Ayah 73:1رات کے اوقات میں قیام کرنے اور قرآن کریم ترتیل سے پڑھنے کا حكم، سب سے کٹ کر اللہ ہی کی طرف متوجہ رہنے کا فرمان
یہ سورت مکی ہے اگرچہ بعض حضرات نے بعض آیات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور مدنی بتایا ہے لفظ مزمل زا اور میم کی تشدید کے ساتھ ہے اصل میں متزمل تھا تا کو زا سے بدل دیا گیا اور زا کا زا میں ادغام کردیا گیا لہٰذا ﴿مزمل﴾ ہوگیا جیسے ﴿متطہر﴾ سے ﴿مطہر﴾ بن گیا۔ ﴿ ٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ001﴾ کا ترجمہ ہے اے کپڑوں میں لپٹنے والے۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی طرف سے آپ کو کوئی رنجیدہ کرنے والی بات پہنچی تھی جو آپ کو بہت ناگوار گزری، آپ کپڑا اوڑھ کر لیٹ گئے جیسے غمگین آدمی کیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے آپ کو خطاب فرمایا کہ ” اے کپڑا اوڑھنے والے، ، (تفسیر قرطبی، صفحہ 32: ج 19) یہ خطاب ملاطفت کی وجہ سے تھا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اسی ملاطفت کے لیے قم یا ابا تراب (صحیح بخاری صفحہ 62: ج 1) فرما کر اور حضرت حذیفہ ؓ کو قم یانومان فرما کر جگایا تھا۔
مشرکین نے آپ کے حق میں کوئی نامناسب لقب تجویز کیا تھا اس سے آپ کو رنج پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ001﴾ سے خطاب فرما کر اس کا ازالہ فرما دیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا کہ رات کو اٹھ کر نماز تہجد پڑھا کریں اور یوں فرمایا۔
Ayahs 73:2–4﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًاۙ002 نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًاۙ003 اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ یعنی نصف رات قیام کرو یا نصف سے کچھ کم کر دو یا نصف سے کچھ بڑھا دو ۔ نصف سے کم کا مصداق ایک ثلث ہے اور نصف سے کچھ زیادہ کا مصداق دو ثلث ہے اللہ تعالیٰ نے رات کو قیام فرمانے کا حکم دیا اور مقدار وقت میں تین صورتوں کا اختیار دے دیا۔
رات کو قیام کرنے کے ساتھ ہی ﴿ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ بھی فرمایا یعنی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، یوں تو جب بھی قرآن کی تلاوت کی جائے ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کریں اور جلدی جلدی نہ پڑھیں جس سے حروف کٹیں اور معنی مقصود کے خلاف ایہام ہوجائے لیکن خاص طور پر نماز تہجد میں جو ترتیل کا حکم فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کی نمازوں میں لمبی تلاوت کی جاتی ہے اور رات کے وقت سہانے وقت میں تلاوت میں زیادہ دل لگتا ہے لیکن ساتھ ہی کبھی نیند کے جھونکے بھی آجاتے ہیں ان جھونکوں کی وجہ سے جلدی جلدی ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ جتنا پڑھیں صحیح پڑھیں۔ صاف پڑھیں اور جب نیند آجائے تو سو جائیں۔ حدیث شریف میں بھی ارشاد فرمایا : اذا نفس احدکم وھو یصلی فلیر قد حتی ذھب عنہ النوم۔ (الحدیث رواہ الشیخان مشکوٰۃ صفحہ 110)
آدھی رات قیام کریں یا تہائی رات یا دو تہائی رات۔ راتوں کو نماز میں قیام کرنا جسے نماز تہجد کہتے ہیں امت کے لیے سنت ہے افضل ہے اور بہت زیادہ فضیلت کا کام ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کو جو حکم دیا ہے اس کا کیا درجہ تھا ؟ اس کے بارے میں علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ رات کو قیام کرنا آپ پر فرض تھا اور ضروری تھا حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قیام اللیل نہ صرف نبی اکرم ﷺ پر بلکہ آپ سے پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) تھے ان پر بھی فرض تھا۔
قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر بھی پڑھے اور صاف بھی پڑھے اور مخارج اور صفات کا لحاظ کر کے پڑھے حضرات قراء کرام نے تلاوت کے تین درجات بتائے ہیں ترتیل، تدویر، حدر، یہ ان کے اصطلاحی الفاظ ہیں ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ خوب آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کی جائے اور حدر کا مطلب یہ ہے کہ جلدی جلدی پڑھا جائے اور تدویر دونوں کے درمیان پڑھنے کو کہتے ہیں لیکن تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھی اختیار کی جائے حرفوں کو کاٹنا اور تجوید کے خلاف پڑھنا درست نہیں ہے حضرات قراء کرام نے حضرت علی ؓ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ الترتیل تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف (کہ تجوید حروف کو صحیح طریقے پر ادا کرنا اور وقوف کے پہچاننے کا نام ہے) ۔ آج کل بہت سے لوگ جن میں قراء حضرات بھی ہیں، حدر سے پڑھتے وقت بہت سے حروف کھا جاتے ہیں اور کلمات کے اخیر میں جو الف ہوتا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ ﴿رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا﴾ میں ہر جگہ الف کھا جاتے ہیں، یہ آج کل کا فیشن ہے۔
Ayah 73:5پھر فرمایا ﴿ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا 005﴾ (بلاشبہ ہم آپ پر ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہیں) بھاری کلام سے قرآن مجید مراد ہے جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت قرآن شریف کا کچھ حصہ نازل ہوچکا تھا اکثر حصہ نازل ہونا باقی تھا دشمنوں کی طرف سے معاندانہ سلوک بھی ہونے وال تھا اور دعوت و ارشاد کی مزید ذمہ داری سونپی جانے والی تھی۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم تم پر عنقریب ایک بڑا بھاری کلام ڈالیں گے۔ کلام کو پہنچانے پر دشمنوں کی طرف سے معاندانہ روش سامنے آنے کی وجہ سے جو آپ کو تکلیف پہنچی تھی اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ جس وقت آپ پر وحی آتی تھی آپ کو بڑی مشقت برداشت کرنا پڑتی تھی۔
ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا کہ سخت سردی کے زمانہ میں وحی آتی تھی تو آپ کی حالت بدل جاتی تھی اور جب فرشتہ رخصت ہوجاتا تھا تو آپ کا پسینہ بہتا ہوتا تھا (صحیح بخاری صفحہ 1 : ج 1) اور ایک مرتبہ وحی کے آنے کے وقت آپ کی ران مبارک زید بن ثابت ؓ کی ران پر تھی اس سے زید بن ثابت کی ران پھٹنے لگی۔
Ayah 73:6اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً ﴾ (بلاشبہ رات کا اٹھنا خوب زیادہ مشقت والا ہے) یعنی اس سے نفس پر دباؤ پڑتا ہے اور نفس کو خوب تکلیف ہوتی ہے۔ یہ تکلیف بظاہر تکلیف ہے اور دنیاوی تکلیف ہے لیکن اس میں نفس کا فائدہ بھی بہت ہے۔ نماز تہجد کی وجہ سے جو درجات بلند ہوں گے ان کی وجہ سے انسان ساری تکلیفیں بھول جائے گا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بلاشبہ جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر اندر سے اور جن کا اندر باہر سے نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان لوگوں کے لیے تیار فرمایا ہے جو کھانے کھلائیں اور سلام پھیلائیں اور رات کو نماز پڑھیں جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔ (الترغیب والترہیب جلد 1: صفحہ 424)
﴿وَّ اَقْوَمُ قِيْلًاؕ006﴾ (اور رات کا اٹھنا بات ادا ہونے کے لیے خوب عمدہ ہے)
یعنی رات کو اٹھ کر جب تہجد پڑھتے ہیں اور دعاؤں میں مشغول ہوتے ہیں اس وقت چونکہ سناٹا ہوتا ہے شور شغب نہیں ہوتا اور ادھر ادھر کی آوازیں نہیں آتیں اس لیے عبادت میں خوب جی لگتا ہے اور دل اور زبان دونوں موافق ہوجاتے ہیں اور اطمینان کے ساتھ قرات بھی ادا ہوتی ہے اور دعا بھی حضور قلب کے ساتھ ہوتی ہے۔
Ayah 73:7﴿ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًاؕ007﴾ (بےشک آپ کو دن میں لمبا کام رہتا ہے) آپ کے مشاغل منتشر ہیں اور متفرق ہیں۔ امور خانہ داری بھی ہے آنے جانے والے لوگ بھی ہیں دعوت و ارشاد کا کام بھی ہے اس لیے لمبی نماز پڑھنے کے لیے رات تجویز کی گئی۔
Ayah 73:8﴿ وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ ﴾ (اور اپنے رب کا نام لیتے رہیے) ۔
یعنی رات کو تو آپ نماز پڑھتے ہی ہیں دیگر اوقات میں بھی اللہ کا نام لیتے رہیے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا نماز ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس لیے عام اوقات میں بھی اللہ کی یاد میں لگے رہیے۔ حضور ﷺ اس پر خصوصیت کے ساتھ عمل کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں۔ ان النبی ﷺ کان یذکر اللہ فی کل احیانہ۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ہر وقت اللہ کو یاد کرتے رہتے تھے۔
﴿ وَ تَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًاؕ008﴾ (اور قطع تعلق کر کے اسی کی طرف متوجہ رہیں) اپنا پورا قلبی رخ اللہ کی طرف رکھیے یعنی اللہ تعالیٰ سے جو تعلق ہے اس تعلق کے مظاہرے اور آثار ہر تعلق پر غالب رکھیے بظاہر بیویوں سے بھی تعلق رہے اور اولاد سے بھی اولیاء اور اصدقاء سے بھی لیکن اللہ تعالیٰ کا تعلق بہرحال غالب رہے اس کے احکام کی ادائیگی میں کوئی فرق نہ آئے درحقیقت یہ بہت بڑی نصیحت ہے جو بھی بندہ پورے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے وہ لوگوں سے بھی ملتا جلتا ہے لیکن اس کا باطن اللہ کی یاد ہی سے معمور رہتا ہے اور مخلوق کو راضی رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتا۔
Ayah 73:9﴿رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا 009﴾ (وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو آپ اسی کو اپنا کارساز بنائے رہیں) ۔ اس میں بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی حاجت روا نہیں اور کوئی معبود نہیں۔ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان وجود میں آتا ہے سب اسی کی مشیت سے ہوتا ہے وہی سب کا رب ہے آپ اسی کو اپنا کارساز بنائے رہیں اسی کے سامنے اپنی حاجت رکھیں اسی سے سب کچھ مانگیں اور اسی کی طرف متوجہ رہیں۔
قولہ تعالیٰ : ﴿يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ001﴾ قال الاخفش سعید ﴿المزمل﴾ اصلہ المتزمل فادغمت التاء فی الزای وکذلک ﴿المدثر﴾ وفی اصل المزمل قولان : احدھما انہ متحمل یقال ازمل الشی اذا حملہ ومنہ الزاملة لانھا تحمل القماش۔ الثانی ان المزمل ھو المتلفف : یقال : تزمل ودثر بثوبہ اذا تغطی : وزمل غیرہ اذا غطاہ، و كل شیء لفف فقد زمل ودثر، قال امرؤ القیس : (کبیر اناس فی بجادٍ مزمل) ۔
قال السھیلی : لیس المزمل باسم من اسماء النبی : ولم یعرف بہ کما ذھب الیہ بعض الناس وعدوہ فی اسمائہ علیہ الصلٰوة والسلام، وانما المزمل اسم مشق من حالتہ التی کان علیھا حین الخطاب، وکذلک المدثر۔
قولہ تعالیٰ : ﴿ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً ﴾ بفتح الواو وسکون الطاء المقصورہ و اختارہ ابو حاتم، من قولک، اشتدت علی القوم وطاة سلطانھم۔ ای ثقل علیھم ما حملھم من المون، ومنہ قولہ (علیہ السلام) (اللھم اشدد وطاتک علی مضر) فالمعنی انھا اثقل علی المصلی من ساعات النھار۔ وذلک ان اللیل وقت منام وتودع واجما فمن شغلہ بالعبادة تحمل المشقة العظیمة۔ (من روح العانی)
قولہ تعالیٰ : ﴿ وَّ اَقْوَمُ قِيْلًا ﴾: ای القراء ة باللیل اقوم منھا بالنھار ای اشد استقامة واستمرارا اعلی الصواب لان الا صوات ھادئة والدنیا ساکنة فلا یضطرب علی المصلی ما یقرہٴ۔
قولہ تعالیٰ : ﴿ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً ﴾ یرید القیام والانتصاب للصلاة۔ ومنہ نشأ السحاب لحدوثہٖ فی الھواء وتربیتہ شیئا فشیئا۔ (ذكرہ الراغب فی مفرادتہ)
Ayahs 73:10–13رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حكم، دوزخ کے عذاب کا تذکرہ، وقوع قیامت کے وقت زمین اور پہاڑوں کا حال
یہ پانچ آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ آپ جلدی نہ کریں یہ لوگ جو آپ کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو کچھ مہلت دے دیں۔ یہ ناز و نعمت میں پل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں اور دنیاوی اموال اور نعمتیں ان کے لیے غفلت کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان چیزوں میں پڑ کر وہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہیں یہ ان کے حق میں کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کھا پی رہے ہیں اور مزے کر رہے ہیں تھوڑے سے دن کی بات ہے اور اس میں ان کا استدراج بھی ہے۔
كما قال تعالیٰ فی سورة القلم ﴿فَذَرْنِيْ وَ مَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ 1ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَۙ0044﴾ (سو آپ مجھے اور ان کو چھوڑ دیجئے جو اس بات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو اس طور پر ڈھیل دے رہے ہیں کہ ان کو خبر بھی نہیں) ۔ اس کے بعد کافروں کو تعذیب کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ جو تکذیب میں لگے ہوئے ہیں ہم نے ان کی تعذیب کے لیے بیڑیاں تیار کر رکھی ہیں اور ان کے لیے دوزخ ہے اور ان کے لیے ایسا کھانا ہے جو گلے میں پھنس جانے والا ہوگا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
حضرت ابو الدرداء ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ دوزخیوں کو (اتنی زبردست) بھوک لگا دی جائے گی جو تنہا اس عذاب کے برابر ہوگی جو ان کو بھوک کے علاوہ ہو رہا ہوگا۔ لہٰذا وہ کھانے کے لیے فریاد کریں گے اس پر ان کو ضریع (سورۃ الغاشیہ کی تفسیر دیکھیں) کا کھانا دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک دفع کرے گا پھر دوبارہ کھانا طلب کریں گے تو ان کو ﴿طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ﴾ (گلے میں اٹکنے والا کھانا) دیا جائے گا جو گلوں میں اٹک جائے گا اس کے اتارنے کے لیے تدبیریں سوچیں گے تو یاد کریں گے کہ دنیا میں پینے کی چیزوں سے گلے کی اٹکی ہوئی چیزیں اتارا کرتے تھے لہٰذا پینے کی چیز طلب کریں گے چناچہ کھولتا ہوا پانی لوہے کی سنڈاسیوں کے ذریعے ان کے سامنے کردیا جائے گا۔ وہ سنڈاسیاں جب ان کے چہروں کے قریب ہوں گی تو ان کے چہروں کو بھون ڈالیں گی پھر جب پانی پیٹوں میں پہنچے گا تو پیٹ کے اندر کی چیزوں (یعنی آنتوں وغیرہ) کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
Ayah 73:14﴿ يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا 0014﴾ یہ عذاب اس دن ہوگا جس دن زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے یعنی ان میں بھونچال آجائے گا اور پہاڑ ریت کے تودے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جماؤ نہ ہوگا اور نیچے کو ڈھلے جا رہے ہوں گے۔ (یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ يَوْمَ تَرْجُفُ ظرف ہو ﴿ عَذَابًا اَلِيْمًاۗ0013﴾ کا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ذرنی سے متعلق ہے) ۔
Ayahs 73:15–18فرعون نے رسول کی نافرمانی کی، اسے سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، قیامت کا دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا، قرآن ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کر لے
ان آیات میں مکذبین کو خطاب ہے کہ جس طرح تم جھٹلاتے ہو اسی طرح تم سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے اور پھر اس کی سزا پائی ہے ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو قیامت کے دن تم پر گواہی دے گا کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا جیسا کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت پکڑا، دنیا میں وہ اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں ڈبو دیا گیا اور آخرت کی سزا اس کی یہ ہے، اب تم جو ہمارے رسول کو جھٹلا رہے ہو اور کفر پر جمے ہوئے ہو تم سوچ لو کہ اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا یعنی اس دن ایسی سختی ہوگی جو بچوں کو بوڑھا کر دے گی، اس دن آسمان پھٹ جائے گا اور اللہ کا جو وعدہ ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔
بچوں کو بوڑھا کردینے کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ کنایہ ہے شدت سے یعنی وہ دن اتنا سخت ہوگا کہ مصیبت کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چونکہ وہ دن بہت لمبا ہوگا اس لیے دن میں بچے بوڑھے ہوجائیں گے جو بچن میں وفات پا گئے تھے وہ قبروں سے اسی حال میں نکلیں گے پھر قیامت کے امتداد اور اشتداد کی وجہ سے بوڑھے ہوجائیں گے۔
Ayah 73:19﴿اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ1ۚ﴾ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے) ﴿ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا (رح) 0019﴾ (سو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے) یعنی جس راستہ پر چلنے سے وہ راضی ہوتا ہے اور جس کے اختیار کرنے پر اس سے آخرت کی نعمتوں کا وعدہ ہے اس راستہ کو اختیار کرلے وہ دین اسلام ہے۔
Ayah 73:20قیام لیل کے بارے میں تخفیف کا اعلان، اقامۃ الصلوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ کا حكم
ابتدائے سورت میں جو رات کو نمازوں میں قیام کرنے کا حکم فرمایا تھا (گو علیٰ سبیل التخییر تھا) اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی رات کو نماز میں قیام فرماتے تھے۔ علامہ قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ جب آیت کریمہ ﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًاۙ002 نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًاۙ003﴾ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کو اس پر عمل کرنا دشوار ہوا کیونکہ تہائی رات دو تہائی رات اور آدھی رات کا پہچاننا مشکل تھا۔ لہٰذا اس ڈر سے صبح تک قیام کرتے تھے کہ وقت مقرر میں کمی نہ ہوجائے۔ جس کی وجہ سے ان کے پیر پھول گئے اور رنگ بدل گئے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔
اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ والوں میں بعض لوگ دو تہائی رات کے قریب اور بعض آدھی رات اور بعض تہائی رات کھڑے رہتے ہیں جس سے مشقت میں مبتلا ہوتے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور پہلا حکم منسوخ فرما دیا سو اب تم سے جتنا قرآن مجید آسانی کے ساتھ پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو (اس سے نماز تہجد میں قرآن پڑھنا مراد ہے) اب اللہ تعالیٰ نے آسانی فرما دی اور تہجد کی فرضیت بھی منسوخ ہوگئی اور کتنی نماز پڑھے اور کتنی دیر نماز پڑھے اس کی بھی مقدار متعین اور مقرر نہیں رکھی گئی، لہٰذا آسانی کی صورت بن گئی اس نسخ کی ایک علت تو ﴿ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى ﴾ یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے مریض بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہونگے جو تلاش معاش کے لیے زمین میں سفر کریں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ کی ر اہ میں قتال کریں گے۔ ان حالات میں تہجد کی اور اوقات مقررہ کی پابندی مشکل تھی لہٰذا آسانی کردی گئی۔ تہجد پڑھنا مستحب قرار دے دیا گیا اور وقت کی بھی کوئی مقدار مقرر نہیں رکھی گئی۔
علامہ قرطبی شیخ ابو انصر قشیری سے نقل کرتے ہیں کہ مشہور بات یہ ہے کہ قیام لیل کی فرضیت امت کے حق میں منسوخ ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کے حق میں باقی رہی اور ایک قول یہ ہے کہ اصل وجوب تو سب کے لیے باقی رہا البتہ مقدار قیام واجب نہیں رہی۔ جتنی دیر چاہیں پڑھ لیں۔ (تفسیر قرطبی صفحہ 54: ج)
صاحب روح المعانی نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورة المزمل کے شروع میں قیام کو فرض قرار دیا تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بارہ ماہ تک سورة مزمل کا آخری حصہ نازل نہیں فرمایا اس کے بعد آخری حصہ نازل فرما کر تخفیف فرما دی اور قیام لیل نوافل کے حکم میں باقی رہ گیا اور ایک روایت میں ہے کہ آٹھ ماہ کے بعد تخفیف نازل ہوئی۔ (روح المعانی صفحہ 187: ج 29)
﴿وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا 1ؕ ﴾ (اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض دو اچھا قرض) یعنی اس کی مخلوق پر خرچ کرو اور اس کی رضا کے کاموں میں مال لگاؤ۔ ہے تو مال اللہ تعالیٰ ہی کا اور مال والے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور مملوک ہیں لیکن اس نے کرم فرمایا کہ اپنے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کرنے کا نام قرض رکھ دیا اور کرم بالائے کرم یہ ہے کہ اس پر بڑے اجر وثواب کا وعدہ فرما دیا سورة ٴ بقرہ میں فرمایا ﴿ مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً 1ؕ﴾ (كون ہے جو اللہ کو قرض دے قرض حسن پھر وہ اس کے لیے اسے چنددر چند یعنی بہت گنا کر کے اضافہ فرما دے) ۔
﴿ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا 1ؕ﴾ (اور جو کوئی خیر اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس پالو گے وہ بہت بہتر ہوگی اور بہت بڑے ثواب کا ذریعہ ہوگی) ۔
﴿ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ 1ؕ﴾ (اور اللہ سے مغفرت طلب کرو) کیونکہ اعمال میں کچھ نہ کچھ کوتاہی ہوتی رہتی ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (رح) 0020﴾ (بےشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے) ۔
تم تفسیر سورة المزمل بحمد اللہ تعالیٰ وحسن توفیقہ