Al-Jinn 72:22

Al-Jinn · from ayah 22

72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ۙ۬— وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا ۟ۙقُلۡ اِنِّىۡ لَنۡ يُّجِيۡرَنِىۡ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ  ۙ وَّلَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا

(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, there will never protect me from Allah anyone [if I should disobey], nor will I find in other than Him a refuge.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:22

کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناه بھی پا نہیں سکتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : مجھے اللہ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے اور نہ میں اسے چھوڑ کر کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ ہرگز مجھے اللہ سے کوئی نہ بچائے گا اور ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤں گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں کہ نہ مجھے ہرگز کوئی اللہ کے (اَمر کے خلاف) عذاب سے پناہ دے سکتا ہے اور نہ ہی میں قطعاً اُس کے سوا کوئی جائے پناہ پاتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے یقینا میں، مجھے اللہ سے کوئی بھی کبھی پناہ نہیں دے گا اور میں اس کے سوا کبھی پناہ کی کوئی جگہ نہیں پاؤں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کہئے کہ : مجھے اللہ سے ہرگز کوئی بچا نہ سکے گا اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو مجھے اللہ سے کوئی پناہ دینے والا نہیں بنے گا اور نہ میں اس کے سوا کوئی ملجا پا سکوں گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو (میرا تو خود یہ حال ہے) کہ نہ تو مجھے کوئی اللہ سے بچا سکتا ہے اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ گاہ پاسکتا ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اللہ سے کوئی بھی نہیں پناہ دے سکتا اور نہ میں اس کے سوائے کوئی پناہ پاسکتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ ہی میں اس کے علاوہ سر چھپانے کی کوئی جگہ پائوں گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ بھی کہہ دو کہ اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی بچا نہیں سکتا اور میں اس کے سوا کہیں پناہ کی جگہ نہیں دیکھتا

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “None can protect me from Allah, nor can I find a refuge apart from Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :No one can ever save me from Allah, and I can never find a refuge save with Him.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :No one can ever save me from Allah, and I can never find a refuge save with Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "None can protect me from Allah's punishment, nor can I find refuge except in Him."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Lo! none can protect me from Allah, nor can I find any refuge beside Him

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, there will never protect me from Allah anyone [if I should disobey], nor will I find in other than Him a refuge.

— Saheeh International

Say, "No one can protect me from God, nor can I find any place of refuge but with him.

— Muhammad Sarwar

Say: Surely no one can protect me against Allah, nor can I find besides Him any place of refuge:

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: 'verily none can protect me from Allah, nor can I find beside Him any refuge.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "No one can deliver me from Allah (If I were to disobey Him), nor should I find refuge except in Him,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–24

آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–22

سورة الْجِنّ 21 یعنی خدا کو پکارنا تو کوئی قابل اعتراض کام نہیں ہے جس پر لوگوں کو اس قدر غصہ آئے، البتہ بری بات اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص خدا کے ساتھ کسی اور کو خدائی میں شریک ٹھہرائے، اور یہ کام میں نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جو خدا کا نام سن کر مجھ پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر میں تمہاری نازبرداری میں یا تم سے مرعوب ہو کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ اپنے رب پر ایسے افتراء کا ارتکاب کروں گا جو سب سے بڑا جرم ہے اور جس کی سزا سے نہ مجھے کوئی دوسرا پناہ دینے والا بنے گا اور نہ میں ہی اپنے لیے کوئی ملجا و ماویٰ اس کے مقابل میں پا سکوں گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–23

22۔ 1 اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور وہ مجھے اس پر وہ عذاب دینا چاہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–23

11 اللہ کے بندے سے یہاں مراد حضور اقدس اللہ ﷺ ہیں، اور ٹوٹے پڑنے کا مطلب ایک تو یہ ممکن ہے کافر لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو کر ایسا انداز اختیار کرتے تھے جیسے وہ آپ پر حملہ کردیں، اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ عبادت کے دوران قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو قرآن سننے کے لئے آپ کے گرد جنات کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–24

قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی تم کو نفع نقصان پہنچانا تو کجا، اپنا نفع و ضرر میرے قبضہ میں نہیں۔ اگر بالفرض میں اپنے فرائض میں تقصیر کروں تو کوئی شخص نہیں جو مجھ کو اللہ کے ہاتھ سے بچا لے اور کوئی جگہ نہیں جہاں بھاگ کر پناہ حاصل کرسکوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 23{ اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلٰتِہٖ } ”بس میرا فرض اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔“ یعنی اگر میں نے یہ فریضہ انجام دینے میں کوتاہی کی تو میری جواب دہی ہوگی۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف کی اس آیت میں اپناقانون واضح طور پر بیان فرما دیا ہے : { فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ۔ } ”پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔“ { وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا“ { فَاِنَّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 یعنی میرے تصرف اور اختیار کا تو یہ حال ہے کہ تم کو نفع یا نقصان پہنچانا تو دور کی بات ہے مجھے اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں۔ فرض کرو جو ڈیوٹی اللہ نے میرے ذمہ لگا رکھی ہے میں اس میں کچھ کوتاہی کرتا ہوں تو میں بھی اللہ کی گرفت میں آسکتا ہوں مجھ میں یہ سکت نہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے بچا سکوں یا کہیں بھاگ کر ہی اس کی گرفت سے بچاؤ حاصل کرسکوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ ایک بار پھر تصریح و توضیح منصب رسالت کی ہورہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا کام تو اللہ کی طرف سے محض پیام رسانی (معا اس کے طبعی لوازم کے) ہے۔ (آیت) ” انی ..... ملتحدا “۔ یہ سب چیزیں محض اس مفروضہ پر مبنی ومشروط ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ اگر خدانخواستہ خود ہی احکام الہی سے سرتابی کرنے لگیں۔ قرآن مجید نے ایسے بعید ترین احتمالات کو جا بجا فرض کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

ترجمہ : کفار کی اس بات کے جواب میں کہ آپ اپنی اس تبلیغ سے باز آجائیے آپ نے جواباً فرمایا ایک قرأت میں قل ہے، میں تو اپنے رب ہی کو معبود ہونے کے اعتبار سے پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا آپ کہہ دیجئے میں تمہارے نفع نقصان کا مالک نہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے (یعنی) اس کے عذاب سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں نہیں بچا سکتا اور میں اس کے علاوہ ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پاتا مگر میرا کام اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دینا ہے الا بلاغا، املک کے مفعول سے استثناء ہے یعنی میں تمہارے لئے سوائے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانے کے کسی چیز کا مالک نہیں ورسالاتہ کا عطف بلاغا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انی لن یجیرنی من اللہ احد ولن اجد من دونہ ملتحدا . ملتحد ‘ جائے پناہ جس کی طرف رجوع کیا جائے۔ دونوں جملے ایک محذوف سوال کے جواب میں واقع ہوئے ہیں ‘ گویا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تھا کہ جو کفار میرے کام کو تباہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں ‘ جب وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ اگر تو پیغمبر ہے تو ہم پر عذاب لے آ ‘ یا کفار کہتے ہیں : اب اس کام سے باز آ جا۔ ہم تجھے اپنی پناہ میں لیتے ہیں تو میں ان کے جواب میں کیا کہوں ؟ (اس جواب کو بتانے کے لیے اللہ نے یہ دونوں جملے نازل فرمائے) یہ بھی ممکن ہے کہ پہلا جملہ سوال محذوف کا جواب ہو گویا رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے دیدار اور ملاقات کا جنات کی طرف سے اشتیاق ملاحظہ کیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو مجھے اس کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں، البتہ اللہ کے احکام کا پہنچانا مجھے بچا سکتا ہے۔ اور جو وحدانیت میں اللہ تعالیٰ کا اور تبلیغ میں اس کے رسول کا کہا نہیں مانتے تو ان لوگوں کے لیے جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہیں گے۔ شان نزول : قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ (الخ) ابن جریر نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جنات نے حضور سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کیا حکم ہے کہ ہم مسجد میں آئیں یا یہ کہ نماز میں آئیں یا یہ کہ نماز میں حاضر ہوں اور یا آپ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(قل ان لن یجیرنی من اللہ احد ”یعنی آپ انہیں کہہ دیں کہ اگر میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکاروں یا اس کی نافرمانی کروں تو اللہ کی گرفت سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ مجھے اس کے علاوہ کوئی جاجئے پناہ مل سکے گی ، تو تم اس کی گرت سے کیسے بچ سکو گے اور کس کی پناہ میں جاؤ گے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قل انی لن یجیرنی من اللہ۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ربی امدا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، قل انی لن یجیرنی من اللہ احد۔ کا معنی یہ ہے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور سے حفاظت چاہوں گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مجھ دور کرنے والا نہیں۔ یہ اس لیے فرمایا کیونکہ انہوں نے کہا تھا جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو اس کو چھوڑ دو ہم تجھے پناہ دیتے ہیں، ابوجوزاء نے حضرت ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے میں جنوں والی رات نبی کریم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ حجون کے مقام پر آئے تو آپ نے میرے لیے ایک خط لگایا، پھر آپ ان کی طرف بڑھے جنوں نے حضور ﷺ پر بھیڑ کرلی جنوں کے سردار جسے وردان کہتے ہیں نے کہا، میں آپ سے انہیں دور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–25

12۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی رات میں نبی ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ جحون میں تشریف لائے آپ نے مجھ پر ایک خط کھینچ کر حصار کردیا۔ پھر ان کی طرف آگے بڑھ گئے۔ وہ ہجوم کر کے آپ پر آگئے۔ ان کے سردار نے کہا جس کو دردان کہا جاتا تھا۔ یا رسول اللہ ! کیا میں ان کو آپ سے دور نہ ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انی لن یجیرنی من اللہ احد کہہ دو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 13۔۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولن اجد من دونہ ملتحدا اور نہ مجھ اس کے سوا پناہ ملے گی۔ یعنی پناہ کی جگہ۔ 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ انى لَنْ يُّجِيْرَنِيْ : آپ ﷺ کہیے کہ ہرگز نہیں بچائے گا مجھ کو ] [مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ: اللہ سے کوئی ایک بھی ] [وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ : اور میں ہرگز نہیں پائوں گا اس کے علاوہ ] [مُلْتَحَدًا : کوئی پناہ گاہ ] ترکیب : (آیت 22) مُلْتَحَدًا باب افتعال سے اسم المفعول ہے جو یہاں اسم الظرف کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–23

توحید کی دعوت، کفر سے بیزاری، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، نافرمانوں کے لیے دائمی عذاب ہے ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کا اور نافرمانوں کی تعذیب کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت علم کمال اور جامعیت کا بیان ہے پہلے تو یہ فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّيْ ﴾ (الآیات الاربع) کہ آپ مخاطبین سے یہ فرما دیں کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا (جو اپنے لیے میرا ذاتی فیصلہ ہے اور یقین کے ساتھ ہے اسی کی طرف میں تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں) آپ یہ بھی بتادیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس کی مخلوق ہوں، اس کا رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔ (ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

15:۔ ” قل انی لن یجیرنی “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ کفار کہتے تھے کہ تم اپنی تبلیغ کو ترک کیوں نہیں کردیتے تو جواب دینے کا حکم دیا گیا کہ میں تبلیغ پر خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اگر میں تبلیغ ترک کردوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ اس کے سوا میرا کوئی ٹھکانا ہوگا۔ تائید : ” انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم “ (الانعام ) ۔ ” الا بلغا من اللہ “ یہ ” لا املک “ کے مفعول سے استثناء ہے۔ یعنی مجھے کسی چیز کا اختیار نہیں سوا اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی تبلیغ کے میں نافع وضار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کا مبلغ ہوں۔ ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جو شخص اللہ اور اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–23

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللہِ اَحَدٌ۝ 0ۥۙ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا۝ 22 ۙ جار الجار : من يقرب مسکنه منك، وهو من الأسماء المتضایفة، فإنّ الجار لا يكون جارا لغیره إلا وذلک الغیر جار له، قال تعالی: لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا [ الأحزاب/ 60] ، وقال تعالی: وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجاوِراتٌ [ الرعد/ 4] ( ج و ر ) الجار پڑسی ۔ ہمسایہ ہر وہ شخص جس کی سکونت گاہ دوسرے کے قرب میں ہو وہ اس کا جار کہلاتا ہے یہ ، ، اسماء متضا یفہ ، ، یعنی ان الفاظ سے ہے جو ایک دوسرے کے تقابل سے اپنے معنی دیتے ہیں قرآن میں ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–23

ترکیب : قل قراء العامۃ علی الغیبۃ اے قال حملوا ذلک علی ان القوم لماقالوا ذلک اجابھم النبی ﷺ بقولہ انما ادعواربی فح کی اللہ ذلک عنہ بقولہ قال اویکون ذاک من مقولات الجن و قرء عاصم و حمزۃ قل بصیغۃ الامرلیکون موافقا لمابعدہ وہو قولہ قل انی لا املک وھوا لاظہر والاقوی ملتحدا ملجاوحرائر بمثل السرب الذاہب فی الارض فی القاموس الحدالیہ مال و فی المصباح الملتحد بالفتح اسم الموضع وھوالملجائ۔ الا بلاغاً قال الفراء استثناء من قولہ لا املک فان التبلیغ ارشاد وانفاع وقولہ قل انی لن یجیرنی الخ جملۃ معترضۃ وقعت فی البین لتاکید نفی الاستطاعۃ عنہ وبیان عجز و قیل الاھنا لیست کلمۃ الاستثناء بل معناہ ان لاومعناہ ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌہ 5 لا وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا۔ (الجن : 22) (کہہ دیجیے ! مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ ) مزید وضاحت گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اس کی مزید وضاحت ہے۔ قریش مکہ سے مخاطب ہو کر آنحضرت ﷺ فرما رہے ہیں کہ اگر میں تمہاری خاطر یا تم سے خوف کھا کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا سے مجھے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابل میں اگر کسی اور جائے پناہ کو تلاش کروں تو مجھے کوئی ٹھکانہ نہیں مل سکے گا اور کوئی جائے پناہ میسر نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–24

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔ اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَ نِیْ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ (آپ کہہ دیجئے مجھ کو اللہ تعالیٰ سے کوئی نہیں بچا سکتا) اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھ سے اس کے عذاب کو کوئی ہٹا نہیں سکتا یہ اسی طرح ہے جیسا صالح (علیہ السلام) نے فرمایا فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہٗ ] ھود : 63[ وَلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا (اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ پاسکتا ہوں) ملتحدًا جائے پناہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” قل انی لااملک لکم ضرا “ میں قادر نہیں ہوں اس پر کہ تمہارے نقصان کو دور کروں۔ ” ولا رشدا “ یعنی میں تمہارے لئے نہیں ہانکتا یا تمہاری طرف رشد وخیر کو یعنی بیشک اللہ تعالیٰ اس کے مالک ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–24

18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ) کہہ دیجئے مجھے ہرگز کوئی اللہ سے نہیں بچاسکتا۔ یعنی میں کسی سے فریاد رسی نہیں چاہتا جو مجھے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے۔ جب رسول اللہ جو مخلوق میں کامل ترین ہستی ہیں، کسی نقصان اور رشد و ہدایت کا اختیار نہیں رکھتے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو آپ اپنے آپ کو اس سے بچا نہیں سکتے تو پھر مخلوق میں سے دیگرلوگوں کا اپنے آپ کو بچانے پر قادر نہ ہونا اولی واحری ہے۔ (وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا) اور اس کے سوا میں کوئی پناہ گاہ اور بچ نکلنے کی جگہ نہیں پاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا : سو اس حقیقت کے اعلان و اظہار کے لئے پیغمبر سے فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ گاہ پاسکتا ہوں۔ یعنی نہ تو از خود کوئی مدد کو آسکتا ہے اور نہ ڈھونڈے سے کوئی مددگار مل سکتا ہے، کہ ہر کسی کی مدد کرنے والا، اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدۃ لاشریک ہے، سبحانہ تعالیٰ سو اس سے اوپر والی بات کی مزید وضاحت فرما دی گئی کہ اگر بالفرض میں تم لوگوں کی ناز برادری میں یا تم سے مرعوب ہو کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ اللہ تعالیٰ پر افتراء ہوگا جو کہ سب سے بڑا جرم ہے اور جس کی سزا سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–28

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:22) لن یجیرنی : لن یجیر مضارع منفی تاکید بلن (منصوب) صیغہ واحد مذکر غائب۔ اجارۃ (افعال) مصدر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ کوئی مجھے ہرگز نہ بچا سکے گا۔ ولن اجد۔ واؤ عاطفہ لن اجد مضارع منفی تاکید بلن (منصوب) وجود (باب ضرب) مصدر۔ اور نہ ہی میں ہرگز پاسکوں گا۔ من دونہ : من حرف جار۔ دونہ مضاف مضاف الیہ ۔ مل کر مجرور۔ اس کے سوا ۔ ملتحدا : اسم ظرف مکان بروزن مفعول التحاد (افتعال) مصدر۔ پناہ کی جگہ۔ یا مصدر میمی ہے باب افتعال سے بمعنی پناہ۔ جملہ میں ان عصیتہ مقدرہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اس کی (اللہ کی) نافرمانی کی تو میں اس کے سا ہرگز پناہ نہ پاسکوں گا۔ لحد ولحد زمین کے اندر بغلی گڑھا (جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–28

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–23

(3) جب خدا بندہ کامل محمدرسول اللہ ﷺ خدا کی عبادت کو اس کی یاد کو کھڑے ہوتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں تو ٹھٹھہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں ، یعنی جب حضور بطن نخلہ میں قران پڑھ رہے تھے تو جن آئے اور حضرت کو دیکھ کر اور اپنے مقصود کو پاکر محبت سے تعجب سے قرآن سننے کو، رسول اللہ کا جمال پاک دیکھنے کو جمگھٹ کرکے حضرت کے اوپر جھکے پڑتے ہیں گویا حضرت پر فرط شوق میں گرپڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–24

[6] یعنی قیامت۔ [7] یعنی آج تو کافروں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت و جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے، وہ یا اللہ کا رسول جس کی تنبیہ کو انہوں نے حقیر جانا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–28

انبیا کی حدود معرفت 1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مجھ کو کوئی نہیں بچا سکتا اور اس کے غضب سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔ یعنی اگر میں تمہاری غلط فرمائش پوری کرنے کے لئے تیار ہوجائوں۔ اور اللہ تعالیٰ کا غضب آجائے تو مجھے اس کے غضب اور اس کی گرفت سے کوئی بچانے اور نجات دلانے والا نہیں ہے اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔ یعنی اس کی گرفت اور اس کے عتاب سے کہیں بھاگ کر کوئی پناہ گاہ اختیار کرلوں اور کہیں جا چھپوں تو یہ بھی نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–22

ف 3۔ مطلب یہ کہ نہ خود کوئی میرا بچانے والا ہوگا اور نہ میری تلاش سے مل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا مجھے کوئی پناہ دینے والا نہیں 22 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ تم لوگوں کی باتوں میں آکر تم کو اپنے خاندان اور برادری کے بزرگ خیال کر کے تمہاری خوشنودی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی شرک کرنے لگوں جسا کہ تم کر رہے ہو اور میں بھی ان لوگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگوں جن کو تم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو تو تم مجھے بتائو کہ جب مجھے پکڑے اس کی پکڑ سے مجھے کون چھڑائے گا اور پھر یہ بھی کہ اگر تم سب مل کر ہاں کرلو ہم چھڑا لیں گے تو میں تمہاری اس بات کو نہیں مان سکتا اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو پکڑ لیتا ہے تو پھر کسی کی جرأت نہیں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–24

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–23

21 That is, to call upon Allah is no objectionable thing, which may so provoke the people. The evil thing, however, is that one should associate another with Allah in His divinity, and this I never do; this is done by those who mob and surround me when they hear God mentioned by me.

Read the full tafseer →