Al-Jinn 72:28

Al-Jinn · from ayah 28

72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَاَحْصٰی كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا ۟۠لِّيَـعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ اَبۡلَغُوۡا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمۡ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيۡهِمۡ وَاَحۡصٰى كُلَّ شَىۡءٍ عَدَدًا

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

That he may know that they have conveyed the messages of their Lord; and He has encompassed whatever is with them and has enumerated all things in number.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:28

تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور وہ اُن کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچا دیے ہیں، اور وہ ان کے سارے حالات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور اس نے ہر ہر چیز کی پوری طرح گنتی کر رکھی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تا کہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ اللہ (اس بات کو) ظاہر فرما دے کہ بے شک ان (رسولوں) نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے، اور (اَحکاماتِ اِلٰہیہ اور علومِ غیبیہ میں سے) جو کچھ ان کے پاس ہے اللہ نے (پہلے ہی سے) اُس کا اِحاطہ فرما رکھا ہے، اور اُس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ جان لے کہ بیشک انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کا احاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور جو کچھ ان رسولوں کو درپیش ہوتا ہے اس کا وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اور ہر چیز کو گن کر اسے ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ دیکھے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے اور وہ ان کے گرد و پیش کا احاطہ کیے اور ہر چیز کو شمار میں رکھے ہوتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تاکہ وہ جان لے وہ کہ ان فرشتوں نے (پوری حفاظت سے اور بتمام و کمال) پہنچا دیئے پیغامات اپنے رب کے اور اس نے محفوظ کر رکھا ہے ہر چیز کو گن کر

— مولانا اسحاق مدنی

تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیامات پہنچا دیئے۔ اور اللہ ان (پیامبرداروں) کے احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ہر شئے کو وہ شمار میں لئے ہوئے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تا کہ معلوم کرے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دئیے ہیں۔ اور یوں تو اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

so that He may know that they have delivered the messages of their Lord. He encompasses in His knowledge their surroundings and keeps a count of all things.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that He knows that they (angels) have conveyed the messages of their Lord. And He has encompassed all that is with them, and has comprehensive knowledge of every thing by numbers.

— Muhammad Taqi Usmani

so that He knows that they (angels) have conveyed the messages of their Lord. And He has encompassed all that is with them, and has comprehensive knowledge of every thing by numbers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Till he knows that they have conveyed the Messages of their Lord. And He surrounds all that which is with them, and He keeps count of all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That He may know that they have indeed conveyed the messages of their Lord. He surroundeth all their doings, and He keepeth count of all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That he may know that they have conveyed the messages of their Lord; and He has encompassed whatever is with them and has enumerated all things in number.

— Saheeh International

(Messenger) so that He would know that the Messengers have conveyed the message of their Lord. He encompasses all that is with them and He keeps a precise account of all things".

— Muhammad Sarwar

So that He may know that they have truly delivered the messages of their Lord, and He encompasses what is with them and He records the number of all things.

— Muhammad Habib Shakir

That He may know that they have preached the message of their Lord. And He comprehendeth whatever is with them, and He keepeth count of everything numbered.

— Abdul Majid Daryabadi

"That He may know that they have (truly) brought and delivered the Messages of their Lord: and He surrounds (all the mysteries) that are with them, and takes account of every single thing."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–28

اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 29 اس کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رسول یہ جان لے کہ فرشتوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ فرشتوں نے اپنے رب کے پیغامات اس کے رسول تک صحیح صحیح پہنچا دیے ہیں۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ رسولوں نے اس کے بندوں تک اپنے رب کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے۔ آیت کے الفاظ ان تینوں معنوں پر حاوی ہیں اور بعید نہیں کہ تینوں ہی مراد ہوں۔ اس کے علاوہ یہ آیت دو مزید باتوں پر بھی دلالت کرتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ رسول کو وہ علم غیب عطا کیا جاتا ہے جو فریضہ رسالت کی انجام دہی کے لیے اس کو دینا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر سورت میں فرمایا وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات خاص ہے جس کے علم میں ہر چیز کے اعداد و شمار ہیں۔ اس کو پہاڑوں کے اندر جتنے ذرے ہیں ان کا بھی عدد معلوم ہے، ساری دنیا کے دریاؤں میں جنتے قطرے ہیں ان کا شمار اس کے علم میں ہے ہر بارش کے قطروں اور تمام دنیا کے درختوں کے پتوں کے اعداد و شمار کا اسی کو علم ہے۔ اس میں پھر علم غیب کلی کا ذات حق سبحانہ، و تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا واضح کردیا کہ کسی کو مذکورہ اسثناء سے غلط فہمی نہ ہوجائے۔ مسئلہ علم غیب کے معنے اور اس کے ا حکامام سورة نمل کی (آیت) قل لایعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ کے تحت میں پوری تحقیق و تفصیل کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’یَعْلَم‘ یہاں اسی مفہوم میں آیا ہے جس مفہوم میں ’حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنۡکُمْ‘ (محمد ۴۷: ۳۱) اور اس مفہوم کی دوسری آیتوں میں آیا ہے۔ اسی مفہوم میں ’لِنَنْظُرَ کَیْْفَ تَعْمَلُوْنَ‘ (یونس ۱۰: ۱۴) میں لفظ ’نَنْظُرَ‘ بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یوں تو جانتا سب کچھ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ جس کے باطن میں جو کچھ ہے وہ باہر آئے اور وہ اچھی طرح اس کا امتحان کر لے۔ ’وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْْہِمْ وَأَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا‘۔ یعنی وہ رسول کی تحویل میں جو امانت اپنے دین اور اپنی وحی کی دیتا ہے اس کو پوری طرح اپنی نگرانی میں رکھتا ہے۔ ایک ایک چیز کو گنے ہوئے ہوتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چھوٹی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 لیعلم۔ میں ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ بعض کے نزدیک رسول اللہ ﷺ تاکہ آپ جان لیں کہ آپ سے پہلے رسولوں نے بھی اللہ کا پیغام اسی طرح پہنچایا جس طرح آپ نے پہنچایا۔ بعض نے فرشتوں کو بنایا ہے کہ فرشتوں نے اللہ کا پیغام نبیوں تک پہنچایا۔ اور بعض نے اللہ کو مرجع بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی فرشتوں کے ذریعے حفاظت فرماتا ہے۔ 28۔ 2 فرشتوں کے پاس کی یا پیغمبروں کے پاس کی۔ 28۔ 3 کیونکہ وہی عالم الغیب ہے، جو ہوچکا اور آئندہ ہوگا، سب کا اس نے شمار کر رکھا ہے۔ یعنی اسکے علم میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

14: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے، البتہ وہ اپنے جس پیغمبر کو چاہتا ہے، وحی کے ذریعے غیب کی خبریں پہنچا دیتا ہے، اور ایسے موقع پر فرشتوں کو اس وحی کا محافظ بنا کر بھیجا جاتا ہے، تاکہ کوئی شیطان اس میں کوئی خلل نہ ڈال سکے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–28

الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی یہ زبردست انتظامات اس غرض سے کیے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ لے کہ فرشتوں نے پیغمبروں کو یا پیغمبروں نے دوسرے بندوں کو اس کے پیغامات ٹھیک ٹھیک بلا کم وکاست پہنچا دیے ہیں۔5 یعنی ہر چیز اس کی نگرانی اور قبضہ میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ وحی الٰہی میں تغیر و تبدل یا قطع و برید کرسکے۔ اور یہ پہرے چوکیاں بھی شان حکومت کے اظہار اور سلسلہ، اسباب کی محافظت کے لیے بہت سی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ورنہ جس کا علم اور قبضہ ہر چیز پر حاوی ہو اس کو ان چیزوں کی کوئی احتیاج نہیں۔ تم سورة الجن وللہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ } ”تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حجت کے لیے حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا : اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ ؟ ”کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا ؟“ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا : نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ 1 { وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔ } ”اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 وحی الٰہی کی حفاظت کا اہتمام :۔ اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں مثلاً ایک یہ کہ رسول کو علم ہوجائے کہ فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیئے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوجائے کہ فرشتوں نے رسول کو پیغامات پہنچا دیئے اور تیسرا یہ کہ اللہ کو علم ہوجائے کہ رسولوں نے اس کے پیغام ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دیئے۔ گویا ان پہرے داروں کی اس وقت تک ڈیوٹی ختم نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ کے پیغامات فرشتوں کے ذریعہ رسولوں تک اور رسولوں کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچا نہیں دیئے جاتے۔ 26 یعنی ان انتظامات کے علاوہ ان سب سے اوپر اللہ تعالیٰ کی اپنی نگرانی اور کنٹرول ہے۔ یعنی رسول پر بھی اور فرشتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ (بحفاظت تمام بغیر کسی طرح کے دخل و تصرف کے) (آیت) ” لیعلم “۔ یعنی وہ ظاہری طور پر اور وقوع کے بعد بھی جان لے ورنہ اپنے علم ازلی کے لحاظ سے تو وہ جانتا ہی تھا۔ لیعلم کی ضمیر فاعلی کس کی جانب ہے۔ اس پر بہت قیل وقال ہوئی ہے۔ لیکن راقم آثم کو بعض اکابر کے اتباع میں وہی ترکیب مناسب معلوم ہوئی جو یہاں اختیار کی گئی۔ یحتمل ان یکون الضمیر عائد الی اللہ عزوجل وھو قول حکاہ ابن الجوزی فی زاد المیسر (ابن کثیر) اے لیعلم اللہ (مدارک) وھو اختیار اکثر المحققین (کبیر) (آیت) ” ابلغوا “۔ صیغہ جمع غائب سے مراد وہی حضرات انبیاء ہیں۔ اے الرسل (معالم۔ مدارک) بعض نے فرشتے بھی مراد لئے ہیں۔ 20۔ (چنانچہ وحی کے بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–28

الا من ارتضی من رسول (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو بعض امور غیب سے مطلع کردیتا ہے جن کا تعلق یا تو اس کے فرائض رسالت سے ہوتا ہے یا وہ اس کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اللہ کے مطلع کرنے سے پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر پیغمبر عالم الغیب ہو تو پھر اس پر اللہ کی طرف سے اظہار کا کوئی مطلب نہیں رہتا اللہ تعالیٰ اپنے غیب کا اظہار اسی وقت اور اسی رسول پر کرتا ہے جس کو پہلے اس غیب کا علم نہیں ہوتا اس لئے عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت فرمائی گئی ہے۔ علم غیب اور غیبی خبروں میں فرق :۔ الا من ارتضی من رسول (الآیۃ) اس استثناء کا حاصل اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیعلم ان قد ابلغوا رسلت ربھم . تاکہ اللہ جان لے (یوں تو اللہ کو ہر چیز کا علم پہلے سے ہے یہاں) جاننے سے مراد ہے علمی تعلق کا کسی موجود کے ساتھ ظاہر ہوجانا۔ یہی مراد آیت : لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب میں بھی ہے۔ شیاطین سے بھی حفاظت کرنے کے لیے ملائکہ کو مامور کرنے کی یہ علّت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حفاظت وحی کے بعد اللہ کو معلوم ہوجائے کہ پیغمبروں نے اپنے رب کے پیام بلا کم و بیش پہنچا دیئے۔ حاصل کلام یہ کہ پیغمبر اللہ کے پیام کو بغیر تبدیل و تغیر اور آمیزش کے پہنچا سکیں۔ اسی غرض کے لیے اللہ نے حفاظت وحی کے لیے فرشتوں کو مقرر کردیا ہے۔ بعض لوگوں نے لیعلم کا فاعل رسول کو قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ انتظام اس لیے کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ فرشتوں نے حفاظت کے ساتھ اپنے پروردگار کے پیغاموں کو پہنچا دیا اور ہمارے جاننے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان تمام فرشتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو اس کے پاس موجود ہیں اور اس کو ہر ایک چیز کی پوری طرح گنتی معلوم ہے جیسا کہ وہ کپڑوں میں لپٹنے والے کی حالت سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یعلم ان قدا ابلغوا…: اس سارے انتظام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر اس چھوٹی اور بڑی چیز کا احاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہے اور ہر ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔ رسولوں کی مجال نہیں (خواہ وہ فرشتے ہں جیسے جبریل ؑ یا انسان ہوں جیسے تمام رسول علیہ السلام) کہ اللہ کے پیغامات میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی کرسکیں۔ ی ہاں ایک سوال ہے کہ نص تو پہلے ہی ہر چیز کا علم رکھتا ہے، پھر ”لعلم“ (تاکہ وہ جان لے) فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک وہ پہلے ہی سب کچھ جانتا ہے کہ اس طرح ہوگا، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ سب انتظام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لیعلم ان قدابلغوا۔۔۔ تا۔۔۔ عددا۔ لیعلم سے مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جان لیں خہ ان سے قبل آنے والے رسولوں نے پیغام حق پہنچایا جس طرح آپ نے یہ پیغام حق پہنچایا ہے اس کلام میں کچھ کلام محذوف ہے، لیعلم کا جار مجرور جس کے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہوں گی، اخبرناہ بحفظنا الوحی لیعلم ان الرسل قبلہ کانو علی مثل حالتہ من التبلیغ بالحق والصدق یعنی ہم نے آپ کو اپنی جانب سے وحی کی حفاظت کی خبر دی تاکہ آپ جان لیں کہ ان سے قبل کے رسول بھی حق اور سچائی کی تبلیغ میں آپ کی حالت پر ہی تھے، ایک قول یہ کیا گیا کہ آیت کا معنی یہ ہے تاکہ حضرت محمد ﷺ جان لیں کہ حضڑت جبرائیل امین اور ان کے ساتھ جو فرشتے انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–28

16۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفی رصدا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسول کو پھر اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر کردیتا ہے۔ سے مراد ہے باری باری شب وروز آنے والے فرشتے جو شیطان سے ان کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے بیان کرے جس پیغام کے ساتھ اسے ان کی طرف بھیجا گیا۔ اسی کے بارے میں شرک کرنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے یعنی رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے۔ 17۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول میں رسول سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ 18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِيَعْلَمَ ان : تاکہ وہ جان لے کہ ] [قَدْ اَبْلَغُوْا : ان لوگوں (فرشتوں اور رسولوں) نے پہنچا دیے ہیں ] [رِسٰلٰتِ رَبِهِمْ : اپنے رب کے پیغامات ] [وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ : اور اس نے احاطہ کیا اس کا جو ان کے پاس ہے ] [وَاَحْصٰى: اور اس نے شمار پورا کیا ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز کا ] [عَدَدًا : بلحاظ گنتی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 27–28

﴿اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ0027 لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (رح) 0028﴾ ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو اگر کسی ایسے علم پر مطلع کرنا چاہتا ہے جو کہ علم نبوت سے ہو خواہ مثبت نبوت ہو جیسے پیشین گوئیاں خواہ فروع نبوت سے ہو جیسے علم احکام تو (اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ) اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے (یعنی جمیع جہات میں وحی کے وقت) محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے (تاکہ وہاں شیاطین کا گزر نہ ہو) چناچہ حضور ﷺ کے لیے ایسے پہریدار فرشتے چار تھے، اور یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–28

حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔ (ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

18:۔ ” عالم الغیب “ یہ جملہ ماقبل کے لیے علت ہے اور ھو مبتداء مقدر ہے ” الا من ارتضی “ مستثنی منقطع ہے۔ ’ من ارتضی الخ “ مبتدا اور ” فانہ یسلک الخ “ اس کی خبر ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آپ فرما دیجئے مجھے معلوم نہیں کہ قیامت قریب ہے یا بعید، کیونکہ میں عالم الغیب نہیں ہوں اور نہ مجھ کو غیب پر غلبہ ہی دیا گیا ہے کہ جب چاہوں جو چیز چاہوں جان لوں۔ عالم الغیب تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔ البتہ جن بندوں کو اس نے رسالت کے لیے چن لیا ہے ان کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر فرما دیتا ہے تاکہ ان فرشتوں کی شہادت سے ظاہر فرما دے کہ میرے رسولوں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–28

گذشتہ سے پیوستہ : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کریم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف اس با ت کی وحی کی گئی ہے۔ کہ جنات کے ایک گروہ نے کلام الہٰی پر ایمان لائے اور کفر و شرک سے بیزاری کا اعلان کیا۔ دوسری بات آپ یہ بھی فرمادیں کہ اگر انسان اور جن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے یعنی اس کی وحدانیت عبادت اور اطاعت کے راستے پر رہیں گے تو ہم ان کے لیے وسائل رزق کو آسان کردیں گے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں۔ اس کی ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو ، کسی کو نہ پکارو۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے متعلق فرمایا کہ اللہ کا بنہد جب اسے پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ لوگ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْہِمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا۝ 28 ۧ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–28

ترکیب : حتی الشیء الذی جعل مابعد حتی غایۃ لہ فیہ قولان (الاول) انہ متعلق بقولہ یکونون علیہ لبد او التقدیر انھم یتظاہرون علیہ بالعدادۃ حتی اذاراو مایوعدون من یوم بدرا وفتح مبین اویوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھوا ضعف ناصراواقل عددا (والثانی) انہ متعلق بمحذوف کانہ قیل الکفار لایزالون علی ماھم علیہ حتی اذاکان کذاوکذا کان کذا ونظیر ھذہ الآیۃ آیۃ فی سورة مریم وھی حتیٰ اذاروا مایوعدون اما العذاب واما الساعۃ اذاشرطیۃ فستعلمون جو ابھا ویفھم من کلام القرطبی ان حتی لمجرد الابتداء من غیرملاحظۃ معنی الغایۃ فتکون جملۃ مستقلۃ بالاستفادۃ۔ عالم الغیب خبرمبتداء محذوف ای ھوا الجملۃ مستانفہ مقررۃ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

اِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّـہٗ یَسْلُـکُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْ ئٍ عَدَدًا۔ (الجن : 27، 28) (مگر جو پسند کرلیا کسی رسول کو تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ تاکہ وہ جان لے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اور وہ ان کے گردوپیش کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے۔ ) استثناء کا مفہوم حاصل استثناء کا اس سفیہانہ شبہ کا یہ جواب ہے کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں بلکہ منصب رسالت کے لیے جس قدر علم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–28

فہم القرآن ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کے دین سے آگاہ کرنا تھا آپ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی بجائے بغاوت اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور گھمنڈ میں آکر آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگے جس کے جواب میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ عذاب کب آئے گا البتہ میرا رب چاہے تو اس عذاب کو جلد یا بدیر نازل کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خوشخبری دینے و الا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جب آپ برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرتے تو وہ لوگ کفر و شرک چھوڑنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : لِّیَعْلَمَ (تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے) اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا (کہ ان فرشتوں نے پہنچا دیئے ہیں) رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ (اپنے پروردگار کے پیـغامات) مکمل طور پر بغیر کسی کمی بیشی کے مرسل الیہم تک پہنچا دیئے ہیں۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ اس کو جان لے موجود اس کے وجود کی حالت میں جیسا کہ وہ اس کو اس کے وجود سے پہلے جانتے ہیں کہ وہ وجود میں آئے گی۔ نکتہ : مِنْ بین یدیہؔ میں ضمیر کو واحد لائے اس میں من کے لفظ کا لحاظ کیا۔ اور ابلغوا ؔ میں مَنؔ کے معنی کا لحاظ کر کے جمع لائے۔ وَاَحَاطَ (اور اللہ تعالیٰ احاطہ کیے ہوئے ہیں) بِمَا لَدَیْھِمْ (ان کے تمام احوال کا) یعنی رسولوں کے پاس جو علم ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔ ؟؟ الامن ارتضیٰ من رسول “ مگر جس کو اپنی رسالت کے لئے چن لے۔ پس اس کو غیب میں سے جس پر چاہے مطلع کردے اس لئے کہ وہ اپنی نبوت پر ایسی نشانی کے ذریعے استدلال کرے گا جو عاجز کرنے والی ہو اور غیب کی خبر دے۔ ” فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا “ بعض جہات کو ذکر کیا ہے تمام پر دلالت کرنے کے لئے۔ ” رصدا “ یعنی اس کے سامنے اور پیچھے حفاظت کرنے، فرشتے مقرر کردے گا جو اس کی شیاطین سے حفاظت کریں گے کہ وہ بات نہ چوری کرلیں اور جن سے یہ کہ وہ وحی کو کان لگا کر سنتے، پھر وہ کاہن کی طرف ڈال لیتے۔ مقاتل (رح) اور ان کا غیر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی رسول کو بھیجتے تو ابلیس اس کے پاس فرشتے کی صورت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–28

25۔ 28۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ اللہ کے وعدہ کے موافق کوئی آفت آگئی تو ہر کوئی جان لے گا کہ مشرکوں کی بڑی بھیڑ کا کیا انجام ہوا اور اللہ کے فرمانبردار تھوڑے سے مسلمانوں کا کیا انجام ہوا۔ اس کو سن کر بعض مشرکوں نے کہا آخر وہ عذاب کب ہے جس سے ہر وقت ڈرایا جاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول ﷺ اللہ کے تم ان عذاب کے جلد باز لوگوں کو جواب دے دو کہ عذاب دنیا کا یا عذاب قیامت کا خاص وقت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے مجھ کو معلوم نہیں کیونکہ عذاب کے آنے کا خاص وقت ایک علم غیب ہے جو بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں وہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے اس کو بذریعہ وحی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لیعلم) تاکہ اسے معلوم ہوجائے (اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ ) کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے ہیں ان اسباب کے ذریعے سے جو ان کے لیے اس نے مہیا کیے (واھاط بما لدیھم) اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس نے اس کا احاطہ کیا ہے۔ یعنی جو کچھ ان کے پاس ہے جسے وہ چھپاتے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں (وَاَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا) اور ہر چیز کو اس نے شمار کررکھا ہے۔ فوائد۔ یہ سورة مبارکہ متعدد فوائد پر مشتمل ہے۔ 1۔ اس سورت سے جنات کا وجود ثابت ہوتا ہے نیز یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنات امرونہی کے مکلف ہیں ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی جیسا کہ یہ اس سورت میں صریح طور پر مذکور ہے۔ 2۔ اس سورة کریمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

32 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس نے ہر چیز کو محفوظ کر رکھا ہے گن کر۔ پس مخلوق کی کوئی چیز نہ اس کے علم وقدرت سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ اس کی پکڑ اور گرفت سے اور وحی کا ہر ہر جز اس کے علم اور احاطہ میں ہے اس کے لئے کسی نسیان یا چوک وغیرہ کا بھی کوئی خدشہ و امکان نہیں، وماکان ربک نسیا سو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی تحویل میں اپنے دین اور اپنی وحی کی جو امانت دیتا ہے، اس کی پوری طرح نگرانی رکھتا ہے اور اس نے ایک ایک چیز کو گن رکھا ہے، مجال نہیں کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے شمار سے رہ جائے یا کسی حرف تک کی اس میں کوئی کمی بیشی ہوجائے۔ سبحانہ و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–28

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–28

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی اسے اس کے من جانب اللہ ہونے کا یقین ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ یعنی اللہ تعالیٰ مشاہدہ سے بھی جان لے کہ انہوں نے یعنی فرشتوں نے پیغمبروں تک یا پیغمبروں نے عام لوگوں تک اپنے مالک کا پیغام بےکم وکاست ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا یہ کہ ابلیس جان لے کہ پیغمبروں نے اپنے مالک کا پیغام پہنچا دیا۔ (شوکانی)7 یعنی پیغمبروں کے پاس یا پہرے دار فرشتوں کے پاس۔8 چاہے وہ پہلے ہوچکی ہو یا اب موجود ہو یا آئندہ کبھی ہونیوالی ہو اور چاہے وہ فضا میں ہو یا پانی میں یا خشکی میں۔9 اکثر مفسرین نے اس پوری سورة کو مکی قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ میں نے اپنی خالہ (ام المومنین) میمونہ کے ہاں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:28) لیعلم : لام حرف علت یعلم مضارع (منصوب بوجہ عمل لام علت) صیغہ واحد مذکر غائب (باب سمع) مصدر۔ تاکہ وہ جان لے فائدہ : یوں تو ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہے یہاں جاننے سے مراد ہے علمی تعلق کا کسی موجود کے ساتھ ظاہر ہونا۔ یہی مراد آیت لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب میں ہے (5:94) (تاکہ معلوم کرے اللہ کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے) شیاطین سے حفاظت کرنے کے لئے ملائکہ کو مامور کرنے کی یہ علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حفاظت وحی کے بعد اللہ کو یہ معلوم ہوجائے کہ پیغمبروں نے اپنے رب کے پیام بلا کم و بیش پہنچا دیئے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پیغمبر اللہ کے پیام کو بغیر تبدیل و تغیر اور آمیزش کے پہنچا سکیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–28

لغات القرآن۔ استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔ تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–28

(ف 1) اب یہاں سے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ رسولوں کو جو وحی پہنچائی جاتی ہے اس وحی کی حفاظت کا خدا کی طرف سے آسمان و زمین پر بہت بڑا انتظام ہے آسمان پر جگہ جگہ فرشتے تعینات ہیں جو حی کی خبر چوری سے سننے والے جنات پرچاروں طرف سے انگارے برساتے ہیں اور کوئی وحی کی خبر چوری ان کو سننے نہیں دیتے۔ آسمان سے زمین پر جب وحی کی خبرآتی ہے تو اللہ کے رسول کے اردگرد ہر طرف فرشتے اس بات کی چوکسی کرتے ہیں کہ ان میں کوئی شیطانی دخل نہ ہونے پائے۔ یہ سب انتظام اللہ نے ظاہری اسباب کے طور پر فرمایا ہے ورنہ علم باطنی کے طور پر ذرہ ذرہ سب اس کو معلوم ہے کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں جو چیز مخلوقات کی نظروں سے غائب ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] یعنی اللہ تعالیٰ یوں تو جانتا سب کچھ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ جس کے باطن میں جو کچھ ہے وہ باہر آئے اور وہ اچھی طرح اس کا امتحان کرے۔ [10] یعنی وہ پیغمبر کی تحویل میں اپنی وحی کی جو امانت دیتا ہے اسے پوری طرح اپنی نگرانی میں رکھتا ہے اور اس کے ایک ایک حرف کو گنے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کی یہ مجال نہیں کہ اس میں تغیر ّ و تبدل کرسکے۔ یہ پہرے چوکیاں بھی شان حکومت کے اظہار اور بہت سی حکمتوں پر مبنی ہیں ورنہ جس کا علم ہر چیز پر حاوی ہو اسے ان چیزوں کی احتیاج نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–28

انبیا کی حدود معرفت 1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) تاکہ وہ یہ دیکھ لے کہ ان فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات بحفاظت رسول تک پہنچادیئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان نگہبانوں کے تمام حالات کا احاطہ رکھا ہے اور اس نے تو ہر ہر چیز کو شمار کررکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رسول کو خبر دیتا ہے غیب کی پھر چوکیداری رکھتا ہے اسکے ساتھ کہ اس میں شیطان دخل نہ کرنے پاوئے اور انپا نفس غلط نہ سمجھے یہی معنی ہیں اس بات کے کہ پیغمبروں کو عصمت ہے اوروں کو نہیں اور ان کو معلوم میں شک نہیں اوروں کی معلوم میں شک ہے۔ خلاصہ : یہ کہ مغیبات کا حقیقی علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے وہ اپنے مغیبات اور اپنے اسرار اور اپنے بھید کسی پر ظاہر نہیں کرتا البتہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–28

ف 5۔ حاصل مقام یہ کہ علم ساعت علوم نبوت سے نہیں ہے، اس لئے اس کا علم نہ ہونا قادح نبوت یا مستلزم عدم وقوع ساعت نہیں ہے، البتہ علوم نبوت عطا کئے جاتے ہیں اور وہی مقصود بعثت سے ہیں اور ان میں احتمال خطا کا نہیں ہوتا، تو ایسے علوم سے تم مستفید ہو اور زوائد کی تحقیق چھوڑو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تا کہ وہ ظاہر کر دے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے 28 ؎ یہ انتظامات جو خصوصی انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کے لیے کیا گیا وہ کیوں کیا گیا اور کیسے کیا گیا ؟ فرمایا اس لیے تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو لوگوں پر اچھی طرح ظاہر کر دے اور سب پر واضح ہوجائے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ ان کی امتوں تک پہنچایا وہ ان کو من و عن پہنچا دیا گیا گویا انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کی ذمہ داری پوری ہوگئی اور اس کی تصدیق ہوگئی کیونکہ قوموں نے اس بات کی تصدیق کردی خواہ اس کو قبول کر کے کی اور خواہ جھٹلا کر کی کیونکہ دونوں صورتوں میں پیغام کا پہنچانا ثابت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The concluding part of the last verse says: وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (...and has comprehensive knowledge of everything by numbers....72:28). In other words, Allah alone encompasses the perfect knowledge of everything and keeps a meticulous count of it. He has the knowledge of the exact number of particles in the mountains. He has the knowledge of the exact number of drops in all the oceans of the world. He has the knowledge of the exact number of drops in every rain. He alone has the knowledge of the exact number of leaves on all the trees in the world. Thus it is made clear that the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 That is, the Messenger by himself is no knower of the unseen, but when AIIah chooses him to perform the mission of Prophethood, He grants him the knowledge of those of the unseen truths which He is pleased to grant. 28 "Guards": Angels. That is, when Allah sends down the knowledge of the unseen realities to the Messenger by revelation, He appoints angels on every side to safeguard it so that the knowledge reaches the Messenger in a safe condition, free from every kind of adulteration. This is the same thing which has been expressed in vv. 8-9 above, saying: After the appointment of the…

Read the full tafseer →