پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ زمین والوں پر کسی عذاب کی تیاری ہے یا ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم بھی تو مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں کوئی نیک اور صالح ہے اور کوئی ان سے کم تر ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ کہیں بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں۔ جب ہم نے ہدایت کی تعلیم کو سنا تو ہم ایمان لے آئے۔ اب جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس پر کوئی ظلم اور زیادتی نہ ہوگی۔ جنات نے کہا ہم میں کچھ تو مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) اور کچھ حق کا انکار کرنے والے ہیں۔ تو جنہوں نے اسلام ( اطاعت) کا راستہ اختیار کرلیا انہوں نے تو نجات کا راستہ تلاش کرلیا اور جنہوں نے کفرو انکار کیا ان کا انجام یہ ہے کہ وہ جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ جنات کی اس گفتگو اور کہے گئے جملوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ جو لوگ سیدھے راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں گے تو ان کو خوب سیراب کیا جائے گا اور یہ خوش حالی ان کی آزمائش بھی ہوگی اور جو لوگ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیر کر چلیں گے تو ان کا رب ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ مسجدیں تو اللہ کے ذکر کے لئے ہیں اور ان میں اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب اللہ کا ایک بندہ (یعنی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پکارنے کے لئے اللہ کے گھر میں کھڑے ہوتے ہیں تو ان پر چاروں طرف سے یلغار کی جاتی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ نہ میں لوگوں کے نفع نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی کو بھلائی پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اگر میں اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ مانگوں گا (جس طرح کفار جنات سے مدد مانگتے ہیں) تو مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دوں۔ اس کے باوجود جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرے گا اس کے لئے ایسی آگ تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ فرمایا کہ جب یہ لوگ اس چیز کو (قیامت کو) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت تعداد میں کم ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم کہ وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر کی ہے۔ اس کا تعلق غیب سے ہے اور اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ وہ اپنے غیب پر کسی کا مطلع نہیں کرتا البتہ جس رسول کو وہ غیب کا علم دینا پسند کرے تو وہ اس کو (وحی کے ذریعہ) غیب کا علم دے دیتا ہے۔ لیکن وہ اس کے آگے اور پیچھے ایسے محافظ (فرشتے) لگا دیتا ہے تاکہ وہ علم محفوط طریقے سے رسول تک پہنچ جائے اور اس میں کسی طرح کی آمیزش یا ملاوٹ نہ ہوسکے۔ اللہ نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو گن رکھا ہے۔
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ جنات میں سے ایک جماعت نے قرآن کو سنا پھر انہوں نے (اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے
یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader
جو سیدھا راستہ بتاتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے رب کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہ کریں گے۔
وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader
بلاشک و شبہ ہمارے رب کی بڑی شان ہے۔ نہ اس نے کسی کو بیوی بنایا اور نہ کسی کو بیٹا بنایا
وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader
(ایسی غلط بات) اپنے رب کے متعلق وہی کہہ سکتا ہے جو خلاف حقیقت باتیں کرتا ہے۔
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader
اور ہمارا خیال تو یہ ہے کہ جنات اور انسانوں میں سے کوئی ایسی جھوٹی بات نہ کہے گا۔
وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader
اور بعض لوگ وہ بھی تھے جو جنات میں سے بعضوں کی پناہ حاصل کیا کرتے تھے ( تو ان پناہ لینے والوں نے) ان کی سرکشی اور غرور کو اور بڑھا دیا تھا۔
وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader
اور انہوں نے اسی طرح گمان کر رکھا تھا جس طرح تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ اب اللہ کسی کو رسول بناکر نہیں بھیجے گا۔
وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader
اور (یہ بھی عجیب تبدیلی محسوس کی کہ) ہم نے آسمان کو چھان مارا تو ہم نے آسمان کو سخت پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا
وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader
کیونکہ ہم باتیں سننے کے لئے آسمان کے ٹھکانوں میں جا بیٹھتے تھے۔ (لیکن اب یہ حال ہے کہ ) جو بھی سننے کی کوشش کرتا ہے وہ ایک شعلہ (شہاب ثاقب) کو اپنا منتظر پاتا ہے۔
وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader
ہم نہیں جانتے کہ اس سے زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے زمین والوں کی بھلائی کا فیصلہ کیا ہے۔
وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader
بیشک ہم میں سے بعض تو نیک عمل کرنے والے ہیں اور کچھ دوسرے طریقوں پر ہیں اور ہم مختلف طریقوں میں تقسیم ہیں۔
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader
اور ہم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم زمین میں اللہ کو کہیں بھی بےبس نہ کرسکیں گے اور نہ کہیں بھاگ کر اسے تھکا سکیں گے۔
وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader
ہم نے جب ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور جو شخص بھی اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تو اس کو نہ تو کسی کمی کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔
وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader
اور ہم میں سے بعض فرماں بردار ہوگئے اور ہم میں سے بعض ظالم (بےانصاف) ہوگئے اور جس نے بھی فرماں برداری اختیار کرلی تو اس نے سچائی کا راستہ ڈھونڈ لیا۔
وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader
اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ انہیں بتا دیجئے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر وہ سیدھے راستے پر ثابت قدم رہے تو اہم انہیں خوب سیراب کریں گے
لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader
تاکہ ہم (اس نعمت کے ذریعہ) ان کو آزمائیں اور جو شخص بھی اپنے رب سے منہ پھیرے گا تو وہ اللہ اس کو ناقابل برداشت عذاب میں مبتلا کرے گا۔
وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader
(اور کہہ دیجئے یہ وحی بھی بھیجی گئی ہے کہ) بیشک مسجدیں اللہ کے لئے (مخصوص) ہیں ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو۔
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader
جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اس پر ہجوم کرکے ٹوٹ پڑے۔
قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔
قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی برائی کا یا بھلائی کا اختیار نہیں رکھتا۔
قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ جسے اللہ کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ اس کے سوا میں کسی کے دامن میں پناہ پاسکتا ہوں۔
اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader
میرا کام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں اللہ کا پیغام پہنچا دوں۔ جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔
حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader
یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور ہے اور کون شمار کے اعتبار سے کم ہے۔
قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader
آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کی ہوئی ہے۔
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader
وہی غیب کا جاننے والا ہے وہ اپنے غیب کی کسی کو خبر نہیں دیتا۔
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader
سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو وہ بھی اس طرح کہ اس کے آگے اور پیچھے (فرشتوں کو) محافظ بنا دیتا ہے
لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader
تاکہ وہ یہ دیکھ لیں کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے ؟ اس نے ان تمام کو گھیر رکھا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو شمار کررکھا ہے۔