73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 73:1–19

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ کپڑا اوڑھنے والے !

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام فرمایا کریں سوائے تھوڑی رات کے

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ کرلیں اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

بیشک ہم آپ پر ایک بھاری کلام (قرآن مجید) نازل فرمانے والے ہیں

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

یقینا رات کا اٹھنا (نفس کو) خوب پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب ہوتا ہے

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بیشک دن کے وقت تو آپ کے لئے بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کریں اور سب سے یکسو ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجائیں

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق اور مغرف کا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں سو اسی کو اپنا کارساز بنائیے

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو کچھ یہ (کافر) کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور خوبصورت انداز سے ان سے الگ رہیے

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو ناز ونعمت میں رہتے ہیں سمجھ لینے دیجئے اور ان کو تھوڑی سی مہلت (اور) دے دیجئے

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب ہے

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس روز کہ زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ (ریزہ ریزہ ہو کر گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہارے پاس پیغمبر (حضرت محمد ﷺ) بھیجے ہیں جو تم پر گواہ ہوں گے جیسے ہم نے فرعون کے پاس پیغمبر (موسیٰ علیہ السلام) بھیجے تھے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر فرعون نے پیغمبر کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو بڑی مصیبت میں پکڑ لیا

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی کفر کرو گے تو اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو (بھی) بوڑھا کردے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

جس سے آسمان پھٹ جائے گا یہ اس (اللہ) کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

بیشک یہ (قرآن) تو نصیحت ہے پھر جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ اختیار کرلے

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل قیام سے قدوم مبارک پر ورم آجاتا تھا پھر شب معراج کو پانچ نمازیں فرض ہوئیں توتہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی مگر آپ نے تمام عمر یہ نمازادافرمائی لہذا یہ سنت شمار ہوتی ہے۔ ترتیل قرآن۔ یعنی سہولت کے ساتھ اور درست ادائیگی کے ساتھ الفاظ ادا کیے جائیں اس میں آواز خوبصؤرتی بھی شامل ہے نبی (علیہ السلام) نے (رح) خوش آوازی سے تلاوت کو بہت پسند فرمایا ہے ۔ ہم آپ پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالنے والے ہیں یعنی اصلاح خلق کافریضہ اور پوری انسانیت کے لی دعوت حق اور تمام عالم کفر سے مقابلہ لہذا راوں کا اٹھنا اگرچہ مشکل ہے مگر دل و زبان میں یکسوئی پیدا کردیتا ہے۔ مقابلے کے لیے قوت قلبی کی ضرورت ہے۔ گویا مجاہدہ کرایا جارہا ہے کہ کفر کے مقابلے کے لیے اصل طاقت قوت قلبی اور کیفیات ایمانی ہیں جو تہجد میں حاصل ہوتی ہیں بیشک دن بھر آپ کے لیے بہت مشقت ہے کہ اپنے معاشی مسائل بھی ہیں اور تبلیغ وتعلیم بھی جس پر کفر کی شدید مخالفت کا سامنا ہے مگر اس سب کے لیے آپ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیجئے اور اس قدر مخلوق سے انقطاع نصیب ہو کہ صرف اللہ کا نام قلب ونظر میں رہ جائے۔ ذکر اللہ۔ اس آیہ مبارکہ میں اس عبات کا حکم جو رات یا دن کے کسی وقت سے مخصوص نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حال میں جاری رہنا مقصود ہے صاحب مظہری نے ذکر دوام میں لکھا ہے اور صاحب معارف القرآن فرماتے ہیں کہ اس کو شب روز ہمہ وقت جاری رکھیں اس میں کبھی ذہول ہوناچاہیے اور نہ سستی اور یہ مراد اسی وقت لی جاسکتی ہے جب ذکر اللہ سے عام مراد لیاجائے خواہ زبان سے ہو یا قلب سے یا اعضاء جوارح سے چندے بعد لکھتے ہیں کہ آپ سے بیت الخلا میں ذکرلسانی نہ کرنا ثابت ہے لہذا ذکرقلبی ہر وقت جاری رہ سکتا ہے۔ ذکر اسم ذات یعنی اللہ اللہ کی تکرار مامور بہ عبادت ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ ذکر اللہ کے حکم کو اسم کے ساتھ مقید فرمادیا اس میں اشارہ نکلتا ہے کہ اللہ کی تکرار بھی مطلوب ومامور بہ ہے اور مفتی محمد شفیع (رح) معارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے جو صرف اسم ذات اللہ اللہ کے تکرار کو بدعت کہہ دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس کو بدعت کہنا صحیح نہیں ہے اور حق یہی ہے کہ ذکر قلبی جس کا حکم آپ کو دیا گیا تمام امت کے ہر مرد وزن کے لیے اللہ کا انعام ہے نبی کا وجود کا توہرذرہ نہ صرف خود ذاکر ہوتا ہے بلکہ جو لباس ، جوتا ، وغیرہ بدن سے مس کرتا ہے ذاکر ہوجاتا ہے جس زمین پر قدم مبارک رکھتے ہیں ذاکر ہوجاتی ہے اور آپ نے جدھر نگاہ فرمائی شجر وحجر جو ریت کے ذرات اور فضائیں تک ذاکر ہوگئیں۔ ہر مسلمان اگر برکات نبوی سے قلب کو ذاکر کرلے تو کفر کے مقابلے کی ہمت پالیتا ہے ۔ ورنہ زندگی سمجھوتوں کی نذر ہوجاتی ہے وہی پروردگار ہے مشرق ومغرب کا یعنی سب کائنات کا پالنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں لہذا آپ اسی کو اپنا کارساز جانیں اور کفار کی زبانوں سے جو طعنے سننے پڑتے ہیں برداشت کریں یابھلے طریقے سے ان سے الگ ہوجائیں۔ اعلی اخلاقیات۔ اس میں بھی مسلمان کے اخلاق بلند ہوناچاہیے اور فضولیات کا جواب دینے کی بجائے صبر کرے اگر حد برداشت سے باہر ہوں تو اچھے طریقے سے الگ ہوجائے کہ الگ ہو کر بھی شکوہ نہ کرے۔ اور کفر و انکار کی راہ کرنے والوں کو مجھ پر چھوڑ دیں کہ ان کے لیے بہت کم مہلت ہے لہذا دنیا میں بھی کفار کو شکست ہوئی اور تھوڑے عرصے میں اسلام غالب آیا اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی بیڑیاں ہیں اور آگ کے ڈھیر اور ایسا کھانا جو گلے میں پھنس جانے والا ہے اور دردناک عذاب ایک روز زمین پھر لرز اٹھے گی اور پہاڑ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور دنیا تباہ ہو کر اس انجام کو پہنچے گی۔ لوگوہم نے تمہارے پاس ایسارسول بھیجا ہے جو قیامت کے روز تم پر گواہ ہوں گے تم نے ان کی کسی قدراطاعت کی جیسے فرعون کے پاس بھیجا تھا جس نے رسول کی بات نہ مانی اللہ کے عذاب کی گرفت میں آگیا اگر تم نہ مانوگے تو تمہاراحال بھی ایسا ہی ہوگا اور اگر باز نہ آئے تو روز قیامت کیا جواب دو گے جس کی شدت اور طوالت سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے اس روز تو آسمان پھٹ جائیں گے بیشک اس روز حساب کتاب کا وعدہ ربانی پورا ہو کر رہے گا اس میں بہت ہی جامع نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار کا پسندیدہ راستہ اختیار کرنا چا ہیں۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ والے لوگ (بھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدمی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام فرماتے ہیں۔ اور اللہ تو رات اور دن کا اندازہ رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ (لوگ) اس کو نباہ نہ سکیں گے سو اس نے آپ (لوگوں کے حال) پر عنایت فرمائی پس آپ (لوگوں) سے جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کریں وہ یہ (بھی) جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض لوگ بیمار ہوا کریں گے اور بعض تلاش رزق کے لئے ملک میں سفر کریں گے اور بعض اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے ۔ سو اب تم سے جس قدر (قرآن) آسانی سے پڑھا جاسکے ، پڑھ لیا کرو اور نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کو پورے خلوص سے قرض دو اور جو نیک عمل اپنے لئے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس (پہنچ کر) بہتر اور صلے میں بہت بڑا پاؤ گے اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

آیات 20۔ اسرار ومعارف۔ بے شک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ آپ کے رفیق قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی رات کبھی نصف شب کبھی تہائی رات اللہ کریم شب وروز کی مقدار کو خوب جانتا ہے کہ خود خالق ہے لہذا یہ بھی جانتا ہے کہ دن بھر کی انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے اور تبلیغ وتعلیم میں محنت اٹھانے کے بعد مسلمانوں کے لیے یہ بہت مشکل کام ہورہا ہے۔ پہلے قیام میں طوالت فرض تھی۔ چنانچہ آپ نے سب کے حال پر کرم فرمایا وہ فرضیت طوالت یعنی لمبا قیام کرنے کی فرضیت ختم فرمادی اب ہر کوئی اپنی برداشت کے مطابق قیام کرے اور جس قدر آسانی سے قرات کرسکے پھرج ب نماز فرض ہوگئی توتہجد کی نماز کی فرضیت بھی ختم ہوگئی۔ وہ جانتا ہے کہ کچھ بیمارہوں گے کوئی حصول رزق حلال میں مصروف اور کوئی جہاد و قتال میں رات دن ایک کیے ہوئے ہوں گے لہذا ممکن حد تک تلاوت کرلیا کرو اور نماز پنجگانہ کی پابندی کرو اور زکوۃ ادا کرتے رہو نیز صدقات نافلہ سے اللہ کو خوبصورت قرض دو ۔ فرضیت صلوۃ وزکوۃ۔ نماز شب معراج میں فرض ہوئی اور زکوۃ بھی حکم تو مکہ مکرمہ میں آگیا مگر اس کی مقدار وغیرہ کے احکام مدینہ منورہ میں آئے لہذا اس سے پہلے عمومی صدقات پر اس کا اطلاق ہوتا رہا ، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہے جیسے تم اپنے لیے اللہ کریم کو قرض دے رہے ہو تو جس قدر اپنی خاطر آگے روانہ کرسکو بہت بہتر ہے کہ تمہیں اس کا بہت زیادہ اجر ملے گا اور اللہ سے بخشش طلب کرتے رہا کرو بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔