Al-Jinn 72:8

Al-Jinn · from ayah 8

72:8

وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُهُبًا ۟ۙوَّاَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰهَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِيۡدًا وَّشُهُبًا

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے سے بھرا پایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And we have sought [to reach] the heaven but found it filled with powerful guards and burning flames.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:8

اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے سے بھرا پایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ : ہم نے آسمان کو ٹٹولنا چاہا تو ہم نے پایا کہ وہ بڑے سخت پہرے داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ ہم نے آسمانوں کو چھوا، اور انہیں سخت پہرہ داروں اور (اَنگاروں کی طرح) جلنے اور چمکنے والے ستاروں سے بھرا ہوا پایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک ہم نے آسمان کو ہاتھ لگایا تو ہم نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ سخت پہرے اور چمکدار شعلوں سے بھر دیا گیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ : ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو تو اس کو بھرا ہوا پایا سخت پہرہ داروں اور شہابوں (کی بارش) سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمان کی تلاشی لینا چاہی تو ہم نے اس کو شدید پہرے اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

— محترمہ رفعت اعجاز

and that “we tried to pry (the secrets of) the heaven, but we found it full of terrible guards and shooting meteors”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that we sought (to reach) the sky, but we found it filled with stern guards and flames,

— Muhammad Taqi Usmani

and that we sought (to reach) the sky, but we found it filled with stern guards and flames,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`And we have sought to reach the heaven; but we found it filled with stern guards and flaming fires.'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (the Jinn who had listened to the Qur'an said): We had sought the heaven but had found it filled with strong warders and meteors.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And we have sought [to reach] the heaven but found it filled with powerful guards and burning flames.

— Saheeh International

"We went near the heavens but found it to be full of strong guards and shooting flames.

— Muhammad Sarwar

And that we sought to reach heaven, but we found it filled with strong guards and flaming stars.

— Muhammad Habib Shakir

And we sought to reach the heaven; then we found it filled with a strong guard and darting meteors.

— Abdul Majid Daryabadi

'And we pried into the secrets of heaven; but we found it filled with stern guards and flaming fires.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

بعثت نبوی ﷺ سے پہلے جنات آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے، اب جب حضور ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہوجائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْجِنّ 8 اصل الفاظ ہیں ان لن یبعث اللہ احدا۔ اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ " اللہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا "۔ چونکہ الفاظ جامع ہیں اس لیے ان کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی رسالت اور آخرت دونوں کا انکار پایا جاتا تھا۔ لیکن آگے کے مضمون کی مناسبت سے پہلا مفہوم ہی زیادہ قابل ترجیح ہے، کیونکہ اس میں یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارا خیال غلط نکلا کہ اللہ کسی رسول کو مبعوث کرنے والا نہیں، آسمانوں کے دروازے ہم پر اسی وجہ سے بند کیے گئے ہیں کہ اللہ نے ایک رسول بھیج دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

(آیت) وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا لفظ سماء عربی لغت میں جس طرح آسمان کے لئے بولا جاتا ہے اسی طرح بادل پر بھی لفظ سماء کا اطلاق عام اور معوف ہے۔ یہاں بظاہر سماء سے مراد یہی بادل ہے۔ جنات آسمانی خبریں سننے کے لئے صرف بادلوں تک جاتے تھے آسمان تک نہیں۔ اور جنات و شیاطین کا آسمانی خبریں سننے کے لئے آسمان تک جانے کا مطلب یہی ہے کہ بادلوں تک جاتے تھے اور وہاں سے آسمانی خبریں سنتے تھے۔ اور دلیل اس کی حضرت صدیقہ عائشہ کی حدیث جو صحیح بخاری میں بالفاظ ذیل آئی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرشتے عنان سماء میں اترتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

6: یہ وہی بات ہے جس کا ذکر حاشیہ نمبر 1 میں اوپر گذرا ہے کہ جنات کو آسمان کے قریب پہنچنے سے بھی روک دیا گیا ہے، اور اس غرض سے فرشتوں کو پہرے پر مقرر کردیا گیا ہے جو چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سننے والے کو شعلے پھینک کر مار بھگاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

وانا لمسنا ............................ ربھم رشدا یہ واقعات جو جنوں کے ذریعہ قرآن نے نقل کیے ہیں ، بتاتے ہیں کہ اس آخری رسالت سے قبل کے زمانے میں ، جس میں رسول نہ تھا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے دور میں ، جنوں کا یہ مشغلہ تھا کہ وہ عالم بالا کی طرف جاتے تھے اور عالم بالا میں اس زمین اور کائنات کے بارے میں جو احکام صادر ہوئے تھے یا فرشتوں کے درمیان زیر بحث آتے تھے ، مثلاً اللہ تعالیٰ فرشتوں کو جو احکام برائے نفاذ صادر کرتا تھا ، یہ جن عالم بالا میں بعض مقامات تک پہنچ کر گن سن لے لیتے تھے اور پھر ان سچی معلومات کے ساتھ بہت سی غلط معلومات جمع کرکے ، یہ جن دنیا میں کاہنوں ، قیافہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

7 یعنی ہم اڑ کر آسمان کے قریب تک پہنچے تو دیکھا کہ آجکل بہت سخت جنگی پہرے لگے ہوئے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے نہیں دیتے اور جو شیطان ایسا ارادہ کرتا ہے اس پر انگارے برستے ہیں اس سے پیشتر اتنی سختی اور روک ٹوک نہ تھی جن اور شیاطین آسمان کے قریب گھات میں بیٹھ کر ادھر کی کچھ خبر سن کر آیا کرتے تھے۔ مگر اب اس قدر سخت ناکہ بندی اور انتظام ہے کہ جو سننے کا ارادہ کرے فوراً شہاب ثاقب کے آتشیں گولے سے اس کا تعاقب کیا جاتا ہے۔ اس کی بحث پہلے سورة " حجر " وغیرہ میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ } ”اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو“ ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔ { فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا۔ } ”تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔“ ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کردیے گئے ہیں اور شہاب ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے ‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6 یہ ذومعنی فقرہ ہے اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ گویا جس طرح انسانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسالت اور آخرت دونوں کے منکر ہیں اسی طرح جنوں میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔ جب جنوں نے قرآن سن کر معلوم کیا کہ ان کے یہ دونوں عقیدے غلط تھے۔ چناچہ ان عقائد سے دستبردار ہو کر وہ آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–9

5۔ فضائے آسمانی کے آتشیں تیروں اور گرزوں اور شہاب ثاقب پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ سورة الصافات (پ 23) وغیرہ کے ذیل میں۔ (آیت) ” الان “۔ یعنی نزول قرآن اور ظہور محمدی ﷺ کے بعد۔ اے بعد البعث (مدارک) (آیت) ” فوجدنھا ..... شھبا “۔ یعنی اب دفع التباس کے لئے باب کہانت بالکل بند ہوگیا ہے۔ (آیت) ” نقعد منھا مقاعد “۔ آسمانوں کے موقعوں سے مرا دفضائے آسمانی ہے۔ نفس آسمان کا جسم اس سے لازم نہیں آتا۔ جنات ناری مخلوق ہیں۔ انہیں اپنی لطافت وعدم ثقل کے باعث فضائے آسمانی کو اپنا مستقر بنالینا خاکی مخلوق کے مقابلہ میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ جیسے پرندوں کو بمقابلہ چرندوں اور درندوں کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا لمسنا السماء . یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ہم نے سماء کو چھونا چھاہا بظاہرا لسماء سے مراد ابر ہے کیونکہ ہر بالائی چیز کو سماء کہہ دیا جاتا ہے۔ اس تاویل پر حضرت عائشہ ؓ کی حدیث دلالت کر رہی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے خود حضور ﷺ سے سنا کہ ملائکہ عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور کسی ایسے امر کا تذکرہ کرتے ہیں ‘ جس کا فیصلہ آسمان پر ہوچکا ہوتا ہے۔ شیطان چوری سے اس کو سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے پاس پہنچ کر ان کو بتا دیتے ہیں ‘ کاہن اس ایک بات میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (بخاری) ایک شبہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ السماء سے حقیقی آسمان مراد ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر اللہ تعالیٰ جنات کی باہمی گفتگو کو روایت کرتا ہے کہ ہم ایمان لانے سے پہلے خبروں کی تلاش میں آسمان کی طرف پہنچے تو ہم نے اس کو سخت محافظ فرشتوں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا تاکہ کوئی آسمان کی خبریں نہ چرا سکے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(1) وانا لمسنا السمآء فوجدنھا ملئت …: اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت کے علاوہ ان شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بھی بنایا ہے جو آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لئے ہر طرف سے ان پر شہابوں (انگ اورں) کی بارش ہوتی ہے۔ (دیکھیے صافات : 6 تا 10) عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان الملائکۃ تنزل فی العنان وھو السحاب فتذکر الا مر قضی فی السماء فتسترق الشیاطین السمع فتسمعہ فتوحیہ الی الکھان ، فیکذبون معھا مائۃ کذبۃ من عندانفسھم) (بخاری، بدء الخق ، باب ذکر المائکۃ صولات اللہ علیھم : 3210)”فرشتے عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور (آپس میں) اس بات کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

تفسیر 8 تا 10 اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لمسناالسماء یہ جنوں کا قول ہے یعنی ہم نے اس کی خبر جاننا چاہی جس طرح ہماری عادت تھی تو ہم نے اسے پایا کہ وہ فرشتوں سے بھرا ہے۔ حرس، حارس کی جمع ہے اور شھب، شھاب کی جمع ہے وہ ستاروں کاٹوٹنا ہے جو انہیں چوری چھپے باتیں سننے پر جلاتے ہیں اور اس بارے میں گفتگو سورة حجر اور صافات میں گزرچکی ہے وجد کے بارے میں یہ جائز ہے کہ اسے دو مفعولوں کی طرف متعدی مانا جائے ان دو میں سے پہلامفعول ھاضمیر ہے اور ملئت اس کے دوسرے مفعول کے محل میں ہے یہ بھی جائز ہے کہ وہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہو اور ملئت، قد کے مضمر ماننے کے ساتھ حال ہو، حرسا، ملئت کا مفعول ثانی ہونے کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

29۔ عبد بن حمید نے عبد بن حمید (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت انا لمسنا السماء فوجدنہا ملئت حرسا شدید وشہبا کے بارے میں روایت کیا کہ جنات آسمان کی خبریں سن لیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو آسمان پر پہرہ لگادیا اور ان کو اس روک دیا گیا۔ جناب بذات خود اس کی تلاش کرنے لگے راوی نے کہا اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ جنات کے سردار اور معززین نصیبین کے مقام موصل کی سرزمین میں تھے۔ انہوں نے اس کی جستجو کی اور خوب نظر دوڑائی یہاں تک کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے۔ اور آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کو عکاظ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں نماز پڑھا رہے تھے۔ 30۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّانا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ : اور یہ کہ ہم نے بیشک چھوا (ٹٹولا) آسمان کو ] [فَوَجَدْنٰهَا : تو ہم نے پایا اس کو ] [مُلِئَتْ : (کہ) اس کو بھر دیا گیا ] [حَرَسًا شَدِيْدًا : بڑے سخت محافظوں کے دستوں سے ] [وَّشُهُبًا : اور انگاروں سے ] ح ر س حَرْسًا حفاظت کرنا۔ پہرہ دینا۔ حَارِسٌ ج حَرَسٌ۔ فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ حفاظت کرنے والا۔ چوکیدار۔ پہرے دار۔ حَرَسِیٌّ ج حَرَسٌ۔ اسم الجمع ہے۔ محافظوں کا دستہ۔ باڈی گارڈوں کا دستہ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

﴿وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ ﴾ (الآیات) جنات نے یہ بھی کہا کہ ہم اس سے پہلے آسمان کی طرف جایا کرتے تھے وہاں موقع دیکھ کر بیٹھتے تھے اور اوپر جو باتیں ہوتی تھیں انہیں سنا کرتے تھے اب تو حالت یہ ہے کہ ہم اوپر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آسمان سخت پہرہ سے بھرا ہوا ہے (یہ پہرہ فرشتوں کا ہے) اور اس پہرہ کے علاوہ ایک یہ بات بھی ہے کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو شعلوں کو تیار پاتے ہیں اب اگر کوئی اوپر کی باتوں کو سننا چاہے تو جو شعلے پہلے سے تیار ہیں ان میں سے کوئی شعلہ اسے مار دیتا ہے (اس کی تفصیل سورة ٴ حجر اور سورة ٴ صافات میں گزر چکی ہے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–9

7:۔ ” وانھم ظنوا “ ضمیر انس کی طرف راجع ہے۔ ” ظننتم “ خطاب جنات سے ہے اے قوم شرک کے علاوہ تم حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے اس طرح بنی آدم کا بھی یہی خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ نہیں کرے گا۔ ” وانا لمسنا السماء فملئت حرسا شدیدا “ جنات نے مزید کہا کہ پہلے ہم آسمان کی طرف جاتے تھے اور قریب ہی اطمینان سے بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے کوئی روک ٹوک نہ تھی اور نہ کوئی چوکیدار وہاں مقرر تھے، لیکن ہم اب آسمان کے قریب جاتے ہیں تو وہاں نہایت سخت پہرہ لگا ہے اور جنوں کو بھگانے کے لیے چمکتے شہا بےموجود ہیں اس لیے اب اگر کوئی آسمان کی طرف وہاں کی باتیں سننے کے لیے جائے تو شہاب ثاقب اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنَّا لَمَسْـنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُہُبًا۝ 8 ۙ لمس اللَّمْسُ : إدراک بظاهر البشرة، کالمسّ ، ويعبّر به عن الطّلب، کقول الشاعر : وأَلْمِسُهُ فلا أجده وقال تعالی: وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّماءَ فَوَجَدْناها مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً وَشُهُباً [ الجن/ 8] ، ويكنّى به وبِالْمِلَامَسَةِ عن الجماع، وقرئ : لامَسْتُمُ [ المائدة/ 6] ولَمَسْتُمُ النّساء حملا علی المسّ ، وعلی الجماع، «ونهى عليه الصلاة والسلام عن بيع الملامسة»وهو أن يقول : إذا لَمَسْتَ ثوبي، أو لَمَسْتُ ثوبک فقد وجب البیع بيننا، واللُّمَاسَةُ : الحاجة المقاربة . ( ل م س ) اللمس ( ن ) مس کی طرح اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

ترکیب : رھقا وعتوا مفعول ثان لزادوا والرھق فی الاصل غشیان الشیء وانھم من کلام الجن بعضھم لبعض اواستیناف من اللہ سبحانہ ٗ و من فتح ان فیھا جعلھما من الموحی بہ ان لن الجملۃ ساومسدمفعولی ظنوا للسمع صلۃ لنقعد اوصفۃ لمقاعد۔ تفسیر : انہوں نے مان لیا جو تمہارے استاد تھے تم نہیں مانتے ‘ افسوس ہے۔ شان نزول : اس سورة کی شان نزول میں امام احمد اور ترمذی اور بخاری و مسلم وغیرہ کبار محدثین نے مختلف طرق سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب مع اس تشریح کے جو کتب سیر میں ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے برسوں قریش کو مکہ میں سمجھایا اور ان کی سختیوں کی بڑی استقلال سے برداشت کی اور بجز چند لوگوں کے ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَـآئَ فَوَجَدْنٰـھَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُھُبًا۔ وَّاَ نَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَلِلسَّمْعِ ط فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْلَـہٗ شِھَابًارَّصَدًا۔ وَّ اَنَّا لاَ نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَبِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَبِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا۔ (الجن : 8 تا 10) (اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–15

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ (اور ہم نے آسمان کی تلاشی لینا چاہی) ہم نے آسمان تک پہنچنا اور اہل سماء کی باتیں سننا تلاش کیا۔ اللمس چھونا۔ یہ طلب کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ چھونے والا پہچان والا طالب ہوتا ہے۔ فَوَجَدْ نٰھَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا (پس ہم نے اس کو سخت پہرا سے بھر اپایا) فرشتوں کے طاقتور گروہ حفاظت کر رہے ہیں۔ نحو : حَرَسًاؔ جمع حارس کی ہے۔ یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ ہے الحرسؔ یہ اسم مفرد ہے جو حرّاس کے معنی میں ہے جیسا کہ خَدَم بمعنی ال خدام ہے۔ اسی لئے اس کے لئے شدیدؔ کا وصف لا یا گیا ہے۔ اگر معنی کی طرف نظر کی جاتی تو شداداً کہا جاتا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” وانھم ظنوا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بیشک جنوں نے گمان کیا۔ ” کما ظننتم “ اے انسانوں میں سے کافروں کی جماعت۔ ” ان لن یبعث اللہ احمدا “ اس کے مرنے کے بعد۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–10

8۔ 10۔ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے جنات بعض روایتوں کے موافق اول آسمان بعض کے موافق چوتھے آسمان تک پہنچ کر چوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن آتے تھے اور ایک بات میں نو باتیں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر کاہن لوگوں سے کہہ دیتے تھے قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ بڑھ گیا اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے جب آسمان تک جانے کا قصد کیا تو ان پر چاروں سے طرف سے انگارے برسنے شروع ہوگئے جنات نے اس انتظام کا ذکر ابلیس سے کیا۔ اس ملعون نے ہر طرف جنات کو اس انتظام کا سبب دریافت کرنے کو بھیجا باقی ٹکڑا اس حدیث کا اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وانا لمسناالسماء) یعنی جب ہم آسمان پر آئے اور وہاں کے حالات کی خبر لی (فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا) تو ہم نے بھرا ہوا پایا اس کو مضبوط چوکیداروں سے۔ یعنی اس کے کناروں تک پہنچنے اور اس کے قریب آنے سے اس کی حفاظت کی گئی تھی (وشھبا) اور انگاروں سے۔ ان انگاروں کو ان جنات پر پھینکا جاتا ہے جو آسمانوں کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہماری پہلی عادت کے برعکس ہے کیونکہ پہلے ہمارے لیے آسمان کی خبروں تک رسائی ممکن تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 جنوں کے اونے نئے تجربے کا ذکر و حوالہ : سو انہوں نے مزید کہا اور ہم اس سے پہلے آسمان کے کچھ ٹھکانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔ جہاں سے سن گن کر کچھ خبریں لے آتے اور وہ کاہنوں تک پہنچاتے جس میں وہ لوگ سو جھوٹ اور شامل کر کے آگے چلتا کردیتے " جس سے ان کا کاروبار چلتا، (کما ورد فی الاحادیث) مگر اب یہ سلسلہ ٹھپ کردیا گیا اور ہمارا اوپر جانا اور وہاں بیٹھنا سننا بند کردیا گیا، سو اب جو کوئی اس طرح سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لئے ایک شعلہ کو گھات میں لگا ہوا پاتا ہے سو اس سے ان جنوں نے اپنے اس نئے تجربے کا حالہ دیا جو ان کو نزول قرآن کے اس ابتدائی دور میں پیش آیا تھا اور جو اس کائنات کے نظام میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی اس میں فرشتے کثرت سے پہرا دے رہے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے کے لئے اس کے قریب تک پھٹکنے نہیں دیتے اور جو شیطان اس کی جرأت کرتا ہے اس پر آگ کے شعلے برسائے جاتے ہیں۔ اس سے ہم نے سمجھا کہ زمین میں کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے جس کی بدولت آسمان کی حفاظت کے لئے یہ نئے انتظامات کئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:8) وانا لمسنا السماء واؤ حرف عاطفہ، انا حرف مشبہ بفعل نا ضمیر جمع متکلم بیشک ہم۔ لمسنا السمائ : لمسنا ماضی جمع متکلم لمس باب نصر، ضرب۔ مصدریہ۔ ہم نے ٹٹولا۔ ہم نے ڈھونڈا۔ ہم نے قصد کیا۔ اور باب مفاعلۃ سے بمعنی عورت سے جماع کرنے کے آتا ہے مثلاً قرآن مجید میں آتا ہے او لمستم النساء (5:6) یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو۔ (ایک قرأت میں لمستم النساء بھی آیا ہے) لمس کے اصل معنی مس کی طرح اعضاء کی بالائی کھال کے ساتھ کسی چیز کو چھوکر اس کا ادراک کرلینے کے ہیں۔ اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹول ڈالا۔ ٹٹول دیکھا۔ فوجدھا :ما قبل کے انجام کے لئے بمعنی تو۔ ھا ضمیر کا مرجع السماء ہے۔ تو ہم نے اس کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–9

جنات کا آسمان پر نہ جانے کا سبب اور حضور کی نصیحت۔ (ف 1) قرآن شریف کے نازل ہونے کے قبل زمانہ جنات بعض روایوں کے موافق اول آسمان پر پہنچ کرچوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن کر آتے تھے اور ایک بات میں نوباتیں اپنی طرف سے ملاکرکاہن لوگوں کو کہہ دیتے تھے ، قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ ہوگیا، اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے آسمان تک جانے کا قصد کیا تو دیکھا کہ آج کل بہت سخت جنگی پہرے لگے ہوئے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے نہیں دیتے، اور جو شیطان ایسا ارادہ کرتا ہے اس پرچاروں طرف سے انگارے برستے ہیں اس سے پہلے اتنی سختی روک ٹوک نہ تھی اب اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–17

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) اور یہ کہ ہم نے اپنی عادت کے موافق آسمانی خبروں کو حاصل کرنے کے لئے آسمان کو چھوا اور ٹٹولا مگر ہم نے آسمان کو سخت نگہبانوں اور چوکیداروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جنوں کو انگارے پڑتے ہیں اور خبریں سننے نہیں دیتے چوکیدار ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی کلام جنوں کا ہے اور ہوسکتا ہے کہ منجملہ وحی کے یہ کلام وحی ہو۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے بلا روک ٹوک ہم آسمانوں کی خبریں لے اڑتے تھے اور فرشتوں سے سنی ہوئی باتوں کو قطع وبرید کرکے کاہنوں کو بتاتے تھے اب وہ چیز نہیں رہی ہم نے آسمان کو بہت کچھ ٹٹولا اور آسمان کی جستجو کی، لیکن ہر جگہ یا تو آگ کے شعلے ہیں یا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–8

ف 3۔ یعنی اب پہرہ ہوگیا ہے کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لے جانے پائے، اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے آسمانوں کو چھوا تو سخت پہرہ داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا : 8 ؎ جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں یہ گزشتہ ادوار کے مقابلہ میں بہت ترقی یافتہ دور ہے اور نئی نئی ایجادات نے عقل انسانی کو حیران کر کے رکھ دیا ہے تار برقی ‘ ٹیلیفون اور وائرلیس نے انسانوں کے ذہن کو کتنی وسعت دی ‘ ہوائی جہاز کی رفتار نے انسان کو اڑا کر کہاں سے کہا جا رکھا ہے۔ اپنی جگہ پر یہ سب صحیح لیکن کبھی غور کیا آپ نے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ یہ سب کچھ جس چیز کی کرشمہ سازی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عطا کردہ قوت ہے جو اس نے سارے انسانوں میں رکھی ہے لیکن اس کا معیار بہت مختلف ہے اور اس کی کمی اور زیادتی سے بھی انکار نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَ‌سًا شَدِيدًا وَشُهُبًا (...and that we sought [ to reach ] the sky, but we found it filled with stern guards and flames....72:8). The word sama' is used in two different senses: 'sky' as well as 'cloud'. It would appear that here the word is used in the latter sense. The Jinn Used to Go only up to the Clouds to Eavesdrop, Not to the Sky The Jinn and the devils used to go up to the sky means that they used to go to the 'clouds', take up positions there to sit and eavesdrop. The proof of this is found in Sahih of Bukhari on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

8 Another meaning of this sentence can be: "Allah will not resurrect anyone after death." As the wards are comprehensive they can be taken to mean that, as among human beings, so among the jinn too there were the people who denied both the Prophethood and the Hereafter. However, in view of the theme that follows, the meaning that we have given in the text above is preferable, for according to it these believing jinn tell the people of their community: "Your view is proved wrong that AIlah will not appoint anyone as a Messenger. In fact, the gates of heavens have been closed on us only because…

Read the full tafseer →