نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًا ۟ۙنِّصۡفَهٗۤ اَوِ انْقُصۡ مِنۡهُ قَلِيۡلًا
(قیام) آدھی رات (کیا کرو)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Half of it - or subtract from it a little
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًا ۟ۙنِّصۡفَهٗۤ اَوِ انْقُصۡ مِنۡهُ قَلِيۡلًا
(قیام) آدھی رات (کیا کرو)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Half of it - or subtract from it a little
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil
آدھی رات،
(قیام) آدھی رات (کیا کرو)
آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے
رات کا آدھا حصہ، یا آدھے سے کچھ کم کرلو۔
آدھی رات یا اس سے کچھ تم کرو،
آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیں،
آدھی رات (قیام کر) ، یا اس سے تھوڑا سا کم کرلے۔
رات کا نصف حصہ یا اس سے کچھ کم کرلیجئے
آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم کردیے
آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرو
مگر ہاں تھوڑی رات یعنی آدھی رات یا اس سے کچھ کم رکھیے
(یعنی) اس کا آدھا یا اس سے تھوڑا کم کر لیجیے۔
یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم
half of it, or reduce it a little;
__half of it, or make it a little less,
__half of it, or make it a little less,
Half of it or less than that, a little.
A half thereof, or abate a little thereof
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Half of it - or subtract from it a little
(Worship Him) for more or less than half of the night
Half of it, or lessen it a little,
A half thereof, or abate a little thereof,
Half of it,- or a little less,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–9
رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة الْمُزَّمِّل 2 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رات نماز میں کھڑے رہ کر گزارو اور اس کا کم حصہ سونے میں صرف کرو۔ دوسرا یہ کہ پوری رات نماز میں گزار دینے کا مطالبہ تم سے نہیں ہے بلکہ آرام بھی کرو اور رات کا ایک قلیل حصہ عبادت میں بھی صرف کرو۔ لیکن آگے کے مضمون سے پہلا مطلب ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اسی کی تائید سورة دہر کی آیت 26 سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے و من الیل فاسجد لہ و سبحہ لیلا طویلا، رات کو اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو اور رات کا طویل حصہ اس کی تسبیح کرتے ہوئے گزارو "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
نماز تہجد کے احکام اور ان میں تبدیلی لفظ مزمل اور مدثر خود اس کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ آیات بالکل شروع اسلام اور نزول قرآن کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ اس وقت پانچ نمازیں امت پر فرض نہیں ہوئی تھیں کیونکہ پانچ نمازوں کی فرضیت تو شب معراج میں ہوئی ہے۔ امام بغوی نے حضرت صدیقہ عائشہ وغیرہ کی احادیث کی بناء پر یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی رو سے قیام اللیل یعنی رات کی نماز رسول اللہ ﷺ اور تمام امت پر فرض تھی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب پانچ نمازیں فرض نہیں تھیں۔ اس آیت میں قیام اللیل یعنی تہجد کی نماز کو صرف فرض ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں کم از کم ایک چوتھائی رات سے مشغول رہنا بھی فرض قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قیام لیل کی برکتیں: لفظ ’مُزّمّل‘ میں حضورؐ کی جو فکر مندی اور پریشانی مضمر ہے یہ اس کا علاج بتایا جا رہا ہے اور یہ علاج صرف یہیں نہیں بتایا گیا ہے بلکہ جب جب دعوت کی راہ میں آپ کو پریشانیاں پیش آئی ہیں ان کا یہی علاج آپ کو قرآن نے بتایا ہے اور ہم ہر جگہ اپنے علم کے حد تک اس کی حکمت کی وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں چونکہ اس علاج کی تاثیر اور اس کی قدر و قیمت آگے خود واضح فرما دی گئی ہے اس وجہ سے ہم اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے صرف آیات کی تفسیر پر اکتفا کریں گے جس سے ان شاء اللہ خود یہ بات سامنے آ جائے گی کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیام لیل میں کیا برکتیں ودیعت فرمائی ہیں اور وہ کن پہلوؤں سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ 1 جس وقت یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم ﷺ چادر اوڑھے ہوئے تھے اللہ نے آپ کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اب چادر چھوڑ دیں اور رات کو تھوڑا قیام کریں یعنی نماز تہجد پڑھیں کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی بناء پر تہجد آپ کے لیے واجب تھی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2: اس آیت میں آپ کو تہجد کی نماز کا حکم دیا گیا ہے، اکثر مفسرین کے مطابق شروع میں تہجد کی نماز نہ صرف آنحضرت ﷺ پر ؛ بلکہ تمام صحابہ پر فرض کردی گئی تھی، اور اس کی مقدار کم سے کم ایک تہائی رات مقرر فرمائی گئی تھی، یہ فرضیت بعض روایات کی رو سے سال بھر تک جاری رہی، بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر 20 نازل ہوئی جس نے تہجد کی فرضیت منسوخ کردی جیسا کے اس آیت کی تشریح میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔ یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
8 یعنی آدھی رات سے کچھ کم جو تہائی تک پہنچ سکتی ہے یا آدھی سے زیادہ جو دو تہائی تک ہو۔ بقرینتہ قولہ تعالیٰ فیما بعد (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُـثَيِ الَّيْلِ وَنِصْفَهٗ وَثُلُثَهٗ وَطَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ ) 73 ۔ المزمل :20) 9 یعنی تہجد میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کہ ایک ایک حرف صاف سمجھ میں آئے۔ اس طرح پڑھنے سے فہم و تدبر میں مددملتی ہے اور دل پر اثر زیادہ ہوتا ہے اور ذوق و شوق بڑھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3{ نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا۔ } ”یعنی اس کا آدھا یا اس سے تھوڑا کم کر لیجیے۔“ یعنی آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور آدھی رات یا ایک تہائی رات کا قیام کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3 عظیم ذمہ داریوں کے لیے ریاضت شب بیداری :۔ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے جس قسم کی ریاضت کی ضرورت ہے اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ رات کو سوتے رہنے کی بجائے رات کا زیادہ حصہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کیجیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت کم سویا کیجیے یا سویا ہی نہ کیجیے۔ بلکہ یہ ہے کہ عبادت میں گزارا ہوا وقت اگر آدھا بھی ہو تو وہ بھی بہرحال زیادہ ہے۔ پھر اس حصہ کی وضاحت بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی۔ کہ رات کا جتنا حصہ آپ ﷺ کو عبادت میں گزارنا چاہیے وہ نصف رات ہونا چاہیے۔ یا نصف رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ۔ یعنی اگر دن رات برابر ہوں۔ تو آدھی رات جاگنا کافی ہے اگر راتیں چھوٹی اور دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ (کہ سامعین کو ایک ایک لفظ صاف سنائی دے اور سمجھ میں آجائے) قال ابن عباس بینہ تبیینا (جصاص) قال طاؤس بینہ حتی یفھمہ (جصاص) (آیت) ” نصفہ .... قیلا “۔ یہ سب (آیت) ” قلیلا “ اول کی تشریح ہے۔ کل کے مقابلہ میں نصف کو قلیل ہی کہا جائے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ کم وبیش نصف حصہ شب میں آرام کیجئے۔ باقی نصف میں ذکر و عبادت۔ (آیت) ” منہ .... علیہ “۔ ضمیرہ دونوں جگہ (آیت) ” نصفہ “۔ کی جانب ہے۔ یعنی من النصف اوعلی النصف۔ (آیت) ” ورتل القران ترتیلا “۔ ترتیل کے معنی لفظ کو منہ سے صاف طور پر ادا کرنے کے ہیں۔ الترتیل ارسال الکلمۃ من الفم بسھولۃ واستقامۃ (راغب) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے کپڑے میں لپٹنے والے نبی ! (مزمل) کی اصل متزمل تھی، تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا، یعنی اس پر وحی کے نازل ہونے کے وقت وحی کی ہیبت کے خوف سے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو قیام کر نماز پڑھ مگر کم، آدھی رات (نصفہٗ ) قلیلا سے بدل ہے اور نصف کا قلیل ہونا پوری رات کے اعتبار سے ہے، یا اس سے یعنی نصف سے، بھی کچھ کم کرلے ثلث رات تک یا اس پر (دو تہائی تک) زیادہ کرلے، او تخییر کے لئے ہے، اور قرآن خوب صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تم پر ایک بھاری کلام قرآن نازل کرنے والے ہیں یعنی با رعب کلام یا شدید، اس لئے کہ اس میں احکام تکلیفیہ…
Read the full tafseer →نصفہ . یہ اللیل سے بدل ہے جبکہ لیل سے قلیل کا استثناء کرلیا گیا ہو تو گویا بدل کل ہے (بدل بعض نہیں حالانکہ نصف لیل کل لیل کا جزء ہے مگر استثناء کے بعد لیل سے مراد کل لیل نہیں۔ جزء لیل مراد ہے اور وہ جزء باقی بعینہٖ نصف لیل ہے ‘ اسلئے بدل کل ہوگیا) کیونکہ قاعدہ ہے کہ استثناء کے بعد جو حصہ باقی رہتا ہے وہ منطوق کے حکم میں ہوتا ہے (پس استثناء کے بعد کل لیل باقی نہیں بلکہ جزء لیل باقی رہا اور اسی جزء سے نصفہ بدل ہے پس) اصل کلام یوں ہوا کہ رات کے بعض حصہ میں نماز پڑھو ‘ یعنی آدھی رات۔ بعض اہل تفسیر نے نصفہ کو قلیل کا بدل اور بیان قرار دیا ہے۔ مستثنیٰ کی تعیین نصفہ کہنے سے ہوگئی اور استثناء کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) محمد رات کو نماز کے لیے کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات یعنی نصف رات یا رات کے دو حصے نماز پڑھا کرو اور قرآن کریم کو خوب صاف صاف ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو یعنی ایک آیت اور دو آیات اور تین آیات یہاں تک کہ قرات پوری کرو۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (الخ) بزاز، طبرانی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص کا کوئی نام تجویز کرو جس سے لوگ بھاگتے ہیں، تو بعض کہنے لگے کہ کاہن ہیں اس پر لوگوں نے کہا کاہن نہیں ہیں تو پھر بعض کہنے لگے کہ مجنوں ہیں اس پر بھی بعض نے کہا کہ مجنوں نہیں ہیں، پھر بعض کہنے لگے کہ ساحر ہیں اس پر بھی لوگ کہنے لگے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(1) قم الیل الا قلیلاً …: تھوڑا حصہ چھوڑ کر سایر رات کا قیام کر۔”نصفۃ“ ”الیل“ سے بدل ہے، مگر اس ”الیل“ سے جس میں سے ”قلیلاً“ کا استثنا ہوچکا ہے۔ ”قلیلاً“ کا لفظ چونکہ مجمل ہے، اس لئے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر جس حصے کا قیام کرنا ہے وہ کتنا ہونا چاہیے۔ فرمایا رات کا نصف قیام کریں یا نصف سے کچھ کم کرلیں یا نصف سے زیادہ کرلیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ان آیات کے نزول کے بعد رات کی دو تہائی کے قریب اور رات کے نصف اور رات کی تہائیکے برابر قیام کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”نصف سے کچھ کم“ کا مطلب ثلث اور ”نصف سے زیادہ“ کا مطلب دو ثلث کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قلیلا سے کیا مرا ہے ؟ مسئلہ نمبر 6۔ الاقلیلا۔ یہ اللیل سے مستثنی ہے یعنی ساری رات کھڑے ہوں مگر تھوڑا حصہ کیونکہ ساری رات کا قیام ہمیشہ کے لیے ناممکن ہے تو تھوڑے حصہ کو قیام سے خارج کرو تاکہ جسم آرام پائے کسی شے کے قلیل سے مراد نصف سے کم ہے۔ وہب بن منبہ سے یہ منقول ہے کہ قلیل دسویں یاچھٹے حصے سے کم کو کہتے ہیں کلبی اور مقاتل نے کہا، ایک تہائی کو قلیل کہتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ یہ تخفیف تھی کیونکہ قیام کا زمانہ محدود نہ تھا لوگوں نے راتوں کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے پھر اسے علم ان لن تحصوہ سے منسوخ کردیا گیا اخفش نے کہا، نصف سے پہلے او کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم نے الدلائل میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کا ایسا نام رکھو جس سے لوگ کوئی نتیجہ اخذ کرسکیں پھر انہوں نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں پھر انہوں نے کہا یہ مجنون ہے تو دوسروں نے کہا یہ مجنون نہیں ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا یہ جادوگر ہے تو دوسروں نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک دوست کو اپنے دوست سے جدا کردیتا ہے تو اس پر مشرک متفرق ہوگئے یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی آپ اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے اور اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور…
Read the full tafseer →[نِّصْفَهٗٓ: جو اس (رات) کا آدھا ہے ] [اَوِ انقُصْ : یا آپ ﷺ (چاہیں تو) گھٹائیں ] [مِنْهُ قَلِيْلًا : اس (نصف) میں سے تھوڑا سا ] (آیت۔ 3 ۔ 4) قَلِیْلاً کا بدل ہونے کی وجہ سے نِصْفَہٗ حالت نصب میں ہے اور اس میں چہٗ کی ضمیر اَ لَّیْلَ کے لیے ہے۔ اُنْقُصْ مِنْہُ اور زِدْ عَلَیْہِ کی ضمیریں نِصْفَہٗ کے لیے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًاۙ002 نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًاۙ003 اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ یعنی نصف رات قیام کرو یا نصف سے کچھ کم کر دو یا نصف سے کچھ بڑھا دو ۔ نصف سے کم کا مصداق ایک ثلث ہے اور نصف سے کچھ زیادہ کا مصداق دو ثلث ہے اللہ تعالیٰ نے رات کو قیام فرمانے کا حکم دیا اور مقدار وقت میں تین صورتوں کا اختیار دے دیا۔ رات کو قیام کرنے کے ساتھ ہی ﴿ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ بھی فرمایا یعنی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، یوں تو جب بھی قرآن کی تلاوت کی جائے ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کریں اور جلدی جلدی نہ پڑھیں جس سے حروف کٹیں اور معنی مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” قم اللیل “ لفظ ” قلیل “ محاورہ میں نصف سے کم پر بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفلان علی الف درہم الا قلیلا میں قلیلا سے مراد پانچ سو سے کم ہوں گے۔ اب اگر نصفہ کو قلیلا سے بدل بنایا جائے تو یہ ترکیب قلیلا کے مذکور استعمال کے خلاف ہوگی۔ امام نسفی صاحب مدارک نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ (1) نصف کو کل اللیل (تمام رات) کے اعتبار سے قلیل کہا گیا ہے، اس اعتبار سے تینوں صورتیں قلیلا میں داخل ہوجائیں گی۔ نصف، نصف سے کم اور نصف سے زائد۔ (2) نصفہ مستثنی منہ مؤخر ہے اور اللیل سے بدل ہے۔ اور قلیلا مستثنی مقدم ہے اصل میں یوں تھا قم نصف اللیل الا قلیلا من نصف اللیل مگر اس صورت میں تکرار لازم آتا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
کوائف اور مضامین سورة : اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…
Read the full tafseer →نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِيْلًا 3 ۙ نصف نِصْفُ الشیءِ : شطْرُه . قال تعالی: وَلَكُمْ نِصْفُ ما تَرَكَ أَزْواجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ [ النساء/ 12] ، وَإِنْ كانَتْ واحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ [ النساء/ 11] ، فَلَها نِصْفُ ما تَرَكَ [ النساء/ 176] ، وإِنَاءٌ نَصْفَانُ : بلغ ما فيه نِصْفَهُ ، ونَصَفَ النهارُ وانْتَصَفَ : بلغ نصْفَهُ ، ونَصَفَ الإزارُ ساقَهُ ، والنَّصِيفُ : مِكْيالٌ ، كأنه نِصْفُ المکيالِ الأكبرِ ، ومِقْنَعَةُ النِّساء كأنها نِصْفٌ من المِقْنَعَةِ الكبيرةِ ، قال الشاعر : سَقَطَ النَّصِيفُ وَلَمْ تُرِدْ إِسْقَاطَهُ ... فَتَنَاوَلَتْهُ وَاتَّقَتْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
1 ؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو بڑا شوق تھا مگر خدا پاک جسم کی محافظت رکھنے کے لیے آپ کو تمام رات کے جاگنے سے روکتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ ۔ قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیلْ ۔ نِصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۔ اَوْ زِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً ۔ (المزمل : 1 تا 4) (اے چادر میں لپٹنے والے ! رات کو نماز میں کھڑا رہا کیجیے، مگر تھوڑا حصہ۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلیجئے۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلیجئے، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے۔ ) پہلی آیت میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے جس سے آپ ﷺ کی ایک خاص کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس خطاب میں انتہائی دلنوازی اور محبت پائی جاتی ہے۔ مَزَّمِّل کا مفہوم مزمل دراصل متزمل ہے۔ بابِ تفعل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن ربط سورت : سورة الجن کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو وحی اپنے رسول پر بھیجتا ہے اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کرتا ہے تاکہ اس کی وحی من و عن اس کے رسول تک پہنچ جائے۔ الرّسول ﷺ کے منصب کا پہلا تقاضا ہے کہ رسول اس وحی کو یاد رکھے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یاد رکھنے کے لیے آپ کو تہجد پڑھنے کا حکم ہوا تاکہ ایک طرف آپ کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملے اور دوسری طرف آپ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ پر ضبط کرنے کے عادی ہوجائیں کیونکہ تہجد اس کے آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو آدمی کو اپنی طبیعت پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ چادر اوڑھ کر آرام فرما تھے کہ…
Read the full tafseer →3 : نِّصْفَہٗ (آدھی رات) یہ الیل سے بدل ہے اور الا قلیلاً کا استثناء نصفہ سے ہے تقدیر کلام اس طرح ہے قم نصف الیل الا قلیلا من نصف الیل۔ آپ آدھی رات اٹھیں مگر نصف لیل سے تھوڑا۔ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ (یا کم کردو آدھی رات سے) نصف سے کم۔ قراءت : عاصم و حمزہ کے علاوہ نے اَوْ کی وائو کا ضمہ پڑھا ہے۔ قَلِیْلًا (تھوڑا) ثلث لیل تک۔
Read the full tafseer →2 ۔” قم اللیل “ یعنی نماز کے لئے ۔ ” الا قلیلا “ اور رات کا قیام (تہجد) فرض تھی ابتداء میں پھر اس کی مقدار بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
یہ آپ پر اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا (قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا) رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔ پھر اسکا اندازہ مقرر کردیا، چناچہ فرمایا (نصفہ او انقص منہ) نصف رات یا نصف میں سے بھی (قلیلا) کچھ کم کردیجئے۔ ایک تہائی کے لگ بھگ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قیام اللیل کا حکم قول باری ہے (یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا، اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم) زرادہ بن اوفیٰ نے سعد بن ہشام سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا ” مجھے حضور ﷺ کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیے۔ “ انہوں نے فرمایا : ” تم سورة مزمل نہیں پڑھتے۔ “ میں نے عرض کیا۔” پڑھتا ہوں۔ “ انہوں نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں قیام اللیل کو فرض کردیا تھا۔ چناچہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ قیام اللیل کرتے رہے حتیٰ کہ ان سب کے پائوں پھول گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصے کے نزول کو بارہ ماہ تک روکے رکھا پھر اس سورت کے آخری حصے…
Read the full tafseer →4 ۔ قلیل سے مراد آدھی رات : سو ارشاد فرمایا گیا نصفہ یعنی آدھی رات اور یہ بدل ہے قلیلاً سے، یعنی رات کا وہ تھوڑا سا حصہ جس میں آرام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس سے مراد آدھی رات ہے اور یہ کمیت کے اعتبار سے اگرچہ قیام والے حصے کے برابر ہے مگر کیفیت اور حقیقت کے اعتبار سے اس کے مقابلے میں یہ بہت کم ہے کہ اس قیام والے حصے کی بوجہ اس کے معمور بالذکر ہونے کے عظمت اور شان بہت بڑی ہے بمقابلہ اس آدھے حصے کے جو کہ قیام اور ذکر کی برکتوں سے خالی ہوتا ہے، اسی فرق کی بناء پر یہاں پر قم نصف اللیل کی مختصر تعبیر کی بجائے قم اللیل الا قلیلاً الخ کا پیرا یہ اختیار فرمایا گیا ہے کہ یہ عظیم نکتہ اس سے پہلے بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 12 مطلب یہ ہے کہ آدھی رات عبادت کیجیے اور آدھی رات سویئے یا دو تہائی رات عبادت کیجیے اور تہائی رات سویئے۔ علی ہذا القیاس چناچہ آنحضرت اور آپ کے ساتھ بعض صحابہ انہی مختلف مقداروں میں تہجد کی نماز پڑھا کرتی تھے۔ یہ حکم جیسا کہ صحیحین اور سنن کی کتابوں) میں حضرت عائشہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے …ایک سال تک رہا۔ اگلے سال جب اسی سورة کی آخری آیات نازل ہوئیں تو اس میں تخفیف کردی گئی۔ (شوکانی)13 یعنی اس طرح کہ ہر ایک طرف کا الگ الگ پتا چلے اور پڑھتے وقت قرآن کا مفہوم بھی ذہن میں آئے حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ ہر آیت پر قطع (وقف) فرماتیت ہے۔ متعدد احادیث میں قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت…
Read the full tafseer →(73:3) نصفہ : مضاف مضاف الیہ۔ اس کا نصف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الیل کی طرف راجع ہے۔ نصفہ بدل ہے من الیل سے۔ بدیں وجہ منصوب ہے۔ اوانقص منہ قلیلا : او بمعنی یا۔ منہ ای من نصف الیل، نصف رات سے۔ انقص فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ نقص (باب ضرب) مصدر۔ تو کم کر۔ قلیلا مفعول انقص کا تھوڑا ساکم۔ یا اس سے تھوڑا سا کم کرو۔ یعنی نصف شب سے بھی تھوڑا سا کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نماز تہجد کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ ہوا کہ نبی ﷺ ابتدائے زمانہ وحی مین رات کو اپنے کپڑے میں نماز کے لیے لپٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ کو اسی کملی کے ساتھ خطاب فرمایا کہ رات کو نماز میں مشغول رہو، خدا کی عبادت میں کھڑے رہو مگر تھوڑی رات کہ اس میں مشغول نہ رہو، پھر اس کا بیان کیا کہ آدھی رات کھڑے ہوکر عبادت کرو یا اس آدھی رات سے بھی کم کرلو، یعنی تہائی رات مشغول عبادت رہو، یا آدھی سے کچھ زائد کرو یعنی دوتہائی عبادت کرو، غرض حضور ﷺ کو ان سب باتوں میں اختیار دیا ہے کہ خواہ قیام نصف شب سے کم ہو یا نصف شب یا اس سے زیادہ ہو، مراد اس قیام سے تہجد ہے، جو ابتداء اسلام میں واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[2] جس وقت ان آیات کا نزول ہوا نبی ﷺ چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ ﷺ کی اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب آپ ﷺ پاؤں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ ﷺ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة المزمل 1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…
Read the full tafseer →(3) جو نصف رات ہو یا اس نصف سے بھی کچھ کم کردیا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…
Read the full tafseer →آدمی رات یا اس سے بھی کچھ وقت کم ۔ 3 زیر نظر آیت نے (الا قلیلاً ) کی مزید وضاحت کردی کہ اس جگہ (قلیلاً ) سے مراد ہے آدھی رات یا آدھی رات سے بھی کچھ کم گویا جتنا وقت جاگنے کے لئے اور قیام کے لئے طبیعت کی حاضری رہے کیونکہ قیام کا اصل مقصد طبیعت کی حاضری ہی سے ہے تاکہ اس کائنات میں غور و فکر کر کے توحید الٰہی کے دلائل کو یکسر طبیعت میں حاضر کیا جائے اور زندگی کے مقصود کو حاصل کرنے میں کامیابی ہو تاکہ انسانی زندگی حیوانی زندگی سے مکمل طور پر تمیز حاصل کر جائے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طبیعت کے مطابق کم یا زیادہ جاگنے کا حکم دے دیا کہ آپ اپنے اختیار سے جتنا چاہیں اور جتنا آسان رہے اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Injunctions Pertaining to salat-ut-Tahajjud and its Abrogation Reading into the titles muzzammil and muddaththir a consensus of scholarly opinion assigns the revelation of this Surah to the earliest period when the five daily prayers had not become obligatory. They were prescribed on the night of Holy Prophet's ﷺ Ascent to heavens. [ mi` raj ]. Imam Baghawl (رح) ، says, on the basis of Ahadith reported by Sayyidah ` A'ishah Siddigah ؓ and others, that 'night-prayer' was compulsory for the Holy Prophet ﷺ and the entire Muslim community until the five prayers were not prescribed. This verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 This can have two meanings: (1) "Pass the night standing up in the Prayer and spend only a little of it in sleep"; and (2) "there is no demand from you to pass the whole night in the Prayer, but have rest as well and spend a little part of the night in worship too." But in view of the theme that follows the first meaning seems to be more relevant, and the same is supported by Ad-Dahr: 26, in which it has been said: "Prostrate yourself before Him in the night and glorify Him during the long hours of night."
Read the full tafseer →