Al-Jinn 72:6

Al-Jinn · from ayah 6

72:6

وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا ۟ۙوَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ يَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡهُمۡ رَهَقًا

اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there were men from mankind who sought refuge in men from the jinn, so they [only] increased them in burden.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:6

اور یہ کہ "انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ : انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات کے کچھ لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے، اس طرح ان لوگوں نے جنات کو اور سر چڑھا دیا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ آدمیوں میں کچھ مرد جنوں کے کچھ مردوں کے پناہ لیتے تھے تو اس سے اور بھی ان کا تکبر بڑھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات میں سے بعض اَفراد کی پناہ لیتے تھے، سو اُن لوگوں نے اُن جنات کی سرکشی اور بڑھا دی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے بعض لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انھوں نے ان (جنوں) کو سرکشی میں زیادہ کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے چناچہ انہوں نے جنوں کے غرور کو اور زیادہ بڑھا دیا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو جنوں میں سے بعض کی دہائی دیتے رہے ہیں تو انہوں نے ان کی شامت ہی میں اضافہ کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے جس سے ان کی سرکشی (اور بددماغی) اور زیادہ بڑھ گئی تھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور انسانوں میں بہت سے لوگ ایسے ہوئے ہیں کہ وہ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے سو انہوں نے ان (جنات) کی نخوت اور بڑھا دی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انہوں نے ان (جنات) کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے اس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that “some from among the humans used to seek protection of some among the jinn, and thus they increased the arrogance of the jinn”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that some guys from human beings used to seek refuge with some guys of the Jinn, and thus they increased them (the Jinns) in arrogance,

— Muhammad Taqi Usmani

and that some guys from human beings used to seek refuge with some guys of the Jinn, and thus they increased them (the Jinns) in arrogance,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`And verily, there were men among mankind who took shelter with the males among the Jinn, but they increased them in Rahaq.'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And indeed (O Muhammad) individuals of humankind used to invoke the protection of individuals of the jinn, so that they increased them in revolt against Allah);

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there were men from mankind who sought refuge in men from the jinn, so they [only] increased them in burden.

— Saheeh International

"Certain human beings sought refuge with certain jinn and this increased the rebelliousness of those jinn.

— Muhammad Sarwar

And that persons from among men used to seek refuge with persons from among jinn, so they increased them in wrongdoing:

— Muhammad Habib Shakir

And persons among humankind have been seeking refuge with persons of the Jinn, so that they increased them in evil disposition.

— Abdul Majid Daryabadi

'True, there were persons among mankind who took shelter with persons among the Jinns, but they increased them in folly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

جنات پر قرآن حکیم کا اثر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 7 ابن عباس ؓ کہتے کہ جاہلیت کے زمانے میں جب عرب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تھے تو پکار کر کہتے " ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں "۔ عہد جاہلیت کی دوسری روایات میں بھی بکثرت اس بات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلا اگر کسی جگہ پانی اور چارہ ختم ہوجاتا تو خانہ بدوش بدو اپنا ایک آدمی کوئی دوسری جگہ تلاش کرنے کے لیے بھیجتے جہاں پانی اور چارہ مل سکتا ہو، پھر اس کی نشان دہی پر جب یہ لوگ نئی جگہ پہنچتے تو وہاں اترنے سے پہلے پکار پکار کر کہتے " کہ ہم اس وادی کے رب کی پناہ مانگتے ہیں تاکہ یہاں ہم ہر آفت سے محفوظ رہیں "۔ ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر غیر آباد جگہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

(آیت) وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا اس آیت میں مومن جنات نے یہ بیان کیا ہے کہ جاہلیت کے لوگ جب کسی جنگل میں قیام کرتے تو اس جنگل کے جنات کی پناہ مانگتے تھے اس سے جنات یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو انسان سے بھی افضل ہیں کہ انسان بھی ہماری پناہ لیتا ہے۔ اس بات نے جنات کی گمراہی میں اور اضافہ کردیا۔ حضرت رافع بن عمیر کا اسلام بسبب جنات۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ ہواتف الجن میں سند کے ساتھ حضرت سعید بن جبیر سے یہ نقل کیا ہے کہ رافع بن عمیر صحابی نے اپنے اسلام قبول کرنے کا ایک واقعہ یہ بتلایا ہے کہ میں ایک رات ایک ریگستان میں سفر کر رہا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انسانوں کی بعض حماقتوں کی طرف اشارہ: اسی سلسلہ میں انھوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنا یہ انکشاف بھی بیان کیا کہ اس قرآن سے ہمیں یہ علم بھی ہوا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ افراد کی دہائی دیتے رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کچھ نفع پہنچنے کے بجائے ان کی شامت اور بدبختی ہی میں اضافہ ہوا۔ ’رَہَقٌ‘ کے اصل معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے ہیں۔ یہیں سے اس کا استعمال زیادتی، گناہ، حق تلفی اور تعدی کے معنی میں وسیع ہو گیا۔ چنانچہ آگے آیت ۱۳ میں یہ لفظ تعدی کے معنی میں آیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ کچھ بے وقوف انسانوں نے جنوں کی دہائی دے کر ان کے دماغ کو عرش پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 یعنی جب جنات نے یہ دیکھا کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں اور ہماری پناہ طلب کرتے ہیں تو ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: زمانہ جاہلیت میں جب لوگ اپنے سفر کے دوران کسی جنگل میں قیام کرتے تو اس جنگل کے جنات کی پناہ مانگتے تھے۔ یعنی اس جنگل کے جنات سے یہ درخواست کرتے تھے کہ وہ انہیں اپنی پناہ میں لے کر تکلیف پہنچانے والی مخلوقات سے بچائیں۔ اس عمل سے جنات یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم انسانوں سے افضل ہیں، کیونکہ وہ ہماری پناہ کے محتاج ہیں۔ اس طرح ان کی گمراہی میں اور اضافہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانہ کان .................... رھقا (27 : 6) ” اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ، اس طرح انہوں نے انسانوں کی بےچینی کو اور زیادہ بڑھا دیا “۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف جو ایام جاہلیت میں متعارف تھا اور آج بھی کئی معاشروں میں یہ بات متعارف ہے کہ جنوں کو زمین اور انسانوں پر اقتدار حاصل ہے اور یہ کہ وہ انسانوں کو نفع نقصان بھی پہنچا سکتے تھے۔ اور یہ کہ بعض اراضی اور سمندروں اور فضا میں یہ جن محکوم ہیں ، اور ان کے سردار ان پر حکمران ہیں۔ چناچہ جب یہ لوگ کسی ، غیر آباد جگہ جاتے یا کسی جنگل اور پہاڑ میں ہوتے تو یہ اس علاقے کے سردار جن کی پناہ مانگ لیتے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 عرب میں یہ جہالت بہت پھیلی ہوئی تھی۔ جنوں سے غیب کی خبریں پوچھتے، ان کے نام کی نذر و نیاز کرتے چڑھاوے چڑھاتے۔ اور جب کسی قافلہ کا گزر یا پڑاؤ کسی خوفناک وادی میں ہوتا تو کہتے کہ اس حلقہ کے جنوں کا جو سردار ہے ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں تاکہ وہ اپنے ماتحت جنوں سے ہماری حفاظت کرے۔ ان باتوں سے جن اور زیادہ مغرور ہوگئے اور سر چڑھنے لگے۔ دوسری طرف اس طرح کی شرکیات سے آدمیوں کے عصیان و طغیان میں بھی اضافہ ہوا جب انہوں نے خود اپنے اوپر جنوں کو مسلط کرلیا تو وہ ان کے اغوا میں کیا کمی کرتے۔ آخر قرآن نے آکر ان خرابیوں کی جڑ کاٹی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا۔ } ”اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے ‘ تو انہوں نے ان جنات کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔“ عربوں کے ہاں جنات سے پناہ طلب کرنے کا رواج عام تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر جنگل اور ہر ویرانے میں جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس لیے جب ان کا کوئی قافلہ صحرا میں کہیں پڑائو کرتا تو قافلے کا سردار بآوازِ بلند پکارتا کہ ہم اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں آتے ہیں۔ اب ظاہر ہے جنات تو انسانوں کی ایسی حماقتوں پر ہنستے ہوں گے کہ دیکھو ! آج اسی آدم علیہ السلام کی اولاد ہمیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 انسانوں کا جنوں سے پناہ مانگنا :۔ عہد جاہلیت میں اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ بن چکا تھا کہ ہر غیر آباد جگہ جنوں کا مسکن ہوتا ہے۔ اور ان میں بھی انسانوں کی طرح بعض جن دوسروں کے سردار اور بادشاہ ہوتے ہیں۔ جو وہاں حکومت کرتے ہیں اور اگر کسی انسان کا ایسے علاقہ میں گزر ہو اور اس جن کی پناہ مانگے بغیر اس جگہ میں رہائش پذیر ہوجائے جس کے قبضہ میں یہ غیر آباد جگہ ہے تو وہ حاکم جن ایسے انسان یا انسانوں کو علاقہ غیر میں داخل ہونے کی بنا پر سزا دینے اور تکلیف پہنچانے کا حق رکھتا ہے خواہ وہ خود ایسی سزا دے دے یا اپنے ماتحت جنوں سے دلوا دے چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں عرب جب کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اور یہ جنات اپنے دل میں کمال حماقت سے یہ خیال کرنے لگے کہ ہم بھی کوئی چیز ہیں جبھی تو انسان ہماری انتی تعظیم اور قدر کرتا ہے) (آیت) ” رجال .... الجن “۔ دیو، پری، بھوت پریت وغیرہ کے عقیدے ہندوستان، ایران عرب بکثرت قوموں میں پھیلے رہے ہیں۔ اور اسی سلسلہ میں عرب جاہلیت کی ایک عادت یہ تھی کہ جب کسی نئے مقام میں پہنچتے تو اپنے آپ کو وہاں کے سردار جنات کی حفاظت میں سونپ دیتے تھے۔ وھو قول جمھور المفسرین ان الرجل فی الجاھلیۃ اذا سافر فامسی فی قفرمن الارض قال اعوذ بسید ھذا الوادی اوبعزیز ھذا المکان من شر سفھاء قومہ بیبیت فی جوار منھم حتی یصبح (کبیر) کان الرجل من العرب اذا نزل بمخوف من الارض قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن . ابن منذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الشیخ نے کروم بن السائب انصاری کا قول نقل کیا ہے۔ کروم نے کہا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ کسی کام سے مدینہ کو جانے کے لیے نکلا (وادی میں پہنچ کر رات ہوگئی اور) رات گزارنے کے لیے بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس ٹھہرنا پڑا۔ آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا بکری کے بچہ کو اٹھا کرلے گیا۔ چرواہا دوڑا اور پکارا : اے وادی کے مالک ! یہ تیری پناہ میں تھا۔ فوراً کسی منادی نے جو ہم کو نظر نہ آتا تھا ‘ پکارا ‘ بھیڑیئے ! اس کو چھوڑ دے ‘ بکری کا بچہ فوراً دوڑتا ہوا آگیا اور بکریوں میں داخل ہوگیا۔ کہیں اس کے خراش بھی نہیں لگی تھی۔ یہ واقعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

زمانہ جاہلیت میں یہ عادت تھی کہ جب لوگ سفر کرتے یا شکار کرتے یا کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو اس اعتقاد سے کہ جناب کے سردار ہماری حفاظت کریں گے تو یوں کہتے اعوذ بسید ھذا الوادی من سفھاء قومہ تو اس وجہ سے وہ لوگ امن میں رہتے۔ تو اس پناہ مانگنے نے ان جنات کی بددماغی اور بڑھا دی اور وہ جنات اپنے کو آدمیوں کا بھی سردار سمجھنے لگے اور جنات کی تین قسمیں ہیں ایک قسم تو قفاء میں رہتی ہے اور ایک جماعت اوپر نیچے جہاں چاہے آتی جاتی رہتی ہے اور ایک گروہ کتوں اور سانپوں کی طرح ہے۔ شان نزول : وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ (الخ) ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں کر زم بن ابی السائب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وانہ کان رجال من الانس…: عرب کے بعض مشرک جب کسی خوفناک جگہ یعنی جنگل وغیرہ میں جاتے تو کہتے کہ ہم اس علاقے میں جو جنوں کا سردار ہے اس کی پناہ میں آتے ہی۔ اس سے جنوں ک سرکشی اور بڑھ گی، کیونکہ وہ جان گئے کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اور زیادہ ڈرانا شروع کردیا۔ معلوم ہوا آدمی کو نہ جنوں سے ڈرنا چاہیے نہ ان کی پناہ مانگنی چاہیے اور نہ کسی غیر اللہ کی دہائی دینی چاہیے، کیونکہ یہ شرک ہے، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ کسی بھی چیز کے شر سے پناہم انگنے کے لئے قرآن مجید کی آخری دو سوتروں جیسی کوئی چیز نہیں مزید وضاحت کے لئے ان دو سورتوں کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–7

تفسیر 4 تا 7 اللہ کے فرمان : وانہ کان یقول سفیھنا علی اللہ شططا۔ میں انہ کی ضمیر امر کے لیے ہے یا حدیث کے لیے ہے اور کان میں ضمیر اس کا اسم ہے اور مابعد کان کی خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کان، زائدہ ہو، مجاہد، ابن جریج اور قتادہ کے قول میں، یہاں سفیہ سے مراد ابلیس ہے، حضرت ابوہریرہ بن ابوموسی نے اپنے باپ سے انہوں نے نبی کریم سے یہی روایت نقل کی ہے ایک قول یہ کیا گیا جنوں میں سے مشرک مراد ہیں قتادہ نے کہا، جنوں کے سفیہ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جس طرح انسانوں کے سفیہ نے اس کی نافرمانی کی، شططا اور اشتطاط سے مراد کفر میں غلو ہے ابومالک نے کہا، اس سے مراد ظلم ہے۔ کلبی نے کہا، اس سے مراد جھوٹ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

20۔ ابن جریر وابن مردویہنے ابن عباس ؓ سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ کچھ لوگ انسانوں میں سے زمانہ جاہلیت میں جب وہ کسی وادی میں رات گذارتے تھے تو وہ کہتے تھے میں اس وادی کے سردار سے پناہ مانگتا ہوں اور فرمایا فزادوہم رہقا میں رہقا سے مراد ہے گناہ یعنی انہوں نے ان میں گناہ کے اعتبار سے اضافہ کردیا۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ ان میں سے کوئی ایک جب کسی وادی میں اترتا تو وہ کہتا میں اس وادی کے عزیز کی پناہ مانگتا ہوں اس قوم کے بیوقوفوں کے شر سے تو وہ اپنی ذات کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّانهٗ : اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [كَان رِجَالٌ: تھے کچھ ایسے مرد ] [مِّنَ الْانسِ : انسانوں میں سے ] [يَعُوْذُوْنَ : جو پناہ پکڑتے تھے ] [بِرِجَالٍ : کچھ ایسے مردوں کی جو ] [مِّنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے تھے ] [فَزَادُوْهُمْ : تو انھوں (انسانوں) نے زیادہ کیا ان (جنوں) کو ] [رَهَقًا : بلحاظ سر چڑھنے کے ] (آیت۔ 6) فَزَادُوْھُمْ میں زَادُوْا کی ضمیر فاعلی رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور رِجَالٌ مِّنَ الْجِنِّ کے لیے بھی۔ اسی طرح ھُمْ کی ضمیر مفعولی کو بھی دونوں میں سے کسی کے لیے بھی ماننے کی گنجائش موجود ہے۔ دونوں طرح کے ترجمے درست مانے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–7

رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ : حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

6:۔ ” وانا ظننا “ واعظین جن اپنی طرف سے معذرت پیش کرتے ہیں کہ وہ ابتک کیوں ان نادانوں کی بات مان کر گمراہی اور شرک میں پھنسے رہے۔ انہوں نے کہا ہم تو اب تک اس خوش فہمی اور حسن ظن میں مبتلا رہے ہیں کہ جن و انس اللہ تعالیی کی طرف کوئی جھوٹی اور غلط بات منسوب نہیں کرسکتے۔ اس لیے ہم یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے یہ رہنما جو خدا کے لیے شریک اور نائب تجویز کر رہے ہیں وہ درست اور حق پر ہیں۔ مگر اب قرآن سننے سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ وہ جھوٹے اور مفتری ہیں اور اللہ تعالیٰ شریک سے پاک ہے۔ ” وانہ کان رجال من الانس “ یہ اس طرف اشارہ ہے جو مشرکین کا دستور تھا کہ جب کسی جنگل بیابان میں داخل ہوتے شریر جنوں سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنَّہٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا۝ 6 ۙ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

ترکیب : رھقا وعتوا مفعول ثان لزادوا والرھق فی الاصل غشیان الشیء وانھم من کلام الجن بعضھم لبعض اواستیناف من اللہ سبحانہ ٗ و من فتح ان فیھا جعلھما من الموحی بہ ان لن الجملۃ ساومسدمفعولی ظنوا للسمع صلۃ لنقعد اوصفۃ لمقاعد۔ تفسیر : انہوں نے مان لیا جو تمہارے استاد تھے تم نہیں مانتے ‘ افسوس ہے۔ شان نزول : اس سورة کی شان نزول میں امام احمد اور ترمذی اور بخاری و مسلم وغیرہ کبار محدثین نے مختلف طرق سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب مع اس تشریح کے جو کتب سیر میں ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے برسوں قریش کو مکہ میں سمجھایا اور ان کی سختیوں کی بڑی استقلال سے برداشت کی اور بجز چند لوگوں کے ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّاَنَّـہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْھُمْ رَھَقًا۔ (الجن : 6) (اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ پس انھوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔ ) جنات اپنے مشرکانہ اوہام و خیالات کے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسانوں میں ایسے بھی لوگ تھے جو جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ چناچہ ان کی اس کمزوری سے جنات کے دماغ اور چڑھ گئے اور وہ اپنے آپ کو یہ سمجھنے لگے کہ ہم انسان سے افضل ہیں کیونکہ انسان بھی ہماری پناہ لیتا ہے۔ اس بات نے جنات کی گمراہی میں اور اضافہ کردیا۔ حضرت ابن عباس ( رض) کہتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–7

فہم القرآن ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔ اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : جب کوئی عربی خوفناک علاقے میں وارد ہوتا تو اس طرح کہتا اعوذ بسید ھذا الوادی من سفھاء قومہ۔ اس کا مقصد بڑے جن کی پناہ حاصل کرنا ہوتا تھا۔ اس پر فرمایا۔ وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُ وْھُمْ ( اور بہت سے لوگ آدمیوں میں سے ایسے تھے کہ وہ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے۔ پس انہوں نے ان جنات کی بڑھا دی) یعنی ان انسانوں نے ان جنات کی پناہ لے کر ان جنات کی بڑھا دی۔ رَھَقًا (سرکشی اور جہالت اور تکبر) کہ وہ اس طرح کہنے لگے کہ اب تو ہم جنات اور انسانوں کے سردار ہوگئے یا جنات نے انسانوں کی گمراہی بڑھا دی۔ اس لئے کہ انسانوں نے ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” وانا ظننا “ ہم نے گمان کیا۔ ” ان لن تقول الانس والجن “ یعقوب نے ” تقول “ وائو کی زبر اور اس کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” علی اللہ کذبا “ یعنی ہم ان کو ان کے اس قول میں کہ ” اللہ تعالیٰ نے بیوی اور اولاد بنائی ہے “ گمان کرتے تھے حتیٰ کہ ہم نے قرآن سن لیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی انسان جنوں کی عبادت کرتے تھے اور خوف اور گھبراہٹ کے موقعوں پر جنات کی پناہ لیتے تھے پس انسانوں نے جنات کو زیادہ سرکش بنادیا، یعنی جب جنوں نے دیکھا کہ انسان ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی پناہ طلب کرتے ہیں تو اس چیز نے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ کردیا ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ضمیر جنات کی طرف لوٹتی ہے یعنی جب جنات نے انسانوں کو دیکھا کہ وہ ان کی پناہ پکڑتے ہیں تو انہوں نے ان کے خوف اور دہشت زدگی میں اور اضافہ کردیا تاکہ وہ ان کو جنات کی پناہ لینے اور ان کے قول سے تمسک کرنے پر مجبور کریں زمانہ جاہلیت میں جب انسان کسی خوف ناک وادی میں پڑاؤ کرنا تو کہا میں اس وادی کے سردار کی، اس کی قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 انسانوں کی غلط روش سے جنوں کی سرکشی میں اضافہ کا ذکر وبیان : سو ان جنوں نے اپنے کلام میں مزید کہا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے جس سے ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم چناچہ روایات میں وارد ہے کہ مشرکین کو اپنے سفروں کے دوران جب کسی جگہ پڑاؤ کرنا وہتا وہ پکار کر کہتے کہ ہم اس عالقہ کے جنوں کے سردار کی پناہ لیتے ہیں اور پھر وہ مطمئن ہوجاتے کہ اب ہمیں جنوں کے سردار کی پناہ مل گئی ہے، عکرمہ سیر ویات ہے کہ اس سے قبل جن انسانوں سے کر بھاگا کرتے تھے، مگر جب انہوں نے انسانوں کو اس طرح ان سے پناہ مانگتے دیکھا تو وہ مست اور سرکش ہوگئے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یوں میں بعض مشرکین کا قاعدہ تھا کہ وہ جنوں سے غیب کی خبریں پوچھتے، ان کے نام کی نذریں چڑھاتے اور نیازیں دیتے اور جب سفر کے دوران میں رات کو کسی خوفناک مقام پر اترتے تو کہتے کہ اس علاقہ کے جنوں کا جو سردار ہے ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں تاکہ وہ اپنے ماتحت جنوں سے ہماری حفاظت کرے۔ ان باتوں نے جنوں کو اور بھی زیادہ مغرور بنادیا کیونکہ وہ سمجھنے لگے کہ ہم تو آدمیوں کے بھی سردار ہوگئے۔ اسی لئے وہ ہماری پناہ ڈھونڈھتے ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے یمن کے کچھ لوگوں نے جنوں کی پناہ لینا شروع کی، پھر قبیلہ بنی حنیفہ کے کچھ لوگوں نے اور پھر ہوتے ہوئے تمام عرب میں اس کا رواج ہو یا۔ جب اسلام آیا تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:6) وانہ اور یہ کہ ۔۔ من الانس میں من تبعیضیہ ہے انسانوں میں سے بعض کچھ آدمی۔ یعوذون۔ مضارع جمع مذکر غائب عوذ ومعاذ (باب نصر) مصدر۔ پناہ طلب کرتے تھے۔ من الجن میں بھی من تبعیضیہ ہے۔ جنات میں سے چند مردوں کی۔ رجال رجل کی جمع ، مرد۔ مطلب :۔ اور یہ کہ انسانوں میں سے بعض مرد بعض جنات مردوں کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ فزادوھم رھقا :تعقیب کی زادوا ماضی جمع مذکر غائب اس میں ضمیر فاعل کا مرجع رجال من الانس ہے زیادۃ (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی زیادہ کرنا۔ بڑھانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکرغائب جس کا مرجع رجال من الجن ہے۔ انہوں نے ان کو زیادہ کیا۔ انہوں نے ان کو بڑھایا۔ رھقا۔ سرکشی ، تکبر۔ سرچڑھنا۔ ستم۔ زیادتی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–7

(ف 2) ایام جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ عرب کے لوگ مسافرت کی حالت میں جب کسی جنگل میں اترتے تو نعوذ لبید ھذالوادی من شرسفھاء قومہ کہا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس جنگل کے سردار سے ہم یہ حمایت چاہتے ہیں کہ اس سردار کی کوئی نادان جن ہماری جان اور مال کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچائے۔ اسی دستور کو جنوں کی اس ٹکڑی نے یہ کہا کہ اس دستور نے جنات کے تکبر اور نخوت کو اور بڑھادیا کیونکہ اس دستور سے وہ سمجھنے لگے کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ انسان ہم سے حمایت چاہتے ہیں۔ یہ جنات کی ٹکڑی یہودی مذہب کی تھی اس لیے انہوں نے قرآن کو سن کر انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ کہا بعد عیسیٰ نہیں کہا۔ اس واسطے ان لن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–7

جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ 1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اور یہ کہ بہت سے لوگ آدمیوں میں سے ایسے تھے کہ وہ جنات میں سے کچھ لوگوں کو پناہ لیا کرتے تھے تو ان پناہ لینے والوں نے ان جنات کی سرکشی اور بددماغی کو اور بڑھا دیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آدمی جتنا جنوں کے آگے التجا کرتے ہیں اتنا وہ مغرور ہوتے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ ایک مشترکہ مر ض تھا جس میں کم وبیش سب ہی جنات و انسان مبتلا تھے اور سب شرک کرتے تھے اور بعض شرک خاص تھا جیسا بعض آدمیوں کا بعض جنات کے ساتھ اس لئے اس جماعت جنات نے اس کو بھی ظاہر کیا کہ بعض انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے مثلاً کسی جنگل میں جاکر قیام کیا قافلہ اترا تو وہاں کھڑے ہوکرقافلے کے سردار نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–8

ف 3۔ یعنی اب پہرہ ہوگیا ہے کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لے جانے پائے، اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس طرح انسانوں اور جنوں کے گٹھ جوڑ نے دونوں کو ایک دوسرے کا معاون بنا دیا : 6 ؎ (رھقا ) سرکش ، تکبر ، سر چڑھنا ، ستم ، زیادتی ، زبردستی رھق یرھق کا مصدر ہے اصل میں اس کے معنی ایک شے کے دوسرے شے پر زبردستی چھا جانے کے ہیں اور چونکہ اس کا لازمی نتیجہ تباہی ہے اس لئے تابہ ہونے کے معنی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ (یعوذون ) وہ پنا چاہتے تھے ، وہ جماعت جس نے قرآن کریم سنا تھا اور ان کے دلوں پر جو مدت کے پردے پڑے ہوئے تھے وہ دور ہوئے تو انہوں نے قوم کے سامنے گزشتہ کہاوتیں جو ان کے ہاں مشہور چلی آرہی تھیں ان کا ذکر شروع کردیا اور یہ عین فطرت کے مطابق ہے کہ جب انسان اندھیرے سے روشنی کی طرف آتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

وَأَنَّهُ كَانَ رِ‌جَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِ‌جَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَ‌هَقًا ﴿6﴾ (...and that some people from human beings used to seek refuge with some peoples of the Jinn, and thus they increased them (the Jinns) in arrogance, [ 72:6] ' This verse describes the situation that it was customary for people in the Days of Ignorance that when they halted in a valley in the course of a journey, they sought refuge in the Jinn leader of that valley from the foolish mischief-makers of his nation believing that the leader of the valley will protect them. This made the Jinn…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 That is, "We were misled by those falsehoods because we could never think that the men or the jinn could ever dare forge a lie about Allah, but having heard this Qur'an we now know that they were, in fact, liars."

Read the full tafseer →