73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑوں میں لپٹنے والے2

Ayah 73:2

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

قیام کرو رات کو مگر (اس کا) تھوڑا سا حصہ

2 ۔ پیغمبر (علیہ السلام) کو قیام لیل کا حکم و ارشاد : سو مزمل کے اس خاص و صف کے ساتھ خطاب کر کے پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ قیام کرو رات کو تہجد کی نماز کے ذریعے، جو کہ شروع میں فرض تھی کیونکہ قم اللیل میں صیغہ امر ہے جو کہ اپنی اصل کے اعتبار سے فرضیت وجوب کے لئے ہی آتا ہے، بعد میں اس کی فرضیت اسی سورة کریمہ کے آخری حصے سے منسوخ ہوگئی، البتہ اس کی سنیت اور استحباب اب تک اور ہمیشہ کے لئے باقی ہے (کما ھو قول الجھمور) بہرکف رات کے اس قیام میں روحانی قوت اور ترقی کے لئے ایک خاص تاثیر ہے اس لئے اس کا حکم دیا گیا اور اس سے دراصل حضور ﷺ کو اس فکر مندی اور پریشانی کا علاج ارشاد فرمایا گیا ہے، جو آپ ﷺ کو دعوت حق و ہدایت کے سلسلہ میں اپنی قوم کی ہٹ دھرمی اور ان کے عناد کی بناء پر لاحق تھی اور جو الزمل کے لفظ کے اندر مضمر ہے اور یہ علاج صرف یہیں نہیں بتایا گیا، بلکہ دعوت و تبلیغ حق کی اہ میں جب بھی پریشانی لاحق ہوئی، قرآن حکیم میں آپ ﷺ کو ہر جگہ یہی علاج بتایا گیا، سو مومن کے لئے قدرت نے قیام اللیل میں عظیم الشان برکات رکھی ہیں اور ایسی کہ وہ اس کی صرف شدہ قوتوں کی بحالی اور اس کے عزم و ایمان کو مضاعف کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف المزمل کے نہایت ہی شفقت و پیار بھرے اور دلنواز وصف کے ساتھ خطاب کر کے پیغمبر کو وہ طریقہ تعلیم و تلقین فرمایا گیا ہے جو درد و غم اور الم و اضطراب کے اس دور میں آپ کے لئے آپ کی شان اور آپ کے مرتبہ و مقام کے لائق آپ کے اندر قوت و عزیمت پیدا کرے جو اس وقت کے حالات سے عہدہ برآٓ ہونے اور اپنی عظیمالشن اور بھاری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے ضروری تھی۔ سو اس سورة کریمہ کے ذریعے پیغمبر کی حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے حوصلہ افزائی بھی فرمائی گئی اور ساتھ ہی وہ نسخہ بھی بتادیا گیا جو حوصلہ کو بلند کرنے اور کمر ہمت کو مضبوط رکھنے کے لئے اصل اور حقیقی ذریعہ اور نہایت کیمیاء اثر نسخہ ہے۔ وباللہ التوفیق ملا یحب ویریدو علی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من اعواطن فی الحیاۃ 3 رات کے تھوڑے سے حصے میں آرام کی اجازت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ رات کو قیام کرو مگر اس کا تھوڑا سا حصہ، کہ وہ آرام میں صرف کرو اور رات کے قیام میں کافی طویل وقت صرف ہونا چاہئے، آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور اتنا ہو کہ ایک ثلث سے کم نہ ہو اور دو ثلث سے زیادہ نہ ہوتا کہ اس طرح روحانی قوت کا سامان بھی پورے طریقے سے ہو سکے اور نفس کے حق کی ادائیگی بھی، رات سے یہاں پر مراد ظاہر ہے کہ رات کا آخری حصہ ہے جس کی وضاحت آگے ناشتہ اللیل کے لفظ سے ہو رہی ہے۔ یہی وقت اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ برکت والا بھی ہے اور یہی نبی اکرم ﷺ کے عمل سے بھی یہی ثابت ہے، یہ وقت نصف شب بھی ہوسکتا ہے اور اس سے کچھ کم بھی اور کچھ زیادہ بھی اور رات کے پچھلے حصے میں نیند سے اٹھنا چونکہ ایک بڑا کھٹن کام ہوتا ہے جس کی بناء پر دیر سویر ہوجانے کا امکان ہے اس لئے وقت کے معاملہ میں اس میں وسعت اور گنجائش رکھی گئی، تاکہ یہ معاملہ زیادہ مشقت کا موجب نہ بنے، الفاظ قرآنی سے اگرچہ پوری نصف شب کے قیام کا اولی ہونا ظاہر ہوتا ہے، لیکن کمی بیشی کی گنجائش بہرحال الفاظ میں موجود ہے، وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 73:3

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرو

4 ۔ قلیل سے مراد آدھی رات : سو ارشاد فرمایا گیا نصفہ یعنی آدھی رات اور یہ بدل ہے قلیلاً سے، یعنی رات کا وہ تھوڑا سا حصہ جس میں آرام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس سے مراد آدھی رات ہے اور یہ کمیت کے اعتبار سے اگرچہ قیام والے حصے کے برابر ہے مگر کیفیت اور حقیقت کے اعتبار سے اس کے مقابلے میں یہ بہت کم ہے کہ اس قیام والے حصے کی بوجہ اس کے معمور بالذکر ہونے کے عظمت اور شان بہت بڑی ہے بمقابلہ اس آدھے حصے کے جو کہ قیام اور ذکر کی برکتوں سے خالی ہوتا ہے، اسی فرق کی بناء پر یہاں پر قم نصف اللیل کی مختصر تعبیر کی بجائے قم اللیل الا قلیلاً الخ کا پیرا یہ اختیار فرمایا گیا ہے کہ یہ عظیم نکتہ اس سے پہلے بیان میں نہیں آسکتا، (جامع البیان، بیان القرآن وغیرہ) سو وقت وہی وقت ہے جو اس کی یاد دلشاد سے معمور و آباد ہو، وباللہ التوفیق پس کیا زندگی ہوئی ان بدبختوں کی جو عمر بھر کفر و ضلالت کے اندھیروں میں ڈوبے، اور اس کی یاد کے شرف سے محروم رہے اور جو راتوں کو اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی سے معمور و آباد کرنے کی بجائے شراب و کباب اور طرح طرح کی رنگ رلیوں اور معاصی وذنوب کی دلدلوں اور اندھیروں میں گذارتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین 5 آدھی رات سے بھی کچھ کم کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا یا اس سے بھی کچھ کم کرو : یعنی اس نصف سے بھی کم، اس سے مراد ایک ثلث (تہائی) ہے، جیسا کہ اس سورة کریمہ کے دوسرے حصے میں ارشاد فرمایا گیا ہے، وثلثہ سو یہ اسی تیسیر اور تسہیل کی تفصیل ہے جو تہد کی اس عظیم الشان نماز کے اوقات کے بارے میں دی گئی، جیسا کہ اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گزرا سو قیام الیل کے وقت کی اس تفصیل سے واضح فرما دیاگ یا کہ یہ ایک تہائی سے کم نہ ہو اور دو تہائی سے زیادہ نہ ہو کم سے کم وقت ایک ثلث اور زیادہ سے زیادہ دو ثلث ہونا چاہئے، (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) بہرکیف رات کے پچھلے پہر میں اٹھنا چونکہ نفس پر بڑا شاق ہے۔ اس میں دیر سویر کے ہوجانے کا بہرحال امکان بلکہ قوی خدشہ و امکان رہتا ہی اس لئے وقت کے معاملے میں اس بارے وسعت رکھی گئی تاکہ معاملہ زیادہ مشقت کا باعث نہ بن جائے۔ قرآن حکیم کے الفاظ سے اگرچہ اولی اور افضل یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری نصف شب ہو لیکن الفاظ میں کمی بیشی کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس پر کچھ بڑھا دو اور قرآن کو (بہرحال) خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

6 یا آدھی ات سے کچھ زیادہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا یا اس پر کچھ بڑھا دو ۔ یعنی اس نصف پر کچھ بڑھا دو ، جس سے وہ دو ثلث ہوجائے جیسا کہ بعد میں فرمایا گیا ادنی من ثلثی اللیل پس قیام الیل تو فرض تھا مگر اس کے وقت کی مقدار میں تین صورتوں میں اختیار دیا گیا نصف شب ثلث شب اور ثلثی لیل یعنی آدھی ات یا ایک تہائی یا دو تہائی شب (بیان القرآن، روح، کبیر اور مراغی وغیرہ) ۔ سو اوقات قیام کے بارے میں تو اختیار دیا گیا کہ خواہ وہ آدھی رات ہو یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ لیکن اسلوب کلام اور انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ترجیح آدھی رات ہی ہے کہ اسی کو معیار اور مدار قرار دے کر اسی پر کمی بیشی کا اختیار دیا گیا۔ وباللہ التوفیق لمایحث ویریدو علی مایحب ویرید وہوالہادی الی سواء السبیل۔ 7 ۔ قرآن ترتیل سے پڑھنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر قرآن کو کہ یہ اس میں تفکر و تدبر کے زیادہ لائق ہے جو کہ اس کے اہم مطالب و مقاصد میں سے ہے، سو اس سے تہجد میں قرآن پڑھنے کا طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نماز میں قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے، چناچہ روایات میں وارد ہے کہ حضور ﷺ ایک ایک آیت اور ایک ایک حکم و ارشاد پر وقف فرماتے تھے اور کبھی شدت تاثر کی بناء پر ایک ہی آیت بار بار دوہرایا کرتے تھے۔ جہاں کوئی آیت اللہ تعالیٰ کے قہر اور غضب کی ہوتی وہاں اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے پناہ مانگتے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی آیت ہوتی وہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور اس سے اس رحمت کا سوال کرتے۔ چناچہ حذیفہ بن یمان روایت کرت ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضور کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ کی قراءت کا انداز یہ تھا کہ جہاں کہیں تسبیح کا موقع آتا وہاں آپ تسبیح فرماتے۔ جہاں دعا کا موقع ہوتا وہاں آپ دعا مانگتے اور جہاں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا موقع آتا وہاں پر آپ اللہ سے پناہ مانگتے (مسلم ۔ نسائی)
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

یقینا ہم آپ پر ایک بڑی بھاری بات (کا بوجھ) ڈالنے والے ہیں

8 قیام اللیل کے مقصد عظیم کی طرف اشارہ : سو قیام اللیل کے اس حکم و ارشاد کے مقصد عظیم کی طر اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یقیناً ہم آپ پر ایک بڑی بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ یعنی قرآن مجید، جو کہ ملک الملوک احکم الحاکمین رب العالمین کا کلام ہے، جس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم اس کو کسی ہپاڑ پر اتار دیتے تو وہ بھی اس کے آگے سرنگوں ہوجاتا، اور پھٹ پڑتا کما قال تعالیٰ " لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ " الایۃ (الحشر :21) اور روایات میں وارد ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ ﷺ کی پیشانی مبارک عرق آلودہ جاتی، اونٹنی پر ہوتے تو وہ بوجھ کے مارے چلنے سے رہ جاتی اور گردن زمین پر ڈال دیتی، وغیرہ وغیرہ، اس لئے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ رات کو اٹھ کر اپنے رب کی عبادت و بندگی میں مشغول رہیں تاکہ اس عظیم کلام اور اس کی بھاری ذمہ داری کے اٹھانے کے قابل ہو سکیں، معلوم ہوا کہ اپنے رب کی عبادت و بندگی خاص کر قیام اللیل کی عبادت انسان کو ایک عظیم قوت سے ہمکنار کرتی ہے۔ فایاک نسال اللھم التوفیق والثبات لماتحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا اجلال والاکرام۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بلا شبہ رات کا اٹھنا (نفس پر قابو پانے کے لئے) بڑا ہی کارگر اور بات کی درستی کے لئے انتہائی موزوں ہے

9 قیام اللیل کی عظمت و اہمیت کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ رات کا اٹھنا دماغ کی یکسوئی اور دلجمعی اور فہم کلام کے لئے بڑا ہی کارگر ہے۔ اس لئے قیام اللیل کی عبادت اور رات کی تنہائیوں میں کی جانے والی تسبیح و تہلیل انسانی قلب و روح کی تقویت کے لئے ایک خاص اثر رکھتی ہے، اللھم شرقنا بہ بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین بہرکیف اس سے قیام اللیل کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ وقت قلب و دماغ کے سکون کے لئے سب سے زیادہ موزوں اور فہم قرآن کے لئے سب سے زیادہ سازگار و مددگار ہے، ناشئہ جو کہ نشاء سے ماخوذ ہے، عاقبتہ اور عافیتہ کی طرح مصدر یا حاصل مصدر ہے، پس ناشئہ اللیل کے معنی قیام اللیل اور شب خیری کے ہوں گے، سو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تہجد کا اصل وقت کچھ سو کر اٹھنے کے بعد کا ہے، یعنی پچھلے پہر کا وقت اس وقت کا اٹھانا اگرچہ بڑا مشکل کام وتا ہے لیکن انسان اگر امتحان میں کامیاب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی شاد دلشاد اور اس کے کلام کو سمجھنے کے لئے اس سے زیادہ بابرکت وقت اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اس مبارک وقت میں جس کو اپنے بستر سے اٹھنے کی توفیق مل جائے اس کو خواہشات نفس پر غلبہ پانے کی ایسی قوت حاصل ہوجاتی ہے جو اس کے لئے اصلاح نفس کی راہ میں فتوحات کے بیشمار دروازے کھول دتی ہے اور اللہ تعالیٰ جو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے شب و روز کے اس پر حکمت اور محیر العقول سلسلہ کو وجود بخشنے والا ہے اس نے رات کے اس حصے کو اپنی رحمتوں کے نزول کے لئے مخصوص فرمایا ہے۔ جن کے دروازے اس کے ان ہی بندوں کے لئے کھلتے ہیں جو اس کی قدر و قیمت پہنچانتے ہیں اور سائل بن کر اس وقت اس کے دروازے پر حاضر ہوتے ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
Ayahs 73:7–8

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بلا شبہ دن (کے اوقات) میں آپ کے لئے بہت کام ہوتا ہے

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور یاد کرتے رہو نام اپنے رب کا اور اسی کے ہو کر رہو سب سے کٹ کر (اور منہ موڑ کر)

10 سبح طویل کا معنی و مطلب ؟ اور ذکر دوام کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ آپ ﷺ کے لئے دن میں بہت کام ہوتا ہے : دین حلق کی تبلیغ و خدمت اور خلق خداوندی کی اصلاح و خیر خواہی کا کام، جس کا دائرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی جائے گا، اس لئے دن کے اوقات میں آپ ﷺ کو وہ یکسوئی میسر نہیں آسکتی، جو کہ رات کی ان گھڑیوں میں صنیب ہوتی ہے، یہ اس آیت کریمہ ا ایک اور مشہور و معروف مطلب ہے، جو عام طور پر لیا جاتا ہے اور جو اس بات پر مبنی ہے کہ " سجا " کے معنی یہاں پر شغل اور کام کے ہیں جبکہ اس کا ایک اور مطلب بعض اہل علم نے یہ مراد لیا ہے کہ آپ کے لئے اے پیغمبر دن کے وقت میں بھی تسبیح کا کافی موقع ہے اور اس کی اساس یہ ہے کہ " سبا " یہاں پر اپنے معروق معنی میں ہے یعنی تسبیح، یعنی شب کی اس نماز کے علاوہ آپ ﷺ کے لئے دن میں بھی تسبیح کا کافی موقع ہے، سو اس کا بھی اہتمام رکھو اور حقیقت نفس الامری بھی یہی ہے کہ حضور دن رات میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مغشول رہتے تھے۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے " کان یذکر اللہ علی کل احیانہ "۔ یعنی " آنحضرت ﷺ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ سو آپ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور آپ کے اس اہتمام ذکر ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ سے صبح سے شام اور شام سے صبح تک ہر حال میں اور ہر کام کے لئے عظیم الشان دعائیں مروی و منقول ہیں جن کے التزام سے دنیاوی امور بھی دین بن جات یہیں اور آدمی کا کوئی دقم بھی اس کے ذکر کے بغیر نہیں اٹھ سکتا اور اس کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے مطلوب ذکر دوام ہے کہ ذکر خداوندی سے سرشاری ہی دراصل زندگی اور روح ہے ورنہ ہلاکت و موت۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مالک ہے مشرق و مغرب کا کوئی معبود نہیں سوائے اس (وحدہ، لاشریک) کے پس تم اسی کو بنائے رکھو اپنا وکیل (اور کار ساز)

11 اللہ ہی کو اپنا وکیل و کار ساز بنانے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح حکم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا پس تم اسی کو اپنا وکیل اور کار ساز بناؤ کہ مشرق و مغرب کی وسعتوں پر محیط اس عظیم کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف، وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر کسی کی اور ہر طرح کی کارسازی وہی اور صرف وہی فرماتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ پس وکیل و کار ساز اسی کو اور صرف اسی کو بناؤ، سبحان اللہ امام الانبیاء افضل خلق اللہ، سیدنا محمد رسول اللہ کو بھی یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وکیل کار ساز اسی اللہ وحدہ لاشریک کو بنئایں، کہ آپ ﷺ بھی باینہمہ عظمت و مرتبت اسی کی کارسازی اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے محتاج ہیں اور جب آپ ﷺ کا بھی حال یہ ہے تو پھر اور کسی ہستی کے لئے اس کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ مافوق الاسباب کسی کی کسی طرح کی حاجت روائی و مشکل کشائی کا دم بھر سکے ؟ یا اس کے لئے کوئی اس طرح کی خوش عقیدگی وابستہ کرسکے ؟ مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج کے کلمہ گو مشرک نے اپنے ایمان و اسلام اور عشق و محبت رسول کے بلند بانگ دعوؤں کے باوصف طرح طرح کے حاجت روا و مشکل قرار دے رکھے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسی پیغمبر اعظم ﷺ کے نام نامی سے شرکیہ کلمات کہتا شرکیہ نعرے لگاتا، اور طرح طرح کے شرکیہ راگ الاپتا ہے، وہ حضرت علی ؓ اور حضرت حسن و حسین ؓ جیسی توحید کی علمبردار پاکیزہ ہستیوں کو مشکل کشا اور حاجت روا مانتا، اور ان کو مدد کے لئے پکارتا ہے، یا علی مدد اور یاحسین جیسے نعرے اعلانیہ لگاتا اور حضرت شیخ جیلانی (رح) کو غوث (فریاد درس) بلکہ غوث الاعظم (سب سے بڑا فریاد رس) قرار دیتا ہے اور اس کے لئے وہ طرح طرح کے بےسروپا اور من گھڑت قصے گھڑتا پھیلاتا اور افسانے تراشتا ہے شیئا للہ جیسے شرکیہ وظائف پڑھتا خواجہ اجمیری پار لگا کشتی میر بہاؤ الحق بیڑا دھک، جیسے شرکیات جپتا اور سہارا پنجتن دا، اللہ نبی وارث، وغیرہ جیسے شرکیہ کتبات آویزاں کرتا ہے، اور پھر بھی دعویٰ ہے کہ میں توحید کا قائل ہوں، کوئی پوچھے ایسے گندم نما جو فروشوں سے کہ پھر شرک اور کس بلا کا نام ہے ؟ کیا اس کے سر پر کوئی سینگ ہوتے ہیں ؟ والعیاذ باللہ العظیم بہر کیف اس ارشاد سے ہدایت فرمائی گئی کہ جو مشرق اور مغرب کا رب اور اس سب کائنات کا خالق ومالک ہے، وہی معبود برحق ہے کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، پس تم اسی کو اپنا وکیل و کار ساز بناؤ، جو وہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اس کے ارادوں میں کوئی مزاحم نہیں ہوسکتا۔ اللھم فخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل خال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم و ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور صبر (و ضبط) ہی سے کام لیتے رہو ان (بدبختوں) کی ان باتوں پر جو یہ (حق اور اہل حق کے خلاف) بناتے ہیں اور چھوڑ دو ان کو اچھی طرح کا چھوڑنا

12 مخالفین کی باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صبر سے کام لو ان باتوں پر جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور چھوڑ دو ان کو اچھی طرح کا چھوڑنا۔ یعنی ایسا چھوڑنا جس میں نہ ان سے الجھنا ہو، نہ ان سے بدلہ و انتقام کی فکر، اور نہ شکوہ و شکایات کی ضرورت، کہ اس طرح کے صبر و ہجران سے ایک طرف تو آپ ﷺ کے اجر وثواب میں اضافہ ہوگا، اور دوسری طرف ان ناہنجار لوگوں سے اللہ خود نمٹ لے گا اور اپنے حکمت بھرے اور بھرپور انداز سے نبھٹ لیگا، واضح رہے کہ چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے ایک چھوڑنا وہ ہوتا ہے جو فضیحت و رسوائی اور لعن طعن کے بعد عناد و انتقا مکہ جذبے کے ساتھ ہو، اس طرح کا چھوڑنا عام دنیا داروں اور اہواء و اغراض کے بندوں کا چھوڑنا ہوتا ہے، والعیاذ باللہ جبکہ حضرات انبیاء رسل اور اخیا و صالحین کا چھوڑنا اس طرح کا نہیں ہونا، ان کی شان اس سے بالکل مختلف اور الگ ہوتی ہے، کیونکہ وہ خلق خدا کی اصلاح کی کوشش کسی ذاتی فائدے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی ہدایت و راہنمائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے کرتے ہیں، اس لئے ان کا چھوڑنا اظہار افسوس کے لئے اور ان لوگوں کی محرومی اور بد انجامی پر صدمے کے طور پر ہوتا ہے۔ اسی طرح کے چھوڑنے کو یہاں پر ہجر جمیل سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور اس طرح کے شریفانہ انداز کے ھوڑنے سے بعض اوقات بڑے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہاں پر پیغمبر کو اس کا حکم و ارشاد فمایا گیا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayahs 73:11–12

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور چھوڑ دو مجھے اور جھٹلانے والے ان ناز پروردہ (عیش پرست) لوگوں کو اور مہلت دے دو ان کو تھوڑی سی

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہمارے پاس (ایسے بدبختوں کے لئے) بڑی بھاری بیڑیاں بھی ہیں اور بھڑکتی آگ بھی

13 ۔ مکذبین کے لیے بڑی سخت تنبیہ و تہدید : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اور مجھ پر چھوڑ دو ان جھٹلانے والے عیش پرست لوگوں کا معاملہ۔ جو اپنی دنیا داری اور عیش پرستی کی بناء پر مست ہوگئے، اور وہ اپنی سرکشی اور اپنے کفر و باطل پر ایسے اڑ گئے، کہ حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ سو ان لوگوں کو اور ان کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو ، میں ان سے خو دنبھٹ لوگوں گا اور ان کو ایسی سزا دوں گا جو ان کے جرائم کے مطابق ہوگی اور جس کے یہ لائق و حقدار ہوں گے اور جس سے بھاگنے اور بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم مطلب یہ کہ ان کے پیچھے لگ کر آپ ﷺ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں، ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں اور پھر دیھیں ان کا حشر کیا ہوتا ہے ؟ نعمتہ کا لفظ تنعم و رفاہیت اور خوش حالی کے لئے آتا ہے۔ سواولی النعمتہ سے مراد رباب تنعم اور خوش حال لوگ ہیں اور یہاں پر مذبین کے بعد اس کی صفت اولی النعمتہ لانے سے دو باتیں ظاہر ہوجاتی ہیں ایک ان کی تکذیب و گمراہی کے اصل سبب کی تشخیص اور اس کی نشاندہی اور دوسرے ان کی بدبختی اور ناشکری۔ سو اس سے واضح فرما دیا کہ ان کی تکذیب کا اصل سبب ان کی خوش حالی ہے۔ جس کی بنا پر یہ لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور دوسری طرف اس سے ان کی بدبختی بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ بجائے اس کے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے۔ یہ الٹا اس کے باغی بن گئے اور اسی خوش حالی کی بنا پر انہوں نے حق کی تکذیب کی اور اس طرح کفران نعمت کا ارتکاب کر کے انہوں نے اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کیا۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ اپنی پناہ میں کھے۔ آمین 14 ۔ مکذبین کی آفت ان کے سروں پر : سو ان بدبختوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور ان کو تھوڑی سی مہلت اور دے دو ۔ یعنی کچھ اور صبر کرو تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں کہ آخرت کا حقیقی اور دائمی عذاب تو ان کے لئے بہرحال ہے ہی، مگر اس سے پہلے بھی جتنا اور جیسا ہماری حکمت اور مصلحت کا تقاضا ہوا یہ اپنا بھگتان بھگتیں گے، جیسا کہ مشرکین مکہ پہلے تو ایک ہولناک قحط سے دوچار ہوئے جو سات سال تک دن پر مسلط رہا، پھر معرکہ بدر کی کمر توڑ اور ذلت آمیز شکست میں ان کے ستر بڑے سردار (صنا دید قریش) جہنم رسید ہوئے اور اتنے ہی اسرو قید کی ذلت میں جکڑے گئے اور ان کی کمر ہمٹ ٹوٹ کر رہ گئی، ان کے غبارے کی ساری ہوا نکل گئی اور ان کا غرور خاک میں مل گیا جبکہ اصل اور بڑا عذاب آخرت میں ہوگا جو کہ بہت بڑا اور بڑا ہی سخت ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون " اور آیت کریمہ کے اسلوب سے یہ بات نکلتی یہ کہ یہ لوگ جو عذاب سے بچے ہوئے ہیں وہ آپ کے وجود رحمت کی بناء پر بچے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جب تک پیغمبر اپنی قوم کے اندر موجود ہوتا ہے اس وقت تک اس قوم پر عذاب نہیں آتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم " الایۃ (الانفال :33) بہر کیف یعنی اللہ ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے، در آنحالیکہ آپ ان کے اندر موجود ہوں بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان عیش پرست مغرور لوگوں سے الگ ہوجائیں ان کی فکر چھوڑ دیں اور ان کا معاملہ ہمارے حوالہ کردیں پھر ان کو اپنا انجام خود معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں اٹکتا کھانا اور ایک بڑا دردناک عذاب بھی

15 ۔ منکرین کے لئے بڑا ہی ہولناک عذاب : والعیاذ باللہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے یہاں (ایسے بدبختوں کے لئے) بھاری بیڑیاں بھی ہیں اور دہکتی بھڑکتی آگ بھی اور گلے میں اٹک جانے والا کھانا بھی اور ہمارے یہاں ان کے لئے ایک بڑا ہی درد ناک عذاب ہے۔ اتنا بڑا اور ایسا درد ناک کہ اس کی ہولناکی کا ادنازہ لگانا بھی کسی کے بس میں نہیں، فیومئذ لایعذب عذابۃ احد ولایوثق وثاقہ احد ٭ (الفجر۔ 26-25) سو جب دنیا میں ہماری بخشی ہوئی رفاہیت سے یہ لوگ اعراض و استکبار میں مبتلا ہوگئے اور اس کے نتیجے میں انہوں نے انکار حق اور تکذیب رسول کے سنگین جرم کا ارتکاب کیا تو یہ یاد رکھیں کہ آخرت میں ہم نے ان کے لئے بڑی ہولناک بیڑیاں دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ، گلے میں اٹک کر رہ جانے والا کھانا اور ایک بڑا ہی درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے، جو ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم انکال نکل کی جمع ہے جس کے معنی بیڑی کے بھی آتی ہیں اور آہنی لگام کے بھی اور دوسرے مقام پر اس بارے سلاسل اور اغلال کے الفاظ آئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 73:14

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس روز کہ لرز اٹھے گی یہ زمین اور (کانپ اٹھیں گے یہ دیو ہیکل) پہاڑ اور (بالآخر) ہوجائیں گے یہ پہاڑ ڈھیر ریگ رواں کے

16 ۔ زلزلہ قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز لرز اٹھے گی یہ زمین یعنی پوری کی پوری زمین باوجود اتنا عظیم الشان کرہ ہونے کے پھر خود سوچو کہ کیا حال ہوگا اس وقت دنیا کا جب کہ یہ اتنا بڑا کرہ اس طرح لزر اٹھے گا، قال تعالیٰ اذا زلزلت الارض زلزالھا (الزلزال -1) سو اس ارشاد سے ان مغروروں اور متکبروں کو اس ہولناک دن کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جس میں ان کو ایسے ایسے ہولناک عذابوں سے واسطہ پڑنا ہے، والعیاذ باللہ العظیم رجفہ کے معنی زلزلہ اور زعزعہ کے ہیں۔ یعنی پے در پے ہلنے اور جھٹکے کھانے کے (روح وغیرہ) سو ایک زلزلہ تو وہ ہوتا ہے جو کسی خاص علاقے اور ملک وغیرہ میں آتا ہے اور ایک زلزلہ قیامت کا وہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک زلزلہ ہوگا جو سب ملکوں شہروں اور پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔ سو جب کسی خاص ملک اور علاقے پر آنے والے زلزلے کے ہول اور اس کی شدت کا یہ حال ہوتا ہے تو پھر اس حادثہ کبری کی ہول اور خوف کا اندازہ ہی کو نکر سکتا ہے جو آسمان و زمین کی اس پوری کائنات پر حاوی اور محیط ہوگا ؟ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین 17 قیامت کے روز پہاڑوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہوجائیں گے اس روز یہ پہاڑ ریگ رواں کے ٹیلے۔ پھر اس کے بعد یہ ہوا میں اڑ جائیں گے، اور یہ زمین چٹیل میداں کی شکل اختیار کرلے گی، جیسا کہ سورة طہ میں ارشاد فرمایا گیا فیدرھا فاعا صفصفا ٭ لاتری فیھا عوجا ولا امتا (طہ 106- 107) سو سورة طہ کی ان آیات کریمات میں پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان لوگوں سے جو کہ پہاڑوں کے بارے میں اس طرح کے سوالات کرتے ہیں ان سے کہو کہ اس روز میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایک ایسا ہموار اور چٹیل میدان بنا کر رکھ دے گا کہ تم اس میں نہ کوئی بل دیکھ سکو گے اور نہ کسی طرح کی کوئی سلوٹ اور جب اس دن ان دیوہیکل پہاڑوں کا حال یہ ہوگا تو پھر ان محلوں کا حال کیا ہوگا جن پر آج یہ دنیا پرست پھولے نہیں سماتے اور اپنی اس مادی ترقی کو یہ لوگ بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم سو اس یوم عظیم میں یہ سب کچھ مٹ مٹا کر ختم ہوجائے گا اور ایک نیا جہاں نئے قوانین کے تحت قائم ہوگا۔
Ayah 73:15

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بلا شبہ ہم نے بھیج دیا تمہاری طرف (اے لوگو ! ) ایک عظیم الشان رسول گواہ بنا کر تم پر جس طرح کہ (اس سے پہلے) ہم فرعون کی طرف بھی بھیج چکے ہیں ایک عظیم الشان رسول

18 ۔ پیغمبر کے شاہد ہونے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان رسول بھیجا تم لوگوں پر شاہد بنا کر، جو کہ اس دنیا میں اپنی شہادت حق سے حق کو واضح کر دتا ہے اور پھر وہ قیامت کے دن اپنی امت کے بارے میں گواہی دیگا، اور گواہ کے لئے ہر جگہ خود موجود ہونا اور اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری نہیں ہوتا جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے، بلکہ گواہی کے لئے یقینی علم کا ونا ضروری ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی ذریعے سے حاصل ہو، جیسا کہ ہم لوگ جنت، دوزخ، آخرت، قیامت اور اس کے مختلف مناظر وغیرہ سب کی گواہی دیتے ہیں، مگر ان حقائق کے خود دیکھنے یا وہاں بطور خود وہاں پر حاض رو موجود ہونے اور مشاہدہ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ورنہ یہ ایمان بالغیب رہے گا ہی کہاں، پس اہل بدعت کا اس جیسی آیات کریمہ اور ان میں وارد اس لفظ (شاہد) سے حاضر و ناظر کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے دلیل کشید کرنا باطل و مرود ہے، والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہاری طرف اے لوگو ایک عظیم الشان رسول کو شاہد بنا کر بھیج دیا جو تمہارے لئے حق کی شہادت دے رہا ہے اور جن کی پیش فرمودہ تعلیمات و ہدایات کے بغیر دولت حق کا ملنا ممکن نہیں۔
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر فرعون نے (بھی جب) بات نہ مانی اس رسول کی تو ہم نے اس کو پکڑا ایک سخت (بھاری اور ہولناک) پکڑ میں

19 فرعون کے ہولناک انجام کا حوالہ و ذکر برائے عبرت پذیری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا پھر فعون کو رسول کی تکذیب و معصیت کے بعد اگرچہ ایک لمبے عرصے تک ڈھیل ملی، مگر آخر کار اللہ نے اس کو پکڑا اور ایسی سخت پکڑ میں پکڑا کہ وہ دنیا کے لئے ہمیشہ کا ایک نمونہ عبرت بن گیا۔ پس تم لوگ بھی اگر تکذیب حق کے اس جرم سے باز نہ آئے، تو اے دور حاضر کے کافر اور منکرو تو وہ تمہیں تو اسی طرح کے کسی عذاب میں پکڑ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عام و بےلاگ اور سب کے لئے یکساں اور ایک برابر ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد میں منکرین کے لئے فرعون کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین ہے۔ " فھل من مذکر " ؟ سو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ سو منکرین و مذبین کی تنبیہ و تذکیر کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان رسول بھیجا جس طرح کہ ہم اس سے پہلے فرعون کی طرف بھی ایک رسول بھیج چکے ہیں۔ مگر فرعون نے ہمارے اس رسول کی نافرمانی ہی کی جس کے نتیجے میں آخر کار ہم نے اس کو پکڑا ایک بڑی ہی سخت پکڑ میں، ایسی پکڑ کر اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال کہیں نہیں مل سکتی۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

پھر (دنیا میں اگر تم بچ بھی گئے تو) کیسے بچو گے تم اس دن (کی پکڑ سے) جو کہ (اپنی ہولناکی کے باعث) بچوں کو بوڑھا کر دے گا ؟1

20 ۔ منکرین و مکذبین کو قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاد دھانی : سو منکرین کو خطاب کر کے ان سے ارشاد فرمایا گیا کہ آج اگر تم لوگ اے منکر و عذاب سے بچ بھی گئے تو کیا ؟ آخرت کا عذاب تو تمارے لیے مقرر رہی ہی ؟ اس نے تو اپنے وقت پر تم پر بہرحال آ کر رہنا ہے۔ اس غفور رحیم رب کریم کی گرفت و پکڑ سے، بوجہ اس کے حلم بےپایاں اور کرم بےنہایت کے، سو کیا یہ تمہارے لیے بہرحال کوئی خوشی کا سامان نہیں۔ کیونکہ آج اگر تمہاری پکڑ نہیں ہو رہی، تو اس سے تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری گرفت و پکڑ کبھی ہوگی ہی نہیں، سو ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ اس کی شان عدل و انصاف اور اس کی حکمت کے تقاضوں کے لخاف ہے، حق کا انکار کرنے الوں کو اس کا عذاب بہرحال پہنچ کر رہے گا، دنیا میں اگر ایسے لوگ عذاب سے بچ بھی گئے تو آخرت میں بہرحال نہیں بچ سکیں گے۔ سو اس سے اس غلط فہمی کا ازالہ فرما دیا گیا ہے جو منکرین و مکذبین پر دنیا میں عذاب نہ آنے کی وجہ سے ان کو اور دوسرے ظاہر پرستوں کو لاحق ہو رہی تھی اور آجھی بہت سے مادہ پرست اسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ سو ایسے غفلت شعار خرمستوں کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آج تم لوگ آج عذاب سے بچ بھی گئے تو تم کیسے بچو گے قیامت کے اس ہولناک دن کے عذاب سے جس نے بہر حال آ کر رہنا ہے ؟ اگر تم لوگوں نے ایمان و اطاعت قبول کر کے اپنے آپ کو کفر و شرک کے ان مہیب اندھیروں سے نہ نکالا، والعیاذ باللہ العظیم سو نجات کا واحد راستہ ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی ہے اور بس، پس جو لوگ اس دولت سے محروم رہیں گے والعیاذ باللہ، وہ اگر دنیا میں عذاب سے بچ بھی گئے تو آخرت میں بہرحال نہیں بچ سکیں گے اور اصل عذاب تو آخرت ہی کا عذاب ہے جو کہ بڑا ہی سخت بھی ہے اور ہمیش رہنے والا بھی جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی۔ " ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی " (طہ :127) نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ منکروں کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی عذبا ہے اور آخرت کا عذاب تو یقیناً اس سے کہیں بڑھ کر سخت ہوگا " (الرعد :34) نیز فرمایا گیا کہ آخرت کا عذاب بڑا ہی رسوا کن ہے " ولعذاب الاخرۃ اخزی " (حم السجدۃ :16) والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ہر قدم اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر ہی اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین 21 ۔ قیامت کا یوم عظیم بچوں کو بوڑھا کردیگا۔ سو قیامت کے اس یوم عظیم کی ہولناکی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن بچے بوڑھے ہوجائیں گے یعنی اس کے انتہائی ہول اور خوف کی بنا پر روایات میں ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب کہ حضرت آدم کو حکم ہوگا کہ اپنی اولاد میں سے دو زخمیوں کو نکال کر الگ کردو، جو کہ ایک ہزار میں نو سو ننانوے کے تناسب سے ہوں گے، یعنی ایک ہزار میں صرف ایک شخص جنتی ہوگا، (ابن جریر، ابن کثیر، بخاری و مسلم، جامع البیان، خازن، وغیرہ) سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ عوام کالانعام کی اکثریت کا کسی طرف ہوجانا اس کے حق اور صدق ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ اتنی بڑی اکثریت نے حق سے محرومی کے باعث آخر کا دوزخ میں جانا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم پس مدار عوام کی کثرت و قلت پر نہیں جیسا کہ مغربی جمہوریت کے پجاریوں کا کہنا ہے ہے اور جس طرح کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے۔ بلکہ مدار حق و صدق پر ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس یوم عظیم کی ہولناک کی تصویر پیش فرما دی گئی۔ سو بچوں کو بڑھا بنا دینے کی یہ تعبیر شدت ہول اور اس کی بےپناہی کی تعبیر ہے اور اس طرح کی تعبیر دنیا کی ہر زبان اور محاورے میں پائی جاتی ہے اور خود ہماری زبان اور محاورے میں بھی کہا جاتا ہے کہ حالات کی سختی نے یا فلاں حادثے کی شدت نے مجھے بوڑھا کردیا وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ہر قسم کی شرور و فتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے آمین۔
Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

آسمان اس روز (کی ہولناکی) کی وجہ سے پھٹ پڑے گا اللہ کے وعدے نے بہرحال پورا ہو کر ہی رہنا ہے

22 ۔ یوم قیامت کی شدت کا اثر آسمان پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان اس دن کی ہولناکی کی وجہ سے پھٹ پڑیگا با یہاں پر سبیبہ ہے، جیسا کہ ابن کثیر، صفوۃ التقاسیر، المراغی اور جامع البیان وغیرہ میں ہے اور بعض حضرات نے اس کو ظریفہ مانا ہے یعنی ان کے نزدیک یہاں پر بہ بمعنی فیہ ہے، جیسا کہ حضرت شیخ الہند اور حضرت تھانوی کے ترجموں سے ظاہر ہوتا ہے، جب کہ ان دونوں حضرات کے بعد آنے والے مترجمین نے بالعموم انہی کی پیروی کی ہے، اگرچہ یہ دونوں ہی مطلب صحیح اور درست ہیں لیکن سبیت والے معنی میں زور کلام زیادہ ہے، اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی کو اختیار کیا ہے، والحمد اللہ والعلم عند اللہ تعالیٰ حضرت حسن بصری اور قتادہ سے اس بارہ مروی ہے کہ انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا اے بسبیہ من شدتہ وھولہ (ابن کثیر، جامع البیان، مدارک اور صفوہ وغیرہ) بہرکیف وہ دن بڑا ہی ہولناک دن ہوگا، سو اس کا انکار اور اس سے غفلت و لاپرواہی برتنا بڑے ہی خسارے اور بربادی کا سودا ہے والعیاذ باللہ العظیم سو اس یوم عظیم کی شدت اور ہولناکی سے آسمان پھٹا پڑ رہا ہوگا۔ پس بڑے ہی محروم القسمت اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس یوم عظیم کے منکر اور اس سے غافل ہیں والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین 23 ۔ اہوال قیامت کا ذکر وبیان ایک عظیم الشان ذریعہ اصلاح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ آیتیں تنبیہہ و تذکیر کی عظیم الشان آیتیں ہیں۔ یعنی یہ آیتیں جن میں قیامت کے ان اھوال و احوال کا یہ تذکرہ فرمایا گیا ہے، (جامع البیان، خازن وغیرہ) مطلب یہ کہ عذاب کے آنے سے پہلے تنبیہہ و تذکیر ضروری تھی، تاکہ عذاب کے آنے پر کوئی یہ نہ کہہ سکے مجھے اس کی خبر نہیں تھی، سو وہ تنبیہ کردی گئی اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیج کر حجت تمام کردی، اب کسی کے لئیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں، اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے سو جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کر کے اس کی رحمت و رضوان کا مستحق بن جائے اور جس کا جی چاہے وہ اپنی گمراہی پر اڑا رہے، والعیاذ باللہ اور پھر اس کے انجام کا اتنظار کرے، اللہ تعالیٰ کو ایسے منکروں اور ناشکروں کی بہرحال کوئی پرواہ نہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو اہوال آخرت کا ذکر وبیان اصلاح احوال کے لئے ایک عظیم الشان اور بڑا موثر ذریعہ ہے۔ اسی لئے علمائے کرام نے اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے " التذکرۃ احوال البرزخ والاخرۃ " وغیرہ
Ayahs 73:19–20

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

بلاشبہ یہ (آیتیں) ایک عظیم الشان نصیحت ہے اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے2

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی کے قریب کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی اور آپ کے ساتھیوں میں سے ایک گروہ بھی اور اللہ ہی (ٹھیک ٹھیک) اندازہ رکھتا ہے رات اور دن کا اسے معلوم ہے کہ تم اس کو ٹھیک شمار نہیں کرسکتے اس لئے اس نے تم پر مہربانی فرما دی پس اب تم جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو اللہ کو معلوم ہے کہ یقینا تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے سفر کرتے ہوں گے اللہ کے فضل کی تلاش میں اور کچھ دوسرے لڑتے ہوں گے اللہ کی راہ میں پس تم جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو اور قائم رکھو نماز کو (ہر حال میں) اور دیتے رہو زکوٰۃ (اپنے مال کی) اور قرض دیا کرو اللہ (غنی و بےنیاز) کو اچھا قرض1 اور (ہمیشہ پیش نظر رکھو اس حقیقت کو کہ) جو بھی کوئی نیکی تم آگے بھیجو گے اپنی ہی جانوں کے (بھلے کے) لئے تو اسے تم (یقینا) اللہ تعالیٰ کے یہاں پاؤ گے اس حال میں کہ وہ (بذات خود) کہیں بہتر بھی ہوگی اور اجر (وثواب) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر بھی اور اللہ سے تم لوگ (بہرحال) بخشش مانگتے رہا کرو بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے2

24 ۔ قرآن ایک عظیم الشان اور بےمثال تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ ایک عظیم الشان نصیحت اور یا دہانی ہے اور ایسی عظیم الشان نصیحت کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال اس نیلے آسمان کے نیچے نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ آئندہ کبھی ممکن ہوسکتی ہے، اور ایسی عظیم الشان کہ جو اپنے ماننے والوں اور سچے پیروکاروں کو دنیا و آخرت کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے بہرہ ور کرنے والی ہے، ایسی عظیم الشان کہ اس سے منہ موڑنے الوں کے لئے سعادت و کامیابی کی دوسری کوئی راہ ممکن ہی نہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو " ان ھذہ تذکرۃ " کے اس مختصر سے جملے سے دو اہم اور بنیادی باتیں واضح ہوجاتی ہیں ایک یہ کہ قرآن کی حیثیت تذکیرو یاد دہانی کی ہے۔ یعنی انسان کو اس کے آغاز و انجام اور اس دنیا میں اس کی حیثیت اور اس کے مرتبہ و مقام سے آگاہ کردینا اور یہ کہ اس کے لئے سعادت و کامیابی کی راہ کو سنی ہے اور ناکامی و بدبختی کی راہ کونسی آگے انسان کی مرضی کہ وہ کونسا راستہ اپناتا ہے اور دوسری بات اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ یہ بےنیاز خالق ومالک کا بےنیاز کلام ہے۔ اس کا کام ہے تذکیرو و یادددانی آگے جو کوئی اس کو اپناتا ہے اس کا اپنا بھلا اور جو اس سیم نہ موڑتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم اس کا اپنا نقصان۔ سو اس طرح ہر ایک کو اس کا اپنا صلہ و بدلہ ملے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ 25 ۔ بندے کے لئے آزادی اختیار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اب جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے : کہ اس میں اس کا اپنا اور حقیقی بھلا ہے اور اس سے اعراض برتنے اور منہ موڑنے میں اس کا اپنا خسارہ اور دائمی و حقیقی نقصان ہے، والعیاذ باللہ العظیم کیونکہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے اس کی زندگی ایک بامقصد اور مبارک زندگی بن جائے گی، اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوگا جبکہ اس سے محرومی والعیاذ باللہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم سو اس اشراد سے واضح فرما دیگا کہ بندے کو ارادہ و اختیار کی آزادی حاصل ہے اور یہی اس کا اصل امتحان ہے پس اگر وہ صدق و اخلاص سے قرآن حکیم کی ارشاد وتعلیم فرمودہ راہ حق کو اپنائے گا تو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے اس کو اسی کی توفیق ملے گی کہ ایسوں کے لیے اس کی طرف سے صاف اور صریح وعدہ و ارشاد ہے۔ " فسنیسرہ للیسریٰ " (اللیل :7) اور جو اس سیم نہ موڑ کر اپنی ہوی و ہوس کے مطابق کفر و باطل کی کوئی اور راہ اپنائے گا اس کو اسی کی توفیق ملے گی جیسا کہ ایسوں کے بارے میں اس کا صاف اور صریح طور پر اعلان و ارشاد ہے۔ " فسنیسرہ للعسریٰ " (اللیل :10) وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہیں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین