Explained with ayahs 18–24
آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
سورة الْجِنّ 21
یعنی خدا کو پکارنا تو کوئی قابل اعتراض کام نہیں ہے جس پر لوگوں کو اس قدر غصہ آئے، البتہ بری بات اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص خدا کے ساتھ کسی اور کو خدائی میں شریک ٹھہرائے، اور یہ کام میں نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جو خدا کا نام سن کر مجھ پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…
Read the full tafseer →پیغمبر صلعم کی طرف سے فیصلہ کن اعلان:
یہ آنحضرت ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ خواہ یہ لوگ کتنے ہی کان کھڑے کریں اور کتنا ہی برا مانیں لیکن تم ان کی مطلق پروا نہ کرو بلکہ ان کو صاف صاف سنا دو کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، کسی کو بھی اس کا ساجھی نہیں ٹھہراؤں گا، خواہ تم نے ان کو کتنا ہی بڑا خدا کا شریک کیوں نہ سمجھ رکھا ہو۔
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی جب سب آپ کی عداوت پر اتر آئے ہیں تو آپ کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی سے پناہ طلب کرتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
11 اللہ کے بندے سے یہاں مراد حضور اقدس اللہ ﷺ ہیں، اور ٹوٹے پڑنے کا مطلب ایک تو یہ ممکن ہے کافر لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو کر ایسا انداز اختیار کرتے تھے جیسے وہ آپ پر حملہ کردیں، اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ عبادت کے دوران قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو قرآن سننے کے لئے آپ کے گرد جنات کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے۔
Read the full tafseer →قل انما ............................ شیء عددا
اے محمد آپ یہ اعلان کردیں۔
انما .................... احد (27 : 02) ” میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا “۔ یہ اعلان اس وقت آتا ہے جب جنات بھی اپنی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتے ہیں۔
ولن ................ احد (27 : 2) ” اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے “۔ یوں اس اعلان کا بہت اثر ہوگا۔ اور یہ اعلان بیک وقت وقت جن وانس کا اعلان ہوجائے گا۔ اور یہ اعلان دونوں کی شناخت ہوگا۔ اور جو شخص اس اعلان سے برات کرے گا وہ گویا جن وانس دونوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کردے گا۔ وہ دونوں جہانوں اور دونوں آبادیوں سے دور ہوگا۔
قل…
Read the full tafseer →9 یعنی کفار سے کہہ دیجیے کہ تم مخالفت کی راہ سے بھیڑ کیوں کرتے ہو، کون سی بات ایسی ہے جس پر تمہاری خفگی ہے۔ میں کوئی بری اور نامعقول بات تو نہیں کہتا۔ صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کا شریک کسی کو نہیں سمجھتا۔ تو اس میں لڑنے جھگڑنے کی کون سی بات ہے اور اگر تم سب مل کر مجھ پر ہجوم کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو میرا بھروسہ اکیلے اسی خدا پر ہے جو ہر قسم کی شرکت سے پاک اور بےنیاز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت 21{ قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔“
سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ میں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورة القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے : { اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } آیت 56 ”آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں ‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“
Read the full tafseer →18 یعنی آپ ﷺ ان ہجوم کرنے والے کافروں سے کہیے کہ میں کوئی قابل اعتراض باتیں تو نہیں کہہ رہا میں تو صرف یہی کہتا ہوں کہ مشکل کے اوقات میں یا کسی حاجت کے موقع پر صرف اپنے پروردگار کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کو پکارتا ہوں۔ اس لیے کہ میں صرف اسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھتا ہوں اس میں لڑنے جھگڑنے کی کیا بات ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
14۔ پہلی آیت میں توحید کامل اور ہر طرح کے رد شرک کا اثبات ہے۔ اور دوسری آیت کا مضمون یہ ہے کہ کہیں خود مجھی کو مقصود اور پھر اس طرح مسجود و معبود نہ سمجھ لینا۔ میرے اختیار میں تو اتنا بھی نہیں کہ تم پر عذاب لے آؤں، یا ایمان ہی پر تمہیں مجبور کردو۔” یاروں نے بت شکن کو بت ہی بنا کے چھوڑا “۔ کا معاملہ حضرات انبیاء کی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ قرآن مجید اسی فتنہ کے خطرہ سے بار بارتاکید وتصریح رسول اللہ ﷺ کے عبد محض ہونے کی کرتا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →قل انما ادعو ربی ولا اشرک بہ احدا . قُلْ بصیغہ امر ‘ عاصم ‘ حمزہ اور ابو جعفر کی قراءت میں ہے۔ باقی اہل
قراءت نے قال بصیغۂ ماضی پڑھا ہے یعنی اللہ کے بندہ نے کہا : تم میرے کام کو تباہ کرنے کے لیے کیوں جمع ہوئے ہو ‘ میں تو صرف توحید رب کی طرف بلا رہا ہوں یا یہ مطلب ہے کہ جب جنات اس کا کلام سننے کے لیے شوق کے ساتھ جمع ہوئے تو اس نے کہا : میں صرف اپنے رب کو پکار رہا ہوں تم بھی میری دعا کی طرح رب ہی سے دعا کرو اور کسی کو اس کا ساجھی نہ بناؤ۔
مقاتل نے بیان کیا کہ مکہ کے کافروں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا تم نے حرکت بہت بڑی کی ہے ‘ اب اس سے باز آجاؤ تو ہم تم کو اپنی پناہ میں لے لیں گے ‘ اس پر مندرجہ…
Read the full tafseer →آپ فرما دیجیے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور تمام مخلوق کو اسی طرف لاتا ہوں۔
Read the full tafseer →(قل انما ادعواربی…:) یعنی تمہیں جتنا بھی ناگوار ہو اور تم روکنے کے لئے جتنے بھی جمع ہوجاؤ، میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ ندائے غیر اللہ کی حرمت کی آیات کے لئے دیکھیں گزشتہ آیت (18) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →قل انما ادعواربی، رسول اللہ ﷺ نے کہا، میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا اکثر قراء نے یہاں قال کی قرات کی ہے جب کہ حمزہ اور عاصم نے قل امر کا صیغہ پڑھا ہے اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ قریش کے کفار نے آپ کو کہا تم بہت بڑی بات لاتے ہو، ہم نے تمام لوگوں سے دشمنی مول لے لی ہے اس سے باز آجاؤ ہم تمہیں پناہ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
10۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت قل انما ادعو ربی بغیر الف کے۔
11۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اشراف جنات میں سے ایک پیروی اتباع کرنے والے جن نے کہا محمد ﷺ ارادہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کو پناہ دیں اور میں ان کو پناہ دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت قل انی لن یجیرنی من اللہ احد۔ کہہ دو کہ مجھے اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →[قُلْ انمَآ : آپ ﷺ کہہ دیں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اَدْعُوْا رَبِيْ : میں پکارتا ہوں اپنے رب کو ] [وَلَآ اُشْرِكُ بِهٖٓ اَحَدًا : اور میں شریک نہیں کرتا اس کے ساتھ کسی ایک کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
توحید کی دعوت، کفر سے بیزاری، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، نافرمانوں کے لیے دائمی عذاب ہے
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کا اور نافرمانوں کی تعذیب کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت علم کمال اور جامعیت کا بیان ہے پہلے تو یہ فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّيْ ﴾ (الآیات الاربع) کہ آپ مخاطبین سے یہ فرما دیں کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا (جو اپنے لیے میرا ذاتی فیصلہ ہے اور یقین کے ساتھ ہے اسی کی طرف میں تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں) آپ یہ بھی بتادیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس کی مخلوق ہوں، اس کا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔
(ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
14:۔ ” قل انما ادعوا “ یہ سورة ملک اور حوامیم کا خلاصہ ہے۔ آپ اعلان کردیجئے کہ میں حاجات و مصائب میں غائبانہ نہ صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہو اور اس کی دعاء و پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتا ہوں پھر اس سے بطور ترقی حکم دیا ” قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشدا “ فرمایا یہ بھی اعلان کردو کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک و مختار نہیں اور نہ تمہاری گمراہی اور ہدایت میرے اختیار میں ہے۔ جیسا کہ جن و انس کے گمراہ کن راہنما عوام کو اپنے مالک نفع و ضرر ہونے کا یقین دلاتے۔ اگر کوئی کسی حادثہ مصیبت میں آپ کی پناہ لے تو آپ صاف فرما دیں کہ میرا اپنا حال یہ ہے کہ میں خود خدا کے غضب سے اس کی پناہ کے بغیر نہیں بچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّيْ وَلَآ اُشْرِكُ بِہٖٓ اَحَدًا 20
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ترکیب : قل قراء العامۃ علی الغیبۃ اے قال حملوا ذلک علی ان القوم لماقالوا ذلک اجابھم النبی ﷺ بقولہ انما ادعواربی فح کی اللہ ذلک عنہ بقولہ قال اویکون ذاک من مقولات الجن و قرء عاصم و حمزۃ قل بصیغۃ الامرلیکون موافقا لمابعدہ وہو قولہ قل انی لا املک وھوا لاظہر والاقوی ملتحدا ملجاوحرائر بمثل السرب الذاہب فی الارض فی القاموس الحدالیہ مال و فی المصباح الملتحد بالفتح اسم الموضع وھوالملجائ۔ الا بلاغاً قال الفراء استثناء من قولہ لا املک فان التبلیغ ارشاد وانفاع وقولہ قل انی لن یجیرنی الخ جملۃ معترضۃ وقعت فی البین لتاکید نفی الاستطاعۃ عنہ وبیان عجز و قیل الاھنا لیست کلمۃ الاستثناء بل معناہ ان لاومعناہ ان…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَـآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدً ۔ (الجن : 20)
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
آنحضرت ﷺ کو استقامت حکم
آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ قریش کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر کیسا ہی ناگوار کیوں نہ ہو، وہ کتنا ہی اس کو برا مانیں اور آپ ﷺ کو بالجبر روکنے کی کیسی ہی کوشش کریں، آپ ﷺ صاف اعلان کردیجیے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، میں کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائوں گا۔ تم نے اگر جہالت اور نادانی سے حقائق کو تبدیل کر ڈالا ہے اور تم صحیح اور غلط میں تمیز کھو بیٹے ہو تو میں تمام مشکلات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
فہم القرآن
ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔
اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…
Read the full tafseer →20 : قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ (آپ یہ کہہ دیجے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں) اکیلے رب کی۔
قراءت : عاصم وحمزہ کے علاوہ نے قال پڑھا ہے۔
وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا (اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا) عبادت میں پھر تم کیوں کرتے اور ٹھٹ کے ٹھٹ مجھ پر جمع ہوتے ہو۔
Read the full tafseer →19 ۔” وانہ “ نافع اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ہمزہ کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے اس کے زبر کے ساتھ۔ ” لما قام عبداللہ “ یعنی نبی کریم ﷺ ” یدعوہ “ یعنی اس کی عبادت کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے۔ یہ اس وقت جب آپ (علیہ السلام) بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن پڑھ رہے تھے۔ ” کادوا “ یعنی جن۔ ” یکونون علیہ البدا “ یعنی ایک دوسرے پر سوار ہوجاتے اور قرآن سننے کی حرص میں بھیڑ کردیتے۔ یہ ضحاک کا قول اور عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ اس جماعت کا قول ہے جو اپنی قوم جن کی طرف لوٹے ان کو خبر دی جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اصحاب کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…
Read the full tafseer →(قل) اے رسول ! جس چیز کی طرف آپ دعوت دے رہے ہیں اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجئے (اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّيْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٖٓ اَحَدًا) بیشک میں اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو ایک مانتا ہوں، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس کے سوا تمام خود ساختہ ہم سروں، بتوں اور ان ہستیوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کو مشرکین نے اللہ کے سوا معبود بنا کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →22 ۔ پیغمبر ﷺ کو توحید کا فیصلہ کن اعلان کرنے کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو پیغمبر کو عقیدہ توحید کے بارے میں فیصلہ کن اعلان کی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں تو بہرحال اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور تم مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی میں تو بہرحال اسی کو پکارتا ہوں اور پکارتا رہوں گا، کہ یہی حق اور حقیقت بھی ہے اور عقل و نققل کا تقاضا بھی، فطرت سلیمہ کا مقتضا بھی، اور میری منصبی ذمہ داری بھی، اور جو کوئی اس طریق کو اپنائے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جس نے اس سے اعراض و انحراف کیا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، دین حق کا کچھ نہیں بگاڑے گا، ولعیاذ باللہ جل وعلا بہر کیف اس سے حضور ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
نبی کے لیے اللہ کا حکم
تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 13 لہٰذا خود تمہارا مجھے پکارنا بھی حماقت ہے۔ “
Read the full tafseer →(72:20) ادعوا ربی : ادعوا مضارع واحد متکلم دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ میں پکارتا ہوں۔ ربی مضاف مضاف الیہ۔ میرا رب، اپنے رب کو۔ ترجمہ :۔ آپ کہہ دیں میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں۔ یعنی صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔
لااشرک۔ مضارع منفی واحد متکلم۔ میں شریک نہیں ٹھہراتا۔ احدا کسی کو۔ مفعول لا اشرک کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
لغات القرآن۔
استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔
تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
(3) جب خدا بندہ کامل محمدرسول اللہ ﷺ خدا کی عبادت کو اس کی یاد کو کھڑے ہوتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں تو ٹھٹھہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں ، یعنی جب حضور بطن نخلہ میں قران پڑھ رہے تھے تو جن آئے اور حضرت کو دیکھ کر اور اپنے مقصود کو پاکر محبت سے تعجب سے قرآن سننے کو، رسول اللہ کا جمال پاک دیکھنے کو جمگھٹ کرکے حضرت کے اوپر جھکے پڑتے ہیں گویا حضرت پر فرط شوق میں گرپڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
[5] یعنی کہیں مجھ کو ہی مقصود اور پھر اس طرح مسجود و معبود نہ سمجھ لینا۔ میرے اختیار میں تو اتنا بھی نہیں کہ تم پر عذاب لے آؤں یا ایمان لانے پر تمہیں مجبور کر دوں۔ افسوس، '' یاروں نے بت شکن کو ہی بت بنا کر چھوڑا '' کا معاملہ انبیاء کی تاریخ میں باربار دہرایا جاتا رہا ہے اور آج کل کے مسلمانوں کا بھی اپنے نبی کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
انبیا کی حدود معرفت
1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…
Read the full tafseer →(20) اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ یعنی میرا طریقہ تو توحید کا طریقہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ۔ اب آگے رسالت کے متعلق مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 1۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ کوئی سجدہ اللہ کو کیا جاوے اور کوئی سجدہ غیر اللہ کو جیسا مشرکین کرتے تھے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ مخالفین سے کہہ دیں کہ میں تو پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کا شریک نہیں بناتا
20 ؎ پیغمبر اسلام ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے صاف صاف بات کہہ دیں چاہے ان کے اندر کتنے ہی بل کیوں نہ پڑیں کہ میں تو اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اسی میں مستغر ہوں اور رہنا چاہتا ہوں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے لیے تیار نہیں ہوں خواہ تم اس کو برداشت کرو اور خواہ برداشت نہ کرو جب تم اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک کرنے میں مصروف ہو اور میں تمہارے اس شرک کو برداشت کرتے ہوئے اپنا کام اپنے منہ دھیان کر رہا ہوں اور تم کو راہ حق کی طرف لانے کے لیے مجبور نہیں کر رہا تو تم میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…
Read the full tafseer →20 "Servant of AIIah": the Holy Prophet (upon whom be peace) .
Read the full tafseer →