Explained with ayahs 1–7
جنات پر قرآن حکیم کا اثر
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ اپنی قوم کو اس واقعہ کی اطلاع دو کہ جنوں نے قرآن کریم سنا اسے سچا مانا اس پر ایمان لائے اور اس کے مطیع بن گئے، فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم کہو میری طرف وحی کی گئی کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا اور اپنی قوم میں جا کر خبر دی کہ آج ہم نے عجیب و غریب کتاب سنی جو سچا اور نجات کا راستہ بتاتی ہے ہم تو اسے مان چکے ناممکن ہے کہ اب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کریں۔ یہی مضمون آیتوں میں گذر چکا ہے آیت (واذ صرفنا الیک الخ، یعنی جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف لوٹایا کہ وہ قرآں سنیں اور اس کی تفسیر…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 6
یعنی ان کی غلط باتوں سے ہمارے گمراہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم کبھی یہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ انسان یا جن اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنے کی جرات بھی کرسکتے ہیں، لیکن اب یہ قرآن سن کر ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ فی الواقع وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ۙوَّاَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ سَفِيْهُنَا عَلَي اللّٰهِ شَطَطًا ۙوَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَي اللّٰهِ كَذِبا۔ لفظ شطط کے معنے قول بعید از عقل اور ظلم وجور کے آتے ہیں مراد یہ ہے کہ ایمان لانے والے جنات نے اب تک شرک و کفر میں مبتلا رہنے کا عذر یہ بیان کیا کہ ہماری قول کے بیوقوف لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں بےسروپا باتیں کہا کرتے اور ہمیں یہ گمان نہ تھا کہ کوئی انسان یا جن اللہ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرسکتا ہے اس لئے ان بیوقوفوں کی بات میں آ کر آج تک ہم کفر و شرک میں مبتلا تھے اب قرآن سنا تو حقیقت کھلی۔
Read the full tafseer →مغالطہ پر تنبیہ:
یہ اس مغالطہ کی طرف اشارہ ہے جس کے سبب سے وہ اپنے ان سرداروں کے چکر میں پھنسے رہے۔ کہا کہ ہم نے گمان کیا کہ بھلا انسان اور جنات اللہ تعالیٰ پر یہ تہمت باندھنے کی جسارت کس طرح کر سکتے ہیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا اور ان کو مستحق عبادت ٹھہرایا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ جسارت کی اور ہم اپنی سادگی کے سبب سے ان کے چکموں میں آ گئے۔
یہ ان کی طرف سے اپنی قوم کے عوام کو آگاہی ہے کہ اپنے ان پروہتوں کے تقدس کے فریب میں مبتلا ہو کر اپنی عقل کو معطل نہ رکھ چھوڑو بلکہ اپنی سمجھ سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کہ مچھلی کے نام سے یہ تمہیں سانپ پکڑا دیں۔
Read the full tafseer →5۔ 1 اسی لئے ہم اس کی تصدیق کرتے رہے اور اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے رہے۔ حتٰی کہ ہم نے قرآن سنا تو پھر ہم پر اس عقیدے کا باطل ہونا واضع ہوا۔
Read the full tafseer →3: یعنی اب تک جو ہم غلط عقائد رکھتے رہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ سارے انسان اور جنات یہی عقائد رکھتے تھے، اس لیے خیال یہی ہوا کہ اتنے سارے لوگ جھوٹے عقائد نہیں رکھتے ہوں گے، چنانچہ ہم ان کی تقلید میں انہی عقائد کے قائل رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وانہ کان ........................ کذبا (27 : 5) ” اور یہ کہ ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہتے ہیں “ اور یہ کہ ” ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے “۔ جن اس بات کو دہرا رہے کہ ہمارے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں خلاف حق تصورات رکھتے تھے اور اللہ کے لئے بیوی اور اولاد کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اور قرآن کریم سننے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے یہ عقائد درست نہ تھے اور جنوں میں سے جو لوگ اس بات کے قائل تھے وہ بڑے جاہل اور احمق تھے۔ اس قدر جاہل کہ وہ یہ تصور کرتے تھے کہ انسانوں اور جنوں میں سے کوئی شخص اللہ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا…
Read the full tafseer →4 یعنی ہم کو یہ خیال تھا کہ اس قدر کثیر التعداد جن اور آدمی مل کر جن میں بڑے بڑے عاقل اور دانا بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت جھوٹی بات کہنے کی جرأت نہ کریں گے۔ یہی خیال کر کے ہم بھی بہک گئے اب قرآن سن کر قلعی کھلی اور اپنے پیشتروؤں کی اندھی تقلید سے نجات ملی۔
Read the full tafseer →آیت 5{ وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّـنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ } ”اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔“
وہ بدبخت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا رہا اور ہم اس خوش فہمی میں اس کی باتوں کو مانتے رہے کہ کوئی انسان یا جن اللہ کے بارے میں کبھی کوئی خلافِ حق بات نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →4 یعنی جنوں اور انسانوں کی عظیم اکثریت اگر یہ باتیں کہتی ہے کہ اللہ کی بیوی اور اولاد ہے یا فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں یا اللہ نے اپنے پیاروں کو بھی کئی قسم کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں تو وہ جھوٹ کیسے ہوسکتا ہے۔ اتنی عظیم اکثریت جھوٹی بات پر کیسے اتفاق کرسکتی ہے۔ لہذا ہم نے بھی ان باتوں کو درست تسلیم کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3۔ (چہ جائیکہ شرک جیسا بیباکانہ جھوٹ، جس سے بڑھ کر کوئی اور چیز خیال میں نہیں آسکتی) (آیت) ” کان ... ... شططا “۔ سب سے بڑھ کر سفاہت یہ کہ توحید جیسے صاف وصریح مسئلہ کے بھی منکر ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…
Read the full tafseer →وانا ظننا ان لن تقول الانس والجن علی اللہ کذبا . یعنی ہم پہلے خیال کرتے تھے کہ انسان اور جن اللہ پر دروغ بندی نہیں کر رہے ہیں (اور واقعی خدا کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی) حقیقت میں یہ بعض نادانوں کی پیروی کرنے کی ایک معذرت ہے کہ اس وقت ہمارا خیال ہی یہ تھا کہ یہ لوگ خدا کے متعلق غلط بات نہیں کہہ رہے ہیں۔ کِذِبٌ (جھوٹ بولنا) بولنے کی ایک قسم ہے۔ اس وقت کذبٌ مصدر ہوگا یا جھوٹی بات۔ اس وقت کذبًا مفعول ہوگا یا مفعول محذوف کی صفت یعنی قولا کذبًا مجموعۂ آیات کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم قرآن پر ایمان لے آئے۔ یعنی قرآن کے ذریعہ سے ہم کو یقین ہوگیا کہ ہمارے نادانوں کا قول غلط اور صداقت سے دور تھا اور ہمارا…
Read the full tafseer →اور ہمارا پہلے خیال تھا کہ انسان اور جنات کبھی اللہ کی شان میں جھوٹ بات نہیں کہیں گے باقی اب ہم پر ان کا جھوٹ ثابت ہوگیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کی آپس کی گفتگو کو روایت کیا ہے۔
Read the full tafseer →وانا ظننا ان لن تقول الانس والجن…: یعنی ہم یہی سمجھتے تھے کہ انسان اور جن کم از کم اللہ پر تو ہرگز جھوٹ نہیں باندھ سکتے، اسلئے ہم نے ان سے سن کر مان لیا کہ اللہ کے کچھ شریک ہیں اور اس کی اولاد اور بیوی بھی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ ظالم جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
تفسیر 4 تا 7
اللہ کے فرمان : وانہ کان یقول سفیھنا علی اللہ شططا۔ میں انہ کی ضمیر امر کے لیے ہے یا حدیث کے لیے ہے اور کان میں ضمیر اس کا اسم ہے اور مابعد کان کی خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کان، زائدہ ہو، مجاہد، ابن جریج اور قتادہ کے قول میں، یہاں سفیہ سے مراد ابلیس ہے، حضرت ابوہریرہ بن ابوموسی نے اپنے باپ سے انہوں نے نبی کریم سے یہی روایت نقل کی ہے ایک قول یہ کیا گیا جنوں میں سے مشرک مراد ہیں قتادہ نے کہا، جنوں کے سفیہ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جس طرح انسانوں کے سفیہ نے اس کی نافرمانی کی، شططا اور اشتطاط سے مراد کفر میں غلو ہے ابومالک نے کہا، اس سے مراد ظلم ہے۔ کلبی نے کہا، اس سے مراد جھوٹ…
Read the full tafseer →14۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ یقول سفیہنا علی اللہ شططا سے مراد ہے کہ اللہ کی نافرمانی کی ہے احمق جنوں نے جیسے نافرمانی کی ہے اللہ کی احمق انسانوں نے۔
15۔ عبد بن حمید نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہی آیت جو سورة جن میں ہے اور وہ آیت جو سورة نجم میں ہے پڑھتے تھے اور ان وانہ دونوں جگہ ہمزہ کو منصوب پڑھتے تھے۔
جنات کے سرداروں کی پناہ لینا حرام ہے
16۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والعقیلی فی الضعفاء ولطبرانی واب والشیخ فی العظمہ وابن عساکر نے کردم بن ابی السائب الانصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ایک حاجت میں مدینہ کی طرف نکلا اور یہ مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کا…
Read the full tafseer →[وَّانا ظَنَنَآ : اور یہ کہ ہم نے گمان کیا ] [ان لَّنْ تَقُوْلَ : کہ ہرگز نہیں کہیں گے ] [الْانسُ وَالْجِنُّ : انسان اور جن ] [عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : اللہ پر کوئی جھوٹ ]
(آیت۔ 5) یہاں تَقُوْلَ واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ فاعل اگر اسم ظاہر ہو تو فعل ہمیشہ واحد آتا ہے، البتہ جنس میں اس کا صیغہ اسم ظاہر کی جنس کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسم ظاہر عاقل کی جمع مکسر ہو یا اسم الجمع ہو یا مؤنث غیر حقیقی ہو، تو پھر فعل واحد مذکر اور واحد مؤنث، دونوں طرح سے لانا جائز ہے۔ یہاں اَلْاِنْسُ وَالْجِنُّ اسم الجمع ہیں اس لیے واحد مؤنث کا صیغہ بھی جائز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
رسول اللہ ﷺ سے جنات کا قرآن سننا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دینا
یہاں سے سورة الجن شروع ہو رہی ہے جن پرانی مخلوق ہے جو حضرت آدم اور بنی آدم کی تخلیق سے پہلے سے دنیا میں موجود ہے ان لوگوں میں بھی مومن اور کافر نیک اور بدسب قسم کے افراد ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی ایمان کے مکلف تھے اور ہیں جس طرح بنی آدم میں انسانوں میں کافر اور مشرک ہیں اس طرح جنات میں بھی مشرک اور کافر رہے ہیں اور ان میں مومن بھی ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ :
حضور خاتم الانبیاء سیدنا محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا۔ انسانوں میں کچھ لوگ کاہن بنے ہوئے تھے یہ لوگ آنے والے واقعات کی خبریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6:۔ ” وانا ظننا “ واعظین جن اپنی طرف سے معذرت پیش کرتے ہیں کہ وہ ابتک کیوں ان نادانوں کی بات مان کر گمراہی اور شرک میں پھنسے رہے۔ انہوں نے کہا ہم تو اب تک اس خوش فہمی اور حسن ظن میں مبتلا رہے ہیں کہ جن و انس اللہ تعالیی کی طرف کوئی جھوٹی اور غلط بات منسوب نہیں کرسکتے۔ اس لیے ہم یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے یہ رہنما جو خدا کے لیے شریک اور نائب تجویز کر رہے ہیں وہ درست اور حق پر ہیں۔ مگر اب قرآن سننے سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ وہ جھوٹے اور مفتری ہیں اور اللہ تعالیٰ شریک سے پاک ہے۔ ” وانہ کان رجال من الانس “ یہ اس طرف اشارہ ہے جو مشرکین کا دستور تھا کہ جب کسی جنگل بیابان میں داخل ہوتے شریر جنوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
کوائف :
اس سورة کا نام سورة جن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن اس کے عقائد اور ہدایت قبول کرنے کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی اٹھائیس آیات ، دو رکوع ، دو صدپچاسی الفاظ اور آٹھ سو ستر حروف ہیں۔ پہلی سورة کی طرح اس کا موضوع بھی بنیادی عقائد ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ توحید ہے۔ اسکے بعد قیامت اور رسالت کا بیان ہے۔ قرآن پاک کا کلام الہٰی اور برحق ہونا بھی اس کے موضوع میں شامل ہے۔
لفظ جن کا معنیٰ :
جن کا لفظی معنی پوشیدہ یا مستور ہے۔ یعنی وہ چیز جو مستور ہو۔ اسے جن کہتے ہیں۔ جنکے مادے سے کئی ایک چیزیں مشتق ہیں۔ مثلاََ جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنے گنجان اور گھنے…
Read the full tafseer →وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَي اللہِ كَذِبًا 5 ۙ
ظن
والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ،
( ظ ن ن ) الظن
اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔
إنس
الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : اوحی من الایحاء ھو القاء المعنی الی النفس فی خفاء کالالھام و انزال الملک و یکون ذلک فی سرعۃ انہ بالفتح الجملۃ فاعل اوحی والضمیر فی انہ للشان ای اخبرت بالوحی من اللہ عجبا مصدر و صف بہ للمبالغۃ۔ یھدی الخ الجملہ صفۃ قرآنا اوحال منہ و انہ تعالیٰ قرء ابن کثیر وغیرہ من اھل البصرۃ بالکسر فی احد عشرموضعا الی قولہ و انہ لماقام عبداللہ الا قولہ و ان لواستقاموا وان المساجد و انہ لمقام عبداللہ فانہا من جملۃ الموحی بہ وافقھم نافع وابوبکر الافی قولہ وانہ لما قام علی انہ استیناف اومقول وجہ الکسرۃ انھا من جملۃ المح کی بعدالقول وقرء الباقون بالفتح فی ھذہ المواضع عطفاً علی محل الجار و المجرور فی آمنا…
Read the full tafseer →وَّاَ نَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ تَـقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ (الجن : 5)
(اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن خدا پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتے۔ )
عذرِسابق کی وضاحت
سابقہ آیت میں جنات نے جو اپنا عذر بیان کیا ہے یہ اس کی وضاحت ہے۔ کہ ہم نے جن و انس کو جب شرک میں مبتلا دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف مشرکانہ تصورات منسوب کرتے سنا۔ تو ہم نے یہ گمان کیا کہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ انسان اور جن دونوں اور وہ بھی ایک بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے خیالات منسوب کریں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوں۔ یقینا ان کی باتوں میں کوئی سچائی ہوگی، لیکن اب قرآن کریم کی عطا کردہ روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد لوگوں کو شرک سے روکنا اور توحید کی دعوت دینا تھا اسی دعوت کے ساتھ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث کیے گئے جس کا تذکرہ اس سورت میں جنوں کی زبان سے کیا گیا ہے۔
اہل مکہ جب کسی سفر کے دوران صحراء یا جنگل میں پڑاؤ ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر آواز دیتا کہ اے جنوں کے سردار ہم نے یہاں پڑاؤڈالا ہے، ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ اس صحراء میں ہماری حفاظت فرمانا۔ اس عقیدے کی تردید کے لیے نبی ﷺ کو ” قُلْ “ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ جو واقعہ آپ کے ساتھ پیش آیا ہے آپ یہ واقعہ اور جنوں کا عقیدہ اہل مکہ کے سامنے بیان فرمائیں۔…
Read the full tafseer →5 : وَّ اَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (اور ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن کبھی اللہ تعالیٰ کی شان میں جھوٹ بات نہ کہیں گے) کذبًا یہ قولا مصدر کی صفت ہے ای قولا کذبا نمبر 2۔ کذب خود مکذوب فیہ کے معنی میں ہے۔ یعنی جھوٹ نمبر 3۔ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ کذب خود قول کی ایک قسم ہے یعنی ہمارے گمان میں یہ بات تھی کہ کوئی شخص ہرگز اللہ تعالیٰ کے متعلق بیوی اور اولاد کی نسبت والا جھوٹ نہ بولے گا۔ اس لئے ہم ان باتوں میں تصدیق کرتے رہے جو کچھ بھی وہ اس کی طرف منسوب کرتے رہے۔ یہاں تک کہ قرآن مجید سے ان کا کذب ہمارے سامنے کھل گیا۔
Read the full tafseer →4 ۔” وانہ کان یقول سفیھنا “ وہ ابلیس ہے۔ ” علی اللہ شططا “ جھوٹ اور ظلم اور وہ اللہ تعالیٰ کو شریک اور اولاد کے ساتھ موصوف کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا…
Read the full tafseer →یعنی اس نے پہلے ہم دھوکے میں مبتلا تھے، انسانوں اور جنات میں سے ہمارے سرداروں اور روسا نے ہمیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، ہمیں ان پر یقین تھا، ہم ان کے بارے میں سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کی جرات نہیں کرتے، اس لیے اس سے قبل ہم ان کے طریقے پر گامزن تھے، آج حق ہم پر واضح ہوچکا ہے ہم اس کے راستے پر چل رہے ہیں اور ہم نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہمیں مخلوق میں سے کسی کے ایسے قول کی کوئی پروا نہیں جو ہدایت کے منافی ہو۔
Read the full tafseer →7 منکرین کے مغالطوں اور دھوکہ وہی پر تنبیہ کا ذکر وبیان : سو جنوں نے اپنے کلام میں مزید کہا اور ہمارا خیال تھا کہ کوئی انسان یا جن اللہ کے بارے میں جھوٹی بات نہیں کہہ سکتا۔ اسی بناء پر ہم ان کی بہت سی شرکیہ باتوں کو بھی مانتے رہے، مگر اب حقیقت کھلی، اور ہم اس سے باز آئے اور ان جھوٹی اور حد سے بڑھی ہوئی باتوں سے تائب ہوئے، سو اس سے انہوں نے اپنی قوم کو آگاہ اور خبردار کردیا کہ تم کہیں ان کے چکموں میں نہیں آجانا، یہ سب اللہ پر تہمتیں باندھنے والے لوگ ہیں۔ بہرکیف اس سے انہوں نے اپنے اس مغالطے کا ذکر کردیا جس میں مبتلا ہونے کی بنا پر وہ اپنے ان گمراہ لیڈروں کے چکر میں پھنسے ہوئے تھے۔ سو انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر
تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔
یہ کتاب مقدس ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة الجن۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔
جن :
جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…
Read the full tafseer →ف 10 ” اور اسی غلط فہمی پر ہم نے ان کی بات مان لی تھی اور یہ عقیدہ رکھنے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی بیوی اور اولاد ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ کمبخت جھوٹے بیوقوف تھے۔
Read the full tafseer →(72:5) وانا ظننا۔ اس کا عطف بھی جملہ وانہ تعالیٰ جد رہنا پر ہے ظننا ماضی جمع متکلم فلن (باب نصر) سے مصدر۔ ہم سمجھے ہوئے تھے۔ ہمارا گمان تھا۔
ان لن تقول : ان مصدریہ بمعنی کہ ” لن تقول “ مضارع منفی تاکید بلن منصوب صیغہ واحد مؤنث غائب۔
کذبا۔ صفت ہے موصوف محذوف کی۔ ای قولا کذبا۔ جھوٹی بات۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انسان اور جن اللہ پر چھوٹی بات نہیں بنایا کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔
تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(ف 1) بیوقوف جن وانس حد سے بڑھ کر گستاخی کا یہ کلمہ جو اللہ کی شان میں کہتے تھے کہ اللہ صاحب اولاد ہیں ہم کو یہ گمان تھا کہ شاید وہ کلمہ جھوٹ نہیں کہتے مگر اب قرآن شریف کے سننے سے معلوم ہوا کہ اللہ کی عظمت کے مقابلہ میں اس کلمہ کا منہ سے نکالنا بڑی گستاخی ہے اور جن وانس میں سے جو یہ کلمہ کہتے ہیں ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ
1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے…
Read the full tafseer →(5) اوریہ کہ ہم تو یہ خیال کرتے تھے کہ جنات اور انسان اللہ تعالیٰ کی شان میں کبھی کوئی جھوٹی بات نہ کہیں گے۔ یعنی ہم تو پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ جنات اور انسان اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی جھوٹی بات زبان سے نہ نکالیں گے اس لئے ہم نے عام جنات اور انسان کی دیکھا دیکھی شرک اختیار کرلیا اور جو سب کررہے تھے وہی ہم بھی کرنے لگے لیکن اب قرآن سننے کے بعد ہم کو معلوم ہوا کہ حق کچھ اور ہے اور عوام محض گمراہی اور غلط راستے پر چل رہے ہیں اور اکثر جنات اور انسان حضرت حق تعالیٰ کی شان میں بڑی گستاخی کا ارتکاب کررہے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس لئے ہم بھی جھک گئے۔
خلاصہ : یہ کہ ہمارے گمراہ ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 3۔ یعنی اب پہرہ ہوگیا ہے کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لے جانے پائے، اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جاوے۔
Read the full tafseer →اور ہم تو اس خیال میں تھے کہ انسان اور جن کبھی اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتے :
5 ؎ (ظننا) ہم نے گمان کیا۔ ہم نے خیال کیا ؎ ظن سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم ۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے بھی اس طرح کا خیال گزرتا تھا کہ یہ جو ہمارے لوگ خواہ وہ گروہ انسان سے متعلق ہوں یا گروہ جن سے یعنی وہ حضری مزاج کے ہوں یا بدوی مزاج کے بہرحال اللہ تعالیٰ پر وہ کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں اس لئے ان کی باتیں ہم سنتے تھے اور خاموش ہوجاتے تھے ۔ ہمارے جرأت کام نہیں کرتی تھی کہ ہم بات کریں لیکن اب جب ہم نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو ہمارے دل کے سارے پردے ایک ایک کر کے چھٹ گئے اور اب ہماری سمجھ میں آیا کہ جو ہم خیال کرتے تھے وہ تو محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّـهِ شَطَطًا ﴿4﴾ وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ﴿5﴾
...and that the fools among us used to attribute to Allah extremely wrong things, and that we thought that the humans and the Jinn would never tell a lie about Allah, [ therefore, we had followed them in shirk under this impression ]. (72:5)
The word shatat means 'vile words, extravagant or exorbitant or enormous lies'. The word also means 'to transgress or act wrongfully, unjustly or exceed the legitimate bounds'. The believers from amongst Jinn…
Read the full tafseer →5 The word safihuna as used in the Text can be spoken for an individual as well as for a group. If it is taken for a foolish individual, it would imply Iblis and if for a group, it would imply a group of foolish jinn who said such things.
Read the full tafseer →