Explained with ayahs 11–17
جنات میں بھی کافر اور مسلمان موجود ہیں
جنات اپنی قوم کا اختلاف بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ہم مختلف راہوں پر لگے ہوئے تھے۔ حضرت اعمش ؒ فرماتے ہیں کہ ایک جن ہمارے پاس آیا کرتا تھا۔ میں نے ایک مرتبہ اس سے پوچھا کہ تمام کھانوں میں سے تمہیں کونسا کھانا پسند ہے ؟ اس نے کہا چاول۔ میں نے لا کردیئے تو دیکھا کہ لقمہ برابر اٹھ رہا ہے لیکن کھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے پوچھا جو خواہشات ہم میں ہیں کیا تم بھی ہیں ؟ اس نے کہا ہاں، میں نے پھر پوچھا کہ رافضی تم میں کیسے گنے جاتے ہیں ؟ کہا بدترین۔ حافظ ابو المجاج مزنی فرماتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، ابن عساکر میں ہے…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 17
یعنی یہ دیکھیں کہ وہ نعمت پا کر بھی شکر گزار رہتے ہیں یا نہیں، اور ہماری دی ہوئی نعمت کا صحیح استعمال کرتے ہیں یا غلط۔
سورة الْجِنّ 18
ذکر سے منہ موڑنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آدمی اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت کو قبول نہ کرے، اور یہ بھی کہ وہ اللہ کا ذکر سننا ہی گوارا نہ کرے، اور یہ بھی کہ وہ اللہ کی عبادت سے رو گردانی کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَهَقًا بخس بفتح الباء و سکون الخاء کے معنے حق سے کم دینے اور کم کرنے کے ہیں اور رہق کے معنے ذلت و رسوائی ظاہر ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے نہ اس کی جزا میں کوئی کمی ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں اس کو کوئی ذلت و رسوائی پیش آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →ایک برسر موقع تنبیہ:
یہ برسر موقع ایک تنبیہ ہے کہ اس دنیا میں ہم رزق و فضل سے کسی کو جو بہرہ مند کرتے ہیں تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ اس سے مقصود اس کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار اور فرماں بردار رہتا ہے یا ناشکرا اور مغرور و متکبر بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کے یہ مغرور لیڈر اس واضح حقیقت کو فراموش کر بیٹھے۔ انھوں نے ان نعمتوں کو اپنا موروثی حق جانا اور اس غرور کے نشہ میں انھوں نے اس یاددہانی سے منہ موڑا جو اللہ نے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے نازل فرمائی۔
’وَمَنْ یُعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا‘۔ یہ…
Read the full tafseer →17۔ 1 اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب کفار قریش پر قحط سالی مسلط کردی گئی تھی، الطَّرِیْقَۃٍ کے دوسرے معنی گمراہی کے راستے کے کئے گئے ہیں۔
17۔ 2 نہایت سخت الم ناک عذاب (ابن کثیر)
Read the full tafseer →9: اب جنات کا واقعہ سنا کر اہل مکہ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح یہ جنات حق طلبی کا ثبوت دے کر ایمان لے آئے، اسی طرح تمہیں بھی قرآن کریم پر ایمان لے آنا چاہیے، اور اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں بارشوں سے سیراب فرمائیں گے بارشوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس وقت اہل مکہ قحط میں مبتلا تھے (بیان القرآن)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
وان .................................... صعد
اللہ فرماتا ہے کہ جن ہمارے متعلق یہ کہتے تھے کہ اگر لوگ یا ظالم اور کافر لوگ راہ راست پر آجائیں تو ہم ان کو خوب سیراب کریں۔ اور یوں ان کے رزق میں اضافہ ہو ، تاکہ ” ہم “ ان کو آزمائیں کہ شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
طرز ادا میں یہ تبدیلی کہ جنوں کے قول کو نقل کرنے کے بجائے جنوں کے قول کا مفوم قرآنی الفاظ میں ادا کیا گیا اور جنوں کی بات تو اس طرح قرآن کریم میں کئی جگہ آتی ہے اور اس سے کلام میں تاکید مزید پیدا کرنا مطلوب ہوتا ہے اور قاری اس طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔
توجہ مبذول کرانے کے اس نوٹ میں کئی حقائق ہیں ، جن کے مطابق ایک مومن کا ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
4 یعنی اگر جن و انس حق کی سیدھی راہ پر چلتے تو ہم ان کو ایمان وطاعت کی بدولت ظاہری و باطنی برکات سے سیراب کردیتے اور اس میں بھی ان کی آزمائش ہوتی کہ نعمتوں سے بہرہ ور ہو کر شکر بجا لاتے اور طاعت میں مزید ترقی کرتے ہیں یا کفران نعمت کر کے اصل سرمایہ بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ اس وقت مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں حضور ﷺ کی دعاء سے کئی سال کا قحط پڑا تھا۔ لوگ خشک سالی سے پریشان ہو رہے تھے۔ اس لیے متنبہ فرما دیا کہ اگر سب لوگ ظلم و شرارت سے باز آکر اللہ کے راستہ پر چلیں جیسے مسلمان جنوں نے طریقہ اختیار کیا ہے تو قحط دور ہو اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جائے۔
5 یعنی…
Read the full tafseer →آیت 17{ لِّنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ } ”تاکہ ہم اس فراوانی میں ان کی آزمائش کریں۔“
یعنی ہم لوگوں کو خوب سیراب کر کے اور انہیں مختلف النوع نعمتوں سے نواز کر ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کے انداز مختلف ہیں ‘ وہ کسی کو تونگری اور خوشحالی میں آزماتا ہے تو کسی کو فاقوں میں مبتلا کرکے اس کا امتحان لیتا ہے۔
{ وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ } ”اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے“
{ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ } ”تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔“
یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں ڈالے گا جس کی شدت ہر لمحہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔
Read the full tafseer →14 نعمتوں سے آزمائش کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آیا وہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اللہ کا شکر بجا لانے اور اس کی اطاعت میں مزید ترقی کرتے ہیں یا اللہ کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں یا ناشکری کرکے اصل سرمایہ بھی کھو بیٹھتے ہیں۔
15 یعنی اس کی زندگی میں اس کی پریشانیاں بڑھتی ہی جائیں گی کسی کل چین نصیب نہ ہوگا اور آخرت میں یہ حال ہوگا کہ ہر آن اس کے عذاب میں اضافہ ہی کیا جاتا رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11۔ اب ذکر معاصر مشرکین کا ہورہا ہے۔ جو اس وقت قحط کے عذاب میں مبتلا تھے۔ (آیت) ” علی الطریقۃ “۔ یعنی مسلک معروف و طریق مشروع پر ال عہد کا ہے۔ (آیت) ” لاسقینھم مآء غدقا “۔ یعنی قحط وخشک سالی دور کردیتے۔ (آیت) ” لنفتنھم “۔ یعنی اس کی جانچ ہوجاتی کہ کون کون شکر نعمت ادا کرتا ہے۔ اور کون کون سرکشی ونافرمانی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ یہ حکمت امتحان ایک اسی نعمت پر موقوف نہیں، ہر نعمت میں ملحوظ ومرعی رہتی ہے۔ (آیت) ” عن ذکر ربہ “۔ یعنی ایمان وطاعت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →لنفتنھم فیہ . یعنی اس سیرابی یا عطاء فراخی کی غرض تھی ‘ ان کی آزمائش ‘ ہم کو ان کا امتحان لینا مقصود تھا کہ (ہماری
نعمت کا وہ) کس طرح شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سعید بن مسیب ‘ عطاء بن ابی رباح ‘ ضحاک ‘ قتادہ ‘ مقاتل اور حسن بصری (رح) نے آیت مندرجہ کی یہی تفسیر کی ہے لیکن ربیع بن انس ‘ زید بن اسلم کلبی اور ابن کیسان نے اس طرح تشریح مطلب کی ہے کہ اگر وہ کفر پر قائم رہیں گے تو ہم ان کو بکثرت مال عطا کریں گے تاکہ بطور سزا ان کو فتنہ میں ڈال دیں اور اتنی ڈھیل دیں کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہو کر تباہ ہوجائیں جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : فلما نسوا ما ذکروا بہٖ فتحنا علیھم ابواب کل شئ۔ جب وہ نصیحت کو بھول گئے تو…
Read the full tafseer →اور جو شخص اپنے پروردگار کی توحید اور اس کی کتاب سے اعراض کرے گا یعنی ولید بن مغیرہ مخزومی تو اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کے پہاڑ پر چڑھنے کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔
Read the full tafseer →(لنفتھم فیہ ومن یعرض …: یعنی پانی کی کثرت اور رزق کی فراوانی کا مقصد بھی ان کی آزمائش ہے کہ وہ خوش حالی میں اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کی توحید و اطاعت پر قائم رہتے ہیں یا بدمست ہو کر سرکشی پر اتر آتے ہیں۔ معلوم ہوا مصیبت کی طرح نعمت بھی اللہ یک طرف سے آزمائش ہے۔ سورة انبیاء (35) ، اعراف (168) اور سورة قلم (17 تا 20) میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔”صعداً“”صعد یصعد“ (ع) کا مصدر ہے۔ لفظی معین چڑھائی ہے، مراد ایسا سخت عذاب ہے جو دم بدم بڑھتا ہی جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
وان الواستقاموا علی۔۔۔۔ تا۔۔۔ صعدا۔
وان الوستقاموا علی الطریقۃ۔ یہ فرمان جنوں کے قول کی حکایت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یعنی اگر یہ کفار ایمان لاتے تو دنیا میں ہم انہیں وسعت عطا کرتے اور انہیں فراخ رزق عطا کرتے۔ یہ وحی پر محمول ہوگا یعنی میری طرف وحی کی گئی کہ اگر جن استقامت کا مظاہرہ کرتے۔ ابن بحر نے ذکر کیا اس سورت میں جہاں ان ہے وہ ان جنوں کے قول کی حکایت ہے جنہوں نے قرآن سنا اور اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیی لوٹے اور جہاں بھی ان (مفتوحہ مخففہ) ہے تو وہ رسول اللہ کی طرف وحی ہے یعنی (اس کا تعلق اوحی فعل کے ساتھ ہے) ابن انباری نے کہا : جس نے ماقبل مقامات پر ہمزہ کو کسرہ دیا اور…
Read the full tafseer →18۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لنفتنہم فیہ تاکہ اس میں ہم ان کا امتحان کری یعنی ہم ان کو اس کے ذریعہ آزمائیں اور اللہ تعلایٰ نے فرمایا آیت ومن یعرض عن ذکر ربہ یسل کہ عذاب صعدا۔ اور جس نے اپنے رب کی یاد سے منہ موڑا تو وہ اسے سخت عذاب میں ڈالے گا۔ یعنی سخت ہوگا عذاب اور وہ اس میں اوپر چڑھتا جائے گا۔
19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لنفتنہم فیہ تاکہ ہم ان کو آزمائیں یہاں تک کہ وہ اس کی طرف لوٹ آئیں جو کچھ ان پر فرض کیا گیا اور فرمایا آیت عذابا صعدا۔ یعنی عذاب کی مشقت اور سختی۔
20۔ ہناد وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم لوصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یسل…
Read the full tafseer →[لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ : تاکہ ہم آزمائیں ان کو اس (پانی کے استعمال) میں ] [وَمَنْ يُّعْرِضْ : اور جو اعراض کرے گا ] [عَنْ ذِكْرِ رَبِهٖ : اپنے رب کی یاد سے ] [يَسْلُكْهُ : تو وہ (رب) ڈال دے گا اس کو ] [عَذَابًا صَعَدًا : ایک چڑھائی والے (مسائل والے) عذاب میں ]
نوٹ۔ 3: مفتی محمد شفیع (رح) کے ایک کتابچے ” ذکر اللہ “ کے مطابق ذکر۔ ورد۔ تسبیح وغیرہ ذکر اللہ نہیں ہیں بلکہ ذریعہ ذکر ہیں یعنی یہ بندے کو ذکر اللہ کی منزل تک پہنچانے کے ذرائع ہیں۔ ذکر۔ ورد۔ تسبیح وغیرہ میں اللہ کو یاد کرنے والے کلمات کی تکرار کرتے ہوئے جب بندہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ زندگی کی گہما گہمی کے بیچ منجدھار میں معاملات کرتے…
Read the full tafseer →﴿ وَ مَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ0017 ﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں داخل کرے گا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 11:۔ ” وان لو استقاموا “ یہ ” انہ استمع “ پر معطوف ہے اور مستقل وحی ہے، یہ جنات کا کلام نہیں۔ اس میں اہل مکہ کی طرف التفات ہے۔ ” غدقا کثیرا “ یعنی بکثرت، وافر، مراد خوشحالی ہے۔ یہ بات بھی آپ کی طرف وحی کی گئی کہ اگر اہل مکہ طریقہ مستقیمہ یعنی ملت اسلام پر قائم ہوجائیں، تو ہم دنیا میں ان پر روزی فراخ کردیں گے تاکہ ان کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون شکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ ” ومن یعرض عن ذکر ربہ “ یہ تخویف ہے۔ صعدا، شاقا، یعنی سخت دچوار اور جو شخص اللہ کی کتاب اور اس کی توحید سے اعراض کرے گا اسے وہ نہایت سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ صعدا شاقا یعلوا المعذب یغلبوہ (مظہری ج 10 ص 91) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…
Read the full tafseer →لِّنَفْتِنَہُمْ فِيْہِ 0 ۭ وَمَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّہٖ يَسْلُكْہُ عَذَابًا صَعَدًا 17 ۙ
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : وان لو استقا مواقرء الجمہور بکسر الوائومن لولا لتقاء الساکنین وقریٔ تشبیھنا بوا والضمیر۔ وھذا معطوف علی جملۃ انہ استمع فیکون من جملۃ الموحی الیہ ولیس من قول الجن والتقدیر اوحی الی انہ استمع وان لواستقاموا فیکون ھذا ھوا النوع الثانی مما اوحی الیہ وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہ ضمیر الشان محذوف ای انہ والشرط والجزاء الجملۃ خبر ان یسل کہ مجزوم علی انہ جواب الشرط ای من یعرض یسل کہ ای یدخلہ یقال سل کہ واسلکہ وقیل الجار محذوف ای فی عذاب۔ والصعد مصدر یقال صعداد صعود اوصف بہ العذاب لانہ یصعد طاقۃ المعذب ای یعلوہ ویغلبہ و ان المساجد معطوف علی ان لو استقاموا من جملۃ الموحی الیہ وھو النوع الثالث…
Read the full tafseer →لِّنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ ط وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُـکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ (الجن : 17)
(تاکہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے گا تو وہ اس کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا۔ )
کثرتِ مال و دولت ایک آزمائش ہے
قریش کو رزق کی فراوانی کی امید دلا کر ساتھ ہی تنبیہ فرمائی کہ ہم جسے رزق کی فراوانی سے بہرہ ور کرتے ہیں اسے دراصل آزمائش میں ڈالتے ہیں کہ وہ کثرت مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ بنتا ہے یا ناشکری کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ جس طرح انسان کا جسم اور اس کی قوتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور انھیں پر تکالیفِ شرعی کی بنیاد رکھی گئی ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔
اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…
Read the full tafseer →17 : لِّنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ (تاکہ اس میں ان کا امتحان کریں) تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ وہ جو انعامات دیئے گئے ہیں ان کا کس طرح شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ (اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے روگردانی کرے گا) ذکر سے قرآن مجید یا توحید یا عبادت مراد ہے۔ یَسْلُکْہُ (اللہ تعالیٰ اس کو داخل کریگا)
قراءت : ابو عمرو کے علاوہ عراقی قراء نے یاء سے پڑھا ہے
عَذَابًا صَعَدًا (سخت عذاب) اونچے درجہ کا دکھ صعد ًا یہ صعد کا مصدر ہے عرب کہتے ہیں صَعِدَ صعدً او صعود ًا اسکو عذاب کی صفت کے طور پر لائے کیونکہ وہ معذب پر چڑھ جائیگا اور غالب آجائیگا پھر وہ اس کو برداشت نہ کرسکے گا۔ حضرت…
Read the full tafseer →16 ۔” پھر کفار مکہ کی طرف لوٹے اور فرمایا ” وان لو استقاموا علی الطریقۃ “ اس کی تاویل میں اختلاف کیا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے اگر وہ حق اور ایمان اور ہدایت کے طریقہ پر قائم رہتے تو وہ فرمانبردار مومن ہوتے۔ ” لا سقینا ھم ماء غدقا “ زیادہ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ ان سے سات سال بارش ہٹا لینے کے بعد کی بات ہے اور انہوں نے کہا اس کا معنی اگر وہ ایمان لے آتے تو ہم ان پر دنیا میں وسعت دیتے اور ان کو کثیر مال دیتے اور آسانی والی زندگی دیتے اور کثیر پانی کی مثال دی گئی ہے اس لئے کہ خیر اور رزق سارا کا سارا بارش میں ہے۔ جیسا کہ کہا ” ولوانھم اقاموا التوراۃ والا نجیل وما انزل الیھم من ربھم لاکلوا من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ…
Read the full tafseer →(لِّنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ ) یعنی تاکہ ہم ان کو آزمائیں اور ان کا امتحان لیں تاکہ جھوٹے اور سچے کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے (وَمَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا) یعنی جو کوئی اللہ کے ذکر۔۔۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔۔ سے روگردانی کرے، اس کی اتباع کرے نہ اس کی اطاعت کرے بلکہ اس کے بارے میں غافل رہے تو الہ اسے سخت عذاب دے گا یعنی سختی کی انتہا کو پہنچا ہوا عذاب۔
Read the full tafseer →17 دنیاوی مال و دلوت ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان کو فراوانی رزق عطا کریں گے تاکہ اس کے ذریعے ان کی آزمائش کریں کہ اس پر یہ لوگ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری سے کام لیتے ہیں والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد سے برسر موقع پر ایک تنبیہ فرما دی گئی کہ اس دنیا میں مال و دولت، رزق و روزی اور جاہ منصب وغیرہ جو بھی کچھ کسی کو ملتا ہے، اس سے کسی کو اس غلط فہمی اور دھوکے کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ یہ سب کچھ دراصل ابتلاء و آزمائش کا سامان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکر گزارو فرمانبردار بنتا ہے، یا ناشکرا اور مغرور و متکبربن جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
نبی کے لیے اللہ کا حکم
تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی انجام کار وہ دوزخ کے درد ناک عذاب سے دوچار ہوگا۔
Read the full tafseer →(72:17) لنفتنھم فیہ : لام علت کا ہے۔ نفقن مضارع منصوب جمع متکلم، فتنۃ وفتون (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی امتحان لینا۔ آزمائش میں ڈالنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب فیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع فراوانی (ماء غدقا) ہے تاکہ ہم ان کی آزمائش کریں۔ ای نختبرہم ایشکرون ام یکفرون (ایسر التفاسیر، اضواء البیان، بیضاوی، مظہری)
بعض کے نزدیک ہم کی ضمیر کا مرجع جنوں کے لئے ہے لیکن جمہور کے نزدیک اصح یہی ہے کہ یہ کفار مکہ کے لئے ہے جیسا کہ استقاموا (آیت نمبر 16) میں ہے۔
ومن یعرض عن ذکر ربہ واؤ عاطفہ ہے من شرطیہ یعرض مضارع مجزوم واحد مذکر۔ غائب اعراض (افعال) مصدر بمعنی روگردانی کرنا۔ اعراض کرنا۔ جملہ شرطیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
لغات القرآن۔
استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔
تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
(ف 2) سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود نصاری طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے ، اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلاآتا ہے اور اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کررہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعض اس کے خلاف ہیں ہمارا حال تو یہ ہے کہ جب سے ہم نے قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ کے حکم کی نافرمانی کریں گے اور اوہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کھی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–17
جنوں کی رپورٹ
1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…
Read the full tafseer →(17) تاکہ ہم اس میں ان کا امتحان کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد یعنی اسلام سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت اور ناقابل برداشت عذاب میں داخل کرے گا۔ آیت میں اشارہ فرمایا مکہ والوں کے لئے یعنی اگر یہ مکہ والے راہ راست پر قائم ہوجاتے تو ہم ان کو کثرت باراں اور پانی کی کثرت سے سیراب کرتے اور ان کو قحط میں مبتلا نہ کرتے اور اس نعمت اور کرم سے ان کو آزمائش کرتے اور ان کو جانچتے۔
جیسا کہ ہمارا قاعدہ ہے کہ ہم انسانوں پر احسان فرما کر آزماتے ہیں جیسا کہ بلا بھیج کر آزماتے ہیں۔
ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ ، اور اگر کوئی شخص خواہ وہ مکہ والوں میں سے ہو یا کوئی اور ہو یعنی بنی نوح انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 8۔ اہل مکہ پر آپ کی بد دعا سے قحط ہوا تھا اور کئی سال تک رہا۔
Read the full tafseer →ان کی آزمائش ہوجاتی اور اعراض کرنے والوں کو سخت عذاب دیا جاتا
17 ؎ ( لنفتنھم فیہ) گزشتہ آیت کے مضمون کا مآل بیان کیا گیا ہے یعنی اگر وہ ثابت قدم رہتے اور راہ حق پر قائم رہتے تو انکو ہم سیراب کردیتے لیکن یہ سراب کرنا کیا ہوتا ؟ ان کی آزمائش ہوتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس دنیا میں کسی کو مال کی فروانی میسر ہے تو بھی اس کے لیے آزمائش ہے اور اگر اس کے لیے رزق کی تنگی ہے تو بھی اس کے لیے آزمائش ہے اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منہ موڑ جاتا ہے خواہ وہ کون ہے اس کو ہم سخت عذاب کی طرف دھکیل دیتے ہیں ۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ یہ دنیا کی زندگی سراسر آزمائش ہی آزمائش ہے اگر کسی کو مال کی فروانی عطا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا (...so if one believes in his Lord, he will have no fear of either any curtailment [ in his reward ] or any excess [ in his punishment ]...72:13). The ward bakhs, with ba' carrying fatha ] and kha' carrying sukun, means 'to reduce the right' and the word rahaq means 'disgrace'. In other words, anyone who believes in Allah need fear neither curtailment in the reward of his good deeds, nor disgrace by excess in his punishment in the Hereafter.
Read the full tafseer →15 The conversation of the jinn having come to an end, with this begins the speech of Allah.
16 This is the same thing as has been said above in Surah Nuh: 10-11. "Seek forgiveness of Allah. .. He will send abundant rains for you from heaven. " (For explanation, see E.N. 12 of Surah Nuh) . Abundance of water has been used for abundance of blessings metaphorically for human life and habitation depend on water. Without water there can be no human settlement, nor can man's basic needs be fulfilled, nor his industries work and prosper.
Read the full tafseer →