Explained with ayahs 11–17
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں
جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 12
مطلب یہ ہے کہ ہمارے اسی خیال نے ہمیں نجات کی راہ دکھا دی۔ ہم چونکہ اللہ سے بےخوف نہ تھے اور ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی گرفت سے کسی طرح بچ نہ سکیں گے، اس لیے جب وہ کلام ہم نے سنا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہ راست بتانے آیا تھا تو ہم یہ جرات نہ کرسکے کہ حق معلوم ہوجانے کے بعد بھی انہی عقائد پر جمے رہتے جو ہمارے نادان لوگوں نے ہم میں پھیلا رکھے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(آیت) وَّاَنَّا لَا نَدْرِيْٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا۔ یعنی جنات و شیاطین کو آسماین خبریں سننے سے روک دیا بطور سزا کے بھی ہوسکتا ہے کہ زمین والوں کو آسمان کی خبریں نہ ملا کریں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے یہ ہدایت کا سامان کیا ہو کہ جنات و شیاطین وحی آسمانی میں کوئی خلل نہ ڈال سکیں۔
Read the full tafseer →انسان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے:
دعوت کے بعد یہ انھوں نے اپنی قوم کو انذار کیا کہ ہم پر یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ ہر وقت ہم خدا کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ جب چاہے ہمیں پکڑ سکتا ہے۔ نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے اور نہ آسمانوں میں کہیں بھاگ کر اس کے قابو سے نکل سکتے۔
اس آیت میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، بعض مقابل الفاظ محذوف ہیں جو قرینہ سے سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً پہلے ٹکڑے میں ’فِی الْأَرْضِ‘ ظاہر کیا گیا تو دوسرے ٹکڑے میں ’فِی السَّمَآءِ‘ حذف کر دیا گیا۔ اسی طرح دوسرے میں ’ہَرَبًا‘ کا لفظ آیا تو پہلے ٹکڑے میں اس کا مدمقابل حذف ہو گیا۔ ترجمے میں یہ محذوفات ہم نے کھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں مطلب یہ کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں، بعض کہتے ہیں ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ وغیرہ ہیں (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
8: مطلب یہ ہے کہ جنات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جنات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جنات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →وانا ............................ ھربا (27 : 21) ” اور یہ کہ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں “۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کو اس زمین میں ان پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔ یہ بھی وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے بھاگ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بندہ رب کے سامنے بہت ضعیف ہے۔ اور تمام مخلوق کا مقابلہ نہیں کرسکتی یعنی اسلام لانے سے پہلے بھی یہ گروہ اللہ کی قدرت اقتدار اور غلبے کا شعور اٹھتا تھا۔
یہ تھے وہ جن ، جن کے ہاں بعض انسان دور جاہلیت میں پناہ لیتے تھے۔ اور مشرکین عرب تو اپنی حاجات میں جنوں کو پکارتے تھے اور انہوں نے ان جنوں اور رب تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →10 یعنی اگر ہم نے قرآن کو نہ مانا تو اللہ کی سزا سے بچ نہیں سکتے نہ زمین میں کسی جگہ چھپ کر، نہ ادھراُدھر بھاگ کر، یا ہوا میں اڑ کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13{ وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْہُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط } ”اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت الہدیٰ کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔“
{ فَمَنْ یُّؤْمِنْ مبِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا۔ } ”تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔“
اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →9 یعنی اب ہماری بھلائی اسی بات میں ہے کہ ہم بلا چوں و چرا قرآن پر ایمان لے آئیں۔ اگر ہم نے قرآن کو نہ مانا تو اللہ کی سزا سے بچ نہیں سکتے نہ زمین میں کسی جگہ چھپ کر، نہ ادھر ادھر بھاگ کر اور نہ ہوا میں اڑ کر۔
Read the full tafseer →8۔ یعنی نہ روئے زمین پر، نہ زمین سے کہیں بھاگ کر، غرض کہیں بھی اسے ہرا نہیں سکتے۔ یہاں بھی تردید ان جاہلی قوموں کی ہورہی ہے۔ جو یہ سمجھتی تھیں کہ خداؤں کی نظر سے بھی بچ کر کہیں جاچھپنا ممکن ہے۔ (آیت) ” انا “۔ ضمیر متکلم سے مراد مومن قسم کے جنات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض . یعنی ہم نے جان لیا اور قرآن میں جو اللہ نے تعلیم دی اور ہدایت کی ہے ‘ اس سے ہم کو یقین ہوگیا کہ اگر زمین پر خدا ہم کو خراب کردینا چاہے ‘ تو ہم اس کے قابو سے باہر نہیں ہوسکتے۔
ولن نعجزہ ھربا . اور اگر اس سے بھاگنا چاہیں تو زمین سے آسمان کی طرف بھاگ کر بھی اس کے پنجہ سے نہیں نکل سکتے۔
Read the full tafseer →اور ہم نے سمجھ لیا تھا اور اسبات کا یقین کرلیا تھا کہ زمین کے کسی حصہ میں جاکر اللہ کو ہرا نہیں سکتے جس مقام پر بھی پہنچیں گے فورا پکڑ لیے جائیں گے اور کہیں بھاگ کر بھی اس سے نہیں چھوٹ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(وانا ظننا ان لن نعجز اللہ …: مشرک قومیں جنوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھتی ہیں اور انہیں غیب دان جانتی ہیں مگر ج ن خود اقرار کر رہے ہیں کہ ہم نے سمجھ لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں پکڑنا چاہے تو نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اسے عاجز کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں پکڑ نہ سکے اور نہ کہیں بھاگ کر، غرض پھر کسی صورت ہم اس سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سانے بالکل بےبس ہونے کے اسی عقیدے کا نتیجہ ہے کہ جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی تو فوراً ایمان لے آئے۔”بخساً ولا رھقاً“ نقصان یہ کہ جو نیکیاں کی ہیں ان میں کمی کردی جائے اور زیادہ یہ کہ جو گناہ نہیں کئے وہ تھوپ دیئے جائیں۔ ان آیات میں بھی مومن جن اپنے بھائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وانا مناالصالحون۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ھربا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منالصالحون ومنا دون ذالک۔ یہ جنوں کے قول کی حکایت ہے جب جنوں نے اپنے ساتھیوں کو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس وقت انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ قرآن سننے سے پہلے ہم میں سے کچھ صالح تھے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے ایک قول یہ کیا گیا کہ منادون ذالک کا معنی ہے کہ ؟ صالحین سے صالحیت میں کم ہیں۔ یہ کلام اس کے زیادہ مشابہ ہے جس نے اسے ایمان اور شرک پر محمول کیا ہے۔ کنا طرائق قددا یعنی ہم مختلف جماعتیں تھیں، سدی نے یہ تعبیر کی ہے۔ ضحاک نے کہا، مختلف دین رکھنے والے تھے۔ قتادہ نے کہا، متضاد خواہشات رکھنے والے تھے، اس معنی میں…
Read the full tafseer →6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض۔ اور بیشک ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم اللہ کو زمین میں کبھی عاجز نہ کرسکتیں گے۔ یعنی انہوں نے کہا ہم ہرگز زمین میں اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور نہ اس سے بھاگ سکیں گے۔
Read the full tafseer →[وَّانا ظَنَنَآ : اور یہ کہ ہم نے گمان کیا (سمجھ لیا)] [ان لَّنْ نُّعْجِزَ : کہ ہم ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے ] [اللّٰهَ فِي الْاَرْضِ : اللہ کو زمین میں ] [وَلَنْ نُّعْجِزَهٗ : اور ہم ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے اس کو ] [هَرَبًا : بلحاظ بھاگنے کے ]
ھـ ر ب
[ھَرْبًا : (ن) ] تیز چلنا۔ بھاگنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔
ح ر ی
[حَرْیًا : (ض) ] کسی چیز کا گھٹنا۔ کم ہونا۔
(تفعل) تَحَرٍّی دو چیزوں میں سے بہتر کو کوشش کر کے حاصل کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
﴿وَّ اَنَّا لَا نَدْرِيْۤ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ ﴾ (الآیات) جنات نے مزید کہا کہ یہ جو پیغمبر محمد ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ان کی آمد کا نتیجہ کیا ہونے والا ہے زمین والے ان کی رسالت کے منکر ہوا سزا پانے والے ہیں یا زمین کے بسنے والے ان کا اتباع کر کے ہدایت پر آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اور بھلائی کے مستحق ہوں گے یعنی تکوینی طور پر نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ہمیں اس کا علم نہیں ہے ممکن ہے جنات نے اپنے اس اجمالی کلام سے جنات کو متنبہ کیا ہو کیونکہ وہ بھی زمین کے رہنے والے ہیں اور مطلب یہ ہو کہ دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آگئی ہے اگر تم نے اسے نہ مانا تو عذاب میں پڑو گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9:۔ ” وانا منا الصالحون “ یعنی ہم جنات میں سے بعض مشرک ہیں، اور بعض موحد، جنات یہ وعظ اپنی قوم کو کر رہے ہیں۔ ” کنا طرائق قددا “ قدد کے معنی متفرق و مختلف کے ہیں۔ یعنی ہماری قوم بھی مختلف طریقوں پر ہے یعنی کچھ تو احکام پر عامل ہیں اور کچھ عامل نہیں ہیں۔ صیغہ ماضی سے ماضی کا معنی مراد نہیں۔ ” وانا ظننا ان لن نعجز اللہ “ ظننا “ بمعنی علمنا ہے۔ واعظ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو اب یقین آگیا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور ہم اس کو زمین کے کسی بھی حصے میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…
Read the full tafseer →وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللہَ فِي الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ہَرَبًا 12 ۙ
ظن
والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ،
( ظ ن ن ) الظن
اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔
عجز
عَجُزُ الإنسانِ : مُؤَخَّرُهُ ، وبه شُبِّهَ مُؤَخَّرُ غيرِهِ. قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترکیب : القد و القطعۃ من الشیء وصارالقوم قددا اذا تفرقت احوالھم والمعنی کناذوی۔ طرائق قددا اوکانت طرائقنا طرقاقددافی الارض ای کائنین فی الارض حال من الفاعل ھربامصدر فی موضع الحال اے ولن نعجزہ ھاریین فلایخاف الجملۃ جواب الشرط وھوفمن فالجملۃ جواب ولولاذاک قیل لایخف۔
تفسیر … جنوں کی دوسری دلیل آنحضرت ﷺ کی نبوت پر : اب مسئلہ نبوت کی بابت ایک عمدہ پیرایہ سے تقریر کرتے ہیں۔ وانا منا الصالحون و منادون ذلک کناطرائق قددا کہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ مختلف طریقوں کے لوگ ہیں پھر اس کا فیصلہ کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر بجز نبوت اور الہامِ الٰہی کے کون کرسکتا ہے ؟ (2) وانا ظننا ان لن نعجز اللہ…
Read the full tafseer →وَّ اَنَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَاللّٰہَ فِی الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ھَرَبًا۔ (الجن : 12)
(اور یہ کہ ہم نے مان لیا کہ نہ زمین میں چھپ کر ہم اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہم عاجز کرسکتے ہیں۔ )
ہدایت کی طرف میلان
ہمیں جب اپنی گمراہیوں، کوتاہیوں اور کج رویوں کا یقین ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی بلند وبالا شان کا بھی احساس ہوگیا تو ہم سمجھ گئے کہ ہماری بھلائی اللہ تعالیٰ کے احکام ماننے میں ہے، اس سے بےخوف ہونے میں نہیں۔ کیونکہ اگر ہم نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ نہ ہمیں زمین پناہ دے سکتی ہے اور نہ آسمان۔ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔
جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…
Read the full tafseer →12 : وَّاَنَّا ظَنَنَّآ (اور ہم نے سمجھ لیا ہے) ہمیں یقین آگیا ہے۔ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰہَ (کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتے) ہم اس سے بڑھ نہیں سکتے۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں)
نحو : یہ حال ہے تقدیر کلام یہ ہے لن نعجزہ کائنین فی الارض اینما کنا ہم ہرگز اس کو ہرا نہ سکیں گے اس میں کہ زمین میں ہم جہاں بھی ہوں۔ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ھَرَبًا (اور نہ بھاگ کر اس کو ہرا سکتے ہیں)
نحو : ھربًا یہ مصدر ہے جو موضع حال میں ہے تقدیر کلام یہ ہے لن نعجزہ ھاربین منھا الی السماء اور ہم ہرگز اس کو آسمان کی طرف بھاگ کر بھی ہرا نہیں سکتے۔ یہ جنات کے حالات ہیں اور جو ان کے احوال و عقائد تھے۔
Read the full tafseer →11 ۔” وانا منا الصالحون ومنا دون ذلک “ نیک لوگوں کے علاوہ۔ ” کنا طرائق قددا “ یعنی متفرق جماعتیں اور مختلف قسمیں اور ” قدۃ “ کسی چیز کا ٹکڑا کہا جاتا ہے ” صارا لقوم قددا “ جب ان کے حالات مختلف ہوں اور اس کی اصل قد سے ہے اور وہ کاٹنا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کی مراد مسلمان وکافر تھے اور کہا گیا ہے مختلف خواہشات والے اور حسن اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں جن تمہاری طرح ہیں پس ان میں سے قدریہ ، مرجئہ اور رافضہ ہیں اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں گروہ فرقے ہر فرقہ کی خواہش نفس تھی لوگوں کی خواہشات کی طر ح اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں مختلف رنگ کے اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں قسمیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…
Read the full tafseer →یعنی اس وقت ہم پر پوری طرح واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کامل قدرت کا مالک اور ہم کامل طور پر بےبس ہیں ہماری پیشانیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر ہم فرار ہوں تو فرار ہو کر اللہ کو بےبس نہیں کرسکتے ہم نے فرار کے اسباب کے ذریعے سے اس کے دست قدرت سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس سے بھاگ کر اس کے سوا کہیں ٹھکانا اور پناہ گاہ نہیں۔
Read the full tafseer →13 کوئی اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑے سے باہر نہیں ہوسکتا : سو ان جنوں نے مزید کہا کہ ہم نے یقین کرلیا کہ ہم کسی بھی طرح اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ نہ زمین میں کہیں چھپ کر اور نہ کہیں بھاگ کر۔ یعنی ایمان لانے کے بعد اب ہمارا عقیدہ اور یقین یہ ہوگیا ہے اور دوسرے مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے سے ہی خدا خوفی کی یہ صفت ہم اپنے اندر پاتے تھے اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ قرآن پاک سنتے ہی ہم فوراً ایمان کے شرف سے مشرف ہوگئے، سو اس طرح انہوں نے اپنی قوم کو خبردار کردیا کہ ہم اللہ کی گرفت سے کسی بھی طرح نکل نہیں سکتے۔ بلکہ ہر وقت اس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ سو اللہ تعالیٰ کی قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی زمین یا آسمان میں کہیں بھاگ جائیں، اس کے اتخیار اور پکڑ سے باہر نہیں جاسکتے کیونکہ ہر جگہ اسی کی حکومت ہے۔
Read the full tafseer →(72:12) واذا ظننا۔ اور یہ کہ اب ہم سمجھ گئے۔
ان لن نعجز اللہ فی الارض : ان مصدریہ لن نعجز مضارع منفی منصوب تاکید بہ لن۔ صغیر جمع متکلم۔ اللہ مفعول ۔ ہم زمین پر بھی اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔
ھربا مصدر موضع حال میں ہے بمعنی ھاربین منھا اور نہ ہی ہم بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں۔ ھرب (باب نصر) بھاگنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
جنوں کی رپورٹ
1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…
Read the full tafseer →(12) اور یہ کہ ہمارا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم نے اب سمجھ لیا ہے اور اس بات کا یقین کرلیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں کہیں اور کسی حصے میں عاجز نہیں کرسکتے اور اس کو ہرا نہیں سکتے نہ اور کہیں بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں۔
یعنی ہم نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور ہم پر اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوا تو اس وقت ہم زمین کے کسی حصے میں جاکر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردیں یا زمین کے علاوہ کہیں بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو تھکادیں اور اس کے قہر سے بچ جائیں تو ایسا نہیں ہوسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 5۔ ھرب سے مراد ھرب فی غیر الارض ہے بقرینہ مقابلہ فی الارض کے۔
Read the full tafseer →اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم جس طرح آسمانوں میں عاجز ہیں زمین پر بھی عاجز ہیں
12 ؎ (ھربا) مصدر ہے جس کے معنی ہیں بھاگ کر۔ ھرب آنت کے اوپر کی چربی۔ ھرب ھربان مصادر ہیں۔ بھاگنا ھاربھاگنے والا۔ ھرب بہت زیادہ بوڑھا ہونا۔ اس جگہ اس کے معنی بھاگنے ہی کے کئے جاتے ہیں۔ جنوں کی جماعت اپنے ہی قوم کے افراد کے سامنے دراصل اس کلام کے محاسن بیان کر رہے ہیں اور ان کو بتا رہے ہیں کہ پہلے تو ہم بیوقوفوں کے پھندے میں پھنس کر گمراہ ہوگئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کے بعد اب ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں اور ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون آسمانوں میں بھی قائم ہے اور زمین میں بھی اور ایک خاص قانون کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا (and that we do not know whether it is a bad end that is intended for those on earth, or their Lord has intended for them a right thing,....72:10). The Jinn and devils were barred from having access to heavenly news. In this case it would be a punishment for the inhabitants of the earth. However, if Allah intends them to be rightly guided, He has barred the Jinn and Shaitan from having access to the heaven, so that they do not interfere with Divine revelation. Therefore, they expressed their…
Read the full tafseer →11 That is, "Morally also there are good and bad jinn among us, and from the viewpoint of creed as well all do not follow one and the same religion, but we are divided into different groups." With these words the believing jinn want to convince the other jinn of their community that they certainly stood in need of finding out the right way and could not dispense with this need.
Read the full tafseer →