Al-Muzzammil 73:2

Al-Muzzammil · from ayah 2

73:2

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا ۟ۙقُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

— Fateh Muhammad Jalandhari

Arise [to pray] the night, except for a little -

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:2

رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

— مولانا فتح محمد جالندہری

رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم

— مولانا محمد جوناگڑہی

رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہوجایا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

رات میں قیام فرما سوا کچھ رات کے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لئے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

رات کو قیام کر مگر تھوڑا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات (نماز میں) کھڑے رہا کیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رات میں قیام کر مگر تھوڑا حصہ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قیام کرو رات کو مگر (اس کا) تھوڑا سا حصہ

— مولانا اسحاق مدنی

رات کو (نماز میں) کھڑے رہا کیجئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ کھڑے رہا کریں رات کو (نماز میں) سوائے اس کے تھوڑے سے حصے کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

— محترمہ رفعت اعجاز

Stand up in Prayer by night, all but a small part of it;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

stand at night (for prayer) except a little__

— Muhammad Taqi Usmani

stand at night (for prayer) except a little__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Stand (to pray) all night, except a little.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Keep vigil the night long, save a little -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Arise [to pray] the night, except for a little -

— Saheeh International

worship (God) for a few hours at night.

— Muhammad Sarwar

Rise to pray in the night except a little,

— Muhammad Habib Shakir

Stay up the night long save a little -

— Abdul Majid Daryabadi

Stand (to prayer) by night, but not all night,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 73:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16؀) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة الْمُزَّمِّل 2 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رات نماز میں کھڑے رہ کر گزارو اور اس کا کم حصہ سونے میں صرف کرو۔ دوسرا یہ کہ پوری رات نماز میں گزار دینے کا مطالبہ تم سے نہیں ہے بلکہ آرام بھی کرو اور رات کا ایک قلیل حصہ عبادت میں بھی صرف کرو۔ لیکن آگے کے مضمون سے پہلا مطلب ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اسی کی تائید سورة دہر کی آیت 26 سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے و من الیل فاسجد لہ و سبحہ لیلا طویلا، رات کو اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو اور رات کا طویل حصہ اس کی تسبیح کرتے ہوئے گزارو "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

نماز تہجد کے احکام اور ان میں تبدیلی لفظ مزمل اور مدثر خود اس کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ آیات بالکل شروع اسلام اور نزول قرآن کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ اس وقت پانچ نمازیں امت پر فرض نہیں ہوئی تھیں کیونکہ پانچ نمازوں کی فرضیت تو شب معراج میں ہوئی ہے۔ امام بغوی نے حضرت صدیقہ عائشہ وغیرہ کی احادیث کی بناء پر یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی رو سے قیام اللیل یعنی رات کی نماز رسول اللہ ﷺ اور تمام امت پر فرض تھی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں۔ اس آیت میں قیام اللیل یعنی تہجد کی نماز کو صرف فرض ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں کم از کم ایک چوتھائی رات سے مشغول رہنا بھی فرض قرار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–3

قیام لیل کی برکتیں: لفظ ’مُزّمّل‘ میں حضورؐ کی جو فکر مندی اور پریشانی مضمر ہے یہ اس کا علاج بتایا جا رہا ہے اور یہ علاج صرف یہیں نہیں بتایا گیا ہے بلکہ جب جب دعوت کی راہ میں آپ کو پریشانیاں پیش آئی ہیں ان کا یہی علاج آپ کو قرآن نے بتایا ہے اور ہم ہر جگہ اپنے علم کے حد تک اس کی حکمت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں چونکہ اس علاج کی تاثیر اور اس کی قدر و قیمت آگے خود واضح فرما دی گئی ہے اس وجہ سے ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے صرف آیات کی تفسیر پر اکتفا کریں گے جس سے ان شاء اللہ خود یہ بات سامنے آ جائے گی کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیام لیل میں کیا برکتیں ودیعت فرمائی ہیں اور وہ کن پہلوؤں سے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

1۔ 1 جس وقت یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم ﷺ چادر اوڑھے ہوئے تھے اللہ نے آپ کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اب چادر چھوڑ دیں اور رات کو تھوڑا قیام کریں یعنی نماز تہجد پڑھیں کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی بناء پر تہجد آپ کے لیے واجب تھی۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–4

2: اس آیت میں آپ کو تہجد کی نماز کا حکم دیا گیا ہے، اکثر مفسرین کے مطابق شروع میں تہجد کی نماز نہ صرف آنحضرت ﷺ پر ؛ بلکہ تمام صحابہ پر فرض کردی گئی تھی، اور اس کی مقدار کم سے کم ایک تہائی رات مقرر فرمائی گئی تھی، یہ فرضیت بعض روایات کی رو سے سال بھر تک جاری رہی، بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر 20 نازل ہوئی جس نے تہجد کی فرضیت منسوخ کردی جیسا کے اس آیت کی تشریح میں آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔ یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کسی رات اتفاق سے نہ ہو سکے تو معاف ہے اور اکثر مفسرین کے نزدیک " الاقلیلاً " کا مطلب یہ ہے کہ رات کو اللہ کی عبادت میں کھڑے رہو ہاں تھوڑا سا حصہ شب کا اگر آرام کرو، تو مضائقہ نہیں۔ غالباً تھوڑے سے مراد یہاں نصف ہوگا کیونکہ رات جو آرام کے لیے تھی جب آدھی عبادت میں گزار دی تو اس کے اعتبار سے باقی صف کو " تھوڑا " ہی کہنا موزوں تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ۔ } ”اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے ﷺ !“ فداہ آباونا وامّھاتنا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3 عظیم ذمہ داریوں کے لیے ریاضت شب بیداری :۔ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے جس قسم کی ریاضت کی ضرورت ہے اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ رات کو سوتے رہنے کی بجائے رات کا زیادہ حصہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کیجیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت کم سویا کیجیے یا سویا ہی نہ کیجیے۔ بلکہ یہ ہے کہ عبادت میں گزارا ہوا وقت اگر آدھا بھی ہو تو وہ بھی بہرحال زیادہ ہے۔ پھر اس حصہ کی وضاحت بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی۔ کہ رات کا جتنا حصہ آپ ﷺ کو عبادت میں گزارنا چاہیے وہ نصف رات ہونا چاہیے۔ یا نصف رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ۔ یعنی اگر دن رات برابر ہوں۔ تو آدھی رات جاگنا کافی ہے اگر راتیں چھوٹی اور دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ (آپ ان معاندین کے ہفوات کا خیال نہ کیجئے تو جہ حق تعالیٰ ہی کے ذکر و عبادت کی طرف رکھیے) مستند حدیثی روایتوں میں آتا ہے (جو ہر ” تاریخی “ روایت سے مستند تر ہیں) کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں تبلیغ و دعوت کا کام شروع فرمادیا، تو بڑے بڑے ” عقلاء قوم “ نے (آج کل ہی کے عقلاء فرنگ “ کی طرح) آپ ﷺ کے متعلق غور وخوض شروع کیا کہ آپ ﷺ کے دعوے صحیح تو بہرحال ہو ہی نہیں سکتے پھر (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کا اصل مرض ہے کیا، اپنے کمیٹی گھر (دارالندوہ) میں جمع ہوئے اور کسی نے کہا کہ ” یہ کاہن ہوگئے ہیں “ غیب کی خبریں دینا اور سچی پیشگوئیاں کرنا کہانت ہی کا ایک حصہ ہے “۔ بعض نے کہا کہ ” نہیں یہ تو دماغی عارضہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–4

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے کپڑے میں لپٹنے والے نبی ! (مزمل) کی اصل متزمل تھی، تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا، یعنی اس پر وحی کے نازل ہونے کے وقت وحی کی ہیبت کے خوف سے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو قیام کر نماز پڑھ مگر کم، آدھی رات (نصفہٗ ) قلیلا سے بدل ہے اور نصف کا قلیل ہونا پوری رات کے اعتبار سے ہے، یا اس سے یعنی نصف سے، بھی کچھ کم کرلے ثلث رات تک یا اس پر (دو تہائی تک) زیادہ کرلے، او تخییر کے لئے ہے، اور قرآن خوب صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تم پر ایک بھاری کلام قرآن نازل کرنے والے ہیں یعنی با رعب کلام یا شدید، اس لئے کہ اس میں احکام تکلیفیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قم . یعنی نماز پڑھ ‘ قیام سے نماز مراد ہے۔ جزء بول کر کل مراد لیا ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قیام رکن صلوٰۃ ہے یہی اجماعی فیصلہ ہے۔ الیل . رات بھر۔ اللیل ظرف زمان ہے حرف جر (فی) کا حذف بتارہا ہے کہ پوری رات مراد ہے جیسے بولا جاتا ہے : صمت شہرًا میں نے پورے مہینہ کے روزے رکھے لیکن صمت فی الشھر کا یہ معنی نہیں ہے۔ میں نے مہینہ میں روزے رکھے یعنی مہینہ کے بعض حصوں میں۔ الا قلیلا . اس استثناء کی وجہ سے قیام کا حکم رات کے کچھ حصہ میں باقی رہ گیا لیکن استثناء مبہم ہے جس کی وجہ سے اس بات میں بھی ابہام رہ گیا کہ رات کے کتنے حصہ میں قیام کا حکم باقی ہے ‘ اس ابہام کو دور کرنے کے لیے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) محمد رات کو نماز کے لیے کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات یعنی نصف رات یا رات کے دو حصے نماز پڑھا کرو اور قرآن کریم کو خوب صاف صاف ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو یعنی ایک آیت اور دو آیات اور تین آیات یہاں تک کہ قرات پوری کرو۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (الخ) بزاز، طبرانی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص کا کوئی نام تجویز کرو جس سے لوگ بھاگتے ہیں، تو بعض کہنے لگے کہ کاہن ہیں اس پر لوگوں نے کہا کاہن نہیں ہیں تو پھر بعض کہنے لگے کہ مجنوں ہیں اس پر بھی بعض نے کہا کہ مجنوں نہیں ہیں، پھر بعض کہنے لگے کہ ساحر ہیں اس پر بھی لوگ کہنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–4

(1) قم الیل الا قلیلاً …: تھوڑا حصہ چھوڑ کر سایر رات کا قیام کر۔”نصفۃ“ ”الیل“ سے بدل ہے، مگر اس ”الیل“ سے جس میں سے ”قلیلاً“ کا استثنا ہوچکا ہے۔ ”قلیلاً“ کا لفظ چونکہ مجمل ہے، اس لئے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر جس حصے کا قیام کرنا ہے وہ کتنا ہونا چاہیے۔ فرمایا رات کا نصف قیام کریں یا نصف سے کچھ کم کرلیں یا نصف سے زیادہ کرلیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ان آیات کے نزول کے بعد رات کی دو تہائی کے قریب اور رات کے نصف اور رات کی تہائیکے برابر قیام کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”نصف سے کچھ کم“ کا مطلب ثلث اور ”نصف سے زیادہ“ کا مطلب دو ثلث کے قریب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

قلیلا سے کیا مرا ہے ؟ مسئلہ نمبر 6۔ الاقلیلا۔ یہ اللیل سے مستثنی ہے یعنی ساری رات کھڑے ہوں مگر تھوڑا حصہ کیونکہ ساری رات کا قیام ہمیشہ کے لیے ناممکن ہے تو تھوڑے حصہ کو قیام سے خارج کرو تاکہ جسم آرام پائے کسی شے کے قلیل سے مراد نصف سے کم ہے۔ وہب بن منبہ سے یہ منقول ہے کہ قلیل دسویں یاچھٹے حصے سے کم کو کہتے ہیں کلبی اور مقاتل نے کہا، ایک تہائی کو قلیل کہتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ یہ تخفیف تھی کیونکہ قیام کا زمانہ محدود نہ تھا لوگوں نے راتوں کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے پھر اسے علم ان لن تحصوہ سے منسوخ کردیا گیا اخفش نے کہا، نصف سے پہلے او کا لفظ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم نے الدلائل میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کا ایسا نام رکھو جس سے لوگ کوئی نتیجہ اخذ کرسکیں پھر انہوں نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں پھر انہوں نے کہا یہ مجنون ہے تو دوسروں نے کہا یہ مجنون نہیں ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا یہ جادوگر ہے تو دوسروں نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک دوست کو اپنے دوست سے جدا کردیتا ہے تو اس پر مشرک متفرق ہوگئے یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی آپ اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے اور اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُمِ الَّيْلَ : آپ ﷺ کھڑے رہیں رات کے وقت ] [اِلَّا قَلِيْلًا : سوائے تھوڑے (وقت) کے ] ترکیب : (آیت۔ 2) ۔ قُمْ ثلاثی مجرد سے فعل امر ہے، جو کہ لازم ہے، اس کا مفعول نہیں آتا۔ اس لیے اَلَّیْلَ ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–4

﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًاۙ002 نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًاۙ003 اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ یعنی نصف رات قیام کرو یا نصف سے کچھ کم کر دو یا نصف سے کچھ بڑھا دو ۔ نصف سے کم کا مصداق ایک ثلث ہے اور نصف سے کچھ زیادہ کا مصداق دو ثلث ہے اللہ تعالیٰ نے رات کو قیام فرمانے کا حکم دیا اور مقدار وقت میں تین صورتوں کا اختیار دے دیا۔ رات کو قیام کرنے کے ساتھ ہی ﴿ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ بھی فرمایا یعنی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، یوں تو جب بھی قرآن کی تلاوت کی جائے ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کریں اور جلدی جلدی نہ پڑھیں جس سے حروف کٹیں اور معنی مقصود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–3

3:۔ ” قم اللیل “ لفظ ” قلیل “ محاورہ میں نصف سے کم پر بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفلان علی الف درہم الا قلیلا میں قلیلا سے مراد پانچ سو سے کم ہوں گے۔ اب اگر نصفہ کو قلیلا سے بدل بنایا جائے تو یہ ترکیب قلیلا کے مذکور استعمال کے خلاف ہوگی۔ امام نسفی صاحب مدارک نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ (1) نصف کو کل اللیل (تمام رات) کے اعتبار سے قلیل کہا گیا ہے، اس اعتبار سے تینوں صورتیں قلیلا میں داخل ہوجائیں گی۔ نصف، نصف سے کم اور نصف سے زائد۔ (2) نصفہ مستثنی منہ مؤخر ہے اور اللیل سے بدل ہے۔ اور قلیلا مستثنی مقدم ہے اصل میں یوں تھا قم نصف اللیل الا قلیلا من نصف اللیل مگر اس صورت میں تکرار لازم آتا ہے،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

کوائف اور مضامین سورة : اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُـمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا۝ 2 ۙ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–2

ترکیب : المزمل اصلہ المتزمل ادغمت التاء فی الزاء والتزمل التلفف فی الثوب الاقلیلا ھو استثناء من اللیل ای صل اللیل کلہ الایسیرا منہ ومادون النصف القلیل والمرادبہ ھنا الثلث نصفہ فی انتصابہ وجہاں (الاول) ھوبدل من اللیل بدل البعض الاقلیلا استثناء من النصف (والثانی) ھو بدل من قلیلا وقلتہ بالنظر الی الکل وھذا اقویٰ والضمیر فی منہ وعلیہ یرجع ای النصفھی اشد الخ خبران وطاً وتمیز من اشد۔ بکسرالوا وبمعنی مواطاۃ بفتحھا ھواسم المصدروا قوم معطوف علیٰ اشد وقیلا بمعنی قولاً تمیز منہ سبحًا شغلا وتصرفا اسم ان لک فی النھار خبرھا رب المشرق بالجر علی البدل و بالنصب باضماراعنی اوبفعل یفسرہ فاتخذہ وبالرفع علی انہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ ۔ قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیلْ ۔ نِصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۔ اَوْ زِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً ۔ (المزمل : 1 تا 4) (اے چادر میں لپٹنے والے ! رات کو نماز میں کھڑا رہا کیجیے، مگر تھوڑا حصہ۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلیجئے۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلیجئے، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے۔ ) پہلی آیت میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے جس سے آپ ﷺ کی ایک خاص کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس خطاب میں انتہائی دلنوازی اور محبت پائی جاتی ہے۔ مَزَّمِّل کا مفہوم مزمل دراصل متزمل ہے۔ بابِ تفعل میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–4

فہم القرآن ربط سورت : سورة الجن کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو وحی اپنے رسول پر بھیجتا ہے اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کرتا ہے تاکہ اس کی وحی من و عن اس کے رسول تک پہنچ جائے۔ الرّسول ﷺ کے منصب کا پہلا تقاضا ہے کہ رسول اس وحی کو یاد رکھے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یاد رکھنے کے لیے آپ کو تہجد پڑھنے کا حکم ہوا تاکہ ایک طرف آپ کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملے اور دوسری طرف آپ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ پر ضبط کرنے کے عادی ہوجائیں کیونکہ تہجد اس کے آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو آدمی کو اپنی طبیعت پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ چادر اوڑھ کر آرام فرما تھے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا (رات کو نماز کیلئے کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” یایھا المزمل “ یعنی اپنے کپڑے میں لپٹنے والے اور اس کی اصل ” متزمل “ تاء کا زاء میں ادغام کیا گیا ہے اور اس کی مثل مدثر ہے تاء کو دال میں ادغام کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے ” تزمل وتدثر “ بثوبہ جب اس کو اچھی طرح ڈھانپ لے اور سدی (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ اے سونے والے تو کھڑا ہو اور نماز پڑھ۔ حکماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں بہ خطاب نبی کریم ﷺ کو تھا ابتداء وحی میں رسالت کی تبلیغ سے پہلے۔ پھر اس کے بعد آپ (علیہ السلام) کو نبی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خطاب کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–9

1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–3

یہ آپ پر اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا (قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا) رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔ پھر اسکا اندازہ مقرر کردیا، چناچہ فرمایا (نصفہ او انقص منہ) نصف رات یا نصف میں سے بھی (قلیلا) کچھ کم کردیجئے۔ ایک تہائی کے لگ بھگ ہو۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–3

قیام اللیل کا حکم قول باری ہے (یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا، اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم) زرادہ بن اوفیٰ نے سعد بن ہشام سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا ” مجھے حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیے۔ “ انہوں نے فرمایا : ” تم سورة مزمل نہیں پڑھتے۔ “ میں نے عرض کیا۔” پڑھتا ہوں۔ “ انہوں نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں قیام اللیل کو فرض کردیا تھا۔ چناچہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ قیام اللیل کرتے رہے حتیٰ کہ ان سب کے پائوں پھول گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصے کے نزول کو بارہ ماہ تک روکے رکھا پھر اس سورت کے آخری حصے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 ۔ پیغمبر (علیہ السلام) کو قیام لیل کا حکم و ارشاد : سو مزمل کے اس خاص و صف کے ساتھ خطاب کر کے پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ قیام کرو رات کو تہجد کی نماز کے ذریعے، جو کہ شروع میں فرض تھی کیونکہ قم اللیل میں صیغہ امر ہے جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے فرضیت وجوب کے لئے ہی آتا ہے، بعد میں اس کی فرضیت اسی سورة کریمہ کے آخری حصے سے منسوخ ہوگئی، البتہ اس کی سنیت اور استحباب اب تک اور ہمیشہ کے لئے باقی ہے (کما ھو قول الجھمور) بہرکف رات کے اس قیام میں روحانی قوت اور ترقی کے لئے ایک خاص تاثیر ہے اس لئے اس کا حکم دیا گیا اور اس سے دراصل حضور ﷺ کو اس فکر مندی اور پریشانی کا علاج ارشاد فرمایا گیا ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 اس سے معلوم ہوا کہ ابتدا میں آنحضرت پر تہجد کی نماز فرض تھی جیسا کہ سورة اسراء کی آیت 79 کے تحت بیان ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:2) قم الیل : قم ، قوم قومۃ وقامۃ (باب نصر) مصدر سے فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے بمعنی تو کھڑا ہواکر۔ نماز (نفل) پڑھا کر۔ الیل مفعول فیہ۔ رات بھر ۔ ساری رات۔ الا قلیلا : الا حرف استثناء قلیلا مستثنیٰ ۔ ای یسرا منہ، اس سے تھوڑا کم۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

نماز تہجد کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ ہوا کہ نبی ﷺ ابتدائے زمانہ وحی مین رات کو اپنے کپڑے میں نماز کے لیے لپٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ کو اسی کملی کے ساتھ خطاب فرمایا کہ رات کو نماز میں مشغول رہو، خدا کی عبادت میں کھڑے رہو مگر تھوڑی رات کہ اس میں مشغول نہ رہو، پھر اس کا بیان کیا کہ آدھی رات کھڑے ہوکر عبادت کرو یا اس آدھی رات سے بھی کم کرلو، یعنی تہائی رات مشغول عبادت رہو، یا آدھی سے کچھ زائد کرو یعنی دوتہائی عبادت کرو، غرض حضور ﷺ کو ان سب باتوں میں اختیار دیا ہے کہ خواہ قیام نصف شب سے کم ہو یا نصف شب یا اس سے زیادہ ہو، مراد اس قیام سے تہجد ہے، جو ابتداء اسلام میں واجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[2] جس وقت ان آیات کا نزول ہوا نبی ﷺ چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ ﷺ کی اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب آپ ﷺ پاؤں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ ﷺ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

سورة المزمل 1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رات کو نماز میں کھڑا رہ مگر رات کا وہ کم حصہ ۔ 2 (قم الیل) رات کو کھڑا رہ۔ خالی اس حکم سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ساری رات کھڑا رہ لیکن (الا قلیلاً ) نے اس خیال کو زد کردیا اور بتا دیا کہ رات کو کھڑا رہ مگر تھوڑا سا گویا نہ ساری رات اور نہ آدھی رات بلکہ رات کا کچھ حصہ خواہ وہ کتنا ہی کم ہو اور دوسری بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ قیام کرنا اصل مقصود ہے کیونکہ قیام ہی انسان کو چوکنا رہ کر جاگنے پر مجبور کرتا ہے اور اس طرح اونگھ اور کسل کم ہوتا ہے اور توجہ خوب لگتی ہے اور جو مقصد ہے جاگنے کا وہ اس طرح پورا ہوتا ہے اور ابھی بھی تھوڑے کی مقدار کا تعیین نہیں ہوتا کہ وہ تھوڑا حصہ کیا ہے ؟ اس لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

Injunctions Pertaining to salat-ut-Tahajjud and its Abrogation Reading into the titles muzzammil and muddaththir a consensus of scholarly opinion assigns the revelation of this Surah to the earliest period when the five daily prayers had not become obligatory. They were prescribed on the night of Holy Prophet's ﷺ Ascent to heavens. [ mi` raj ]. Imam Baghawl (رح) ، says, on the basis of Ahadith reported by Sayyidah ` A'ishah Siddigah ؓ and others, that 'night-prayer' was compulsory for the Holy Prophet ﷺ and the entire Muslim community until the five prayers were not prescribed. This verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

2 This can have two meanings: (1) "Pass the night standing up in the Prayer and spend only a little of it in sleep"; and (2) "there is no demand from you to pass the whole night in the Prayer, but have rest as well and spend a little part of the night in worship too." But in view of the theme that follows the first meaning seems to be more relevant, and the same is supported by Ad-Dahr: 26, in which it has been said: "Prostrate yourself before Him in the night and glorify Him during the long hours of night."

Read the full tafseer →