Al-Jinn 72:21

Al-Jinn · from ayah 21

72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا ۟قُلۡ اِنِّىۡ لَاۤ اَمۡلِكُ لَـكُمۡ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا

(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, I do not possess for you [the power of] harm or right direction."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:21

کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : نہ تمہارا کوئی نقصان میرے اختیار میں ہے، اور نہ کوئی بھلائی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں کہ میں تمہارے لئے نہ تو نقصان (یعنی کفر) کا مالک ہوں اور نہ بھلائی (یعنی ایمان) کا (گویا حقیقی مالک اللہ ہے میں تو ذریعہ اور وسیلہ ہوں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بلاشبہ میں تمہارے لیے نہ کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہیے کہ : میں تمہارے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو میں نہ تمہارے لیے کسی ضرر پر کوئی اختیار رکھتا نہ کسی نفع پر

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(نیز ان سے یہ بھی) کہہ دو کہ میں نہ تو تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے میں تمہارے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ (تمہاری) ہدایت کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نفع اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “Surely neither it is in my power to hurt you nor to bring you to the Right Way.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I possess no power to cause you any harm or bring you to a right way.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I possess no power to cause you any harm or bring you to a right way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "It is not in my power to cause you harm, or to bring you to the right path."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Lo! I control not hurt nor benefit for you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, I do not possess for you [the power of] harm or right direction."

— Saheeh International

Say, "I do not possess any power to harm or benefit you".

— Muhammad Sarwar

Say: I do not control for you evil or good.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: 'verily own not for you power of hurt nor of benefit

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "It is not in my power to cause you harm, or to bring you to right conduct."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–24

آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–22

سورة الْجِنّ 21 یعنی خدا کو پکارنا تو کوئی قابل اعتراض کام نہیں ہے جس پر لوگوں کو اس قدر غصہ آئے، البتہ بری بات اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص خدا کے ساتھ کسی اور کو خدائی میں شریک ٹھہرائے، اور یہ کام میں نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جو خدا کا نام سن کر مجھ پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری دعوت سے نفور ہو، میری بات سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔ میں داعی بنا کر بھیجا گیا ہوں، تم پر داروغہ مقرر نہیں ہوا ہوں۔ نہ تمہارا نفع و ضرر میرے اختیار میں ہے نہ تمہاری ہدایت و ضلالت۔ میں صرف اللہ کی بات پہنچانے پر مامور ہوں سو یہ کام کر رہا ہوں۔ اس سے زیادہ میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہاں اسلوب کی یہ ندرت ملحوظ رہے کہ ’ضَرًّا‘ کے بعد ’نَفْعًا‘ اور ’رَشَدًا‘ کے مقابل ’غَیًّا‘ کو حذف کر دیا ہے اس لیے کہ تقابل خود اس پر دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 یعنی مجھے تمہاری ہدایت یا گمراہی کا یا کسی اور نفع نقصان کا اختیار نہیں ہے میں تو صرف اس کا ایک بندہ ہوں جسے اللہ نے وحی و رسالت کے لیے چن لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–23

11 اللہ کے بندے سے یہاں مراد حضور اقدس اللہ ﷺ ہیں، اور ٹوٹے پڑنے کا مطلب ایک تو یہ ممکن ہے کافر لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو کر ایسا انداز اختیار کرتے تھے جیسے وہ آپ پر حملہ کردیں، اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ عبادت کے دوران قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو قرآن سننے کے لئے آپ کے گرد جنات کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–24

قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی میرے اختیار میں نہیں کہ تم کو بھی راہ پر لے آؤں۔ اور نہ آؤ تو کچھ نقصان پہنچا دوں سب بھلائی برائی اور سود و زیاں اسی خدائے واحد کے قبضہ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

آیت 21{ قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔“ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ میں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورة القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے : { اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } آیت 56 ”آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں ‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 میرے اختیار میں صرف اتنی ہی بات ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھ پر جو وحی آتی ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچا دوں۔ اگر اسے تسلیم کرلو گے تو اس میں یقیناً تمہارا فائدہ ہے۔ مگر یہ میرے اختیار میں نہیں کہ تم کو بھی راہ راست پرلے آؤں یا اگر نہ آؤ تو تمہیں کچھ نقصان پہنچا سکوں۔ ہر طرح کا فائدہ اور نقصان اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 20–21

14۔ پہلی آیت میں توحید کامل اور ہر طرح کے رد شرک کا اثبات ہے۔ اور دوسری آیت کا مضمون یہ ہے کہ کہیں خود مجھی کو مقصود اور پھر اس طرح مسجود و معبود نہ سمجھ لینا۔ میرے اختیار میں تو اتنا بھی نہیں کہ تم پر عذاب لے آؤں، یا ایمان ہی پر تمہیں مجبور کردو۔” یاروں نے بت شکن کو بت ہی بنا کے چھوڑا “۔ کا معاملہ حضرات انبیاء کی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ قرآن مجید اسی فتنہ کے خطرہ سے بار بارتاکید وتصریح رسول اللہ ﷺ کے عبد محض ہونے کی کرتا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

ترجمہ : کفار کی اس بات کے جواب میں کہ آپ اپنی اس تبلیغ سے باز آجائیے آپ نے جواباً فرمایا ایک قرأت میں قل ہے، میں تو اپنے رب ہی کو معبود ہونے کے اعتبار سے پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا آپ کہہ دیجئے میں تمہارے نفع نقصان کا مالک نہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے (یعنی) اس کے عذاب سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں نہیں بچا سکتا اور میں اس کے علاوہ ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پاتا مگر میرا کام اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دینا ہے الا بلاغا، املک کے مفعول سے استثناء ہے یعنی میں تمہارے لئے سوائے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانے کے کسی چیز کا مالک نہیں ورسالاتہ کا عطف بلاغا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشدا . یعنی تمہارا نقصان و نفع یا گمراہی اور ہدایت میرے قبضہ میں نہیں ہے۔ بصورتِ اوّل رشد بمعنی نفع اور بصورتِ دوئم ضر بمعنی گمراہی ہے۔ بہرصورت ایک اسم کا اصل معنی اور دوسرے کا مجازی معنی مراد ہوگا۔ خواہ سبب بول کر مسبب مراد ہو یا مسبب کا اطلاق سبب پر ہو اس اطلاق سے دونوں معنی پر تنبیہ ہوجائے گی (کہ جس طرح انسان کے قابو میں گمراہی اور ہدایت نہیں ہے ‘ اسی طرح نفع و نقصان بھی اس کی قدرت سے باہر ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

محمد آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ تم سے عذاب و نقصان کے دور کرنے اور تمہیں نفع پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(قل انی لا املک لکم…: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صاف اعلان کرنے کا حکم دیا کہ آپ ﷺ دوسروں کے لئے نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے اور نہ ہی ہدایت اور گمراہی کا اختیار رکھتے ہیں۔ ”ضراً“ کے مقابلے میں ”نفعاً“ اور ”رشداً“ کے مقابلے میں ”غیاً“ حذف کردیا ہے، کیونکہ وہ الفاظ خود بخود معلوم ہو رہے ہیں۔ ایک اور مقام پر یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ آپ ﷺ خود اپنے نفع یا نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ (دیکھیے اعراف : 188) اور کئی مقامات پر واضح فرمایا کہ اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو ب ھی پکارا جاتا ہے وہ ذرہ برابر چیز کا بھی اختیار نہیں رکھتے (مثلاً دیکھیے سبا : 22۔ فاطر : 3 ۃ) اتنی صراحت کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قل انی لا املک لکم ضرا ولارشدا۔ فرمادیجئے میں اس پر قادر نہیں کہ میں تم سے مصیبت کو دور کردوں اور نہ اس پر قادر ہوں کہ تمہارے لیے بھلائی لاؤں ایک قول یہ کیا گیا ہے، ضرا سے مراد کفر اور رشدا سے مراد ہدایت ہے یعنی میرے ذمہ تبلیغ کرنا ہے ایک قول یہ کیا گیا، ضر سے مراد عذاب اور رشد سے مراد نعمت ہے یہ بعینہ پہلا معنی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضر سے مراد موت اور رشد سے مراد زندگی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

10۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت قل انما ادعو ربی بغیر الف کے۔ 11۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اشراف جنات میں سے ایک پیروی اتباع کرنے والے جن نے کہا محمد ﷺ ارادہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کو پناہ دیں اور میں ان کو پناہ دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت قل انی لن یجیرنی من اللہ احد۔ کہہ دو کہ مجھے اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ انى: آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں ] [لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ : اختیار نہیں رکھتا تم لوگوں کے لیے ] [ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا : کسی تکلیف کا اور نہ کسی بھلی راہ کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–23

توحید کی دعوت، کفر سے بیزاری، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، نافرمانوں کے لیے دائمی عذاب ہے ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کا اور نافرمانوں کی تعذیب کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت علم کمال اور جامعیت کا بیان ہے پہلے تو یہ فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّيْ ﴾ (الآیات الاربع) کہ آپ مخاطبین سے یہ فرما دیں کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا (جو اپنے لیے میرا ذاتی فیصلہ ہے اور یقین کے ساتھ ہے اسی کی طرف میں تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں) آپ یہ بھی بتادیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس کی مخلوق ہوں، اس کا رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔ (ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–21

14:۔ ” قل انما ادعوا “ یہ سورة ملک اور حوامیم کا خلاصہ ہے۔ آپ اعلان کردیجئے کہ میں حاجات و مصائب میں غائبانہ نہ صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہو اور اس کی دعاء و پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتا ہوں پھر اس سے بطور ترقی حکم دیا ” قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشدا “ فرمایا یہ بھی اعلان کردو کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک و مختار نہیں اور نہ تمہاری گمراہی اور ہدایت میرے اختیار میں ہے۔ جیسا کہ جن و انس کے گمراہ کن راہنما عوام کو اپنے مالک نفع و ضرر ہونے کا یقین دلاتے۔ اگر کوئی کسی حادثہ مصیبت میں آپ کی پناہ لے تو آپ صاف فرما دیں کہ میرا اپنا حال یہ ہے کہ میں خود خدا کے غضب سے اس کی پناہ کے بغیر نہیں بچ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–23

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۝ 21 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–23

ترکیب : قل قراء العامۃ علی الغیبۃ اے قال حملوا ذلک علی ان القوم لماقالوا ذلک اجابھم النبی ﷺ بقولہ انما ادعواربی فح کی اللہ ذلک عنہ بقولہ قال اویکون ذاک من مقولات الجن و قرء عاصم و حمزۃ قل بصیغۃ الامرلیکون موافقا لمابعدہ وہو قولہ قل انی لا املک وھوا لاظہر والاقوی ملتحدا ملجاوحرائر بمثل السرب الذاہب فی الارض فی القاموس الحدالیہ مال و فی المصباح الملتحد بالفتح اسم الموضع وھوالملجائ۔ الا بلاغاً قال الفراء استثناء من قولہ لا املک فان التبلیغ ارشاد وانفاع وقولہ قل انی لن یجیرنی الخ جملۃ معترضۃ وقعت فی البین لتاکید نفی الاستطاعۃ عنہ وبیان عجز و قیل الاھنا لیست کلمۃ الاستثناء بل معناہ ان لاومعناہ ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَـکُمْ ضَرًّا وَّلاَ رَشَدًا۔ (الجن : 21) (کہہ دیجیے ! میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ ) آنحضرت ﷺ کی حیثیت کی وضاحت اپنے مؤقف پر استقامت اور استقلال کے اعلان کے بعد اپنی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ ہوں۔ اس کی بندگی اور عبادت اور اس کے تفویض کردہ فرائض میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف داعی بنا کے بھیجا ہے، داروغہ مقرر نہیں کیا۔ نہ تمہارا نفع و ضرر میرے اختیار میں ہے اور نہ تمہاری ہدایت و ضلالت۔ عربی زبان کے اسالیب کے ماہرین یہ کہتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–24

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔ اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا (کہہ دیجئے میں تمہارے ذرا بھر ضرر کا اختیار نہیں رکھتا ہوں) ضر ًا بمعنی نقصان پہنچانا وَّلَا رَشَدًا (اور نہ کسی بھلائی کا) یعنی نفع کا۔ نمبر 2 : الضر سے گمراہی مراد ہے اس کی دلیل حضرت ابی کی قراءت میں ہے (غیًا ولا رشدًا) یعنی میں تمہیں نقصان پہنچانے کی نہ طاقت رکھتا ہوں اور نہ نفع پہنچانے کی کیونکہ نافع و ضار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20 ۔” قل انما ادعوا ربی “ ابوجعفر، عاصم اور حمزہ رحمہم اللہ نے ” قل “ امر کا صیغہ اور باقی حضرات نے ” قال “ پڑھا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے کہا ” انما ادعواربی “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو کہا آپ (علیہ السلام) بہت بڑا امر لائے ہیں، آپ (علیہ السلام) اس سے رجوع کرلیں، ہم آپ کو پناہ دیں گے تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو کہا ” انما ادعوا ربی ولا اشرک بہ احدا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–24

18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

رسول اکرم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ انہیں اس بات کی وضاحت کردیں کہ میں تو ایک بندہ ہوں، معاملے اور تصرف میں مجھے کوئی اختیار نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 پیغمبر نفع و نقصان کے اختیار کے مالک نہیں ہوتے : سو اس اہم اور بنیادی حقیقت کے اعلان کے لئے پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ میں نہ تمہارے لئے کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا : کہ یہ سب کچھ خدائی صفات اور اسی کے حقوق و اختیار سے متعلق ہے، جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تمہارے لئے تو کیا خود اپنے لئے بھی کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا قل لا املک لنفسی نفعا ولاضرا (الاعراف 188) یعنی کہو کہ میں اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ تن من کا، مگر جو اللہ چاہے سو ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا کہ مشیت سب پر اسی کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–28

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:21) لا املک : مضارع منفی واحد متکلم ملک (باب ضرب) مصدر سے۔ میں مالک نہیں ہوں۔ میں اختیار نہیں رکھتا ہوں۔ ضرا۔ مصدر ہے۔ ضر یضر (باب نصر) سے ۔ بمعنی ضرر پہنچانا۔ میں اختیار نہیں رکھتا تمہیں ضرر پہنچانے کا ۔ ولا رشدا۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ رشدا مصدر ہے رشد یرشد (باب نصر) سے بمعنی راہ راست پر چلنا۔ اور نہ (میں اختیار رکھتا ہوں تمہارے) راہ راست پر چلنے کا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–28

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–23

(3) جب خدا بندہ کامل محمدرسول اللہ ﷺ خدا کی عبادت کو اس کی یاد کو کھڑے ہوتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں تو ٹھٹھہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں ، یعنی جب حضور بطن نخلہ میں قران پڑھ رہے تھے تو جن آئے اور حضرت کو دیکھ کر اور اپنے مقصود کو پاکر محبت سے تعجب سے قرآن سننے کو، رسول اللہ کا جمال پاک دیکھنے کو جمگھٹ کرکے حضرت کے اوپر جھکے پڑتے ہیں گویا حضرت پر فرط شوق میں گرپڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–21

[5] یعنی کہیں مجھ کو ہی مقصود اور پھر اس طرح مسجود و معبود نہ سمجھ لینا۔ میرے اختیار میں تو اتنا بھی نہیں کہ تم پر عذاب لے آؤں یا ایمان لانے پر تمہیں مجبور کر دوں۔ افسوس، '' یاروں نے بت شکن کو ہی بت بنا کر چھوڑا '' کا معاملہ انبیاء کی تاریخ میں باربار دہرایا جاتا رہا ہے اور آج کل کے مسلمانوں کا بھی اپنے نبی کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–28

انبیا کی حدود معرفت 1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے نہ کسی ضرر اور نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ یعنی تمہاری برائی اور بھلائی کا مجھے کوئی اختیار نہیں ہے نہ میں تم پر عذاب لاسکتا ہوں نہ تم کو ہدایت دے سکتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–22

ف 3۔ مطلب یہ کہ نہ خود کوئی میرا بچانے والا ہوگا اور نہ میری تلاش سے مل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں نہ تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں نہ تم کو ہدایت دے سکتا ہوں 21 ؎ پیغمبر اسلام ! نبی اعظم و آخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں اور نہ ہی تم کو راہ راستہ پر گامزن کرسکتا ہے کیونکہ اس طرح کے سارے اختیار تو میرے اللہ ہی کے پاس ہیں۔ کسی کو یہ ہدایت دینا یا کسی کو اپنے قانون کے مطابق ہدایت سے محروم کردینا اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لیکن قرآن کریم اس معاملہ میں جو کہتا ہے کہتا رہے ہم اس کا کہا مانیں گے تو بھی اس کو صرف زبان تک محدود رکھیں گے ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی توحید کو کم ہی قبول کرتے ہیں ۔ غور کرو کہ آج ہماری اکثریت اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–24

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–23

21 That is, to call upon Allah is no objectionable thing, which may so provoke the people. The evil thing, however, is that one should associate another with Allah in His divinity, and this I never do; this is done by those who mob and surround me when they hear God mentioned by me.

Read the full tafseer →