Al-Jinn 72:24

Al-Jinn · from ayah 24

72:24

حَتّٰۤی اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا ۟حَتّٰٓى اِذَا رَاَوۡا مَا يُوۡعَدُوۡنَ فَسَيَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَضۡعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا‏

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[The disbelievers continue] until, when they see that which they are promised, then they will know who is weaker in helpers and less in number.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:24

(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہو جائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اور یہ لوگ نافرمانی کرتے رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز انہیں نظر آجائے گی جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے تو اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں، اور کون تعداد میں کم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس ک مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (عذاب) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو (اُس وقت) انہیں معلوم ہوگا کہ کون مددگار کے اعتبار سے کمزور تر اور عدد کے اِعتبار سے کم تر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(یہ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب وہ چیز دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مددگار کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے اور جو تعداد میں زیادہ کم ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یہ لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے) تاآنکہ وہ (عذاب) دیکھ نہ لیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ پھر جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور گنتی میں کم ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے اس چیز کو جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے تب وہ جانیں گے کہ مدد گاروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور تعداد کے لحاظ سے سب سے حقیر کون ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ لوگ اپنی اس ہٹ دھرمی ہی پر اڑے رہیں گے) یہاں تک کہ جب یہ خود دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اس وقت جان لیں گے کہ مددگار کس کے کمزور ہیں اور تعداد کس کی کمتر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ دن دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(They shall not change their ways) until they see that against which they had been warned, and then they will know whose helpers are weaker and whose supporters are fewer in number.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(The disbelievers will continue denying the truth and mock at it) until when they will see what they are promised, they will know whose supporters are weaker, and whose numbers are less.

— Muhammad Taqi Usmani

(The disbelievers will continue denying the truth and mock at it) until when they will see what they are promised, they will know whose supporters are weaker, and whose numbers are less.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Till, when they see that which they are promised, then they will know who it is that is weaker concerning helpers and less important concerning numbers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Till (the day) when they shall behold that which they are promised (they may doubt); but then they will know (for certain) who is weaker in allies and less in multitude.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[The disbelievers continue] until, when they see that which they are promised, then they will know who is weaker in helpers and less in number.

— Saheeh International

(On the Day of Judgment) when the disbelievers witness that with which they have been threatened, they will then know whose helpers are weaker and fewer in number.

— Muhammad Sarwar

Until when they see what they are threatened with, then shall they know who is weaker in helpers and fewer in number.

— Muhammad Habib Shakir

They shall go on denying until they; behold that which they are promised wherefore then they shall know who were weaker in protectors and fewer in number.

— Abdul Majid Daryabadi

At length, when they see (with their own eyes) that which they are promised,- then will they know who it is that is weakest in (his) helper and least important in point of numbers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–24

آداب سجدہ اور جنات کا اسلام لانا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی عبادت کی جگہوں کو شرک سے پاک رکھیں، وہاں کسی دوسرے کا نام نہ پکاریں، نہ کسی اور کو اللہ کی عبادت میں شریک کریں، حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اپنے گرجوں اور کنیسوں میں جا کر اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے تو اس امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ نبی بھی اور امت بھی سب توحید والے رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت کے نزول کے وقت صرف مسجد اقصیٰ تھی اور مسجد حرام، حضرت اعمش نے اس آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ جنات نےحضور ﷺ سے اجازت چاہی کہ آپ کی مسجد میں اور انسانوں کے ساتھ نماز ادا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 24 اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ اس زمانے میں قریش کے جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت الی اللہ کو سنتے ہی آپ پر ٹوٹ پڑتے تھے وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کا جتھا بڑا زبردست ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چند مٹھی بھر آدمی ہیں اس لیے وہ بآسانی آپ کو دبا لیں گے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ آج یہ لوگ رسول کو بےیارو مددگار اور اپنے آپ کو کثیر التعداد دیکھ کر حق کی آواز کو دبانے کے لیے بڑے دلیر ہو رہے ہیں، مگر جب وہ برا وقت آجائے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ بےیارو مددگار حقیقت میں کون ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

(آیت) وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا مساجد جمع مسجد ہے، یہاں اس کے معروف و مشہور معنے بھی لئے جاسکتے ہیں یعنی وہ عبادت گاہیں جو نماز کے لئے وقف کی جاتی ہیں اور مسجد کہلاتی ہیں اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب سب مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں تو تم مسجدوں میں جا کر اللہ کے سوا کسی اور کو مدد کے لئے نہ پکارو جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں اس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حاصل اس کا مساجد کو عقیدہ فاسدہ اور اعمال باطلہ سے پاک رکھنا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مساجد مسجد بفتح الجیم کی جمع ہو جو مصدر میمی بمعنے سجدہ آتا ہے تو معنی آیت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی آج تو ان لوگوں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت اور جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے؟ وہ، یا اللہ کا رسول جس کے انذار کو انھوں نے حقیر جانا؟ ’مَا یُوْعَدُوْنَ‘ کے مفہوم میں وہ عذاب بھی داخل ہے جو رسول کی تکذیب کی پاداش میں لازماً اس کی قوم پر اس دنیا میں آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے قیامت میں سابقہ پیش آئے گا۔ سورۂ نوح کی آیت ۲۵ میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی ﷺ اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 24۔ 2 یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا ؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہوگا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

12: سورة مریم (19: 73) میں ہے کہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ : ہم دونوں فریقوں میں سے کس کا مقام زیادہ بہتر ہے اور کس کی مجلس زیادہ اچھی ہے۔ یعنی کس کے مددگار طاقت اور گنتی میں زیادہ ہیں، اس آیت میں کافروں کی اسی قسم کی باتوں کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب سامنے آئے گا اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ کس کے مددگار کمزور یا تعداد میں زیادہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–24

قل انی .................... ملتحد (22) الا بلغا ............ اللہ ورسلتہ (27 : 32) ” کہو ، ” مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پاسکتا ہوں۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچادوں “۔ یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا معاملہ کس قدر نازک اور سنجیدہ ہے۔ رسالت اور دعوت اسلامی نہایت حساس امور ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کردیں کہ مجھے اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ، بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ میں تبلیغ کروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی تم جو جتھے باندھ کر ہم پر ہجوم کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھی تھوڑے سے آدمی ہیں وہ بھی کمزور تو جب وعدہ کا وقت آئے گا اس وقت پتہ لگے گا کہ کس کے ساتھی کمزور اور گنتی میں تھوڑے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24{ حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے“ { فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۔ } ”اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔“ سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضور ﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور ُ پررونق ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ تو نچلے طبقے کے چند غریب ‘ کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 یہ ہجوم کرنے والے مشرک آج تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان مسلمانوں کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے۔ ہم ان پر ہجوم کرکے ہی انہیں مرعوب کرسکتے ہیں۔ لیکن عنقریب ایک وقت آنے والا ہے جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سے فریق کی تعداد تھوڑی ہے اور اس کے مددگار کم ہیں اور یہ وقت فتح مکہ کا دن بھی ہوسکتا ہے اور قیامت کا دن تو بہرحال یقینی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

16۔ مطلب یہ ہے کہ آج یہ کافر غفلت و استکبار میں پڑے ہوئے فخر وناز کررہے ہیں کہ دیکھو ہمارا جتھا ہمارا گروہ کتنا بڑ ا ہے، اور ہمیں قوت وجاہ کیسی حاصل ہے۔ “ اور کوئی دلیل عقلی یانقلی انہیں اس سفاہت سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ مرتے ہی ان پر کھل جائے گا کہ خودوہی ایسے تھے، جن کے کام کوئی نہ آسکا۔ (آیت) ” من اضعف ناصرا “۔ اس میں نفی ہوگئی، نفع اعلی کی۔ (آیت) ” واقل عددا “۔ اس میں نفی ہوگئی نفع ادنی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

ترجمہ : کفار کی اس بات کے جواب میں کہ آپ اپنی اس تبلیغ سے باز آجائیے آپ نے جواباً فرمایا ایک قرأت میں قل ہے، میں تو اپنے رب ہی کو معبود ہونے کے اعتبار سے پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا آپ کہہ دیجئے میں تمہارے نفع نقصان کا مالک نہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے (یعنی) اس کے عذاب سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں نہیں بچا سکتا اور میں اس کے علاوہ ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پاتا مگر میرا کام اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دینا ہے الا بلاغا، املک کے مفعول سے استثناء ہے یعنی میں تمہارے لئے سوائے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانے کے کسی چیز کا مالک نہیں ورسالاتہ کا عطف بلاغا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حتی اذا راوا ما یوعدون . ما یوعدون سے مراد یا دنیوی عذاب ہے جیسے بدر کا واقعہ (اور اس میں کفار کا قتل) یا قیامت مراد ہے یعنی ساعت موت ‘ کیونکہ جو مرگیا اس کی قیامت آگئی اور قیامت کے دن جہنم کو دکھایا جائے گا (پس جو مرگیا اس نے جہنم دیکھ لیا) ۔ فسیعلمون . جب عذاب آپڑے گا اس وقت ان کو معلوم ہوگا۔ من اضعف ناصرا واقل عددا . کہ مددگاروں کے لحاظ سے کون کمزور ہے اور تعداد کس کی کم ہے ‘ ان کی یا رسول اللہ ﷺ کی۔ یہ پورا سوالیہ جملہ فسیعلمون کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو محمد آپ ان کی حالت کو اس وقت دیکھیے کہ جس وقت یہ عذاب کا نظارہ کریں گے تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(حتی اذا راواما یوعدون…: یعنی کفار اپنی تعداد کی کثرت اور اپنے مددگ اورں کی قوت پر فخر اور مسلمانوں کی قلت تعداد اور کمزوری پر طعن کرتے ہیں تو کرتے رہیں، یہ سب کچھ تھوڑے وقت کے لئے ہے، یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ چیز (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ مددگ اورں کے لحاظ سے کمزور اور تعداد میں کم کون ہے ؟ وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس سے مراد اسلام کا غلبہ اور کفار ک شکست بھی ہے، جیسا کہ بدر، خندق، فتح مکہ اور حنین بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، کفار پر خوف اور قحط کا مسل ہونا بھی ہے اور مرتے وقت فرشتوں کا ان کے مونہوں اور پیٹھوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا فرمان : حتی اذا روا مایوعدون۔ یہاں تک کہ جب وہ اس آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے جن کی انہیں دھمکی دی گئی ہے یا وہ دنیا کے عذاب کو دیکھیں گے جس کی انہیں دھمکی دی گئی ہے وہ بدر کے میدان میں ان کا قتل ہے اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور ہے وہ یا مومن اور کس کی تعداد کم ہے، واقل عددا یہ معطوف ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–25

12۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی رات میں نبی ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ جحون میں تشریف لائے آپ نے مجھ پر ایک خط کھینچ کر حصار کردیا۔ پھر ان کی طرف آگے بڑھ گئے۔ وہ ہجوم کر کے آپ پر آگئے۔ ان کے سردار نے کہا جس کو دردان کہا جاتا تھا۔ یا رسول اللہ ! کیا میں ان کو آپ سے دور نہ ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انی لن یجیرنی من اللہ احد کہہ دو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 13۔۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولن اجد من دونہ ملتحدا اور نہ مجھ اس کے سوا پناہ ملے گی۔ یعنی پناہ کی جگہ۔ 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[حَتّىٰٓ اِذَا رَاَوْا : یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے ] [مَا يُوْعَدُوْنَ : اس کو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [فَسَيَعْلَمُوْنَ : تو وہ لوگ جان لیں گے ] [مَنْ اَضْعَفُ : کہ کون زیادہ ضعیف ہے ] [نَاصِرًا : بلحاظ مدد گار کے ] [وَّاَقَلُّ عَدَدًا : اور زیادہ قلیل ہے بلحاظ گنتی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا ﴾ (الآیۃ) اب تو باتیں بنا رہے ہیں لیکن جب قیامت کا دن ہوگا جس کے منکر ہو رہے ہیں (حالانکہ وہ وعدہ سچا ہے) تو اس وقت پتہ چلے گا کہ مددگاروں کے اعتبار سے کون کمزور تر ہے اور جماعت کے اعتبار سے بھی سمجھ لیں گے کہ کس کی جماعت کم ہے، یہاں اس دنیا میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی تعداد کم ہے اور اپنے کو بلندو برتر سمجھتے ہیں۔ قیامت کے دن دیکھیں گے کہ جنہیں حقیر جانا وہی بلند نکلے ان کی تو آپس میں شفاعتیں بھی ہوں گی اور مجرمین کا کوئی دوست ہوگا نہ مددگار نہ سفارش کرنا والا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔ (ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ ” حتی اذا راو “ یہ اب تو نہیں مانتے اور ضد وعناد کی وجہ سے انکار و جحود پر اڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ جب عذاب موعود کو دیکھ لیں گے تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ کن کا مددگار اور حامی وناصر کمزور اور عاجز ہے اور کن کے اعوان و انصار کی تعداد کم ہے ؟ مشرکین کی یارسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی یہ حقیقت میدان بدر میں مشرکین پر منکشف ہوئی جبکہ مٹھی بھر اور بےسرو سامان مسلمانوں کے ہاتھوں تین گنا مشرکین نے ذلت آمیز ہزیمت اٹھائی حالانکہ وہ ہر قسم کے سامان جنگ سے آراستہ تھی۔ مسلمانوں کی اللہ نے مدد فرمائی اور فرشتوں کو بھیج کر ان کے حامیوں میں اضافہ فرمایا مگر مشرکین کے مزعومہ کارساز اور مددگار ان کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–28

گذشتہ سے پیوستہ : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کریم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف اس با ت کی وحی کی گئی ہے۔ کہ جنات کے ایک گروہ نے کلام الہٰی پر ایمان لائے اور کفر و شرک سے بیزاری کا اعلان کیا۔ دوسری بات آپ یہ بھی فرمادیں کہ اگر انسان اور جن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے یعنی اس کی وحدانیت عبادت اور اطاعت کے راستے پر رہیں گے تو ہم ان کے لیے وسائل رزق کو آسان کردیں گے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں۔ اس کی ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو ، کسی کو نہ پکارو۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے متعلق فرمایا کہ اللہ کا بنہد جب اسے پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ لوگ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حَتّٰٓي اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۝ 24 حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–28

ترکیب : حتی الشیء الذی جعل مابعد حتی غایۃ لہ فیہ قولان (الاول) انہ متعلق بقولہ یکونون علیہ لبد او التقدیر انھم یتظاہرون علیہ بالعدادۃ حتی اذاراو مایوعدون من یوم بدرا وفتح مبین اویوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھوا ضعف ناصراواقل عددا (والثانی) انہ متعلق بمحذوف کانہ قیل الکفار لایزالون علی ماھم علیہ حتی اذاکان کذاوکذا کان کذا ونظیر ھذہ الآیۃ آیۃ فی سورة مریم وھی حتیٰ اذاروا مایوعدون اما العذاب واما الساعۃ اذاشرطیۃ فستعلمون جو ابھا ویفھم من کلام القرطبی ان حتی لمجرد الابتداء من غیرملاحظۃ معنی الغایۃ فتکون جملۃ مستقلۃ بالاستفادۃ۔ عالم الغیب خبرمبتداء محذوف ای ھوا الجملۃ مستانفہ مقررۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْامَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا۔ (الجن : 24) (حتیٰ کہ جب وہ دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ مددگاروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور تعداد کے لحاظ سے سب سے حقیر کون ہے۔ ) قریش کے زعم باطل کا رد اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب قریش کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتے اور قرآن کریم پڑھ کر سناتے تو وہ آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑتے اور کوشش کرتے کہ آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کا راستہ روک دیں۔ اور زعم انھیں یہ تھا کہ ان کا جتھہ زبردست ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چند مٹھی بھر آدمی ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–24

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے خیالات کی تائید قرآن مجید کے الفاظ میں۔ اس سے پہلے ایماندار جنوں کے خیالات کو قرآن کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کے ذریعے براہ راست اپنے بندوں کو سمجھاتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! بتلائیں کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ صحیح راستے پر چلیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کثیر پانی سے سیراب فرمائے گا۔ یاد رہے کہ دنیا کی زندگی اور انسانی وسائل کا تعلق پانی سے ہے اس لیے فرمایا کہ ہم انہیں پانی سے سیراب کریں گے یعنی ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ فرمائیں گے۔ انہیں پھر بتلائیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا وہ اسے سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اے نبی !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24 : حَتّٰی یہ محذوف کے متعلق ہے جس پر موقعہ دلالت کر رہا ہے گویا اس طرح کہا گیا لا یزالون علی ماھم علیہ حتٰی اذا وہ جس پر ہیں اس پر ہمیشہ رہیں گے یہاں تک کہ اِذَا رَاَوْامَا یُوْعَدُوْنَ (جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) یعنی عذابفَسَیَعْلَمُوْنَ (اس وقت وہ جانیں گے) جبکہ عذاب ان پر اتر پڑے گا۔ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًاوَّ اَقَلُّ عَدَدًا (کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے) آیاوہ یا مومن یعنی کافروں کا اس دن کوئی مددگار نہ ہوگا اور مومن کے مددگار اللہ جل شانہ اور اس کے ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23 ۔” الابلاغا من اللہ ورسالاتہ “ پس اس میں پناہ ، امن اور نجات ہے۔ اس کو حسن نے کہا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ وہ چیز ہے جو مجھے اللہ کے عذاب سے پناہ دے گی یعنی تبلیغ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” الابلاغا من اللہ “ پس یہ وہ چیز ہے جس کا میں مالک ہوں اللہ کی مدد اور توفیق کے ساتھ اور کہا گیا ہے میں تمہارے لئے نقصان اور خیر کا مالک نہیں ہوں لیکن میں پہنچاتا ہوں اللہ کے پیغام کیونکہ میں اس کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میں مالک نہیں ہوں مگر اسی چیز کا جس کا میں مالک بنایا گیا ہوں۔ ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ اور ایمان نہیں لایا۔ ” فان لہ نار جھنم خالدین فیھا ابدا “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 18–24

18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(حَتّىٰٓ اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ ) یعنی جب وہ عیاں طور پر اس کا مشاہدہ کریں گے انہیں یقین آجائے گا کہ وہ ان پر واقع ہونے والا ہے۔ (فسیعلمون) تب انہیں حقیقت معلوم ہوگی کہ (مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا) مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کا تھوڑا ہے۔ جب کوئی دوسرا ان کی مدد کرسکے گا نہ وہ خود اپنی مدد کرسکیں گے اور جب انہیں اکیلے اکیلے اٹھایا جائے گا جیسا کہ وہ پہلی مرتبہ پیدا کیے گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 ۔ منکرین کیلئے تنبیہہ و تذکیر کا ذکر وبیان، سو اس سے منکرین کو ان کے انجام کے بارے میں تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی ہے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسے ہی رہیں گے یہاں تک کہ جب یہ دیکھ لیں اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ یعنی قیامت کا وہ حقیقی اور دائمی عذاب جس سے آج ان کو خبردار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت سب کچھ ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گا اور ان کو معلوم ہو جئایگا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کے جتھے کی تعداد کم ہے۔ تو اس وقت ان کی پاس و حسرت اور ان کے پچھتاوے کی کوئی حد اور انتہاء نہیں ہوگی۔ مگر اس وقت ان کے پچھتانے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، سوائے یاس و حسرت میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–28

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 23–24

ف 1 مراد دنیا کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور آخرت کا عذاب بھی2 یعنی تم جو ہم پر جتھے بنا بنا کر ہجوم کرتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی کمزور اور تھوڑے ہیں تو جب اللہ کا یہ عذاب آئے گا اس وقت پتا چلے گا کہ حقیقت میں کس کے ساتھی کمر ہو اور تھوڑی تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:24) حتی : حرف جار ہے انتہا وقت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اس کے متعلق دو قول ہیں :۔ (1) یہ یکونون علیہ لبدا (لوگ اس پر جھمگٹا کرنے لگتے ہیں) کے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہے :۔ انھم یتظاھرون علیہ بالعداوۃ حتی اذا راوا ما یوعدون من یوم بدر و فتح مبین او یوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھو اضعف ناصرا واقل عدوا۔ وہ اس کے خلاف یعنی رسول اکرم ﷺ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے جیسے یوم بدر، فتح مبین، یوم قیامت یا وقت موت پس اس وقت وہ جان لیں گے کہ کس کی مدد کمزور ہے اور گنتی میں کون کم ہے۔ (2) یہ محذوف کے متعلق ہے مثلاً…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–28

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اے محبوب ﷺ ان کو اس وقت تک مہلت دو جبکہ عذاب آجائے جب وہ اس عذاب الٰہی کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ ہے تو اس وقت جان جائیں گے کہ کمزور کون ہے قوی کون، کس کے مددگار کم ہیں کس کے زائد وہ زمانہ بھی قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–24

[6] یعنی قیامت۔ [7] یعنی آج تو کافروں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت و جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے، وہ یا اللہ کا رسول جس کی تنبیہ کو انہوں نے حقیر جانا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–28

انبیا کی حدود معرفت 1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) آخر کار جب یہ اقلیت واکثرت اور مددگاروں کی کمی بیشی کا طعنہ دینے والے اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور اور شمار کیا عتبار سے کم ہے۔ یعنی عام طور سے کفار اپنی اکثریت پر نازاں تھے اور اپنے حمایتوں کی تعداد پر فخر کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر مسلمانوں پر ہجوم کرتے تھے اس کا جواب سورة مریم میں دیا گیا ہے اور یہاں بھی ہجوم وجتھ بندی کا جواب ہے کہ یہ کافر جو مسلمانوں کو ان کی کمزوری کا اور ان کی تعداد کی کمی کا طعنہ دیتے اور پیغمبر پر قرآن پڑھنے کی حالت میں ہجوم کرتے ہیں۔ جب ان…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب وہ عذاب الٰہی کو دیکھ لیں گے تو جان لیں گے کہ کس کے مدد گار کمزور ہیں 24 ؎ جس چیز کو آج تم ماننے ہی کے لیے تیار نہیں ہو اور ہمارا رسول جب بھی آخرت کا نام لیتا ہے تم جزبز ہونے لگتے ہو کل جب تم اس سے دو چار ہو گے اور اس دن کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے تو تمہارے غبارے سے ساری ہوا خارج ہوجائے گی ۔ تم کو انکار کیوں نہیں ؟ محض اس لیے کہ تم اپنے آپ کو بڑا طاقت ور اور زور آور سمجھتے ہو۔ تمہارا یہ بھی خیال ہے کہ جب تم اپنے حلیف لوگوں کو مدد کے لیے پکارو گے تو تانتا بندھ جائے گا لیکن یہ سب تمہاری غلط فہمیاں ہیں جب عذاب کی مقرر گھڑی آپہنچے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس وقت تمہاری مدد کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–24

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا (...and that masajid (mosques) belong to Allah; so, do not invoke anyone along with Allah....72:18). The word masajid is the plural of masjid. Here the word could be taken in its popular sense, that is, mosques or places of worship dedicated for the performance of prayers. In this case, it would mean that all mosques belong to Allah, dedicated to His sole worship and therefore we are not permitted to call on anyone else besides Allah, like the Jews and Christians commit shirk in their places of worship. In sum, the mosques…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 That is, "I do not claim to have any share or role in the Godhead of AIIah, nor that I possess any power in making or marring the people's destinies. I am only a Messenger and the mission that has been entrusted to me is no more than that I should convey the messages of Allah to you. As for the powers of Godhead, they wholly belong to Allah. Not to speak of benefiting or harming others, I do not have the power to cause good or harm even to myself. If I disobey AIlah, I cannot seek and have refuge anywhere from His punishment, and 1 have no helper and protector beside AIIah." (For further…

Read the full tafseer →