Al-Jinn 72:11

Al-Jinn · from ayah 11

72:11

وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ ؕ— كُنَّا طَرَآىِٕقَ قِدَدًا ۟ۙوَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنَّا دُوۡنَ ذٰلِكَ‌ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among us are the righteous, and among us are [others] not so; we were [of] divided ways.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:11

اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ : ہم میں کچھ نیک ہیں، اور کچھ ایسے نہیں ہیں اور ہم مختلف طریقوں پر چلے آرہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے ہیں، ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور ہم (ہی) میں سے کچھ اس کے سوا (برے) بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں پر (چل رہے) تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور ہم میں کچھ اس کے علاوہ ہیں، ہم مختلف گروہ چلے آئے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور کچھ اس سے کم درجہ کے ہیں۔ ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ ہم میں بھی نیک اور اس سے مختلف قسم کے لوگ ہیں، ہماری راہیں الگ الگ ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ ہم سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ اور طرح کے (غرض) ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم میں نیک بھی ہوئے ہیں اور ہم میں بعض اور طرح کے (غرض) ہم مختلف طریقوں کے بھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔ ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and that “some of us are upright and some of us are otherwise for we follow widely divergent paths”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that some of us are (already) righteous, and some of us are otherwise, and we were on different ways;

— Muhammad Taqi Usmani

and that some of us are (already) righteous, and some of us are otherwise, and we were on different ways;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`There are among us some that are righteous, and some the contrary; we are groups having different ways.'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And among us there are righteous folk and among us there are far from that. We are sects having different rules.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among us are the righteous, and among us are [others] not so; we were [of] divided ways.

— Saheeh International

As for us, some of us are righteous and others are not. We have all followed different ways.

— Muhammad Sarwar

And that some of us are good and others of us are below that: we are sects following different ways:

— Muhammad Habib Shakir

And of us there are some righteous, and of us are some otherwise; we have been following very diverse.

— Abdul Majid Daryabadi

'There are among us some that are righteous, and some the contrary: we follow divergent paths.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–17

جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 11 یعنی اخلاقی حیثیت سے بھی ہم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے جن پائے جاتے ہیں، اور اعتقادات میں بھی ہمارا کوئی ایک مذہب نہیں ہے بلکہ مختلف گروہوں میں منقسم ہیں۔ یہ بات کہہ کر یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے جنوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم راہ راست معلوم کرنے کے یقیناً محتاج ہیں ؟ اس سے ہم بےنیاز نہیں ہو سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

(آیت) وَّاَنَّا لَا نَدْرِيْٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا۔ یعنی جنات و شیاطین کو آسماین خبریں سننے سے روک دیا بطور سزا کے بھی ہوسکتا ہے کہ زمین والوں کو آسمان کی خبریں نہ ملا کریں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے یہ ہدایت کا سامان کیا ہو کہ جنات و شیاطین وحی آسمانی میں کوئی خلل نہ ڈال سکیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وصل و فصل کی بنیاد ایمان و عمل پر ہونی چاہیے: یعنی اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کر دیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہم میں سب ایک ہی راہ پر چلنے والے نہیں ہیں بلکہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان اور کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہماری قوم اور قبیلہ کا ہے وہ ہمارا ہے، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، نیک ہے یا بد۔ یہ گویا انھوں نے اپنی قوم کے ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–12

11۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں مطلب یہ کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں، بعض کہتے ہیں ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ وغیرہ ہیں (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

8: مطلب یہ ہے کہ جنات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جنات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جنات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانا منا .................... حطبا یہ تو ضیحات کہ جنوں میں سے بعض لوگ اچھے ہیں اور بعض برے ہیں ، بعض مسلم ہیں اور بعض منکر ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ جن بھی دوہری شخصیت کے مالک ہیں ، جس طرح انسان دوہری شخصیت کا مالک ہے ، جو نیکی اور بدی دونوں کی استعداد رکھتا ہے ، ہاں جنوں میں سے بعض لوگ خالص شر اور خالص بدی کے مجسم ہوگئے ، مثلا ابلیس اور اس کے قبیلے کے لوگ ، ان توضیحات کی بڑی اہمیت ہے اور ان کی وجہ سے اس مخلوق کے بارے میں ہمارے خیالات درست ہوجاتے ہیں ، کیونکہ اکثر لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جن صرف شرارت کی فطرت رکھتے ہیں اور صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جس کے اندر خشروشر کے دونوں پہلو ہیں۔ اور انسانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی نزول قرآن سے پہلے بھی سب جن ایک راہ پر نہ تھے، کچھ نیک اور شائستہ تھے، اور بہت سے بدکار و ناہنجار، ان میں بھی فرقے اور جماعتیں ہوں گی۔ کوئی مشرک، کوئی عیسائی، کوئی یہودی وغیر ذلک۔ اور عملی طور پر ہر ایک کی راہ عمل جدا ہوگی۔ اب قرآن آیا جو اختلافات اور تفرقوں کو مٹانا چاہتا ہے لیکن لوگ ایسے کہاں ہیں کہ سب کے سب حق کو قبول کر کے ایک راستہ پر چلنے لگیں۔ لامحالہ اب بھی اختلاف رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 1{ وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط } ”اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔“ یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جنات ہی کی طرف ہے ‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت تبلیغ کا اہم اصول ہے کہ برے کو بھی برا نہ کہو۔ { کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ } ”ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔“ طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّاکے معنی پھاڑنے یا کاٹنے کے ہیں۔ جیسے سورة یوسف کی آیت 25 میں آیا ہے : { قَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–11

8 یعنی یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ آسمان پر اس قدر ناکہ بندیوں کی غرض وغایت کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوگ اس قرآن پر ایمان لاکر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات کے مستحق بنتے ہیں یا اس کا انکار کرکے اللہ کے عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ اب باقی نہیں رہ گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ جنات بھی انسانوں ہی کی طرح ایک مکلف مخلوق ہیں۔ اور شریعت کے ماننے والے اور انکار کرنے والے سب طرح کے فرقے ان کے ہاں بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا منا الصلحون . الصالحون سے مراد ہیں وہ جنات جو گزشتہ انبیاء اور آسمانی کتابوں پر خصوصاً تورات پر ایمان رکھتے تھے۔ ومنا دون ذلک کنا طرائق . یعنی ہم مختلف مسلکوں والے تھے یا راستوں کی طرح مختلف الاحوال تھے۔ قددا . متفرق ‘ مختلف۔ قدد ‘ قِدۃ کی جمع ہے قِدّۃٌ کا معنی ہے ٹکڑہ۔ یہ جملہ گزشتہ جملہ یعنی منا الصلحون کی تاکید ہے۔ حسن بصری (رح) اور مہدی کا قول ہے کہ جنات تمہاری طرح ہیں ‘ ان میں قدریہ بھی ہیں اور مرجیہ بھی اور رافضی وغیرہ بھی۔ ......... 1 ؂ قدریہ فرقہ قائل ہے کہ ہم اپنے اعمال کے خود خالق ہیں۔ خدا خالق شر نہیں۔ مرجیہ فرقہ کا عقیدہ ہے کہ اگر ایمان اور توحید صحیح ہو تو پھر کوئی گناہ موجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم میں پہلے سے بھی بعض وحادنیت کو ماننے والے ہوتے آئے ہیں جو حضور و قرآن پر ایمان لائیں گے اور بعض کافر ہوتے آئے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے پہلے یہودیت و نصرانیت کے مختلف طریقوں پر تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وانا منا الصلحون و منا دون ذلک …:”طرآئق“ ”طریقہ“ کی جمع اور ”قدداً“ ”قدۃ“ بروز (قطعۃ) کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنوں میں صالح اور غیر صالح ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اور اس کے برعکس بھی، ان میں موجودبھی ہیں اور مشرک بھی، متبع سنت بھی ہیں اور بدعتی بھی، خوش اخلاق بھی ہیں اور بد اخلاق بھی، وہ بھی ہیں جو آسمان سے کوئی خبر سن کر اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ مومن جنوں کا اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب کے سب راہ راست پر نہیں بلکہ ہم میں بھی غیر صالح لوگ موجود ہیں، جنہیں حق بات سمجھانا اور ان کا اسے قبول کرنا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–12

وانا مناالصالحون۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ھربا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منالصالحون ومنا دون ذالک۔ یہ جنوں کے قول کی حکایت ہے جب جنوں نے اپنے ساتھیوں کو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس وقت انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ قرآن سننے سے پہلے ہم میں سے کچھ صالح تھے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے ایک قول یہ کیا گیا کہ منادون ذالک کا معنی ہے کہ ؟ صالحین سے صالحیت میں کم ہیں۔ یہ کلام اس کے زیادہ مشابہ ہے جس نے اسے ایمان اور شرک پر محمول کیا ہے۔ کنا طرائق قددا یعنی ہم مختلف جماعتیں تھیں، سدی نے یہ تعبیر کی ہے۔ ضحاک نے کہا، مختلف دین رکھنے والے تھے۔ قتادہ نے کہا، متضاد خواہشات رکھنے والے تھے، اس معنی میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانا منا الصلحون ومنا دون ذلک اور کچھ تو ہم میں سے نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے۔ یعنی ہم میں سے مسلمان بھی ہیں اور ہم میں سے مشرک بھی ہیں۔ آیت کنا طرائق قددا اور ہم بھی مختلف طریقوں پر تھے۔ یعنی مختلف خواہشات پر۔ 2۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافعبن ارزق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت طرائق قددا کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے اعتبار سے کاٹا ہوا۔ پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے ولقد قلت وزید حاسر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّانا مِنَا الصّٰلِحُوْنَ : اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ (بھی) ہیں ] [وَمِنَا دُوْنَ ذٰلِكَ : اور ہم میں اس کے علاوہ (بھی) ہیں ] [كُنَا طَرَاۗىِٕقَ قِدَدًا : ہم تھے مختلف الرَّائے طریقوں پر ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 11 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کردیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان و کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–12

﴿وَّ اَنَّا لَا نَدْرِيْۤ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ ﴾ (الآیات) جنات نے مزید کہا کہ یہ جو پیغمبر محمد ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ان کی آمد کا نتیجہ کیا ہونے والا ہے زمین والے ان کی رسالت کے منکر ہوا سزا پانے والے ہیں یا زمین کے بسنے والے ان کا اتباع کر کے ہدایت پر آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اور بھلائی کے مستحق ہوں گے یعنی تکوینی طور پر نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ہمیں اس کا علم نہیں ہے ممکن ہے جنات نے اپنے اس اجمالی کلام سے جنات کو متنبہ کیا ہو کیونکہ وہ بھی زمین کے رہنے والے ہیں اور مطلب یہ ہو کہ دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آگئی ہے اگر تم نے اسے نہ مانا تو عذاب میں پڑو گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–12

9:۔ ” وانا منا الصالحون “ یعنی ہم جنات میں سے بعض مشرک ہیں، اور بعض موحد، جنات یہ وعظ اپنی قوم کو کر رہے ہیں۔ ” کنا طرائق قددا “ قدد کے معنی متفرق و مختلف کے ہیں۔ یعنی ہماری قوم بھی مختلف طریقوں پر ہے یعنی کچھ تو احکام پر عامل ہیں اور کچھ عامل نہیں ہیں۔ صیغہ ماضی سے ماضی کا معنی مراد نہیں۔ ” وانا ظننا ان لن نعجز اللہ “ ظننا “ بمعنی علمنا ہے۔ واعظ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو اب یقین آگیا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور ہم اس کو زمین کے کسی بھی حصے میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ۝ 0 ۭ كُنَّا طَرَاۗىِٕقَ قِدَدًا۝ 11 ۙ صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ دون يقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–15

ترکیب : القد و القطعۃ من الشیء وصارالقوم قددا اذا تفرقت احوالھم والمعنی کناذوی۔ طرائق قددا اوکانت طرائقنا طرقاقددافی الارض ای کائنین فی الارض حال من الفاعل ھربامصدر فی موضع الحال اے ولن نعجزہ ھاریین فلایخاف الجملۃ جواب الشرط وھوفمن فالجملۃ جواب ولولاذاک قیل لایخف۔ تفسیر … جنوں کی دوسری دلیل آنحضرت ﷺ کی نبوت پر : اب مسئلہ نبوت کی بابت ایک عمدہ پیرایہ سے تقریر کرتے ہیں۔ وانا منا الصالحون و منادون ذلک کناطرائق قددا کہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ مختلف طریقوں کے لوگ ہیں پھر اس کا فیصلہ کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر بجز نبوت اور الہامِ الٰہی کے کون کرسکتا ہے ؟ (2) وانا ظننا ان لن نعجز اللہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ (الجن : 11) (اور یہ کہ ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ) یعنی جس طرح ہمارے عقائد میں یکسانی نہیں بلکہ ہم میں بیشتر لوگ شرک سے آلودہ ہیں۔ اسی طرح اخلاقی حیثیت سے بھی ہم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے جن پائے جاتے ہیں اور فکری نظام یکساں نہ ہونے کی وجہ سے ہم مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ ہم راہ راست معلوم کرنے کے یقینا محتاج ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرح سے روشنی کی کوئی کرن پھوٹتی ہے تو ہمیں اس کی طرف سبقت کرنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–15

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 1 : وَّاَنَّا مِنَّاالصّٰلِحُوْنَ (اور ہم میں بعضے نیک ہیں) ابرار و متقین ہیں۔ وَمِنَّا (اور بعضے لوگ) دُوْنَ ذٰلِکَ (اور طرح کے ہیں) موصوف کو حذف کردیا وہ بھلائی میں میانہ رو ہیں کامل نہیں ہیں یا انہوں نے اس سے غیر صالحین مراد لیے۔ کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا (ہم مختلف طریقوں پر تھے) یہ مذکورہ تقسیم کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے ہم متفرق مذاہب رکھتے تھے۔ نمبر 2۔ مختلف دین رکھتے تھے۔ القِدَدُ جمع قدۃ کی ہے۔ ٹکڑا یہ قددت السیر سے لیا گیا جس کا معنی طے کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” وانا لاندری اشرارید بمن فی الارض “ شہاب ثاقب کے مارنے کے ذریعے سے۔ ” ام ارادبھم ربھم رسدا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–17

11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ ۭ ) اور یہ کوئی ہم میں سے نیک ہیں اور کوئی طرح کے یعنی فساق، فجار اور کفار ( كُنَّا طَرَاۗىِٕقَ قِدَدًا) ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں۔ یعنی مختلف و متنوع گروہ اور متفرق خواہشات ہیں۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

12 فصل و وصل کی بنیاد ایمان و عمل : سو انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے ہم لوگ مختلف طریقوں پر تھے مگر اب قرآن کی روشنی سے ہمیں معلوم ہوگ یا کہ فصل ووصل کی بنیاد اور اپنے پرائے کے درمیان فرق وتمیز کی حد بندی ایمان و عمل پر ہے۔ سو اس سے پہلے ہمارے اندر کچھ نیک لوگ بھی تھے اور کچھ اور طرح کے بھی۔ یعنی جو بالکل برے ہیں یا پہلوں کی بہ نسبت کم نیک ہیں، مطلب یہ کہ اب تک تو ہماری نگاہوں میں نیکی اور بدی کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا، برے اور بھلے دونوں ہی قسم کے لوگ ہمارے یہاں موجود تھے اور دونوں ہی ہمارے نزدیک برابر تھے، لیکن اس قرآن نے ہماری اس غلط فہمی کو دور کردیا اور بتادیا کہ یہ سب لوگ ایک برابر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 امام سعید بن المسیب اور مجاہد کہتے ہیں کہ آدمیوں کی طرح جنوں کے بھی مختلف گروہ تھے۔ چناچہ کوئی مسلمان تھا کوئی یہودی کوئی نصرانی اور کوئی مجوسی (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:11) وانا مما الصلحون اور یہ کہ ہم میں سے بعض نیک بھی ہیں۔ علامہ پانی پتی (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں :۔ صالحون سے مراد ہیں وہ جنات جو گزشتہ انبیاء اور آسمانی کتابوں ہر خصوصا تورات پر ایمان رکھتے تھے۔ ومنا دون ذلک : دون فوق فوق کی نقیض ہے ظرف ہوکر استعمال ہوتا ہے بمعنی جو کسی سے نیچے ہو۔ دون مضاف ذلک مضاف الیہ۔ اور بعض ہم میں سے اس وجہ سے نیچے ہیں۔ یعنی صالحین کے درجے سے نیچے ہیں صالح نہیں ہیں۔ اس کے سوا ہیں۔ فتنہ پرور، شرارتی ، فسادی و گمراہ ہیں۔ کنا طرائق قددا : طرائق جمع ہے طریقۃ کی۔ راہیں۔ طریقے۔ آسمان کے طبقے۔ یہاں اس آیت میں مسلک ، مشرب نیز درجات کا اختلاف مراد ہے۔ قددا جمع ہے قدۃ کی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–17

(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–17

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) اور یہ کہ ہم میں سے پہلے بھی بعض نیک ہوئے ہیں اور بعض دوسری طرح کے بھی ہوتے رہے ہیں غرض ہم مختلف طریقوں پر تھے۔ یعنی نزول قرآن سے پیشتر بھی ہم میں کچھ نیک لوگ ہوتے تھے اور کچھ شریر قسم کے جو خیر سے نفرت کرتے تھے اور شریر اصرار کرتے تھے اور شر کو دوڑ کر قبول کرتے تھے۔ غرض ہم مختلف طریقوں پر تھے اور اس نبی کی بعثت کے بعد بھی ہم میں سیکچھ اس نبی پر اور قرآن پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض متامل ہیں اور کچھ شرارت پر قائم ہیں، یعنی اب بھی دونوں طریقوں کے لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

ف 5۔ ھرب سے مراد ھرب فی غیر الارض ہے بقرینہ مقابلہ فی الارض کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم میں کتنے لوگ نیک ہیں اور کتنے سوائے ان کے ہیں جو مختلف راہیں چل رہے ہیں 11 ؎ ہم انسانوں اور جنوں میں سے کتنے ہیں جو نیکوکار ہیں اور کتنے ہیں جو بدکار ہیں۔ یہ گویا گزشتہ آیت کی وہ مزید تشریح کر رہے ہیں کیونکہ سارے انسان اور جن ایک عقیدے پر نہیں اور نہ ہی سیرت و کردار میں یکساں ہیں بعض صالح ہیں اور بعض فتنہ پرور اور شرارتی ہیں جن کا کام محض فساد بپا کرنا ہے پھر ہمارے انسانوں اور جنوں کے مذاہب بھی الگ الگ ہیں۔ بعض اللہ کی توحید کو مانتے ہیں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض نہ تو توحید کا اقرار کرتے ہیں اور نہ قیامت اور رسولوں پر ان کا ایمان ہے۔ اس طرح ہم مختلف راہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

وَأَنَّا لَا نَدْرِ‌ي أَشَرٌّ‌ أُرِ‌يدَ بِمَن فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ أَرَ‌ادَ بِهِمْ رَ‌بُّهُمْ رَ‌شَدًا (and that we do not know whether it is a bad end that is intended for those on earth, or their Lord has intended for them a right thing,....72:10). The Jinn and devils were barred from having access to heavenly news. In this case it would be a punishment for the inhabitants of the earth. However, if Allah intends them to be rightly guided, He has barred the Jinn and Shaitan from having access to the heaven, so that they do not interfere with Divine revelation. Therefore, they expressed their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 This shows that such extraordinary measures were adopted in the heavens only on two kinds of occasions: first, when Allah might decide to inflict the dwellers of the earth with a torment, and the Divine will might be that before it was actually inflicted the jinn might not know and convey its news to warn their friendly human beings of the impending disaster. Second, that Allah might appoint a Messenger on the earth, and strict security measures might be adopted so that neither the messages being conveyed to him be interfered with by the satans nor should they be able to know beforehand…

Read the full tafseer →