Ayahs 72:1–21۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن المنذر والحاکم والطبرانی وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی معا دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ میں سے ایک جماعت کے ساتھ چلے سوق عکاظ کے ارادہ سے اور اسی دور میں رکاوٹ کردی گئی شیطانوں اور آسمانوں کی خبر کے درمیان اور ان پر آگ کے شعلے چھوڑے گئے۔ شیاطین اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو قوم نے کہا کیا ہوا تمہارے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کردی گئی ہے اور ہم کو بھگانے کے یلے ہم پر آگے کے شعلے چھوڑے گئے تو قوم نے کہا کہ تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ مگر کوئی نئی چیز پیدا ہوگئی۔ تو تم زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں پھیل جاؤ اور غور سے دیکھو کہ کونسی چیز تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوگئی ہے وہ چل پڑے ان میں سے جو تہامہ کی جانب گئے انہوں نے نبی ﷺ کو پالیا۔ اور آپ مقام نخلہ میں تھے سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے۔ اور آپ اپنے صحابہ کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھ تو جب انہوں نے قرآن کو سنا تو خوب غور سے سا اور کہا یہ ہے وہ چیز اللہ کی قسم ! جو تمہارے اور آسمان کے خبر کے درمیا حائل ہوگئی ہے۔ وہیں سے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہوں نے کہا اے ہماری قوم ! انا سمعنا قراٰنا عجبا۔ یہدی الی الرشد فاٰمنا بہ۔ ولن نشرک بربنا احدا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے سو ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم اپنے رب کا کسی کو شرک نہ ٹھہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن مجھ سے قرآن پڑھتے سن گئے ہیں۔
آسمانوں میں جنات کو روکنے کے لیے پہریدار ہیں۔
2۔ ابن المنذر نے عبدالملک (رح) سے روایت کیا کہ جنات کو اوپر جانے سے نہیں روکا گیا۔ عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے زمانہ فترت میں۔ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا تو آسمان دنیا پر پہرے بٹھا دئیے گئے۔ اور جنات کو شہابوں کے ذریعہ بھگا دیا گیا تو وہ جنات ابلیس کے پاس اکٹھے ہوئے تو اس نے تو اس نے کہا کہ زمین میں کوئی نئی بات پیش آگئی ہے تم اس کو تلاش کرو اور ہم کو خبردو کہ یہ نئی بات کیا ہے تو شیطان نے ایک جماعت کو تہامہ کی طرف۔ دوسری جماعت کو یمن کی طرف بھیجا اور یہ سب اشراف اور سردار جنات تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کو اس حال میں پایا کہ آپ نخلہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ان جنات نے قرآن کی تلاوت کو سنا جب وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا تم خاموشی سے سنتے رہو۔ جب نماز پوری ہوگئی اور آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوگئے۔ وہ یہ جنات اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ آئے اور وہ ایمان دار اور ڈرانے والے تھے آپ ﷺ کو ان کے بارے میں احساس نہ ہو۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن مجھ سے قرآن پڑھتے سن گئے۔ کہا گیا کہ نصیبین والوں میں سے سات جن تھے۔
3۔ ابن جوزی نے صفوۃ الصفوۃ کتاب میں اپنی سند کے ساتھ سہل بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں قوم عاد کے گھروں کے اطراف میں تھا۔ اچانک میں پتھروں کا ایک شہر دیکھا۔ اس کے درمیان میں یہ لکھا ہوا تھا پتھروں کا محل جس میں جن پناہ لیتے تھے۔ پس میں اس میں داخل ہوا تو اچانک ایک عظیم الخلقت بوڑھا آدمی کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر اون کا ایک جبہ تھا جس میں حسن و جمال خوب تھا میں نے اس کی عظیم الخلقت سے تعجب نہیں کیا۔ جتنا میں اس کے جبے کے حسن و جمال سے تعجب کیا۔ میں نے اس کو سلام کیا اس نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ اور اس نے کہا اے سہل ! بدن کپڑوں کو پرانا نہیں کرتے۔ اور گناہوں کی بو اور حرام کمائی کا کھانا اسے بوسیدہ کردیتے ہیں۔ بیشک ! یہ جبہ مجھ پر سات سو سال سے ہے۔ اس کے ساتھ میں نے عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے ساتھ ملاقات کی۔ میں ان دونوں پر ایمان لایا پھر میں نے اس سے وپچھا تو کون ہے۔ اس نے کہا میں ان جنات میں سے ہوں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن اور نصیبین کے جنات میں سے تھے۔
Ayahs 72:3–44۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا ہمارے رب کی شان بلند ہے یعنی ہمارے رب کا امر اور اس کی عظمت بلند ہے۔
5۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے کہ اس کا امر اور اس کی قدرت بلند ہے۔
6۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت تعالیٰ جد ربنا سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے اس کی عظمت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے مایہ بن ابی صلت شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا وہ کہتا ہے
لک الحمد والنعماء والملک ربنا ولا شیء اعلی منک جدا ولا امجدا
ترجمہ : تیرے لیے ہی تمام تعریفیں برکتیں اور ملک اے ہماررب ! اور عزت وشرف اور عظمت و بزرگی میں کوئی چیز تجھ سے بلند اور اعلیٰ نہیں۔
7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر جنات اس نشانی کو جان لیتے کہ وہ انسانوں میں ہوگا تو وہ نہ کہتے آیت تعالیٰ جد ربنا۔
8۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت تعالیٰ جد ربنا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ہمارے رب کا غنی ہونا۔
9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے کہ اس کی عظمت اعلیٰ وارفع ہے۔
10۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے ہمارے رب کا جلال اعلیٰ وارفع ہے۔
11۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وانہ تعالیٰ جد ربنا کے بارے میں روایت کیا کہ ہمارے رب کا ذکر اعلیٰ وارفع ہے اور آیت وانہ کان یقول سفیہنا اور ہم میں سے بعض بیوقوف ہیں جو اللہ پر جھوٹی باتیں بنایا کرتے ہیں اور وہ ابلیس مراد ہے۔
13۔ عبد بن حمید نے عثمان بن حاضر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayah 72:514۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ یقول سفیہنا علی اللہ شططا سے مراد ہے کہ اللہ کی نافرمانی کی ہے احمق جنوں نے جیسے نافرمانی کی ہے اللہ کی احمق انسانوں نے۔
15۔ عبد بن حمید نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہی آیت جو سورة جن میں ہے اور وہ آیت جو سورة نجم میں ہے پڑھتے تھے اور ان وانہ دونوں جگہ ہمزہ کو منصوب پڑھتے تھے۔
جنات کے سرداروں کی پناہ لینا حرام ہے
16۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والعقیلی فی الضعفاء ولطبرانی واب والشیخ فی العظمہ وابن عساکر نے کردم بن ابی السائب الانصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ایک حاجت میں مدینہ کی طرف نکلا اور یہ مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کا ابتدائی زمانہ تھا ہم نے راستے میں ایک برکیاں چرانے والے پاس رات گذارنے کا ٹھکانہ بنایا جب آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا آیا اور اس نے بکری میں سے ایک بچہ کو اٹھالیا بکریاں چرانے والا اس پر کود پڑا اور کہا اے اس وادی کو آباد کرنے والا میں تیرے گھر پناہ لینے والا ہوں۔ تو ایک آواز دینے والے نے آواز دی۔ اے سرحان ! تو اسے نہ دیکھ اس نے اس کو چھوڑدیا پس وہ بکری کا بچہ دوڑتے ہوئے آیا۔ یہاں تک کہ بکریوں میں داخل ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر مکہ میں یہ آیت نازل فرمائی آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے الایۃ۔
17۔ ابن سعد نے ابورجاء العطاردی تمیمی ؓ سے روایت کیا جو بقیلہ بنو تمیم میں سے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو میں اپنے گھروالوں کا کفیل تھا اور میں ان کی مشقتوں اور حاجات کے لیے کفالت کرتا تھا۔ جب نبی ﷺ تشریف لائے تو ہم بھاگتے ہوئے نکل گئے۔ تو ہم وسیع بیابان پر آگئے۔ اور جب ہم کو اس زمین پر شام ہوگئی تو ہمارے بوڑھے شیخ نے کہا کہ ہم آج کی رات جنات کے شر سے اس وادی کے سردار کی پناہ لیتے ہیں تو ہم نے بھی وہی کہا اور ہم کو یہ بتایا گیا کہ اس آدمی یعنی محمد ﷺ کی تعلیم یہ ہے لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دینا تو جس نے اس کا اقرار کیا تو اس نے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کرلیا پھر ہم واپس لوٹے اور ہم اسلام میں داخل ہوگئے ابورجاء (رح) نے فرمایا میں اس آیت کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ وہ میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور وہ یہ ہے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا۔ اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے۔ سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔
18۔ ابونصر السجزی فی الابانۃ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو تمیم میں سے ایک آدمی رات پر اور لوگوں کے مقابلے میں بہت جری اور بہادر تھا وہ رات کو چلا اور جنات کی زمین میں اترا تو وہ گھبرا گیا۔ اور اس نے اپنی اونٹنی کو باندھا پھر اس کے ساتھ تکیہ لگا کر بیٹھ گیا اور کہا میں اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتا ہوں اس کے رہنے والوں کے شر سے تو ایک شیخ نے ان میں سے اس کو پناہ دیدی۔ اور ان میں سے ایک نوجون تھا اور وہ جنات کا سردار تھا وہ نوجون غصہ ہوگیا جب اس شیخ نے اس کو پناہ دی۔ اس نے اپنانیزہ اٹھایا اس نے اسے زہر میں بجھا رکھا تھا تاکہ اس آدمی کی اونٹنی کو اس کے ساتھ نحر کردے۔ تو اس شیخ نے اونٹنی کے آگے آکر اس سے ملاقات کی اور اس سے کہا۔
یاملک بن مہلہل مہلا فذلک محجری وازاری
ترجمہ : اے مالک بن مہلہل ٹھہرجا پس وہ میری جائے حفاطت اور میری پناہ میں ہے
ترجمہ : اس انسان کی اونٹنی تعرض نہ کر اور تو چن لے جب نیل گائیں میرے بیلوں میں داخل ہوں۔
انی ضمنت لہ سلامۃ رحلہ فاکفف یمینک راشدا عن جاری
ترجمہ : میں نے ضمانت لی ہے اس کی سواری کی سلامتی کی، پس تو میرے پڑوسی سے راہ ہدایت پر چلتے ہوئے اپنے ہاتھ کو روک لے
ولقد اتیت الی مال احتسب الا رعیت قرابی وجواری
ترجمہ : اور تحقیق میں اس تک آپ ہپنچا ہوں جسے میں شمار ہی نہیں کیا ورنہ میں نے تو اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی حفاظت اور رعایت کی ہے
تسعی الیہ بحربۃ مسمومہ اف لقربک یا ابالیقطاری
ترجمہ : تو دوڑے جا رہا ہے اس کی طرف زہر آلودہ نیزہ کے ساتھ اے ابو الیقطاری میں تیرے قرب کو ناپسند کرتا ہوں
لولا الحیاء وان اہلک جیرۃ لتمزقتک بقوۃ اظفاری
ترجمہ : اگر حیانہ ہوتی کہ تیرے گھروالے پڑوسی سے تو میں تجھ کو ضرور پھاڑ دیتا اپنے ناخنوں کی قوت سے نوجوان نے اس سے کہا
اترید ان تعلوا وتخفض ذکرنا فی غیر مزریۃ اباالعیزار
ترجمہ اے ابوالعیرزار کیا تو ارادہ کرتا ہے کہ تو بلند ہوجائے اور تو ہمارا ذکر بغیر کسی غیبت کے پس کردے۔
متنحلا امرا لغیرک فضلہ فارحل فان المجد للمرار
ترجمہ : اختیار کرنے والا ایسے کام کا جو تیرے علاوہ کے لیے باعث فضیلت ہو۔ سو تو کوچ کر کیونکہ بزرگی کوچ کرنے والے کے لیے ہے۔
من کان منکم سیدا فیمامضی ان الخیارہم بنو الاخیار
ترجمہ : تم میں سے جو سردار تھے ان دنوں میں گزر چکے۔ بلاشبہ افضل واعلیٰ وہی ہیں جو اعلیٰ لوگوں کی اولاد ہیں۔
ماقصد لقصدک۔۔ انما کان المجیر ملہل بن وبار
ترجمہ : اے دوبارہ حملہ کرنے والے اپنے ارادہ میں اعتدال پیدا کر کیونکہ پناہ دینے والا مہلہل بن وبار ہے
شیخ نے کہا تو نے شچ کہا تیرا باپ ہمارا سردار اور ہم میں سے افضل تھا تو اس آدمی کو چھوڑ دے تو میں تجھ سے جھگڑا نہیں کروں گا اس کے بعد کسی ایک کے بارے میں تو اس نے اس کو چھوڑ دیا۔ وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اپنا قصہ بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو وحشت اور خوف آپہنچے یا جنوں والی زمین میں اترے تو اس کو چاہیے یہ کلمات کہے :
اعوذ بکلمات اللہ التامات التی لا یجاوزہن بر ولا فاجز من شر مایلج فی الارض وما یخرج منہا وما ینزل من وما یعرف جہا ومن فتن اللیل ومن طوارق النہار الا طارقا یطرق بخیر۔
ترجمہ : میں اللہ کے پورے کلموں کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں کہ نہ کوئی نیک اور نہ بدکار ان سے پار ہونا ہے اس شر سے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے۔ اور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور رات کے فتنوں اور دن کو آنے والے فتنوں سے مگر وہ آنے والا جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ نازل فرمایا آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا۔ اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے۔ سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔ ابو نصر (رح) نے کہا یہ حدیث انتہائی غریب ہے ہم نے اسے اس سند کے علاوہ کہیں نہیں پایا۔
19۔ الخرائطی نے کتاب الہواتف میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی بنو تمیم میں سے تھا جس کو رافع بن عمیر کہا جاتا تھا انہوں نے اپنے اسلام لانے کا ایک واقعہ بیان کیا کہ میں ایک رات عالج کے صحراء میں چل رہا تھا اچانک مجھ پر نیند غالب ہوئی۔ میں اپنی سواری سے نیچے اترا، اس کو میں نے نیچے بٹھادیا اور میں سو گیا۔ میں نے اپنی نیند سے پہلے پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں۔ اس وادی کے بڑے جن سے پھر میں نے اپنی نیند میں ایک آدمی کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں نیزہ ہے کہ اس سے میری اونٹنی کو نحر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے میں گھبراکر اٹھا۔ میں نے دائیں اور بائیں طرف دیکھا مگر کسی چیز کو نہ دیکھا میں نے کہا یہ خواب ہے۔ پھر میں لوٹا اور سوگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر اسی طرح میں نے دیکھا۔ میں جاگا میں اپنی اونٹنی کے اردگرد گھوما۔ لیکن میں نے کوئی چیز نہ دیکھی اچانک میری انٹنی کانپ رہی تھی۔ پھر میں سوگیا، پھر میں نے اسی طرح دیکھا۔ میں جاگا تو میں نے دیکھا کہ میری اونٹنی مضطرب اور پریشان ہے۔ پھر میں متوجہ ہوا اچانک ایک نوجوان آدمی جسے میں نے نیند میں دیکھا تھا اس کے ہاتھ میں نیزہ ہے اور ایک بوڑھا آدمی اس کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے تھا اور اس کو اونٹنی سے روک رہا تھا۔ اس درمیازن کہ وہ دونوں جھگڑ رہے تھے۔ اچنک تین وحشی بیل ظاہر ہوئے بوڑھے نے اس جوان سے کہا : کھڑا ہوجا اور اس میں سے جو چاہے لے لے۔ پس اونٹنی کے بدلے میں وہ نوجوان کھڑا ہوا اور اس میں سے ایک بڑے بیل کو لے لیا اور چلا گیا۔ پھر وہ شیخ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا : اے فلاں جب تو وادیوں میں سے کسی وادی میں اترے تو اس کا خوف محسوس کرنے لگے یوں کہنا میں پناہ مانگتا ہوں اس اللہ کے ساتھ جو محمد ﷺ کے رب ہیں اس وادی کے خوف سے اور کسی جن کی پناہ نہ مانگنا کیونکہ اس کا حکم باطل ہے۔ میں نے اس سے کہا یہ محمد ﷺ کون ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ عربی نبی ہیں نہ شرقی ہیں نہ عربی ہیں۔ وہ پیر کے دن مبعوث ہوئے میں نے کہا اس کا مسکن کہا ہے ؟ اس نے کہا یثرت جو کھجوروں والی زمین ہے میں اپنی سواری پر سوار ہوا۔ جب صبح روشن ہوئی اور خوب تیزی سے چلتا رہا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آگیا مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا اور مجھے ساری بات بیان فرمادی۔ پہلے اس سے کہ میں آپ کے سامنے کچھ بیان کروں اور مجھے اسلام کی طرف دعوت دی تو میں مسلمان ہوگیا سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا کہ ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔
Ayahs 72:6–720۔ ابن جریر وابن مردویہنے ابن عباس ؓ سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ کچھ لوگ انسانوں میں سے زمانہ جاہلیت میں جب وہ کسی وادی میں رات گذارتے تھے تو وہ کہتے تھے میں اس وادی کے سردار سے پناہ مانگتا ہوں اور فرمایا فزادوہم رہقا میں رہقا سے مراد ہے گناہ یعنی انہوں نے ان میں گناہ کے اعتبار سے اضافہ کردیا۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ ان میں سے کوئی ایک جب کسی وادی میں اترتا تو وہ کہتا میں اس وادی کے عزیز کی پناہ مانگتا ہوں اس قوم کے بیوقوفوں کے شر سے تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس رات میں یا اس دن میں امن والا ہوجاتا ہے۔
22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ لوگ کسی وادی میں اترتے تو تھے کہ ہم اس وادی کے عظیم سردار سے پناہ مانگتے ہیں آیت فزادوہم رہقا سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔ یعنی اس بات نے کفار کی سرکشی میں اور زیادہ کردیا۔
23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب وہ کسی منزل پر اترتے یوں کہتے کہ ہم اس جگہ کے عزیز یعنی جنات کے سردار سے پناہ مانگتے ہیں آیت فزادوہم رہقا۔ یعنی اس بات نے ان کو اور زیادہ کردیا۔ خطا میں اور گناہ میں۔
24۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ ایک قوم تھی جب وہ کسی وادی میں اترتے تو یو کہتے کہ ہم اس وادی کے رہنے والوں کے سردار کی پناہ مانگتے ہیں اور یہ کہتے ہم نہ اپنے لیے اور نہ تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کے مالک ہیں وہم ہم کو ڈراتے ہیں پس تم ان پر قبضہ کرلو۔
25۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ کہتے تھے جنات میں سے فلاں اس وادی کا مالک ہے۔ اور جب ان میں سے کوئی اس وادی میں داخل ہوتا تھا تو وادی کے رب سے پناہ مانگتا تھا اللہ کو چھوڑ کر پس اس کے سبب اس میں رہقا یعنی خوف اور بڑھ جاتا تھا۔
26۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ کچھ آدمی زمانہ جاہلیت میں جب کسی جنات کی وادی میں آتے تو انسان میں سے ندا دینے والا کسی نیک جن کو پکار کر کہتا تھا کہ وہ ہم سے اپنے سرکشی اور بیوقوفوں کو روک لو۔ پس انہیں کچھ فائدہ نہ دیا جو ان کو نصیحت کی گئی آیت فزادوہم رہقا۔ سو ان کو زیادہ کردیا سرکشی میں۔
27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں جب کسی وادی میں نازل ہوتے تو یوں کہتے کہ ہم اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتے ہیں اس شر سے جو اس میں ہے۔ پس وہ ان کے سبب ان سے بڑ کر کسی چیز سے زیادہ محبت نہیں کرتے تھے اسی کو فرمایا آیت فزودوہم رہقا کہ اس بات نے ان کو سرکشی میں اور زیادہ کردیا۔
بت پرستی شیطانی دھوکہ ہے۔
28۔ ابن مردویہ نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعلایٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو میں دو یا تین اسلامی ساتھیوں کے ساتھ اسلام لانے کے لیے گیا میں پانی پر آیا۔ جہاں لوگ جمع تھے اور لوگوں کے پاس ایک چرواہا بھی تھا جو ان کی بکریوں کو چراتا تھا۔ اس نے کہا میں تمہاری بکریوں کو نہیں چراؤں گا۔ انہوں نے کہا کیوں اس نے کہا کہ ایک بھیڑیاہر رات کو آتا ہے اور وہ ایک بکری کو لے جاتا ہے۔ اور تمہارا یہ بت سوتا رہتا ہے نہ نقصان پہنچاتا ہے نہ نفع دیتا ہے نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار کرتا ہے۔ وہ لوگ چلے گئے اور میں یہ امید کر رہا تھا کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ جب ہم نے صبح کی تو وہ چرواہا دوڑتے ہوئے آیا اور کہنے لگا خوشخبری ہو، خوشخبری ہو بھیڑیا لا یا گیا ہے اور وہ بت کے سامنے بغیر رسی کے بندھا ہوا ہے۔ وہ لوگ گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا انہوں نے اس کو قتل کیا اور بت کو سجدہ کیا اور کہنے لگے تو بھی اسی طرح کیا کر۔ میں محمد ﷺ کے پاس آیا اور یہ واقعہ آپ کے سامنے بیان کیا تو آپ نے فرمایا ان کے ساتھ شیطان نے کھیل کیا۔
Ayah 72:829۔ عبد بن حمید نے عبد بن حمید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انا لمسنا السماء فوجدنہا ملئت حرسا شدید وشہبا کے بارے میں روایت کیا کہ جنات آسمان کی خبریں سن لیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو آسمان پر پہرہ لگادیا اور ان کو اس روک دیا گیا۔ جناب بذات خود اس کی تلاش کرنے لگے راوی نے کہا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جنات کے سردار اور معززین نصیبین کے مقام موصل کی سرزمین میں تھے۔ انہوں نے اس کی جستجو کی اور خوب نظر دوڑائی یہاں تک کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے۔ اور آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کو عکاظ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں نماز پڑھا رہے تھے۔
30۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ والنسائی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم نے معاً دلائل النبوۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیاطین کی آسمان میں بیٹھنے کی جگہی تھیں کہ وہاں بیٹھ کر وہ وحی کو سنتے تھے۔ جب وہ کسی کلمہ کو سنتے تھے تو اس میں نو کلمات کو زیادہ کردیتے تھے۔ تو وہ ایک کلمہ تو سچا ہوجاتا۔ اور جو اس میں اضافہ کرتے وہ جھوٹ ہوتا۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کو ان کی جگہوں سے روک دیا گیا۔ انہوں نے ابلیس کو یہ بات بتلائی اور اس سے پہلے ان پر ستارے نہیں پھینکے جاتے تھے۔ ابلیس نے ان سے کہا یہ حکم کسی خاص واقعہ کے سبب ہوا جو زمین میں پیش آیا تو اس نے اپنے لشکروں کو بھیجا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں پڑھتے ہوئے پایا نخلہ کے دو پہاڑوں کے درمیان وہ واپس ان کے پاس آئے اور اس کو بتایا تو ابلیس نے کہا یہ وہی واقعہ ہے جو زمین میں رونما ہوا۔
جنات کو آسمان پر جانے سے روک دیا
31۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی آسمان میں بیٹھنے جگہیں تھیں جس کی وجہ سے وہ وحی کو سن لیتے تھے اور یہی سلسلہ جاری تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو شیاطین کو آسمان سے دور ہٹا دیا گیا اور ستاروں کے سبب ان کو بھگا دیا گیا اب جو کوئی ان میں اوپر چڑھتا ہے تو وہ جل جاتا ہے اور زمین والے گھبراگئے۔ جب انہوں نے ستاروں کو دیکھا اور ایسا اس سے پہلے نہیں ہوتا تھا۔ ابلیس نے کہا کوئی واقعہ زمین میں پیش آگیا ہے پھر ہر طرف سے زمین کی مٹی لائی گئی اور اس نے اس کو سونگھا اور تہامہ کی مٹی کو سونگ کر کہا یہاں کوئی نئی بات پیش آئی ہے جنات میں سے ایک جماعت اس کی طرف بھیجی اور یہ وہ جماعت تھی جنہوں نے قرآن کو سنا۔
32۔ ابن جریر وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے درمیان زمانہ فترت میں آسمان دنیا پر کوئی پہرہ نہ ہوتا تھا اور وہ وہاں بیٹھنے کی جگہوں میں بیٹھا کرتے تھے آسمانی باتیں سننے کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آسمان پر سخت پہرہ لگادیا اور شیطانوں کو بھگادیا گیا تو انہوں نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا آیت توانا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض ام اراد بہم ربہم رشدا۔ ا اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے نسبت ان کے رب نے راہ راست پر لانے کا ارادہ کیا ہے۔ ابلیس نے کہا کہ یقینی طر پر زمین میں کوئی حادثہ واقع ہوا ہے تو اس کی طرف جنات اکٹھے ہوئے۔ تو ابلیس نے کہا زمین میں پھیل جاؤ اور مجھے خبردو کہ یہ کیا حادثہ ہے جو آسمان میں پیش آیا اور اہل نصیبین میں سے اس نے پہلا لشکر بھیجا۔ اور وہ جنات کے بڑے اور اس کے سردار لوگوں میں سے تھے۔ اس نے ان کو تہامہ کی طرف بھیجا وہی بڑی تیز رفتاری سے چلتے رہے یہاں تک کہ نخلہ کی وادی میں پہنچ گئے۔ اور انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ کو صبح کی نماز پڑھتے ہوئے پایا اور اللہ کے نبی ﷺ نہیں جانتے تھے کہ وہ جنات آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہیں اس حال میں کہ آپ قرآن پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ان کو ڈراتے ہوئے اللہ کے عذاب سے راوی کا بیان ہے کہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر واپس آئے۔
33۔ واقعدی و ابونعیم نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس دن رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا تو شیاطین کو آسمان سے روک دیا گیا اور شہابوں یعنی شعلوں کے ذریعہ ان کو بھگادیا گیا۔
34۔ واقدی وابو نعیم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ کوئی ستارہ نہیں پھینکا گیا جب سے عیسیٰ (علیہ السلام) اٹھائے گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نبی بن کر تشریف لائے شیاطین کو ان شہابوں کے سبب بھگادیا گیا۔
35۔ بیہقی نے دلائل میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان ستاروں کے ذریعہ سننے سے روک دیا کاہنوں کا سلسلہ کٹ گیا۔ پس اب کوئی کہانت نہیں۔
Ayahs 72:9–1036۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانا کنا نقعد منہا مقاعد للسمع اور ہم اس کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ سے مراد ہے کہ آسمان پر پہرہ لگادیا گیا جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تاکہ کوئی چوری چھپے نہ سنے۔ جنات نے اس کا انکار کیا اب ان میں سے جس نے سننے کی کوشش کی اسے دور بھگا دیا گیا۔
37۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان سے باتیں سن لیتے تھے۔ جب آپ کی تشریف آوری ہوئی تو پہرہ لگادیا گیا۔ جس سے وہ آسمان کی باتیں نہ سن سکے وہی اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو کہنے لگے انہوں نے کچھ نہیں سنا۔ اور کہنے لگے آیت وانا لمسنا السماء فوجدناہا ملئت حرسا شدید ہم نے آسمان کو ٹٹوالا تو ہم نے اسے سخت پہرہ داروں سے بھرا ہوا پایا اور وہ پہرے دار فرشتے ہیں وشہبا۔ اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔ اور وہ ستارے ہیں آیت واناکنا نقعد منہا مقاعدہ للسمع فمن یستمع الان یجد لہ شہابا رصدا اور ہم ان کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے پس جو کوئی اب کان دھرتا ہے تو وہ اپنے لیے ایک انگاہ تاک لگائے ہوئے پاتا ہے یعنی شہاب ایک ستارہ ہے جو اوپر والے جن کے لیے روکا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسے بھگا دیا جائے گا۔ پھر فرمایا جب ان پر ستارے پھینکے گئے تو انہوں نے اپنی قوم سے آیت وانا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض ام اراد بہم ربہم رشدا ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ نقصان کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کی نسبت ان کے رب نے راہ راست پر لانے کا ارادہ کیا ہے۔
18۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یجد لہ شہابا رصدا کہ وہ اپنے لیے ایک انگارہ پاتا ہے۔ رصدا تاک لگائے ہوئے۔ یعنی فرشتوں میں سے۔ اور آیت انا لاندری اشر ارید بمن فی الارض۔ سے مراد ہے کہ انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے کہ اس نبی ﷺ کو نہیں بھیجا گیا مگر اس لیے کہ وہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ اور اس کی تابعداری کریں تو وہ ہدایت پاجائیں اور اگر وہ لوگ اس کا انکار کریں گے اور اس کو جھٹلائیں گے تو ہلاک ہوں گے جیسے ان سے پہلے بھی بعض امتیں ہلاک ہوئی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 72:111۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانا منا الصلحون ومنا دون ذلک اور کچھ تو ہم میں سے نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے۔ یعنی ہم میں سے مسلمان بھی ہیں اور ہم میں سے مشرک بھی ہیں۔ آیت کنا طرائق قددا اور ہم بھی مختلف طریقوں پر تھے۔ یعنی مختلف خواہشات پر۔
2۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافعبن ارزق (رح) نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت طرائق قددا کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے اعتبار سے کاٹا ہوا۔ پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے
ولقد قلت وزید حاسر یوم ولت خیل زید قددا
ترجمہ : اور تحقیق میں نے کہا اور زید اس دن خوب تھکا ہوا تھا جس دن زید کا گھوڑا کٹ کر بھاگ گیا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کنا طرائق قددا سے مراد ہے مختلف خواہشات
4۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت کنا طرائق قددا سے مراد ہے کہ جنات تمہاری طرح ہیں۔ ان میں بھی قدریہ مرجۂ روافضہ اور شیعہ ہیں۔
5۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت کنا طرائق قددا سے مراد ہے کہ جنات تمہاری طرح ہیں ان میں بھی قدریہ مرجۂ روافضہ اور شیعہ ہیں۔
Ayah 72:126۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض۔ اور بیشک ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم اللہ کو زمین میں کبھی عاجز نہ کرسکتیں گے۔ یعنی انہوں نے کہا ہم ہرگز زمین میں اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور نہ اس سے بھاگ سکیں گے۔
Ayah 72:137۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا یخاف بخسا ولا رہقا۔ تو نہ اسے نقصان کا ڈر ہے اور نہ ظلم کا۔ یعنی اسے اپنی نیکیوں میں کمی اور نقصان کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ آیت ولا رھقا اور نہ کوئی ظلم کا خوف ہے یعنی اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ اس پر کسی غیر کے گناہ ڈال دئیے جائیں۔
Ayahs 72:14–158۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ نے روایت کیا کہ ومنا القسطون یعنی حق سے ہٹے ہوئے۔
9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومنا القسطون سے مراد ہے ظلم کرنے والے۔
10۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومنا القسطون سے مراد ہے ظلم کرنے والے اور اللہ کا قول ہے آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ لا سقنہم ماء غدقا۔ اور اگر وہ مکہ والے سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو بافراط پانی سے سیراب کرتے یعنی اگر سب ایمان لے آتے۔ لاسقینہم ہم ان کو سیراب کرتے یعنی ہم ان کے لیے دنیا میں وسعت کردیتے۔
Ayah 72:1611۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وان لو استقاموا علی الطریقۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر وہ ان کو قائم کریں جو ان کو حکم دیا گیا آیت لاسقینہم ماء غدقا تو ہم ان کو چشموں سے پلاتے۔
12۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ لاسقینہم الا یۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہیں جس چیز کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ان کے مالوں میں کثرت پیدا فرمادیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان کی وجہ سے غنی ہوجائیں گے پھر حسن (رح) فرماتے تھے۔ اللہ کی قسم کہ محمد ﷺ کے اصحاب اس طرح تھے کہ وہ اللہ کا حکم سنتے تھے اور اس کی اطاعت کرتے تھے تو ان پر کسری اور قیصر کے خزانے کھول دئیے گئے۔ اور اس کے ذریعہ وہ آزمائے گئے۔ پس وہ اپنے امام کے ہمراہ حملہ آور ہوئے اور اس کو یعنی دشمن کو قتل کردیا۔
13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان لواستقاموا علی الطریقۃ سے مراد ہے طریقہ اسلام آیت لاسقینہم ماء غدقا تو ہم ان کو کثیر مال عطا فرماتے۔
14۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ماء غدقا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے وافر جاری پانی پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا
تدنی کر ادیس ملتفا حدائقہا کالنبت جادت بہ انہا رہا غدقا
ترجمہ : گھوڑے کے دستے قریب ہو رہے ہیں اس حال میں کہ ان کے باغات سبزیوں کی طرح گھنے اور جڑے ہوئے ہیں ان کی نہریں وافر پانی کے سبب بہت عمدہ ہیں۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سری (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے آیت وان لواستقامو علی الطریقۃ لاسقینہم ماء غدقا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مر اد ہے کہ ہم ان کو کثیر مال عطا فرمائیں گے۔
16۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاسقینہم ماء غدقا سے مراد ہے کثیر اور الماء سے مراد ہے مال۔
17۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ ماء غدقا سے مراد ہے آسودہ زندگی۔
Ayah 72:1718۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لنفتنہم فیہ تاکہ اس میں ہم ان کا امتحان کری یعنی ہم ان کو اس کے ذریعہ آزمائیں اور اللہ تعلایٰ نے فرمایا آیت ومن یعرض عن ذکر ربہ یسل کہ عذاب صعدا۔ اور جس نے اپنے رب کی یاد سے منہ موڑا تو وہ اسے سخت عذاب میں ڈالے گا۔ یعنی سخت ہوگا عذاب اور وہ اس میں اوپر چڑھتا جائے گا۔
19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لنفتنہم فیہ تاکہ ہم ان کو آزمائیں یہاں تک کہ وہ اس کی طرف لوٹ آئیں جو کچھ ان پر فرض کیا گیا اور فرمایا آیت عذابا صعدا۔ یعنی عذاب کی مشقت اور سختی۔
20۔ ہناد وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم لوصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یسل کہ عذابا صعدا تو اسے سخت عذاب میں ڈالے گا۔ صعد جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔
21۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت عذابا صعدا سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دئیے جانے والے عذاب میں اتنی شدت اور سختی ہوگی کہ اس میں کوئی راحت نہ ہوگی۔
22۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عذابا صعدا سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کہ عذاب کی ایسی چڑھائی ہے جس میں کوئی راحت اور سکون نہیں ہوگا۔
23۔ ہنادنے مجاہد و عکرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ عذابا صعدا سے مراد ہے مشقت والا عذاب
24۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا یسل کہ یاء کے ساتھ
Ayah 72:1825۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان المسجد للہ اور بلاشبہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں سے مراد ہے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی زمین پر سوائے مسجد حرام اور مسجد ایلیا یعنی بیت المقدس کے اور کوئی مسجد نہ تھی۔
26۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جنات نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کو اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ نمازوں میں آپ کی مسجد میں حاضر ہوا کریں تو اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی آیت وا المسجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا اور بیشک مسجدیں اللہ کے لیے ہیں بس تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ یعنی نماز پڑھو اور لوگوں کے ساتھ اختلاط نہ رکھو۔
27۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جنات نے نبی ﷺ سے کہا ہمارے لیے کیسے ممکن ہے کہ ہم مسجد میں آئیں اور ہم آپ سے بہت دور ہیں یا یوں فرمایا ہم کس طرح نماز میں حاضر ہوسکتے ہیں حالانکہ ہم آپ سے بہت دور ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی آیت وان المسجد للہ۔ الایۃ۔
عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہونا لازم ہے۔
28۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت وان المساجد للہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہود و نصاری جب اپنے عبادت گھروں میں داخل ہوئے تو اپنے رب کے ساتھ شریک کرتے تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کی وحدانیت بیان کیا کریں۔
29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔ سے مراد ہے کہ یہود اور نصاریٰ جب اپنی عبادت گاہوں اور گرجاگھروں میں داخل ہوتے تو اللہ کے ساتھ شرک کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم فرمایا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوں تو عبادت خالص اللہ کے لیے کرو۔
Ayah 72:191۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہ ﷺ مکہ کے اطراف کی طرف ہمارے ساتھ تشریف لے گئے اور میرے ارد گرد ایک خط کھینچ دیا اور فرمایا تو کسی قسم کی بات نہ کرنا یہاں تک کہ میں تیرے پاس آجاؤں پھر فرمایا ہرگز کوئی چیز تجھ کو خوف زدہ نہ کرے جس کو تو دیکھے پھر آپ کچھ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے۔ وہاں کالے رنگ کے آدمی تھے گویا کہ وہ زط قبیلہ کے لوگ ہیں اور وہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کادوا یکونون علیہ لبدا۔ وہ لوگ ان پر جھمگٹا کر رہے تھے۔
2۔ ابن جریر وابن امردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کا دو یکونون علیہ لبدا۔ اور جب اللہ کا بندہ نبی اس کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر جھمگٹا کرنے لگتے ہیں یعنی جب ان لوگوں نے نبی ﷺ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا قریب تھا کہ وہ لوگ حرص کی وجہ سے آپ پر سوار ہوجاتے۔ جب انہوں نے آپ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اور وہ آپ سے بالکل قریب ہوجاتے لیکن آپ نہ جانتے یہاں تک کہ آپ کے پاس ایک قاصد یعنی جبرئیل (علیہ السلام) آیا اور اس نے آپ کو پڑھ کر سنایا آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن۔ کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن مجھ سے قرآن پڑھتے سن گئے تھے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے زبیر بن عوام ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ
4۔ عبد بن حمید والترمذی والحاکم وصححہ وابن جریر وابن مردویہ اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوا کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس جن آئے تو آپ اپنے اصحاب ؓ کو نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ آپ کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے تھے اور آپ کے سجدوں کے ساتھ سجدے کرتے تھے۔ تو انہوں نے آپ کے صحابہ کرام ؓ کو آپ کی اطاعت کو دیکھ کر تعجب کیا۔ اور اپنی قوم سے کہا آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا۔
5۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں یدعوہ سے مراد ہے یدعوا الیہ یعنی جب اللہ کا خاص بندہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ اس کی طرف دعوت دے۔
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کدوا یکونون علیہ لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں یدعوہ سے مراد ہے یدعو الیہ یعنی جب اللہ کا خاص بندہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ اس کی طرف دعوت دے
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ کے نبی کھڑے ہوئے۔ تو انسان اور جن اس کام پر کھڑے ہوگئے تاکہ وہ اسے یعنی اللہ کے دین کو بجھا دیں مگر اللہ تعالیٰ نے انکار کیا۔ اور ان کی مدد فرمائے گا اور ان پر غالب کرے گا جو بھی آپ سے دشمنی رکھے گا۔
7۔ عبد بن حمد حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے فرما رہے تھے۔ لا الہ الا اللہ اور لوگوں کو ان کے رب کی طرف بلا رہے تھے قریب تھا کہ عرب کے لوگ آپ پر اکٹھے ہو کر ہجوم کرلیں۔
8۔۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کا دو ایکونون علیہ لبدا یعنی وہ لوگ اپنے ساتھیوں اور مددگاروں سمیت آپ پر آجاتے ہیں۔
9 عبد بن حمید نے ابوبکر کے طریق سے ابو عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں اس طرح پڑھا آیت یکونون علیہ لبدا۔ لام کے کسرہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ اور سورة البلد آیت لا اقسم بہذا البلد اور مالا لبدا۔ میں لام کے رفع اور باء کے نصب کے ساتھ پڑھا اور ابوبکر ؓ نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا آیت لبدا کے دو معنی مراد ہیں لبدا یعنی کثیر اور زیادہ ہونا اور لبدا کا معنی ہے بعض کا بعض پر ہونا یعنی تہہ بہ تہہ ہونا۔
Ayahs 72:20–2110۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت قل انما ادعو ربی بغیر الف کے۔
11۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اشراف جنات میں سے ایک پیروی اتباع کرنے والے جن نے کہا محمد ﷺ ارادہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کو پناہ دیں اور میں ان کو پناہ دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت قل انی لن یجیرنی من اللہ احد۔ کہہ دو کہ مجھے اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔
Ayahs 72:22–2512۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی رات میں نبی ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ جحون میں تشریف لائے آپ نے مجھ پر ایک خط کھینچ کر حصار کردیا۔ پھر ان کی طرف آگے بڑھ گئے۔ وہ ہجوم کر کے آپ پر آگئے۔ ان کے سردار نے کہا جس کو دردان کہا جاتا تھا۔ یا رسول اللہ ! کیا میں ان کو آپ سے دور نہ ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انی لن یجیرنی من اللہ احد کہہ دو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
13۔۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولن اجد من دونہ ملتحدا اور نہ مجھ اس کے سوا پناہ ملے گی۔ یعنی پناہ کی جگہ۔
14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ولن اجد من دونہ ملتحدا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ میں اللہ کے سوا کوئی پناہ اور مددگار نہیں پاسکتا۔ پھر فرمایا یہ وہ ہے جو مالک ہے اللہ کا پیغام اور اس کا حکم پہنچانے کا اور فرمایا آیت علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول۔ وہ غیب کا جاننے وال ہے اپنے غیب باتوں پر کسی کو واقف نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسول کو۔ فرمایا کہ وہ کسی رسول کو پسند فرمائے تو اس کو چن لیتا ہے اور اس کو بتادیتا ہے جو چاہتا ہے اپنی غیب کی باتوں سے اور اسے منتخب فرمالیتا ہے۔
Ayah 72:2615۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا یظہر عیل غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول اپنے غیب کی باتوں پر کس کو واقف نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسول کو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو علم عطا فرمایا وحی کے غیب میں سے اور ان پر ظاہر فرمایا اپنے غیب میں سے ان چیزوں کے بارے میں جو ان کی طرف وحی کی گئی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتے ہیں اسکے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔
Ayahs 72:27–2816۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفی رصدا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسول کو پھر اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر کردیتا ہے۔ سے مراد ہے باری باری شب وروز آنے والے فرشتے جو شیطان سے ان کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے بیان کرے جس پیغام کے ساتھ اسے ان کی طرف بھیجا گیا۔ اسی کے بارے میں شرک کرنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے یعنی رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے۔
17۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول میں رسول سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ پر قرآن میں سے کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگر اس کے ساتھ چار فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو نبی مکرم ﷺ تک پہنچادیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت علم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا۔ یعنی اس کے آگے پیچھے چار فرشتے ہوتے ہیں تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے ہیں۔
19۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول سے مراد ہے کہ نبی ﷺ اس سے پہلے کہ شیطان کو اپنی خواہشات میں ڈالے جانے سے پہلے وہ فرشتے آپ ﷺ کے قریب رہا کرتے تھے پھر جب شیطان کو اس کی اپنی خواہشات میں ڈال دیا گیا۔ تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ آپ سے تھوڑا سا دور ہٹ جائیں تاکہ آپ جان لیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ چار محافظ فرشتے
20۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر (رح) سے آیت فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا کے بارے میں روایت کیا کہ چار محافظ فرشتے جبریل کے ساتھ ہوتے ہیں تاکہ محمد ﷺ جان لیں آیت ان قد ابلغوا رسٰلت ربہم کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں۔ فرمایا جبریل (علیہ السلام) نہیں آتے مگر ان کے ساتھ چار حفاظت کرنے والے فرشتے ہوتے ہیں۔
21۔ ابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ یہ فرشتے ہیں جو آپ کی جنات سے حفاظت کرتے ہیں
22۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ضحاک بن مزاحم (رح) سے آیت الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا کے بارے میں روایت کیا کہ جب نبی ﷺ کی طرف کوئی فرشتہ وحی کے ساتھ بھیجا جاتا تو اس کے ساتھ فرشتوں کی ایک جماعت بھیجی جاتی جو اس کے آگے سے اور وہ فرشتے اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے تھے تاکہ شیطان کسی فرشتے کی صورت میں آکر معاملہ مشتبہ نہ کردے۔
23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الا من ارتضی من رسول کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو پسند فرماتے ہیں تو غیب میں جو چاہتے ہیں اس پر ظاہر فرمادیتے ہیں آیت فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا پھر آگے پیچھے فرشتوں میں سے محافظ مقرر کردیتے ہیں یعنی فرشتوں میں سے آیت لیعلم ان قد ابلغوا رسلت ربہم تاکہ وہ بظاہر جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے ہیں۔ یعنی تاکہ اللہ کی نبی ﷺ جان لیں کہ رسولوں نے اللہ کی طرف سے پیغامات پہنچادئیے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی اور ان کا دفاع کیا۔
24۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیعلم سے مراد ہے تاکہ وہ اس طرح رسولوں کے کذب کو جان لے آیت ان قد ابلغوا رسٰلت ربہم (کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے ) ۔