Ayah 72:1(قل) اے رسول ! لوگوں سے کہہ دیجئے (اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَـمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ) میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی آیات کے سماع کے لیے اپنے رسول کی طرف متوجہ کیا تاکہ ان پر حجت قائم ہو، ان پر نعمتوں کا اتمام ہوا اور وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان کا قصہ لوگوں کو سنادیں۔ وہ قصہ یہ ہے کہ جب وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے، خاموش رہو، پس جب وہ خاموش ہوگئے تو وہ قرآن کے معافی کے فہم سے بہرہ ور ہوئے اور قرآن کے حقائق ان کے دلوں تک پہنچ گئے۔ (فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا) تو انہوں نے کہا۔ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ یعنی ہم نے نہایت قیمتی اور تعجب خیز کلام اور نہایت بلند مطالب سنے ہین۔
Ayah 72:2(یھدی الی الرشد) ۔ وہ قرآن رشد کی طرف ہدایت کرتا ہے (رشد) ہر اس چیز کے لیے جامع نام جو لوگوں کے دین ودنیا کے مصالح کی طرف ان کی راہ نمائی کرے (فامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا) تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے پس انہوں نے ایمان کو جس میں اعمال خیر داخل ہیں تقوی کو، جو ہر قسم کے شر کو ترک کرنے کو متضمن ہے، جمع کرلیا۔ انہوں نے اس کا سبب، جس نے ان کو ایمان اور اس کے توابع کی طرف دعوت دی، قرآن کے ان ارشادات کو قرار دیا جن کا ان کو علم ہوا جو مصالح اور فوائد پر مشتمل اور ضرر سے خالی ہیں۔ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی دلیل اور قطعی حجت ہے جو اس سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اس کے طریقے کو رہنما بناتا ہے یہی وہ ایمان ہے جو نفع مند ہے جو ہر بھلائی سے بہر مند کرتا ہے اور جو ہدایت قرآن پر مبنی ہے، برعکس عادی، پیدائشی اور رواجی ایمان کے کیونکہ یہ تقلیدی ایمان ہے جو شبہات کے خطرات اور بیشمار عوارض میں گھرا ہوا ہے۔
Ayah 72:3(وانہ تعالیٰ جد ربنا) یعنی ہمارے رب کی عظمت بلند وبالا اور اس کے نام مقدس ہیں (ماتخذا صاحبۃ ولا ولدا) اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی عظمت سے اس بات کو جان گئے جس سے اس شخص کا ابطال ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی یا اس کی اولاد ہے کیونکہ وہ ہر صفت کمال میں عظمت و کمال کا مالک ہے جبکہ بیوی اور بیٹا بنانا اس کے منافی ہے کیونکہ یہ کمال غنا کی ضد ہے۔
Ayah 72:4(وَّاَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ سَفِيْهُنَا عَلَي اللّٰهِ شَطَطًا) یعنی وہ صواب سے ہٹی ہوئی اور حد سے گذری ہوئی بات کہتا ہے اور صرف اس کی سفاہت اور عقل کی کمزوری نے اسے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے ورنہ اگر وہ سنجیدہ اور مطمئن ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ کیسے بات کہنی ہے۔
Ayah 72:5یعنی اس نے پہلے ہم دھوکے میں مبتلا تھے، انسانوں اور جنات میں سے ہمارے سرداروں اور روسا نے ہمیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، ہمیں ان پر یقین تھا، ہم ان کے بارے میں سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کی جرات نہیں کرتے، اس لیے اس سے قبل ہم ان کے طریقے پر گامزن تھے، آج حق ہم پر واضح ہوچکا ہے ہم اس کے راستے پر چل رہے ہیں اور ہم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہمیں مخلوق میں سے کسی کے ایسے قول کی کوئی پروا نہیں جو ہدایت کے منافی ہو۔
Ayah 72:6یعنی انسان جنوں کی عبادت کرتے تھے اور خوف اور گھبراہٹ کے موقعوں پر جنات کی پناہ لیتے تھے پس انسانوں نے جنات کو زیادہ سرکش بنادیا، یعنی جب جنوں نے دیکھا کہ انسان ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی پناہ طلب کرتے ہیں تو اس چیز نے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ کردیا ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ضمیر جنات کی طرف لوٹتی ہے یعنی جب جنات نے انسانوں کو دیکھا کہ وہ ان کی پناہ پکڑتے ہیں تو انہوں نے ان کے خوف اور دہشت زدگی میں اور اضافہ کردیا تاکہ وہ ان کو جنات کی پناہ لینے اور ان کے قول سے تمسک کرنے پر مجبور کریں زمانہ جاہلیت میں جب انسان کسی خوف ناک وادی میں پڑاؤ کرنا تو کہا میں اس وادی کے سردار کی، اس کی قوم کے بیوقوفوں سے پناہ مانگتا ہوں۔
Ayah 72:7یعنی جب انہوں نے حیات بعدالموت کا انکار کردیا تو شرک اور سرکشی اختیار کرنے کی جرات کی۔
Ayah 72:8(وانا لمسناالسماء) یعنی جب ہم آسمان پر آئے اور وہاں کے حالات کی خبر لی (فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا) تو ہم نے بھرا ہوا پایا اس کو مضبوط چوکیداروں سے۔ یعنی اس کے کناروں تک پہنچنے اور اس کے قریب آنے سے اس کی حفاظت کی گئی تھی (وشھبا) اور انگاروں سے۔ ان انگاروں کو ان جنات پر پھینکا جاتا ہے جو آسمانوں کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہماری پہلی عادت کے برعکس ہے کیونکہ پہلے ہمارے لیے آسمان کی خبروں تک رسائی ممکن تھی۔
Ayahs 72:9–10(وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ) اس سے پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمانوں کے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتے تھے، ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق آسمان کی خبریں حاصل کرلیتے تھے (فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا) اب اگر کوئی سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب کو گھات میں لگے ہوئے پاتا ہے جو اس کو تلف کرنے اور جلا ڈالنے کے لیے تیار ہوتا ہے، یعنی یہ معاملہ بہت عظیم اور اس کی خبر بہت بڑی ہے، انہیں قطعی طور پر یقین ہوگیا کہ اللہ نے زمین پر ایک بڑا واقعہ وقوع پذیر کرنے کا ارادہ فرمایا ہے، اس لیے انہوں نے کہا یعنی خیر یا شر میں سے ایک لازمی امر ہے کیونکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان پر معاملہ بدل چکا ہے جو ان کو اچھا نہ لگا۔ پس انہوں نے اپنی فطانت سے پہچانل یا کہ کوئی معاملہ ہے جو اللہ چاہتا ہے اور زمین پر وقوع لانا چاہتا ہے اس آیت کریمہ میں ان کے ادب کا بیان ہے کیونکہ انہوں نے خیر کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور ادب کی بنا پر شر کے فاعل کو حذف کردیا۔
Ayah 72:11(وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ ۭ ) اور یہ کوئی ہم میں سے نیک ہیں اور کوئی طرح کے یعنی فساق، فجار اور کفار ( كُنَّا طَرَاۗىِٕقَ قِدَدًا) ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں۔ یعنی مختلف و متنوع گروہ اور متفرق خواہشات ہیں۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے۔
Ayah 72:12یعنی اس وقت ہم پر پوری طرح واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کامل قدرت کا مالک اور ہم کامل طور پر بےبس ہیں ہماری پیشانیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر ہم فرار ہوں تو فرار ہو کر اللہ کو بےبس نہیں کرسکتے ہم نے فرار کے اسباب کے ذریعے سے اس کے دست قدرت سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس سے بھاگ کر اس کے سوا کہیں ٹھکانا اور پناہ گاہ نہیں۔
Ayah 72:13(وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰٓى) اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اور وہ قرآن کریم ہے جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم نے اس کی رشد و ہدایت کو پہچان لیا اور اس نے ہمارے دلوں پر اثر کیا (اٰمنا بہ) تو ہم اس پر ایمان لے آئے پھر انہوں نے اس بات کا ذکر کیا جو مومن کو ترغیب دیتی ہے چناچہ انہوں نے کہا (فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا) یعنی جو کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آیا اسے کسی نقصان سے واسطہ پڑے گا نہ کوئی تکلیف لاحق ہوگی اور جب وہ شر سے محفوظ ہوگیا تو اسے بھلائی حاصل ہوگئی پس ایمان اک ایسا سبب ہے جو ہر قسم کی بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شر کی نفی کرتا ہے۔
Ayah 72:14(وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ) اور بیشک ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض نافرمان) گناہ گار ہیں۔ یعنی صراط مستقیم سے ہٹنے اور اس کو چھوڑنے والے ( فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰۗىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا) پس جو فرماں بردار ہوئے انہوں نے رشد و ہدایت کا راستہ پا لیا جو ان کو جنت اور اس کی نعمتوں تک پہنچاتا ہے۔
Ayah 72:15(یعنی ظالم لوگوں کو اللہ ان کے ظلم کی پاداش میں جہنم رسید کرے گا اور یہ اللہ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔
Ayah 72:16یعنی اگر وہ (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ ) سیدھے راستے پر رہتے (لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا) تو ہم انہیں وافر پانی پلاتے۔ یعنی وہ مزے سے بستے لیکن ان کے ظلم وعدوان نے انہیں اس سے روک دیا۔
Ayah 72:17(لِّنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ ) یعنی تاکہ ہم ان کو آزمائیں اور ان کا امتحان لیں تاکہ جھوٹے اور سچے کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے (وَمَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا) یعنی جو کوئی اللہ کے ذکر۔۔۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔۔ سے روگردانی کرے، اس کی اتباع کرے نہ اس کی اطاعت کرے بلکہ اس کے بارے میں غافل رہے تو الہ اسے سخت عذاب دے گا یعنی سختی کی انتہا کو پہنچا ہوا عذاب۔
Ayah 72:18یعنی مساجد میں دعائے عبادت یا دعائے مسئلہ غرض کہ کوئی سی بھی دعا اللہ کے سوا کسی سے نہ کی جائے کیونکہ مساجد اللہ کی عبادت کے لیے سب سے بڑا مقام ومحل ہیں جو اللہ کے اخلاص اس کی عظمت کے سامنے خضوع اور اس کے غلبے کے سامنے فروتنی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہیں۔
Ayah 72:19(وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ ) یعنی جب اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے تو قریب ہے کہ جنات اپنی کثرت کے باعث (علیہ لبدا) اور جو ہدایت آپ لے کر آئے ہیں، اس میں حرص کی بنا پر آپ پر ہجوم کریں۔
Ayah 72:20(قل) اے رسول ! جس چیز کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجئے (اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّيْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٖٓ اَحَدًا) بیشک میں اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو ایک مانتا ہوں، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس کے سوا تمام خود ساختہ ہم سروں، بتوں اور ان ہستیوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کو مشرکین نے اللہ کے سوا معبود بنا کر رکھا ہے۔
Ayah 72:21رسول اکرم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ انہیں اس بات کی وضاحت کردیں کہ میں تو ایک بندہ ہوں، معاملے اور تصرف میں مجھے کوئی اختیار نہیں۔
Ayah 72:22قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ) کہہ دیجئے مجھے ہرگز کوئی اللہ سے نہیں بچاسکتا۔ یعنی میں کسی سے فریاد رسی نہیں چاہتا جو مجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے۔ جب رسول اللہ جو مخلوق میں کامل ترین ہستی ہیں، کسی نقصان اور رشد و ہدایت کا اختیار نہیں رکھتے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو آپ اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتے تو پھر مخلوق میں سے دیگرلوگوں کا اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہونا اولی واحری ہے۔ (وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا) اور اس کے سوا میں کوئی پناہ گاہ اور بچ نکلنے کی جگہ نہیں پاتا۔
Ayah 72:23(اِلَّا بَلٰـغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ) مجھے لوگوں پر کوئی خصوصیت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق تک اپنے پیـغام پہنچانے اور ان کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے مختص کیا ہے اور اسی سے لوگوں پر حجت قائم ہوتی ہے۔ (وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا) اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، ایسے لوگ جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اس سے مراد معصیت کفریہ ہے جیسا کہ دیگر محکم نصوص اس کو مقید کرتی ہیں، رہی مجرد معصیت تو وہ جہنم میں خلود کی موجب نہیں جیسا کہ قرآن کی آیات اور نبی اکرم ﷺ کی احادیث دلالت کرتی ہیں اس پر امت کے تمام اسلام اور تمام ائمہ کا اجماع ہے۔
Ayah 72:24(حَتّىٰٓ اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ ) یعنی جب وہ عیاں طور پر اس کا مشاہدہ کریں گے انہیں یقین آجائے گا کہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے۔ (فسیعلمون) تب انہیں حقیقت معلوم ہوگی کہ (مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا) مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کا تھوڑا ہے۔ جب کوئی دوسرا ان کی مدد کرسکے گا نہ وہ خود اپنی مدد کرسکیں گے اور جب انہیں اکیلے اکیلے اٹھایا جائے گا جیسا کہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کیے گئے تھے۔
Ayah 72:25(قل) کہہ دیجئے۔ اگر وہ آپ سے پوچھیں (متی ھذا الوعد۔ یونس 48) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ تو ان سے کہہ دیجئے (اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا) میں نہیں جانتا کہ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہے ؟ یعنی وہ اس کی کوئی طویل مدت مقرر کرتا ہے تو اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
Ayah 72:26مخلوق میں سے کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ وہ اکیلا ہی ضمائر، اسرار اور غیوب کا علم رکھتا ہے۔
Ayah 72:27(اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ ) مگر جس رسول کو پسند فرمائے۔ پس اسے صرف اسی غیب سے آگاہ کرتا ہے جس سے آگاہ کرنے کا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول دیگر انسانوں کی مانند نہیں ہیں کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تائید سے نوازا ہے جس سے اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نوازا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو وحی کی اس کی حفاظت بھی حتی کہ رسول اس وحی کی حقیقت کو پہنچ گئے بغیر اس کے کہ شیاطین اس کے قریب آئیں اور اس میں کمی بیشی کریں اسی لیے فرمایا (فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) وہ اس کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayah 72:28(لیعلم) تاکہ اسے معلوم ہوجائے (اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ ) کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے ہیں ان اسباب کے ذریعے سے جو ان کے لیے اس نے مہیا کیے (واھاط بما لدیھم) اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس نے اس کا احاطہ کیا ہے۔ یعنی جو کچھ ان کے پاس ہے جسے وہ چھپاتے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں (وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا) اور ہر چیز کو اس نے شمار کررکھا ہے۔
فوائد۔ یہ سورة مبارکہ متعدد فوائد پر مشتمل ہے۔
1۔ اس سورت سے جنات کا وجود ثابت ہوتا ہے نیز یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنات امرونہی کے مکلف ہیں ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی جیسا کہ یہ اس سورت میں صریح طور پر مذکور ہے۔
2۔ اس سورة کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ جس طرح انسانوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے اسی طرح جنات کی طرف بھی مبعوث تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جنات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف بھیجا تاکہ وہ قرآن کو غور سے سنیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اور پھر اسے اپنی قوم تک پہنچائیں۔
3۔ اس سورة مبارکہ سے جنات کی ذہانت اور ان کی معرفت حق کا اثبات ہوتا ہے اور جس چیز نے انہیں ایمان لانے پر آمادہ کیا وہ یہ ہے کہ ہدایت قرآن ان پر متحقق ہوگئی، نیز اپنے خطاب میں قرآن کے حسن ادب کی بنا پر (ایمان لانے پر آمادہ ہوئے) ۔
4۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول پر کامل عنایت تھی اور وہ قرآن اس کی حفاظت میں تھا جسے رسول اللہ لے کر تشریف لائے پس جب آپ کی نبوت کی بشارتیں شروع ہوئیں ستاروں کے ذریعے آسمان محفوظ ہوئے شیاطین اپنی اپنی جگہیں چھوڑ کر بھاگ گئے اور گھبرا کر اپنی گھاتوں سے نکل گئے اس کے ذریعے اللہ نے اہل زمین پر اس قدر رحم فرمایا جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ان کے رب نے ان کو رشد و ہدایت سے بہرہ ور کرنے کا ارادہ کیا پس اس نے ارادہ فرمایا کہ اپنے دین و شریعت اور اپنی معرفت کو زمین پر ظاہر کرے جس سے دلوں کو بہجت و سرور حاصل ہو، خرد مند لوگ خوش ہوں شعائر اسلام ظاہر ہوں اور اہل اصنام اور اہل اوثان کا قلع قمع ہو۔
5۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ جنات میں رسول اللہ سے قرآن کو سننے اور آپ کے پاس اکٹھے ہونے کی شدید خواہش تھی۔
6۔ یہ سورة کریمہ توحید کے حکم اور شرک کی ممانعت پر مشتمل ہے نیز اس میں مخلوقات کی حالت بیان کی گئی ہے کہ ان میں سے کوئی ب ھی ذرہ بھر عبادت کا مستحق نہیں کیونکہ جب رسول مصطفیٰ جو مخلوق میں افضل اور کامل ترین ہستی ہیں کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے بلکہ خود اپنی ذات کو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے تو معلوم ہوا کہ اسی طرح تمام مخلوق بھی کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتی پس جس مخلوق کا یہ وصف ہو اس کو معبود بنانا خطا اور ظلم ہے۔
7۔ اس سورة مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ علم غیب کا علم رکھنے میں اللہ تعالیٰ منفرد ہے مخلوق میں سے کوئی ہستی غیب کا علم نہیں جانتی سوائے اس کے جس پر اللہ راضی ہوا اور کسی چیز کا علم عطا کرنے کے لیے اسے مختص کرے۔