Al-Muzzammil 73:1

73. Al-Muzzammilالمزمل

The Enshrouded One · Meccan · 20 ayahs · 2 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۟ۙيٰۤاَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُ

اے (محمدﷺ) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who wraps himself [in clothing],

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:1

اے (محمدﷺ) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے کپڑے میں لپٹنے والے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے چادر میں لپٹنے والے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے جھرمٹ مارنے والے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے کملی کی جھرمٹ والے (حبیب!)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے کپڑے میں لپٹنے والے !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے محمد ﷺ !) جو کپڑا اوڑھے ہوئے (سونے لگے) ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے چادر میں لپٹنے والے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے کپڑوں میں لپٹنے والے

— مولانا اسحاق مدنی

اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے نبی ﷺ !) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

O you the (sleeping) enwrapped one!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you, wrapped up in clothes,

— Muhammad Taqi Usmani

O you, wrapped up in clothes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you wrapped up!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O you who wraps himself [in clothing],

— Saheeh International

You, who have wrapped yourself up with a mantle,

— Muhammad Sarwar

O you who have wrapped up in your garments!

— Muhammad Habib Shakir

O thou enwrapped!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 73:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16؀) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُزَّمِّل 1 ان الفاظ کے ساتھ حضور ﷺ کو مخاطب کرنے اور پھر یہ حکم دینے سے کہ آپ اٹھیں اور راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے رہا کریں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت یا تو آپ سو چکے تھے یا سونے کے لیے چادر اوڑھ کر لیٹ گئے تھے۔ اس موقع پر آپ کو اے نبی، یا اے رسول کہہ کر خطاب کرنے کے بجائے " اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے " کہہ کر پکارنا ایک لطیف انداز خطاب ہے جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب آپ آرام سے پاؤں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اے کپڑوں میں لپٹنے والے (وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دارالندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشور کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں کسی نے کہا کہ کاہن ہیں اس کو دوسروں نے رد کردیا کسی نے مجنوں کہا پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا پھر ساحر کہا پھر بعض نے اس کو بھی رد کردیا لیکن پھر یہی کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ دوست کو دوست سے جدا کردیتے ہیں۔ آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں لپٹ گئے۔ اکثر سوچ اور رنج میں آدمی اس طرح کرلیتا ہے اس لئے آپ کو خوش کرنے اور لطف کا اظہار کرنے کے لئے اس عنوان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ آنحضرت ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا گیا ہے جس سے آپ کی وہ تصویر سامنے آتی ہے جو اس اندرونی کیفیت کی غماز ہے جو سورہ کے زمانۂ نزول میں آپ پر بیشتر طاری رہتی تھی۔ ’مُزّمّل‘ دراصل ’متزمل‘ ہے۔ عربیت کے قاعدے کے مطابق ’ت‘ حرف ’ز‘ میں مدغم ہو گئی ہے۔ اسی طرح کا تصرف لفظ ’مدّثّر‘ میں بھی ہوا ہے۔ اس کے معنی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر چکے ہیں، اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھنے والے کے ہیں۔ یہ حالت بالعموم ایسے شخص کی ہوتی ہے جو سامنے کے حالات سے فکرمند اور گردو پیش کے لوگوں کے رویہ سے بددل ہو۔ آنحضرت ﷺ لوگوں کو ایک ایسے عذاب سے ڈرا رہے تھے جو ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا لیکن لوگوں کی بے گانگی و بے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

1۔ 1 جس وقت یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم ﷺ چادر اوڑھے ہوئے تھے اللہ نے آپ کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اب چادر چھوڑ دیں اور رات کو تھوڑا قیام کریں یعنی نماز تہجد پڑھیں کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی بناء پر تہجد آپ کے لیے واجب تھی۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: یہ پیار بھرا خطاب حضور اقدس ﷺ سے ہے، جب آپ پر پہلی پہلی بار غار حراء میں جبرئیل ؑ وحی لے کر آئے تھے تو آپ پر نبوت کی ذمہ داری کا اتنا بوجھ ہوا کہ آپ کو جاڑا لگنے لگا، اور جب آپ اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو یہ فرما رہے تھے کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو ، مجھے چادر میں لپیٹ دو ، اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں محبوبانہ انداز میں آپ کو اے چادر میں لپٹنے والے کہہ کر خطاب کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔ یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہ سورت ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ میں نازل ہوئیں۔ روایات صحیحہ میں ہے کہ شروع میں جب وحی کی دہشت اور نقل سے آپ ﷺ کا بدن کانپنے لگا تو آپ ﷺ نے گھر والوں سے فرمایا۔ " زمّلونی زمّلونی " (مجھے کپڑا اڑھاؤ کپڑا اڑھاؤ) چناچہ کپڑا اڑھا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اور اس سے اگلی سورت میں آپ کو وہی نام لے کر پکارا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ قریش نے " دارالندوہ " میں جمع ہو کر آپ ﷺ کے متعلق مشورہ کیا کہ آپ ﷺ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہیے کسی نے " کاہن " کہا کسی نے " جادو گر " کسی نے " مجنون " مگر اتفاق رائے کسی چیز پر نہ ہوا۔ اخیر میں " ساحر " کی طرف رجحان تھا۔ آپ ﷺ کو خبر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ۔ } ”اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ !“ فداہ آباونا وامّھاتنا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 انداز خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں۔ جب آپ ﷺ رات کو سونے کے لیے بستر پر چادر اوڑھ کر لیٹ چکے تھے۔ اور اس لطیف انداز خطاب میں آپ ﷺ کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ اب پاؤں پھیلا کر اور بےفکر ہو کر سونے کے دن بیت چکے، اب آپ ﷺ کی ذمہ داریاں کچھ اور قسم کی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (آپ ان معاندین کے ہفوات کا خیال نہ کیجئے تو جہ حق تعالیٰ ہی کے ذکر و عبادت کی طرف رکھیے) مستند حدیثی روایتوں میں آتا ہے (جو ہر ” تاریخی “ روایت سے مستند تر ہیں) کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں تبلیغ و دعوت کا کام شروع فرمادیا، تو بڑے بڑے ” عقلاء قوم “ نے (آج کل ہی کے عقلاء فرنگ “ کی طرح) آپ ﷺ کے متعلق غور وخوض شروع کیا کہ آپ ﷺ کے دعوے صحیح تو بہرحال ہو ہی نہیں سکتے پھر (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کا اصل مرض ہے کیا، اپنے کمیٹی گھر (دارالندوہ) میں جمع ہوئے اور کسی نے کہا کہ ” یہ کاہن ہوگئے ہیں “ غیب کی خبریں دینا اور سچی پیشگوئیاں کرنا کہانت ہی کا ایک حصہ ہے “۔ بعض نے کہا کہ ” نہیں یہ تو دماغی عارضہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے کپڑے میں لپٹنے والے نبی ! (مزمل) کی اصل متزمل تھی، تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا، یعنی اس پر وحی کے نازل ہونے کے وقت وحی کی ہیبت کے خوف سے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو قیام کر نماز پڑھ مگر کم، آدھی رات (نصفہٗ ) قلیلا سے بدل ہے اور نصف کا قلیل ہونا پوری رات کے اعتبار سے ہے، یا اس سے یعنی نصف سے، بھی کچھ کم کرلے ثلث رات تک یا اس پر (دو تہائی تک) زیادہ کرلے، او تخییر کے لئے ہے، اور قرآن خوب صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تم پر ایک بھاری کلام قرآن نازل کرنے والے ہیں یعنی با رعب کلام یا شدید، اس لئے کہ اس میں احکام تکلیفیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا المزمل . ( مُزَّمِّلٌ اسم فاعل ہے ‘ اس کا مصدر تزمّلٌ ہے) تزملٌ کی تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا ‘ اس کا معنی ہے کپڑوں میں لپٹ جانا۔ تَزَمَّل ثِیَابَہٗ اس نے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیے۔ مدثر کے بھی یہی معنی اور یہی اصل ہے۔ تبلیغ رسالت سے پہلے ابتداء وحی میں رسول اللہ ﷺ کو اسی خطاب سے مخاطب کیا گیا۔ اسوقت دہشت کے مارے حضور ﷺ کپڑے لپیٹے ہوئے تھے۔ اس زمانہ کے بعد پھر نبی ﷺ اور رسول ﷺ فرماکر خطاب کیا گیا۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ توقف وحی کے متعلق بیان فرما رہے تھے کہ میں پیدل جا رہا تھا ‘ اچانک ایک آواز سنی ‘ اوپر نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو حراء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) محمد رات کو نماز کے لیے کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات یعنی نصف رات یا رات کے دو حصے نماز پڑھا کرو اور قرآن کریم کو خوب صاف صاف ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو یعنی ایک آیت اور دو آیات اور تین آیات یہاں تک کہ قرات پوری کرو۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (الخ) بزاز، طبرانی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص کا کوئی نام تجویز کرو جس سے لوگ بھاگتے ہیں، تو بعض کہنے لگے کہ کاہن ہیں اس پر لوگوں نے کہا کاہن نہیں ہیں تو پھر بعض کہنے لگے کہ مجنوں ہیں اس پر بھی بعض نے کہا کہ مجنوں نہیں ہیں، پھر بعض کہنے لگے کہ ساحر ہیں اس پر بھی لوگ کہنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یایھا الزمل :’ المزمل“ اصل میں ”المتزمل“ تھا، تاء کو زاء سے بدل کر زاء میں ادغام کردیا، کپڑے میں لپٹنے والا۔ یہ بات لازم ہے۔ (2) یایھا المزمل :”اے کپڑے میں لپٹنے والے !“ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ ان آیات کے اترنے کے وقت رسول اللہ ﷺ کپڑے میں لپٹ کر لیٹے ہوئے تھے۔ اس خطاب میں رسول اللہ ﷺ سے بہت لطف و کرم اور محبت کا اظہار ہے، کیونکہ اہل عرب کا طریقہ ہے کہ وہ مخاطب سے نرمی اور محب سے بات کرنا چاہتے ہوں تو ایسے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں جو مخاطب کی اس وقت کی حالت پر دلالت کر رہا ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ عنہماکو مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا :(قم ابا تراب !) (بخاری، الصلاۃ ، باب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یا ایہا المزمل۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترتیلا۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں۔ مزمل کی لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، یا ایھا المزمل۔ اخفش سعید نے کہا، المزمل اصل میں متزمل تھا تاء کو زاء میں مدغم کیا گیا یہی المدثر ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے اسے اصل پر المتزمل اور المتدثر پڑھا ہے۔ سعید نے المزمل پڑھا ہے، مزمل کی اصل میں دو قول ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اٹھانے والے ہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے، زمل الشئین، جب وہ اس چیز کو اٹھائے اس سے الزاملہ ہے کیونکہ وہ گھر کا سامان اٹھاتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ مزمل سے مراد ہے لپٹنے والا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، تزمل وتدثر بثوبہ، جب وہ کپڑے کو لپیٹ لے وریہ جملہ بولا جاتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم نے الدلائل میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کا ایسا نام رکھو جس سے لوگ کوئی نتیجہ اخذ کرسکیں پھر انہوں نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں پھر انہوں نے کہا یہ مجنون ہے تو دوسروں نے کہا یہ مجنون نہیں ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا یہ جادوگر ہے تو دوسروں نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک دوست کو اپنے دوست سے جدا کردیتا ہے تو اس پر مشرک متفرق ہوگئے یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی آپ اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے اور اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ : اے کپڑا لپیٹنے والے ] زم ل [زَمْلًا : (ن) ] کسی کو سواری پر پیچھے بٹھانا۔ (تفعل) تَزَمَّلًا اور اِزَّمُّلاً ۔ کپڑے کو اپنے اوپر لپیٹ لینا۔ مُزَّمِّلٌ اسم الفاعل ہے۔ لپیٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رات کے اوقات میں قیام کرنے اور قرآن کریم ترتیل سے پڑھنے کا حكم، سب سے کٹ کر اللہ ہی کی طرف متوجہ رہنے کا فرمان یہ سورت مکی ہے اگرچہ بعض حضرات نے بعض آیات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور مدنی بتایا ہے لفظ مزمل زا اور میم کی تشدید کے ساتھ ہے اصل میں متزمل تھا تا کو زا سے بدل دیا گیا اور زا کا زا میں ادغام کردیا گیا لہٰذا ﴿مزمل﴾ ہوگیا جیسے ﴿متطہر﴾ سے ﴿مطہر﴾ بن گیا۔ ﴿ ٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ001﴾ کا ترجمہ ہے اے کپڑوں میں لپٹنے والے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی طرف سے آپ کو کوئی رنجیدہ کرنے والی بات پہنچی تھی جو آپ کو بہت ناگوار گزری، آپ کپڑا اوڑھ کر لیٹ گئے جیسے غمگین آدمی کیا کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” یا ایہا المزمل “ اصل میں ” المتزمل “ تھا۔ فاء تفعل کی جگہ زاء آگئی اس لیے تاء کو زاء سے بدل کر زاء میں ادغام کردیا گیا۔ ” المزمل “ کپڑوں کو اپنے اوپر خوب لپیٹنے والا۔ آنحضرت ﷺ کپڑے لپیٹ کر رات کو سو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی ہیئت سے خطاب فرما کر قیام اللیل کا حکم دیا۔ کان النبی ﷺ نائما باللیل متزملا فی ثیابہ فامر بالقیام للصلوۃ الخ (مدارک) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کے زندیک پہلے قیام اللیل سب پر فرض تھا اس کے بعد اس کی فرضیت منسوخ کردی گئی اور بعض علماء کے نزدیک شروع ہی سے حکم استحبابی تھا البتہ بعد میں اس میں مزید تخفیف کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

کوائف اور مضامین سورة : اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الْمُزَّمِّلُ۝ 1 ۙ زمل يا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ [ المزمل/ 1] ، أي : الْمُتَزَمِّلُ في ثوبه، وذلک علی سبیل الاستعارة، كناية عن المقصّر والمتهاون بالأمر وتعریضا به، والزُّمَيْلُ : الضّعيف، قالت أمّ تأبّط شرّا : ليس بزمّيل شروب للقیل ( ز م ل ) يا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ [ المزمل/ 1] اے اوڑھنے والے ۔ تو مزمل اصل میں متزمل ہے جس کے معنی کپڑے میں لپیٹے کے ہیں اور استعارہ کے طور پر سستی اور کوتاہی کرنے والے کو بھی تعریضا مزمل کہا جاتا ہے اسی سے زمیل ہے جس کے معنی کمزور اور ناتواں کے ہیں تابط شرا کے متعلق اس کی والدہ نے کہا ہے ۔ لیس بزمیل شروب للغیل کہ وہ کمزور اور ناتواں نہیں ہے کہ دوپہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–2

ترکیب : المزمل اصلہ المتزمل ادغمت التاء فی الزاء والتزمل التلفف فی الثوب الاقلیلا ھو استثناء من اللیل ای صل اللیل کلہ الایسیرا منہ ومادون النصف القلیل والمرادبہ ھنا الثلث نصفہ فی انتصابہ وجہاں (الاول) ھوبدل من اللیل بدل البعض الاقلیلا استثناء من النصف (والثانی) ھو بدل من قلیلا وقلتہ بالنظر الی الکل وھذا اقویٰ والضمیر فی منہ وعلیہ یرجع ای النصفھی اشد الخ خبران وطاً وتمیز من اشد۔ بکسرالوا وبمعنی مواطاۃ بفتحھا ھواسم المصدروا قوم معطوف علیٰ اشد وقیلا بمعنی قولاً تمیز منہ سبحًا شغلا وتصرفا اسم ان لک فی النھار خبرھا رب المشرق بالجر علی البدل و بالنصب باضماراعنی اوبفعل یفسرہ فاتخذہ وبالرفع علی انہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ ۔ قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیلْ ۔ نِصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۔ اَوْ زِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً ۔ (المزمل : 1 تا 4) (اے چادر میں لپٹنے والے ! رات کو نماز میں کھڑا رہا کیجیے، مگر تھوڑا حصہ۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلیجئے۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلیجئے، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے۔ ) پہلی آیت میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے جس سے آپ ﷺ کی ایک خاص کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس خطاب میں انتہائی دلنوازی اور محبت پائی جاتی ہے۔ مَزَّمِّل کا مفہوم مزمل دراصل متزمل ہے۔ بابِ تفعل میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : سورة الجن کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو وحی اپنے رسول پر بھیجتا ہے اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کرتا ہے تاکہ اس کی وحی من و عن اس کے رسول تک پہنچ جائے۔ الرّسول ﷺ کے منصب کا پہلا تقاضا ہے کہ رسول اس وحی کو یاد رکھے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یاد رکھنے کے لیے آپ کو تہجد پڑھنے کا حکم ہوا تاکہ ایک طرف آپ کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملے اور دوسری طرف آپ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ پر ضبط کرنے کے عادی ہوجائیں کیونکہ تہجد اس کے آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو آدمی کو اپنی طبیعت پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ چادر اوڑھ کر آرام فرما تھے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ صرفی تحقیق : یہ اصل میں المتزمل ہے اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے کپڑوں میں لپٹا ہو۔ تاء کو زاء میں ادغام کردیا۔ نبی اکرم ﷺ کپڑوں میں لپٹے آرام فرما رہے تھے پس آپ کو نماز کیلئے اٹھنے کا حکم دیا گیا فرمایا

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–9

1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

) الْمُزَّمِّلُ ) کا معنی بھی (المدثر) کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ نے رسول اللہ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبرائیل کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف ہوئے آپ نے ایک معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ آپ کے پاس جبرائیل آئے اور کہا۔ پڑھیے۔ آپنے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا۔ جبرائیل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبرائیل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالاخر رسول اللہ نے پڑھا یہ وحی وتنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا اس سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–3

قیام اللیل کا حکم قول باری ہے (یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا، اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم) زرادہ بن اوفیٰ نے سعد بن ہشام سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا ” مجھے حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیے۔ “ انہوں نے فرمایا : ” تم سورة مزمل نہیں پڑھتے۔ “ میں نے عرض کیا۔” پڑھتا ہوں۔ “ انہوں نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں قیام اللیل کو فرض کردیا تھا۔ چناچہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ قیام اللیل کرتے رہے حتیٰ کہ ان سب کے پائوں پھول گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصے کے نزول کو بارہ ماہ تک روکے رکھا پھر اس سورت کے آخری حصے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یہ خطاب آنحضرت سے ہے کیونکہ شروع میں جب حضرت جبریل وحی لاتے تو آپ پر کپکپی سی طاری ہوجاتی اور آپ کمبل اوڑھ لیتے۔ چناچہ جب پہلی مرتبہ حضرت جبریل وحی لائے اور آپ پر کپکپی کی کیفیت طاری ہوگئی تو آپ حضرت خدیجہ سے فرمانے لگے زماونی زماونی زملونی مجھے کپڑا اوڑھا دو … اس بنا پر آنحضرت کو اس لفظ سے خطاب کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:1) یایھا : یا حرف ندا۔ ایھا۔ بمعنی کونسا، جس، کس کس، کیا کیا ؟ یہ اسفتہامیہ بھی ہوتا ہے۔ اور شرطیہ بھی۔ صفت بھی واقع ہوتا ہے۔ بحالت نداء ای ، ایۃ منادی معرف باللام کو حرف نداء سے ملاتا ہے۔ ھا حرف تنبیہ ہے جو ای ایہ اور اپنے مابعد کے اسم معرف باللام کے درمیان فصل کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نداء میں جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایہا اور مؤنث میں ایھا کو یا حرف نداء کے ساتھ بڑھا دیا جاتا ہے مذکر کی مثال آیت ھذا۔ مؤنث کی مثال :۔ یایھا النفس المطمئنۃ (89:27) اے اطمینان پانے والی روح۔ یایھا : اے۔ المزمل : منادی۔ تزمل (تفعل) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے اصل میں المتزمل تھا ت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

نماز تہجد کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ ہوا کہ نبی ﷺ ابتدائے زمانہ وحی مین رات کو اپنے کپڑے میں نماز کے لیے لپٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ کو اسی کملی کے ساتھ خطاب فرمایا کہ رات کو نماز میں مشغول رہو، خدا کی عبادت میں کھڑے رہو مگر تھوڑی رات کہ اس میں مشغول نہ رہو، پھر اس کا بیان کیا کہ آدھی رات کھڑے ہوکر عبادت کرو یا اس آدھی رات سے بھی کم کرلو، یعنی تہائی رات مشغول عبادت رہو، یا آدھی سے کچھ زائد کرو یعنی دوتہائی عبادت کرو، غرض حضور ﷺ کو ان سب باتوں میں اختیار دیا ہے کہ خواہ قیام نصف شب سے کم ہو یا نصف شب یا اس سے زیادہ ہو، مراد اس قیام سے تہجد ہے، جو ابتداء اسلام میں واجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[2] جس وقت ان آیات کا نزول ہوا نبی ﷺ چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ ﷺ کی اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب آپ ﷺ پاؤں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ ﷺ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

سورة المزمل 1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے چادر میں لپٹے ہوئے یا چادر میں لپٹ کر سونے والے ۔ 1 (المزمل) اسم فاعل واحد ذکر۔ ” اے سونے والے “ گویا کپڑا اور ڑھ کر لیٹنے سے مراد ہونا۔ ابتداء وحی میں آپ کو (مدثر) اور (مزمل) فرما کر خطاب کیا لیکن اس کے بعد رسول اور نبی کہہ کر خطاب کیا۔ راغب کہتے ہیں کہ کنایتاً (مزمل) سے مراد ہوتا ہے ضعیف ، کسی کام میں سستی کرنے والا ، سہل انگاری سے کام لینے والا ، پیچھے پیچھے چلنے کو ہی زمل کہا جاتا ہے۔ زمیل وہ شخص جو اونٹ پر کسی کے پیچھے سوار ہو جیسے ردیف گھوڑے کے پچھلے سوار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے زمیل اونٹ کے پیچھے سوار کو کہا جاتا ہے۔ تزمل کے معنی تلفف کے ہیں یعی اپنے اوپر کوئی بڑا کپڑا جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Holy Prophet ﷺ is addressed in this verse with reference to a particular style of wrapping himself in his clothes. The first event of this kind occurred when the Holy Prophet received first revelation in the cave of Hira'. Being his first experience, he felt it very hard, and was caught by, a shivery cold, and once he reached home, he asked his blessed wife Khadijah ؓ to wrap him in a blanket which she did. Some narrations have reported another event: When the Holy Prophet was accused, by the pagans of Makkah, of being a magician who separated between friends, he felt aggrieved, and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 To address the Holy Prophet (upon whom be peace) with these words and then to command him to rise and keep standing in the Prayer at night, shows that at the tune he either lay asleep, or had wrapped himself up in a sheet in order to go to sleep. Here, to address him with "O you who sleeps covered up" instead of with "O Prophet, or O Messenger", is a fine way of address, which by itself gives the meaning: "Gone is the time when you used to enjoy peaceful sleep at will; now you lie under the burden of a great mission, whose demands and duties are different as well as onerous.

Read the full tafseer →