73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 73:1–2

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے چادر اوڑھنے والے !

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو اٹھا کرو (تمام رات) بلکہ کم

ترکیب : المزمل اصلہ المتزمل ادغمت التاء فی الزاء والتزمل التلفف فی الثوب الاقلیلا ھو استثناء من اللیل ای صل اللیل کلہ الایسیرا منہ ومادون النصف القلیل والمرادبہ ھنا الثلث نصفہ فی انتصابہ وجہاں (الاول) ھوبدل من اللیل بدل البعض الاقلیلا استثناء من النصف (والثانی) ھو بدل من قلیلا وقلتہ بالنظر الی الکل وھذا اقویٰ والضمیر فی منہ وعلیہ یرجع ای النصفھی اشد الخ خبران وطاً وتمیز من اشد۔ بکسرالوا وبمعنی مواطاۃ بفتحھا ھواسم المصدروا قوم معطوف علیٰ اشد وقیلا بمعنی قولاً تمیز منہ سبحًا شغلا وتصرفا اسم ان لک فی النھار خبرھا رب المشرق بالجر علی البدل و بالنصب باضماراعنی اوبفعل یفسرہ فاتخذہ وبالرفع علی انہ خبر مبتدء محذوف ای ھوا ومبتدء خبرہ لا الہ الاھو۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ بیہقی اور ابن مردویہ وغیر محدثین نے ابن عباس و ابن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ شان نزول : اس کی شان نزول میں بزار و طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے دلائل میں یوں نقل کیا ہے کہ وارالندوہ 2 ؎ میں قریش جمع ہوئے اور کہنے لگے اس کا یعنی نبی ﷺ کا کوئی نام تجویز کرو کہ لوگوں کو روکا جائے۔ بعض نے کہا کاہن، بعض نے کہا کاہن نہیں مجنوں کہو، بعض نے کہا یہ مجنوں نہیں اس کو ساحر کہو، بعض نے کہا یہ جادوگر بھی نہیں۔ اس کے بعد قریش اٹھ گئے۔ یہ خبر آنحضرت ﷺ کو پہنچی آپ غمگین ہو کر چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔ اس میں جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا۔ یا ایہا المزمل یا ایہا المدثر کہ اے جھرمٹی مارے ہوئے کھڑا ہو رات کو نماز پڑھا کر ان کی باتوں سے رنج نہ کر ہم سمجھ لیں گے، ذرا مہلت دے ہمارے پاس ان کے لیے عذاب الیم تیار ہے۔ ان سے منہ موڑ اور حق سبحانہ ٗ کی طرف متوجہ ہو اور اسی کو اپنا کارساز بنا۔ ربط : ربط اس سورة کا سورة جن سے یہ ہے کہ سورة جن میں بتلایا گیا تھا کہ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے، وہی جس قدر چاہتا ہے اپنے رسول کو عطا کرتا ہے اب اس سورة مزمل میں اپنے رسول کو علم غیب حاصل کرنے کی قابلیت پیدا کرنا سکھایا۔ وہ کیا رات میں حق سبحانہ ٗ کی عبادت کرنا جس میں انسانوں سے غائب ہو کر باطمینان قلبی بلاشور و شغب پورا پورا متوجہ ہونے کا موقع ملتا ہے کس لیے کہ جس نے جو کچھ پایا شب بیداری میں پایا، زبانی لاف زنی اس راہ میں کارآمد نہیں۔ (2) اور نیز یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ جن آدمیوں سے غائب ہیں پھر قرآن سن کر ہدایت پر آگئے، عبادت کرنے لگے۔ آپ ان کے رسول اور ہادی ہیں، آپ کو بھی رات میں عبادت کرنا چاہیے کہ اس وقت آدمی حاضر نہیں ہوتے اور ان سے غیبوبت حاصل ہوتی ہے تاکہ عالم غیب آپ پر منکشف ہو اور (3) قرآن شب میں پڑھنے کا حکم دیا تاکہ دن میں لوگ فیضیاب ہوتے ہیں تو شب میں جن وغیرہ عالم غیب کے لوگ بہرہ ور ہوں کس لیے کہ آپ نبی الثقلین ہیں ظہور کا وقت جو دن ہے عالم ظہور کے لوگوں کے لیے یعنی آدمی کے لیے اور مخفی لوگوں کے لیے مخفی شب کا وقت دیا گیا۔ (4) اور یہ بھی ہے کہ ابتدائِ اسلام میں کفار دن میں آپ پر یورش کرتے تھے جیسا کہ فرمایا تھا۔ وانہ لماقام عبداللہ یدعوہ کادوایکونون علیہ لبدا۔ اس لیے مشغولی بحق کے لیے رات کا وقت مقرر کیا گیا جس میں عبادت و تلاوت کی حلاوت بخوبی حاصل ہو سکے اور لوگوں کے شوروشغب سے انتشار خاطر عاطر نہ ہو۔ اس کے سوا مضامین و الفاظ میں بہت کچھ مناسبت ہے اور چونکہ سر سورة پر مزمل کا لفظ تھا اس لیے اس کا نام سورة مزمل ہوا۔ مزمل عرب میں اسے کہتے ہیں جو چادرے میں لپٹا ہو یا چادرہ اوڑھے ہو آنحضرت ﷺ کے پاس چودہ ہاتھ کا لمبا ایک کمبل تھا۔ تہجد کی نماز اور تلاوت کے لیے جب اٹھتے تو اسی کو اوڑھ لیتے تھے تاکہ نماز میں اٹھنے بیٹھنے میں حرج نہ ہو، وضو آسان ہو، ہوا سرد سے محافظت ہو۔ اور نیز اس قسم کی چادر اوڑھنا یا لپیٹ لینا کفن لپیٹنے کی طرف اشارہ ہے تاکہ نفس ہر وقت موت سے آگاہ رہے اور رات کی اندھیری قبر کی اندھیری اور دنیا کے عدم کی ظلمت سے مشابہت رکھتی ہے اس لیے حضرات انبیاء (علیہم السلام) اس قسم کا کپڑا اوڑھتے تھے خصوصاً حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) اور ہمیشہ سے صلحا کا یہ لباس رہا ہے اور اسی لیے فقراء میں خرقہ پوشی ایک سنت چلی آتی ہے اور یہ لباس اس بات کی علامت ہے کہ اس کے اوڑھنے والے نے ترک دنیا و عبادت مولیٰ کا التزام کرلیا ہے جیسا کہ وردی سپاہیوں کی علامت ہے۔ اس خرقہ کے لیے سات شرطیں ہیں۔ (1) شب بیداری و نمازِتہجد و تلاوت قرآن، (2) دن میں اوقات کو یاد الٰہی میں مصرف رکھنا۔ (3) ہمیشہ ذاکر رہنا۔ (4) ترک و تجرید، (5) توکل و اعتماد برکارسازی خالق، (6) خلق کی جفا و ظلم پر صبر کرنا، (7) اہل دنیا کی صحبت ترک کرنا اور اس کے ساتھ ان کی خیرخواہی سے بھی غافل نہ رہنا۔ جس میں یہ سات باتیں ہوں اس پر یہ خرقہ زیبا ہے اور اسی لیے اس خرقہ کی شروط بجا لانے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو مزمل کا خطاب عطا ہوا جو بڑا پیارا خطاب ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ادا حضرت حق کو پسند آگئی تھی اس لیے فرماتا ہے یا ایہا المزمل کہ اے چادر اوڑھے ہوئے ! اس چادر ریاضت کا حق بجا لا۔ قم الیل رات بھر نماز و تلاوت کے لیے قائم اور مستعد و سرگرم رہ۔ عکرمہ ؓ کہتے ہیں مزمل کے معنی ظاہری چادر اوڑھنے والے ہی کے نہیں بلکہ مراد ملتزم و ذمہ داری کرنے والے کے ہیں کہ اے نبوت و رسالت کے ذمہ دار اور کمالات ملکوتی کے حامل اور اسی لیے وہ اس لفظ کو تخفیفِ زائے ودال اور فتح میم مشدہ سے پڑھتے تھے۔ وہ اس کو زمل سے لیتے ہیں جس کے معنی اٹھانے کے ہیں۔ کہتے ہیں زمل ھذا الامرای حملہ۔ قم اللیل کے معنی پر مفسرین نے متعدد رائیں ظاہر کی ہیں : قول اول : (1) جمہور کا قول ہے کہ آپ پر اور آپ کی امت پر ابتدائِ اسلام میں پنجگانہ نماز فرض ہونے سے پہلے رات کی عبادت فرض تھی اور یہ حکم قریب ایک برس کے رہا۔ چناچہ احمد و مسلم و ابودائود و نسائی و بیہقی و حاکم وغیرہ نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے اول میں قیام لیل فرض کردیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب برس دن تک ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پائوں سوج گئے۔ پھر برس دن کے بعد اس سورة کا اخیر جملہ نازل ہوا۔ (فاقرئوا ماتیسرا من القرآن) اس سے تخفیف کی گئی اور یہ حکم فرض نہ رہا، نفل رہ گیا۔ یہی مضمون ابن عباس ؓ سے بیہقی اور طبرانی وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے۔ بعض علماء یوں تشریح کرتے ہیں کہ اول اس حکم میں اس طور سے تخفیف کی گئی کہ قم اللیل کے بعد الا قلیلا فرمایا جس سے آپ رات بھر میں کچھ کچھ ٹھہر جاتے اور آرام لیتے تھے مگر یہ حکم ایک برس تک رہا۔ پھر نصفہ فرمایا تمام رات کی جگہ پچھلی آدھی رات کی عبادت فرض رہ گئی مگر گھڑی گھنٹے نہ تھے ٹھیک آدھی رات کا اندازہ مشکل تھا اور اس کے علاوہ ایک طرح کی مقید پابندی بھی تھی اس لیے اوانقص منہ قلیلاً اوزدعلیہ فرما دیا گیا کہ نصف شب پر کچھ موقوف نہیں اس سے کم زیادہ کرنے کا تمہاری حالت صحت و مرض ‘ خواب و بیداری ‘ فرط شوق وغیرہ پر محول ہے مگر آدمی سے بالکل ہی کم نہ ہو بلکہ کسی قدر بہرحال تہائی رات جاگنا عبادت کرنا ضرور ہے اس میں سردی گرمی کی راتوں کے لحاظ سے بھی ایک تخفیف ہے۔ پھر اس رات میں کیا کرو ؟ آپ ہی بتلاتا ہے ورتل القرآن ترتیلا کہ نماز میں قرآن پڑھو عمدہ طور سے۔ ترتیل کے معنی ہیں اچھی طرح سے پڑھنا۔ اس طرح سے پڑھنے سے دل پر ایک اثر ہوتا ہے اور جلد جلد پڑھنا گھانس کاٹنا ہے۔ (ان جملوں کی اور اس کے بعد کے جملوں کی ہم بعد میں شرح کریں گے) ۔ اس کے بعد فرمایا ان ربک یعلم انک تقوم ادنیٰ من ثلثی اللیل الخ کہ ہمیں معلوم ہے کہ تو دوتہائی رات کے قریب اور نصف شب کے قریب اور تہائی کے قریب اٹھتا ہے اور تیرے ساتھ تیرے اصحاب کا ایک گروہ بھی اٹھتا ہے۔ رات کا اندازہ تم ٹھیک ٹھیک نہیں کرسکتے اور رات دن کا اندازہ اللہ ہی کرتا ہے ابر بادل وغیرہ اسباب سے دو ثلث اور نصف کا اندازہ مشکل تھا اس لیے اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری حالت مرض و سفر پر بھی نظر کر کے یہ حکم دے دیا کہ فاقرئوا ماتیسرمن القرآن جس قدر تم سے ہو سکے نماز میں قرآن پڑھ لیا کرو۔ یہ اخیر رکوع کا خلاصہ ہے اس سے دو ثلث اور نصف اور ثلث رات کی قید بھی اٹھ گئی جس قدر نشاط خاطر سے ہو سکے پھر اس کے بعد پنجگانہ نمازیں فرض ہوئیں جیسا کہ سورة کے اخیر میں ہے واقیموالصلوٰۃ الخ امت پر تہجد کی نماز جس کی بارہ رکعت سے لے کر چھ تک (موقع اور فرصت و حالت صحت و مرض کے لحاظ سے) ہیں سنت رہ گئی اور آنحضرت ﷺ پر بدستور فرض رہی مگر یہ تخفیف ہوگئی کہ تمام رات یا دو ثلث یا ثلث کی قید باقی نہ رہی اور اخیر عمر تک آپ تہجد کی نماز پڑھتے رہے اور صحابہ ؓ بھی کرتے رہے اور صالحین امت کا یہی دستور اور طریق ہوگیا۔ قول دوم : بعض علماء کہتے ہیں شب بیداری نہ آنحضرت ﷺ پر واجب و فرض تھی نہ امت پر بلکہ امرندب کے لیے ہے کہ بہتر ہے جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے فتھجدبہ نافلۃ لک کہ نماز تہجد پڑھ جو تیرے لیے نفل ہے خلاصہ مطلب یہ کہ آپ کو آدھی رات اور اس سے کم ثلث رات اور زائد ازنصف کا اختیار دیا تھا کہ اس میں سے جس قدر چاہو شب بیداری کرو مگر آنحضرت ﷺ نے اول اول عرصہ تک شب بیداری نصف رات سے زائد کی جو قم الیل الا قلیلا کا مصداق ہے پھر نصف شب تک پھر کبھی دو ثلث کبھی ایک ثلث رات تک جیسا کہ نصفہ اوانقص منہ قلیلا اوزدعلیہ سے سمجھا جاتا ہے اور دلیل اس پر اخیر رکوع ہے جس میں فرماتا ہے ان ربک یعلم الخ کہ تیرا رب جانتا ہے کہ تو اور تیرے ساتھ والے دو ثلث اور نصف اور ایک ثلث رات میں اٹھتے اور شب بیداری کرتے ہیں۔ اگر اوانقص منہ قلیلا اوزدعلیہ کے یہی معنی نہ تھے تو آپ دو ثلث اور نصف اور ثلث رات میں کیوں اٹھتے اور کہاں سے یہ بات پیدا ہوئی تھی مگر پھر اس دو ثلث و نصف وثلث کی قید بھی جو آنحضرت ﷺ و صحابہ ؓ نے اپنے لیے نفل کے طور لگا رکھی تھی اٹھ گئی اور تہجد گزاروں کے شوق اور فرصت پر چھوڑ دیا۔ ترتیل کے معنی : ورتل القرآن ترتیلاً مبرد کہتے ہیں عرب بولتے ہیں ثغررتل جبکہ دانت گنجان نہ ہوں بلکہ جدے جدے ہوں اور کلام مرتل اس کلام کو کہتے ہیں جو باترتیب ہو اور جس کے جملے الگ الگ ہوں۔ قرآن کی ترتیل اس کے حروف و کلمات کا مخارج سے ادا کرنا اور جلدی نہ کرنا اور حرکات و وقوف کو ایسی طرح سے ادا کرنا کہ سننے والا اگر گننا چاہے تو گن سکے۔ یہ تدبروتفکر کے لیے ہے کہ مطالب و معانی پر خوب نظر رہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے یعلٰی بن مالک نے نبی ﷺ کی قرأت کا حال دریافت کیا۔ فرمایا تم آپ کی نماز کیا پوچھتے ہو پھر آپ کی قرأت بتلائی ایک ایک حرف جدا کر کے (اخرجہ النسائی) ۔ اسی طرح بخاری و ترمذی وغیرہ محدثین نے روایات نقل کی ہیں۔ شعر کے طور سے پڑھتے تھے اور جلد جلد پڑھتے تھے آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جس سے دلوں کو حرکت ہو اس طرح سے پڑھو۔ فوائدِ تلاوت قرآن : یہ پڑھنا بظاہر ہر نماز تہجد میں ہے اگر نماز سے فارغ ہو کر یوں بھی کوئی قرآن مجید پچھلی رات پڑھتا ہے تو عجب نوروسرور روحانی پیدا ہوتا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ الفاظ قرآنی اس کے معانی پر دلالت کرتے ہیں اور وہ معانی مدتوں کلام نفسی کا مرتبہ علم الٰہی میں حاصل کرچکے ہیں پھر جب وہ معانی ان الفاظ سے کہ جن میں الوہیت و تقدس کا رنگ پیدا ہوگیا ہے اور اس عطر حقیقی سے معطر ہوچکے ہیں کان کے رستہ سے دل تک پہنچتے ہیں تو پڑھنے والے کی روح پر وہی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ اور کچھ کلام الٰہی پر منحصر نہیں جس کلام کو باربار پڑھا جائے اور اس کے معانی کا ذہن علی الدوام ملاحظہ کرے گا متکلم کی صفت اور اس کا رنگ اس کے اندر نمودار ہوگا۔ مثنوی شریف اور بزرگوں کے ملفوظات کو دیکھئے اور اسی طرح برے کلاموں کو قیاس کرلیجئے۔ عشق و حسن اور فواحش کے افسانے اور عیاروں بدمعاشوں کی داستانیں ان کے پڑھنے والوں بلکہ سننے والوں پر ایسا ہی رنگ پیدا کرتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے انوار روحانیہ اور قرب حق میسر آتا ہے اور بندہ کے تمام مدرکات و مشاعر کو انوار قرب الٰہی پُر کرلیتے ہیں اور صفات الٰہی بندہ کی صفات پر اور اس کے افعال اس کے افعال پر غالب آجاتے ہیں اور یہی دنوو تدنّی ہے خصوصاً جبکہ اس استخضارو التفات کا دوام ہو۔ علماء فرماتے ہیں کہ قرأتِ قرآن اور اس میں غوروتدبر کے تین مرتبے ہیں۔ اول یہ کہ ہر خطاب و قصہ میں اپنے آپ کو مخاطب سمجھے۔ دوم یہ کہ بغیر واسطہ اس کلام کو حق سبحانہ ٗ سے سنے۔ تیسرا مرتبہ جو اعلیٰ ہے یہ ہے کہ متکلم کی صفات و افعال کا اس میں مشاہدہ کرے۔ فائدہ : نبی ﷺ کو قرآن مجید پڑھنے کا حکم دینا ‘ ان کو علم غیب حاصل کرنے کے لیے تیار کرنا ہے اور وحی کے لیے مشتاق کرنا ہے کس لیے کہ باربار زبان سے کان تک کلام الٰہی کا پہنچنا اور کان سے دل تک جانا صدمہ وحی میں تخفیف پیدا کرنے کا باعث ہے۔ یعنی پہلے سے سدھانا ہے کیونکہ نزول وحی کے وقت ارواح ملکیہ مقام متعددہ سے ایک جا مجتمع ہوجاتے تھے اور دفعتاً اس کیفیت روحانیہ کا قلب وجوارح تک پہنچنا حواس و قوائے بشریہ کو ایک سخت صدمہ پہنچاتا تھا یہاں تک کہ آپ پر ایک بیہوشی طاری ہوجاتی تھی اور سرد موسم میں پسینہ آجاتا تھا اور جذب روح کی حالت ہوجاتی تھی اس لیے باربار پہلے سے اس کا مشتاق ہوجانا سہولت کا باعث ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کے پڑھنے کے حکم کے بعد فرماتا ہے۔ اناسنلقی علیک قولاً ثقیلا کہ ہم ابھی تجھ پر بھاری بات ڈالیں گے جس سے مراد پے در پے قرآن مجید کا نازل ہونا ہے جو آپ پر نہایت گراں ہوتا تھا۔ یہ ابتدائِ وحی میں تھا پھر آخر میں یہ ثقل جاتا رہا تھا۔ پس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ رات کے اٹھنے اور قرآن کے پڑھنے کا آپ کو اس لیے حکم دیا کہ ہم آپ پر ایک بھاری بات ڈالیں گے یعنی قرآن مجید پے در پے نازل کریں گے جو باعتبار نزول کے آپ پر بھی بھاری اور عمل کرنے اور عادت و رسوم کفر چھوڑنے کے لحاظ سے کفار و مشرکین پر بھاری ہے اور خود قرآن بھی ایک وزنی اور گراں بہا ہے۔ اپنی بلاغت اور جمیع وجوہ اعجاز اور تعلیم مکارم اخلاق کے لحاظ سے اور اس سبب سے کہ اس کے لیے ظہروبطن ہے ہر پہلو میں ایک معنی ہیں۔ نفس امارہ کی شرارتیں توڑنے میں بےنظیر ہے وغیرہ وغیرہ بہت سی خوبیاں اس میں جمع ہیں جس کا مثل بنانا بشر سے ممکن نہیں۔ پس آپ پہلے سے مستعد رہیں اور عبادت و ذکر سے نفس کو اشراق جلالِ الٰہی کے لیے تیار رکھیں۔ قول ثقیل کے معنی : بعض مفسرین کہتے ہیں کہ قول ثقیل سے مراد کلمہ ٔ توحید ہے جس نے دنیا میں زلزلہ ڈال دیا تھا اور جس پر ہر طرف سے ماردھاڑ ہوئی اور خویش و اقارب تک لڑنے کو تیار ہوگئے اور پھر تکلیف کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ بعض کہتے ہیں قول ثقیل و انذرعشیر تک الاقربین ہے یعنی اقارب تمام بنی آدم کے لیے دین حق کی منادی کرنا۔ جس سے بھاری اور کوئی بات کیا ہوگی ؟ تمام عالم کے سدھارنے کا بیڑا اٹھانا اس حالت میں کہ دنیا ہلاکت کے عمیق گڑھے میں گر پڑی ہو اور جہالت کی کالی گھٹائوں نے ہر طرف سے گھیر لیا ہو بڑا بھاری کام ہے۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیھما السلام صرف بنی اسرائیل کے سدھارنے کے لیے آئے تھے اور انہیں کے ہم قوم اور ہم زبان بھی تھے۔ پھر ان پر مصائب کے جس قدر پہاڑ توڑے گئے اہل تواریخ پر مخفی نہیں چہ جائیکہ ایک شخص تمام جہان کے لیے بھیجا جائے ؎ آفریں برجاں پاکت آفریں مرحبا برروح پاکت مرحبا اس لیے آپ کو تقرب الٰہی کی قوت اور انوار سے جو تہجد گزاری و ذکر و تلاوت کے سبب حاصل ہوتے ہیں پہلے سے قوی و مستعد ہونے کا حکم دیا گیا اور آپ کے ساتھ اس کام کے رفقاء کو بھی شریک کیا گیا کہ پہلے سے تیار رہو تم سے بڑا کام لینا ہے۔ ؎ دلابسوز کہ سوز توکارہا بکند دعائِ نیم شبت دفع صدبلا بکند یہ تھوڑے سے دنوں میں تمام جہان میں توحید و حق پرستی و پرہیزگاری کی روشنی پھیل گئی۔ اس اندھیری راتوں کے سوزوفغاں کا اثر ہے۔ اے خدا کے پیارے ‘ اس قدر بھاری بوجھ اٹھانے والے ! تجھ پر اور تیری پاکباز جماعت پر جنہوں نے خوشی سے اس گرانبار بوجھ کے تلے کندھا دیا اور ڈوبتی کشتی بنی آدم کو بھنور سے کھینچ کر کنارہ پر لائے لاکھ لاکھ درود اور کروڑ کروڑ سلام اور جان فدا ہو۔ اے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے فرزند ارجمند آپ نے اپنے جدِبزرگوار کے کام کو پورا کردیا۔ آپ کا احسان قیامت تک بنی آدم ادا نہیں کرسکیں گے۔ علیک صلوٰۃ اللہ وسلامہ۔ فوائد شب خیزی : اس کے بعد رات کے اٹھنے کے فوائد بیان فرماتا ہے۔ ان ناشئۃ اللیل ہی اشد وطاًء و اقوم قیلاً کہ رات کا اٹھنا نفس پر سخت ہے اور بات کہنے میں بہت عمدہ وقت ہے (ناشی پیدا ہونے والا کہتے ہیں نشات تنشاء نشا ًء فھی ناشیہ والانشاء الاحداث) ناشئۃ اللیل کے دو معنی ہیں۔ (1) ابوعبیدہ ؓ کہتے ہیں ناشئتہ اللیل رات کی ساعتوں اور گھڑیوں کو کہتے ہیں جو یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی ہیں۔ (2) جو رات میں پیدا ہو انسان کا نفس بھی ناشئتہ اللیل ہے جو خواب کے بعد گویا دوبارہ پیدا ہوتا ہے اور قیام لیل کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ ابن الاعرابی کہتے ہیں جب اول رات سو کر اٹھے تو اس کو نشاء کہتے ہیں اور اس سے ناشئۃ اللیل ہے اور شب میں جو بیدار ہونے کے بعد روح پرانوار غیبی پیدا ہوتے ہیں وہ بھی ناشئۃ اللیل ہیں۔ الحاصل رات کا اٹھنا بھی ناشئۃ اللیل ہے۔ وطاً کو جمہور نے بفتح واو و سکون ط پڑھا ہے اس کے معنی تقیل اور سخت کے ہیں بولتے ہیں اشتدت علی القوم وطاء السلطان اور اسی معنی میں ہے آنحضرت ﷺ کا یہ قول اللہم اشد وطاک علی مضریہ مطلب کہ رات کا اٹھنا نفس پر گراں ہے اور یہ واقعی بات ہے پچھلی رات کی میٹھی نیند خصوصاً سردی میں جبکہ لحاف میں لپٹا ہوا اور زنان محبوب اور فرزندان مرغوب بغل میں ہوں اور اسی طرح گرمی کی راتوں میں جبکہ اول رات گرمی کی شدت اور پسوئوں اور مچھرئوں کی حدّت کے بعد پچھلے کو آنکھ لگی ہو اٹھنا اور یادالٰہی میں مصروف ہونا بڑی جوانمردی کا کام ہے۔ تہجد کے فضائل : اس لیے ان اٹھنے والوں کی مدح خدا تعالیٰ کرتا ہے۔ تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفاً وطمعاً الخ کہ بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کو طمع و خوف میں پکارتے ہیں اور فرماتا ہے۔ یبیتون لربہم سجدًا وقیامًا کہ اللہ کے نیک بندے اپنے رب کے لیے سجدہ اور قیام میں رات گزارتے ہیں۔ بعض نے بکسرالوائو و فتح الطاء بھی پڑھا ہے اس تقدیر پر اس کے معنی مجاہد و ابن ابی ملیکہ وغیرہ نے موافقت و مطابقت 1 ؎ کے لیے ہیں کہ رات کے اٹھنے میں زبان اور دل اور آنکھ اور کان میں بہت موافقت ہوتی ہے کس لیے کہ انتشار اور شور وشغب کا وقت نہیں ہوتا بلکہ سکون اور تسکین کا وقت ہوتا ہے جو کچھ منہ سے نکلتا ہے، دل سے نکلتا ہے اور کان اس کو دل تک پہنچانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ واقوم قیلا اور اس وقت بہت درست اور ٹھیک بات منہ سے نکلتی ہے۔ قتادہ و مجاہد کہتے ہیں قرأت قرآن اس وقت بہت ٹھیک ہوتی ہے کس لیے کہ دنیا میں چپ چاپ ہوتی ہے اور عالم غیب کے انوار کا بھی روح پر ایک خاص انکشاف ہوتا ہے اور خطیرۃ القدس کو ارواح بنی آدم کی طرف انجذاب تام ہوتا ہے اسی بات کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہے کہ ینزل ربنا تبارک و تعالیٰ کل لیلۃ الیٰ السماء الدنیا حین یبقیٰ ثلث اللیل الآخر (متفق علیہ) کہ جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو ہر رات حق سبحانہ ٗ آسمان زیریں کی طرف اتر آتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی مانگنے والا ہے کہ میں قبول کروں ؟ جو کوئی مانگے دوں جو کوئی مغفرت مانگے بخش دوں۔ خدا پاک نزول و صعود جسمانی سے پاک ہے اس سے مراد وہی تدنی ودنوں ہے جس کو عرفا تقرب کہتے ہیں۔ نمازِتہجد کے فضائل اور اس کی تاکید اور اس کے برکات احادیث صحیحہ میں بکثرت بیان ہوئے ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ اس کے برکات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تہجد گزار کے منہ پر ایک عجیب نور نمودار ہوتا ہے اور اس کی قبر میں کبھی اندھیری نہیں ہوتی اور اس کی مشکلات کو خدا آسان کرتا ہے۔ ہر ایک دنیا کی ظلمت سے نجات دیتا ہے۔ فرماتا ہے رات کے اٹھنے کا کیوں حکم دیا گیا۔ ان لک فی النار سبحاً طویلاً اس لیے کہ دن میں تیرے لیے بڑا کام رہتا ہے (السبح الجری والدوران ومنہ السباحۃ فی الماء لت قبلہ بیدیہ ورجلیہ و فرس سالج ای شدید الجری۔ قال ابن عباس ؓ السبح الفراغ للحاجۃ والنوم) یعنی دن میں ہدایت و ارشاد و فیصلہ خصومات وتدابیر دفعِ اعدادء عیادت مرضٰی تدبیر خانہ داری وغیرہ کا ربار رہتے ہیں۔ تخلیہ مشکل ہے اس لیے رات کا وقت مناجات و تلاوت و نماز کے لیے عمدہ وقت ہے۔ زجاج کہتے ہیں یہ معنی ہیں رات کے جاگنے میں نیند اور آرام حاصل نہ ہو تو دن آپ کے لیے بڑا وسیع ہے اس میں آرام کرلو سولو۔ رات کی عبادت ہی پر موقوف نہیں کہ دن میں خدا سے غافل ہوجائے دنیا ہی کے دھندے میں پھنسا رہے بلکہ ہر وقت یاد رکھے اس لیے ارشاد فرماتا ہے واذاکراسم ربک کہ اپنے رب کو یاد رکھ ہر حال میں اسے نہ بھول کیونکہ جس دم بندہ اس سے غافل ہوجاتا ہے تو سلسلہ انوار کا روح سے منقطع ہوجاتا ہے اور تاریکی بھر جاتی ہے، روح پژمردہ ہوجاتی ہے۔ ذکر کے اقسام : ذکر عام ہے خواہ زبان سے ہو ‘ خواہ قلب سے ہو خواہ روح سے خواہ سر سے ‘ خواہ خفی ہو ‘ خواہ جلی ‘ خواہ نفس اور عام ہے کہ اسم ذات کا ورد ہو یا کسی اسم صفائی کا کہ جس سے اس کو مناسبت ہو اور اس کے حال کے موافق ہو۔ حضرات صوفیہ کرام نے اجتہادو استنباط اور تعلیم الہامی سے اذکار کے مختلف طریقے مبتدی و منتہی کے مناسب مقرر کئے ہیں اور تجربہ ثقات نے بتلا دیا ہے کہ ان کا اثر جلد محسوس ہوتا ہے اور تنویر قلب و روح میں ان کو ایک عجیب خاصیت ہے اس کا انکار بدیہیات کا انکار ہے۔ منتہی ہر حال میں ذاکر رہتا ہے کوئی شغل اور کوئی حال اس کو یادالٰہی سے غافل نہیں کرسکتا مگر مبتدی کے لیے ذکر تبتل کے ساتھ ہو تو جلد اثر بخشتا ہے اس لیے فرماتا ہے وتبتل الیہ تبیتلا کہ ماسوی اللہ جس قدر شواغل و علائق ہیں ان کو منقطع کر کے اسی کی طرف متوجہ ہوجا اس کے بعد جو تخلیہ و خلوۃ میں ذکر ہوگا تو اس میں کوئی خطرہ اور وسوسہ سدِراہ نہ ہوگا ورنہ ہزاروں خطرات کی نجاست کے ساتھ ذکر کچھ مفید نہیں ؎ برزباں تسبیح ودردل گائوخر ایں چنیں تسبیح کے دارداثر ذکر مع التبتل : ذکر مع التبتل کی عرفا نے ایک صورت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ علاقہ اہل دنیا کو منقطع کرے اگر کرسکے ورنہ کم تو ضرور کرے نہ کسی سے دوستی نہ کسی سے دشمنی ‘ نہ جھگڑا نہ مطالبہ ‘ نہ کینہ نہ حسد باقی رکھے۔ بقدر ضرورت مال سے لباس و مکان پر اکتفا کر کے شب کو کسی گوشہ میں سر ڈھانک کر قبلہ رو باطہارت بیٹھے، استغفار و درود کے بعد ذکر شروع کرے۔ فرائض سنن و نوافل کے بعد کوئی ذکر ہو اگر ذکر قلبی ہو تو بہتر اور توجہ تام حق سبحانہ ٗ کی طرف ہو اس کے بعد اس پر ایک حالت طاری ہوگی کہ جس میں تعداد ذکر بھی جاتی رہے گی۔ اس کے بعد ایک جاذبہ محبت اس پر طاری ہوگا اور اس کو ایک بےخودی ہوگی جس میں اپنے صفات و ذات کے حالات سے بھی فراموشی ہوجائے گی اور اس مرتبہ کو قرب کہتے ہیں اس کے بعد ذکر بھی ساقط ہوجائے گا اور مذکور ہی مذکور کا شہود باقی رہ جائے گا اس کے بعد ایک اتصال بےتکیف و بےقیاس حاصل ہوگا اور اس مرتبے کا نام بقا ہے۔ اس طرح سے مداومت کرے، کم از کم چار چلے تو اس کو عمل کرے پھر دیکھئے کہ عالم کے کس قدر اسرار منکشف ہوتے ہیں مگر صلاحیت و قابلیت شرط ہے۔ فائدہ : نبی کریم ﷺ نبوت سے پہلے ذکر مع التبتل کیا کرتے تھے مکہ سے کئی میل کے فاصلہ پر حراء ایک پہاڑ ہے اس کے غار میں اپنا خلوت خانہ بنا رکھا تھا۔ آپ کی بیوی حضرت خدیجہ ؓ کچھ کھانا پانی آپ کو وہاں پہنچا دیا کرتی تھیں۔ یہ ٹھیک معلوم نہیں کہ کتنے عرصہ تک آپ وہاں رہے مگر جب عالم غیب کے مشاہدہ کا وقت آگیا تو ملائکہ سے باتیں ہوتی تھیں آخر جبرئیل امین آئے اور سورة اقرء ساتھ لائے اس کے بعد چھ مہینے تک وحی بند رہی اور آپ پر اس قبض سے ایک سخت صدمہ تھا اور اس قبض کا نام ضلال تھا جس کے دفع کی طرف سورة الم نشرح میں اشارہ ہے۔ ووجدک ضالاً فھدٰی چھ مہینے کے بعد پھر سورة مزمل نازل ہوئی اور پھر پے در پے قرآن نازل ہونے لگا۔ اعلائِ کلمہ ٔ حق سے مکہ میں ایک شور برپا ہوگیا، ایذائوں کے دروازے کھل گئے۔ اس سورة میں بیشتر انہیں حالات کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ لفظ مزمل اور نماز تہجد و ذکر و تبتل کا اشارہ ہے جو اس وقت کی حالت سے مناسب تھا بعد میں جلوت کا زمانہ آگیا تھا جو ارشاد و ہدایت کے لیے ضروری تھا۔ 1 ؎ تبتل پر خیال بشری یہ اشکال پیدا کرسکتا تھا کہ پھر دنیاوی کام کیونکر چلیں گے۔ کھانا پینا، مرنا جینا، شادی غمی، تندرستی بیماری جو امور تمدنی ہیں ضرور بنی نوع کی طرف حاجت پڑتی ہے پھر سب سے الگ ہوجانا مشکل بات ہے۔ اس لیے اپنے نبی کریم ﷺ کو بتایا جاتا ہے۔ رب المشرق و المغرب لا الہ الاھو فاتخذہ وکیلا ھو کہ وہ مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں تمام دنیا اور اس کے جمیع اسباب اور سارے سلسلے اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی اہل مشرق و مغرب کی پرورش کرتا ہے پتھر میں کیڑے کو ‘ گھونسلوں میں پرندوں کو ‘ بیابانوں میں چرندوں کو روزی دیتا ہے۔ مشرق سے دن نکالتا ہے، جہان کو روشن کرتا ہے ‘ تمام کاموں کے سلسلے جاری کردیتا ہے، مغرب کا رب ہے، اندھیری چھا دیتا ہے، رات میں بستر خواب پر جس کو لٹا کر موت کا نمونہ دکھا دیتا ہے پس اسی کو اپنا کارساز بنا رکھ وہ آپ کے یہ کام سرانجام کر دے گا۔ 1 ؎ اناجیل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ابتداء میں سخت ریاضتیں کی ہیں۔ چالیس روز کے روزے اور صحرانشینی اور رات کو جاگنا اور دعا نماز میں مصروف رہنا اور حواریوں کو تاکید کرنا اور دنیا سے بالکل الگ ہونا اور یہ فرمانا کہ خداوند پرندوں کو کھانا کھلاتا ہے اور سو سن کو جنگل میں سبزلتا پہناتا ہے وغیرہ بہت سی باتیں مذکور ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی ابتدائی حالت میں ہوتی ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے یہ حالات ہیں اوراقوال نصائح میں بھی بالکل ایک ہی پھول کی خوشبو آتی ہے۔ 12 منہ فائدہ : عارف و کامل کے لیے دو باتیں ضرور پیش آتی ہیں ایک وہ کہ جن کا تعلق اپنی ذات اور خالق سے ہے۔ دوم یہ کہ جن کا تعلق اوروں سے بھی ہے اس لیے یہاں تک آنحضرت ﷺ کو بالذات اور متبعین کے لیے تبعاً قسم اول کی تعلیم تھی کہ ان کو عمل میں لاؤ اور وہ چار باتیں ہیں۔ (1) قیامِ شب و نماز تہجد و قرأتِ قرآن عام ہے کہ آدھی رات سے یا دو ثلث یا ایک ثلث رات سے ہو۔ اس کے ضمن میں قیام شب کے فوائد بھی ارشاد کردیے تھے کہ ہم تجھ پر ایک بھاری بات ڈالیں گے۔ عبادت و ریاضت سے اس کے لیے تیار رہ اور نیز رات کا اٹھنا نفس کشی کا بڑا عمدہ آلہ اور قرأت اور مناجات کا خوب وقت ہے۔ (2) اس کے سوا ہر وقت اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھ۔ تبتل کے معنی : (3) سب علائق کو توڑ کر اس کی طرف متوجہ ہو رہو۔ علائق توڑنے کے یہی معنی نہیں کہ زن و فرزند ‘ بیع و شرائ ‘ کاروبار معاش کو معطل کر دو بلکہ تعلق خاطر اٹھا لو دل میں جگہ نہ دو اور ان پر فریفتہ نہ ہوجائو۔ دفع الوقتی اور ایام گزاری ملحوظ رکھو اور اسلام میں یہی تبتل معتبر ہے نہ رہبانیت کہ لنگوٹا باندھ کر جنگل میں پہاڑوں میں جا بیٹھو اس لیے کہ ایسا حکم انتظام عالم کو برہم کرتا ہے ہاں اگر خاص لوگ اپنے مناسب حال سمجھیں اور جذبہ محبت ان کو دنیا سے بالکل الگ کر دے تو ان پر کچھ عتاب بھی نہیں۔ (4) اس پر توکل کرو تمام دنیا کا وہی کارساز ہے۔ توکل صرف منہ سے کہنے کا نام نہیں بلکہ تدابیر و اسباب ظاہریہ کے بعد بھی یقین کامل رہے کہ وہی ہمارے کاروبار کا متکفل ہے وہی مصائب دفع کرتا ہے۔ اور ان حکموں میں عجب ترتیب طبعی ملحوظ ہے کس لیے کہ شب بیدار ‘ تہجد گزار کو ازخود ذکر میں حلاوت پیدا ہوجاتی ہے وہ دن میں بھی اس محبوب حقیقی کو نہیں بھولتا بلکہ اس مزہ میں رات کا منتظر رہتا ہے اور جب یہ کیفیت ہوجاتی ہے تو خودبخود دل سے قطع تعلقات بھی ہوجاتے ہیں کس لیے کہ یہ تعلقات اس محبوب حقیقی کے وصال میں موانع اور رقیب ہیں۔ ایک دل میں دو مخالف خواہشیں کیونکر جمع ہوسکتی ہیں۔ اس کے بعد اس پر تجلی اور شہود محبوب ہوتا ہے پھر اس کی آنکھ میں اور کوئی دکھائی نہیں دیتا کہ جس پر وہ توکل کرے یا اس کو کارساز سمجھے اس کے سوا کس چیز کو ہستی میں نہیں سمجھتا ؎ چو سلطان عزت علم برکشد جہاں سربحیب عدم درکشد اس کے بعد قسم دوم کی باتیں ذکر فرماتا ہے جن کی اپنی آراستگی و درستی کے بعد مخلوق کے لیے ضرورت ہے اور وہ بھی چار ہیں۔ (1) واصبر علی مایقولون کہ ان کی باتوں پر صبر کر۔ کفار کی باتیں کئی قسم کی تھیں۔ اول یہ کہ وہ آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو برا کہتے اور گالیاں دیا کرتے تھے۔ دیوانہ، احمق اور سخت باتیں کہتے تھے جس سے جوش آتا اور درپے انتقام و مقابلہ ہونا ایک فطری بات ہے مگر اس سے آنحضرت ﷺ کو روکا گیا کس لیے کہ اس سے عداوت قائم ہوتی ہے جس سے ہدایت کا دروازہ بند ہوتا ہے جو کچھ کہیں کہنے دو ، برا نہ مانو، اپنا کام عبادت و ہدایت کا کئے جائو۔ (دوم) وہ اپنے بتوں کی مدح اور ان کی کرامات کے کرشمے اور دارآخرت کا انکار کر کے لوگوں کو توحید اور آخرت کے مفید اعمال حسنہ سے روکتے تھے ایسی باتوں پر بھی خدا پرست طبائع کو غصہ آنا معمولی بات ہے مگر ابتداء میں ان کے جواب و مقابلہ سے روکا گیا۔ (2) واھجرھم ھجرًا جمیلاً اور ان بیوقوفوں کو اچھی طرح سے چھوڑ دے۔ ہجر جمیل یہ ہے کہ کینہ نہ رکھے، ان کو برائی اور ایذا پہنچانے کا قصد نہ کرے، نہ گلہ و شکوہ کرے، ہجو و توہین تو کجا جہاں تک ہو سکے بھلائی اور نصیحت سے بھی درگزر نہ کرے۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ نے جب یہ اخلاق حمیدہ کفار سے برتے تو پھر ان کے دلوں پر ایک ایسا اثر ہوا کہ روزبروز سینکڑوں اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ واعظ اسلام میں یہ باتیں شرط ہیں اگر ایسی طبیعت نہ ہو تو اس کو وعظ و ہدایت کی مسند پر بیٹھنا روا نہیں۔ کس لیے کہ بجائے ہدایت کے اس کے اخلاق درشت اور منتقم طبیعت اور لڑنے والی زبان سے اور بھی عداوت ہو کر لوگوں کو اپنی بری باتوں پر اصرار ہوجائے گا۔ (3) وذرنی المکذبین اولی النعمۃ کہ مالدار جھٹلانے والوں کو مجھ پر چھوڑ دے آپ ان کے لیے بددعا بھی نہ کریں۔ (4) ومہلہم قلیلا اور ان کو تھوڑی مہلت دیجئے۔ اول تو ایسے گمراہ اور گمراہ کرنے والوں کو جو اپنے خدا داد مال و جاہ کا شکریہ نہیں کرتے بلکہ اس کو خدا کے مقابلہ میں صرف کرتے ہیں دنیا ہی میں سزا مل جایا کرتی ہے ورنہ مرنے کے بعد تو ضرور ہی ملے گی اور یہ چند روزہ مہلت ہے۔ اور وہ سزا کیا ہے ؟ ان لدینا انکالاً وجحیماً وطعاماً ذا غصۃ وعذاباالیما کہ ان کے لیے ہمارے ہاں بیڑیاں تیار ہیں اس لیے کہ ان پائوں سے خدا کی راہ میں چل کر نہیں آتے تھے اور ان پر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ فساد اور نفسانی خواہشوں اور ان کے لیے آگ جلانے والی بھی تیار ہے یہ ان کے عشق و محبت دنیا کی آگ ہے اور نیز دین حق کے مقابلہ کی آگ ہے اور شہوات و لذات کی بھی آگ ہے جو ان کے دلوں میں جلا کرتی تھی اب یہ اس میں جلا کریں اور کھانے میں گلا گھونٹنے والے۔ گلے سے نیچے اترتے ہی نہیں یہ ان کے دنیا میں عمدہ عمدہ کھانوں کا بدلہ ہے جو کھا کر شہوت پرستی اور بدکاری پر بدکاری کرتے تھے اور نیز یہ وہ بزرگان دین کی نصیحت بھی ہیں جو ان کے گلے سے نیچے دل میں نہیں اترتی تھیں اوپر ہی اوپر اڑا دیتے تھے اور یہ وہ شادمانیاں اور ناچ و رنگ اور کھیل تماشے بھی ہیں کہ جن میں مسرور اور خدا سے دور تھے۔ آج وہ گلوگیر ہو رہے ہیں اور طرح طرح کے دردناک عذاب بھی ہیں۔ یہ سامان ان کے لیے تیار ہیں۔ مرنے کی دیر ہے اس چند روزہ زندگی میں جو کچھ کرنا ہے کرلیں اور یہ چیزیں پوری پوری ان کو کس دن ملیں گی یوم ترجف الارض کہ جس دن زمین لرزے وکانت الجبال کثیبا مہیلا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ٹیلے ریت کے بن جائیں یعنی قیامت کے روز، اور قیامت سے پہلے بھی مگر کم۔ انجیل 1 ؎ لوقا کے 16 باب میں ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے ایک دولت مند کافر اور ایک غریب دیندار کا ذکر کیا ہے جو ناسور اور زخموں سے چور تھا اور کتے اس کے زخم چاٹتے تھے اور دولت کے پس خوردہ ٹکڑوں کی آرزو کیا کرتا تھا۔ قضاً دونوں مرگئے العزر کہ جو غریب تھا فرشتوں نے لے جا کر ابراہیم (علیہ السلام) کی گود میں رکھا اور دولت مند کو دوزخ میں۔ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا اور اس کی گود میں العزر کو بھی اور اس نے پکارا کہ اے باپ ابراہیم ! مجھ پر رحم کر اور العزر کو بھیج کہ اپنی انگلی کا سرا پانی سے بھگو کر میری زبان ٹھنڈی کرے کیونکہ میں لو میں تڑپتا ہوں۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے بیٹے یاد کر کہ تو اپنی زندگی میں اچھی چیزیں لے چکا اور العزر بری چیزیں۔ سو اب یہ آرام پاتا ہے تو تڑپتا ہے اور ہمارے تمہارے درمیان ایک عمیق گڑھا ہے۔ ادھر کے ادھر اور ادھر کے ادھر نہیں جاسکتے تب دولتمند نے کہا۔ میں منت کرتا ہوں کہ تو اسے میرے باپ کے گھر بھیج میرے پانچ بھائی ہیں ان کو مطلع کرے تاکہ وہ بھی اس عذاب کی جگہ نہ آئیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ان کے پاس انبیاء ہیں چاہیے کہ ان کی سنیں اس نے کہا اے باپ اگر مردوں میں سے کوئی ان کے پاس جائے تو وہ توبہ کریں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جب نبیوں کی نہ سنی تو مردوں کی کب سنیں گے۔ آیات کی تفسیر کے بعد ہم کو آنحضرت ﷺ کی نمازتہجد کا بیان کرنا ضروری ہے۔ 1 ؎ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد عالم برزخ میں ثواب و عذاب ہوتا ہے اور مرنے کے بعد ایماندار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ظل عاطفت میں رہتے ہیں اس لیے شرع محمدی میں نماز میں ان پر درودوسلام مسنون ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مردے کو اپنے اقارب کا علم اور ان کی ہمدردی باقی رہتی ہے۔ سورة یٰسٓ میں ہے یالیت قومی یعلمون وماغفرلی ربی اور احادیث میں ان تمام باتوں کی تصریح ہے۔ 12 منہ نماز تہجد : اس کا وقت جمہور کے نزدیک آدھی رات ڈھلنے کے بعد سے صبح صادق تک ہے۔ آنحضرت ﷺ وتر تہجد کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے اور جس کو نماز تہجد کے لیے بیدار ہونے کا پورا بھروسہ نہ ہو تو وہ عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھ لے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ چناچہ بعض صحابہ ؓ ایسا ہی کرتے تھے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ شب بیداری اور نماز تہجد کی حالت سورة مزمل کے بعد سے ایک طرزخاص پر نہ تھی۔ کبھی آپ عشاء پڑھ کر سو جاتے اور آدھی رات کے بعد اٹھ کر وضو کر کے دو رکعت پڑھتے، ان میں بہت کچھ قرآن مجید پڑھتے تھے۔ سورة بقرہ و آل عمران وغیرہ اور یہ دو رکعت بڑی دیر میں تمام کرتے اور تھک جاتے تو لیٹ جاتے تھے۔ پھر اٹھ کر اس طور سے دو رکعت پڑھتے۔ کبھی چھ رکعت پڑھتے کبھی زیادہ دس تک پڑھتے پھر اخیر میں تین رکعت وتر پڑھتے۔ بعض محدثین کے نزدیک چھ رکعت یا آٹھ یا دس رکعت کے بعد متصلا ایک رکعت اور ملا دیتے۔ طاق کرنے کے لیے اور اسی کو وتر کہتے ہیں۔ اس سے یہ نہیں پایا گیا کہ وتر کی ایک رکعت جداگانہ بھی پڑھی ہے۔ صبح صادق کے بعد صبح کی دو رکعت پڑھ کر ذرا لیٹ جاتے اور پھر نماز صبح پڑھاتے اور کبھی صبح صادق تک برابر نماز پڑھتے رہتے تھے۔ تہجد میں بروایت مسلم جو زید بن خالد جہنی ؓ سے ہے تیرہ رکعت مع وتر کے ثابت ہوئی ہیں۔ اور عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں جس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے گیارہ رکعت بھی ثابت ہیں۔ اور کبھی کھڑے ہو کر کبھی بیٹھ کر بھی نماز تہجد پڑھتے تھے اور رکوع و سجود کے وقت اٹھ کر رکوع و سجدہ کرتے تھے۔ کوئی خاص سورة مقرر نہیں تھی۔ آپ نماز تہجد میں بہت رویا کرتے تھے۔ اور قرآن مجید کبھی آواز سے کبھی آہستہ پڑھتے تھے۔ اور کبھی تہجد میں دو رکعت اول جلدی تمام کرتے بعد کو طول دیتے۔ اور نماز میں اٹھنے سے پہلے بہت دعائیں پڑھتے تھے جو کتب حدیث میں مذکور ہیں۔ 2 ؎ قریش کے مشورہ کرنے کا مکان یا چوپال۔ 12 منہ
Ayahs 73:3–5

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات 1 ؎ یا اس سے کچھ کم کرلیا کرو

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دیا کرو اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات کا بوجھ ڈالنے والے ہیں۔

1 ؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو بڑا شوق تھا مگر خدا پاک جسم کی محافظت رکھنے کے لیے آپ کو تمام رات کے جاگنے سے روکتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 73:6–10

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کا اٹھنا نفس کو خوب زیر کرتا ہے۔ اور بات کرنے (یعنی دعا) میں یہی مناسب تر ہے

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بیشک دن میں آپ کے لیے بڑے مشغلے رہتے ہیں

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام لیا کرو اور سب سے الگ ہو کر اسی کی طرف آرہو

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

(کیونکہ) وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے جس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں پھر اسی کو کارساز بنا رکھو۔

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور کافروں کی باتوں پر صبر کرو اور عمدگی سے چھوڑ دو

1 ؎ مواطاۃ بمعنی مطابقہ ہے کمافی قولہٖ تعالیٰ لیواطئو عدۃ ماحرم اللہ
Ayahs 73:11–14

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور ہم کو اور جھٹلانے والے دولت مندوں کو (اپنی حالت پر) چھوڑ دو اور ان کو قدرے مہلت دو ۔

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کس لیے کہ ہمارے پاس بیڑیاں اور جہنم

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلا گھونٹنے والا کھانا اور سخت عذاب (موجود) ہے

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن کہ زمین اور پہاڑ لرزیں اور پہاڑ بھربھرے ریت کا ٹیلا ہوجائیں (آپس میں ٹکرا کر) ۔

ترکیب : والمکذبین عطف علی المفعول اومفعول معہ اولی النعمۃ صفۃ للمکذبین اوبیان اوبدل قلیلا زمانا قلیلا یوم ظرف لمافی لدینا من معنی الفعل وقیل لعذاب۔ واصل مھیل مھیول فحدف الواوعند سیبویہ وسکنت الیاء وقیل قلبت الواویائ۔
Ayahs 73:15–19

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف تم پر گواہی دینے والا ایک رسول اس طرح سے بھیجا ہے کہ جس طرح فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر فرعون نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو وبال میں پکڑ لیا پھر اگر تم نے بھی انکار کردیا

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

تو تم اس دن کی مصیبت سے کیونکر بچو گے جو لڑکوں کو بوڑھا کر دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

آسمان اس دن پھٹ جائے گا اس کا وعدہ ہو کر رہے گا

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ تو ایک نصیحت ہے پھر جو چاہے اپنے رب کی طرف آنے کا راستہ بنا رکھے۔

ترکیب : شاہد اوصف لرسولا و بیلا قال الاخفش شدیدا اوبہ قال ابن عباس و منہ مطروابل و طعام وبیل اذاکان لایستمرائ۔ یوما مفعول تتقون ای کیف تتقون یوما ان کفرتم وقیل مفعول کفرتم ‘ یجعل الجملۃ صفۃ یوم شیبا جمع اشیب والاصل فی شین شیب الضم وکسرت لمجانسۃ الیاء منفطربہ والباء سببیۃ ویمکن ان تکون بمعنی فی۔ وانما قال منفطرو لم یقل منفطرۃ تنزیل السماء منزلۃ الشیء لتغیرھا عن صف تھا وقال الفراء السماء یذکر و یؤنث۔ تفسیر : قریش اپنے تکبر اور سرکشی میں آنحضرت ﷺ کے مطیع نہیں ہوتے تھے اور ان کو فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم تھا اس لیے ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ ہم نے تمہارے پاس بھی ویسا ہی رسول بھیجا جیسا کہ فرعون کے پاس بھیجا تھا پھر اس نے سرکشی کی سزا پائی، غرق ہوا پھر تم فرعون سے زیادہ مالدار اور صاحب حشمت و شوکت نہیں ہو۔ یا یوں کہو کہ نبوت کے مسئلہ کی ضرورت بیان فرمائی جاتی ہے کہ جب بدکاری اور بت پرستی ہوئی ہدایت کے لیے نبی آیا جیسا کہ پہلے فرعون کے پاس موسیٰ ( علیہ السلام) آئے تھے تمہارے پاس محمد ﷺ آئے۔ فرماتا ہے اناارسلنا الیکم رسولاً ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا کیسا رسول ! شاہدا علیکم تم پر تمہارے نیک و بدکاروں کی شہادت دینے والا وہ خدا کی طرف سے گواہی دیتا ہے کہ یہ کام برے اور ناپسند ہیں اور یہ کام عمدہ اور قابل نجات ہیں۔ یا یہ کہ وہ قیامت میں تمہارے اوپر گواہی دے گا جو کچھ تم نے کیا اور کر رہے ہو وہ سچا گواہ آسمانی عدالت میں تم پر ثابت کر دے گا اور تم کو ملزم ٹھہرائے گا اگر برائی سے باز نہ آؤ گے اور نیک کام اختیار نہ کرو گے۔ کما ارسلنا الی فرعون رسولا جیسا کہ فرعون کے پاس ہم نے رسول یعنی موسیٰ (علیہ السلام) بھیجا تھا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل نے ان کی اطاعت کی تو قید فرعون سے نجات پائی۔ شام کی سرزمین نصیب ہوئی، وہاں کے سردار ہوئے اور فرعون نے سرکشی کی تو ہلاک ہوا اسی طرح اس نبی کے مطیع دنیا کی سرسبز بادشاہتوں کے مالک ہوں گے اور آخرت کے بھی درجات حاصل کریں گے اور نافرمان و سرکش خوار و ذلیل ہوں گے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش بدر میں مارے گئے، سات برس کے قحط میں گرفتار ہوئے، پھر فتح مکہ کے دن مغلوب ہوئے اور صحابہ دنیا اور دین کے سردار ہوئے۔ اس جملہ میں اس بشارت کی طرف بھی اشارہ ہے جو توریت سفر استثناء کے اٹھارہویں باب میں آنحضرت ﷺ کی بابت منقول ہے اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے بنی اسرائیل کو پہلے سے سناتے ہیں ” میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا “۔ انتہٰی متعصب عیسائی اس بشارت کا مصداق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ٹھہراتے ہیں اور سند بھی عیسائی مصنفوں کے اقوال سے لاتے ہیں۔ مگر یہ بشارت بجز آنحضرت ﷺ کے اور کسی پر صادق نہیں آتی کس لیے کہ اصل بشارت میں موافق عبرانی ترجمہ کے ان کے بھائیوں میں سے نبی برپا کرنا فرمایا ہے یعنی بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں برکت 1 ؎ دینے کا وعدہ بھی ہوا ہے۔ اگر اس کا مصداق حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) یا اور کوئی اسرائیلی نبی ہو تو بنی اسرائیل میں سے برپا ہوا سمجھا جائے گا نہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے دوسرے اس نبی کی نسبت یوں فرمایا کہ وہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے مانند ہوگا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کوئی بھی موسیٰ ( علیہ السلام) کے مانند نہیں گزرا بلکہ ہر ایک ان کا شریعت میں متبع تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں تو کوئی بھی مشابہت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے نہیں تھی کس لیے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ماں باپ سے پیدا ہوئے تھے، بیوی اولاد رکھتے تھے، ایک فرد ماندہ قوم کو سرکشوں کے پنجوں سے چھڑا کر لائے اور اس کو ایک ملک کا سردار کر گئے۔ برخلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کہ وہ بقول نصاریٰ آدم زاد ہی نہیں تھے بلکہ خدا زاد یعنی خدا کے بیٹے (تعالی اللہ عن ذلک علواً کبیراً ) اور نہ ان کی بیوی بیٹے تھے نہ قوم کو رومیوں کی قید سے آزاد کرا گئے۔ اور نیز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین ان کی نسل کے غیر لوگ ہوئے جیسا کہ یوشع بن نون ان کے بعد ان کا خلیفہ ہوا حالانکہ آپ کی اولاد بھی موجود تھی۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے جانشین حضرت ابوبکر ؓ ہوئے باوجودیکہ آپ کے اقارب و اولاد بھی تھی جن کے عہد میں عرب غیرقوموں پر فتحیاب ہوئے جیسا کہ یوشع بن نون کے عہد میں بنی اسرائیل شام اور فلسطین پر قابض ہوئے اور دونوں کی شریعت میں بھی حلت و حرمت ‘ طہارت و نجاست ‘ قوانین عبادت ‘ احکام معاملات اور دستور عبادات میں بہت مشابہت ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس کوئی نئی شریعت ہی نہ تھی بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے پابند تھے اس لیے فرماتے تھے کہ میں توریت کا ایک شوشہ بھی مٹانے نہیں آیا اور نہ شریعت کو منسوخ کرنے آیا ہوں اور جو بعد میں پولوس وغیرہ نے شریعت بنائی تو اس میں ان باتوں میں سے کچھ بھی نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاد کئے اسی طرح آنحضرت ﷺ نے بھی کئے۔ وہ لوگوں میں صاحب شوکت اور ذو وجاہت تھے ایسا ہی آنحضرت ﷺ بھی۔ برخلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کہ وہ محض فقیرانہ اور عاجزانہ پیرایہ میں تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی مخالف قتل نہ کرسکا اپنی موت سے مرے۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ برخلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کہ وہ بقول نصاریٰ یہود کے ہاتھ سے مارے گئے۔ الغرض پیدائش سے لے کر شریعت و احکام اور زیست کے حالات اور موت اور بعد میں جانشینوں تک کے حالات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ میں جیسی مشابہت ہے اس کا سواں حصہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں نہیں۔ 1 ؎ اس تقدیر پر اس بشارت کا مصداق بنی اسماعیل میں سے برپا ہونا چاہیے اور بنی اسماعیل میں بجز آنحضرت ﷺ کے اور کوئی ایسا نہیں گزرا۔ پھر فرماتا ہے اگر اے قریش ! تم ہمارے نبی الرحمۃ کی وجہ سے دنیاوی ہلاکت سے بچ گئے یا جیسا کہ تم ڈھٹائی سے کہتے ہو کہ ہم دنیا میں ہر قسم کی مصیبت اٹھا سکتے ہیں تو کیف تتقون ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیباً اس دن سے کیونکر بچو گے (اگر تم کافر رہے اور کفر میں مرگئے) جو لڑکوں کو بوڑھا کر دے گا یعنی قیامت کا دن علماء فرماتے ہیں یہ کنایہ ہے اس دن کی شدت اور درازی سے کہ غم کے مارے لڑکے بوڑھے ہوجائیں گے یا وہ اس قدر بڑا دن کفار پر ہوگا کہ لڑکے بوڑھے ہوجائیں گے کس لیے کہ وہ بڑا دراز دن ہوگا۔ بیضاوی فرماتے ہیں ھذاعلیٰ الفرض والتمثیل اور فرض کے طور پر ہے کہ اگر لڑکے بھی ہوں گے تو غم کے مارے بوڑھے ہوجائیں گے کیونکہ غم و الم سے بڑھاپا جلد آتا ہے۔ مطلب یہ کہ بڑا اندوہناک روز ہوگا۔ السماء منفطربہ اور آسمان پھٹ جائے گا۔ یجعل الولدان حشر کے وقت کا حال ہے اور السماء منفطربہ نفخہ اول کا ہے اور دونوں کا ایک ہیبت ناک متصلاً حادثہ ہے سب کو ایک دن (بمعنی وقت مصیبت) بیان فرمانا پوری تشریح ہے۔ اور ان باتوں میں اے آدم زاد ! کچھ شک و شبہ نہ کر۔ کس لیے کہ کان وعدہ مفعولا اس کا وعدہ جو اس نے رسول کی معرفت کیا ہے قیامت کے آنے کے بابت اور جزاء وسزا کی بابت ضرور ہو کر رہے گا اب جو تم کو سمجھایا اور ڈرایا جاتا ہے ان ھذہ تذکرہ یہ محض تمہاری نصیحت اور خیرخواہی اور تم کو آگاہی کی جاتی ہے ورنہ اور کچھ غرض نہیں۔ فمن شاء اتخذالی ربہ سبیلا ہم نے اپنے تک تقرب حاصل کرنے کی راہ بیان فرما دی ہے پھر جو چاہے ہمارے دربار لطف میں جگہ پانے اور ہمارے پاس آنے کا رستہ اختیار کرلے وقت ہے ورنہ دوسرے رستہ کا انجام جہنم اور مصیبتِ دائمی ہے ؎ درِفیضِ الٰہی وا ہے آئے جس کا جی چاہے خلاف اس کے رہ دوزخ ہے جائے جس کا جی چاہے