Explained with ayahs 25–28
اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے،…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 25
انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک سوال کا جواب ہے جو سوال نقل کیے بغیر دیا گیا ہے۔ غالباً اوپر کی بات سن کر مخالفین نے طنز اور مذاق کے طور پر سوال کیا ہوگا کہ وہ وقت جس کا ڈراوا آپ دے رہے ہیں آخر کب آئے گا ؟ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے کہو، اس وقت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کی تاریخ مجھے نہیں بتائی گئی۔ یہ بات اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ آیا وہ جلدی آنے و الا ہے یا اس کے لیے ایک طویل مدت مقرر کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) قُلْ اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا 25 عٰلِمُ الْغَيْبِ ان آیتوں میں سے پہلی آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ ان منکرین سے جو آپ کو قیامت کا معین وقت بتلانے پر مجبور کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں یہ فرما دیجئے کہ قیامت کا آنا اور وہاں جزاء و سزا ہونا تو یقینی ہے لیکن اس کے واقع ہونے کی صحیح تاریخ اور وقت کو اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا اس لئے میں نہیں جانتا کہ وہ روز قیامت قریب آ چکا ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کر دے گا۔
Read the full tafseer →یعنی جو لوگ عذاب یا قیامت کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں اور تمہیں زچ کرنے کو پوچھتے ہیں کہ اس کا ظہور کب ہو گا ان کو جواب دے دو کہ خدا نے مجھے اس سے صرف آگاہ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ سو میں نے اس سے آگاہ کر دیا۔ رہی یہ بات کہ اس کا ظہور کب ہو گا تو اس کی کوئی خبر مجھے نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ بالکل قریب آ لگا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ میرا رب کچھ مدت کے لیے اس کو ابھی اور ٹالے۔
Read the full tafseer →25۔ 1 مطلب یہ ہے کہ عذاب یا قیامت کا علم، یہ غیب سے تعلق رکھتا ہے جس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ قریب ہے یا دور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
13: اس سے مراد قیامت ہے جس کا ٹھیک ٹھیک وقت کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →اب نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ طاقت کے علاوہ اپنے بارے میں علم غیب کی بھی نفی کردیں۔
قل ان .................... امدا (27 : 52) ” کہو ، ” میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے “۔ دعوت کے معاملات میں آپ کا کوئی اختیار نہیں اور نہ اس میں آپ کا کوئی ذاتی حق ہے۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ تبلیغ کریں۔ اور اپنے آپ کو اس طرح محفوظ خطے میں داخل کردیں اور محفوظ خطے میں وہی شخص داخل ہوسکتا ہے جو تبلیغ کا حق ادا کردے۔ اور تکذیب اور نافرمانی پر اللہ جس برے انجام سے ڈراتا ہے وہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ آپ کو اس میں بھی دلی اختیار حاصل…
Read the full tafseer →2 یعنی اس کا علم مجھے نہیں دیا گیا کہ وعدہ جلد آنے والا ہے، یا ایک مدت کے بعد۔ کیونکہ قیامت کا وقت معین کر کے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا۔ یہ ان غیوب میں سے ہے جو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →آیت 25{ قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا۔ } ”آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔“
مَا تُوْعَدُوْنَ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ وہ چیز جس کی تم لوگوں کو وعید یا دھمکی دی جا رہی ہے۔ وعدہ اور وعید دونوں الفاظ ایک ہی مادہ وعد سے مشتق ہیں۔ اس لحاظ سے وعید دھمکی کی حیثیت بھی گویا ایک وعدے کی سی ہے۔ اس آیت کا مضمون ملتے جلتے الفاظ میں سورة الانبیاء کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : { وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ۔ } کہ اے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
23 اس آیت میں سوال دہرائے بغیر کفار کے ایک بار بار کے گھسے پٹے سوال کا جواب دیا جارہا ہے جو یہ کہ قیامت کے دن کی معین تاریخ کا مجھے کچھ علم نہیں اس لیے کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں نہ ہی میں نے کبھی اس بات کا دعویٰ کیا ہے۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی جانتا ہے کہ وہ جلد آئے گی یا بدیر ؟ ہاں اتنی بات میں بھی جانتا ہوں کہ وہ آئے گی ضرور خواہ کب آئے۔
Read the full tafseer →17۔ (چنانچہ مجھے بھی مطلع نہیں کیا ہے) (آیت) ” مایوعدون “۔ یعنی یوم حشر اور اس دن کا عذاب۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی نفس آمدیقینی ہے اور ہر شک وشبہ سے بالاتر، رہیں اس کے وقت وغیرہ کی تفصیلات تو اس کا تعلق غیب سے ہے، اور اس کا علم مجھے حاصل نہیں، نہ علوم نبوت سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ (آیت) ” علم الغیب “۔ یعنی غیب دانی تو صفت خاصہ حق تعالیٰ کی ہے، الغیب میں ال استغراق کا ہے۔ یعنی حقیقی واضافی جمیع اقسام غیب۔ (آیت) ” فلایظہر “۔ مفہوم سلب کا عمومی ہے۔ یعنی غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا، (آیت) ” قل ..... امدا “۔ جاہلوں میں جو یہ موضوع حدیث مشہور ہوگئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تربت مبارک میں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
قل ان ادری اقریب ما توعدون (الآیۃ) ان آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ ان منکرین سے جو آپ کو قیامت کا معین وقت بتلانے پر مجبور کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں، یہ فرما دیجئے کہ قیامت کا آنا اور جزاء سزا کا ہونا تو یقینی ہے لیکن اس کے واقع ہونے کی صحیح تاریخ اور وقت کو اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا، اس لئے میں نہیں جانتا کہ وہ روز قیامت قریب آچکا ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کرے گا دوسری آیت میں اس کی دلیل ارشاد فرمائی، عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا یعنی قیامت کے وقت معین سے میری لاعلمی اس لئے ہے کہ میں عالم الغیب نہیں بلکہ عالم…
Read the full tafseer →قل . اے محمد ﷺ کہہدو۔
ان ادری . میں نہیں جانتا کہ۔
اقریب . بعض کافروں نے وعید عذاب کے پورا ہونے کی طلب کی اور کہا یہ وعدۂ عذاب کب پورا ہوگا ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ قریبٌ خبر مقدم اور ما تو عدون مبتداء مؤخر ہے یا قریبٌ مبتداء از قسم فعل مشبہ اور ما تو عدون اس کا فاعل ہے۔
ما تو عدون . یعنی (دنیوی) عذاب یا قیامت۔
ام یجعل لہ ربی امدا . امد بمعنی انتہاء اور مقررہ وقت جس سے سوائے خدا کے کوئی واقف نہیں۔
Read the full tafseer →جس وقت یہ عذاب کے نازل ہونے کا جلدی مطالبہ کریں تو آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے مجھے معلوم نہیں کہ وہ عذاب نزدیک ہے یا یہ کہ اس کے لیے کوئی لمبی مدت مقرر کر رکھی ہے وہ نزول عذاب سے واقف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
قل ان ادری اقریب …) یعنی یہ جاننا کہ کل کیا ہوگا اور قیامت کب آئے گی غیب میں شامل ہے اور غیب جاننے والا صرف اور صرف میرا رب ہے، چناچہ دوسری جگہ فرمایا :(ان الہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غداً وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر) (لقمان، 33)”بیشک اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →قل ان ادری اقریب ماتوعدون۔ اس سے مراد قیامت کا واقع ہونا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے یعنی میں نہیں جانتا کیونکہ ان، لا، یاما، کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا عذاب کے نازل ہونے کا وقت اور قیامت کے برپا ہونے کا وقت کوئی نہیں جانتا۔ وہ وقت غیب ہے میں اتنا ہی غیب جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے۔ مایوعدون میں جو ما ہے اس کے بارے میں یہ جائز ہے کہ وہ اپنے فعل کے ساتھ مل کر مصدر ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ الذی کے معنی میں ہوتوضمیر عائد کو مقدر ماناجائے گا اور امدا کا معنی انتہا اور مدت ہے عام قراء نے ربی کی یاء کو ساکن پڑھا ہے حرم کے دونوں قاریوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
12۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنات کی رات میں نبی ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ جحون میں تشریف لائے آپ نے مجھ پر ایک خط کھینچ کر حصار کردیا۔ پھر ان کی طرف آگے بڑھ گئے۔ وہ ہجوم کر کے آپ پر آگئے۔ ان کے سردار نے کہا جس کو دردان کہا جاتا تھا۔ یا رسول اللہ ! کیا میں ان کو آپ سے دور نہ ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انی لن یجیرنی من اللہ احد کہہ دو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
13۔۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولن اجد من دونہ ملتحدا اور نہ مجھ اس کے سوا پناہ ملے گی۔ یعنی پناہ کی جگہ۔
14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت…
Read the full tafseer →[قُلْ ان اَدْرِيْٓ: آپ ﷺ کہیے میں نہیں جانتا ] [اَقَرِيْبٌ: آیا قریب ہے ] [مَا تُوْعَدُوْنَ : وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِيْٓ: یا مقرر کرے گا اس کے لیے میرا رب ] [اَمَدًا : کوئی مدت ]
(آیت۔ 25 ۔ 26) ۔ رَبِّیْ پر یائے متکلم ہے اس لیے اس کی رفع، نصب ختم ہوگئی ہے۔ اس آیت میں یہ یَجْعَلُ کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ اس کا بدل ہے اس لیے عٰلِمُ حالت رفع میں آیا ہے۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 25 ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ جو لوگ آپ کو قیامت کا معیّن وقت بتلانے پر مجبور کرتے ہیں ان سے کہہ دیں کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے لیکن اس کے واقع ہونے کی صحیح…
Read the full tafseer →﴿قُلْ اِنْ اَدْرِيْۤ﴾ (الآیۃ) جب رسول اللہ ﷺ اپنے مخاطبین کو قیامت کی بات بتاتے تھے اور یہ سمجھاتے تھے کہ مرنے کے بعد زندہ اٹھائے جاؤ گے اور میدان حشر میں حاضری دو گے اور وہاں فیصلے ہوں گے تو وہ لوگ بطور انکار یوں کہتے تھے کہ بتاؤ قیامت کب آئے گی اس کے آنے کا کون سا وقت مقرر ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اس کی آمد قریب ہے یا میرے رب نے اس کی لمبی مدت مقرر فرما رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔
(ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…
Read the full tafseer →17:۔ ” قل ان ادری “ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، فرمایا جواب میں کہہ دیجئے یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ وعدہ بہت جلد پورا ہوگا یا اس میں دیر ہے البتہ یہ بات یقینی اور حتمی ہے کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو وعدہ کے مطابق عذاب ضرور آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
گذشتہ سے پیوستہ :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کریم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف اس با ت کی وحی کی گئی ہے۔ کہ جنات کے ایک گروہ نے کلام الہٰی پر ایمان لائے اور کفر و شرک سے بیزاری کا اعلان کیا۔ دوسری بات آپ یہ بھی فرمادیں کہ اگر انسان اور جن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے یعنی اس کی وحدانیت عبادت اور اطاعت کے راستے پر رہیں گے تو ہم ان کے لیے وسائل رزق کو آسان کردیں گے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں۔ اس کی ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو ، کسی کو نہ پکارو۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے متعلق فرمایا کہ اللہ کا بنہد جب اسے پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ لوگ اس…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَہٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا 25
دری
الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما
يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ترکیب : حتی الشیء الذی جعل مابعد حتی غایۃ لہ فیہ قولان (الاول) انہ متعلق بقولہ یکونون علیہ لبد او التقدیر انھم یتظاہرون علیہ بالعدادۃ حتی اذاراو مایوعدون من یوم بدرا وفتح مبین اویوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھوا ضعف ناصراواقل عددا (والثانی) انہ متعلق بمحذوف کانہ قیل الکفار لایزالون علی ماھم علیہ حتی اذاکان کذاوکذا کان کذا ونظیر ھذہ الآیۃ آیۃ فی سورة مریم وھی حتیٰ اذاروا مایوعدون اما العذاب واما الساعۃ اذاشرطیۃ فستعلمون جو ابھا ویفھم من کلام القرطبی ان حتی لمجرد الابتداء من غیرملاحظۃ معنی الغایۃ فتکون جملۃ مستقلۃ بالاستفادۃ۔ عالم الغیب خبرمبتداء محذوف ای ھوا الجملۃ مستانفہ مقررۃ…
Read the full tafseer →قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَـہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا۔ (الجن : 25)
(کہہ دیجیے ! میں نہیں جانتا جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب ابھی اس کو کچھ مدت اور ٹالنے والا ہے۔ )
مخالفین کے طنز کا جواب
ہم قرآن کریم میں مختلف مواقع پر پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب کفار کو عذاب یا قیامت سے ڈراتے تھے تو وہ بار بار پوچھتے تھے کہ آخر وہ عذاب کہاں رک کر رہ گیا ہے، آتا کیوں نہیں ؟ جیسے جیسے عذاب آنے میں تاخیر ہورہی تھی ان کے طنز اور مذاق کے نشتر تیز ہوتے جارہے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو اس کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے کہئے کہ عذاب یا قیامت کا آنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کے دین سے آگاہ کرنا تھا آپ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی بجائے بغاوت اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور گھمنڈ میں آکر آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگے جس کے جواب میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ عذاب کب آئے گا البتہ میرا رب چاہے تو اس عذاب کو جلد یا بدیر نازل کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خوشخبری دینے و الا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جب آپ برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرتے تو وہ لوگ کفر و شرک چھوڑنے…
Read the full tafseer →25 : قُلْ اِنْ اَدْرِیْ (آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو معلوم نہیں) یعنی میں نہیں جانتا۔ (اِنْ ماؔ کے معنی میں ہے) اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ (کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آیا وہ نزدیک ہے) یعنی عذاب اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْ (یا میرے پروردگار نے اس کے لئے مقرر کردی ہے)
قراءت : حجازی اور ابو عمرو نے یاء کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ اَمَدًا (مدت دراز) لمبی غایت یعنی تمہیں یقینا عذاب دیا جائے گا لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ آیا وہ ابھی اترنے والا ہے یا مؤجل ہے۔
Read the full tafseer →24 ۔” حتی اذا راوا ما یوعدون “ یعنی عذاب قیامت کے دن۔ ” فسیعلمون “ عذاب نازل ہونے کے وقت۔ ” من اضعف ناصرا واقل عددا “ کیا وہ یا مومنین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
25۔ 28۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ اللہ کے وعدہ کے موافق کوئی آفت آگئی تو ہر کوئی جان لے گا کہ مشرکوں کی بڑی بھیڑ کا کیا انجام ہوا اور اللہ کے فرمانبردار تھوڑے سے مسلمانوں کا کیا انجام ہوا۔ اس کو سن کر بعض مشرکوں نے کہا آخر وہ عذاب کب ہے جس سے ہر وقت ڈرایا جاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول ﷺ اللہ کے تم ان عذاب کے جلد باز لوگوں کو جواب دے دو کہ عذاب دنیا کا یا عذاب قیامت کا خاص وقت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے مجھ کو معلوم نہیں کیونکہ عذاب کے آنے کا خاص وقت ایک علم غیب ہے جو بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں وہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے اس کو بذریعہ وحی کے…
Read the full tafseer →(قل) کہہ دیجئے۔ اگر وہ آپ سے پوچھیں (متی ھذا الوعد۔ یونس 48) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ تو ان سے کہہ دیجئے (اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا) میں نہیں جانتا کہ تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہے ؟ یعنی وہ اس کی کوئی طویل مدت مقرر کرتا ہے تو اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →28 ۔ قیامت یا عذاب کا علم کسی کو نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یا میرے رب ن اس کے لئے کوئی لمبی مہلت ٹھہرا رکھی ہے۔ پس عذاب یا قیامت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کب آنا ہے ؟ : کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص اور اسی کے پاس ہے، اس کے بارے میں بہت سی نشانیاں تو میں نے اپنے رب کے بتانے سے تم لوگوں کو بتادی ہیں۔ لیکن اس کے وقت کی تعیین، کہ اس کا وقوع کب اور کتنے عرصے کے بعد ہوگا، یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، جیسا کہ حدیث جبریل میں فرمایا گیا ما المسؤل عنھا باعلم من السائل اس لئے جمہورائمہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
نبی کے لیے اللہ کا حکم
تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی یہ عذاب تو تم پر یقینا آئے گا لیکن متعین طور پر وہ کب آئے گا ؟ آیا بہت جلد آئے گا یا اس کے آنے میں ایک لمبی مدت ہے ؟ اس کا علم مجھے نہیں دیا گیا کیونکہ یہ ان امور غیب میں سے ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا
Read the full tafseer →(72:25) قل ان ادری : ان نافیہ ہے ادری فعل مضارع واحد متکلم درایۃ (باب ضرب) مصدر۔ میں نہیں جانتا ہوں۔ مجھے خبر نہیں۔
اقریب : میں ہمزہ استفہامیہ ہے آیا قریب ہے قریب خبر مقدم ہے اور ما توعدون مبتدا مؤخر۔ یا قریب از قسم فعل مشبہ اور ما توعدون اس کا فاعل ہے۔ ما توعدون : ما موصولہ توعدون مضارع مجہول کا صیغہ جمع مذکر حاضر وعد (باب ضرب) مصدر سے۔ صلہ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وعدہ سے مراد دنیوی عذاب یا قیامت ہے۔
ام۔ حرف عطف ہے بمعنی یا۔
یجعل مضارع واحد مذکر غائب فعل باب فتح مصدر، وہ مقرر کرتا ہے۔ وہ مقرر کر دیگا۔ اس نے مقرر کردی ہے۔ لہ میں ضمیر ہ کا مرجع ما توعدون ہے۔ امدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
لغات القرآن۔
استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔
تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
علم غیب کا ذکر۔
(ف 2) شان نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اس کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اور فرمایا اے محبوب ﷺ تم ان عذاب کے جلد باز لوگوں کو جواب دیدو کہ میں نہیں جانتا کہ جس کا تم سے وعدہ ہے قریب ہے یا یہ کہ اس کے لیے خدا نے ایک وقت معین بنایا ہے کچھ مدت بعد اپنے وقت پر آئے گا، عالم الغیب حقیقی تو خدا ہی ہے وہی وقت نزول عذاب جانے وہ اپنی غیبی باتوں پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر رسولوں میں سے جس کو پسند کرتا ہے اور برگزیدہ بناتا ہے کہ ان کو اپنے کارخانہ قدرت کے اسرار وغیب جتنے چاہے بتادیتا ہے اور یہ علم غیب ان کے لیے معجزہ ہوتا ہے۔ اولیاء کو بھی اگرچہ غیب پر اطلاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[8] اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر بذات خود عالم الغیب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو فریضہ رسالت کے انجام دینے کے لئے منتخب فرماتا ہے تو غیب کی باتوں میں سے جن کا علم چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
انبیا کی حدود معرفت
1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…
Read the full tafseer →(25) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب موعود قریب ہے یا میرے پروردگار نے اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کررکھی ہے اور اس کو ایک مدت کے بعد لائے گا۔ یعنی اگر یہ منکر دریافت کریں کہ جس چیز کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ چیز کب واقع ہوگی۔
جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ اسی قسم کے سوال کیا کرتے ہیں۔
متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین، تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں اس چیزکا وقت نہیں جانتا اور اس کی تاریخ مجھ کو نہیں بتائی گئی۔
ہوسکتا ہے کہ جس چیز کا تم کو وعدہ دیا جاتا ہے وہ بہت ہی قریب ہو یا میرا پروردگار اس کو ایک مدت کے بعد لائے اور اس کے لئے اس نے کوئی دور کی مدت مقرر کررکھی ہو یہ تو وہی جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 5۔ حاصل مقام یہ کہ علم ساعت علوم نبوت سے نہیں ہے، اس لئے اس کا علم نہ ہونا قادح نبوت یا مستلزم عدم وقوع ساعت نہیں ہے، البتہ علوم نبوت عطا کئے جاتے ہیں اور وہی مقصود بعثت سے ہیں اور ان میں احتمال خطا کا نہیں ہوتا، تو ایسے علوم سے تم مستفید ہو اور زوائد کی تحقیق چھوڑو۔
Read the full tafseer →مجھے علم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور ہے
25 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ برملا اعلان کردیں کہ جس بات کا تم کو وعدہ دیا جا رہا ہے یعنی روز قیامت کا اس کے متعلق میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ اس دن کو واقع ہونا ہے اور اتنی ہی خبر میں تم کو پہنچا رہا ہوں ۔ میں نہیں جانتا کہ اسکا وقت قریب ہے یا دور ہے اور قریب ہے تو کتنا اور اگر دور ہے تو کس قدر ؟ مجھے یہ معلوم ہے کہ جس کام کے ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے بس اس کو ہونا ہے اور پھر جب اس نے اس کا وقت متعین نہیں بتایا تو اس میں انسانوں کا فائدہ ہے اس لیے مجھے اس کے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں اور اس طرح یہ بھی کہ جب…
Read the full tafseer →Ruling
By common consent of the scholars, prostration to anyone other Allah is totally forbidden. According to some scholars, it is tantamount to
قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا
(Say, I do not know whether that which you are promised is near, or my Lord has appointed for it a distant term. [ He is the ] Knower of the Unseen. So He does not let anyone know His Unseen....72:25-26)
The non-believers demanded that the Holy Prophet ﷺ should show them the exact time and date when the…
Read the full tafseer →24 The background of this verse is that those of the Quraish who used to mob and surround the, Holy Prophet (upon whom be peace) as soon as they heard his invitation calling to Allah, were under the delusion that they had a strong band at their back and that the Holy Prophet had only a handful of men with him, and therefore, they would easily overwhelm him. At this it is being said: Today these people find the Messenger helpless and friendless and themselves supported and strengthened by great hosts and, therefore, feel encouraged and emboldened to suppress the invitation to the Truth. But…
Read the full tafseer →