Explained with ayahs 18–24
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 19
مفسرین نے بالعموم " مساجد " کو عبادت گاہوں کے معنی میں لیا ہے اور اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ عبادت گاہوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ زمین پوری کی پوری عبادت گاہ ہے اور آیت کا منشا یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کہیں بھی شرک نہ کیا جائے۔ ان کا استدلال نبی ﷺ کے اس ارشاد سے ہے کہ جعلت لی الارض مسجد و طھورا۔ " میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے "۔ حضرت سعید بن جبیر نے مساجد سے مراد وہ اعضاء لیے ہیں جن پر آدمی سجدہ کرتا ہے، یعنی ہاتھ، گھٹنے، قدم اور پیشانی۔ اس تفسیر کی رو سے آیت کا مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…
Read the full tafseer →سجدہ گاہ صرف اللہ ہی کے لیے ہو سکتی ہے:
اوپر والی آیت میں کلام غائب کے اسلوب میں تھا۔ اس آیت میں براہ راست خطاب کر کے متنبہ فرمایا کہ مسجدیں صرف اللہ کی عبادت کے لیے خاص ہوتی ہیں ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کا شریک عبادت نہ بناؤ۔ یہ توحید کا مضمون اس انذار ہی کا حصہ ہے جو اوپر والے ٹکڑے میں مضمر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جب اعراض کرنے والوں کو پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے یہ فرضی دیوی دیوتا بچانے والے نہیں بنیں گے تو اللہ کی مساجد کو ان کی پوجا سے آلودہ نہ کرو۔
عبادت کا سزاوار چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے، کوئی دوسرا سزاوار عبادت نہیں ہے اس وجہ سے ہر مسجد اپنے مقصد تعمیر ہی سے اللہ تعالیٰ کے لیے خاص…
Read the full tafseer →18۔ 1 مسجد کے معنی ہیں سجدہ گاہ۔ سجدہ بھی ایک رکن نماز ہے اس لیے نماز پڑھنے کی جگہ مسجد کہا جاتا ہے آیت کا مطلب واضح ہے کہ مسجدوں کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے اس لیے مسجدوں میں کسی اور کی عبادت کسی اور سے دعا ومناجات جائز نہیں۔
Read the full tafseer →10: اس جملے کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ ”تمام مسجدیں اللہ کی ہیں“۔
Read the full tafseer →وان المسجد .................... احد
” اس کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ بھی صرف اللہ کے لئے ہے اور مقامات سجود ، مساجد بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ لہٰذا اسلام مکمل توحید کا قائل ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کسی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اور اللہ کی توحید کے سوا تمام اعتبارات اور تمام حیشلیت ہیچ ہیں۔ لہٰذا کسی کے ہاں کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اور نہ کسی سے طلب کرنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنے قلب میں استحضار دینا جائز ہے۔ اگر یہ آیت جنوں کا مقولہ ہے تو پھر یہ جنوں کی اس بات کی تاکید ہے۔
ولن ................ احدا (28 : 2) ” اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے “ ۔ خصوصاً…
Read the full tafseer →6 یوں تو خدا کی ساری زمین اس امت کے لیے مسجد بنادی گئی ہے۔ لیکن خصوصیت سے وہ مکانات جو مسجدوں کے نام سے خاص عبادتِ الٰہی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ان کو اور زیادہ امتیاز حاصل ہے۔ وہاں جا کر اللہ کے سوا کسی ہستی کو پکارنا ظلم عظیم اور شرک کی بدترین صورت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خالص خدائے واحد کی طرف آؤ اور اس کا شریک کر کے کسی کو کہیں بھی مت پکارو خصوصاً مساجد میں جو اللہ کے نام پر تنہا اسی کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں۔ بعض مفسرین نے " مساجد " سے مراد وہ اعضا لیے ہیں جو سجدہ کے وقت زمین پر رکھے جاتے ہیں۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ یہ خدا کے دیے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے اعضاء ہیں۔ جائز نہیں کہ ان کو اس…
Read the full tafseer →آیت 18{ وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ } ”اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں“
یہاں ”مساجد“ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہیں یعنی عبادت گاہیں بھی ہیں اور سجدے کے اعضاء پیشانی ‘ ناک ‘ ہاتھ ‘ پائوں ‘ گھٹنے بھی۔ یعنی تمام مساجد اور انسانوں کے اعضائے سجدہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔
{ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ } ”تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو !“
Read the full tafseer →16 یعنی ویسے تو کسی جگہ اور کسی حال میں بھی اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو پکارنا نہیں چاہیے مگر مساجد میں تو ایسا کام کرنے سے یہ شرک کا گناہ کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ مسجدیں تو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں اور بعض علماء کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے لیے تو ساری زمین ہی مسجد بنادی گئی ہے۔ لہذا کسی جگہ بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکارنا جائز نہیں۔ اور بعض علماء کے نزدیک مساجد سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ یہ اعضاء تو اللہ کی عبادت اور بندگی کے لئے بنائے گئے ہیں۔ لہذا اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکار کر ان کا غلط استعمال کرنا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →12۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ عبادت کا کچھ حصہ حق تعالیٰ کے لئے ہو اور کچھ دوسروں کے لئے۔ (آیت) ” المسجد “۔ مساجد سے یہاں مراد اعضاء سجود سے لی گئی ہے اور حکم کے معنی یہ ہیں کہ سجدہ و عبادت غیر اللہ کے لیے جائز نہیں۔ عن سعید بن جبیر قال ان المراد بالمساجد الاعضاء التی یسجد علیھا الانسان (معالم) قال سعید بن جبیر نزلت فی اعضاء السجود اے ھی للہ فلا تسجدوا بھا لغیرہ (ابن کثیر) قیل المساجد ومواضع السجود (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وان المسجد للہ . اس جملہ کا عطف ان لو استقاموا پر ہے یعنی منجملہ دوسری وحی کے یہ بھی وحی
آئی ہے کہ مسجدیں یعنی وہ مقامات جو نماز کے لیے بنائے جاتے ہیں ‘ اللہ کے لیے مخصوص ہیں (اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک قرار دینے کے لیے نہیں ہیں) ۔
فلا تدعوا مع اللہ احدا . قتادہ نے کہا کہ یہودی اور عیسائی عبادت خانوں میں جا کر عبادتِ الٰہی میں
دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اس پر اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ مسجدوں میں جائیں تو اپنی دعائیں خالص خدا ہی سے کریں۔ مساجد سے مراد تمام مسجدیں جن کو (شرک وغیرہ سے) پاک رکھنے کا اللہ نے حکم دیا تھا اور فرمایا تھا : طھرا بیتی للطآئفین .... رسول اللہ ﷺ نے بھی حکم…
Read the full tafseer →اور جتنی مسجدیں ہیں سب اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں تو ان مسجدوں میں اللہ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو یا یہ کہ مساجد سے مراد انسان کے وہ اعضاء ہیں جن سے وہ سجدہ کرتا مثلا پیشانی ہاتھ پیر وغیرہ۔
Read the full tafseer →(وان المسجد للہ…:”المجسد“”مسجد“ کی جمع ہے، اس کا معنی سجدے بھی ہے (مصدر مسیحی) اور وہ جگہیں بھی جہاں سجدے کئے جاتے ہیں، یعنی مسجدیں اور وہ جگہیں یعنی اعضا بھی جن پر سجدہ ہوتا ہے، یعنی پیشانی، ہاتھ پاؤں اور گھٹنے (ان دونوں معنوں کی صورت میں یہ ظرف ہے)۔ مطلب یہ ہے کہ سب سجدے بھی اللہ کے لئے ہیں، مسجدیں بھی اور اعضائے سجدہ بھی، تو پھر پکارنا بھی صرف اسی کا حق ہے، اس کے ساتھ کسی دوسرے کو مت پکارو۔”المسجد“ کا لفظ اتنا عام ہے کہ اس سے مراد صرف وہی جگہیں نہیں جو عبادت کے لئے تعمیر کی گئی ہیں بلکہ اس میں زمین کا ہر قطعہ شامل ہے، کیونکہ اس امت کیلئے ساری زمین ہی مسجد ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔
اس میں چھ مسائل ہیں۔
مساجد سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ اس آیت کا تعلق قل اوحی الی کے ساتھ ہے یعنی کہہ دو ، میری طرف وحی کی گئی ہے کہ مساجد الہ تعالیٰ کے لیے ہیں خلیل نے یوں تقدیر کلام کی ہے، لان المساجد للہ کیونکہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، بیوت سے مراد وہ مقامات ہیں جو ادیان کے حاملین عبادت کے لیے بناتے ہیں سعید بن جبیر نے کہا، ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم مساجد میں آئیں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں جب کہ ہم تو آپ سے دور ہوتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی مساجد اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت بجالانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے…
Read the full tafseer →25۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان المسجد للہ اور بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں سے مراد ہے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی زمین پر سوائے مسجد حرام اور مسجد ایلیا یعنی بیت المقدس کے اور کوئی مسجد نہ تھی۔
26۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جنات نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ نمازوں میں آپ کی مسجد میں حاضر ہوا کریں تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی آیت وا المسجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا اور بیشک مسجدیں اللہ کے لیے ہیں بس تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ یعنی نماز پڑھو اور لوگوں کے ساتھ اختلاط نہ رکھو۔
27۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[وَّان : اور (وحی کیا گیا) کہ ] [الْمَسٰجِدَ للّٰهِ : تمام سجدہ گاہیں اللہ کے لیے ہیں ] [فَلَا تَدْعُوْا : پس تم لوگ مت پکارو ] [مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا : اللہ کے ساتھ کسی ایک کو ]
Read the full tafseer →﴿وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ0018﴾ (اور بلاشبہ سب سجدے اللہ ہی کے لیے ہیں سو اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو) یعنی کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ بعض حضرات نے مساجد کو مسجد بفتح الجیم کی جمع لیا ہے اور اسے مصدر میمی بتایا ہے ہم نے اسی کے مطابق آیت کریمہ کا ترجمہ کیا ہے یہ معنی لینے سے غیر اللہ کے لیے ہر طرح کے سجدے کرنے کی ممانعت ہوجاتی ہے سجدہ عبادت کا ہو یا سجدہ تعظیمی ہو ان سب سجدوں کی ممانعت ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی سجدہ جائز اور مباح نہیں ہے پہلے تو بادشاہوں میں رسم تھی کہ دربار میں آنے والے ان کو سجدے کیا کرتے تھے اور اب بہت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →12:۔ ” وان المساجد “ یہ بھی انہ استمع پر معطوف ہے۔ یہ گذشتہ سورتوں میں بیان شدہ دلائل عقلیہ ونقلیہ کا ثمرہ ہے۔ مساجد سے یا مسجدیں اور عبادت خانے مراد ہے یا اس سے اعضاء سجدہ مراد ہیں۔ یعنی مسجدیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مختص ہیں، اسی طرح اعضاء سجود کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے حاجات و مشکلات میں اللہ کے سوا کسی کو غائبانہ مت پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…
Read the full tafseer →وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللہِ اَحَدًا 18 ۙ
مَسْجِدُ
: موضع الصلاة اعتبارا بالسجود، وقوله : وَأَنَّ الْمَساجِدَ لِلَّهِ
[ الجن/ 18] ، قيل : عني به الأرض، إذ قد جعلت الأرض کلّها مسجدا وطهورا کما روي في الخبر وقیل : الْمَسَاجِدَ : مواضع السّجود : الجبهة والأنف والیدان والرّکبتان والرّجلان، وقوله : أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ [ النمل/ 25] أي : يا قوم اسجدوا، وقوله : وَخَرُّوا لَهُ سُجَّداً [يوسف/ 100] ، أي : متذلّلين، وقیل : کان السّجود علی سبیل الخدمة في ذلک الوقت سائغا، وقول الشاعر : وافی بها لدراهم الْإِسْجَادِعنی بها دراهم عليها صورة ملک سجدوا له . المسجد ( ظرف ) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : وان لو استقا مواقرء الجمہور بکسر الوائومن لولا لتقاء الساکنین وقریٔ تشبیھنا بوا والضمیر۔ وھذا معطوف علی جملۃ انہ استمع فیکون من جملۃ الموحی الیہ ولیس من قول الجن والتقدیر اوحی الی انہ استمع وان لواستقاموا فیکون ھذا ھوا النوع الثانی مما اوحی الیہ وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہ ضمیر الشان محذوف ای انہ والشرط والجزاء الجملۃ خبر ان یسل کہ مجزوم علی انہ جواب الشرط ای من یعرض یسل کہ ای یدخلہ یقال سل کہ واسلکہ وقیل الجار محذوف ای فی عذاب۔ والصعد مصدر یقال صعداد صعود اوصف بہ العذاب لانہ یصعد طاقۃ المعذب ای یعلوہ ویغلبہ و ان المساجد معطوف علی ان لو استقاموا من جملۃ الموحی الیہ وھو النوع الثالث…
Read the full tafseer →وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَلِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ (الجن : 18)
(اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ )
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض چونکہ عذاب کا سبب ہے اور اس کے ذکر کے مراکز مسجدیں ہیں جن کی تعمیر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کی جاتی ہے۔ تو اس لحاظ سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ کیونکہ شرک اللہ تعالیٰ کے ذکر کی سب سے بڑی نقیض ہے۔ یوں تو ذکر سے اعراض کے کئی محمل ہوسکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک یہ سب سے بڑا جرم ہے۔ اور مساجد میں کسی اور کو پکارنا شرک کی بدترین قسم ہے۔ یہ تو ایک طرح سے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔
اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…
Read the full tafseer →مساجد کا معنی :
18 : وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ (اور جتنے سجدے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کا حق ہیں) یہ منجملہ دوسری وحی کے یہ بھی وحی آئی ہے یعنی اوحی الی ان المساجد للہ المساجد وہ مقام جو اس لیے بنائے جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کیلئے ان میں نماز پڑھی جائے۔ ایک قول یہ ہے ولان المساجد للہ فلا تدعوا اس لئے کہ مساجد اللہ ہی کیلئے ہیں اور اس کی عبادت کیلئے پس تم ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی کو مت پکارو۔ ایک قول یہ ہے المساجد اعضائے سجود۔ پیشانی، گھٹنے، دونوں قدم، فَـلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ (پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو)
Read the full tafseer →17 ۔” لنفتنھم فیہ “ یعنی تاکہ ہم ان کا امتحان لیں کہ ان کا شکر کیسا ہے ان نعمتوں میں جو وہ دیئے گئے اور یہ سعید بن مسیب، عطاء بن ابی رباح، ضحاک، قتادہ، مقاتل اور حسن رحمہم اللہ کا قول ہے اور دیگر حضرات نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ کفر اور مگر اہی کے طریقہ پر ڈٹ جاتے تو ہم ان کو کثیر مال دیتے اور ان پر وسعت کرتے تاکہ ہم ان کو اس میں آزمائیں سزا ہے ان کے لئے اور دھیل ہے حتیٰ کہ وہ اس کے ذریعے آزمائے جائیں گے پھر ہم ان کو عذاب دیں گے اور یہ ربیع بن انس، زید بن اسلم، کلبی اور ابن کیسان رحمہم اللہ کا قول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیء “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…
Read the full tafseer →یعنی مساجد میں دعائے عبادت یا دعائے مسئلہ غرض کہ کوئی سی بھی دعا اللہ کے سوا کسی سے نہ کی جائے کیونکہ مساجد اللہ کی عبادت کے لیے سب سے بڑا مقام ومحل ہیں جو اللہ کے اخلاص اس کی عظمت کے سامنے خضوع اور اس کے غلبے کے سامنے فروتنی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →19 سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسجدیں سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں ان کی بناء اور بنیاد ہی اللہ پاک کی یاد دلشاد اور اس کے ذکر پر ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پوری روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور طہور (پاکی کا ذریعہ) بنادیا گیا ( جعلت الارض مسجداً وطھورا) اس لئے پوری روئے زمین میں کہیں بھی اللہ پاک وحدہ لاشریک کے ساتھ کسی بھی اور ہستی کو پکارنا جائز نہیں، جیسا کہ حضرت حسن بصری وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور بعض حضرات مفسرین کے نزدیک یہاں پر مساجد سے مراد اعضاء سجدہ ہیں، یعنی دونوں پاؤں، دونوں گھٹنے، دونوں ہاتھ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
نبی کے لیے اللہ کا حکم
تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 11 یوں تو کسی بھی جگہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا جائز نہیں ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ مسجدوں میں جو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں کسی اور کو پکارنا شرک کی بدترین صورت ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ جب اپنے گرجوں میں داخل ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ صرف مجھے پکارو خصوصاً جبتم مسجدوں میں داخل ہوجاو میرے ہی نام پر میری ہی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں۔ “ ) بعض مفسرین نے مساجد سے مراد جسم کے وہ اضعاء لئے ہیں جنہیں سجدہ کے وقت زمین پر رکھا جاتا ہے یعنی پیشانی دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ تمام اعضاء…
Read the full tafseer →(72:18) وان المساجد للہ اس جملہ کا عطف جملہ ان لوا ستقاموا پر ہے یعنی یہ بھی میری طرف وحی کیا گیا کہ مسجدیں یعنی وہ مقامات جو نماز کے لئے بنائے جاتے ہیں اللہ ہی کے لئے مخصوص ہیں (اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک قرار دینے کے لئے نہیں ہیں)
ان حرف مشبہ بالفعل المساجد اس کا اسم اور للہ اس کی خبر ہے المساجد بوجہ عمل ان منصوب ہے۔
فلا تدعوا مع اللہ احداسببیہ ہے لا تدعوا فعل نہی جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر۔ تم پکارومت۔ تم نہ پکارو۔ احدا۔ (کوئی) ایک۔ لا تدعوا کا مفعول۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
لغات القرآن۔
استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔
تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…
Read the full tafseer →(ف 1) یوں تو خدا کی ساری زمین اس امت کے لیے مسجدبنادی گئی ہے لیکن خصوصیت سے وہ مکانات جو مسجدوں کے نام سے خالص عبادت کے لیے بنائے جاتے ہیں ان کو اور زیادہ امتیاز حاصل ہے۔
(ف 2) جیسا یہودونصاری کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے گرجاؤں اور عبادت خانوں میں شرک کرتے تھے۔
Read the full tafseer →[2] یعنی اللہ کے سوا کسی اور سے دعا نہ مانگو اور نہ کسی اور کو مدد کے لئے پکارو۔
Read the full tafseer →ف 2: یعنی مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے مختص ہیں ۔ ان میں اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا درست نہیں ہے ۔ مسجد کے معنی بعض اہل سنت کے نزدیک جبینا اور پیشانی کے بھی ہیں ۔ اس صورت میں معنے یہ ہونگے ۔ کہ انسان جین کو شرف ومجد کا یہ رتبہ حاصل ہے ۔ کہ وہ سوائے اللہ کے اور کسی کے سامنے نہیں جھک سکتی ۔
Read the full tafseer →(18) اور میری طرف یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں سو ان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یعنی یوں تو غیر اللہ کی عبادت ہر جگہ حرام اور شرک ہے کیونکہ ساری زمین ہی سجدہ گاہ ہے لیکن خاص طور پر وہ مقام جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خاص ہے جیسے مساجد اللہ خواہ وہ حرم پاک ہو یا مسجد نبوی یا بیت المقدس یا عام مساجد یہ تمام مقامات غیر اللہ کی عبادت سے محفوظ رہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے یہ مقامات محفوظ رہیں، بشرطیکہ مسلمانوں کا ان مقامات پر اقتدار ہو، اور اگر خدانخواستہ مسلمان مغلوب ہو کر اپنا اقتدار کھو بیٹھیں تو پھر حسب استطاعت تحفظ مساجد کے ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 1۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ کوئی سجدہ اللہ کو کیا جاوے اور کوئی سجدہ غیر اللہ کو جیسا مشرکین کرتے تھے۔
Read the full tafseer →مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں تم ان میں اس کے سوا کسی کو مت پکارو
18 ؎ جتنے گروہ اس دنیا میں انسانوں کے موجود ہیں سب نے عبادت خانے بنائے ہیں جن کی اصل غرض وغایت اللہ تعالیٰ کی عبادت تھی لیکن رفتہ رفتہ وہ گھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نہ رہے بلکہ سارے گروہوں نے ان میں اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرلی اور اپنی بنائی ہوئی رسومات کو ان میں ادا کرنا شروع کردیا حالانکہ ان کی رسومات کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق ہیں تھا اس جگہ اسلام کا نام اس ناطہ سے لیا گیا ہے کہ گزشتہ انبیاء و رسول (علیہ السلام) کا لایا ہوا دین بھی اسلام ہی تھا لیکن اس کے ماننے والوں نے اسلام کی بجائے اپنے گروہی نام پسند کیے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…
Read the full tafseer →17 "We might try them by that blessing": "We might see whether they remain grateful after having received the blessing or not, and whether they put Our blessing to right use or not. "
18 "To turn away from Allah's remembrance" means that one may reject the advice and admonition sent down by Allah, or one may disdain giving ear to Allah's remembrance, or one may turn away from the worship of Allah.
Read the full tafseer →