Ayahs 72:1–7رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا
یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ :
حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں بتایا کرتے تھے اور یہ خبریں شیاطین ان کے پاس لاتے تھے، شیاطین کا یہ طریقہ تھا کہ آسمان کے قریب تک جاتے تھے اور وہاں جو زمین میں پیش آنے والے حوادث کا فرشتوں میں ذکر ہوتا تھا اسے سن لیتے تھے پھر کاہنوں کے کان میں آ کر کہہ دیتے تھے۔ کاہن اس بات کو لوگوں میں پھیلا دیتے تھے یہ بات چونکہ اوپر سے سنی ہوئی ہوتی تھی اس لیے صحیح نکل جاتی تھی، سننے والے ان کاہنوں کے معتقد ہوجاتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو اس کو آنے والے واقعات کا علم نہ ہوتا تو پہلے کیسے بتادیتا ؟ اس طرح سے شیاطین اور کاہنوں نے مل کر انسانوں کو بہکانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو شیاطین کو اوپر پہنچنے سے روک دیا گیا اس کے بعد سے ان میں سے کوئی فرد خبریں سننے کے لیے اوپر پہنچتا تو اس پر انگارے پھینکے جانے لگے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جب یہ صورت حال پیش آئی تو شیاطین آپس میں کہنے لگے کہ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان آڑ لگا دی گئی ہے اور ہم پر انگارے پھینکے جانے لگے ہیں لہٰذا زمین کے مشارق اور مغارب میں سفر کرو اور دیکھو کہ وہ کیا نئی چیز پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمیں آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا ہے۔
چناچہ انہوں نے زمین کے مشارق اور مغارب کا سفر کیا اور اصل صورت حال کا سراغ لگاتے ہوئے گھومتے پھرے۔ ان میں ایک جماعت تہامہ کی طرف آئی (یہ عرب کا وہ علاقہ ہے جس میں حجاز واقع ہے) اس جماعت نے دیکھا کہ مقام نخلہ میں آنحضرت سرور عالم ﷺ اپنے صحابہ ؓ کو نماز فجر پڑھا رہے ہیں جب ان کے کانوں میں قرآن کی آؤاز پہنچی تو خوب دھیان کے ساتھ سننے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ ہو نہ ہو یہی چیز ہے جو تمہارے خبریں سننے کے درمیان حائل ہوگئی ہے اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف واپس ہوگئے۔ اور ان سے کہا : ﴿ اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ001 يَّهْدِيْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ 1ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ002﴾ اس پر اللہ تعالیٰ نے ﴿ قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ﴾ نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری صفحہ 732: ج 2)
شیاطین جس آزادی سے آسمان تک جاتے تھے اور وہاں فرشتوں کا جو مذاکرہ دنیاوی امور سے متعلق ہوتا تھا اسے سن کر نیچے آجاتے اور کاہنوں کے کان میں ڈال دیتے تھے یہ سلسلہ تو آنحضرت ﷺ کی بعثت پر ختم ہوگیا۔ لیکن شیاطین نے ایک اور دھندہ نکالا اور وہ یہ کہ نیچے سے لے کر بادلوں تک پرا لگا لیتے ہیں، وہاں فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے کان لگا کر پہنچتے ہیں تو ان پر انگارہ پھینک دیا جاتا ہے اس انگارہ کے لگنے سے پہلے کوئی بات سن کر اوپر والے نے اپنے نیچے والے کے کان میں ڈال دی اور ہوتے ہوتے وہ بات کاہن تک پہنچ گئی تو وہ اپنے پاس سے اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں خبریں پھیلا دیتا تھا۔ ان خبروں میں کوئی بات سچی نکل آتی ہے تو وہ وہی ہوتی ہے۔ احادیث شریف میں تفصیل وارد ہوئی ہے اور سورة ٴ الصافات کی آیت ﴿اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ0010﴾ میں اسی کو بیان فرمایا ہے کہ شیاطین اوپر سے بات اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو شہاب ثاقب یعنی روشن انگارہ سے مارے جاتے ہیں۔
سیّدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ کاہن جو بطور پیشین گوئی کچھ بتا دیتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں ہیں۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کاہن جو بات بیان کرتا ہے ٹھیک نکل جاتی ہے، آپ نے فرمایا وہ ایک صحیح بات وہ ہوتی ہے جسے اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے جیسے مرغی کڑ کڑ کرتی ہے پھر وہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 392 از بخاری و مسلم)
حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی سنا کہ فرشتے بادلوں میں اترتے ہیں وہ آپس میں ان فیصلوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو عالم بالا میں ہوچکے ہوتے ہیں شیاطین کان لگا کر چرانے کی کوشش کرتے ہیں اور جو بات سنتے ہیں اسے کاہنوں کے کانوں میں جا کر ڈال دیتے ہیں اور کاہن اس میں اپنے پاس سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 393 عن البخاری)
﴿ قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ﴾ (الآیات) آپ فرما دیجئے کہ مجھے اللہ کی طرف سے یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات میں سے چند افراد نے قرآن سنا اور پھر اس سے متاثر ہوئے اور اپنی قوم سے کہا کہ یقین جانو کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کا راستہ بتاتا ہے ہماری سمجھ میں قرآن کی بات آگئی اس میں جو ہدایت ہے یعنی توحید کی دعوت ہے وہ ہم نے قبول کرلی اور ہم اس پر ایمان لے آئے جب ہم نے توحید کو سمجھ لیا تو شرک کی گمراہی ہم پر واضح ہوگئی اب ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اسی شرک کے سلسلہ میں یہ بات تھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد تجویز کرتے تھے ہم اس سے بھی توبہ کرتے ہیں ہمارے رب کی بڑی شان ہے اس نے کسی کو نہ اپنی بیوی بنایا اور نہ اپنے لیے کوئی اولاد تجویز کی اب تک جو ہم کفر اور شرک اختیار کیے رہے اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم میں سے جو احمق لوگ تھے وہ اللہ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں کرتے تھے اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ انسان اور جنات اللہ تعالیٰ کے بارے میں جو باتیں کہتے ہیں وہ جھوٹی نہ ہوں گی اور اتنے اشخاص اور افراد مل کر جھوٹ نہ بولتے ہوں گے لہٰذا ہم نے بھی ان کی بتائی ہوئی باتوں کو اختیار کرلیا تھا، یہ ان لوگوں نے اپنے مشرک ہونے کا عذر بیان کیا لیکن یہ عذر غلط ہے توحید جاننے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے گمراہوں کا اتفاق لائق اتباع نہیں ہوتا۔
جنات نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ ا نسانوں میں سے بہت سے آدمی جنات کی پناہ لیا کرتے تھے جس کا طریقہ یہ تھا کہ جب کبھی سفر میں رات کو کہیں کسی خوف زدہ جگہ میں ٹھہرنا ہوتا تو ان میں سے بعض لوگ یوں پکارتے تھے۔ یا عزیز ھذا الوادی اعوذبک من السفھاء الذین فی طاعتک (اے اس وادی کے سردار میں ان بیوقوفوں سے تیری پناہ لیتا ہوں جو تیری فرمانبرداری میں ہیں) اس بات نے جنات کو اور چڑھا دیا اور بد دماغ بنا دیا وہ سمجھنے لگے کہ دیکھو ہم اتنے بڑے ہیں کہ جنات اور انسان ہم سے ہماری پناہ لیتے ہیں جیسا کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جاتی ہے اسی طرح ہماری پناہ لی جاتی ہے۔
جنات نے اپنی قوم کو یہ بھی بتایا کہ جس طرح تمہارے اندر یوم قیامت اور بعث و نشور کا انکار کرنے والے ہیں ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ اسی طرح انسانوں میں بھی ہیں قرآن سن کر ہمیں پتہ چل گیا کہ قیامت کا انکار بھی گمراہی ہے انکار سے قیامت ٹلنے والی نہیں خواہ انسان انکار کرے خواہ جنات انکار کریں۔
Ayahs 72:8–9﴿وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ ﴾ (الآیات) جنات نے یہ بھی کہا کہ ہم اس سے پہلے آسمان کی طرف جایا کرتے تھے وہاں موقع دیکھ کر بیٹھتے تھے اور اوپر جو باتیں ہوتی تھیں انہیں سنا کرتے تھے اب تو حالت یہ ہے کہ ہم اوپر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آسمان سخت پہرہ سے بھرا ہوا ہے (یہ پہرہ فرشتوں کا ہے) اور اس پہرہ کے علاوہ ایک یہ بات بھی ہے کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو شعلوں کو تیار پاتے ہیں اب اگر کوئی اوپر کی باتوں کو سننا چاہے تو جو شعلے پہلے سے تیار ہیں ان میں سے کوئی شعلہ اسے مار دیتا ہے (اس کی تفصیل سورة ٴ حجر اور سورة ٴ صافات میں گزر چکی ہے) ۔
Ayahs 72:10–12﴿وَّ اَنَّا لَا نَدْرِيْۤ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِي الْاَرْضِ ﴾ (الآیات) جنات نے مزید کہا کہ یہ جو پیغمبر محمد ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ان کی آمد کا نتیجہ کیا ہونے والا ہے زمین والے ان کی رسالت کے منکر ہوا سزا پانے والے ہیں یا زمین کے بسنے والے ان کا اتباع کر کے ہدایت پر آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر اور بھلائی کے مستحق ہوں گے یعنی تکوینی طور پر نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ہمیں اس کا علم نہیں ہے ممکن ہے جنات نے اپنے اس اجمالی کلام سے جنات کو متنبہ کیا ہو کیونکہ وہ بھی زمین کے رہنے والے ہیں اور مطلب یہ ہو کہ دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آگئی ہے اگر تم نے اسے نہ مانا تو عذاب میں پڑو گے جنات نے مزید کہا کہ پہلے سے ہم میں نیک لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہیں اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی ہیں جو صالح نہیں ہیں کافر اور فاجر ہیں جو اب تک ہم مختلف طریقوں پر تھے اور ہم میں چونکہ بہت سے لوگ ہدایت پر نہیں تھے اس لیے یوں سمجھتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت کی بات ہوئی تو ہم بھاگ نکلیں گے۔ لیکن اب ہماری سمجھ میں آگیا ہے کہ ہم زمین میں جہاں کہیں بھی ہوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ہم کہیں بھی بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اس کو پوری طرح ہم پر قدرت ہے ہم جہاں بھی ہوں۔
قولہ قدداً قال صاحب الروح القدد المتفرقة المختلفة جمع قدةٍ من قدَّ اذا قطع کان کل طریق لامتیازھا مقطوعة۔
Ayahs 72:13–15﴿وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ 1ؕ فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ0013﴾ (اور بیشک جب ہم نے ہدایت کو سن لیا تو ہم اس پر ایمان لے آئے) ۔ (الآیات) جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آئے اسے کسی طرح کے کسی نقصان کا خوف نہیں ہوگا۔ ایمان کا بھی صلہ ملے گا اور اعمال کا بھی ثواب ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی کسی کی کوئی نیکی شمار سے رہ جائے یا کسی نیکی کا ثواب نہ ملے ایسا نہ ہوگا۔
﴿وَّ لَا رَهَقًاۙ﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مومن صالح کو کسی ذلت کا سامنا نہ ہوگا اور بعض حضرات نے یہ مطلب بتایا ہے کہ کسی مومن پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ یعنی ایسا نہ ہوگا کہ کوئی برا عمل نہ کیا ہو اور وہ اس کے اعمالنامہ میں لکھ دیا جائے (گو ایسا تو کافروں کے ساتھ بھی نہ ہوگا لیکن کافروں کے حق میں یہ چیز کوئی مفید نہ ہوگی) ۔
مومن بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بڑے انعام و اکرام کا معاملہ ہے جو بھی نیکیاں دنیا میں ہوں گی ان کو بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے اجر وثواب دیا جائے گا۔
قال اللہ تعالیٰ فی سورة النساء ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ 1ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا وَ يُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا 0040﴾ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہ کرے گا اور اگر کوئی نیکی ہوگی تو اسے کئی گنا کر دے گا اور عمل کرنے والے کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرمائے گا) ۔
جنات نے یہ بھی کہا کہ ہم میں بعض مسلم ہیں یعنی اللہ کے فرمانبردار ہیں اور بعض قاسط ہیں سو جو شخص فرمانبردار ہوگیا اسلام قبول کرلیا ان لوگوں نے سوچ سمجھ کر بہت بڑی ہدایت کا ارادہ کرلیا (یعنی دنیا و آخرت میں اپنا بھلا کرلیا) اور جو لوگ قاسط یعنی ظالم ہیں راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں اسلام سے باغی ہیں وہ لوگ دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔
Ayah 72:16﴿وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنٰهُمْ۠ مَّآءً غَدَقًاۙ0016﴾ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ ﴿ اَنَّهُ اسْتَمَعَ ﴾ پر معطوف ہے مطلب یہ ہے کہ میری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ انسان اور جن اسلام کے طریقے پر مستقیم رہتے تو ہم انہیں خوب اچھی طرح پانی پلاتے یعنی انہیں مال کی فراوانی سے نوازتے اور انہیں بڑی بڑی نعمتیں دیتے ﴿لِّنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ 1ؕ ﴾ تاکہ ہم اس میں ان کا امتحان کریں کہ نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں۔
Ayah 72:17﴿ وَ مَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ0017 ﴾ (اور جو شخص اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں داخل کرے گا) ۔
Ayah 72:18﴿وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ0018﴾ (اور بلاشبہ سب سجدے اللہ ہی کے لیے ہیں سو اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو) یعنی کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو۔ بعض حضرات نے مساجد کو مسجد بفتح الجیم کی جمع لیا ہے اور اسے مصدر میمی بتایا ہے ہم نے اسی کے مطابق آیت کریمہ کا ترجمہ کیا ہے یہ معنی لینے سے غیر اللہ کے لیے ہر طرح کے سجدے کرنے کی ممانعت ہوجاتی ہے سجدہ عبادت کا ہو یا سجدہ تعظیمی ہو ان سب سجدوں کی ممانعت ہے اور اللہ کے علاوہ کسی کے لیے بھی کسی قسم کا کوئی سجدہ جائز اور مباح نہیں ہے پہلے تو بادشاہوں میں رسم تھی کہ دربار میں آنے والے ان کو سجدے کیا کرتے تھے اور اب بہت سے پیروں اور فقیروں نے یہ طریقہ نکال رکھا ہے کہ مرید ان کے پاس آتے ہیں یا رخصت ہوتے ہیں تو انہیں سجدہ کرتے ہیں یہ حرام ہے اور شرک ہے۔
اگر مساجد کو مسجد (بكسر الجیم) کی جمع لیا جائے تب بھی معنی سابق کی طرف مفہوم راجع ہوتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جہاں کہیں بھی کوئی سجدہ کرنے کی جگہ ہے یہ جگہ اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرنے کے لیے مخصوص ہے خواہ عبادت گاہ کے نام سے کوئی جگہ بنا لی جائے جسے مسجد کہتے ہیں خواہ ضرورت کیو قت سفر حضر میں کہیں بھی کسی جگہ بھی نماز پڑھنے کا ارادہ کرلیا جائے۔ یہ عبادت بہر حال اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص رکھنا لازم ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بھی عبادت کرنا حرام ہے۔
Ayah 72:19﴿ وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا 2ؕ (رح) 0019﴾ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ بھی اَنَّهُ اسْتَمَعَ پر معطوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ میری طرف یہ بھی وحی آئی ہے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کی عبادت کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ جنات ان کے پاس جمگٹھے لگا کر جمع ہوگئے۔ یعنی انہوں نے جو آپ کی عبادت کا مشاہدہ کیا اور آپ کی قرات سنی اور آپ کی اقتداء میں جو آپ کے اصحاب کا رکوع سجود دیکھا تو جماعتیں بن کر کھڑے ہوگئے کیونکہ یہ منظر انہوں نے کبھی دیکھا نہ تھا۔
حضرت حسن اور حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ ﴿ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ ﴾ کی ضمیر کفار قریش اور دیگر اہل عرب کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کا بندہ (رسول اللہ ﷺ جب اپنے کام یعنی کار ِ رسالت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتا ہے تو ان کو ناگوار معلوم ہوتا ہے اور آپ کی دشمنی پر تل جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے آپ کے پاس جمگٹھا لگا دیتے ہیں۔
فائدہ : اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق (میں اللہ کے پورے کلمات کے واسطہ سے ہر اس چیز کے شر سے پناہ لیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے) ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کسی منزل پر اتر کر ان کلمات کو پڑھ لے تو وہاں سے روانہ ہونے تک اسے کوئی بھی چیز ضرر نہیں پہنچائے گی۔ (رواہ مسلم) ۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ جب کسی منزل پر اترتے تھے تو شیاطین کی پناہ لیتے تھے رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ دعا پڑھنے کو بتائی جس میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔
Ayahs 72:20–23توحید کی دعوت، کفر سے بیزاری، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، نافرمانوں کے لیے دائمی عذاب ہے
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کا اور نافرمانوں کی تعذیب کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت علم کمال اور جامعیت کا بیان ہے پہلے تو یہ فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّيْ ﴾ (الآیات الاربع) کہ آپ مخاطبین سے یہ فرما دیں کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا (جو اپنے لیے میرا ذاتی فیصلہ ہے اور یقین کے ساتھ ہے اسی کی طرف میں تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں) آپ یہ بھی بتادیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس کی مخلوق ہوں، اس کا رسول ہوں میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کی دعوت دیتا ہوں کسی ضرر یا کسی بھلائی کے پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا (تم جو یوں کہتے ہو کہ آپ رسول ہیں تو ہم پر عذاب نازل کردیں تمہاری یہ فرمائش غلط ہے عذاب لانا میرے اختیار کی بات نہیں ہے اور جب عذاب آجائے اس کو دور کرنا بھی میرے بس کا کام نہیں ہے) اور یہ بھی سمجھ لو کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی کام کروں اور اللہ تعالیٰ میرا مواخذہ فرمائے تو مجھے اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں لہٰذا مجھ سے فرمائش کرتے ہو کہ رسالت کا کام چھوڑ دوں یا رسالت کے مضامین کو بدل دوں یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا، اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانا اس کے پیغام کو ادا کرنا میرا یہی کام ہے اگر تم نہ مانو گے اور اللہ کی نافرمانی کرو گے اور میری نافرمانی کرو گے تو سمجھ لو کہ نافرمان کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں نافرمان ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 72:24﴿ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا ﴾ (الآیۃ) اب تو باتیں بنا رہے ہیں لیکن جب قیامت کا دن ہوگا جس کے منکر ہو رہے ہیں (حالانکہ وہ وعدہ سچا ہے) تو اس وقت پتہ چلے گا کہ مددگاروں کے اعتبار سے کون کمزور تر ہے اور جماعت کے اعتبار سے بھی سمجھ لیں گے کہ کس کی جماعت کم ہے، یہاں اس دنیا میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی تعداد کم ہے اور اپنے کو بلندو برتر سمجھتے ہیں۔ قیامت کے دن دیکھیں گے کہ جنہیں حقیر جانا وہی بلند نکلے ان کی تو آپس میں شفاعتیں بھی ہوں گی اور مجرمین کا کوئی دوست ہوگا نہ مددگار نہ سفارش کرنا والا۔
Ayah 72:25﴿قُلْ اِنْ اَدْرِيْۤ﴾ (الآیۃ) جب رسول اللہ ﷺ اپنے مخاطبین کو قیامت کی بات بتاتے تھے اور یہ سمجھاتے تھے کہ مرنے کے بعد زندہ اٹھائے جاؤ گے اور میدان حشر میں حاضری دو گے اور وہاں فیصلے ہوں گے تو وہ لوگ بطور انکار یوں کہتے تھے کہ بتاؤ قیامت کب آئے گی اس کے آنے کا کون سا وقت مقرر ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اس کی آمد قریب ہے یا میرے رب نے اس کی لمبی مدت مقرر فرما رکھی ہے۔
Ayah 72:26﴿عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًاۙ0026﴾ (اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے وہ غیب کا جاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا) اور قیامت کا وقت بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن سے کسی کو مطلع نہیں فرمایا۔
Ayahs 72:27–28﴿اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ0027 لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (رح) 0028﴾ ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو اگر کسی ایسے علم پر مطلع کرنا چاہتا ہے جو کہ علم نبوت سے ہو خواہ مثبت نبوت ہو جیسے پیشین گوئیاں خواہ فروع نبوت سے ہو جیسے علم احکام تو (اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ) اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے (یعنی جمیع جہات میں وحی کے وقت) محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے (تاکہ وہاں شیاطین کا گزر نہ ہو) چناچہ حضور ﷺ کے لیے ایسے پہریدار فرشتے چار تھے، اور یہ انتظام اس لیے کیا جاتا ہے کہ (ظاہری طور پر) اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ان فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغام (رسول تک بحفاظت) پہنچا دیئے (اور اس میں کسی کا دخل و تصرف نہیں ہوا) اور اللہ تعالیٰ ان (پہرہ داروں) کے تمام احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے (اس لیے پہرہ دار ایسے مقرر کیے گئے ہیں جو اس کام کے پورے پورے اہل ہیں) اور اس کو ہر چیز کی گنتی معلوم ہے پس وحی کے سب اجزاء بھی اس کو معلوم ہیں حاصل مقام یہ ہے کہ علم ساعت علوم نبوت سے نہیں اس لیے اس کا علم نہ ہونا قادح نبوت یا مستلزم عدم وقوع ساعت نہیں، البتہ علوم نبوت عطا کیے جاتے ہیں اور وہی مقصود بعثت سے ہیں اور ان میں احتمال خطا کا نہیں ہوتا۔ تم ایسے علوم سے مستفید ہو اور زوائد کی تحقیق کو چھوڑو ۔۔ (از بیان القرآن بحذف)
الحمد للّٰہ علی اتمام تفسیر سورة الجن اولاً و آخرًا وباطنًا وظاھرًا