Explained with ayahs 25–28
اللہ کے سوا قیامت کب ہوگی کسی کو نہیں معلوم
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہہ دیں کہ قیامت کب ہوگی، اس کا علم مجھے نہیں، بلکہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا وقت قریب ہے یا دور ہے اور لمبی مدت کے بعد آنے والی ہے، اس آیت کریمہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ اکثر جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ حضور ﷺ زمین کی اندر کی چیزوں کا بھی علم رکھتے ہیں وہ بالکل غلط ہے اس روایت کی کوئی اصل نہیں محض جھوٹ ہے اور بالکل بےاصل روایت ہے ہم نے تو اسے کسی کتاب میں نہیں پایا، ہاں اس کے خلاف صاف ثابت ہے حضور ﷺ سے قیامت کے قائم ہونے کا وقت پوچھا جاتا تھا اور آپ اس کی معین وقت سے اپنی لاعلمی ظاہر کرتے تھے،…
Read the full tafseer →سورة الْجِنّ 27
یعنی رسول بجائے خود عالم الغیب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جب اس کو رسالت کا فریضہ انجام دینے کے لیے منتخب فرماتا ہے تو غیب کے حقائق میں سے جن چیزوں کا علم وہ چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے۔
سورة الْجِنّ 28
محافظوں سے مراد فرشتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی نگہبانی کرنے کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنج جائے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیات 8۔ 9 میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جنوں نے اپنے لیے عالم بالا تک رسائی…
Read the full tafseer →علم غیب اور غیبی خبروں میں فرق
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا حاصل استثناء کا اس سفیہانہ شبہ کا یہ جواب ہے کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں، بلکہ منصب رسالت کے لئے جس قدر علم غیب کی خبروں اور غیب کی چیزوں کا علم کسی رسول کو دینا ضروری ہے وہ ان کو منجانب اللہ بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے اور وہ ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے کہ جب ان پر اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔ اس میں اول تو لفظ رسول سے اس غیب کی نوعیت متعین کر…
Read the full tafseer →رہے اللہ کے رسول جن کو وہ منصب رسالت کے لیے انتخاب فرماتا ہے تو ان کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں تمام اسرار غیب سے آگاہ کر دے۔ فریضۂ رسالت کے ادا کرنے کے لیے ان کا غیب دان ہونا ضروری نہیں ہے البتہ ان کے آگے اور پیچھے وہ اپنا پہرہ رکھتا ہے تاکہ وہ دیکھتا رہے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغام و احکام بے کم و کاست پہنچا دیے یا نہیں؟
یہ استثناء عام معنی میں استثناء نہیں ہے بلکہ یہ اس طرح کا استثناء ہے جس طرح کا سورۂ غاشیہ میں ہے۔ فرمایا ہے:
فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ…
Read the full tafseer →27۔ 1 یعنی نزول وحی کے وقت پیغمبر کے آگے پیچھے فرشتے ہوتے ہیں اور شیاطین اور جنات کو وحی کی باتیں سننے نہیں دیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
14: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے، البتہ وہ اپنے جس پیغمبر کو چاہتا ہے، وحی کے ذریعے غیب کی خبریں پہنچا دیتا ہے، اور ایسے موقع پر فرشتوں کو اس وحی کا محافظ بنا کر بھیجا جاتا ہے، تاکہ کوئی شیطان اس میں کوئی خلل نہ ڈال سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
3 یعنی اپنے بھید کی پوری خبر کسی کو نہیں دیتا۔ ہاں رسولوں کو جس قدر ان کی شان و منصب کے لائق ہو بذریعہ وحی خبر دیتا ہے۔ اس وحی کے ساتھ فرشتوں کے پہرے اور چوکیاں رکھی جاتی ہیں کہ کسی طرف سے شیطان اس میں دخل کرنے نہ پائے۔ اور رسول کا اپنا نفس بھی غلط نہ سمجھے۔ یہی معنی ہیں اس بات کے کہ پیغمبروں کو (اپنے علوم و اخبار میں) عصمت حاصل ہے، اوروں کو نہیں۔ انبیاء کی معلومات میں شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسروں کو معلومات میں کئی طرح کے احتمال ہیں۔ اسی لیے محققین صوفیہ نے فرمایا ہے کہ ولی اپنے کشف کو قرآن و سنت پر عرض کر کے دیکھے اگر ان کے مخالف نہ ہو تو غنیمت سمجھے۔ ورنہ بےتکلف رد کر دے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیت 27{ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ } ”سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے“
اس آیت میں علم غیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتادیا گیا ہے۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے رسولوں علیہ السلام میں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضور ﷺ کی ذات سے متعلق علم غیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر تو کوئی شخص علم غیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے…
Read the full tafseer →24 علم غیب سے متعلق اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ یہ علم کسی کو نہیں بتاتا کہ قیامت کب آئے گی۔ ہاں غیب کی کچھ باتیں کسی رسول کو بتا بھی دیتا ہے اور یہ باتیں وہ ہوتی ہیں جن کا بتانا دین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ قیامت ضرور آئے گی۔ ایک وقت آئے گا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ یا یہ کہ قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی یا یہ کہ روز محشر میں اللہ کا لوگوں سے حساب لینا اور جنت اور دوزخ کے حالات۔ یہ سب چیزیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں جو اللہ نے وحی کے ذریعہ رسول کو بتادیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے امت تک پہنچا دیں۔ اس کا بھی ضابطہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ جبریل کے ذریعہ ایسی وحی بھیجتا ہے تو اس کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
18۔ حاصل یہ کہ حق تعالیٰ جو حقیقی عالم الغیب ہے، وہ اپنے غیوب کا صرف اتنا حصہ جس کا تعلق علوم نبوت سے ہوتا ہے اپنے مقبول انبیاء ومرسلین پر منکشف کردیتا ہے، وہ بھی حفاظت کے اس پورے اہتمام و احتیاط کے ساتھ کہ وحی الہی بغیر کسی ادنی خارجی دخل و تصرف کے بندوں تک تمام کی تمام پہنچ جائے (آیت) ” من ارتضی من رسول “۔ اس قید سے ظاہر ہوگیا کہ یہاں غیب سے مراد اسرار شرعی ہیں ورنہ اسرار کونی تو مشاہدہ سے ظاہر کہ اہل اشراق واہل نجوم کو، قدیم کہانت والوں کو، اور جدید مسمریزم اور امپریچولزم والوں غرض ہر قسم کے غیر مقبولین کو بھی بعض ریاضتوں اور مشقوں سے کسی نہ کسی درجہ میں منکشف ہوتے ہی رہتے ہیں۔ محققین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
الا من ارتضی من رسول (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو بعض امور غیب سے مطلع کردیتا ہے جن کا تعلق یا تو اس کے فرائض رسالت سے ہوتا ہے یا وہ اس کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اللہ کے مطلع کرنے سے پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر پیغمبر عالم الغیب ہو تو پھر اس پر اللہ کی طرف سے اظہار کا کوئی مطلب نہیں رہتا اللہ تعالیٰ اپنے غیب کا اظہار اسی وقت اور اسی رسول پر کرتا ہے جس کو پہلے اس غیب کا علم نہیں ہوتا اس لئے عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت فرمائی گئی ہے۔
علم غیب اور غیبی خبروں میں فرق :۔
الا من ارتضی من رسول (الآیۃ) اس استثناء کا حاصل اس…
Read the full tafseer →الا من ارتضی . مگر جن کو وہ پسند کرلیتا ہے ان کو واقف کردیتا ہے تاکہ یہ علم ان کا معجزہ ہو
جائے اور وہ فرمانبرداروں کو بشارت دے سکیں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈرائیں۔
من رسول . رسول کا لفظ عام ہے ‘ انسان ہو یا فرشتہ دونوں اس میں داخل ہیں ‘ لفظ رسول انبیاء کو بھی شامل ہے۔ تمام انبیاء
تبلیغ احکام کے لیے خدا ہی کے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں۔ صرف ایسے نبی کو رسول کہنا جس کو جدید شریعت اور کتاب دے کر بھیجا گیا ہو ‘ محض اصطلاح ہے (باعتبار حقیقت و لغت ہر نبی رسول ہوتا ہے) بعض علماء کا قول ہے کہ بطور عموم مجاز اولیاء کو بھی لفظ رسول شامل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ احمد ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) وہ اپنے ایسے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو کہ وہ اسے بعض غیبی باتوں سے مطلع کردیتا ہے اور اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے تاکہ شیطاطین جنات اور انسانوں میں سے کوئی بھی جبریل امین کی قرات نہ سن سکے۔
Read the full tafseer →(الا من ارتضی من رسول …:”اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا“ لیکن اگر وہ اپنے غیب کی کوئی بات بتانا چاہے تو ہر ایک کو نہیں بتاتا بلکہ صرف اسی کو بتاتا ہے جسے وہ رسول کے طور پر پسند کرلے۔”رسول“ کا معنی ہے وہ شخص جسے پیغام پہنچانے کیلئے بھیجا گیا ہو، یعنی وہ غیب کی بات کسی کو عالم الغیب بنانے کے لئے نہیں بلکہ اسے لوگوں تک پہنچانے کے لئے بتاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے چنے ہوئے رسول کو بھی جب غیب کی کسی بات کی اطلاع دیتا ہے تو اس کے چ اورں طرف شہاب ثاقب اور فرشتوں کا زبردست پہرا لگا دیتا ہے، تاکہ شیطان اس وحی میں نہ اپنی کوئی بات داخل کرسکیں اور نہ وقت سے پہلے معلوم کر کے کاہنوں کو اطلاع دے سکیں، بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
عالم الغیب فلایظہر۔۔۔ تا۔۔۔ رصدا۔
اللہ تعالیٰ کس پر غیب کو ظاہر فرماتا ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ عالم الغیب میں عالم کو مرفوع پڑھیں تو یہ ربی کی صفت ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی، ھوعالم الغیب، غیب اسے کہتے ہیں جو بندوں سے غائب ہو اس کا بیان سورة بقرہ کے شروع میں گزرچکا ہے۔ وہ کسی پر اپنا غیب ظاہر نہیں کرتا مگر رسولوں میں سے جس پر راضی ہوتا ہے کیونکہ اس پر غیب میں سے جو چاہتا ہے ظاہر کرتا ہے کیونکہ رسولوں کی معجزات کے ساتھ تائید کی جاتی ہے ان معجزات میں سے بعض غیبت کی خبریں بھی ہوتی ہیں قرآن حکیم میں ہے، وانبئکم بماتاکلون وماتدخرون فی بیوتکم (آل عمران 49) ابن جبیر نے کہا، من رسول سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
16۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفی رصدا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسول کو پھر اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر کردیتا ہے۔ سے مراد ہے باری باری شب وروز آنے والے فرشتے جو شیطان سے ان کی حفاظت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے بیان کرے جس پیغام کے ساتھ اسے ان کی طرف بھیجا گیا۔ اسی کے بارے میں شرک کرنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے یعنی رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادئیے۔
17۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا من ارتضی من رسول میں رسول سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔
18۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى: سوائے اس کے جس کو اس نے پسند کیا ] [مِنْ رَّسُوْلٍ : کسی رسول میں سے ] [فَانهٗ يَسْلُكُ : پھر بیشک وہ چلاتا ہے ] [مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ : اس (رسول) کے آگے ] [وَمِنْ خَلْفِهٖ : اور اس کے پیچھے ] [رَصَدًا : پہرہ دینے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
﴿اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ0027 لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (رح) 0028﴾ ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو اگر کسی ایسے علم پر مطلع کرنا چاہتا ہے جو کہ علم نبوت سے ہو خواہ مثبت نبوت ہو جیسے پیشین گوئیاں خواہ فروع نبوت سے ہو جیسے علم احکام تو (اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ) اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے (یعنی جمیع جہات میں وحی کے وقت) محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے (تاکہ وہاں شیاطین کا گزر نہ ہو) چناچہ حضور ﷺ کے لیے ایسے پہریدار فرشتے چار تھے، اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔
(ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
18:۔ ” عالم الغیب “ یہ جملہ ماقبل کے لیے علت ہے اور ھو مبتداء مقدر ہے ” الا من ارتضی “ مستثنی منقطع ہے۔ ’ من ارتضی الخ “ مبتدا اور ” فانہ یسلک الخ “ اس کی خبر ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آپ فرما دیجئے مجھے معلوم نہیں کہ قیامت قریب ہے یا بعید، کیونکہ میں عالم الغیب نہیں ہوں اور نہ مجھ کو غیب پر غلبہ ہی دیا گیا ہے کہ جب چاہوں جو چیز چاہوں جان لوں۔ عالم الغیب تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔ البتہ جن بندوں کو اس نے رسالت کے لیے چن لیا ہے ان کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر فرما دیتا ہے تاکہ ان فرشتوں کی شہادت سے ظاہر فرما دے کہ میرے رسولوں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
گذشتہ سے پیوستہ :
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کریم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف اس با ت کی وحی کی گئی ہے۔ کہ جنات کے ایک گروہ نے کلام الہٰی پر ایمان لائے اور کفر و شرک سے بیزاری کا اعلان کیا۔ دوسری بات آپ یہ بھی فرمادیں کہ اگر انسان اور جن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے یعنی اس کی وحدانیت عبادت اور اطاعت کے راستے پر رہیں گے تو ہم ان کے لیے وسائل رزق کو آسان کردیں گے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں۔ اس کی ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو ، کسی کو نہ پکارو۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے متعلق فرمایا کہ اللہ کا بنہد جب اسے پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ لوگ اس…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّہٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا 27 ۙ
رضي
يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی:
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ترکیب : حتی الشیء الذی جعل مابعد حتی غایۃ لہ فیہ قولان (الاول) انہ متعلق بقولہ یکونون علیہ لبد او التقدیر انھم یتظاہرون علیہ بالعدادۃ حتی اذاراو مایوعدون من یوم بدرا وفتح مبین اویوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھوا ضعف ناصراواقل عددا (والثانی) انہ متعلق بمحذوف کانہ قیل الکفار لایزالون علی ماھم علیہ حتی اذاکان کذاوکذا کان کذا ونظیر ھذہ الآیۃ آیۃ فی سورة مریم وھی حتیٰ اذاروا مایوعدون اما العذاب واما الساعۃ اذاشرطیۃ فستعلمون جو ابھا ویفھم من کلام القرطبی ان حتی لمجرد الابتداء من غیرملاحظۃ معنی الغایۃ فتکون جملۃ مستقلۃ بالاستفادۃ۔ عالم الغیب خبرمبتداء محذوف ای ھوا الجملۃ مستانفہ مقررۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اِلاَّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّـہٗ یَسْلُـکُ مِنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْ ئٍ عَدَدًا۔ (الجن : 27، 28)
(مگر جو پسند کرلیا کسی رسول کو تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ تاکہ وہ جان لے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اور وہ ان کے گردوپیش کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے۔ )
استثناء کا مفہوم
حاصل استثناء کا اس سفیہانہ شبہ کا یہ جواب ہے کہ علم غیب کلی کی نفی سے ہر غیب کی نفی مطلقاً مراد نہیں بلکہ منصب رسالت کے لیے جس قدر علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کے دین سے آگاہ کرنا تھا آپ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی بجائے بغاوت اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور گھمنڈ میں آکر آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگے جس کے جواب میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں عذاب لانا میرے بس کی بات نہیں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ عذاب کب آئے گا البتہ میرا رب چاہے تو اس عذاب کو جلد یا بدیر نازل کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خوشخبری دینے و الا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جب آپ برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرتے تو وہ لوگ کفر و شرک چھوڑنے…
Read the full tafseer →بعض اخبار غیب تاکہ معجزہ بن جائیں :
27 : اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو) مگر رسول کو اس نے بعض غیب کے علم کیلئے پسند کرلیا تاکہ غیب کے متعلق اس کی خبریں رسول کے لئے معجزہ بن جائیں پس وہ اپنے غیب میں اس کو جو چاہتا ہے اس سے مطلع کرتا ہے۔
تشریح : من رسول یہ لمن ارتضٰی کا بیان ہے۔ اور ولی جن چیزوں کی خبر دے اور وہ اسی طرح ہوجائیں تو اس کو اس پر قطعی یقین نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے خواب یا فراست ایمانی سے وہ خبر دیتا ہے۔ اور ہر ولی کی کرامت یہ دراصل رسول کا معجزہ ہے۔ التاویلات میں مذکور ہے کہ بعض نے کہا کہ اس آیت میں نجومیوں کی تکذیب پر دلالت پائی جاتی ہے۔…
Read the full tafseer →26 ۔” عالم الغیب “ یہ مرفوع ہے صفت کی بناء پر اجل اور انتہا جس کی مدت لمبی ہو۔ یعنی بیشک عذاب کے وقت کا علم غیب ہے جس کو نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ ۔
اس کا قول ” ربی “ اور کہا گیا ہے ” ھوعالم الغیب۔ فلایظھر “ نہیں مطلع کرتا۔ ” علی غیبہ احدا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
25۔ 28۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ اللہ کے وعدہ کے موافق کوئی آفت آگئی تو ہر کوئی جان لے گا کہ مشرکوں کی بڑی بھیڑ کا کیا انجام ہوا اور اللہ کے فرمانبردار تھوڑے سے مسلمانوں کا کیا انجام ہوا۔ اس کو سن کر بعض مشرکوں نے کہا آخر وہ عذاب کب ہے جس سے ہر وقت ڈرایا جاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول ﷺ اللہ کے تم ان عذاب کے جلد باز لوگوں کو جواب دے دو کہ عذاب دنیا کا یا عذاب قیامت کا خاص وقت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے مجھ کو معلوم نہیں کیونکہ عذاب کے آنے کا خاص وقت ایک علم غیب ہے جو بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں وہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے اس کو بذریعہ وحی کے…
Read the full tafseer →(اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ ) مگر جس رسول کو پسند فرمائے۔ پس اسے صرف اسی غیب سے آگاہ کرتا ہے جس سے آگاہ کرنے کا اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول دیگر انسانوں کی مانند نہیں ہیں کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تائید سے نوازا ہے جس سے اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نوازا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو وحی کی اس کی حفاظت بھی حتی کہ رسول اس وحی کی حقیقت کو پہنچ گئے بغیر اس کے کہ شیاطین اس کے قریب آئیں اور اس میں کمی بیشی کریں اسی لیے فرمایا (فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) وہ اس کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے۔ یعنی وہ اللہ…
Read the full tafseer →30 ۔ پیغمبر (علیہ السلام) کا علم ان کے منصب رسالت کے مطابق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ مطلع نہیں کرتا اپنے غیب پر کسی کو مگر اپنے جس رسول کو چن لے غیب کی کسی خبر یا اخبا رکے لئے۔ سو اس کو غیب کے اتنے علم سے نوازتا ہے جس کی نبوت و رسالت کے منصب مقدس کے لئے اس کو ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے توسط سے ملنے والا دین سارے کا سارا غیب سے ہوتا ہے، جو وحی کے ذریعے حق تعالیٰ شانہ اپنے پیغمبر پر نازل فرماتا ہے اور اس سلسلہ میں ہمارے حضور کو غیب کے جتنے علوم سے نوازا گیا وہ دیگر تمام انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کے علوم اور غیوب سے کہیں بڑھ کر ہے اور اتنا کہ جس کا احاطہ و ادراک بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
نبی کے لیے اللہ کا حکم
تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
آیات 20 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 4 یعنی بطور معجزہ تاکہ وہ اس کی نبوت پر دلیل ہو۔ (نیز دیکھیے سورة آل عمران آیت 179) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کا علم کسی نبی کو بھی نہ تھا۔ اگر تھا تو صرف اتنا جتنا خود اللہ تعالیٰ نے اسے بتایا نجومی کاہن وغیرہ اللہ کے نبی نہیں ہوتے اس لئے ان کے غیب پر مطلع ہوجانے کا سوہل ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امام رازی سے اس مقام پر لغزش ہوئی ہے کہ غیب سے مرادصرف قیامت کے آنے کا وقت ہے اور دوسری باتیں بعض کاہنوں کو بھی معلوم ہوجاتی ہیں چناچہ شق اور سطبیح نامی دو کاہنوں نے آنحضرت کے ظہور کی بشارت دی اور وہ پوری ہوئی۔ خواب کی تعبیر بتانے والے ایک تعبیر بتاتے ہیں اور وہ سچ نکلتی ہے مگر شق سطیح کا…
Read the full tafseer →(72:27) الا من ارتضی : الا حرف استثناء ہے۔ من موصولہ۔ ارتضی صلہ ، صلہ موصول مل کر مستثنیٰ احدا (آیۃ متذکرہ بالا) مستثنیٰ منہ۔ (ای احدا من مخلوقاتہ) ۔ ارتضی ماضی واحد مذکر غائب ارتضاء (افتعال) مصدر سے جس کے معنی راضی ہونا پسند کرنا کے ہیں۔ یعنی ما سوا اس کے جس کو وہ پسند کرے ۔ جس پر وہ راضی ہو۔ من رسول متعلق من ارتضی۔ اس کا بیان ہے۔ اور کسی کو اپنے غیب پر آگاہ نہیں کرتا۔ ماسوائے اس رسول کے جس کو وہ پسند فرمائے۔
مدارک التنزیل میں ہے :۔ الامن ارتضی من رسول۔ ای الا رسولا قد ارتضاہ لعلم بعض الغیب، سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ غیب کے کسی امر پر آگہی کے لئے پسند فرمائے۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے :۔ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–28
لغات القرآن۔
استقاموا۔ وہ کھڑے ہوئے۔ اسقینا۔ ہم نے پلایا۔ غدق۔ ڈھیروں۔ لبد۔ اکٹھے۔ اضعف۔ زیادہ کمزور۔ اقل۔ تھوڑا۔ لا یظھر۔ وہ مطلع نہیں کرتا۔ ارتضی۔ اس نے منتخب کرلیا۔ یسلک۔ وہ چلاتا ہے۔ رصد۔ نگہبان۔ احصی۔ اس نے شمار کرلیا۔
تشریح : کفار مکہ عقیدہ کی گندگی میں مبتلا تھے۔ ان کا جنات اور اپنے کاہنوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ غیب کی تمام باتوں کو جانتے ہیں اسی لئے وہ جنات سے پناہ مانگتے اور کاہنوں سے اپنی تقدیر کے فیصلے کراتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ جس کو بیت اللہ کہتے تھے اس میں سیکڑوں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کو اپنی سفارشی مان کر ان سے فریادیں کرتے اور اپنی مرادین مانگا کرتے تھے۔ اگر کوئی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ف 1) اب یہاں سے یہ ارشاد ہوتا ہے کہ رسولوں کو جو وحی پہنچائی جاتی ہے اس وحی کی حفاظت کا خدا کی طرف سے آسمان و زمین پر بہت بڑا انتظام ہے آسمان پر جگہ جگہ فرشتے تعینات ہیں جو حی کی خبر چوری سے سننے والے جنات پرچاروں طرف سے انگارے برساتے ہیں اور کوئی وحی کی خبر چوری ان کو سننے نہیں دیتے۔ آسمان سے زمین پر جب وحی کی خبرآتی ہے تو اللہ کے رسول کے اردگرد ہر طرف فرشتے اس بات کی چوکسی کرتے ہیں کہ ان میں کوئی شیطانی دخل نہ ہونے پائے۔ یہ سب انتظام اللہ نے ظاہری اسباب کے طور پر فرمایا ہے ورنہ علم باطنی کے طور پر ذرہ ذرہ سب اس کو معلوم ہے کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں جو چیز مخلوقات کی نظروں سے غائب ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
[8] اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر بذات خود عالم الغیب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو فریضہ رسالت کے انجام دینے کے لئے منتخب فرماتا ہے تو غیب کی باتوں میں سے جن کا علم چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
انبیا کی حدود معرفت
1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے…
Read the full tafseer →(27) مگر ہاں اپنے کسی برگزیدہ اور پسندیدہ رسول کو سو وہ اس اہتمام سے کہ اس رسول کے آگے اور پیچھے نگہبان فرشتوں کو مقرر کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 5۔ حاصل مقام یہ کہ علم ساعت علوم نبوت سے نہیں ہے، اس لئے اس کا علم نہ ہونا قادح نبوت یا مستلزم عدم وقوع ساعت نہیں ہے، البتہ علوم نبوت عطا کئے جاتے ہیں اور وہی مقصود بعثت سے ہیں اور ان میں احتمال خطا کا نہیں ہوتا، تو ایسے علوم سے تم مستفید ہو اور زوائد کی تحقیق چھوڑو۔
Read the full tafseer →مگر ہاں ! جس کو وہ رسالت کے لیے پسند کرتا ہے اس پر کچھ ظاہر کردیتا ہے
27 ؎ یاد رہے کہ جس بات کے متعلق کسی کو آگاہ کردیا جو بات کسی پر ظاہر کردی جائے اور اس طرح پہلے ایک بات کا علم نہ رکھنے والا جب آگاہ ہونے کے بعد اس سے واقف ہوجائے ، اس کو جان جائے تو اس کو غیب نہیں کہتے اور نہ غیب میں سے اس کو مستثنیٰ کیا گیا ہے ۔ استثنیٰ جو اس میں کی گئی ہے وہ محض غیب کے ظاہر کرنے میں کی گئی ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس میں دھوکہ دہی سے کام لیا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا مگر اللہ کے رسول حالانکہ یہ بات بالکل غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے کسی…
Read the full tafseer →Difference between 'Knowledge of the Unseen' and 'Reports of the Unseen Events'
The exception made here is the response to the doubt raised by unintelligent people. The negation of the total knowledge of the Unseen does not necessarily entail absolute negation of every unknown secret. For the office of risalah, a Messenger needs a certain amount of knowledge of unseen things which Allah grants him through revelation. When Allah sends down the revelation to His Holy Prophet ﷺ ، He sends it down under His special protection, and is completely secure against being distorted or tampered with by…
Read the full tafseer →26 That is, the knowledge of the unseen wholly rests with Allah: He does not give the whole of this knowledge to anyone.
Read the full tafseer →