72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الجن سورة نمبر 72 کل رکوع 2 آیات 28 الفاظ و کلمات 287 حروف 1126 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث سے ثابت ہے کہ جس طرح انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اسی طرح جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے یہ ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی ہماری نظروں سے پوشیدہ اور بااختیار ہے۔ ان میں اللہ کے فرمانبردار اور نافرماں دونوں طرح کے جنات ہیں۔ جس طرح انسان شہروں اور آبادیوں میں رہتا ہے۔ جنات کا بسیرا ویرانوں اور جنگلوں اور پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے یہ جنات آسمانوں کی طرف نکل جاتے اور فرشتوں کی گفتگو سے آئندہ ہونے والے واقعات کی کچھ باتیں سن کر رہ اپنے کاہنوں کے پاس آتے۔ کاہن کچھ جنات سے سن کر اور کچھ اپنی طرف سے بیان کرکے آنے والے حالات کی پیشین گوئیاں کرکے لوگوں کو بیوقوف بنایا کرتے تھے۔ لوگ سمجھتے کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا تو اللہ نے جنات کا آسمان کی طرف آنا بند کردیا۔ جب وہ سن گن لینے آسمانوں کی طرف آنے کی کوشش کرتے تو ان پر آگ کے گولوں (شہاب ثاقب) کی بارش کردی جاتی۔ جنات حیران تھے کہ آسمان پر ہر طرف پہرے لگا دئیے گئے ہیں اور جو آسمانوں کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر آگے کے گولے برسائے جاتے ہیں یقینا ضرور کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے۔ جنات کے کئی گروہ زمین کے اطراف میں پھیل گئے ایک مرتبہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے واپس آتے ہوئے عکاظ کے مقام پر فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو جنات پر مشتمل ایک گروہ نے جو حالات کی تحقیق کے لئے نکلا ہوا تھا قرآن کریم کو بڑے غور سے سنا۔ وہ قرآن کریم کی لذت اور کیفیت میں کھو گئے۔ آخر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت سن کر ایمان قبول کرلیا پھر وہ نو جنات اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان کو جو کچھ بتایا اللہ تعالیٰ نے ان کی گفتگو کے جملوں کو نقل فرمایا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے اللہ نے میری طرف وحی کرکے بتایا ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کریم کو سنا اور پھر اپنی قوم سے کہا کہ ہم نے بہت عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلندو برتر ہے۔ اس نے کسی کو بیوی اور بیٹا نہیں بنایا ہے۔ ہم نے سمجھا تھا کہ جو لوگ اللہ کے بارے میں خلاف حقیقت باتیں کرتے تھے وہ جھوٹ نہیں بول رہے ہیں لیکن بعض لوگوں نے جنات سے پناہ مانگ کر ان کے غرور وتکبر میں اضافہ کیا ہے۔ اور انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا کہ تمہارا گمان تھا کہ اب اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ جنات نے کہا کہ جب ہم نے آسمانوں کو کھنگالا تو دیکھا وہ پہرے داروں سے بھرا ہوا تھا اور شہاب ثاقب برسائے جا رہے ہیں۔ پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمانوں میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے مگر اب یہ حال ہے کہ جب ہم پوری چھپے کچھ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم شہاب ثاقب اپنے پیچھے لگا ہوا پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ زمین والوں پر کسی عذاب کی تیاری ہے یا ان کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم بھی تو مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں کوئی نیک اور صالح ہے اور کوئی ان سے کم تر ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ کہیں بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں۔ جب ہم نے ہدایت کی تعلیم کو سنا تو ہم ایمان لے آئے۔ اب جو بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس پر کوئی ظلم اور زیادتی نہ ہوگی۔ جنات نے کہا ہم میں کچھ تو مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) اور کچھ حق کا انکار کرنے والے ہیں۔ تو جنہوں نے اسلام ( اطاعت) کا راستہ اختیار کرلیا انہوں نے تو نجات کا راستہ تلاش کرلیا اور جنہوں نے کفرو انکار کیا ان کا انجام یہ ہے کہ وہ جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ جنات کی اس گفتگو اور کہے گئے جملوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ جو لوگ سیدھے راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں گے تو ان کو خوب سیراب کیا جائے گا اور یہ خوش حالی ان کی آزمائش بھی ہوگی اور جو لوگ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیر کر چلیں گے تو ان کا رب ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ مسجدیں تو اللہ کے ذکر کے لئے ہیں اور ان میں اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب اللہ کا ایک بندہ (یعنی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پکارنے کے لئے اللہ کے گھر میں کھڑے ہوتے ہیں تو ان پر چاروں طرف سے یلغار کی جاتی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ نہ میں لوگوں کے نفع نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی کو بھلائی پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اگر میں اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ مانگوں گا (جس طرح کفار جنات سے مدد مانگتے ہیں) تو مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دوں۔ اس کے باوجود جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرے گا اس کے لئے ایسی آگ تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ فرمایا کہ جب یہ لوگ اس چیز کو (قیامت کو) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت تعداد میں کم ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہہ دیجئے کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم کہ وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر کی ہے۔ اس کا تعلق غیب سے ہے اور اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ وہ اپنے غیب پر کسی کا مطلع نہیں کرتا البتہ جس رسول کو وہ غیب کا علم دینا پسند کرے تو وہ اس کو (وحی کے ذریعہ) غیب کا علم دے دیتا ہے۔ لیکن وہ اس کے آگے اور پیچھے ایسے محافظ (فرشتے) لگا دیتا ہے تاکہ وہ علم محفوط طریقے سے رسول تک پہنچ جائے اور اس میں کسی طرح کی آمیزش یا ملاوٹ نہ ہوسکے۔ اللہ نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو گن رکھا ہے۔

Ayahs 72:1–15

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ جنات میں سے ایک جماعت نے قرآن کو سنا پھر انہوں نے (اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو سیدھا راستہ بتاتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے رب کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہ کریں گے۔

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

بلاشک و شبہ ہمارے رب کی بڑی شان ہے۔ نہ اس نے کسی کو بیوی بنایا اور نہ کسی کو بیٹا بنایا

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

(ایسی غلط بات) اپنے رب کے متعلق وہی کہہ سکتا ہے جو خلاف حقیقت باتیں کرتا ہے۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا خیال تو یہ ہے کہ جنات اور انسانوں میں سے کوئی ایسی جھوٹی بات نہ کہے گا۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ بھی تھے جو جنات میں سے بعضوں کی پناہ حاصل کیا کرتے تھے ( تو ان پناہ لینے والوں نے) ان کی سرکشی اور غرور کو اور بڑھا دیا تھا۔

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور انہوں نے اسی طرح گمان کر رکھا تھا جس طرح تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ اب اللہ کسی کو رسول بناکر نہیں بھیجے گا۔

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور (یہ بھی عجیب تبدیلی محسوس کی کہ) ہم نے آسمان کو چھان مارا تو ہم نے آسمان کو سخت پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

کیونکہ ہم باتیں سننے کے لئے آسمان کے ٹھکانوں میں جا بیٹھتے تھے۔ (لیکن اب یہ حال ہے کہ ) جو بھی سننے کی کوشش کرتا ہے وہ ایک شعلہ (شہاب ثاقب) کو اپنا منتظر پاتا ہے۔

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

ہم نہیں جانتے کہ اس سے زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے زمین والوں کی بھلائی کا فیصلہ کیا ہے۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

بیشک ہم میں سے بعض تو نیک عمل کرنے والے ہیں اور کچھ دوسرے طریقوں پر ہیں اور ہم مختلف طریقوں میں تقسیم ہیں۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور ہم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم زمین میں اللہ کو کہیں بھی بےبس نہ کرسکیں گے اور نہ کہیں بھاگ کر اسے تھکا سکیں گے۔

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

ہم نے جب ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور جو شخص بھی اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تو اس کو نہ تو کسی کمی کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور ہم میں سے بعض فرماں بردار ہوگئے اور ہم میں سے بعض ظالم (بےانصاف) ہوگئے اور جس نے بھی فرماں برداری اختیار کرلی تو اس نے سچائی کا راستہ ڈھونڈ لیا۔

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا کرتے تھے۔ کاہن جنات کی ان باتوں کو سن کر اور کچھ اپنی طرف سے ملا کر لوگوں کو بتا دیتے اس طرح وہ کاہن لوگوں کو نہایت آسانی سے بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتے اور اس سے بہت کچھ دنیاوی فائدے بھی حاصل کرتے تھے اور جنات کے علم غیب کا اس شدت سے پروپیگنڈا کرتے کہ عام لوگ ان سے ہر وقت خوف زدہ رہا کرتے تھے۔ جنات کو آسمان میں اچانک ایک زبردست انقلابی تبدیلی محسوس ہوئی۔ وہ جب بھی سن گن لینے کے لئے آسمان کی طرف پرواز کرتے تو نہ صرف ان کو شدید رکاوٹ پیش آتی بلکہ ان پر شہاب ثاقب یعنی آگ کے لوگوں کی بھرمار کردی جاتی اور ان کو دور بھگا دیا جاتا تھا۔ حالانکہ جنات کو آگے سے پیدا کیا گیا ہے لیکن شہاب ثاقب آگ سے اس قدر بھرپور ہوتے تھے کہ جنات ان سے ڈر کر بھاگ جاتے اور اس طرح آسمان کی طرف ان پر پرواز کا سلسلہ بند ہوگیا تھا۔ انہیں اس تبدیلی اور چاروں طرف فرشتوں کے پہروں نے حیرت میں ڈال دیا۔ جنات نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ کائنات میں ایسی کیا تبدیلی آئی ہے یا کیا ایسے حالات پیش آنے والے ہیں جن کی وجہ سے ہم پر زبردست بندشیں لگ گئیں ہیں اور جب بھی ہم آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم پر آگ کے گولے برسا دئیے جاتے ہیں۔ صورت حال معلوم کرنے کے لئے جنات کے گروہ کائنات میں ہر جگہ پھیل گئے۔ ان ہی میں سے نصیبیں کے نوجنات جو حضرت موسیٰ پر ایمان رکھتے تھے گھوم رہے تھے کہ نخلہ کے مقام پر صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو نماز فجر پڑھا رہے تھے۔ جنات نے کلام اللہ کو بڑے غور سے سنا جو رسول اللہ ﷺ نماز میں تلاوت فرما رہے تھے۔ وہ کلام اللہ کی عظمت اور لذت کی کیفیات میں اس طرح محو ہر کر رہ گئے تھے کہ آپس میں قسم کھا کر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمیں یقین ہے یہی وہ کلام ہے جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور اس کلام کی حفاظت کے لئے آسمانوں پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں اور ہمیں فرشتوں کی گفتگو تک سننے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ سب جنات اسی وقت اس کلام پر ایمان لے آئے اور اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنی قوم میں جاکر کہا کہ ہم نے اللہ کا وہ کلام سنا ہے جو عجیب و غریب اور بہترین مضامین پر مشتمل ہے جو ہمیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے اسی لئے ہم ہر طرح کے کفرو شرک سے توبہ کرکے اس پر ایمان لے آئے ہیں اب ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے کیونکہ ہمارے پروردگار کی شان یہ ہے کہ نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ اس نے کسی کو بیٹا بنا رکھا ہے۔ ایسی غلط باتیں وہی کرسکتے ہیں جو حقیقت کو نہیں سمجھتے ورنہ جنات اور انسانوں میں سے کوئی بھی ایسی جھوٹی بات کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا بنا رکھا ہے۔ اللہ کی ذات ہر طرح کے شرک سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس موق پر اس بات کو سمجھ لیا جائے کہ جنات کون ہیں ؟ جن کے معنی چھپے ہوئے اور پوشیدہ مخلوق کے آتے ہیں۔ اللہ نے جس طرح انسان کو مٹی سے اور فرشتوں کو نور سے بنایا ہے اسی طرح جنات کو آگ سے پیدا کیا ہے جس طرح ہوا موجود ہے مگر ہمیں نظر نہیں آتی اسی طرح اللہ نے جنات اور فرشتوں کو پیدا کیا ہے اور وہ بھی ہمیں نظر نہیں آتے۔ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک بااختیار مخلوق ہیں۔ جس طرح انسانوں میں مختلف مذہب رکھنے والی قومیں ہیں اسی طرح جنات میں بھی کوئی مومن ہے اور کوئی کافرو مشرک۔ جس طرح انسانوں میں بیوی، بچے، پیدائش، زندگی، موت اور مختلف نسلیں ہیں اسی طرح ان جنات میں اللہ کی وہ مخلوق ہیں جن کو اس کی طاقت عطا فرمائی گئی ہے کہ وہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں اور آسمانوں کی طرف پرواز کرسکتے ہیں۔ سورة کہف میں فرمایا گیا ہے کہ شیطان بھی جنات ہی کی قوم سے تھا۔ جو بہت نیک، فرماں بردار اور عبادت گزار تھا اور فرشتوں کے ساتھ رہ کر اس میں بہت اسی اچھی خصوصیات بھی پیدا ہوگئی تھیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں اس وقت شیطان نے سجدے سے انکار کرتے ہوئے نہایت غرور وتکبر سے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں کیونکہ میں آگ سے پیدا کیا گیا ہوں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔ اللہ کی اس نافرمانی اور تکبرو غرور سے اس عبادت گزار جن کو ابلیس اور شیطان بنا دیا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں بیشمار آیات سے یہ ثابت ہے کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک بااختیار مخلوق ہیں۔ وہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور ان میں بھی اللہ کے فرماں بردار، نافرمان، مسلم اور کافر و مشرک موجود ہیں۔ سورة رحمن میں اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسان دونوں کو ایک طرح خطاب کرکے بتا دیا ہے کہ دونوں اللہ کی ذمہ دار مخلوق ہیں۔ کفار مکہ جن میں ہر طرح کا بگاڑ کچھ اتنا زیادہ آچکا تھا کہ وہ جنات کے متعلق بھی عجیب و غریب خیالات رکھتے تھے۔ ایک طرف تو کاہنوں کے بےبنیاد پروپیگنڈے نے اللہ کی اس مخلوق کو خوفناک شکل دے رکھی تھی دوسری طرف کفار کے وہم اور بدعقیدگی نے جنات کو عالم الغیب تک بنا ڈالا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جنات کو غیب کی ہر بات کا علم ہے وہ ہر پوشیدہ راز تک سے واقف ہیں۔ اللہ کی قدرت میں جنات شریک ہیں بلکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کے نسب تک میں شامل سجھتے تھے (نعوذ باللہ) وہ جنات اس قدر خوف زدہ رہتے تھے کہ جب وہ سفر کرتے اور کسی جنگل یا وادی میں قیام کرتے تو ان میں سے کوئی ایک آدمی بلند آواز سے کہتا ”………“ یعنی جنات کو قوم کے شریروں سے اس وادی کے سردار کی پناہ میں آتا ہوں۔ کفار جنات کی خوشامد کے لئے خوشبوئیں جلاتے، نذر ونیاز کرتے، جنوں کے بادشاہ اور جنوں کے سرداروں کا نام لے کر ان کی دھائی مانگتے۔ ان تمام حماقتوں کا نقصان یہ ہوا کہ جنات کی گمراہی اور غرور وتکبر میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور وہ اپنے آپ کو انسان سے افضل سمجھنے لگے۔ حالانکہ اللہ نے اپنی ساری مخلوق پر انسان کو عظمت و فضیلت عطا فرمائی ہے۔ ان آیات کو بیان کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو شرم دلا رہے ہیں کہ دیکھو مکہ والوں کی کتنی بدنصیبی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور ان کے عظیم کردار سے اچھی طرح واقف ہیں انہوں نے ان کے دن اور رات کو دیکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے نجاتے کتنی مرتبہ قرآن کریم کی آیات کو سنا تھا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے لیکن وہ جنات جو ان کی جنس اور قوم سے بھی نہیں ہیں انہوں نے ایک مرتبہ قرآن کری کو سنا اور نہ صرف ایمان لائے بلکہ اسکے مبلغ بھی بن گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی۔
Ayahs 72:16–28

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ انہیں بتا دیجئے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر وہ سیدھے راستے پر ثابت قدم رہے تو اہم انہیں خوب سیراب کریں گے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم (اس نعمت کے ذریعہ) ان کو آزمائیں اور جو شخص بھی اپنے رب سے منہ پھیرے گا تو وہ اللہ اس کو ناقابل برداشت عذاب میں مبتلا کرے گا۔

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

(اور کہہ دیجئے یہ وحی بھی بھیجی گئی ہے کہ) بیشک مسجدیں اللہ کے لئے (مخصوص) ہیں ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو۔

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اس پر ہجوم کرکے ٹوٹ پڑے۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی برائی کا یا بھلائی کا اختیار نہیں رکھتا۔

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ جسے اللہ کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ اس کے سوا میں کسی کے دامن میں پناہ پاسکتا ہوں۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

میرا کام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں اللہ کا پیغام پہنچا دوں۔ جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور ہے اور کون شمار کے اعتبار سے کم ہے۔

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کی ہوئی ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہی غیب کا جاننے والا ہے وہ اپنے غیب کی کسی کو خبر نہیں دیتا۔

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو وہ بھی اس طرح کہ اس کے آگے اور پیچھے (فرشتوں کو) محافظ بنا دیتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ یہ دیکھ لیں کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے ؟ اس نے ان تمام کو گھیر رکھا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو شمار کررکھا ہے۔

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ کہتا کہ لوگو ! یہ اللہ کا گھر ہے اس میں صرف اسی کی عبادت کی جائے اللہ ہی سے اپنے حاجتوں کے لئے سوال کیا جائے تو وہ اس آواز کو برداشت نہیں کرتے تھے اور اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں جب آپ بیت اللہ میں عبادت کرتے اور لوگوں کو ان بےجان بتوں کی حقیقت بتاتے جو نہ تو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ کسی کو نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کفار یہ سن کر آپ کا مذاق اڑاتے اور چاروں طرف سے آپ پر ٹوٹ پڑتے اور ستانے میں کمی نہ چھوڑتے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات میں ان تمام باتوں کو کھول کر بیان فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ سب کچھ دینے والی ذات اللہ کی ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو تمہیں کچھ بھی دے سکے۔ اگر تم ایمان لا کر نیک اعمال کرو گے اور ان پر ثابت قدم رہوگے تو اللہ تمہیں خوش حال کردے گا اور تمہیں کسی چیز کی کمی نہ رہے گی البتہ اگر نعمتیں پانے کے بعد کسی نے اللہ کی ناشکری کی تو پھر ایسے لوگوں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ کی طرف سے وحی کی گئی ہے کہ بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لئے مخصوص ہیں ان مساجد میں اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے اور جب کوئی اللہ کا نام بلند کر رہا ہو تو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ اگر اللہ کے گھر میں اللہ کا نام لینے والے پر لوگ ٹوٹ پڑیں تو یہ ایک انتہائی نامناسب حرکت ہوگی۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اللہ کے سوا کوئی نقصان پہنچانے یا نفع دینے کا اختیار نہیں رکھتا کیونکہ یہ تو سب چیزیں اللہ کے اختیار میں ہیں مجھے بھی اللہ کے دامن ہی میں پناہ مل سکتی ہے۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ نے جس پیغام کے پہنچانے کی ذمہ داری میرے سپرد کی تھی وہ میں نے نہایت دیانت و امانت کے ساتھ پہنچا دی ہے۔ اب اس کے بعد جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کیلئے جہنم کی وہ آگے تیار کی گئی ہے جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا جب اللہ کے نافرمان اس عذاب اور جہنم کو دیکھیں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ کون مددگاروں کیا اعتبار سے کمزور ہے اور کون شمار کے لحاظ سے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے جس عذاب کا فیصلہ کیا ہے وہ قریب ہے یاد ور ہے کیونکہ ان چیزوں کا تعلق غیب سے ہے اور غیب کا سارا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ اتنا ہی علم غیب دیاجاتا ہے جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے لیکن غیب کی ہر بات کا علم انہیں نہیں دیا جاتا۔ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے کوئی نبی اور رسول غیب سے وحی کے ذریعہ مطلع تو کیا جاتا ہے لیکن وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف عالم الغیب نہیں ہوا کرتا۔ فرمایا کہ وحی کے ذریعے جس غیب کا علم دیا جاتا ہے یا جو وحی کی جاتی ہے اس کی حفاظت کے لئے اللہ نے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں تاکہ پیغام الٰہی میں کوئی کسی طرح کی آمیزش یا ملاوٹ نہ کرسکے اور اللہ کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے۔ یہ بھی فرمایا کہ اللہ اس علم کے لئے فرشتوں کا محتاج نہیں ہے بلکہ اس کا علم تو ہر چیز پر چھایا ہوا ہے اور اس نے ہر چیز کو شمار کر رکھا ہے۔