72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 72:1

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

محمد آپ ان کفار مکہ سے فرمایے کہ میرے پاس جبریل امین تشریف لائے اور انہوں نے مجھے یہ بتالای کہ نصیبین کے جنات میں سے جو یمن میں ہیں ان لوگوں نے قرآن کریم سنا وہ اس پر ایمان لے آئے پھر اپنی قوم میں انہوں نے واپس جاکر کہا اے ہماری قوم ہم نے ایک قرآن کریم سنا ہے جو حضرت موسیٰ کی کتاب سے مشابہہ رکھتا ہے اور یہ جنات توریت پر کار بند تھے۔
Ayah 72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کا راستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

جو حق و ہدایت اور کلمہ طیبہ کی رہنمائی کرتا ہے سو ہم تو رسول اکرم اور اس قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ ابلیس کو شریک نہیں کریں گے۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے۔ وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ اولاد

ہمارے پروردگار کی بلند شان اور عظیم الشان بادشاہی ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا اور نہ اولاد جیسا کہ کفار بکتے رہتے ہیں۔ شان نزول : قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ (الخ) امام بخاری اور ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے نہ جنوں کے سامنے قرآن کریم پڑھا اور نہ آپ نے ان کو دیکھا۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ سوق عکاظ تشریف لے جارہے تھے۔ جنات اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ ہوگئی اور ان کو بذریعہ شہاب ثاقب روک گیا گیا تھا تو وہ اپنی قوم کے پاس گئے اور آپس میں غوروفکر کیا کہ یہ بات جو پیش آئی ہے وہ کسی نئے کام کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے جو پیش آنے والا ہے۔ لہذا اس کی تحقیق کے لیے چلو چناچہ جنوں کی یہی جماعت تہامہ کی طرف روانہ ہوئی اور اس وقت رسول اکرم بطن نخلہ میں اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ چناچہ جب ان جنوں نے قرآن کریم سنا تو اسے غور سے سننے لگے اور کہنے لگے یہی اللہ کی قسم تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوا ہے تو وہیں سے اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئے اور کہنے لگے اے ہماری قوم ہم نے عجیب قرآن کریم سنا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ سورت قل اوحی نازل فرمائی۔ اور امام ابن جوزی نے کتاب صفوۃ الصفوۃ میں اپنی سند سے سہل بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں عاد کی بستیوں میں ایک کونے میں تھا کہ اچانک میں نے ایک پتھروں کا شہر دیکھا اس کے درمیان پتھروں کا بنا ہوا ایک محل تھا کہ جس میں جن داخل ہورہے تھے، چناچہ میں اس میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک عظیم الجثہ شیخ کو دیکھا جو بیت اللہ کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھ تھے اور ان پر اون کا ایک جبہ تھا اور اس پر پھول تھے تو میں ان کے عظیم الجثہ ہونے سے متعجب ہوا جیسا کہ ان کے جبہ کی خوبصورتی سے متعجب ہوا۔ چناچہ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہنے لگے اے سہل بدن کپڑوں کو پرانا نہیں کرتے بلکہ کپڑوں کو گناہوں کی بدبو اور حرام کاریوں کا مزہ پرانا کرتی ہے اور یہ جبہ میں سات سو سال سے پہنے ہوئے ہوں، اسی جبہ میں میں نے حضرت عیسیٰ اور رسول اکرم سے ملاقات کی ہے اور دونوں نبیوں پر ایمان لایا ہوں۔ سہل کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ آپ کون ہیں، انہوں نے فرمایا کہ ان ہی لوگوں میں سے ہوں جن کے بارے میں قل اوحی الی نازل ہوئی ہے۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افترا کرتا ہے

اور ہم میں جو احمق ہوئے ہیں یعنی شیطان وہ اللہ کی شان میں جھوٹی باتیں بکتے تھے۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے

اور ہمارا پہلے خیال تھا کہ انسان اور جنات کبھی اللہ کی شان میں جھوٹ بات نہیں کہیں گے باقی اب ہم پر ان کا جھوٹ ثابت ہوگیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کی آپس کی گفتگو کو روایت کیا ہے۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

زمانہ جاہلیت میں یہ عادت تھی کہ جب لوگ سفر کرتے یا شکار کرتے یا کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو اس اعتقاد سے کہ جناب کے سردار ہماری حفاظت کریں گے تو یوں کہتے اعوذ بسید ھذا الوادی من سفھاء قومہ تو اس وجہ سے وہ لوگ امن میں رہتے۔ تو اس پناہ مانگنے نے ان جنات کی بددماغی اور بڑھا دی اور وہ جنات اپنے کو آدمیوں کا بھی سردار سمجھنے لگے اور جنات کی تین قسمیں ہیں ایک قسم تو قفاء میں رہتی ہے اور ایک جماعت اوپر نیچے جہاں چاہے آتی جاتی رہتی ہے اور ایک گروہ کتوں اور سانپوں کی طرح ہے۔ شان نزول : وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ (الخ) ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں کر زم بن ابی السائب الانصاری سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف اپنے والد کے ساتھ کسی ضرورت کے لیے گیا اور یہ پہلا موقع تھا جبکہ رسول اکرم کا ذکر ہورہا تھا چناچہ ہم نے رات کو ایک چرواہے کے ہاں پڑاؤ کیا جب آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا آیا اور بکریوں میں سے ایک بچہ کو اٹھا لیا چرواہا اس پر کو دا اور کہنے لگا وادی کے نگران تیری پناہ تیری پناہ، اس کے بعد ایک پکارنے والے نے پکارا جس کو ہم نہیں دیکھ رہے تھے، چناچہ وہ اس بچہ کو پکڑ کر لایا یہاں تک کہ بکریوں میں چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر مکہ مکرمہ میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن سعد نے ابورجاء عطاری سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے لشکر روانہ کیا اور میں اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال اور ان کی نگرانی کیا کرتا تھا، چناچہ جب حضور نے لشکر بھیجا تو ہم وہاں سے بھاگ کر نکلے اور ہم ایک چٹیل میدان میں آئے، چناچہ جب ہم ایسے مقام پر شام کرتے تھے تو ہم میں جو بوڑھا ہوتا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ اس رات میں اس وادی کے سردار جن کی پناہ لیتا ہوں، چناچہ ہم نے حسب دستور یہی کہا تو ہم سے کہا گیا کہ اس کا محفوظ راستہ کلمہ شہادت ان لا الہ الا اللہ وان محمد الرسول اللہ ہے، سو جو اس بات کا اقرار کرلیتا ہے تو وہ اپنی جان و مال کو محفوظ کرلیتا ہے، چناچہ ہم وہاں سے لوٹ کر آئے اور اسلام میں داخل ہوگئے، ابو رجاء بیان کرتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور خرائطی نے کتاب ھواتف الجان میں عبداللہ بن محمد عمارہ بن زید، عبداللہ بن العلاء، محمد بن عکیر کے واسطہ سے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بنی تمیم میں سے رافع بن عمیر نامی نے اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا کہ میں سخت ریت میں ایک رات چل رہا تھا کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا میں اپنی سواری پر سے اترا اسے بٹھا کر میں سو گیا۔ اور سونے سے پہلے میں نے یہ الفاظ سنے کہ جنات میں سے اس وادی کا جو سردار ہو میں اس کی پناہ لیتا ہوں، چناچہ میں نے خواب میں ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہے اور وہ اس نیزہ کو میری گردن پر رکھنا چاہتا ہے میں گھبرا کر بیدا ہوگیا، چناچہ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو کچھ بھی نظر نہیں آیا میں نے کہا جھوٹا خواب ہے، میں پھر دوبارہ سو گیا تو میں نے پھر اسی طرح خواب دیکھا، چناچہ میں بیدار ہوا تو میں نے اپنی اونٹنی کو تڑپتے ہوئے پایا، میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ایک نوجوان نظر آیا جیسا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہے اور دوسرا ایک بوڑھا آدمی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اس سے وہ نیزہ چھین رہا ہے، تو یہ دونوں اسی طرح جھگڑ رہے تھے کہ اچانک جنگل میں سے تین بیل آئے تو اس شیخ نے نوجوان سے کہا کہ اے نوجوان ان میں سے چاہے جونسا لے لے میرے پناہ حاصل کرنے والے انسان کی اونٹنی کے فدیہ میں، چناچہ وہ نوجوان کھڑا ہوا اور اس نے ان میں سے ایک بیل لے لیا، پھر وہ شیخ میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ جب تو کسی وادی میں پڑاؤ کرے اور اس کے ہول سے ڈرے تو یوں کہا کر کہ میں محمد کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں اس وادی کے شر سے اور جنات میں سے کسی کی پناہ نہ لے، کیونکہ ان کا معاملہ ختم ہوگیا، میں نے کہا یہ محمد کون ہیں، وہ شخص کہنے لگا نبی عربی ہیں نہ شرقی نہ غربی پیر کے دن پیدا ہوا ہیں، میں نے کہا تو ان کا مسکن کہاں ہے وہ کہنے لگا یثرب کھجوروں والا، چناچہ میں اپنی سواری پر سوار ہوا یہاں تک کہ صبح روشن ہوگئی تو میں نے رفتار اور تیز کردی اور میں مدینہ منورہ میں داخل ہوگیا مجھ کو رسول اکرم نے دیکھا تو اس سے پہلے کہ میں آپ سے کچھ ذکر کروں آپ نے میرا سارا واقعہ بیان کردیا اور مجھے اسلام کی دعوت دی۔ چناچہ میں مشرف بااسلام ہوگیا۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہی شخص ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے وّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ۔
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمھار تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا

اور کفار جن ایمان لانے سے پہلے کفار مکہ کی طرح یہ اعتقاد کیے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا یا یہ کہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔
Ayah 72:8

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

پھر اللہ تعالیٰ جنات کی باہمی گفتگو کو روایت کرتا ہے کہ ہم ایمان لانے سے پہلے خبروں کی تلاش میں آسمان کی طرف پہنچے تو ہم نے اس کو سخت محافظ فرشتوں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا تاکہ کوئی آسمان کی خبریں نہ چرا سکے۔
Ayah 72:9

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کیلیے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے

اور رسول اکرم کی بعثت سے پہلے ہم آسمان کی خبریں سننے کے لیے جا بیٹھا کرتے تھے تو حضور کی بعثت کے بعد اب اگر کوئی سننا چاہتا ہے تو اپنے لیے تیار شعلہ اور محافظ فرشتوں کو پاتا ہے۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا انکے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے جو ہمیں خبریں سننے سے روک دیا گیا یا یہ کہ ان کے رب نے ان کو ہدایت کرنے کا ارادہ فرمایا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ رسول اکرم مبعوث فرمانے سے زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں تو ان کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا یہ کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کرنا منظور ہے۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

اور ہم میں پہلے سے بھی بعض وحادنیت کو ماننے والے ہوتے آئے ہیں جو حضور و قرآن پر ایمان لائیں گے اور بعض کافر ہوتے آئے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے پہلے یہودیت و نصرانیت کے مختلف طریقوں پر تھے۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اسکو تھکا سکتے ہیں

اور ہم نے سمجھ لیا تھا اور اسبات کا یقین کرلیا تھا کہ زمین کے کسی حصہ میں جاکر اللہ کو ہرا نہیں سکتے جس مقام پر بھی پہنچیں گے فورا پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں بھاگ کر بھی اس سے نہیں چھوٹ سکتے۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا

اور جب ہم نے رسول اکرم کی زبان اقدس سے قرآن کریم پر ایمان لے آئے سو جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے گا تو اسے نہ اپنے تمام اعمال کے ضائع ہونے کا ڈر ہوگا اور نہ اپنے عمل کے نقصان کا خوف ہوگا۔
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں تو جو فرماں بردار ہوئے وہ سیدھے راستے پر چلے

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

(14۔ 15) اور ہم میں سے بعض لوگ تو خلوص کے ساتھ وحدانیت کر کے رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور بعض ہم میں سے حسب سابق حق و ہدایت سے پھرے ہوئے ہیں۔ سو جو شخص مسلمان ہوگیا اس نے بھلائی کا رستہ ڈھونڈ لیا اور جو کفار ہیں سو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم انکے پینے کو بہت سا پانی دیتے

اگر یہ لوگ کفر کے طریقہ پر یا یہ کہ اسلام کے طریقہ پر قائم ہوجاتے تو ہم ان کو بہت مال اور وسعت دیتے تاکہ ہم اس کے ذریعے ان کا امتحان کریں تاکہ یہ اپنی اسی حالت کی طرف لوٹ آئیں جو کہ ان کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے۔ شان نزول : وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ (الخ) مقاتل سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی جب ان سے سات سال تک بارش روک دی گئی تھی اور ابن ابی حاتم نے ابو صالح کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جنات نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم آپ کی مسجد میں آپ کے ساتھ نمازوں میں حاضر ہوسکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا۔
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس سے انکی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیر لے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

اور جو شخص اپنے پروردگار کی توحید اور اس کی کتاب سے اعراض کرے گا یعنی ولید بن مغیرہ مخزومی تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کے پہاڑ پر چڑھنے کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

اور جتنی مسجدیں ہیں سب اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں تو ان مسجدوں میں اللہ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو یا یہ کہ مساجد سے مراد انسان کے وہ اعضاء ہیں جن سے وہ سجدہ کرتا مثلا پیشانی ہاتھ پیر وغیرہ۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب خدا کے بندے (محمد ﷺ اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے

اور جب محمد بطن نخلہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو یہ تمام جن جس وقت رسول اکرم سے قرآن کریم سنتے ہیں تو آپ کی اور قرآن کریم کی محبت کی وجہ سے آپ کے دائیں بائیں جمع ہوجاتے ہیں۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

آپ فرما دیجیے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور تمام مخلوق کو اسی طرف لاتا ہوں۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

محمد آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ تم سے عذاب و نقصان کے دور کرنے اور تمہیں نفع پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔
Ayahs 72:22–23

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سواء کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اسکے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے اور جو شخض خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

(22۔ 23) آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو مجھے اس کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں، البتہ اللہ کے احکام کا پہنچانا مجھے بچا سکتا ہے۔ اور جو وحدانیت میں اللہ تعالیٰ کا اور تبلیغ میں اس کے رسول کا کہا نہیں مانتے تو ان لوگوں کے لیے جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہیں گے۔ شان نزول : قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ (الخ) ابن جریر نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جنات نے حضور سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کیا حکم ہے کہ ہم مسجد میں آئیں یا یہ کہ نماز میں آئیں یا یہ کہ نماز میں حاضر ہوں اور یا آپ سے دور رہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اور ابن جریر نے حضری سے روایت کیا ہے کہ ان کے سامنے جنات میں سے ایک سردار جن کا ذکر کیا گیا کہ وہ کہتا ہے کہ محمد اللہ تعالیٰ کی پناہ لینا چاہتے ہیں اور میں آپ کو پناہ دیتا ہوں۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب انکو معلوم ہوجائے گا کہ مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کا تھوڑا ہے

تو محمد آپ ان کی حالت کو اس وقت دیکھیے کہ جس وقت یہ عذاب کا نظارہ کریں گے تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنیوالا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کردی ہے

جس وقت یہ عذاب کے نازل ہونے کا جلدی مطالبہ کریں تو آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے مجھے معلوم نہیں کہ وہ عذاب نزدیک ہے یا یہ کہ اس کے لیے کوئی لمبی مدت مقرر کر رکھی ہے وہ نزول عذاب سے واقف ہے۔
Ayahs 72:26–27

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

(وہی) غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتادیتا ہے اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے

(26۔ 27) وہ اپنے ایسے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو کہ وہ اسے بعض غیبی باتوں سے مطلع کردیتا ہے اور اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے تاکہ شیطاطین جنات اور انسانوں میں سے کوئی بھی جبریل امین کی قرات نہ سن سکے۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دئیے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

اور یہ انتظام اس لیے کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ فرشتوں نے حفاظت کے ساتھ اپنے پروردگار کے پیغاموں کو پہنچا دیا اور ہمارے جاننے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان تمام فرشتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو اس کے پاس موجود ہیں اور اس کو ہر ایک چیز کی پوری طرح گنتی معلوم ہے جیسا کہ وہ کپڑوں میں لپٹنے والے کی حالت سے واقف ہے۔