73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المزمل سورة نمبر 73 کل رکوع 2 آیات 20 الفاظ وکلمات 275 حروف 888 مقام نزول پہلا رکوع مکہ مکرمہ دوسرا رکوع مدینہ منورہ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شان محبوبیت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیے بغیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کیفیت کے ساتھ پکارا گیا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہت تھوڑا قرآن کریم نازل کیا گیا تھا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کے طعنوں اور الزامات سے پریشان ہو کر اور کپڑا لپیٹ کر لیٹ گئے تھے۔ فرمایا گیا کہ اے کپڑوں میں لپٹ کر بیٹھنے والے راتوں کو اٹھ کر اپنے اللہ کی عبادت و بندگی کیجئے تاکہ وہ بھاری اور عظیم کلام جو ساری کائنات کی ہدایت کے لئے نازل کیا جا رہا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو اٹھانے اور اس سلسلہ کی تمام ذمہ داریوں کو سنبھالنے اور پورا کرنے کی ہمت پیدا کرلیں۔ جب تک پانچ وقت کی نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں اس وقت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اور امت کے افراد کے لئے نماز تہجد اور قیام الیل فرض تھا۔ اس وقت حکم تھا کہ آدھی رات، آدھی رات سے کم یا آدھی رات سے زیاہد نماز تہجد ادا کی جائے اور اس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کو پورے آداب اور شرائط کے ساتھ پڑھا جائے۔ فرمایا کہ راتوں کو اٹھنا اور اس میں عبادت کرنا نفس کو قابو میں کرنے کا بہترین وقت ہے اور قرآن کریم پڑھنے کا بہترین اور موزوں وقت یہی ہے۔ دن کے وقت میں تو اور بہت سے کام ہوتے ہیں لہٰذا راتوں کو اٹھ کر اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے اور سب سے کٹ کر اسی ایک ذات کی طرف متوجہ رہا جائے جو مشرق و مغرب کی ہر سمت کا مالک ہے وہی عبادت اور بھروسے کے قابل ہے۔ کفار کے اعتراضات اور باتیں بنانے پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کفار کی باتوں اور طعنوں پر صبر کیجئے، نہایت اچھے اور احسن طریقے کے ساتھ ان سے الگ رہیے۔ ان جھٹلانے والوں اور عیش پسندوں سے نمٹنے کا معاملہ ہم پر چھوڑئیے۔ ان کو اسی حالت پر کچھ دن کوش ہونے دیجئے۔ ہمارے پاس ان کے لئے بھاری بیڑیاں، بھڑکتی آگے، حلق میں پھنس جانے والا کھانا اور المناک عذاب تیار ہے۔ یہ اس دن ہوگا جب یہ مضبوط اور بلند وبالا پہاڑ لرز اٹھیں گے اور ریت کا ڈھیر بن کر بکھر جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین سے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے اس پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے ہدایت کے لئے اسی طرح سیرت طیبہ کا پیکر بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی اصلاح کے لئے (حضرت موسیٰ جیسے) رسول کو بھیجا تھا۔ جب فرعون نے ہمارے رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑے سخت عذاب میں پکڑ لیا ( اور غرق کردیا) فرمایا کہ اگر تم نے ماننے سے انکار کردیا تو اس دن سے تم کیسے بچوگے جس دن کی شدت سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور آسمان بھی لرز اٹھے گا اور پھٹا جا رہا ہوگا۔ اللہ کا یہ وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔ یہ نصحت ہر شخص کے لئے ہے جو اپنے رب تک پہنچنے کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔ سورۃ المزمل کے دوسرے رکوع کے متعلق مفسرین نے فرمایا ہے کہ کافی طویل عرصہ کے بعد یہ رکوع نازل ہوا۔ جب پانچ وقت کی نمازیں فرض کی جاچکی تھیں۔ اسی لئے اس میں پانچ وقت کی نمازوں کی وجہ سے قیام الیل یعنی نماز تہجد کی فرضیت خو ختم کردیا گیا تھا۔ فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کو معلوم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی دو تہائی رات، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات اللہ کی عبادت میں کھڑے رہتے ہیں اور یہی حال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانثار صحابہ کرام (رض) کا بھی ہے۔ دن اور رات میں عبادت کا کتنا ثواب ہے اس کا حساب اور شمار تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ اب یہ سہولت دی جا رہی ہے کہ آسانی کے ساتھ جتنا قرآن پڑھنا ممکن ہو وہ پڑھ لیا کریں۔ اللہ کو معلوم ہے تم میں سے کوئی ضعیف، کمزور اور بیمار ہے۔ کچھ لوگ اللہ کا فضل (تجارت) تلاش کرنے کی جدوجہد میں مشغول ہیں اور کوئی اللہ کے راستے میں جہاد کی تیاری میں مصروف ہے۔ لہٰذا جتنا آسانی سے ہوسکے قرآن کریم پڑھ لیا کرو البتہ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور قرض حسنہ دیتے رہا کرو کیونکہ آدمی اللہ کی رضا کے لئے جو کچھ آگے بھیج دے گا وہ اس کو وہاں (قیامت، آخرت میں) موجود پائے گا۔ اللہ اچھے اعمال کا بہت قدر دان ہے اس پر بہت بڑا اجر بھی عطا فرمائے گا۔ مغفرت بھی کردے گا کیونکہ وہی تو سب سے زیادہ معاف کرنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔

Ayahs 73:1–19

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑوں میں لپٹنے والے۔

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات۔

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کردیا کرو۔

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا آدھی رات سے کچھ بڑھا دیا کرو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کرو۔

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم بہت جلد آپ پر ایک وزنی بوجھ (قرآن مجید) ڈالنے والے ہیں۔

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کا اٹھنا نفس کو پامال کرنے کے اعتبار سے اور بات کے اعتبار سے موثر ہے۔

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بیشک آپ کے لئے دن بھر بہت مشغولیت رہتی ہے۔

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

آپ اپنے رب کے نام کو یاد کرتے رہیے اور اللہ کے سوا سب سے کٹ کر اسی کی طرف توجہ کیجئے۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق و مغرب کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ لہٰذا آپ اپنے ہر کام کے لئے اسی کو اپنا کارساز (وکیل) بنائیے۔

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور یہ (کفار و منافقین) جو کچھ باتیں کر رہے ہیں ان کو برداشت کیجئے اور نہایت متانت و سنجیدگی سے ان سے الگ ہوجائیے۔

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

ان عیش پرست جھٹلانے والوں کے معاملہ کو مجھ پر چھوڑ ئیے ان کو تھوڑی سی دیر اسی حالت پر رہنے دیجئے۔

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے پاس بھاری بھاری بیڑیاں ، جہنم کی آگ،

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

حلق میں پھنس جانے والا کھانا اور دردناک عذاب (تیار ) ہے۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن پہاڑ لزر اٹھیں گے اور پہاڑ اڑتے ہوئے ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) ہم نے تم پر گواہی دینے والا ایک رسول اسی طرح بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

جب اس نے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سختی سے پکڑا۔

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

(منکرین سے فرمایا گیا کہ) اگر تم کفر پر قائم رہے تو اس دن کے (عذاب سے) کیسے بچو گے جو دن بچوں کو بھی بوڑھا کردے گا۔

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

آسمان پھٹ جائے اور اس کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہے گا۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

بیشک یہ (قرآن حکیم ) ایک نصیحت ہے۔ جو چاہیے اپنے رب تک پہنچنے کا ذریعہ بنا لے۔

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة المزل مکہ مکرمہ میں نازل کی جانے والے ان ابتدائی سورتوں میں سے ایک سورت ہے جس کے پہلے رکوع میں ” قیام اللیل “ یعنی نماز تہجد اور اسمیں ٹھہر ٹھہر کر تلاوت قرآن کریم کرنے کو فرض قرار دیا گیا ہے جب کہ دوسرے رکوع میں جو ایک سال کے بعد نازل کیا گیا اسمیں تہجد کو نفل اور مستحب کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ احادیث کی روشنی میں مفسرین نے لکھا ہے کہ جب تک پانچ وقت کی نمازیں فرض نہ کی گئی تھیں اس وقت تک راتوں کو اٹھ کر قیام اللیل فرض تھا جب شب معراج میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کردی گئیں تو نبی کریم ﷺ کی امت کے لئے نماز تہجد نفل بن گئی۔ تہجد کی نماز کے لئے اس تخفیف اور کمی کے باوجود نبی کریم ﷺ نے اس نماز کو ہمیشہ ادا کیا جس کی وجہ سے علمانے فرمایا ہے کہ نماز تہجد امت کے لئے نفل کا درجہ رکھتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ پر فرض ہی رہی۔ بہرحال راتوں کو اٹھ کر اللہ کو یاد کرنا ایک بہت بڑی سعادت اور نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ نماز تہجد کی اہمیت پر بہت سی احادیث میں جن کی روشنی میں علما نے فرمایا ہے کہ راتوں کی تنہائی میں اللہ کا ذکر کرنے سے بہت کچھ عطا کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ راتوں کو عبادت کا اہتمام کیا کرو کیونکہ یہ تم سے پہلے گزرے ہوئے صالحین کا طریقہ، اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ، گناہوں سے دور رہنے کو وسیلہ اور خطاؤں سے بچنے کا طریقہ ہے۔ ایک اور حدیث میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے بندہ سب سے زیادہ اللہ کا قرب رات کے آخری حصے میں حاصل کرتا ہے۔ اگر تم سے ہوسکے تو اس وقت اللہ کی یاد کرنے والوں میں سے ہوجائو۔ ارشادات نبوی ﷺ کا خلاصیہ یہ ہے کہ راتوں کو اٹھنا، اپنے راحت و آرام کی قربانی دینا اور نیند کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت و بندگی کرنا اللہ کے قرب اور رحمت کا ذریعہ ہے اس سے انسانی نفس بھی خوب روندا اور کچلا جاتا ہے۔ یہ وہ سہانا وقت ہے جس میں زبان اور دل کی مواقفقت اور یکسانیت کی وجہ سے روحانی ترقیات، دعاؤں کی قبولیت اور سکون قلب کی دولت عطا کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی راتوں کو اٹھ کر اللہ کا قرب حاصل کرنے اور اپنے نفس اور اس کے بےجا خواہشات کو پامال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ کفار مکہ نے آپ ﷺ کو بدنام کرنے، ستانے اور اذیتیں دینے کے لئے بہت سے توہین آمیز الفاظ گھڑ رکھے تھے۔ کاہن، شاعر، مجنون اور ساحر جیسے الفاط سے پکار کر اپنے بغض و حسد کی آگ کو بجھایا کرتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آپ کا نام لے کر خطاب کرنے کے بجائے آپ کی شان محبوبیت کو ظاہر کرنے کے لئے آپ کو مختلف صفاتی ناموں سے پکارا ہے۔ ” المزمل، المدثر، رئوف، رحیم، طہٰ اور یسین وغیرہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے نام سے پکارا ہے مثلاً ” یا آدم، یا ابراہیم، یا موسیٰ یا عیسیٰ وغیرہ لیکن رسول اللہ ﷺ کو کہیں بھی ” یا محمد “ کہہ کر خطاب نہیں کیا گیا۔ کفار اور اجنبی لوگ آپ کو یا محمد کہہ دیتے تھے مگر صحابہ کرام ؓ میں سے کبھی کسی نے یا محمد کہہ کر نہیں پکارا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو آپ کے صفاتی ناموں سے یاد فرمایا ہے۔ اس سورت میں بھی اللہ نے فرمایا یا یھا المزمل یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ کفار کی باتوں، طعنوں اور گستاکانہ انداز سے آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے یا پہلی وحی کے موقع پر آپ کو شدید گھبراہٹ ہوئی تھی اور اس موقع پر آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے فرمایا تھا کہ ” میرے لئے کمبل لائو “۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اے ہمارے حبیب ؓ ! آپ ان کفارو مشرکین کی باتوں اور طعنوں پر رنجم اور افسوس نہ کریں بلکہ آپ راتوں کو اٹھ کر آدھی رات یا اس سے کم یا اس سے زیادہ رات کے حصے میں اللہ کی عبادت و بندگی کرتے رہیں کیونکہ ابھی تو آپ کو بہت بھاری ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے عظیم اور وزن دار کلام عطا کیا جانے والا ہے۔ فرمایا کہ قرآن کریم جو نازل کیا جا رہا ہے آپ اور آپ کے صحابہ خوب ٹھہر ٹھہر پر ھیں یعنی اس کے الفاظ کی ادائیگی بھی ٹھیک ٹھیک ہو اور اس کے معانی پر بھی پوری طرح غور کیا جائے بلکہ جہاں اللہ کی رحمت کا ذکر ہو وہاں اس سے رحمت مانگی جائے اور جہاں عذاب کا ذکر ہو وہاں عذاب سے پناہ مانگی جائے۔ فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! یہ کفار و مشرکین آپ کے متعلق جو بھی باتیں کرتے ہیں آپ پرواہ نہ کریں۔ ان سب سے الگ اور یکسو ہو کر صرف اس اللہ رب العالمین کی طرف اپنی پوری توجہ رکھئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا، مشرق و مغرب کی ہر سمت کا مالک اور سب کا پروردگار ہے۔ نہایت متانت، سنجیدگی، صبر اور تحمل سے ہر بات کو برداشت کرتے رہیے اور ان عیش پرستوں اور جھٹلانے والوں کے معاماتل کو مجھ پر چھوڑ دیجئے۔ میں خود ان سے نبٹ لوں گا۔ فرمایا کہ ہم نے ایسے لوگوں کے لئے اپنے پاس بھاری بھاری بیٹریاں، جہنم کی آگ، حلق میں پھنس جانے والا ( زقوم کا درخت) کھان اور درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے جس سے بچنا ان کے لئے ممکن ہی نہ ہوگا۔ قیامت کا وہ دن جس میں ان کفار و مشرکین کو عذاب دیا جائے گا وہ ایسا ہیبت ناک دن ہوگا جب مضبوط پہاڑ لرز اٹھیں گے اور ریت کے ٹیلے بن کر ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ البتہ اگر اس ہولناک دن سے پہلے کفار نے اپنے کفر سے توبہ کرلی تو ان کو معاف بھی کیا جاسکے گا۔ نزول قرآن کے وقت موجود اہل مکہ اور قیامت تک آنے والے لوگوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ لوگو ! تمہارے پاس ہم نے ایک ایسے رسول کو بھیجا ہے جو زندگی کے اعلیٰ کردار کے پیکر ہیں بالکل اسی طرح ان کو بھیجا گیا ہے جس طرح فرعون کو راہ ہدایت دکھانے کے لئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون اور آل فرعون کو ہر طرح سمجھایا کہ وہ اپنی خطاؤں سے معافی مانگ کر اور توبہ کرکے نجات کا راستہ اختیار کرلیں لیکن جب انہوں نے حضرت موسیٰ کی بات ماننے سے انکار کیا ان کو جھٹلایا اور طرح طرح سے ستایا تب اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو سمندر میں ڈبو دیا۔ اور اس وقت کوئی اس کی مدد کے لئے نہیں آیا۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان تمام بنی اسرائیل کو نجات عطا فرما دی جنہوں نے توبہ کرکے حضرت موسیٰ کی اطاعت قبول کرلی تھی فرمایا کہ اگر قرا ان کے مخاطب لوگوں نے اپنے کفرو شرک سے توبہ نہ کی تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو فرعون اور قوم فرعون کا ہوا۔ فرمایا کہ وہ دن بہت دور نہیں ہے جب قیامت کا ہولناک دن آئے گا وہ اتنا طویل ہوگا کہ اس دن بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ قرآن کریم کے لئے فرمایا کہ یہ ایک نصیحت اور بھلائی کا راستہ بتانے والی کتاب ہے۔ اب ہر ایک شخص کی اپنی مرضی ہے چاہے تو قرآن حکیم کے احکامات پر عمل کرکے اپنے پروردگار پہنچنے کا ذریعہ بنا لے اور چاہے تو جہنم کی طرف ٹھکانا بنالے۔ انجام دونوں کا بالکل صاف اور واضح ہے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں (صحابہ کرام ؓ میں کچھ لوگ آپ کے ساتھ دو تہائی رات کے قریب کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات تک (اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے) کھڑے رہتے ہیں۔ اور دن رات کا اندازہ تو اللہ ہی لگا سکتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم وقت کا اندازہ کرنے پر قابو نہ پاسکو گے۔ اسی لئے اس نے تم پر توجہ فرمائی۔ اب تم قرآن میں سے جو آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہیں۔ بعض لوگ اللہ کا فضل (رزق) تلاش کرنے کے لئے ملکوں کا سفر کرتے ہیں اور بعض اللہ کی راہ میں جہاد بھی کرتے ہیں تو جس قدر قرآن کا پڑھنا آسان اور سہل ہو تو پڑھ لیا کرو۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دیتے رہو۔ اور تم جو بھی بھلا کام آگے بھیجو گے تو اس کو اللہ کے پاس بہتر اجر کے طور پر پالوگے۔ اللہ سے معافی مانگتے رہو۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔

{ سورة مزمل کے دوسرے رکوع کی تشریح } سورة مزمل کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت قرآن حکیم کو فرض قرار دیا تھا۔ اس دوسرے رکوع میں جو پہلے رکوع کے بعد نازل فرمایا گیا تھا قیام اللیل میں تخفیف اور کمی فرما دی ہے۔ ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کا پروردگار اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ نے اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ نے ہمارے حکم کی تعمیل میں ایک تہائی کبھی دوتہائی اور کبھی آدھی آدھی رات تک ہماری عبادت و بندگی کی ہے۔ لیکن اب قیام اللیل یعنی شب بیداری میں کمی اور تخفیف کی جا رہی ہے۔ تم میں سے جو شخس جس آسانی کے ساتھ قرآن کو (نماز تہجد میں) سہولت کے ساتھ پڑھ سکتا ہو پڑ ھ لیا کرے کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہیں۔ بعض لوگ اللہ کا فضل و کرم ( رزق ، تجارت) کے لئے ملکوں کا سفر کرتے ہیں اور بعض اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں یعنی دین اسلام کے غلبہ کے لئے دن رات جدوجہد کررہے ہیں لہٰذا اب جس قدر قرآن کریم پڑھنا سہل اور آسان ہو وہ پڑھ لیا کریں۔ اوقات میں کمی یا اضافہ کا اندازہ اللہ تعالیٰ کو ہے کیونکہ تمہیں اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کتنے وقت میں عبادت پر کتنا اجرو ثواب عطا فرمائیں گے۔ بس اس نے اپنے بندوں پر توجہ فرمائی ہے جو اس کا سب سے بڑا کرم ہے۔ البتہ تم اللہ کی عبادت و بندگی کرتے رہو اور اللہ کی راہوں میں خرچ کرتے رہو اور اس کی خدمت مین قرض حسنہ پیش کرتے رہو۔ انسان جو بھی بھلا اور بہتر کام کرے گا وہ ضائع نہ ہوگا ہر شخص اس کو اللہ کے پاس جانے کے بعد زبردست اضافہ کے ساتھ پائے گا جو آخرت میں کام آئے گا۔ فرمایا کہ تم اللہ سے معافی مانگتے رہو وہ اللہ بہت مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔