Explained with ayahs 18–24
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 20
اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…
Read the full tafseer →سب سے زیادہ مانوس چیز اجنبی بن کر رہ گئی ہے:
یعنی ہونا تو یہ تھا کہ بیت اللہ میں غیر اللہ کا نام بھی سنا نہ جا سکتا لیکن اس کے بالکل برعکس صورت حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ صرف اپنے رب ہی کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں۔
’لِبَدٌ‘ جمع ہے ’لِبْدَۃٌ‘ کی، جس کے معنی کسی تہ بہ تہ اور گتھم گتھا شے کے ہیں۔ یہ تصویر ہے اس بات کی کہ جو گھر خالص اللہ واحد کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا اب اس میں بھی توحید ایک ایسی نامانوس چیز بن کے رہ گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور توحید خالص کی تعلیم پر مشتمل سورتوں کی تلاوت کرتا ہے تو لوگ اس کو ایک…
Read the full tafseer →19۔ 1 عَبْدُاللّٰہِ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور مطلب ہے کہ انس و جن مل کر چاہتے ہیں کہ اللہ کے اس نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، لیکن امام ابن کثیر نے اسے رجوع کرنا قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
11 اللہ کے بندے سے یہاں مراد حضور اقدس اللہ ﷺ ہیں، اور ٹوٹے پڑنے کا مطلب ایک تو یہ ممکن ہے کافر لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو کر ایسا انداز اختیار کرتے تھے جیسے وہ آپ پر حملہ کردیں، اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ عبادت کے دوران قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو قرآن سننے کے لئے آپ کے گرد جنات کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے۔
Read the full tafseer →وانہ ........................ لبدا
” یعنی سب جمع ہوکر اور جتھا بنا کر اس وقت اس پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار ہوگئے جب وہ اللہ کو پکارنے کے لئے یعنی اللہ کے سامنے نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا۔ نماز یعنی صلوة کے معنی دعا کے ہیں۔ صلوة کے اصلی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اگر یہ آیت جنوں کا قول ہو تو اللہ کی جانب سے ان کی بات کی حکایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور تلاوت کرتے تو مشرکین مکہ آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے جیسا کہ سورة المعارج میں ہے۔
فمال .................... عزین (73) (07 : 63۔ 73) ” پس اے نبی کیا بات ہے ، کہ یہ منکر دائیں اور بائیں سے گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں “۔…
Read the full tafseer →7 یعنی بندہ کامل محمد رسول اللہ ﷺ ۔
8 یعنی آپ جب کھڑے ہو کر قرآن پڑھتے ہیں تو لوگ ٹھٹھ کے ٹھٹھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ مومنین تو شوق ورغبت سے قرآن سننے کی خاطر اور کفار عداوت وعناد سے آپ پر ہجوم کرنے کے لیے۔
Read the full tafseer →آیت 19{ وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ } ”اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے“
{ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔ } ”تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔“
اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین یہ کلام سننے کے لیے آپ ﷺ کے گرد بڑے تجسس سے جمع ہوجاتے تھے ‘ لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین آپ ﷺ کو نماز میں کھڑا دیکھتے تو ان کے عناد کی آگ بھڑکنے لگتی اور ان کا جی چاہتا کہ آپ ﷺ پر ہلہ ّبول دیں اور اس شمع ہدایت…
Read the full tafseer →17 کافروں کے قرآن سننے کی وجوہ :۔ یعنی جب بھی آپ ﷺ لوگوں کو قرآن سنانے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو مسلمان بھی آپ کی طرف دوڑے آتے ہیں اور کافر بھی۔ اگرچہ دونوں کے آنے اور ہجوم کرنے کا مقصد الگ الگ اور ایک دوسرے کے برعکس ہوتا ہے۔ مسلمان ہدایت کے طالب ہیں اس لیے وہ فوراً آپ ﷺ کی طرف چل پڑتے ہیں اور کافر یہ چاہتے ہیں کہ وہاں شور شرابا کرکے قرآن کی آواز لوگوں کے کانوں میں نہ پڑنے دیں یا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر نظریں جما کر اور آپ ﷺ کو گھور گھار کر اتنا مرعوب کردیں کہ آپ ﷺ قرآن سنانا بند کردیں یا پھر اس لیے سننے آجاتے ہیں کہ کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے جس سے آپ ﷺ کو جھوٹا کیا جاسکے یا مذاق اڑایا…
Read the full tafseer →13۔ بیان مشرکین مکہ کی شدت عداوت ونفرت کا ہورہا ہے۔ ہجرت مدینہ سے قبل اپنے قیام مکہ کے زمانہ میں جب آپ ﷺ مشرکین قریش کی طرف سے مایوس ہو کر رؤساء مکہ کی تفریح گاہ شہر طائف کو تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے ہیں تو وہاں کے لوگ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ بڑی ہی بدتمیزی سے پیش آئے۔ یہاں اشارہ اسی طرف ہے۔ (آیت) ” عبداللہ “۔ یعنی اللہ کا خاص الخاص بندہ ” عبدکامل “۔ مراد ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وانہ لما قام عبد اللہ . یعنی رسول اللہ ﷺ بجائے رسول یا نبی کے عبداللہ کہنے کی وجہ اس جگہ محض تواضع ہے کیونکہ یہ کلام
(اگرچہ خدا کا ہے مگر) ایسے موقع پر واقع ہے کہ گویا رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے متعلق فرمایا ‘ پھر لفظ عبداللہ میں قیام (نماز) کی وجہ بھی دردپردہ بتادی گئی (کہ عبدیت کا تقاضا نماز ہے ‘ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہونے کی وجہ ہی عبدیت ہے) حضرت مجدد قدس سرہٗ نے فرمایا : عبدیت کمال (بشری) کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
یدعوہ . دعا سے مراد ہے عبادت۔
کادوا یکون علیہ لبدا . ہشام کی قراءت میں لُبَد اور باقی قاریوں کے نزدیک لِبَد مروی ہے ‘ بہرحال یہ
لِبْدَۃٌ کی جمع ہے۔ لَبْد کا اصل معنی ہے ایسی جماعتیں…
Read the full tafseer →اور جب محمد بطن نخلہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو یہ تمام جن جس وقت رسول اکرم سے قرآن کریم سنتے ہیں تو آپ کی اور قرآن کریم کی محبت کی وجہ سے آپ کے دائیں بائیں جمع ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(وانہ لما قام عبداللہ…:) مشرکین نہ صرف یہ کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ ان کے لئے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اس قدر باعث تعجب اور تکلیف دہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے یا توحید کی دعوت کے لئے کھڑے ہوتے اور صرف ایک اللہ ہی کو پکارتے تو مشرکین اظہار تعجب کے لئے اور آپ کو پریشان کرنے کیلے گروہ در گروہ آپ کے اردگرد جمع ہوجاتے۔
Read the full tafseer →وانہ لما قام عبداللہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ رشدا۔
وانہ کے ہمزہ پر فتحہ پڑھنا جائز ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی اور جملہ مستانفہ کے طریقہ پر۔ ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھنا بھی جائز ہے یہاں عبداللہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں جب کہ آپ بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن حکیم پڑھ رہے تھے جیسے سورت کے آغاز میں گزرچکا ہے۔ یدعوہ یعنی اس کی عبادت کرتے ہوئے ابن جریج نے کہا، یدعوہ کا معنی ہے اللہ کا بندہ انہیں اللہ تعالیٰ کی دعوت دینے کے لیے کھڑا ہوا۔
کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کی تعبیر کرتے ہوئے حضرت زبیر بن عوام نے کہا، اس سے مراد جن ہیں جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے قرآن سنا، یعنی وہ بھیڑ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر…
Read the full tafseer →1۔ ابو نعیم نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہ ﷺ مکہ کے اطراف کی طرف ہمارے ساتھ تشریف لے گئے اور میرے ارد گرد ایک خط کھینچ دیا اور فرمایا تو کسی قسم کی بات نہ کرنا یہاں تک کہ میں تیرے پاس آجاؤں پھر فرمایا ہرگز کوئی چیز تجھ کو خوف زدہ نہ کرے جس کو تو دیکھے پھر آپ کچھ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے۔ وہاں کالے رنگ کے آدمی تھے گویا کہ وہ زط قبیلہ کے لوگ ہیں اور وہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت کادوا یکونون علیہ لبدا۔ وہ لوگ ان پر جھمگٹا کر رہے تھے۔
2۔ ابن جریر وابن امردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ لما قام عبداللہ یدعوہ کا دو یکونون علیہ لبدا۔ اور جب…
Read the full tafseer →[وَّانهٗ : اور حقیقت یہ ہے کہ ] [لَمَا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ : جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ ] [يَدْعُوْهُ : اس کو پکارتے ہوئے ] [كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ : لگتے تھے کہ وہ (جن) ہوجائیں گے ] [عَلَيْهِ : اس (بندے ﷺ ) پر ] [لِبَدًا : گھیرا ڈالنے والے گروہ در گروہ ]
ل ب د
[لُبُوْدًا : (ن) ] گھیرنا۔ چمٹنا۔ گتھ جانا۔
لِبْدَۃٌ ج۔ لِبْدٌ۔ تہہ بہ تہہ جمی ہوئی اون۔ لوگوں کا جوق در جوق جمع ہونے والا گروہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19 ۔
لُبْدَۃٌ ج لُبَدٌ۔ شیر کی گردن کے بال جو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر کسی چیز کی بہتات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یَقُوْلُ اَھْلَکْتُ مَالًا لُّبَدًا (وہ کہتا ہے میں نے ہلاک کیا یعنی خرچ کیا…
Read the full tafseer →﴿ وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا 2ؕ (رح) 0019﴾ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ بھی اَنَّهُ اسْتَمَعَ پر معطوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ میری طرف یہ بھی وحی آئی ہے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کی عبادت کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ جنات ان کے پاس جمگٹھے لگا کر جمع ہوگئے۔ یعنی انہوں نے جو آپ کی عبادت کا مشاہدہ کیا اور آپ کی قرات سنی اور آپ کی اقتداء میں جو آپ کے اصحاب کا رکوع سجود دیکھا تو جماعتیں بن کر کھڑے ہوگئے کیونکہ یہ منظر انہوں نے کبھی دیکھا نہ تھا۔
حضرت حسن اور حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ ﴿ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ ﴾ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →13:۔ ” وانہ لما قام “ عبدا اللہ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں جب آپ توحید کی دعوت دیتے اور تبلیغ کرتے ہیں تو مشکین مخالفت کے لیے آپ پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ تفسیر حسن، قتادہ اور ابن زید رحمہم اللہ سے منقول ہے۔ ومعناہ علی ما قال الحسن وقتادۃ وابن زید انہ لما قام عبداللہ بالدعوۃ الی التوحید کاد الجن والانس یکونون مجتمعین لابطال امرہ (مظہری ج 10 ص 93) ۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ صرف اللہ ہی کو پکارتا ہے اور اس کی عبادت بجا لاتا ہے تو لوگ کمال ذکر و عبادت کی وجہ سے اس بندہ خدا کو کارخانۃٔ خدائی میں دخیل سمجھنے لگتے ہیں اور اپنی حاجات کے لیے اس پر ہجوم کر آتے ہیں۔ کوئی اس سے بیٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…
Read the full tafseer →وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُاللہِ يَدْعُوْہُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْہِ لِبَدًا 19 ۭۧ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : وان لو استقا مواقرء الجمہور بکسر الوائومن لولا لتقاء الساکنین وقریٔ تشبیھنا بوا والضمیر۔ وھذا معطوف علی جملۃ انہ استمع فیکون من جملۃ الموحی الیہ ولیس من قول الجن والتقدیر اوحی الی انہ استمع وان لواستقاموا فیکون ھذا ھوا النوع الثانی مما اوحی الیہ وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہ ضمیر الشان محذوف ای انہ والشرط والجزاء الجملۃ خبر ان یسل کہ مجزوم علی انہ جواب الشرط ای من یعرض یسل کہ ای یدخلہ یقال سل کہ واسلکہ وقیل الجار محذوف ای فی عذاب۔ والصعد مصدر یقال صعداد صعود اوصف بہ العذاب لانہ یصعد طاقۃ المعذب ای یعلوہ ویغلبہ و ان المساجد معطوف علی ان لو استقاموا من جملۃ الموحی الیہ وھو النوع الثالث…
Read the full tafseer →وَّاَنَّـہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُاللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔ (الجن : 19)
(اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگوں کا اس پر ٹھٹھ بندھنے لگتا ہے۔ )
لِبَدًا … جمع ہے لِبْدَۃٌ کی۔ جس کے معنی کسی تہ بہ تہ اور گتھم گتھا شے کے ہیں۔ اس لیے ہم نے ترجمے میں ٹھٹھ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ ٹھٹھ انسانوں کے اس ہجوم کو کہتے ہیں جب آدمی آدمی پر گرا پڑ رہا ہو۔
برعکس صورتحال
ابھی ہم نے مساجد کے بارے میں پڑھا ہے کہ ان کی تعمیر ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہوتی ہے، وہاں کسی اور کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارنا اور اس کا شریک بنانا بہت بڑا جرم ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔
اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…
Read the full tafseer →19 : وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ (اور جب اللہ تعالیٰ کا خاص بندہ کھڑا ہوتا ہے) عبدا للہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں قامؔ نماز کیلئے کھڑا ہونا۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے فاوحی الیّ لما قال عبد اللہ۔
یَدْ عُوْہُ (اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کیلئے) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں۔ آیت میں نبی اللہ یا رسول اللہ کی بجائے عبداللہ فرمایا۔ کیونکہ یہ نام رسول اللہ ﷺ کو انتہائی محبوب تھا۔ اور جب یہ آپ کے اپنے کلام میں اپنی ذات کی تعبیر کیلئے آئے تو انتہائی تواضع پر دلالت کرتا ہے۔ نمبر 2۔ پہلے ہی جو عبداللہ ہو اس کی عبادت کوئی بعید اور اوپری شئی نہیں یہاں تک کہ یہ ان کے گرد گروہ درگروہ…
Read the full tafseer →18 ۔” وان المساجد للہ “ یعنی وہ جگہیں جو نماز اور ذکر اللہ کے لئے بنائی گئی ہیں۔ ” فلا تدعوا مع اللہ احدا “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہودونصاریٰ جب اپنے گرجوں اور عبادت خانوں میں داخل ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے تو اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا کہ جب وہ مسجدوں میں داخل ہوں تو اللہ تعالیٰ کے لئے دعوت کو خالص کریں اور مراد تمام مساجد ہیں۔
وان المسجد للہ کی تفسیر
حسن (رح) فرماتے ہیں اس نے تمام جگہیں مراد لی ہیں اس لئے کہ ساری زمین نبی کریم ﷺ کے لئے مسجد بنائی گئی ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں جنوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا ہمارے لئے کیسے ہوگا اگر ہم آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نماز میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…
Read the full tafseer →(وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ ) یعنی جب اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے تو قریب ہے کہ جنات اپنی کثرت کے باعث (علیہ لبدا) اور جو ہدایت آپ لے کر آئے ہیں، اس میں حرص کی بنا پر آپ پر ہجوم کریں۔
Read the full tafseer →20 ۔ پیغمبر کمال عبدیت کے کامل نمونے ۔ (علیہ السلام) : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ جب کھڑا ہوتا اللہ کا بندہ خاص اسی کو پکارتا ہوا تو یہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ عبداللہ سے یہاں پر مراد اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جو کہ کمال عبدیت کے ایسے عمدہ کامل اور بےمثل و اعلیٰ نمونے تھے کہ اس کی کوئی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ آج تک کبھی دیکھی اور نہ ہی آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی، کہ وہ خداوند قدوس کی ساری خدائی اور پوری مخلوق میں اپنی مثال آپ ﷺ ہی تھے، اسی لئے ہم نے ترجمہ میں اس اضافت تشریفی کے مفہم کو ظاہر و واضح کرنے کے لئے عبد اللہ کا ترجمہ " اللہ کا بندہ خاص " کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
نبی کے لیے اللہ کا حکم
تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی قرآن سننے کے شوق میں ایک دوسرے کو ہٹا کر آپ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونا چاہتے تھے۔ یہ واقعہ وادی بطن نخلہ میں پیش آیا جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ (فتح القدیر) آیت کا دوسرا مطلب جسے امام ابن جریر نے اختیار کیا ہے، یہ ہے کہ جبی نبی ﷺ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کا آغاز فرمایا تو مشرکین عرب مخالفت کے لئے آپ پر ٹوٹ پڑے یعنی آپ کے در پے آزار ہوگئے۔ “ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ” اگلی آیت کو دیکھا جائے تو یہی (دوسرا) مطلب اظہر (زیادہ واضح) قرار پاتا ہے۔
Read the full tafseer →(72:19) وانہ لما قام عبد اللہ یدعوہ۔ اس کا عطف بھی جملہ ان لو استقاموا پر ہے یعنی اور مجھے یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پا کرنے کھڑا ہوتا ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان واسم ان باقی جملہ اس کی خبر۔
لما ظرف زمان۔ جب۔ عبد اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا بندہ۔ یعنی نبی کریم ﷺ ۔
یدعو مضارع واحد مذکر غائب ۔ دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ عبادت کرنا۔ پکارنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ یدعوہ حال ہے قام کے فاعل سے ۔
کادوا یکونوں علیہ لبدا یہ جملہ لما کے جواب میں ہے کادوا ماضی جمع مذکر غائب کود (باب سمع) مصدر۔ راغب اور سیبویہ کے نزدیک (باب سمع و نصر) دونوں سے آتا ہے۔ کاد افعال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
لغات القرآن۔
استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔
تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
(3) جب خدا بندہ کامل محمدرسول اللہ ﷺ خدا کی عبادت کو اس کی یاد کو کھڑے ہوتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں تو ٹھٹھہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں ، یعنی جب حضور بطن نخلہ میں قران پڑھ رہے تھے تو جن آئے اور حضرت کو دیکھ کر اور اپنے مقصود کو پاکر محبت سے تعجب سے قرآن سننے کو، رسول اللہ کا جمال پاک دیکھنے کو جمگھٹ کرکے حضرت کے اوپر جھکے پڑتے ہیں گویا حضرت پر فرط شوق میں گرپڑیں گے۔
Read the full tafseer →[3] مراد ہیں نبی ﷺ ۔
[4] یعنی ہونا تو یہ تھا کہ بیت اللہ میں غیر اللہ کا نام بھی نہ سنا جاسکتا لیکن اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ صرف اپنے رب ہی کی عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔
Read the full tafseer →ف 3: حضور ﷺ کو عبداللہ کے لفظ سے تعبیر کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ کو جو ادا سب سے زیادہ پسند ہے ۔ اور یہ کہ پیغمبر باوجود مراتب علیاء کے دائرہ بندگی سے باہر نہیں ہوتا ۔
Read the full tafseer →(19) یہ مضمون بھی وحی کا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کھڑا ہوتا ہے تو اس پر لوگ ہجوم اور اژدحام کرکے ٹوٹے پڑتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان سے مراد وہی جنات کی جماعت ہو جو نصیبین سے یمن جارہے تھے اور بطن نخلہ میں حضور ﷺ کا قرآن سن کر اتر پڑے تھے اور آپ کے قریب اس قدر ہوئے کہ آپ پر جھک پڑے وہی جماعت مراد ہو یا کفار مکہ کی طرف اشارہ کر جب حضور ﷺ نماز میں قرآن پڑھتے ہیں تو یہ بتوں کی حمایت میں آپ ﷺ پر بھیڑ لگا کر ٹھٹھہ کے ٹھٹھہ جمع ہوجاتے ہیں اور تعجب و عداوت سے آپ جانب اس طرح دیکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے پر ٹوٹ پڑں گے اور حملہ کردیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کادوا سے مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 1۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ کوئی سجدہ اللہ کو کیا جاوے اور کوئی سجدہ غیر اللہ کو جیسا مشرکین کرتے تھے۔
Read the full tafseer →جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں
19 ؎ ( لبدا) جمع ہے لبدۃ واحد ہے ٹھٹ کے ٹھٹ ، ہجوم ، بھیڑ ، جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ ہے۔ آیت کے تین مفہوم بیان کیے گئے ہیں کیونکہ کا دوا کی ضمیر تین طرف لوٹائی گئی ہیں : (1) جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو لوگ گروہ در گروہ یا جماعت در جماعت آپ ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں تاکہ وہ بھی آپ ﷺ کی اتباع کریں۔ (2) جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کریں تو قریب ہے کہ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کی طرف بڑھیں اور آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑیں کہ اس ہدایت کی شمع کو گل کردیں۔ (3) جب آپ ﷺ نخلہ کے مقام پر نماز صبح میں مصروف تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…
Read the full tafseer →19 The commentators generally have taken "mosques" to mean the places of worship. Accordingly, the verse means: "None should he associated in the worship of Allah in the places of worship. Hadrat Hasan Basri says: The entire earth is a place of worship, and the verse means to say: polytheism ought not to be committed anywhere on God's earth," He has reasoned out this meaning from the Holy Prophet's Hadith "For me the entire earth has been made a place of worship and a means of obtaining purity:" Hadrat Sa`id bin Jubair has interpreted masajid to imply the parts of the body on which one…
Read the full tafseer →