Al-Jinn 72:16

Al-Jinn · from ayah 16

72:16

وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًا ۟ۙوَّاَنْ لَّوِ اسۡتَقَامُوۡا عَلَى الطَّرِيۡقَةِ لَاَسۡقَيۡنٰهُمۡ مَّآءً غَدَقًا

اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [Allah revealed] that if they had remained straight on the way, We would have given them abundant provision

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:16

اور (اے نبیؐ، کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راه راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر ! اہل مکہ سے کہو کہ مجھ پر) یہ (وحی بھی آئی ہے) کہ : اگر یہ لوگ راستے پر آکر سیدھے ہوجائیں تو ہم انہیں وافر مقدار میں پانی سے سیراب کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر وہ راہ پر سیدھے رہتے تو ضرور ہم انہیں وافر پانی دیتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ (وحی بھی میرے پاس آئی ہے) کہ اگر وہ طریقت (راہِ حق، طریقِ ذِکرِ اِلٰہی) پر قائم رہتے تو ہم انہیں بہت سے پانی کے ساتھ سیراب کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور (یہ وحی کی گئی ہے) کہ اگر وہ راستے پر سیدھے رہتے تو ہم انھیں ضرور بہت وافر پانی پلاتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر لوگ (سیدھی راہ پر قائم رہتے تو ہم انہیں باافراط پانی سے سیراب کرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ قریش سیدھی راہ پر گامزن رہتے تو ہم ان کو خوب خوب سیر اب کرتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ (کہو کہ میری طرف یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو ضرور سیراب کرتے بافراغت پانی سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر یہ لوگ راستہ پر قائم ہوجاتے تو ہم انہیں فراغت کے پانی سے سیراب کرتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اور اے پیغمبر ﷺ ! یہ بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے

— محترمہ رفعت اعجاز

If people were to keep firmly to the Right Way, We would have vouchsafed them abundant rain

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:(And it is also revealed to me) that if they (the people of Makkah) had stood firm on the (right) way, We would have supplied water to them in abundance,

— Muhammad Taqi Usmani

:(And it is also revealed to me) that if they (the people of Makkah) had stood firm on the (right) way, We would have supplied water to them in abundance,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If they had believed in Allah, and went on the way, We would surely have bestowed on them water in abundance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If they (the idolaters) tread the right path, We shall give them to drink of water in abundance

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [Allah revealed] that if they had remained straight on the way, We would have given them abundant provision

— Saheeh International

Had they (jinn and mankind) remained steadfast in their religion (Islam), We would certainly have given them abundant water to drink

— Muhammad Sarwar

And that if they should keep to the (right) way, We would certainly give them to drink of abundant water,

— Muhammad Habib Shakir

And had they kept to the path surely We would have watered them with rain plenteous.

— Abdul Majid Daryabadi

(And Allah's Message is): "If they (the Pagans) had (only) remained on the (right) Way, We should certainly have bestowed on them Rain in abundance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–17

جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 15 اوپر جنوں کی بات ختم ہوگئی۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے اپنے ا رشادات شروع ہوتے ہیں۔ سورة الْجِنّ 16 یہ وہی بات ہے جو سورة نوح میں فرمائی گئی ہے کہ اللہ سے معافی مانگو تو وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، تفسیر سورة نوح، حاشیہ 12)۔ پانی کی کثرت کو نعمتوں کی کثرت کے لیے بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ پانی ہی پر آبادی کا انحصار ہے۔ پانی نہ ہو تو سرے سے کوئی بستی بس ہی نہیں سکتی، نہ انسان کی بنیادی ضروریات فراہم ہو سکتی ہیں، اور نہ انسان کی صنعتیں چل سکتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا بخس بفتح الباء و سکون الخاء کے معنے حق سے کم دینے اور کم کرنے کے ہیں اور رہق کے معنے ذلت و رسوائی ظاہر ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اس کی جزا میں کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں اس کو کوئی ذلت و رسوائی پیش آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف: جنوں کے تاثرات و اقوال کا حوالہ دینے کے بعد یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا۔ پہلی آیت میں لفظ ’قُلْ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ قرآن اور اس کی دعوت کے متعلق جنوں کی یہ باتیں آپ قریش کے ناقدروں اور مغروروں کو پہنچا دیں۔ اس کے بعد اب براہ راست قریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر استوار رہتے تو یہ خسارے کا سودا نہیں تھا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی راہ یہی ہے۔ ہم اس کے صلے میں ان پر اپنی رحمت کی گھٹائیں برساتے۔ ’مَآءٌ غَدَقٌ‘ کے لغوی معنی تو وافر پانی کے ہیں لیکن عربی میں یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

اس سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنات بھی دوزخ اور جنت میں جانے والے ہوں گے ان میں جو کافر ہیں وہ جہنم میں اور مسلمان جنت میں جائیں گے یہاں تک جنات کی گفتگو ختم ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–16

8: مطلب یہ ہے کہ جنات میں کچھ تو ایسے ہیں جو طبعی طور پر نیک ہیں جو حق بات کو قبول کرنے کا مادہ رکھتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو طبعی طور پر شریر ہیں۔ اس کے علاوہ تمام جنات کا مذہب ایک نہیں ہے، بلکہ جنات میں بھی مختلف عقیدوں کے لوگ ہیں۔ اس لیے ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی جو حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہوگئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

وان .................................... صعد اللہ فرماتا ہے کہ جن ہمارے متعلق یہ کہتے تھے کہ اگر لوگ یا ظالم اور کافر لوگ راہ راست پر آجائیں تو ہم ان کو خوب سیراب کریں۔ اور یوں ان کے رزق میں اضافہ ہو ، تاکہ ” ہم “ ان کو آزمائیں کہ شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔ طرز ادا میں یہ تبدیلی کہ جنوں کے قول کو نقل کرنے کے بجائے جنوں کے قول کا مفوم قرآنی الفاظ میں ادا کیا گیا اور جنوں کی بات تو اس طرح قرآن کریم میں کئی جگہ آتی ہے اور اس سے کلام میں تاکید مزید پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہے اور قاری اس طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ توجہ مبذول کرانے کے اس نوٹ میں کئی حقائق ہیں ، جن کے مطابق ایک مومن کا ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

4 یعنی اگر جن و انس حق کی سیدھی راہ پر چلتے تو ہم ان کو ایمان وطاعت کی بدولت ظاہری و باطنی برکات سے سیراب کردیتے اور اس میں بھی ان کی آزمائش ہوتی کہ نعمتوں سے بہرہ ور ہو کر شکر بجا لاتے اور طاعت میں مزید ترقی کرتے ہیں یا کفران نعمت کر کے اصل سرمایہ بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ اس وقت مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں حضور ﷺ کی دعاء سے کئی سال کا قحط پڑا تھا۔ لوگ خشک سالی سے پریشان ہو رہے تھے۔ اس لیے متنبہ فرما دیا کہ اگر سب لوگ ظلم و شرارت سے باز آکر اللہ کے راستہ پر چلیں جیسے مسلمان جنوں نے طریقہ اختیار کیا ہے تو قحط دور ہو اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جائے۔ 5 یعنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰہُمْ مَّآئً غَدَقًا۔ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔“ یعنی اگر نسل انسانی کے لوگ انبیاء و رسل - کے راستے پر چلتے رہتے تو آخرت کی نجات کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دنیا میں بھی خوب نوازتے۔ یہاں پر جس مفہوم میں لفظ ”طَرِیْقَۃ“ آیا ہے عین وہی مفہوم لفظ ”شَرِیْعَۃ“ اس آیت میں ادا کر رہا ہے : { ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ } الجاثیۃ : 18 ”پھر اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو قائم کردیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ شریعت پر“۔ گویا ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 اللہ کی فرمانبرداری اور رزق کی فراوانی :۔ یعنی جن اور انسان اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے تو ہم ان پر بکثرت بارشیں برساتے اور رزق کی فراوانی کردیتے۔ اور یہ وہی مضمون ہے جو پہلے سورة نوح کی آیت نمبر 11، 12 کے تحت گزر چکا ہے تفصیل کے لئے دیکھئے سورة نوح کا حاشیہ نمبر 5

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

11۔ اب ذکر معاصر مشرکین کا ہورہا ہے۔ جو اس وقت قحط کے عذاب میں مبتلا تھے۔ (آیت) ” علی الطریقۃ “۔ یعنی مسلک معروف و طریق مشروع پر ال عہد کا ہے۔ (آیت) ” لاسقینھم مآء غدقا “۔ یعنی قحط وخشک سالی دور کردیتے۔ (آیت) ” لنفتنھم “۔ یعنی اس کی جانچ ہوجاتی کہ کون کون شکر نعمت ادا کرتا ہے۔ اور کون کون سرکشی ونافرمانی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ یہ حکمت امتحان ایک اسی نعمت پر موقوف نہیں، ہر نعمت میں ملحوظ ومرعی رہتی ہے۔ (آیت) ” عن ذکر ربہ “۔ یعنی ایمان وطاعت سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان لو استقاموا . اس جملہ کا عطف انہ استمع نفر من الجن پر ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس اس بات کی بھی وحی ہے کہ اگر جن و انس قائم رہیں گے۔ علی الطریقۃ . اللہ کے پسندیدہ راستہ یعنی دین اسلام اور اس فطرت پر جس پر اللہ نے سب لوگوں کی تخلیق کی ہے (یعنی انسانی خود ساختہ رنگ آمیزی سے بچے رہیں گے) ۔ لا ستینٰھم ماء غدقا . تو ہم ان کو کثیر پانی سے سیراب کریں گے۔ مقاتل نے بیان کیا کہ سات برس تک خشک سالی میں جب وہ لوگ مبتلا رہے تو آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آب کثیر سے مراد وسیع رزق کیونکہ پانی حصول رزق کا سبب ہے۔ (سبب بول کر مسبّب بطور مجاز مراد لیا گیا) جس طرح رزق سے بارش اس آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اگر یہ لوگ کفر کے طریقہ پر یا یہ کہ اسلام کے طریقہ پر قائم ہوجاتے تو ہم ان کو بہت مال اور وسعت دیتے تاکہ ہم اس کے ذریعے ان کا امتحان کریں تاکہ یہ اپنی اسی حالت کی طرف لوٹ آئیں جو کہ ان کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے۔ شان نزول : وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ (الخ) مقاتل سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی جب ان سے سات سال تک بارش روک دی گئی تھی اور ابن ابی حاتم نے ابو صالح کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جنات نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم آپ کی مسجد میں آپ کے ساتھ نمازوں میں حاضر ہوسکیں اس پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وان لو استقاموا علی الطریقۃ…: اس کا عطف ”انہ استمع نفرمن الجن…“ پر ہے اور ”وان لو استقاموا“ کا اصل ”وانھم لو استقاموا“ ہے، یعنی کہہ دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا … اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (یعنی قریش مکہ یا تمام بنی آدم اور جن) اصل راستے پر سیدھے چلتے رہتے تو ہم انہیں وافر پانی پلاتے۔”غقاً“ کا معنی کثیر ہے۔ وافرپانی سے مراد وافر رزق ہے، کیونکہ زمین سے حاصل ہونے والی تمام برزکات بارش ہی سے حاصل ہوتی ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر بیان فرمائی ہے :(ولو ان اھل القریٓ امنوا و اثقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض) (الاعراف :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–17

وان الواستقاموا علی۔۔۔۔ تا۔۔۔ صعدا۔ وان الوستقاموا علی الطریقۃ۔ یہ فرمان جنوں کے قول کی حکایت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یعنی اگر یہ کفار ایمان لاتے تو دنیا میں ہم انہیں وسعت عطا کرتے اور انہیں فراخ رزق عطا کرتے۔ یہ وحی پر محمول ہوگا یعنی میری طرف وحی کی گئی کہ اگر جن استقامت کا مظاہرہ کرتے۔ ابن بحر نے ذکر کیا اس سورت میں جہاں ان ہے وہ ان جنوں کے قول کی حکایت ہے جنہوں نے قرآن سنا اور اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیی لوٹے اور جہاں بھی ان (مفتوحہ مخففہ) ہے تو وہ رسول اللہ کی طرف وحی ہے یعنی (اس کا تعلق اوحی فعل کے ساتھ ہے) ابن انباری نے کہا : جس نے ماقبل مقامات پر ہمزہ کو کسرہ دیا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وان لو استقاموا علی الطریقۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر وہ ان کو قائم کریں جو ان کو حکم دیا گیا آیت لاسقینہم ماء غدقا تو ہم ان کو چشموں سے پلاتے۔ 12۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ لاسقینہم الا یۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہیں جس چیز کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان کے مالوں میں کثرت پیدا فرمادیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان کی وجہ سے غنی ہوجائیں گے پھر حسن (رح) فرماتے تھے۔ اللہ کی قسم کہ محمد ﷺ کے اصحاب اس طرح تھے کہ وہ اللہ کا حکم سنتے تھے اور اس کی اطاعت کرتے تھے تو ان پر کسری اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّان : اور (وحی کیا گیا میری طرف) کہ ] [لَّوِ اسْتَــقَامُوْا : اگر وہ لوگ استقامت اختیار کرتے ] [عَلَي الطَّرِيْقَةِ : اس (سیدھے) راستے پر ] [لَاَسْقَيْنٰهُمْ : تو ہم ضرور پینے کے لئے دیتے ان کو ] [مَاۗءً غَدَقًا : وافر پانی ] غ د ق [غَدَقًا : (س) ] بارش کا خوب برسنا۔ کسی چیز کا وافر ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ (آیت۔ 16) اَلطَّرِیْقَۃِ پر لام تعریف ہے اس کا معود ذہنی صحیح راستہ کو بھی مانا جاسکتا ہے اور غلط راستہ کو بھی، کیونکہ قرآن مجید میں دونوں طرح کی آزمائش کا ذکر ہے۔ سورة الانعام کی آیات 43 ۔ 44 میں نافرمانوں پر آخری عذاب نازل کرنے سے پہلے نعمتوں کے تمام دروازے کھولنے کا ذکر ہے اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ۠ مَّآءً غَدَقًاۙ0016﴾ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ ﴿ اَنَّهُ اسْتَمَعَ ﴾ پر معطوف ہے مطلب یہ ہے کہ میری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ انسان اور جن اسلام کے طریقے پر مستقیم رہتے تو ہم انہیں خوب اچھی طرح پانی پلاتے یعنی انہیں مال کی فراوانی سے نوازتے اور انہیں بڑی بڑی نعمتیں دیتے ﴿لِّنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ 1ؕ ﴾ تاکہ ہم اس میں ان کا امتحان کریں کہ نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 11:۔ ” وان لو استقاموا “ یہ ” انہ استمع “ پر معطوف ہے اور مستقل وحی ہے، یہ جنات کا کلام نہیں۔ اس میں اہل مکہ کی طرف التفات ہے۔ ” غدقا کثیرا “ یعنی بکثرت، وافر، مراد خوشحالی ہے۔ یہ بات بھی آپ کی طرف وحی کی گئی کہ اگر اہل مکہ طریقہ مستقیمہ یعنی ملت اسلام پر قائم ہوجائیں، تو ہم دنیا میں ان پر روزی فراخ کردیں گے تاکہ ان کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون شکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ ” ومن یعرض عن ذکر ربہ “ یہ تخویف ہے۔ صعدا، شاقا، یعنی سخت دچوار اور جو شخص اللہ کی کتاب اور اس کی توحید سے اعراض کرے گا اسے وہ نہایت سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ صعدا شاقا یعلوا المعذب یغلبوہ (مظہری ج 10 ص 91) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–23

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَۃِ لَاَسْقَيْنٰہُمْ مَّاۗءً غَدَقًا۝ 16 ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ الاسْتِقَامَةُ يقال في الطریق الذي يكون علی خطّ مستو، وبه شبّه طریق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

ترکیب : وان لو استقا مواقرء الجمہور بکسر الوائومن لولا لتقاء الساکنین وقریٔ تشبیھنا بوا والضمیر۔ وھذا معطوف علی جملۃ انہ استمع فیکون من جملۃ الموحی الیہ ولیس من قول الجن والتقدیر اوحی الی انہ استمع وان لواستقاموا فیکون ھذا ھوا النوع الثانی مما اوحی الیہ وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہ ضمیر الشان محذوف ای انہ والشرط والجزاء الجملۃ خبر ان یسل کہ مجزوم علی انہ جواب الشرط ای من یعرض یسل کہ ای یدخلہ یقال سل کہ واسلکہ وقیل الجار محذوف ای فی عذاب۔ والصعد مصدر یقال صعداد صعود اوصف بہ العذاب لانہ یصعد طاقۃ المعذب ای یعلوہ ویغلبہ و ان المساجد معطوف علی ان لو استقاموا من جملۃ الموحی الیہ وھو النوع الثالث…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّاَنْ لَّوِاسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْـقَۃِ لَاَسْقَیْنٰـھُمْ مَّـآئً غَدَقًا۔ (الجن : 16) (اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ (قریش) راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انھیں خوب سیراب کرتے۔ ) روئے سخن قریش کی طرف اوپر جنوں کے تأثرات ختم ہوگئے، اب کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا ہے۔ سورة کا آغاز لفظ ” قُلْ “ سے ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ جنات نے جس طرح قرآن کریم کو سنا اور پھر انھوں نے جس طرح اپنے تأثرات کا اظہار کیا اور پھر جس طرح ایمان کی دولت سے مالامال ہوئے اور پھر اپنی قوم میں داعی کی حیثیت سے پہنچے۔ یہ سب باتیں آپ ﷺ قریش کو سنائیں تاکہ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–24

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔ اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : وَّ اَنْ لَّوِ اَنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ یعنی اَنَّہٗ یہ من جملہ وحی میں سے ہے۔ یعنی اوحی الی ان الشان لو۔ میری طرف وحی کی گئی بیشک معاملہ یہ ہے اگر اسْتَقَامُوْا (یہ لوگ قائم ہوجائیں) ظالم لوگ عَلَی الطَّرِیْقَۃِ ( طریقہ اسلام پر) لَاَسْقَیْنٰھُمْ مَّآئً غَدَقًا ( تو ہم ان کو فراغت کے پانی سے سیراب کرتے) غدقًا زیادہ کثیر۔ معنی یہ ہے ہم ان پر رزق کی وسعت کردیتے۔ آیت میں ماء ً غدقاً کا ذکر کیا کیونکہ وہ وسعت رزق کا سبب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” واما القاسطون “ جنہوں نے کفر کیا۔ ” فکانوا لجھنم حطبا “ وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے قیامت کے دن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–17

11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی اگر وہ (وَّاَنْ لَّوِ اسْتَــقَامُوْا عَلَي الطَّرِيْقَةِ ) سیدھے راستے پر رہتے (لَاَسْقَيْنٰهُمْ مَّاۗءً غَدَقًا) تو ہم انہیں وافر پانی پلاتے۔ یعنی وہ مزے سے بستے لیکن ان کے ظلم وعدوان نے انہیں اس سے روک دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–16

16 ۔ سیدھی راہ کو اپنا نا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے کو اپنائے ہوتے تو ہم ضرور بالضرور ان کو سیراب کرتے بافراغت پانی سے اور اس کے نتیجے میں ان کی دنیا بھی بنتی اور آخرت بھی سنورتی۔ تو سو جنوں کے تاثرات و اقوال کے ذکر وبیان کے بعد اب یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ میں خسارے کا سودا نہیں، بلکہ یہ راہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ ہے۔ اس کو اپنانے میں خود انہی کا بھلا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں خود انہی کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ الطریقہ سے یہاں پر مراد توحید کی صراط مستقیم ہے اور اس کو الف لام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–28

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی خوب پانی برساتے جس سے بکثرت پھل اور غلے پیدا ہوتے اور وہ خوشحال ہوتے۔ ” آزمانے “ سے مراد یہ ہے کہ اس میں بھی ان کا امحتان ہو کر آیا خوشحال پا کر شکر بجا لاتے ہیں یا کفر و ناشکری پر اتر آتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جب ان پر سات سال کا قحط پڑا بعض مفسرین نے طریقہ سے مراد کفر و ضلالت کا راستہ ہے یعنی اگر یہ لوگ کفر و ضلالت کے راستہ پر ہی جمع رہتے تو ہم بطور استدراج انہیں خوف بارغ البالی اور خوشحالی دیتے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : فلما نسواما ذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل شی حتی اذا فرحوا بما اوتواحدنا ھم بغتہ فاذا ھم مبلسون “ پھر جب وہ اس نصیحت کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:16) وان لو استقاموا علی الطریقۃ اس جملہ کا عطف انہ استمع (آیت نمبر 1 متذکرہ بالا) پر ہے۔ تقدیر کلام ہے : اوحی الی انہ استمع ۔۔ وان لو استقاموا ۔۔ ان مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوکر ان بن گیا ہے ان کا اسم جو ضمیر شان ہے (استفعال) مصدر۔ قائم رہنا۔ سیدھا رہنا۔ ثابت قدم رہنا۔ الطریقۃ۔ اللہ کا پسندیدہ راستہ، یعنی دین اسلام۔ مطلب یہ کہ :۔ میرے پاس اس بات کی بھی وحی ہے کہ اگر جن و انس دین اسلام پر قائم رہیں گے ۔۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اگلا جملہ اس کی جزاء ہے۔ لاسقینہم ماء غدقا۔ جملہ سابقہ سے جواب شرط ہے لام تاکید کا ہے۔ اسقینا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ اسقاء (افعال) مصدر بمعنی پلانا۔ ہم ضمیر مفعول…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–28

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–17

(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–17

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اور میری جانب یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ سیدھی راہ اور سیدھے طریقے پر قائم ہوجاتے یعنی اسلام کے پابند ہوجاتے تو ہم ان کو کثیر اور وافر پانی سے خوب سیرات کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 8۔ اہل مکہ پر آپ کی بد دعا سے قحط ہوا تھا اور کئی سال تک رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 15–16

اور جو ظلم کرتے ہیں وہی جہنم کا ایندھن بنتے ہیں 16 ؎ ( غدقا) بارش کا کثیر پانی ۔ ( معجم المفردات ) موسلا دھار بارش کا کثیر پانی جو سا لہا سال کی خشک سالی کے بعد برستا ہے۔ مراد اس سے وسعت رزق اور مال کثیر ہے۔ ( مجاہد) غیداق سیال پانی کی طرح گفتگو کی روانی وغیرہ ۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ظالم اور ناانصاف ٹھہرے اگر وہ فرمانبردار ہوتے اور راہ حق پر گامزن رہتے اور سیدھی راہ سے نہ ہٹتے تو ہم ان کو میٹھا اور کثیر تعداد میں پانی پلاتے یعنی ان کو کھلی اور وافر روزی عطا کرتے جس سے وہ دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہوتے کیونکہ ان کو وافر رزق دیا جاتا اور ان کی ساری خشکیاں دور کردیتا اور ان کی ہرچیز سبزہ زار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–17

فَمَن يُؤْمِن بِرَ‌بِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَ‌هَقًا (...so if one believes in his Lord, he will have no fear of either any curtailment [ in his reward ] or any excess [ in his punishment ]...72:13). The ward bakhs, with ba' carrying fatha ] and kha' carrying sukun, means 'to reduce the right' and the word rahaq means 'disgrace'. In other words, anyone who believes in Allah need fear neither curtailment in the reward of his good deeds, nor disgrace by excess in his punishment in the Hereafter.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 Here, one may ask: when, according to the Qur'an, the jinn have been created from the fire, what harm can the fire of Hell do them? The answer is: Even according to the Qur'an, man has been created out of the earth; why does then man feel hurt when a clod of earth is thrown at him? The truth is that although the whole body of man has been made from the earthly substances, when a living man of flesh and blood is moulded from them he becomes an entirely different thing from those substances; then other things made from the same substances become a means of causing harm to him. Likewise,…

Read the full tafseer →