Explained with ayahs 1–7
جنات پر قرآن حکیم کا اثر
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الْجِنّ 8
اصل الفاظ ہیں ان لن یبعث اللہ احدا۔ اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ " اللہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا "۔ چونکہ الفاظ جامع ہیں اس لیے ان کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی رسالت اور آخرت دونوں کا انکار پایا جاتا تھا۔ لیکن آگے کے مضمون کی مناسبت سے پہلا مفہوم ہی زیادہ قابل ترجیح ہے، کیونکہ اس میں یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارا خیال غلط نکلا کہ اللہ کسی رسول کو مبعوث کرنے والا نہیں، آسمانوں کے دروازے ہم پر اسی وجہ سے بند کیے گئے ہیں کہ اللہ نے ایک رسول بھیج دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(آیت) وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا اس آیت میں مومن جنات نے یہ بیان کیا ہے کہ جاہلیت کے لوگ جب کسی جنگل میں قیام کرتے تو اس جنگل کے جنات کی پناہ مانگتے تھے اس سے جنات یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو انسان سے بھی افضل ہیں کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتا ہے۔ اس بات نے جنات کی گمراہی میں اور اضافہ کردیا۔
حضرت رافع بن عمیر کا اسلام بسبب جنات۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ ہواتف الجن میں سند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر سے یہ نقل کیا ہے کہ رافع بن عمیر صحابی نے اپنے اسلام قبول کرنے کا ایک واقعہ یہ بتلایا ہے کہ میں ایک رات ایک ریگستان میں سفر کر رہا…
Read the full tafseer →توحید کے بعد قیامت کا حوالہ:
توحید کے بعد یہ قیامت کے باب میں انھوں نے دونوں گروہوں کی غلط فہمی کی طرف اشارہ کیا کہ جس طرح تم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو زندہ نہیں کرے گا اسی طرح انسان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ جس طرح تمہارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر بھیجنے والا نہیں ہے اسی طرح انسانوں کے اندر یہ بھی غلط فہمی موجود تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول نے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا۔
اگرچہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 1 یعنی جب جنات نے یہ دیکھا کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں اور ہماری پناہ طلب کرتے ہیں تو ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →5: اس فقرے میں جنات اپنی قوم کے دوسرے جنات سے کہہ رہے ہیں کہ جس طرح تم آخرت کے قائل نہیں تھے۔ اسی طرح انسان بھی اس کے قائل نہیں تھے۔ لیکن اب یہ بات غلط ثابت ہوگئی۔
Read the full tafseer →وانھم ................ احدا (27 : 7) ” اور یہ کہ انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا “۔ جن قوم سے گفتگو کرتے ہیں کہ جس طرح بعض انسان جنوں کی پناہ مانگتے تھے اسی طرح وہ بھی یہ گمان رکھتے تھے جس طرح تم گمان رکھتے ہو کہ اللہ رسول نہ بھیجے گا۔ لیکن دیکھ لو اللہ نے تو رسول بھیج دیا اور رسول کو یہ قرآن بھی دے دیا ہے جو رشد وہدایت کا سامان فراہم کررہا ہے یا مفہوم یہ ہے کہ ان کے عقائد یہ تھے جس طرح تمہارے ہیں کہ اللہ قیامت میں کسی کو نہ اٹھائے گا لہٰذا انہوں نے قیامت کے لئے کوئی تیاری نہ کی اور رسول خدا نے جس انجام سے ڈرایا تھا اس کی پرواہ نہ کی…
Read the full tafseer →6 مسلمان جن یہ سب گفتگو اپنی قوم سے کر رہے ہیں۔ یعنی جیسا تمہارا خیال ہے، بہت آدمیوں کا بھی یہی خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو ہرگز قبروں سے نہ اٹھائے گا۔ یا آئندہ کوئی پیغمبر مبعوث نہ کرے گا۔ جو رسول پہلے ہوچکے سو ہوچکے۔ اب قرآن سے معلوم ہوا کہ اس نے ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے جو لوگوں کو بتلاتا ہے کہ تم سب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اور رتی رتی کا حساب دینا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 7{ وَّاَنَّـہُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّـبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ } ”اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔“
اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا ‘ یعنی بعث بعد الموت کے عقیدے میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ سورة الاحقاف میں جنات کے تذکرے کے حوالے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنات تورات سے واقف تھے اور وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا حضرت عیسیٰ علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 یہ ذومعنی فقرہ ہے اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ گویا جس طرح انسانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو رسالت اور آخرت دونوں کے منکر ہیں اسی طرح جنوں میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔ جب جنوں نے قرآن سن کر معلوم کیا کہ ان کے یہ دونوں عقیدے غلط تھے۔ چناچہ ان عقائد سے دستبردار ہو کر وہ آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5۔ فضائے آسمانی کے آتشیں تیروں اور گرزوں اور شہاب ثاقب پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ سورة الصافات (پ 23) وغیرہ کے ذیل میں۔ (آیت) ” الان “۔ یعنی نزول قرآن اور ظہور محمدی ﷺ کے بعد۔ اے بعد البعث (مدارک) (آیت) ” فوجدنھا ..... شھبا “۔ یعنی اب دفع التباس کے لئے باب کہانت بالکل بند ہوگیا ہے۔ (آیت) ” نقعد منھا مقاعد “۔ آسمانوں کے موقعوں سے مرا دفضائے آسمانی ہے۔ نفس آسمان کا جسم اس سے لازم نہیں آتا۔ جنات ناری مخلوق ہیں۔ انہیں اپنی لطافت وعدم ثقل کے باعث فضائے آسمانی کو اپنا مستقر بنالینا خاکی مخلوق کے مقابلہ میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ جیسے پرندوں کو بمقابلہ چرندوں اور درندوں کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وانھم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث اللہ احدا . یعنی اے گروہ جناتِ جیسے تمہارا خیال تھا کہ اللہ کسی کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ‘ تمہارے اس خیال کی طرح آدمیوں کا بھی خیال تھا۔ اگر اِنَّھُمْ بکسر ہمزہ پڑھا جائے تو یہ جنات کا قول ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ پہلے عقیدہ آدمیوں کا بھی خراب تھا ‘ وہ بھی قیامت اور حشر کے قائل نہ تھے لیکن نزول قرآن کے بعد وہ غیب پر ایمان لے آئے۔ لہٰذا تم بھی آدمیوں کی طرح حشر و نشر پر ایمان لے آؤ ‘ لیکن اگر انہم بفتح ہمزہ پڑھا جائے تو حاصل مطلب یہ ہوگا کہ اے قریش مکہ ! تمہارے خیال کی طرح جنات کا بھی خیال تھا کہ حشر و نشر نہیں ہوگا لیکن جب قرآن نازل ہوا اور جنات نے اس کو سنا تو…
Read the full tafseer →اور کفار جن ایمان لانے سے پہلے کفار مکہ کی طرح یہ اعتقاد کیے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا یا یہ کہ کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔
Read the full tafseer →وانھم ظنوا کما ظننتم …: جن اپنی قوم کے لوگوں کو کافر انسانوں کے متعق بتا رہے ہیں کہ شرک کے علاوہ ان انسانوں کا عقیدہ تمہاری طرح یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو قیامت کے دن دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ یہ معین بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو (نبی بنا کر) نہیں بھیجے گا۔ کفار میں ہمیشہ ، خواہ وہ انسان ہوں یا جن، توحید، آخرت اور رسالت تینوں کا انکار پایا جاتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
تفسیر 4 تا 7
اللہ کے فرمان : وانہ کان یقول سفیھنا علی اللہ شططا۔ میں انہ کی ضمیر امر کے لیے ہے یا حدیث کے لیے ہے اور کان میں ضمیر اس کا اسم ہے اور مابعد کان کی خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کان، زائدہ ہو، مجاہد، ابن جریج اور قتادہ کے قول میں، یہاں سفیہ سے مراد ابلیس ہے، حضرت ابوہریرہ بن ابوموسی نے اپنے باپ سے انہوں نے نبی کریم سے یہی روایت نقل کی ہے ایک قول یہ کیا گیا جنوں میں سے مشرک مراد ہیں قتادہ نے کہا، جنوں کے سفیہ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جس طرح انسانوں کے سفیہ نے اس کی نافرمانی کی، شططا اور اشتطاط سے مراد کفر میں غلو ہے ابومالک نے کہا، اس سے مراد ظلم ہے۔ کلبی نے کہا، اس سے مراد جھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
20۔ ابن جریر وابن مردویہنے ابن عباس ؓ سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ کچھ لوگ انسانوں میں سے زمانہ جاہلیت میں جب وہ کسی وادی میں رات گذارتے تھے تو وہ کہتے تھے میں اس وادی کے سردار سے پناہ مانگتا ہوں اور فرمایا فزادوہم رہقا میں رہقا سے مراد ہے گناہ یعنی انہوں نے ان میں گناہ کے اعتبار سے اضافہ کردیا۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ ان میں سے کوئی ایک جب کسی وادی میں اترتا تو وہ کہتا میں اس وادی کے عزیز کی پناہ مانگتا ہوں اس قوم کے بیوقوفوں کے شر سے تو وہ اپنی ذات کے…
Read the full tafseer →[وَّانهُمْ ظَنُّوْا : اور یہ کہ ان (انسانوں) نے گمان کیا ] [كَمَا ظَنَنْتم : جیسے تم (جن) لوگوں نے گمان کیا ] [ان لَّنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ : ہرگز نہیں اٹھائے گا اللہ ] [اَحَدًا : کسی ایک کو (بھی قبر سے)]
(آیت۔ 7) وَاَتَّھُمْ ظِلُّوْا میں اَتَّھُمْ ضمیر الشان نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ہمیشہ واحد مذکر یا واحد مؤنث کی ضمیر سے آتی ہے۔ یہاں ھُمْ کی ضمیر اَنَّ کا اسم ہے اور ظَنُّوْا جملہ فعلیہ بن کر اَنَّ کی خبر ہے اور ھُمْ کی ضمیر انسانوں کے لیے ہے بَعَثَ کا اصل مفہوم ہے کسی کو اٹھا کر کسی طرف بھیجنا۔ اس لیے یہ لفظ اٹھانا اور بھیجنا، دونوں معانی میں آتا ہے۔ یہاں لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا
یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ :
حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7:۔ ” وانھم ظنوا “ ضمیر انس کی طرف راجع ہے۔ ” ظننتم “ خطاب جنات سے ہے اے قوم شرک کے علاوہ تم حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے اس طرح بنی آدم کا بھی یہی خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ نہیں کرے گا۔ ” وانا لمسنا السماء فملئت حرسا شدیدا “ جنات نے مزید کہا کہ پہلے ہم آسمان کی طرف جاتے تھے اور قریب ہی اطمینان سے بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے کوئی روک ٹوک نہ تھی اور نہ کوئی چوکیدار وہاں مقرر تھے، لیکن ہم اب آسمان کے قریب جاتے ہیں تو وہاں نہایت سخت پہرہ لگا ہے اور جنوں کو بھگانے کے لیے چمکتے شہا بےموجود ہیں اس لیے اب اگر کوئی آسمان کی طرف وہاں کی باتیں سننے کے لیے جائے تو شہاب ثاقب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…
Read the full tafseer →وَّاَنَّہُمْ ظَنُّوْا كَـمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّبْعَثَ اللہُ اَحَدًا 7 ۙ
ظن
والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ،
( ظ ن ن ) الظن
اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ترکیب : رھقا وعتوا مفعول ثان لزادوا والرھق فی الاصل غشیان الشیء وانھم من کلام الجن بعضھم لبعض اواستیناف من اللہ سبحانہ ٗ و من فتح ان فیھا جعلھما من الموحی بہ ان لن الجملۃ ساومسدمفعولی ظنوا للسمع صلۃ لنقعد اوصفۃ لمقاعد۔
تفسیر : انہوں نے مان لیا جو تمہارے استاد تھے تم نہیں مانتے ‘ افسوس ہے۔ شان نزول : اس سورة کی شان نزول میں امام احمد اور ترمذی اور بخاری و مسلم وغیرہ کبار محدثین نے مختلف طرق سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب مع اس تشریح کے جو کتب سیر میں ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے برسوں قریش کو مکہ میں سمجھایا اور ان کی سختیوں کی بڑی استقلال سے برداشت کی اور بجز چند لوگوں کے ایمان نہ…
Read the full tafseer →وَّاَ نَّھُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ (الجن : 7)
(اور یہ کہ انھوں نے بھی تمہاری ہی طرح یہ گمان کیا کہ اللہ ہرگز کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ )
اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا کا مفہوم
اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا … اس فقرے کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا، اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا۔ آیت کے الفاظ میں دونوں معنوں کے لیے گنجائش موجود ہے، لیکن اگلی آیت کے مضمون کو دیکھتے ہوئے پہلا مفہوم اس کے زیادہ موافق معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔
اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔…
Read the full tafseer →7 : وَّ اَنَّھُمْ (اور جیسا تم) اے گروہ جنات ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ (جنات کے گمان کیا جیسا تم نے گمان کیا) اے اہل مکہ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا (کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا) موت کے بعد اٹھانا۔ مطلب یہ ہے جنات بھی بعث کے منکر تھے جیسا تم انکار کرتے ہو۔ پھر قرآن سن کر انہوں نے ہدایت پائی اور بعث کے اقراری ہوگئے تم کیوں اقرار نہیں کرتے جیسا انہوں نے اقرار کیا۔
Read the full tafseer →6 ۔” وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن “ کیونکہ کوئی آدمی عرب میں سے جاہلیت میں جب سفر کرتا تھا پس اس وادی میں چٹیل زمین میں شام کرتا تو کہتا میں سردار کی پناہ مانگتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوفوں سے تو وہ ان میں امن وپڑوس میں رات گزارتا صبح تک۔ کردم بن ابوسائب انصاری (رح) فرماتے ہیں میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ کی طرف نکلا، کسی ضرورت کی وجہ سی اور یہ ابتدائی بات تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں تذکرہ ہورہا تھا۔ پس ہم نے رات کو ایک بکریوں کے چرواہے کے پاس ٹھکانہ حاصل کیا۔ جب آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا آیا اور بکری کا ایک بچہ پکڑ لیا تو چرواہا کو دا اور اے وادی کے عامر تیرا پڑوسی تو آواز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا…
Read the full tafseer →یعنی جب انہوں نے حیات بعدالموت کا انکار کردیا تو شرک اور سرکشی اختیار کرنے کی جرات کی۔
Read the full tafseer →9 توحید کے بعد رسالت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے اپنی قوم سے مزید کہا کہ تمہاری طرح انہوں نے بھی یہ سمجھ رکھا تھا کہ اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا۔ یعنی رسول بنا کر۔ یعنی اب کوئی رسول نہیں آئے گا مگر اب یہ قرآن سننے سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ ان کا یہ کہنا خلاف واقع غلط اور جھوٹ تھا، دوسرا مطلب بیعث کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا، یعنی وہ قیامت کے اور جزا اور سزا کے منکر تھے، سو اب اس قرآن عظیم سننے کے بعد اس پر ایمان لے آئے اور ان کے سامنے واضح ہوگیا کہ اللہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے رسول بھی بھیجتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 12 یا ” جن بھی اے آدمیو ! تمہاریطرح یہ سمجھنے لگے۔ “13 یا ” اللہ تعالیٰ کسی کو پیغمبر بنا کر) مبعوث نہ کریگا۔ “ مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت یا رسالت کے منکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →(72:7) وانھم ظنوا کما ظننتم : واؤ عاطفہ، انھم میں ان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ سب لوگ ہم ضمیر کا مرجع بنی آدم ہیں۔ ظنوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے گمان کیا۔ انہوں نے خیال کیا۔ انہوں نے سمجھا کما میں ک تشبیہ کے لئے ہے تم نے خیال کیا۔ تم ضمیرجمع مذکر حاضر کا مرجع وہ جن ہیں کہ جن کو مخاطب کرکے قرآن سن کر آنے والے جنات اپنے تاثرات بیان کر رہے تھے : وہ بتا رہے تھے کہ انسانوں نے بھی وہی سمجھ رکھا تھا جو اے جنات تم نے سمجھ رکھا تھا۔ یعنی اللہ کسی کو رسول مبعوث نہیں کرے گا
ان لن یبعث اللہ احدا : ان مصدریہ۔ لن یبعث مضارع منصوب نفی تاکید بلن۔ وہ ہرگز نہیں اٹھائے گا۔ وہ ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(ف 2) ایام جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ عرب کے لوگ مسافرت کی حالت میں جب کسی جنگل میں اترتے تو نعوذ لبید ھذالوادی من شرسفھاء قومہ کہا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس جنگل کے سردار سے ہم یہ حمایت چاہتے ہیں کہ اس سردار کی کوئی نادان جن ہماری جان اور مال کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائے۔ اسی دستور کو جنوں کی اس ٹکڑی نے یہ کہا کہ اس دستور نے جنات کے تکبر اور نخوت کو اور بڑھادیا کیونکہ اس دستور سے وہ سمجھنے لگے کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ انسان ہم سے حمایت چاہتے ہیں۔ یہ جنات کی ٹکڑی یہودی مذہب کی تھی اس لیے انہوں نے قرآن کو سن کر انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ کہا بعد عیسیٰ نہیں کہا۔ اس واسطے ان لن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ
1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے…
Read the full tafseer →(7) اور یہ کہ جس طرح تم نے یہ خیال قائم کررکھا تھا کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو مبعوث نہیں فرمائے گا۔ یعنی جس طرح تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اسی طرح نبی آدم بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بس اب رسولوں کا سلسلہ ختم ہوا۔
ہوسکتا ہے کہ ان لن یبعث کا مطلب یہ ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ کرے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قبروں سے ن اٹھاوے گا یارسول نہ کھڑا کرے گا پہلے جو رسول ہوچکے سو ہوچکے۔ خلاصہ یہ کہ قبروں کی بعثت یارسول کے مبعوث ہونے کے متعلق جو تم نے اور تمہاری طرح انسانوں نے خیال قائم کیا تھا وہ غلط ثابت ہوا، رسول کی بعثت ہوگئی اور مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 3۔ یعنی اب پہرہ ہوگیا ہے کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لے جانے پائے، اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جاوے۔
Read the full tafseer →اور یہ لوگ (انسان بھی تمہاری طرح سمجھتے تھے کہ اللہ کسی انسان کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا :
7 ؎ قرآن کریم نے مکہ والوں کے ان دونوں نظریوں کا بار بار ذکر کیا ہے کہ ایک تو وہ یہ گمان کرتے تھے کہ قیامت ویامت کچھ نہیں ‘ مر گئے سو مر گئے۔ دوبارہ زندہ ہونے کا تصور محض ایک اختراع ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں جن لوگوں کے پاس دنیا کا مال و دولت نہیں ہوتا اور ان کو مال و اولاد وافر نہیں ملتا ان کی زمانہ میں کوئی حیثیت قائم نہیں ہوتی اور ان کا نام لینے والا ‘ ان کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تو وہ اس طرح کی باتیں گھڑ کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی تعجب خیز باتیں گھڑتے اور بیان کرتے ہیں کہ قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا ﴿6﴾
(...and that some people from human beings used to seek refuge with some peoples of the Jinn, and thus they increased them (the Jinns) in arrogance, [ 72:6] '
This verse describes the situation that it was customary for people in the Days of Ignorance that when they halted in a valley in the course of a journey, they sought refuge in the Jinn leader of that valley from the foolish mischief-makers of his nation believing that the leader of the valley will protect them. This made the Jinn…
Read the full tafseer →7 Ibn `Abbas says that in the pre-lslamic days of ignorance when the Arabs had to spend a night in some uninhabited, desolate valley, they would shout out: "We seek refuge of the jinn, who is owner of this valley." In other traditions of the pre-Islamic ignorance also the same thing has been reported frequently. For example, if in a place they ran short of water and fodder, the wandering Bedouins would send one of their men to some other place to see if water and fodder were available; and when they reached the new site under his direction, they would shout out before they halted to pitch the…
Read the full tafseer →