Al-Jinn 72:14

Al-Jinn · from ayah 14

72:14

وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ؕ— فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا ۟وَّاَنَّا مِنَّا الۡمُسۡلِمُوۡنَ وَمِنَّا الۡقٰسِطُوۡنَ‌ؕ فَمَنۡ اَسۡلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوۡا رَشَدًا‏

اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among us are Muslims [in submission to Allah], and among us are the unjust. And whoever has become Muslim - those have sought out the right course.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:14

اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ : ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہوگئے ہیں، اور ہم میں سے (اب بھی) کچھ ظالم ہیں۔ چنانچہ جو اسلام لاچکے ہیں، انہوں نے ہدایت کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم تو جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی سوچی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ ہم میں سے (بعض) فرماں بردار بھی ہیں اور ہم میں سے (بعض) ظالم بھی ہیں، پھر جو کوئی فرمانبردار ہوگیا تو ایسے ہی لوگوں نے بھلائی طلب کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک ہم میں سے کچھ فرماں بردار ہیں اور ہم میں سے کچھ ظالم ہیں، پھر جو فرماں بردار ہوگیا تو وہی ہیں جنھوں نے سیدھے راستے کا قصد کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ : ہم میں سے کچھ تو مسلمان (فرمانبردار) ہیں اور کچھ بےانصاف لوگ ہیں اور جو فرمانبردار بن گیا تو ایسے ہی لوگوں نے بھلائی کا راستہ اختیار کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےراہ بھی تو جنہوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کی انہوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ (حسب سابق منحرف اور) بےراہ بھی پس جو کوئی فرمانبردار ہوگیا اپنے رب کا تو ایسے لوگوں نے ڈھونڈ لیا راستہ ہدایت (و نجات) کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم میں بعض مسلم ہیں اور بعض ہم میں سے بےراہ ہیں تو جس نے اسلام قبول کرلیا اس نے تو بھلائی کا راستہ ڈھونڈ نکالا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصافی کرنے والے بھی۔ تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض نافرمان گناہ گار ہیں تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that “among us some are Muslims (Those who have submitted to Allah), and some of us are deviant. So those who became Muslims found the Right Course;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that some of us are Muslims, and some of us are unjust. Now, those who submitted to Islam have found out the right path,

— Muhammad Taqi Usmani

and that some of us are Muslims, and some of us are unjust. Now, those who submitted to Islam have found out the right path,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`And of us some are Muslims, and of us some are Al-Qasitun. And whosoever has embraced Islam, then such have sought the right path.' "

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And there are among us some who have surrendered (to Allah) and there are among us some who are unjust. And whoso hath surrendered to Allah, such have taken the right path purposefully.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among us are Muslims [in submission to Allah], and among us are the unjust. And whoever has become Muslim - those have sought out the right course.

— Saheeh International

Some of us are Muslims and some of us have deviated from the Truth. Whoever has embraced Islam has followed the right guidance.

— Muhammad Sarwar

And that some of us are those who submit, and some of us are the deviators; so whoever submits, these aim at the right way:

— Muhammad Habib Shakir

And of us some are Muslims, and of us some are deviators. Then whosoever hath embraced Islam - such have endeavoured after a Path of rectitude.

— Abdul Majid Daryabadi

'Amongst us are some that submit their wills (to Allah), and some that swerve from justice. Now those who submit their wills - they have sought out (the path) of right conduct:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–17

جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة الْجِنّ 13 حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ اپنی نیکی پر وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ اور ظلم یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے اور جو قصور اس سے سرزد ہوں ان کی زیادہ سزا دے ڈالی جائے۔ یا بلا قصور ہی کسی کو عذاب دے دیا جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قسم کی کسی بےانصافی کا خوف نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا بخس بفتح الباء و سکون الخاء کے معنے حق سے کم دینے اور کم کرنے کے ہیں اور رہق کے معنے ذلت و رسوائی ظاہر ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اس کی جزا میں کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں اس کو کوئی ذلت و رسوائی پیش آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–15

خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ: یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی جو نبوت محمدیہ پر ایمان لائے وہ مسلمان، اور اس کے منکر بےانصاف ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

8: مطلب یہ ہے کہ جنات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جنات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جنات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانا منا ................ رشدا (41) واما .................... حطبا (27 : 51) ” اور یہ کہ ” ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کی اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف۔ تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کرلیا ” انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والا ہیں “۔ قاسط کے معنی ظالم اور حق سے ایک طرف ہونے والے عدل و نیکی سے منحرف ہونے والے کے ہیں۔ جنوں نے ان کو مسلمانوں کے مقابل لاکر ذکر کیا ہے اور اس کے اندر ایک لطیف اشارہ ہے ، کہ ایک مسلمان عادل اور مصلح ہوتا ہے اور اس کا فریق مقابل ظالم اور مفسد ہوتا ہے۔ فمن اسلم .................... رشدا (27 : 41) ” جس نے اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–15

3 یعنی نزول قرآن کے بعد ہم میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جنہوں نے اللہ کا پیغام سن کر قبول کیا اور اس کے احکام کے سامنے گردن جھکا دی۔ یہی ہیں جو تلاش حق میں کامیاب ہوئے۔ اور اپنی تحقیق و تفحص سے نیکی کے راستہ پر پہنچ گئے۔ دوسرا گروہ بےانصافوں کا ہے جو کجروی و بےانصافی کی راہ سے اپنے پروردگار کے احکام کو جھٹلاتا اور اس کی فرمانبرداری سے انحراف کرتا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کو جہنم کا کندا اور دوزخ کا ایندھن کہنا چاہیے۔ (تنبیہ) یہاں تک مسلمان جنوں کا کلام نقل فرمایا جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا۔ آگے حق تعالیٰ اپنی طرف سے چند نصیحت کی باتیں ارشاد فرماتے ہیں گویا " وَاَنْ لَّوِاسْتَقَامُوْا " الخ کا عطف "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ } ”اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصافی کرنے والے بھی۔“ قَسَطَ ثلاثی مجرد میں عدل اور ناانصافی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قَاسِط اسم فاعل کے معنی ”ناانصاف“ کے ہوتے ہیں ‘ لیکن اَقْسَطَ باب افعال میں صرف عدل و انصاف کے معنی میں مستعمل ہے۔ { فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۔ } ”تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 14–15

12 تَحَرَّوْا۔ اَحرٰی بمعنی لائق تر اور تَحَرَّی بمعنی زیادہ مناسب اور لائق تر چیز کو طلب کرنا۔ دو چیزوں میں سے زیادہ بہتر کو طلب کرنا۔ یعنی ایمان لانے والے جن اپنی قوم میں واپس آکر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ بلا شبہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ نافرمان اور بےراہ رو بھی ہیں۔ اور حق بات یہی ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے انہوں نے عقلمندی کی۔ ہدایت کی راہ کو پسند کرلینا ہی ان کے بہتر انتخاب کی دلیل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سیدھی راہ کے علاوہ کوئی اور راہیں اختیار کریں گے وہ گھاٹے میں ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے اس مقام پر جنوں کی وہ تقریر یا وعظ و نصیحت ختم ہوجاتی ہے جو انہوں نے ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

10۔ اس مقام پر جنات کا قول ختم ہوگیا جو آیت اول میں (آیت) ” فقالوا انا سمعنا “۔ سے شروع ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا منا المسلمون . یعنی نیک لوگ۔ ومنا القاسطون . یعنی کجرو ‘ حق سے پھرے ہوئے اگر کسی شخص نے انصاف کیا ہو تو کہتے ہیں : قسط الرجل (باب افعال سے) اور اگر ظلم کیا ہو تو کہتے ہیں : قسط (ثلاثی مجرد سے) اس کا اسم فاعل قاسط (ظالم) ہے۔ اس آیت کا مضمون گزشتہ آیت : وانا منا الصّٰلحون میں بھی آیا ہے لیکن غرض دونوں جگہ جدا جدا ہے۔ یہاں مقصود ہے دونوں فریقوں کے حال کی تفصیل اور گزشتہ آیت میں صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ایمان کوئی انوکھی چیز نہیں کہ پہلے نہ ہوئی ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ قرآن سننے والے جن کچھ مسلمان ہوگئے ہوں ‘ کچھ نہ ہوئے ہوں اور یہ قول ان مسلمانوں کا ہو ‘ جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) اور ہم میں سے بعض لوگ تو خلوص کے ساتھ وحدانیت کر کے رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور بعض ہم میں سے حسب سابق حق و ہدایت سے پھرے ہوئے ہیں۔ سو جو شخص مسلمان ہوگیا اس نے بھلائی کا رستہ ڈھونڈ لیا اور جو کفار ہیں سو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–15

(1) وانا منا السلمون ومنا القسطون…:”القسطون ‘ ظلم کرنے والے، راہ حق سے ہٹنے والے۔ ”قسط یقسط“ (ض) ”قسطا“ (قاف کے فتحہ کے ساتھ) ظلم کرنا، سیدھی راہ سے ہٹنا۔”القسط“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) انصاف۔ ”اقسط یقسط“ (افعال) انصاف کرنا۔ یعنی ہدایت سننے کے بعد ہم میں سے کچھ وہ ہیں جو تابع فرمان ہوگئے۔ یہ وہ ہیں جن کا ارادہ ہے کہ پوری کوشش کے ساتھ سیدھی راہ پر چلیں۔ ”تحری یتحری تحریاً“ قصد کرنا، کوشش کے ساتھ ظن سے یقین تک پہنچنا اور جو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ (2) یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن آگ سے پیدا کئے گئے ہیں، وہ جہنم کا ایندھن کیسے بنیں گے ؟ جواب یہ ہے کہ جس طرح انسان مٹی سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منا المسلمون ومناالقاسطون۔ یعنی قرآن کے سننے کے بعد ہم ایک دوسرے سے مختلف تھے ہم میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہوگئے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے۔ قاسط کا معنی ظالم ہے کیونکہ وہ حق سے روگردانی کرنے والا ہوتا ہے۔ مقسط کا معنی عادل ہے کیونکہ وہ حق کی طرف پھرنے والا ہوتا ہے کہا جاتا ہے، قسط یعنی ظلم کیا اور اقسط یعنی اس نے عدل کیا شاعر نے کہا : قوم ھم قتلوا ابن ھند عتوۃ، عمرا وھم قسطوا علی النعمان۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابن ہند یعنی عمرو کو ظلم کے ساتھ قتل کیا اور انہوں نے نعمان پر ظلم کیا۔ فمن اسلم فاو لئک تحرو رشدا۔ (جواسلام لائے انہوں نے ہدایت کا قصد کیا) یعنی حق کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–15

8۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ نے روایت کیا کہ ومنا القسطون یعنی حق سے ہٹے ہوئے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومنا القسطون سے مراد ہے ظلم کرنے والے۔ 10۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومنا القسطون سے مراد ہے ظلم کرنے والے اور اللہ کا قول ہے آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ لا سقنہم ماء غدقا۔ اور اگر وہ مکہ والے سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو بافراط پانی سے سیراب کرتے یعنی اگر سب ایمان لے آتے۔ لاسقینہم ہم ان کو سیراب کرتے یعنی ہم ان کے لیے دنیا میں وسعت کردیتے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّانا مِنَا الْمُسْلِمُوْنَ : اور یہ کہ ہم میں فرمانبرداری کرنے والے (بھی) ہیں ] [وَمِنَا الْقٰسِطُوْنَ : اور ہم میں بےانصافی کرنے والے (بھی) ہیں ] [فَمَنْ اَسْلَمَ : تو جس نے فرمانبرداری کی ] [فَاُولٰۗىِٕكَ تَحَرَّوْا : تو ان لوگوں نے پا لیا ] [رَشَدًا : بھلی راہ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–15

﴿وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ 1ؕ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ0013﴾ (اور بیشک جب ہم نے ہدایت کو سن لیا تو ہم اس پر ایمان لے آئے) ۔ (الآیات) جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے اسے کسی طرح کے کسی نقصان کا خوف نہیں ہوگا۔ ایمان کا بھی صلہ ملے گا اور اعمال کا بھی ثواب ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی کسی کی کوئی نیکی شمار سے رہ جائے یا کسی نیکی کا ثواب نہ ملے ایسا نہ ہوگا۔ ﴿وَّ لَا رَهَقًاۙ﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن صالح کو کسی ذلت کا سامنا نہ ہوگا اور بعض حضرات نے یہ مطلب بتایا ہے کہ کسی مومن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

10:۔ ” وانا لما سمعنا “ ہم نے جب قرآن سنا جو سراپا ہدایت ہے، تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور جو بھی اپنے پروردگار کی توحید پر ایمان لے آئیگا وہ اپنے عملوں کا پورا ثواب پائیگا، نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائیگی اور نہ اس کی برائیوں میں اضافہ کیا جائیگا۔ ” بخسا “ نیکیوں میں کمی اور ” رھقا “ سیئات میں اضافہ۔ ” وانا منا المسلمون “ ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہیں جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ ظالم اور بےانصاف ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ” فمن اسلم “ جس شخص نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، صرف ایک اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ شرک نہ کیا تو اس نے سیدھی راہ تلاش کرلی۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ۝ 0 ۭ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰۗىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۝ 14 سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–15

ترکیب : القد و القطعۃ من الشیء وصارالقوم قددا اذا تفرقت احوالھم والمعنی کناذوی۔ طرائق قددا اوکانت طرائقنا طرقاقددافی الارض ای کائنین فی الارض حال من الفاعل ھربامصدر فی موضع الحال اے ولن نعجزہ ھاریین فلایخاف الجملۃ جواب الشرط وھوفمن فالجملۃ جواب ولولاذاک قیل لایخف۔ تفسیر … جنوں کی دوسری دلیل آنحضرت ﷺ کی نبوت پر : اب مسئلہ نبوت کی بابت ایک عمدہ پیرایہ سے تقریر کرتے ہیں۔ وانا منا الصالحون و منادون ذلک کناطرائق قددا کہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ مختلف طریقوں کے لوگ ہیں پھر اس کا فیصلہ کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر بجز نبوت اور الہامِ الٰہی کے کون کرسکتا ہے ؟ (2) وانا ظننا ان لن نعجز اللہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ط فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُوْلٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۔ وَاَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَھَنَّمَ حَطَـبًا۔ (الجن : 14، 15) (اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ بےانصاف ہیں، تو جنھوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کی ہے انھوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈ لی۔ اور جو بےانصاف ہوئے تو وہ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ ) ایک اور فکری کوتاہی کی اصلاح اس سے پہلے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ انسانوں میں عقیدہ و عمل کے اعتبار سے لوگ یکساں نہیں ہیں۔ اور وحدت فکر کے مفقود ہونے کے باعث لوگوں نے الگ الگ مسالک بنا رکھے ہیں۔ ضروری تھا کہ ان کی رہنمائی کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–15

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنات میں مومن و کافر : 14 : وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ (اور ہم میں بعضے تو مسلمان ہیں) مومن ہیں وَمِنَّا الْقَاسِطُوْنَ (اور بعضے ہم میں بےراہ ہیں) کافر ہیں جو طریق حق سے ہٹنے والے ہیں۔ قسطؔ ظلم کرنا۔ اقسط انصاف کرنا۔ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓپکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا (پس جو شخص مسلمان ہوگیا انہوں نے بھلائی کا راستہ ڈھونڈ لیا) ہدایت کو طلب کیا التحریؔ اولیٰ کی تلاش کرنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” وانا لما سمعنا الھدی “ قرآن اور جس کو محمد ﷺ لائے ہیں۔ ” آمنا بہ فمن یومن بربہ فلا یخاف بخسا “ اپنے عمل اور ثواب میں نقصان کا۔ ” ولا رھقا “ پیاس کا اور کہا گیا ہے ناپسند چیز کا جو اس کو ڈھانپ لے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–17

11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ) اور بیشک ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض نافرمان) گناہ گار ہیں۔ یعنی صراط مستقیم سے ہٹنے اور اس کو چھوڑنے والے ( فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰۗىِٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا) پس جو فرماں بردار ہوئے انہوں نے رشد و ہدایت کا راستہ پا لیا جو ان کو جنت اور اس کی نعمتوں تک پہنچاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–16

16 ۔ سیدھی راہ کو اپنا نا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے کو اپنائے ہوتے تو ہم ضرور بالضرور ان کو سیراب کرتے بافراغت پانی سے اور اس کے نتیجے میں ان کی دنیا بھی بنتی اور آخرت بھی سنورتی۔ تو سو جنوں کے تاثرات و اقوال کے ذکر وبیان کے بعد اب یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ میں خسارے کا سودا نہیں، بلکہ یہ راہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ ہے۔ اس کو اپنانے میں خود انہی کا بھلا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں خود انہی کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ الطریقہ سے یہاں پر مراد توحید کی صراط مستقیم ہے اور اس کو الف لام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:14) المسلمون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ المسلم فرماں بردار۔ مسلمان۔ القاسطون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قاسط واحد۔ اگر قسط واقسط (باب ضرب و نصر) مصدر سے آتے تو اس کے معنی ہوں گے انصاف کرنے والا۔ اور اگر مصدر قسط وقسوط سے (باب ضرب) سے آئے تو اس کے معنی ہوں گے ظلم کرنے والا۔ ناانصافی کرنے والا۔ یہاں چونکہ القاسطون کے مد مقابل المسلمون آیا ہے لہٰذا یہ مصدر قسط وقسوط (باب ضرب) سے بمعنی ظلم کرنے والا۔ کج روی کرنے والا ہوگا۔ اسی مادہ (قسط) سے باب افعال سے اسم فاعل المقسط کا مطلب ہے انصاف کرنے والا۔ قرآن مجید میں ہے ان اللہ یحب المقسطین (49:9) بیشک خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ فمن اسلم :بمعنی سو۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–17

(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–17

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اور یہ کہ ہم میں سے بعض تو فرماں بردار بن گئے اور مسلمان ہوگئے ہیں اور بعض ہم میں سے ظالم ہیں اور بےراہ ہیں بس جنہوں نے اسلام قبول کرلیا اور مسلمان ہوگئے تو انہوں نے بھلائی کا راستہ اختیار کرلیا اور بھلی راہ ڈھونڈ لی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور ظالم بھی اور کامیابی فرمانبرداروں کا مقدر ہے 14 ؎ (القاسطون) کی اصل ق س ط ہے اور قسط کے معنی عدل اور جور دونوں ہیں کیونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے اس لئے جہاں یہ لفظ آتا ہے وہیں اس کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔ سیاق اگر نفی کردیتا ہے تو معنی نفی ہوجاتے ہیں اور اگر مثبت کردیتا ہے تو معنی مثبت ہوجاتے ہیں۔ زیر نظر آیت میں (مسلمون) کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے ظاہر ہے کہ معنی نفی کے ہوں گے یعنی راہ حق سے مڑ جانے والے مراد کافر اور انصاف نہ کرنے والے۔ (القاسطون) اسم فاعل ، جمع مذکر ، حالت رفع فاسط واحد۔ ناانصافی کرنے والے۔ انصاف نہ کرنے والے۔ قسط دوسرے کا حق لے لینا ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–17

فَمَن يُؤْمِن بِرَ‌بِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَ‌هَقًا (...so if one believes in his Lord, he will have no fear of either any curtailment [ in his reward ] or any excess [ in his punishment ]...72:13). The ward bakhs, with ba' carrying fatha ] and kha' carrying sukun, means 'to reduce the right' and the word rahaq means 'disgrace'. In other words, anyone who believes in Allah need fear neither curtailment in the reward of his good deeds, nor disgrace by excess in his punishment in the Hereafter.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

13 "Fear of loss": fear of being given a lesser reward than what one actually deserves for one's good deeds, and "injustice" that one may be deprived of the reward for the good deeds done but duly punished for the errors committed or punished innocent; no believer has any fear of such an injustice from Allah.

Read the full tafseer →