Al-Jinn 72:10

Al-Jinn · from ayah 10

72:10

وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا ۟ۙوَّاَنَّا لَا نَدۡرِىۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And we do not know [therefore] whether evil is intended for those on earth or whether their Lord intends for them a right course.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:10

اور یہ کہ "ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا رب اُنہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا اراده کیا گیا ہے یا ان کے رب کا اراده ان کے ساتھ بھلائی کا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ : ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ آیا زمین والوں سے کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے پروردگار نے ان کو راہ راست دکھانے کا ارادہ فرمایا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والوں سے کوئی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے نے کوئی بھلائی چاہی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ (ہماری بندش سے) ان لوگوں کے حق میں جو زمین میں ہیں کسی برائی کا اِرادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرمایا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک ہم نہیں جانتے کیا ان لوگوں کے ساتھ جو زمین میں ہیں، کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے، یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ : ہم یہ نہیں جان سکے کہ اہل زمین کے ساتھ کسی برے معاملہ کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا پروردگار انہیں راہ راست پر لانا چاہتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ زمین والوں کے لیے کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے انہیں ہدایت دینے کا قصد کیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے رب نے ان کے لئے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and that “we do not know whether evil is intended for those on the earth, or whether their Lord intends to direct them to the Right Way”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that we do not know whether it is a bad end that is intended for those on earth, or their Lord has intended for them a right thing,

— Muhammad Taqi Usmani

and that we do not know whether it is a bad end that is intended for those on earth, or their Lord has intended for them a right thing,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`And we know not whether evil is intended for those on the earth, or whether their Lord intends for them guidance.'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we know not whether harm is boded unto all who are in the earth, or whether their Lord intendeth guidance for them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And we do not know [therefore] whether evil is intended for those on earth or whether their Lord intends for them a right course.

— Saheeh International

We do not know whether by this arrangement God intends benefit and guidance for the people of the earth or only evil.

— Muhammad Sarwar

And that we know not whether evil is meant for those who are on earth or whether their Lord means to bring them good:

— Muhammad Habib Shakir

And we know not whether evil is boded for those who are on the earth, or whether their Lord intendeth for them a right direction.

— Abdul Majid Daryabadi

'And we understand not whether ill is intended to those on earth, or whether their Lord (really) intends to guide them to right conduct.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

بعثت نبوی ﷺ سے پہلے جنات آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے، اب جب حضور ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہوجائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 10 اس سے معلوم ہوا کہ عالم بالا میں اس قسم کے غیر معمولی انتظامات دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر کوئی عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ہوا اور منشائے الہی یہ ہو کہ اس کے نزول سے پہلے جن اس کی بھنک پا کر اپنے دوست انسانوں کو خبردار نہ کردیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے زمین میں کسی رسول کو مبعوث فرمایا ہو اور تحفظ کے ان انتظامات سے مقصود یہ ہو کہ رسول کی طرف جو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں ان میں نہ تو شیاطین کسی قسم کی خلل اندازی کرسکیں اور نہ قبل از وقت یہ معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کو کیا ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پس جنوں کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے آسمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

(آیت) وَّاَنَّا لَا نَدْرِيْٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا۔ یعنی جنات و شیاطین کو آسماین خبریں سننے سے روک دیا بطور سزا کے بھی ہوسکتا ہے کہ زمین والوں کو آسمان کی خبریں نہ ملا کریں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے یہ ہدایت کا سامان کیا ہو کہ جنات و شیاطین وحی آسمانی میں کوئی خلل نہ ڈال سکیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل زمین کے لیے ایک مبارک قِران کی طرف اشارہ: ان جنوں پر نظام کائنات میں اس اہم تبدیلی کی اصل علت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اچھی طرح واضح نہیں تھی اس وجہ سے انھوں نے اس کی کوئی قطعی وجہ بیان کرنے کے بجائے اس پر صرف اپنے تردد کا اظہار کیا کہ اگرچہ اس کا سبب ہم پر واضح نہیں ہے تاہم یہ زمین میں کسی اہم انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ انقلاب اہل زمین کے لیے سبب شر ہو گا یا اس میں ان کے رب کی طرف سے کوئی بڑا خیر مضمر ہے تو اس کا فیصلہ مستقبل کرے گا۔ اگرچہ انھوں نے بربنائے احتیاط اپنی رائے واضح نہیں کی لیکن اسلوب کلام شاہد ہے کہ اہل زمین کے لیے انھوں نے اس کو ایک فال نیک سمجھا۔ چنانچہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی اس حراست آسمانی سے مقصد اہل زمین کے لئے کسی شر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانا یعنی ان پر عذاب نازل کرنا یا بھلائی کا ارادہ یعنی رسول کا بھیجنا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یعنی ہمیں یقین سے یہ معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی حفاظت کا جو انتظام فرمایا ہے، اس سے زمین والوں کو سزا دینا مقصود ہے کہ زمین والے پہلے سے اس کی سزا سے باخبر نہ ہوسکیں، یا اس کے پیچھے کوئی بھلائی ہے جو زمین والوں کو پہنچانا پیش نظر ہے، اور جنات کو روکنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس بھلائی میں کھنڈت نہ ڈال سکیں۔ بظاہر مقصد یہ ہے کہ پہلے تو ہمیں یہ بات معلوم نہیں تھی اسی لیے ہم حالات کا جائزہ لینے کے لیے نکلے تھے، لیکن اب آنحضرت ﷺ سے قرآن کریم سن کر یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے زمین والوں کو قرآن کریم کی ہدایت سے سرفراز فرمانا چاہتے تھے اس لیے یہ انتظام فرمایا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانا لا لندری ................................ رشدا (27 : 01) ” اور یہ کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برامعاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے “۔ یہ تمام غیبی امور صرف اللہ کے علم کے حوالے ہیں ، جن کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ پس پردہ تقدیر سے کیا چیز نمودار ہوتی ہے۔ آیا انسانوں پر کوئی مصیبت آرہی ہے اور وہ گمراہی میں مزید آگے جائیں گے یا ان کے لئے ہدایت اور رحمت کے دروازے کھل گئے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کو شر کے مقابلے میں ذکر کیا گویا حقیقی خبر ہے ہی ہدایت۔ جب وہ ذریعہ ہی اس بات کی تردید کردے ، جس کی طرف کاہن اپنا یہ دعویٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی یہ جدید انتظامات اور سخت ناکہ بندی خدا جانے کس غرض سے عمل میں آئی ہیں۔ یہ تو ہم سمجھ چکے کہ قرآن کریم کا نزول اور پیغمبر عربی کی بعثت اس کا سبب ہوا لیکن نتیجہ کیا ہونے والا ہے ؟ آیا زمین والے قرآن کو مان کر راہ پر آئیں گے اور اللہ ان پر الطاف خصوصی مبذول فرمائے گا ؟ یا یہی ارادہ ٹھہر چکا ہے کہ لوگ قرآنی ہدایات سے اعراض کرنے کی پاداش میں تباہ و برباد کیے جائیں ؟ اس کا علم اسی علام الغیوب کو ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

آیت 10{ وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ } ”اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے“ { اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا۔ } ”یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔“ جنات کی اس بات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ تورات کے عالم تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کے دو امکانی نتائج میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آتا ہے۔ یا تو متعلقہ قوم اپنے رسول پر ایمان لا کر ہدایت کے راستے پر چل پڑتی ہے یا اس کا انکار کر کے تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

8 یعنی یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ آسمان پر اس قدر ناکہ بندیوں کی غرض وغایت کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوگ اس قرآن پر ایمان لاکر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات کے مستحق بنتے ہیں یا اس کا انکار کرکے اللہ کے عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ اب باقی نہیں رہ گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اپنے اس رسول کی بعثت اور قرآن کے نزول سے) یعنی اس جدید رسالت کے مقصود تکوین کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ خدا معلوم لوگوں کو ہدایت ہی ہوجائے گی، یا انکار واعراض کرکے لوگ اپنی سزا بھگتیں گے۔ (آیت) ” انا لاندری “۔ عرب جاہلی جو جنات کی غیب دانی کے معتقد تھے۔ ان کی بھی تردید اس سے پوری طرح ہوگئی۔ بےبسی اور کم علمی میں جہاں انسان وہیں جنات۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا لا ندری . اور اس سے پہلے ہم واقف نہ تھے کہ۔ اشرا ارید بمن فی الارض ام اراد بھم ربھم رشدا . امر خداوندی کو محفوظ بنا کر زمین والوں کی برائی مقصود ہے یا اللہ نے ان کو ہدایت یاب بنانا چاہا ہے لیکن اب جبکہ ہم نے قرآن سن لیا اور ہم کو اسی چیز نے آسمان کی خبریں حاصل کرنے سے روک دیا تاکہ (آسمانی خبروں کا بیان) رسول اللہ ﷺ کے لیے معجزہ ہوجائے جس کو پانے اور ظاہر کرنے سے کاہن عاجز ہوجائیں تو اب کھل گیا کہ اللہ کو اہل عالم کی ہدایت یابی مقصود ہے۔ مذکورۂ بالا تینوں جملوں میں قرآن کی صداقت اور رسول اللہ ﷺ کی حقانیت پر استدلال ہے۔ اچھائی ہو یا برائی ‘ خیر ہو یا شر ‘ سب اللہ کے ارادہ سے ہوتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے جو ہمیں خبریں سننے سے روک دیا گیا یا یہ کہ ان کے رب نے ان کو ہدایت کرنے کا ارادہ فرمایا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ رسول اکرم مبعوث فرمانے سے زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں تو ان کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے یا یہ کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کرنا منظور ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وانا لاندری اشرارید…: اتنے سخت پہرے دیکھ کر جنوں نے سمجھ لیا کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے، یا تو اہل زمین کے ساتھ شرکا کا ارادہ کیا گیا ہے، یعنی کسی قوم پر اچانک عذاب آنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور خبروں پر پہرا الگ گیا ہے، تاکہ اس قوم کو وقت سے پہلے اطلاع نہ ہوجائے، یا اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی اور ہدایت کار ارادہ کیا ہے، یعنی کوئی رسول مبعوث ہوا ہے جس کی طرف بھیجی جانے والی وحی کی حفاظت کے لئے یہ انتظام کیا یا ہے، تاکہ شیطان نہ اس میں کوئی دخل دے سکیں اور نہ پہلے معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کی طرف کیا وحی کی جا رہی ہے۔ جب وہ اس جستجو کے لئے نکلے کہ ان دو باتوں میں سے کون سی بات حق ہے تو انہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

تفسیر 8 تا 10 اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لمسناالسماء یہ جنوں کا قول ہے یعنی ہم نے اس کی خبر جاننا چاہی جس طرح ہماری عادت تھی تو ہم نے اسے پایا کہ وہ فرشتوں سے بھرا ہے۔ حرس، حارس کی جمع ہے اور شھب، شھاب کی جمع ہے وہ ستاروں کاٹوٹنا ہے جو انہیں چوری چھپے باتیں سننے پر جلاتے ہیں اور اس بارے میں گفتگو سورة حجر اور صافات میں گزرچکی ہے وجد کے بارے میں یہ جائز ہے کہ اسے دو مفعولوں کی طرف متعدی مانا جائے ان دو میں سے پہلامفعول ھاضمیر ہے اور ملئت اس کے دوسرے مفعول کے محل میں ہے یہ بھی جائز ہے کہ وہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہو اور ملئت، قد کے مضمر ماننے کے ساتھ حال ہو، حرسا، ملئت کا مفعول ثانی ہونے کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

36۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانا کنا نقعد منہا مقاعد للسمع اور ہم اس کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ سے مراد ہے کہ آسمان پر پہرہ لگادیا گیا جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تاکہ کوئی چوری چھپے نہ سنے۔ جنات نے اس کا انکار کیا اب ان میں سے جس نے سننے کی کوشش کی اسے دور بھگا دیا گیا۔ 37۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان سے باتیں سن لیتے تھے۔ جب آپ کی تشریف آوری ہوئی تو پہرہ لگادیا گیا۔ جس سے وہ آسمان کی باتیں نہ سن سکے وہی اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو کہنے لگے انہوں نے کچھ نہیں سنا۔ اور کہنے لگے آیت وانا لمسنا السماء فوجدناہا ملئت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّانا لَا نَدْرِيْٓ: اور یہ کہ ہم نہیں جانتے ] [اَشَرٌّ اُرِيْدَ : آیا کسی برائی (عذاب) کا ارادہ کیا گیا ] [بِمَنْ فِي الْاَرْضِ : ان کے بارے میں جو زمین میں ہیں ] [اَمْ اَرَادَ بِهِمْ : یا ارادہ کیا ان کے بارے میں ] [رَبُّهُمْ رَشَدًا : ان کے رب نے کسی بھلی راہ کا ] ترکیب : (آیت۔ 10) لَا نَدْرِیْ کے آگے اَشَرٌّ سے لے کر رَشَدًا تک پورا جملہ نَدْرِیْ کا مفعول ہے۔ اُرِیْدَ ما ضی مجہول ہے اور اس کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے شَرٌّ حالت رفع میں ہے نوٹ۔ 1: اس (آیت۔ 10) سے معلوم ہوا کہ عالم بالا میں اس قسم کے غیر معمولی انتظامات (جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے) دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–12

﴿وَّ اَنَّا لَا نَدْرِيْۤ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ ﴾ (الآیات) جنات نے مزید کہا کہ یہ جو پیغمبر محمد ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ان کی آمد کا نتیجہ کیا ہونے والا ہے زمین والے ان کی رسالت کے منکر ہوا سزا پانے والے ہیں یا زمین کے بسنے والے ان کا اتباع کر کے ہدایت پر آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اور بھلائی کے مستحق ہوں گے یعنی تکوینی طور پر نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ہمیں اس کا علم نہیں ہے ممکن ہے جنات نے اپنے اس اجمالی کلام سے جنات کو متنبہ کیا ہو کیونکہ وہ بھی زمین کے رہنے والے ہیں اور مطلب یہ ہو کہ دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آگئی ہے اگر تم نے اسے نہ مانا تو عذاب میں پڑو گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” وانا لاندری “ یہ ماقبل سے متعلق نہیں، بلکہ علیحدہ کلام ہے حاصل یہ کہ رسول کی بعثت کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک ہدایت اور ثواب یعنی جو لوگ پیغمبر کی ہدایت قبول کرلیں وہ اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ دوم جو لوگ پیغمبر کی تکذیب کریں ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے اب یہ رسول آچکا ہے اس لیے اس کی بعثت میں بھی یہی دو مقصد ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ قرآن سننے سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے کہ اب آسمانوں کی حفاظت اور نگرانی سے اللہ تعالیٰ کا کیا اراد ہے ؟ کیا اس سے مخلوق کی بھلائی مقصود ہے یا برائی ؟ لیکن اب قرآن سننے سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی بعثت کی وجہ سے اب آسمان کو محفوظ کردیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنَّا لَا نَدْرِيْٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا۝ 10 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

ترکیب : رھقا وعتوا مفعول ثان لزادوا والرھق فی الاصل غشیان الشیء وانھم من کلام الجن بعضھم لبعض اواستیناف من اللہ سبحانہ ٗ و من فتح ان فیھا جعلھما من الموحی بہ ان لن الجملۃ ساومسدمفعولی ظنوا للسمع صلۃ لنقعد اوصفۃ لمقاعد۔ تفسیر : انہوں نے مان لیا جو تمہارے استاد تھے تم نہیں مانتے ‘ افسوس ہے۔ شان نزول : اس سورة کی شان نزول میں امام احمد اور ترمذی اور بخاری و مسلم وغیرہ کبار محدثین نے مختلف طرق سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب مع اس تشریح کے جو کتب سیر میں ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے برسوں قریش کو مکہ میں سمجھایا اور ان کی سختیوں کی بڑی استقلال سے برداشت کی اور بجز چند لوگوں کے ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَـآئَ فَوَجَدْنٰـھَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُھُبًا۔ وَّاَ نَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَلِلسَّمْعِ ط فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْلَـہٗ شِھَابًارَّصَدًا۔ وَّ اَنَّا لاَ نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَبِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَبِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا۔ (الجن : 8 تا 10) (اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–15

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَّاَنَّا لَانَدْرِیْ اَشَرٌّ (اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے) اشرٌّؔ سے مراد عذاب اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ (اس استراق سمع کو روک کر) اَمْ اَرَادَ بِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا (یا ان کے رب نے ان کو ہدایت کرنے کا مقصد فرمایا ہے) رُشدؔ سے خیر اور رحمت مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 9–10

8 ۔” وانا “ جن کہنے لگے۔ ” لمسنا السمآء “ کلبی (رح) فرماتے ہیں آسمان دنیا ” فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا “ اس کا گھات لگایا ہے تاکہ اس کو مارے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں بیشک مارنا نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا اور آپ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد سخت چوکیداری کی کوئی مشال ہی نہیں ہے اور وہ بعض حالات میں بات چرالیتے تھے، پھر جب نبی کریم ﷺ کو بھیجا گیا تو وہ اس سے بالکل روک دیئے گئے۔ پھر انہوں نے کہا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–10

8۔ 10۔ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے جنات بعض روایتوں کے موافق اول آسمان بعض کے موافق چوتھے آسمان تک پہنچ کر چوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن آتے تھے اور ایک بات میں نو باتیں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر کاہن لوگوں سے کہہ دیتے تھے قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ بڑھ گیا اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے جب آسمان تک جانے کا قصد کیا تو ان پر چاروں سے طرف سے انگارے برسنے شروع ہوگئے جنات نے اس انتظام کا ذکر ابلیس سے کیا۔ اس ملعون نے ہر طرف جنات کو اس انتظام کا سبب دریافت کرنے کو بھیجا باقی ٹکڑا اس حدیث کا اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–10

(وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ) اس سے پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمانوں کے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتے تھے، ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق آسمان کی خبریں حاصل کرلیتے تھے (فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا) اب اگر کوئی سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب کو گھات میں لگے ہوئے پاتا ہے جو اس کو تلف کرنے اور جلا ڈالنے کے لیے تیار ہوتا ہے، یعنی یہ معاملہ بہت عظیم اور اس کی خبر بہت بڑی ہے، انہیں قطعی طور پر یقین ہوگیا کہ اللہ نے زمین پر ایک بڑا واقعہ وقوع پذیر کرنے کا ارادہ فرمایا ہے، اس لیے انہوں نے کہا یعنی خیر یا شر میں سے ایک لازمی امر ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

11 ۔ نظام کائنات میں واقع ہونے والی تبدیلی پر اظہار تردد کا ذکر وبیان : سو نظام کائنات میں واقع ہونے والی اس تبدیلی پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لئے کسی شرکا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی خیر کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس نئی اور انقلابی صورتحال سے، جواب دیکھنے میں آرہی ہے، یہاں پر ان جنوں کا حسن ادب ملاحظہ ہو کہ شر کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہیں کی، بلکہ مجہول کے صیغے کے ساتھ اشر ارید کہا جب کہ بھلائی اور خیر (رشد) کی نسبت اس کی طرف کی اور کہا ام ارادبھم ربھم رشدا کہ وہ وحدہ لاشریک حقیقتاً اور فی الواقع ہر قسم کے شر اور اس کے ہر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 علما کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے شہاب ثاقب کا وجود تھا یا نہیں ؟ صحیح یہ ہے کہ اس کا وجود تھا مگر اس کثرت سے نہیں۔ اسی بنا پر جن زمین میں ہر طرف بکھر گئے تھے کہ معلوم کریں کونسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے آسمان کی پہلے سے زیادہ حفاظت ہونے لگی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دلوی بطن نخلہ میں پہنچے جہاں نبی ﷺ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے۔ اسے سن کر وہ ایمان لائے اور سمجھ گئے کہ اسی وجہ سے آسمان پر پہروں کا انتظام پہلے سے سخت کردیا گیا ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:10) وانا۔ اور یہ کہ۔ لا ندری مضارع منفی جمع متکلم درایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہم نہیں جانتے تھے اور ہم اس سے پہلے واقف نہ تھے کہ ۔۔ اشر ارید بمن فی الارض۔ ہمزہ استفہامیہ۔ شر مفعول مالم یسلم فاعلہ، (نائب فاعل) ۔ ارید ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ ب (حرف جر) الصاق کے لئے۔ من موصولہ فی الارض اس کا صلہ۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ ؤیحسراسۃ السماء رومی الشھاب ارید شر بمن فی الارض کیا آسمانوں کی نگہبانی میں اور آگ کے انگاروں کی بوچھاڑ سے زمین والوں کو کوئی عذاب دینا مقصود ہے ؟ رشدا : رشد یرشد باب نصر کا مصدر ہے جس کے معنی راہ پانے کے ہیں راپ یابی۔ بھلائی۔ راستی۔ نیکی ، بہتری ، یا ان کا پروردگار ان سے کوئی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) ان جدید انتظامات اور سخت ناکہ بندیوں کو دیکھ کر حیرت میں تھے کہ یہ معاملہ کیا ہے کچھ نہ جانتے تھے کہ اتنی حراست کیوں ہے سوچتے تھے کہ گلشن تقدیر میں کیا نیاشگوفہ کھلا ہے نہیں جانتے تھے کہ خدا نے زمین والوں کے ساتھ کیا ارادہ کیا ہے ، آیا کوئی برائی کا قصد کیا گیا ہے کہ ہلاک کیے جائیں گے یا پروردگار بھلائی کا ارادہ فرما رہے ہیں کوئی رحمت و برکت نازل کرے گا جو ایسا بندوبست ہے کہ زمین پر آسمان کی خبر نہ آنے پائے اب جب قرآن شریف سنا تو معلوم ہوا کہ قرآن کریم نزول اور محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے ہیں یہ انتظامات اس کا سبب ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–17

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس روک ٹوک سے اہل زمین کو کوئی نقصان پہنچاتا مقصود ہے یا زمین والوں کے لئے ان کے پروردگار نے کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے یعنی یہ جو یکایک انقلاب رونما ہوا ہے کہ زمین والوں پر ہر قسم کی خبریں بند کردی گئیں ہیں یعنی وہ خبریں جو ہم چوری چھپے لے آتے تھے نہ معلوم اس انقلاب میں کیا مصلحت ہے زمین والوں کو کوئی ضرر اور نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان اہل زمین کے لئے کسی نیکی اور بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ جنات نے شر اور رشد کی نسبت میں کمال ادب کی رعایت رکھی ہے وہ یہ کہ شر کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں کی اور رشد کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

ف 5۔ ھرب سے مراد ھرب فی غیر الارض ہے بقرینہ مقابلہ فی الارض کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیا والوں نے ساتھ کیا ارادہ کیا گیا ہے اچھا یا برا اس کا علم ہم کو نہیں ہے 10 ؎ قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں پر جب بھی ان کی انفرادی موت کا وقت آتا ہے یا جب بھی ان پر ان کی اجتماعی موت یعنی قیامت کا وقت آئے گا ان کے لئے وہ وقت اچھا نہیں ہوگا اگرچہ اس میں کتنی تاخیر ہو یا جتنا جلد وہ آجائے اور ہمیشہ اسی طرح اگر قرآن کریم کی ہدایات اور قرآن کریم کے قانون کے مطابق چلنے والوں کے لئے جب بھی ان کی انفرادی موت کا وقت آتا ہے یا جب بھی ان پر ان کی اجتماعی موت یعنی قیامت کا وقت آئے گا تو وہ ان کے لئے بہت اچھا وقت ہوگا اور اب قرآن کریم پڑھا جا رہا ہے ، سنا جا رہا ہے ، سنایا جا رہا ہے کون ہے جو اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

وَأَنَّا لَا نَدْرِ‌ي أَشَرٌّ‌ أُرِ‌يدَ بِمَن فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ أَرَ‌ادَ بِهِمْ رَ‌بُّهُمْ رَ‌شَدًا (and that we do not know whether it is a bad end that is intended for those on earth, or their Lord has intended for them a right thing,....72:10). The Jinn and devils were barred from having access to heavenly news. In this case it would be a punishment for the inhabitants of the earth. However, if Allah intends them to be rightly guided, He has barred the Jinn and Shaitan from having access to the heaven, so that they do not interfere with Divine revelation. Therefore, they expressed their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 This is the reason why these jinn were now out searching as to what particularly had happened, or was going to happen, on the earth, which had necessitated strict security measures against eavesdropping so that they were driven away from wherever they tried to eavesdrop in any way.

Read the full tafseer →