Explained with ayahs 11–17
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں
جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 14
سوال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی رو سے جن تو خود آتشیں مخلوق ہیں۔ پھر جہنم کی آگ سے ان کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کی رو سے تو آدمی بھی مٹی سے بنا ہے۔ پھر اگر اسے مٹی کا ڈھیلا کھینچ کر مارا جائے تو اس کو چوٹ کیوں لگتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا پورا جسم اگرچہ زمین کے مادوں سے بنا ہے، مگر جب ان سے گوشت پوست کا زندہ انسان وجود میں آجاتا ہے تو وہ ان مادوں سے بالکل مختلف چیز بن جاتا ہے اور انہی مادوں سے بنی ہوئی دوسری چیزیں اس کے لیے اذیت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جن بھی اگرچہ اپنی ساخت کے اعتیار سے آتشیں مخلوق ہیں، لیکن آگ سے جب ایک زندہ اور صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا بخس بفتح الباء و سکون الخاء کے معنے حق سے کم دینے اور کم کرنے کے ہیں اور رہق کے معنے ذلت و رسوائی ظاہر ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اس کی جزا میں کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں اس کو کوئی ذلت و رسوائی پیش آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ:
یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اس سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنات بھی دوزخ اور جنت میں جانے والے ہوں گے ان میں جو کافر ہیں وہ جہنم میں اور مسلمان جنت میں جائیں گے یہاں تک جنات کی گفتگو ختم ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
8: مطلب یہ ہے کہ جنات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جنات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جنات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →واما .................... حطبا (2751) ” جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والا ہیں “۔ یعنی ان کے جہنمی ہونے کا فیصلہ ہوگیا ہے اور جب یہ جہنم میں پھینکے جائیں گے تو جہنم کی آگ ان کی وجہ سے اس طرح تیز ہوگی جس طرح خشک ایندھن کی وجہ سے آگ زیادہ مشتعل ہوجاتی ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنات کو بھی جہنم کا عذاب ہوگا۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ نیک جن جنت کے بھی مستحق ہوں گے۔ یہی حقیقت ہے ، کسی شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کے سوا کسی اور چیز کا عقیدہ اختیار کرے۔ اگر کوئی کرتا ہے تو وہ باطل ہوگا اور جو کچھ قرآن کہتا ہے بلاجدال درست ہوگا۔ لہٰذا جو بات جنوں پر صادق ہے وہی انسانوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
3 یعنی نزول قرآن کے بعد ہم میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جنہوں نے اللہ کا پیغام سن کر قبول کیا اور اس کے احکام کے سامنے گردن جھکا دی۔ یہی ہیں جو تلاش حق میں کامیاب ہوئے۔ اور اپنی تحقیق و تفحص سے نیکی کے راستہ پر پہنچ گئے۔ دوسرا گروہ بےانصافوں کا ہے جو کجروی و بےانصافی کی راہ سے اپنے پروردگار کے احکام کو جھٹلاتا اور اس کی فرمانبرداری سے انحراف کرتا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کو جہنم کا کندا اور دوزخ کا ایندھن کہنا چاہیے۔ (تنبیہ) یہاں تک مسلمان جنوں کا کلام نقل فرمایا جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا۔ آگے حق تعالیٰ اپنی طرف سے چند نصیحت کی باتیں ارشاد فرماتے ہیں گویا " وَاَنْ لَّوِاسْتَقَامُوْا " الخ کا عطف "…
Read the full tafseer →آیت 15{ وَاَمَّا الْقٰاسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا۔ } ”اور جو بےانصاف ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔“
یہ تو تھا جنات کی اس تقریر کا اقتباس جو انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے تبلیغ کی غرض سے کی تھی۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
12 تَحَرَّوْا۔ اَحرٰی بمعنی لائق تر اور تَحَرَّی بمعنی زیادہ مناسب اور لائق تر چیز کو طلب کرنا۔ دو چیزوں میں سے زیادہ بہتر کو طلب کرنا۔ یعنی ایمان لانے والے جن اپنی قوم میں واپس آکر انہیں سمجھا رہے ہیں کہ بلا شبہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ نافرمان اور بےراہ رو بھی ہیں۔ اور حق بات یہی ہے کہ جو لوگ اسلام لے آئے انہوں نے عقلمندی کی۔ ہدایت کی راہ کو پسند کرلینا ہی ان کے بہتر انتخاب کی دلیل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سیدھی راہ کے علاوہ کوئی اور راہیں اختیار کریں گے وہ گھاٹے میں ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے اس مقام پر جنوں کی وہ تقریر یا وعظ و نصیحت ختم ہوجاتی ہے جو انہوں نے ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10۔ اس مقام پر جنات کا قول ختم ہوگیا جو آیت اول میں (آیت) ” فقالوا انا سمعنا “۔ سے شروع ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →واما القاسطون فکانوا لجنھم حطبا . یعنی ان سے جہنم کی آگ جلائی جائے گی ‘ جیسے لکڑی سے معمولی
آگ روشن کی جاتی ہے۔ ساتوں جملے یعنی : وانا لمسنا السمآء سے وانا منا المسلمون تک ‘ اگر بفتح اَنَّ پڑھے جائیں تو تاویل طلب ہوں گے ان کو اقوال جنات بغیر تاویل کے نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن اگر ہر جگہ اِنَّ بالکسر پڑھا جائے تو جنات کے اقوال ہونے میں کوئی کدو رت نہ ہوگی۔
مسئلہ کافر جنات کو آگ کا عذاب ہوگا ‘ اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے ‘ آیت : واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبًا سے یہی معلوم ہو رہا ہے ‘ رہی مؤمن جنات کے ثواب کی بحث ‘ تو یہ اختلافی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنات کے لیے ثواب صرف یہ ہے کہ وہ دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14۔ 15) اور ہم میں سے بعض لوگ تو خلوص کے ساتھ وحدانیت کر کے رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور بعض ہم میں سے حسب سابق حق و ہدایت سے پھرے ہوئے ہیں۔
سو جو شخص مسلمان ہوگیا اس نے بھلائی کا رستہ ڈھونڈ لیا اور جو کفار ہیں سو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(1) وانا منا السلمون ومنا القسطون…:”القسطون ‘ ظلم کرنے والے، راہ حق سے ہٹنے والے۔ ”قسط یقسط“ (ض) ”قسطا“ (قاف کے فتحہ کے ساتھ) ظلم کرنا، سیدھی راہ سے ہٹنا۔”القسط“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) انصاف۔ ”اقسط یقسط“ (افعال) انصاف کرنا۔ یعنی ہدایت سننے کے بعد ہم میں سے کچھ وہ ہیں جو تابع فرمان ہوگئے۔ یہ وہ ہیں جن کا ارادہ ہے کہ پوری کوشش کے ساتھ سیدھی راہ پر چلیں۔ ”تحری یتحری تحریاً“ قصد کرنا، کوشش کے ساتھ ظن سے یقین تک پہنچنا اور جو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
(2) یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن آگ سے پیدا کئے گئے ہیں، وہ جہنم کا ایندھن کیسے بنیں گے ؟ جواب یہ ہے کہ جس طرح انسان مٹی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منا المسلمون ومناالقاسطون۔ یعنی قرآن کے سننے کے بعد ہم ایک دوسرے سے مختلف تھے ہم میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہوگئے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے۔ قاسط کا معنی ظالم ہے کیونکہ وہ حق سے روگردانی کرنے والا ہوتا ہے۔ مقسط کا معنی عادل ہے کیونکہ وہ حق کی طرف پھرنے والا ہوتا ہے کہا جاتا ہے، قسط یعنی ظلم کیا اور اقسط یعنی اس نے عدل کیا شاعر نے کہا : قوم ھم قتلوا ابن ھند عتوۃ، عمرا وھم قسطوا علی النعمان۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابن ہند یعنی عمرو کو ظلم کے ساتھ قتل کیا اور انہوں نے نعمان پر ظلم کیا۔
فمن اسلم فاو لئک تحرو رشدا۔ (جواسلام لائے انہوں نے ہدایت کا قصد کیا) یعنی حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
8۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ نے روایت کیا کہ ومنا القسطون یعنی حق سے ہٹے ہوئے۔
9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومنا القسطون سے مراد ہے ظلم کرنے والے۔
10۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومنا القسطون سے مراد ہے ظلم کرنے والے اور اللہ کا قول ہے آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ لا سقنہم ماء غدقا۔ اور اگر وہ مکہ والے سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو بافراط پانی سے سیراب کرتے یعنی اگر سب ایمان لے آتے۔ لاسقینہم ہم ان کو سیراب کرتے یعنی ہم ان کے لیے دنیا میں وسعت کردیتے۔
Read the full tafseer →[وَاَمَا الْقٰسِطُوْنَ : اور وہ جو ناانصافی کرنے والے ہیں ] [فَكَانوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا : تو وہ لوگ جہنم کے ایندھن ہیں ]
ح ط ب
[حَطْبًا : (ض) ] (1) لکڑی چننا (آگ جلانے کے لیے) (2) چغلی کھانا، افتراء باندھنا۔ (لڑائی کی آگ جلانے کے لیے)
حَطَبٌ اسم ذات ہے۔ (1) ایندھن۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔ (2) چغلی حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ (چغلی کو اٹھانے یعنی لیے پھرنے والی) 111:4 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
﴿وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ 1ؕ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ0013﴾ (اور بیشک جب ہم نے ہدایت کو سن لیا تو ہم اس پر ایمان لے آئے) ۔ (الآیات) جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے اسے کسی طرح کے کسی نقصان کا خوف نہیں ہوگا۔ ایمان کا بھی صلہ ملے گا اور اعمال کا بھی ثواب ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی کسی کی کوئی نیکی شمار سے رہ جائے یا کسی نیکی کا ثواب نہ ملے ایسا نہ ہوگا۔
﴿وَّ لَا رَهَقًاۙ﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن صالح کو کسی ذلت کا سامنا نہ ہوگا اور بعض حضرات نے یہ مطلب بتایا ہے کہ کسی مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
10:۔ ” وانا لما سمعنا “ ہم نے جب قرآن سنا جو سراپا ہدایت ہے، تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور جو بھی اپنے پروردگار کی توحید پر ایمان لے آئیگا وہ اپنے عملوں کا پورا ثواب پائیگا، نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائیگی اور نہ اس کی برائیوں میں اضافہ کیا جائیگا۔ ” بخسا “ نیکیوں میں کمی اور ” رھقا “ سیئات میں اضافہ۔ ” وانا منا المسلمون “ ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہیں جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ ظالم اور بےانصاف ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ” فمن اسلم “ جس شخص نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، صرف ایک اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ شرک نہ کیا تو اس نے سیدھی راہ تلاش کرلی۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…
Read the full tafseer →وَاَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا 15 ۙ
قسط
الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً
[ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
[ الحجرات/ 9] ، وتَقَسَّطْنَا بيننا، أي : اقتسمنا، والْقَسْطُ : اعوجاج في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترکیب : القد و القطعۃ من الشیء وصارالقوم قددا اذا تفرقت احوالھم والمعنی کناذوی۔ طرائق قددا اوکانت طرائقنا طرقاقددافی الارض ای کائنین فی الارض حال من الفاعل ھربامصدر فی موضع الحال اے ولن نعجزہ ھاریین فلایخاف الجملۃ جواب الشرط وھوفمن فالجملۃ جواب ولولاذاک قیل لایخف۔
تفسیر … جنوں کی دوسری دلیل آنحضرت ﷺ کی نبوت پر : اب مسئلہ نبوت کی بابت ایک عمدہ پیرایہ سے تقریر کرتے ہیں۔ وانا منا الصالحون و منادون ذلک کناطرائق قددا کہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ مختلف طریقوں کے لوگ ہیں پھر اس کا فیصلہ کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر بجز نبوت اور الہامِ الٰہی کے کون کرسکتا ہے ؟ (2) وانا ظننا ان لن نعجز اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ط فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُوْلٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۔ وَاَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَھَنَّمَ حَطَـبًا۔ (الجن : 14، 15)
(اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ بےانصاف ہیں، تو جنھوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کی ہے انھوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈ لی۔ اور جو بےانصاف ہوئے تو وہ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ )
ایک اور فکری کوتاہی کی اصلاح
اس سے پہلے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ انسانوں میں عقیدہ و عمل کے اعتبار سے لوگ یکساں نہیں ہیں۔ اور وحدت فکر کے مفقود ہونے کے باعث لوگوں نے الگ الگ مسالک بنا رکھے ہیں۔ ضروری تھا کہ ان کی رہنمائی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔
جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…
Read the full tafseer →15 : وَاَمَّا الْقَاسِطُوْنَ فَکَانُوا (اور جو بےراہ ہیں پس وہ ہیں) اللہ تعالیٰ کے علم میں لِجَھَنَّمَ حَطَبًا (دوزخ کے ایندھن) ان سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔
فائدہ : کافرجن کو آگ کا عذاب ہوگا البتہ ان کے ثواب کی کیفیت میں توقف کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →14 ۔” وانا منا المسلمون “ یہ وہ لوگ ہیں جو محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ ” ومنا القاسطون “ ظالم حق سے اعراض کرنے والے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جن لوگوں نے اللہ کے لئے شریک بنایا۔ کہا جاتا ہے ” اقسط الرجل اذا عدل “ جب وہ انصاف کرے ” فھومسقط وقسط “ جب وہ ظلم کرے ” فھوقاسط “…” فمن اسلم فاولئک تحروا رسدا “ یعنی انہوں نے حق کے راستہ کا ارادہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…
Read the full tafseer →(یعنی ظالم لوگوں کو اللہ ان کے ظلم کی پاداش میں جہنم رسید کرے گا اور یہ اللہ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں بلکہ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
16 ۔ سیدھی راہ کو اپنا نا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے کو اپنائے ہوتے تو ہم ضرور بالضرور ان کو سیراب کرتے بافراغت پانی سے اور اس کے نتیجے میں ان کی دنیا بھی بنتی اور آخرت بھی سنورتی۔ تو سو جنوں کے تاثرات و اقوال کے ذکر وبیان کے بعد اب یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ میں خسارے کا سودا نہیں، بلکہ یہ راہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ ہے۔ اس کو اپنانے میں خود انہی کا بھلا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں خود انہی کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ الطریقہ سے یہاں پر مراد توحید کی صراط مستقیم ہے اور اس کو الف لام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 8 اس سے معلوم ہوا ہوا کہ جنوں میں سے بھی بعض دوزخ میں جائیں گے اور بعض جنت میں (تفصیلی بحث کے لئے دیکھیے سورة رحمٰن آیت 3) اس آیت پر مسلمان جنوں کا کلام ختم ہوگیا جو انہوں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کیا۔ آگے اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام شروع ہو رہا ہے، گویا اس کا عطف قل اوحی الی انہ پر ہے۔ (فتح قدیر)
Read the full tafseer →(72:15) واما القاسطون واؤ عاطفہ، اما حرف شرط۔ اما القاسطون جملہ شرطیہ ہے اور جو کج روی کرنے والے ہیں ۔
فکانوا لجھنم حطبا :جواب شرط کے لئے کانوا فعل ناقص ماضی جمع مذکر غائب، ضمیر فاعل اسم کانوا حطبا اس کی خبر، جملہ جواب شرط ہے۔ تو وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
حضور ﷺ سے فجر کی نماز میں قرآن سن کر آنے والے جن استماع قرآن اور اپنے تاثرات کا جو ذکر اپنے قبیلہ کے جنوں سے بیان کر رہے ہیں جو کہ انا سمعنا قرانا عجبا سے (آیت نمبر 1) شروع ہوا تھا۔ یہاں ختم ہوگیا۔ بعد کا قصہ بیان نہیں فرمایا کہ مخاطب جنوں کی جماعت ایمان لائی یا نہیں، احادیث سے ثابت ہے کہ لائی، ان جملوں کی زبانی کلام بیان کرکے کفار مکہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
جنوں کی رپورٹ
1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…
Read the full tafseer →(15) اور جو ظلم پر قائم رہے تو وہ جہنم کا ایندھن ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے قرآن سنا اور قرآن سن کر ہم میں سے مسلمان ہوگئے تو انہوں نے بھلائی کی راہ تلاش کرلی اور بھلائی کا راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے یعنی وہ اس بھلائی کا اجر پائیں گے اور جو ظلم پر قائم رہے اور ہدایت کی راہ سے بےراہ رہے وہ دوزخ کا ایندھن ہیں اور وہ دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 7۔ یہاں تک کلام جنات کا ختم ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اور جو ظلم کرتے ہیں وہی جہنم کا ایندھن بنتے ہیں
16 ؎ ( غدقا) بارش کا کثیر پانی ۔ ( معجم المفردات ) موسلا دھار بارش کا کثیر پانی جو سا لہا سال کی خشک سالی کے بعد برستا ہے۔ مراد اس سے وسعت رزق اور مال کثیر ہے۔ ( مجاہد) غیداق سیال پانی کی طرح گفتگو کی روانی وغیرہ ۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ظالم اور ناانصاف ٹھہرے اگر وہ فرمانبردار ہوتے اور راہ حق پر گامزن رہتے اور سیدھی راہ سے نہ ہٹتے تو ہم ان کو میٹھا اور کثیر تعداد میں پانی پلاتے یعنی ان کو کھلی اور وافر روزی عطا کرتے جس سے وہ دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہوتے کیونکہ ان کو وافر رزق دیا جاتا اور ان کی ساری خشکیاں دور کردیتا اور ان کی ہرچیز سبزہ زار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا (...so if one believes in his Lord, he will have no fear of either any curtailment [ in his reward ] or any excess [ in his punishment ]...72:13). The ward bakhs, with ba' carrying fatha ] and kha' carrying sukun, means 'to reduce the right' and the word rahaq means 'disgrace'. In other words, anyone who believes in Allah need fear neither curtailment in the reward of his good deeds, nor disgrace by excess in his punishment in the Hereafter.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
13 "Fear of loss": fear of being given a lesser reward than what one actually deserves for one's good deeds, and "injustice" that one may be deprived of the reward for the good deeds done but duly punished for the errors committed or punished innocent; no believer has any fear of such an injustice from Allah.
Read the full tafseer →