Al-Jinn 72:23

Al-Jinn · from ayah 23

72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ؕ— وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ۟ؕاِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ‌ ؕ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا

ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But [I have for you] only notification from Allah, and His messages." And whoever disobeys Allah and His Messenger - then indeed, for him is the fire of Hell; they will abide therein forever.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:23

میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ (جس چیز پر مجھے اختیار دیا گیا ہے، وہ) اللہ کی طرف سے بات پہنچا دینا، اور اس کے پیغامات ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر اللہ کے پیام پہنچاتا اور اس کی رسالتیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر اللہ کی جانب سے اَحکامات اور اُس کے پیغامات کا پہنچانا (میری ذِمّہ داری ہے)، اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو بیشک اُس کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر (میں تو صرف) اللہ کے احکام پہنچانے اور اس کے پیغامات کا (اختیار رکھتا ہوں) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم کی آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں ہمیشہ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں تو صرف یہ کرسکتا ہوں کہ اللہ کا حکم اور اس کے پیغام (لوگوں تک) پہنچا دوں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بس اللہ کی طرف سے پہنچا دینا اور اس کے پیغاموں کی ادائیگی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میرا کام تو بس اتنا (اور صرف اتنا) ہے کہ میں پہنچا دوں (بغیر کسی کمی و بیشی کے) اللہ کی بات اور اس کے پیغاموں کو اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اللہ کی تو (وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ) بیشک اس کے لئے جہنم کی (دہکتی) آگ ہے جس میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ ہمیش رہنا ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ اللہ کی طرف سے پہنچانا اور اس کے پیغاموں کا ادا کرنا (میرا کام ہے) اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو یقیناً ایسے لوگوں کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بس (میرا فرض) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔ اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں اللہ کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا ہی میرے ذمہ ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(My task is no more than) to deliver Allah's proclamation and His messages. And whoever disobeys Allah and His Messenger, surely the Fire of Hell awaits him; therein he will abide in perpetuity.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

However, (I have been given power) of conveying (commands) from Allah, and His messages. The one who disobeys Allah and His Messenger, for him there is the fire of Hell, wherein such people will live forever.

— Muhammad Taqi Usmani

However, (I have been given power) of conveying (commands) from Allah, and His messages. The one who disobeys Allah and His Messenger, for him there is the fire of Hell, wherein such people will live forever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"(Mine is) but conveyance from Allah and His Messages, and whosoever disobeys Allah and His Messenger, then verily, for him is the fire of Hell, he shall dwell therein forever."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Mine is) but conveyance (of the Truth) from Allah, and His messages; and whoso disobeyeth Allah and His messenger, lo! his is fire of hell, wherein such dwell for ever.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But [I have for you] only notification from Allah, and His messages." And whoever disobeys Allah and His Messenger - then indeed, for him is the fire of Hell; they will abide therein forever.

— Saheeh International

My only (means of protection) is to convey the message of God. Whoever disobeys God and His Messenger will go to hell, wherein he will live forever".

— Muhammad Sarwar

(It is) only a delivering (of communications) from Allah and His messages; and whoever disobeys Allah and His Apostle surely he shall have the fire of hell to abide therein for a long time.

— Muhammad Habib Shakir

Mine is but the publishing from Allah and His messages; and whosoever disobeyeth Allah and His apostle, his portion verily is the Hell-Fire as abiders therein for evermore.

— Abdul Majid Daryabadi

"Unless I proclaim what I receive from Allah and His Messages: for any that disobey Allah and His Messenger,- for them is Hell: they shall dwell therein for ever."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–24

آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 22 یعنی میرا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی خدائی میں میرا کوئی دخل ہے، یا لوگوں کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا کوئی اختیار مجھے حاصل ہے۔ میں تو صرف ایک رسول ہوں اور جو خدمت میرے سپرد کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات تمہیں پہنچا دوں۔ باقی رہے خدائی کے اختیارات، تو وہ سارے کے سارے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانا تو درکنار، مجھے تو خود اپنے نفع و نقصان کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتا، اور اللہ کے دامن کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ میرے لیے نہیں ہے (مزید تشریح کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس آیت کا تعلق اوپر والی آیت ’لَا أَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا‘ سے ہے۔ یعنی میں نہ تمہارے مطالبہ پر تمہیں عذاب دکھا سکتا اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ بے کم و کاست میں تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تمہیں آگاہ کر دوں۔ ’رِسَلٰتِہٖ‘ کا عطف ’بَلٰغًا‘ پر ہے۔ ’بَلَاغٌ‘ کے بعد اس لفظ کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ میرا فریضۂ منصبی صرف بے کم و کاست پہنچا دینا ہے۔ نہ بلاغ کے سوا تمہاری ہدایت و ضلالت سے متعلق مجھ پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ مجھے یہ اختیار حاصل ہے کہ تمہاری خاطر خدا کے احکام میں سرمو کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–23

22۔ 1 اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور وہ مجھے اس پر وہ عذاب دینا چاہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–23

11 اللہ کے بندے سے یہاں مراد حضور اقدس اللہ ﷺ ہیں، اور ٹوٹے پڑنے کا مطلب ایک تو یہ ممکن ہے کافر لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہو کر ایسا انداز اختیار کرتے تھے جیسے وہ آپ پر حملہ کردیں، اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ عبادت کے دوران قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو قرآن سننے کے لئے آپ کے گرد جنات کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–24

قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی اللہ کی طرف سے پیغام لانا اور اس کے بندوں کو پہنچا دینا، یہی چیز ہے جو اس نے میرے اختیار میں دی اور یہی فرض ہے جس کے ادا کرنے سے میں اس کی حمایت اور پناہ میں رہ سکتا ہوں۔13 یعنی تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں۔ لیکن اللہ کی اور میرے نافرمانی کرنے سے نقصان پہنچنا ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 23{ اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلٰتِہٖ } ”بس میرا فرض اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔“ یعنی اگر میں نے یہ فریضہ انجام دینے میں کوتاہی کی تو میری جواب دہی ہوگی۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف کی اس آیت میں اپناقانون واضح طور پر بیان فرما دیا ہے : { فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ۔ } ”پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔“ { وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا“ { فَاِنَّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 یاد رہے کہ ان آیات کے اصل مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جو شرک سے کسی قیمت پر باز نہیں آتے تھے اور یہی ان کی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی تھی۔ ایسے مشرکوں کی سزا واقعی ابدی جہنم ہے۔ لیکن مسلمان جو کم از کم شرک سے پاک ہوں۔ ان سے اگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا کوئی کام سرزد ہوجائے تو ان کی سزا ابدی جہنم نہیں ہے۔ بلکہ اللہ انہیں مناسب سزا دینے کے بعد جہنم سے نکال لے گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو معاف ہی فرما دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

16۔ مطلب یہ ہے کہ آج یہ کافر غفلت و استکبار میں پڑے ہوئے فخر وناز کررہے ہیں کہ دیکھو ہمارا جتھا ہمارا گروہ کتنا بڑ ا ہے، اور ہمیں قوت وجاہ کیسی حاصل ہے۔ “ اور کوئی دلیل عقلی یانقلی انہیں اس سفاہت سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ مرتے ہی ان پر کھل جائے گا کہ خودوہی ایسے تھے، جن کے کام کوئی نہ آسکا۔ (آیت) ” من اضعف ناصرا “۔ اس میں نفی ہوگئی، نفع اعلی کی۔ (آیت) ” واقل عددا “۔ اس میں نفی ہوگئی نفع ادنی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

ترجمہ : کفار کی اس بات کے جواب میں کہ آپ اپنی اس تبلیغ سے باز آجائیے آپ نے جواباً فرمایا ایک قرأت میں قل ہے، میں تو اپنے رب ہی کو معبود ہونے کے اعتبار سے پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا آپ کہہ دیجئے میں تمہارے نفع نقصان کا مالک نہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے (یعنی) اس کے عذاب سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں نہیں بچا سکتا اور میں اس کے علاوہ ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پاتا مگر میرا کام اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دینا ہے الا بلاغا، املک کے مفعول سے استثناء ہے یعنی میں تمہارے لئے سوائے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانے کے کسی چیز کا مالک نہیں ورسالاتہ کا عطف بلاغا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا بلغا من اللہ و رسلتہ . استثناء کا تعلق لا املک سے ہے اور درمیانی کلام نفی قدرت کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ حقیقت میں تبلیغ حکم بھی ہدایت اور نفع رسانی ہے (اور تبلیغ نبی کا فرض ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کرنا اور نفع پہنچانا نبی کے قبضہ میں ہے ‘ اس لیے تبلیغ حکم کو لا املک کی عمومی نفی سے مستثنیٰ کرلیا) مطلب یہ ہے کہ مجھ میں نقصان کو دور کرنے اور فائدہ پہنچانے کی اور کچھ طاقت نہیں ‘ صرف تبلیغ احکام اور پیام رسانی میری طاقت میں ہے یا استثناء کا تعلق احدٌ یا ملتحدًا سے ہے یعنی اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ اس کے سوا میرے لیے کوئی پناہ گاہ ہے۔ ہاں وہ تبلیغ و پیام رسانی جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو مجھے اس کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں، البتہ اللہ کے احکام کا پہنچانا مجھے بچا سکتا ہے۔ اور جو وحدانیت میں اللہ تعالیٰ کا اور تبلیغ میں اس کے رسول کا کہا نہیں مانتے تو ان لوگوں کے لیے جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہیں گے۔ شان نزول : قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ (الخ) ابن جریر نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جنات نے حضور سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کیا حکم ہے کہ ہم مسجد میں آئیں یا یہ کہ نماز میں آئیں یا یہ کہ نماز میں حاضر ہوں اور یا آپ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(الا بلغاً من اللہ و رسلتہ…: یہ ”لا املک لکم ضراً ولا رشدا“ ے استثنا ہے اور درمیان والی آیت پہلی آیت ہی کی مزید وضاحت ہے، یعنی میں تو صرف اللہ کے احکام پہنچانے کا اور اس کے پیغام کا اختیار رکھتا ہوں، میرا کام بس اتنا ہی ہے، پیغام پہنچ جانے کے بعد جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ نافرمانی سے مراد اس جگہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان نہ لانا ہے، کیونکہ پچھلی آیات میں یہی مضمون آرہا ہے۔ ابدی جہنمی صرف کفار ہیں، یہ مطلب نہیں کہ ہر گناہ اور نافرمانی کی سزا ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الابلغا من اللہ ورسالتہ۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں ہی امان اور نجات ہے۔ یہ حضرت حسن بصری کا نقطہ نظر ہے قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کا پیغام حق پہچانا ہی ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مالک ہوں۔ جہاں تک کہ کسی کے لیے کفر ایمان کو پیدا کرنے کا تعلق ہے میں ان کا مالک نہیں اس تعبیر کی صورت میں اس کلام کا تعلق قلی انی لا املک لکم ضراولارشدا۔ کے ساتھ ہوگا معنی یہ بنے گا کہ میں اس بات کا مالک ہوں کہ تمہیں پیغام حق پہنچادوں۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ کلام، لا املک لکم ضرا ولارشدا۔ سے مستثنی منقطع ہے تو معنی یہ ہوگا کہ لیکن میں تمہیں وہ پیغام حق پہنچادوں جس کے ساتھ کوئی پناہ گاہ نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–25

12۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی رات میں نبی ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ جحون میں تشریف لائے آپ نے مجھ پر ایک خط کھینچ کر حصار کردیا۔ پھر ان کی طرف آگے بڑھ گئے۔ وہ ہجوم کر کے آپ پر آگئے۔ ان کے سردار نے کہا جس کو دردان کہا جاتا تھا۔ یا رسول اللہ ! کیا میں ان کو آپ سے دور نہ ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انی لن یجیرنی من اللہ احد کہہ دو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 13۔۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولن اجد من دونہ ملتحدا اور نہ مجھ اس کے سوا پناہ ملے گی۔ یعنی پناہ کی جگہ۔ 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلَّا بَلٰـغًا : سوائے اس کے کہ پہنچانا (حق کو)] [مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَرِسٰلٰتِهٖ : اور اس کے پیغامات کو ] [وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اور جو نافرمانی کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی ] [فَان لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ : تو یقینا اس کے لے ہی جہنم کی آگ ہے ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ : ایک حالت میں رہنے والے اس میں ] [اَبَدًا : ہمیشہ ہمیش ] (آیت۔ 23) بَلٰغًا اور رِسٰلٰتِہٖ ، یہ دونوں لَنْ اَجِدَ مُلْتَحَدًا سے مستثنیٰ ہیں اور یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ اس لیے یہ دونوں حالت نصب میں ہیں۔ (دیکھیں آیت۔ 2:34، نوٹ۔ 1) نوٹ۔ 1: آیت۔ 23 ۔ میں اِلَّا بَلٰغًا کا تعلق آیت۔ 21 ۔ میں لَا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–23

توحید کی دعوت، کفر سے بیزاری، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، نافرمانوں کے لیے دائمی عذاب ہے ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت حق کا اور نافرمانوں کی تعذیب کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفت علم کمال اور جامعیت کا بیان ہے پہلے تو یہ فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّيْ ﴾ (الآیات الاربع) کہ آپ مخاطبین سے یہ فرما دیں کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا (جو اپنے لیے میرا ذاتی فیصلہ ہے اور یقین کے ساتھ ہے اسی کی طرف میں تمہیں بھی دعوت دیتا ہوں) آپ یہ بھی بتادیں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس کی مخلوق ہوں، اس کا رسول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔ (ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

15:۔ ” قل انی لن یجیرنی “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ کفار کہتے تھے کہ تم اپنی تبلیغ کو ترک کیوں نہیں کردیتے تو جواب دینے کا حکم دیا گیا کہ میں تبلیغ پر خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اگر میں تبلیغ ترک کردوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ اس کے سوا میرا کوئی ٹھکانا ہوگا۔ تائید : ” انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم “ (الانعام ) ۔ ” الا بلغا من اللہ “ یہ ” لا املک “ کے مفعول سے استثناء ہے۔ یعنی مجھے کسی چیز کا اختیار نہیں سوا اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی تبلیغ کے میں نافع وضار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کا مبلغ ہوں۔ ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جو شخص اللہ اور اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–23

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا بَلٰـغًا مِّنَ اللہِ وَرِسٰلٰتِہٖ۝ 0 ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ 23 ۭ بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] ، وقوله عزّ وجلّ : وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–23

ترکیب : قل قراء العامۃ علی الغیبۃ اے قال حملوا ذلک علی ان القوم لماقالوا ذلک اجابھم النبی ﷺ بقولہ انما ادعواربی فح کی اللہ ذلک عنہ بقولہ قال اویکون ذاک من مقولات الجن و قرء عاصم و حمزۃ قل بصیغۃ الامرلیکون موافقا لمابعدہ وہو قولہ قل انی لا املک وھوا لاظہر والاقوی ملتحدا ملجاوحرائر بمثل السرب الذاہب فی الارض فی القاموس الحدالیہ مال و فی المصباح الملتحد بالفتح اسم الموضع وھوالملجائ۔ الا بلاغاً قال الفراء استثناء من قولہ لا املک فان التبلیغ ارشاد وانفاع وقولہ قل انی لن یجیرنی الخ جملۃ معترضۃ وقعت فی البین لتاکید نفی الاستطاعۃ عنہ وبیان عجز و قیل الاھنا لیست کلمۃ الاستثناء بل معناہ ان لاومعناہ ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِلاَّ بَلٰـغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلٰتِہٖ ط وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ فَاِنَّ لَـہٗ نَارَجَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدًا۔ (الجن : 23) (میرا کام صرف اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچانا ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ) میری حیثیت صرف یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے پیغامات اور اس کے ارشادات بےکم وکاست تمہیں پہنچا دوں۔ تم پر عذاب لانا یا تمہارے دلوں میں ہدایت اتار دینا یہ میرے بس میں نہیں۔ اگر میں نے ابلاغ کا حق ادا کردیا تو میں اپنی ذمہ داری سے بری ہوگیا۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–24

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔ اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23 : اِلَّابَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ (لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانا) نحو : نمبر 1۔ یہ لا املک سے استثناء ہے ای لا املک لکم ضرًا ولا رشدًا الا بلا غامن اللہ میں تمہارے لئے ذرہ بھرگمراہی اور ہدایت کا مالک نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (اس کا پیغام) پہنچانا ہے۔ اور نمبر 2۔ (قل انی لن یجیرنی) یہ جملہ معترضہ ہے جو اپنی ذات سے استطاعت کی نفی اور آپ کے بیان عجز کی تاکید ہے۔ نمبر 3۔ نحو : بلاغاً یہ ملتحد ًا سے بدل ہے۔ ای لن اجد من دونہ منجی الا ان ابلغ عنہ ما ارسلنی بہٖ میں ہرگز اس کے سوا کو پناہ کی جگہ نہیں پاتا سوائے اس کے کہ میں اس پیغام کو پہنچا دوں۔ جو اس نے مجھے دے کر بھیجا ہے۔ یعنی مجھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔” قل انی لن یجیرنی من اللہ احمد “ مجھے اس سے کوئی نہ بچائے گا، اگر میں نے اس کی نافرمانی کی۔ ” ولن اجد من دونہ ملتحدا “ جائے پناہ جس کی طرف میں مائل ہوں اور ملتحد کا معنی یعنی مائل ہونے والا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں حفاظت کی جگہ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں زمین میں داخل ہونے کی جگہ جیسے تہہ خانہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–24

18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِلَّا بَلٰـغًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِسٰلٰتِهٖ ) مجھے لوگوں پر کوئی خصوصیت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق تک اپنے پیـغام پہنچانے اور ان کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے مختص کیا ہے اور اسی سے لوگوں پر حجت قائم ہوتی ہے۔ (وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا) اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، ایسے لوگ جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اس سے مراد معصیت کفریہ ہے جیسا کہ دیگر محکم نصوص اس کو مقید کرتی ہیں، رہی مجرد معصیت تو وہ جہنم میں خلود کی موجب نہیں جیسا کہ قرآن کی آیات اور نبی اکرم ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 پیغمبر کا کام پیغام حق پہنچا دینا اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میرا کام تو صرف اللہ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے نہ کچھ میرے بس اور اختیار میں ہے اور نہ ہی میری ذمہ داری ہے تم اگر میری ات مانو گے تو تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا، ورنہ اپنا ہی نقصان کرو گے والعیاذ باللہ، اس آیت کا تعلق " لا املک لکم اجراولا رشدا " اوپر والی آیت سے ہے یعنی میں نہ تو تمہارے مطالبے پر تمہیں عذاب دکھا سکتا ہوں اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا ہوں، میرا کام تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ میں بلا کم وکاست تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تم لوگوں کو آگاہ کردوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–28

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–24

ف 1 مراد دنیا کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کا عذاب بھی2 یعنی تم جو ہم پر جتھے بنا بنا کر ہجوم کرتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی کمزور اور تھوڑے ہیں تو جب اللہ کا یہ عذاب آئے گا اس وقت پتا چلے گا کہ حقیقت میں کس کے ساتھی کمر ہو اور تھوڑی تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:23) الا بلغا من اللہ ورسلتہ : بلغ مصدر (باب نصر) سے جس کے معنی پہنچا دینا۔ یا کافی ہونے کے ہیں۔ قرآن مجید میں بمعنی تبلیغ آیا ہے یا کافی کے معنی میں جیسے کہ :۔ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عبدین (22:106) اس میں کفایت ہے عبادت کرنے والی جماعت کے لئے (لغات القرآن) ۔ آیت زیر غور کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) الا استثنائیہ نہیں ہے بلکہ ان شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ معنی ہوں گے ان لا ابلغ بلاغا لن اجد من دونہ ملتحدا۔ اگر میں (خدا کے احکام و پیغام کی کما حقہ) تبلیغ نہیں کروں گا تو اس کے سوا مجھے کہیں بھی پناہ نہیں ملے گی۔ (حقانی) ۔ اس میں الا بلغا من اللہ جملہ شرطیہ ہوگا۔ اور لن اجد من دونہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–28

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–23

(3) جب خدا بندہ کامل محمدرسول اللہ ﷺ خدا کی عبادت کو اس کی یاد کو کھڑے ہوتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں تو ٹھٹھہ کے ساتھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں ، یعنی جب حضور بطن نخلہ میں قران پڑھ رہے تھے تو جن آئے اور حضرت کو دیکھ کر اور اپنے مقصود کو پاکر محبت سے تعجب سے قرآن سننے کو، رسول اللہ کا جمال پاک دیکھنے کو جمگھٹ کرکے حضرت کے اوپر جھکے پڑتے ہیں گویا حضرت پر فرط شوق میں گرپڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–24

[6] یعنی قیامت۔ [7] یعنی آج تو کافروں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت و جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے، وہ یا اللہ کا رسول جس کی تنبیہ کو انہوں نے حقیر جانا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–28

انبیا کی حدود معرفت 1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) مگرہاں میرا کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانا اور اس کے پیغامات کو اداکرنا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو یقینا ان کے لئے جہنم کی آگ ہوگی جس آگ میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی اس کے عقاب سے کوئی چیز نجات دلانے والی نہیں مگر ہاں یہی خدائی امور اور احکام الٰہی کی تبلیغ پناہ دے سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے قہر سے کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی مگر ہاں چھڑا سکتی ہے تو یہی چیز چھڑا سکتی ہے کہ جو احکام اس نے میری طرف بھیجے ہیں میں اس کی مخلوق تک ان احکام کو پہنچا دوں پھر جو کوئی اس تبلیغ کے بعد بھی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور شرک کو چھوڑ کر توحید کو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں ! میرا کام اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچانا ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی اس کے لیے آگ ہے 23 ؎ زیر نظر آیت کا تعلق گزشتہ آیت 21 کے ساتھ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں اور نہ ہی تم میں سے کسی کو راہ راست پر لگا دینے کا اختیار رکھتا ہوں۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا کہ میرا کام فقط یہ ہے کہ میں لوگوں تک اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچا دوں اور وہ میں تم کو بےکم وکاست پہنچا رہا ہوں ۔ ان کو ماننا نہ ماننا ، قبول کرنا نہ کرنا ، ان کے مطابق عمل کرنا نہ کرنا تمہارا کام ہے یہ میری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں ! میں اللہ کے حکم سے یہ بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–24

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–23

21 That is, to call upon Allah is no objectionable thing, which may so provoke the people. The evil thing, however, is that one should associate another with Allah in His divinity, and this I never do; this is done by those who mob and surround me when they hear God mentioned by me.

Read the full tafseer →