Explained with ayahs 11–17
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں
جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة الْجِنّ 13
حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ اپنی نیکی پر وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ اور ظلم یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے اور جو قصور اس سے سرزد ہوں ان کی زیادہ سزا دے ڈالی جائے۔ یا بلا قصور ہی کسی کو عذاب دے دیا جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قسم کی کسی بےانصافی کا خوف نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا بخس بفتح الباء و سکون الخاء کے معنے حق سے کم دینے اور کم کرنے کے ہیں اور رہق کے معنے ذلت و رسوائی ظاہر ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اس کی جزا میں کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں اس کو کوئی ذلت و رسوائی پیش آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی:
یہ قوم کے سامنے انھوں نے اپنی مثال پیش کی ہے کہ جب یہ ہدایت بخش دعوت ہمارے کانوں میں پڑی تو ہم نے اپنے اوپر یہ واجب سمجھا کہ اس کی قدر کریں چنانچہ ہم اس پر ایمان لائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی روش ان تمام لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے جن کے اندر حق و ہدایت کے لیے احترام موجود ہے جو لوگ اس سے بھاگیں گے ان کا اعراض گواہی دے گا کہ وہ اپنی عقل کے بجائے اپنی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔
’فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَہَقًا‘۔ ’بَخْسٌ‘ کے معنی کمی کرنے اور ’رَہَقٌ‘ کے معنی، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، زیادتی کرنے کے ہیں۔ یہی مضمون معمولی تغیر کے ساتھ ’فَلَا یَخَافُ…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی نہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان کی نیکیوں کے اجر وثواب میں کوئی کمی کردی جائے گی اور نہ اس بات کا خوف کہ ان کی برائیوں میں اضافہ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
8: مطلب یہ ہے کہ جنات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جنات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جنات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →اور اب وہ ہدایت کا پیغام سننے اور سمجھنے کے بعدیہ کہتے ہیں :
وانا لما ................ امنا بہ (27 : 31) ” اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جب کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے “۔ اور ہدایت کا پیغام سننے والے ہر شخص کا فریضہ یہی ہے۔ یہ لوگ قرآن کو یہاں ہدایت کا نام دیتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کی اصل ماہیت ہدایت ہی ہے اور اس کا نتیجہ بھی ہدایت ہے .... اور ان کو اپنے رب پر پورا اعتماد بھی ہے۔ جس طرح ہر ایمان لانے والے کو اپنے آقا پر ہونا چاہئے۔
فمن یومن ........................ رھقا (27 : 31) ” اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا ، اسے کسی حق تلفی یا ظلم (یعنی…
Read the full tafseer →1 یعنی ہمارے لیے فخر کا موقع ہے کہ جنوں میں سب سے پہلے ہم نے قرآن سن کر بلا توقف قبول کیا اور ایمان لانے میں ایک منٹ کی دیر نہیں کی۔2 یعنی سچے ایماندار کو اللہ کے ہاں کوئی کھٹکا نہیں۔ نہ نقصان کا کہ اس کی کوئی نیکی اور محنت یونہی رائیگاں چلی جائے۔ نہ زیادتی کا کہ زبردستی کسی دوسرے کے جرم اس کے سر تھوپ دیے جائیں، غرض وہ نقصان، تکلیف اور ذلت و رسوائی سب سے مامون و محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 13{ وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْہُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط } ”اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت الہدیٰ کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔“
{ فَمَنْ یُّؤْمِنْ مبِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا۔ } ”تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔“
اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →10 یعنی قرآن کو سن لینے کے بعد ہمارے لئے ممکن نہ رہا کہ ہم اپنے ساتھ غلط عقائد پر جمے رہیں۔ لہذا ہم نے اپنی قوم میں سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی ہے۔
11 یہ سب وہ اہم نکات ہیں جو جنوں نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن سن کر اخذ کئے تھے۔ پھر ایمان لانے کے بعد اپنی قوم کے پاس جاکر انہیں بتائے تھے۔ انہی میں سے یہ نکتہ جزا و سزا کے قانون سے تعلق رکھتا ہے۔ حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ جتنے اجر کا وہ مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے اور زبردستی سے مراد یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے۔ یا بلاقصور ہی کسی کو سزا دے ڈالی جائے۔ یا قصور تو کم ہو مگر سزا زیادہ دے ڈالی جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ کے…
Read the full tafseer →9۔ یعنی نہ اس کا اندیشہ کہ کوئی نیکی لکھنے سے رہ جائے نہ اس کا کہ کوئی بدی زیادہ لکھ لی جائے۔ بھول چوک، سہو ونسیان، ظلم و زیادتی کا خدائے اسلام کے ہاں کوئی امکان ہی نہیں، جیسا کہ جاہلی قوموں کے دیوتاؤں کے ہاں برابر ہوتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وانا لما سمعنا الھدی امنا بہ . الہدیٰ سے مراد ہے قرآن ‘ کیونکہ قرآن موجب ہدایت ہے یعنی
قرآن سن کر ہم ایمان لے آئے۔ پس اے گروہ جن تم ہماری قوم ہو ‘ تم بھی آیمان لے آؤ۔
فمن یومن بربہ . فاء سببی ہے۔ مَن شرط کے لیے ہے اور آئندہ کلام اس کی جزا ہے۔
فلا یخاف . مبتداء محذوف کی خبر ہے (اسی لیے مرفوع ہے ‘ مجزوم نہیں ہے) ۔
بخسا . ثواب کی کمی۔
ولا رھقا . ذلت چھا جانا یعنی جو اپنے رب پر ایمان رکھے گا اس کو نہ ثواب میں کمی ہونے کا اندیشہ ہوگا ‘ نہ
ذلت چھا جانے کا ‘ یا مطلب ہے کہ مؤمن اپنی طاعت کے نقص اور بیجا حرکات کے ارتکاب کی سزا سے بےخوف نہیں ہوتا۔ قرآن پر ایمان رکھنے کا تقاضا ہے کہ اس کا اندیشہ لگا رہے۔
Read the full tafseer →اور جب ہم نے رسول اکرم کی زبان اقدس سے قرآن کریم پر ایمان لے آئے سو جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے گا تو اسے نہ اپنے تمام اعمال کے ضائع ہونے کا ڈر ہوگا اور نہ اپنے عمل کے نقصان کا خوف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(وانا ظننا ان لن نعجز اللہ …: مشرک قومیں جنوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھتی ہیں اور انہیں غیب دان جانتی ہیں مگر ج ن خود اقرار کر رہے ہیں کہ ہم نے سمجھ لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں پکڑنا چاہے تو نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اسے عاجز کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں پکڑ نہ سکے اور نہ کہیں بھاگ کر، غرض پھر کسی صورت ہم اس سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سانے بالکل بےبس ہونے کے اسی عقیدے کا نتیجہ ہے کہ جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی تو فوراً ایمان لے آئے۔”بخساً ولا رھقاً“ نقصان یہ کہ جو نیکیاں کی ہیں ان میں کمی کردی جائے اور زیادہ یہ کہ جو گناہ نہیں کئے وہ تھوپ دیئے جائیں۔ ان آیات میں بھی مومن جن اپنے بھائیوں…
Read the full tafseer →وانا لما سمعنا الھدی امنابہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ حطبا۔
آیت میں الھدی سے مراد قرآن ہے۔ امنا بہ میں ضمیر مجرور سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہم نے حضرت محمد ﷺ کے رسول ہونے پر آپ کی تصدیق کی۔ رسول اللہ ﷺ انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کو انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث کیا اللہ تعالیٰ نے جنوں، بادیہ نشینوں اور عورتوں میں سے کبھی کوئی رسول مبعوث نہیں کیا اس کا معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وما ارسلنا من قبلک الارجالانوحی الیھم من اھل القری (یوسف 109) یہ بحث پہلے گزرچکی ہے صحیح میں ہے، بعثت الی الاحمر والاسود۔ یعنی جنوں اور انسانوں کی طرف…
Read the full tafseer →7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا یخاف بخسا ولا رہقا۔ تو نہ اسے نقصان کا ڈر ہے اور نہ ظلم کا۔ یعنی اسے اپنی نیکیوں میں کمی اور نقصان کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ آیت ولا رھقا اور نہ کوئی ظلم کا خوف ہے یعنی اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ اس پر کسی غیر کے گناہ ڈال دئیے جائیں۔
Read the full tafseer →[وَّانا لَمَا سَمِعْنَا : اور یہ کہ جب ہم نے سنا ] [الْهُدٰٓى: اس ہدایت (قرآن) کو ] [اٰمَنَا بِهٖ : تو ہم ایمان لائے اس پر ] [فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِهٖ : پھر جو ایمان لاتا ہے اپنے رب پر ] [فَلَا يَخَافُ بَخْسًا : تو وہ خوف نہیں کرتا کسی حق تلفی کا ] [وَّلَا رَهَقًا : اور نہ کسی زیادتی کا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
﴿وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ 1ؕ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ0013﴾ (اور بیشک جب ہم نے ہدایت کو سن لیا تو ہم اس پر ایمان لے آئے) ۔ (الآیات) جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے اسے کسی طرح کے کسی نقصان کا خوف نہیں ہوگا۔ ایمان کا بھی صلہ ملے گا اور اعمال کا بھی ثواب ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی کسی کی کوئی نیکی شمار سے رہ جائے یا کسی نیکی کا ثواب نہ ملے ایسا نہ ہوگا۔
﴿وَّ لَا رَهَقًاۙ﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن صالح کو کسی ذلت کا سامنا نہ ہوگا اور بعض حضرات نے یہ مطلب بتایا ہے کہ کسی مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
10:۔ ” وانا لما سمعنا “ ہم نے جب قرآن سنا جو سراپا ہدایت ہے، تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور جو بھی اپنے پروردگار کی توحید پر ایمان لے آئیگا وہ اپنے عملوں کا پورا ثواب پائیگا، نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائیگی اور نہ اس کی برائیوں میں اضافہ کیا جائیگا۔ ” بخسا “ نیکیوں میں کمی اور ” رھقا “ سیئات میں اضافہ۔ ” وانا منا المسلمون “ ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہیں جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ ظالم اور بےانصاف ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ” فمن اسلم “ جس شخص نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، صرف ایک اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ شرک نہ کیا تو اس نے سیدھی راہ تلاش کرلی۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…
Read the full tafseer →وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْہُدٰٓى اٰمَنَّا بِہٖ 0 ۭ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّہٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا 13 ۙ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترکیب : القد و القطعۃ من الشیء وصارالقوم قددا اذا تفرقت احوالھم والمعنی کناذوی۔ طرائق قددا اوکانت طرائقنا طرقاقددافی الارض ای کائنین فی الارض حال من الفاعل ھربامصدر فی موضع الحال اے ولن نعجزہ ھاریین فلایخاف الجملۃ جواب الشرط وھوفمن فالجملۃ جواب ولولاذاک قیل لایخف۔
تفسیر … جنوں کی دوسری دلیل آنحضرت ﷺ کی نبوت پر : اب مسئلہ نبوت کی بابت ایک عمدہ پیرایہ سے تقریر کرتے ہیں۔ وانا منا الصالحون و منادون ذلک کناطرائق قددا کہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ مختلف طریقوں کے لوگ ہیں پھر اس کا فیصلہ کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر بجز نبوت اور الہامِ الٰہی کے کون کرسکتا ہے ؟ (2) وانا ظننا ان لن نعجز اللہ…
Read the full tafseer →وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْھُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط فَمَنْ یُّؤْمِنْ م بِرَبِّہٖ فَلاَ یَخَافُ بَخْسًا وَّلاَ رَھَقًا۔ (الجن : 13)
(اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے، پس جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی زیادتی کا۔ )
اعترافِ حق
چناچہ جیسے ہی ہم نے ہدایت کی بات سنی یعنی ہمیں قرآن کریم سننے کا موقع ملا جو اللہ تعالیٰ کی طرف راہ راست بتاتا ہے تو ہم فوراً اس پر ایمان لے آئے۔ کیونکہ انسانیت کا ادنیٰ تقاضا یہ ہے کہ جب وہ اپنی گم گشتہ متاع پالے تو اس کی طرف ہاتھ بڑھانے میں تأمل نہ کرے۔ گویا وہ اپنی قوم کو یہ کہنا چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔
جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…
Read the full tafseer →13 : وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْھُدٰٓی (اور ہم نے جب ہدایت کی بات سن لی) الھدی سے قرآن مجید مراد ہے۔ اٰمَنَّا بِہٖ (ہم نے تو اس کا یقین کرلیا) قرآن پر نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ پر فَمَنْ یُّؤْمِنْم بِرَبِّہٖ فَـلَا یَخَافُ (پس جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے گا تو اس کو اندیشہ نہ ہوگا)
نحو : یہ مبتدأ اور خبر ہیں اصل اس طرح ہے فھو لا یخاف۔
بَخْسًا (کمی) ثواب میں کمی کا وَّلَا رَھْقًا (اور نہ زیادتی کا) یعنی اس پر ذلت نہ چھائے گی۔ یہ اس قول کی طرح ہے و ترھقہم ذلۃ ] یونس ؛ 27[ اور فرمایا ولا یرھق وجوھھم قترولا ذلۃ ] یونس : 26[
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ اعمال ایمان میں سے نہیں ہیں۔ یعنی ایمان کا…
Read the full tafseer →12 ۔” وانا ظننا “ ہم نے جانا اور یقین کیا۔ ” ان لن نعجز اللہ فی الارض “ یعنی ہم اس سے نہیں چھوٹ سکتے، اگر وہ ہمارے بارے میں کسی امر کا ارادہ کرے۔ ” ولن نعجزہ ھربا “ اگر وہ ہمیں طلب کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…
Read the full tafseer →(وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰٓى) اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اور وہ قرآن کریم ہے جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم نے اس کی رشد و ہدایت کو پہچان لیا اور اس نے ہمارے دلوں پر اثر کیا (اٰمنا بہ) تو ہم اس پر ایمان لے آئے پھر انہوں نے اس بات کا ذکر کیا جو مومن کو ترغیب دیتی ہے چناچہ انہوں نے کہا (فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا) یعنی جو کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آیا اسے کسی نقصان سے واسطہ پڑے گا نہ کوئی تکلیف لاحق ہوگی اور جب وہ شر سے محفوظ ہوگیا تو اسے بھلائی حاصل ہوگئی پس ایمان اک ایسا سبب ہے جو ہر قسم کی بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر قسم…
Read the full tafseer →14 ایمان باللہ سلامتی عطبع کا طبعی تقاضا اور منطقی نتیجہ والحمد للہ جل و علا۔ سو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا اور یہ کہ جب ہم نے یہ کلام ہدایت سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے : کہ یہ کلام بلاشبہ اللہ پاک کا نازل فرمودہ کلام برحق ہے اور اس میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے وہ سب حق اور سچ ہے سو اس طرح انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنی مثال پیش کردی کہ جب ہم سنتے ہی اس پر ایمان لے آئے تو تم لوگوں بھی ایسے ہی کرنا چاہتے کہ یہی تقاضاہ سلامتی طبع کا اور اسی میں بھلا ہے سب کا دنیا اور آخرت دونوں میں اور یہی تقاضا ہے نور حق و ہدایت کی قدر دانی کا ایسی اختیار کی ہوی روش ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 5 مراد قرآن ہے جو انہوں نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے سنا۔6 یعنی نہ یہ ڈر ہوگا کہ اس کی نیکیوں میں کمی کردی جائے گی اور یہ اندیشہ کہ اس کی برائیوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(72:13) لما کلمہ ظرف۔ جب۔ الھدی : ای القران۔
فمن یؤمن بربہ :سببیہ۔ من شرطیہ۔ یؤمن مضارع مجزوم واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر سے جملہ شرطیہ ہے پس جو اپنے رب پر ایمان لاتا ہے ۔
فلا یخاف بخسا۔جواب شرط کے لئے ہے بخسا، بخس (باب سمع) کے معنی کوئی چیز ظالما کم کرنا کے ہیں ۔
قرآن مجید میں ہے وہم فیہا لا یبخسون (11:15) اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ البخس والیاخس حقیر اور ناقص چیز۔ آیت ہذا میں بخسا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے تو نہ اس کو گھاٹے کا خوف ہے ۔ ولا رھقا : جملہ کا جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ اس کو ظلم کا ڈر ہے۔ رھقا سرکشی، تکبر سرچڑھنا۔ ستم ۔ ظلم۔ زیادتی۔ زبردستی۔ یہاں مصدر بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
جنوں کی رپورٹ
1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…
Read the full tafseer →(13) اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی بات سن لی توہم نے اس کا یقین کرلیا اور اس کو فوراً مان لیا لہٰذا جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے گا تو اس کو نہ کسی کمی کا اور نقصان کا خوف ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا اور ظلم کا۔ کمی کا مطلب یہ کہ اس کی کوئی نیکی کم کردی جائے اور اس کی کوئی نیکی لکھی نہ جائے یا مال کا نقصان آبرو کا نقصان اور زیاتی یہ کہ کوئی گناہ جو نہ کیا ہو وہ لکھ دیا جائے یا ایمان لانے کی وج سے اس کو ثواب سے محروم کردیا جائے۔
ھدی کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جب قرآن کے عجیب و غریب مضامین سنے تو ہم اس رسول پر جس پر یہ کلام معجز نظام نازل ہوا ہے اس پر ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ کمی یہ کہ اس کی کوئی نیکی لکھنے سے رہ جاوے، اور زیادتی یہ کہ کوئی گناہ زیادہ لکھ لیا جاوے۔
Read the full tafseer →ہم نے ہدایت کی بات کو سنا اور ایمان لے آئے اب کسی نقصان یا زیادتی کا ہم کو ڈر نہیں ہے
13 ؎ وہ اپنے لوگوں کو جو ان کے خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں بالکل واضح طور پر کھول کر بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ہدایت کی باتیں سن لی ہیں ، سمجھ لی ہیں اور ہمارے دلوں نے ان کو قبول کرلیا ہے اور جو شخص اپنے رب کی باتوں کو قبول کرے اور ان پر ایمان لے آئے اس کو کسی طرح کا کوئی خوف و حزن اور غم واندوہ اس نظریہ سے ہٹا نہیں سکتا۔ نفع و نقصان ہے تو اس سے اور دکھ سکھ ہے تو اس سے جب ہم ان باتوں کو مان چکے تو اب جو ہونا ہے وہ ہو اور جو مخالفت پر اترتا ہے وہ اترے اور اس معاملہ میں جو صورت بھی اختیار کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا (...so if one believes in his Lord, he will have no fear of either any curtailment [ in his reward ] or any excess [ in his punishment ]...72:13). The ward bakhs, with ba' carrying fatha ] and kha' carrying sukun, means 'to reduce the right' and the word rahaq means 'disgrace'. In other words, anyone who believes in Allah need fear neither curtailment in the reward of his good deeds, nor disgrace by excess in his punishment in the Hereafter.
Read the full tafseer →12 That is, "We were led by this very idea to the way of success. As we were not fearless of AIlah and we believed that we would not be able to avoid His punishment if we disobeyed Him, so when we heard the Divine Revelation that had been sent to show the right way, we could not have the courage and boldness to persist in the beliefs that our foolish people had spread among us, afar we had known the truth. "
Read the full tafseer →