Explained with ayahs 1–9
رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…
Read the full tafseer →سورة الْمُزَّمِّل 3
یہ اس مقدار وقت کی تشریح ہے جسے عبادت میں گزارنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس میں آپ کو اختیار دیا گیا کہ خواہ آدھی رات نماز میں صرف کریں، یا اس سے کچھ کم کردیں، اس سے کچھ زیادہ۔ لیکن انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ترجیح آدھی رات ہے، کیونکہ اسی کو معیار قرار دے کر کمی بیشی کا اختیار دیا گیا ہے۔
سورة الْمُزَّمِّل 4
یعنی تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھہرو، تاکہ ذہن پوری طرح کلام الہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت وہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس…
Read the full tafseer →ترتیل قرآن کا مطلب
ورتل القرآن ترتیلاً ، ترتیل کے لفظی معنے کلمہ کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منھ سے نکالنے کے ہیں (مفردات امام راغب) مطلب آیت کا یہ ہے کہ تلاوت قرآن میں جلدی نہ کریں، بلکہ ترتیل و تسہیل کے ساتھ ادا کریں اور ساتھ ہی اس کے معانی میں تدبر و غور کریں (قرطبی) ورتل کا عطف قم الیل پر ہے اور اس میں اس کا بیان ہے کہ رات کے قیام میں کیا کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد اگرچہ قرائت و تسبیح، رکوع و سجود سبھی اجزائے نماز پر مشتمل ہے مگر اس میں اصل مقصود قرات قرآنی ہے اسی لئے احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز بہت طویل ادا فرماتے تھے، یہی عادت صحابہ وتابعین میں…
Read the full tafseer →’اَوْ زِدْ عَلَیْہِ‘۔ رات سے یہاں ظاہر ہے کہ رات کا نصف آخر ہے، جب آدمی کچھ سو چکنے کے بعد اٹھتا ہے۔ اس کی وضاحت آگے ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے لفظ سے ہو گئی ہے۔ تہجد کے لیے یہی وقت نبی ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے اور یہی اصل مقصد کے اعتبار سے سب سے زیادہ بابرکت بھی ہے۔ یہ وقت رات کے نصف کے بقدر بھی ہو سکتا ہے، اس سے کچھ کم بھی ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ شب کے پچھلے پہر میں اٹھنا ایک کٹھن کام ہے، اس میں دیر سویر کے ہو جانے کا امکان ہے، اس وجہ سے وقت کے معاملے میں وسعت رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ مشقت کا موجب نہ ہو۔ اگرچہ الفاظ قرآن سے پوری نصف شب کے قیام کا اولیٰ ہونا نکلتا ہے لیکن کمی…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی یہ قیام نصف رات سے کچھ کم (ثلث) یا کچھ زیادہ (دو ثلث) ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
4۔ 2 چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ کی قرأت ترتیل کے ساتھ ہی تھی اور آپ نے اپنی امت کو بھی ترتیل کے ساتھ، یعنی ٹھہر ٹھہر پڑھنے کی تلقین کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2: اس آیت میں آپ کو تہجد کی نماز کا حکم دیا گیا ہے، اکثر مفسرین کے مطابق شروع میں تہجد کی نماز نہ صرف آنحضرت ﷺ پر ؛ بلکہ تمام صحابہ پر فرض کردی گئی تھی، اور اس کی مقدار کم سے کم ایک تہائی رات مقرر فرمائی گئی تھی، یہ فرضیت بعض روایات کی رو سے سال بھر تک جاری رہی، بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر 20 نازل ہوئی جس نے تہجد کی فرضیت منسوخ کردی جیسا کے اس آیت کی تشریح میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یایھا المزمل (1:73) قم ........(2:73) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے کھڑے ہوجاؤ ........“ آسمانوں کی پکار ، اللہ اور کبیر اور متعال کا حکم ” تم “ کھڑے ہوجاؤ۔ اس عظیم کام کے لئے کھڑے ہوجاؤ جو ایک عرصہ سے تمہارے انتظار میں ہے۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور یہ تمہارے لئے ہے۔ اٹھو اور اس راہ میں جدوجہد کرو۔ ان تھک جدوجہد کرو ، اٹھو نیند اور آرام کا وقت اب گیا۔ تیاریاں کرو اس عظیم جدوجہد اور اس چومکھی لڑائی کے لئے ۔
یہ ایک عظیم حکم ہے ، ایک خوفناک حکم ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ گرم ونرم بستر کو چھوڑ دو ۔ آرام دہ اور پر سکون گھر کو چھوڑ دو ۔ غرض اس حکم کے ذریعہ آپ کو ایک عظیم کشمکش اور عظیم جدوجہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
8 یعنی آدھی رات سے کچھ کم جو تہائی تک پہنچ سکتی ہے یا آدھی سے زیادہ جو دو تہائی تک ہو۔ بقرینتہ قولہ تعالیٰ فیما بعد (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُـثَيِ الَّيْلِ وَنِصْفَهٗ وَثُلُثَهٗ وَطَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ ) 73 ۔ المزمل :20)
9 یعنی تہجد میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کہ ایک ایک حرف صاف سمجھ میں آئے۔ اس طرح پڑھنے سے فہم و تدبر میں مددملتی ہے اور دل پر اثر زیادہ ہوتا ہے اور ذوق و شوق بڑھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4{ اَوْ زِدْ عَلَیْہِ } ”یا اس پر تھوڑا بڑھا لیں“
یا پھر رات کا دو تہائی حصہ قیام میں گزاریں۔ گویا آپ ﷺ کے قیام اللیل کا دورانیہ یا نصاب ایک تہائی رات سے لے کر دو تہائی رات تک ہونا چاہیے۔ اس نصاب میں ہمارے لیے رمضان کے قیام اللیل کے حوالے سے بھی راہنمائی موجود ہے۔ رمضان کی راتوں کے قیام کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی حضور ﷺ کا فرمان ہے :
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لـَــــہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ‘ وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَـہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ‘ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ…
Read the full tafseer →4 ترتیل میں کون کون سی باتیں شامل ہیں :۔ رَتِّلْ : رتل کسی چیز کی خوبی، آرائش اور بھلائی کو کہتے ہیں اور رتل کے معنی سہولت اور حسن تناسب کے ساتھ کسی کلمہ کو ادا کرنا ہے۔ نیز اس کا معنی خوش آوازی سے پڑھنا یا پڑھنے میں خوش الحانی اور حسن ادائیگی میں حروف کا لحاظ رکھنا اور ہر لفظ کو ٹھہر ٹھہر کر اور الگ الگ کرکے پڑھنا ہے اور اس طرح پڑھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر لفظ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ انسان اس کے معانی پر غور کرسکتا ہے اور یہ معانی ساتھ کے ساتھ دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ چناچہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کی عادت تھی۔ آپ ﷺ رات کو نماز پڑھتے پھر اس قدر سوجاتے جتنی دیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ (کہ سامعین کو ایک ایک لفظ صاف سنائی دے اور سمجھ میں آجائے) قال ابن عباس بینہ تبیینا (جصاص) قال طاؤس بینہ حتی یفھمہ (جصاص) (آیت) ” نصفہ .... قیلا “۔ یہ سب (آیت) ” قلیلا “ اول کی تشریح ہے۔ کل کے مقابلہ میں نصف کو قلیل ہی کہا جائے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ کم وبیش نصف حصہ شب میں آرام کیجئے۔ باقی نصف میں ذکر و عبادت۔ (آیت) ” منہ .... علیہ “۔ ضمیرہ دونوں جگہ (آیت) ” نصفہ “۔ کی جانب ہے۔ یعنی من النصف اوعلی النصف۔ (آیت) ” ورتل القران ترتیلا “۔ ترتیل کے معنی لفظ کو منہ سے صاف طور پر ادا کرنے کے ہیں۔ الترتیل ارسال الکلمۃ من الفم بسھولۃ واستقامۃ (راغب) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے کپڑے میں لپٹنے والے نبی ! (مزمل) کی اصل متزمل تھی، تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا، یعنی اس پر وحی کے نازل ہونے کے وقت وحی کی ہیبت کے خوف سے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو قیام کر نماز پڑھ مگر کم، آدھی رات (نصفہٗ ) قلیلا سے بدل ہے اور نصف کا قلیل ہونا پوری رات کے اعتبار سے ہے، یا اس سے یعنی نصف سے، بھی کچھ کم کرلے ثلث رات تک یا اس پر (دو تہائی تک) زیادہ کرلے، او تخییر کے لئے ہے، اور قرآن خوب صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ ہم تم پر ایک بھاری کلام قرآن نازل کرنے والے ہیں یعنی با رعب کلام یا شدید، اس لئے کہ اس میں احکام تکلیفیہ…
Read the full tafseer →او زد علیہ . یا نصف سے جتنا چاہو زیادہ کرلو۔ اس آیت میں جس قیام کا حکم دیا گیا ہے وہ چوتھائی شب سے زیادہ ہوا ‘ خواہ گھڑی بھری کی زیادتی ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں قیام کا حکم وجوبی ہے کیونکہ امر کا اصل تقاضاء وجوب ہے۔ اس جگہ بغوی کے کلام کا جو حصہ حضرت عائشہ ؓ وغیرہ کی حدیث سے مستفاد ہے۔ مقتضی یہ ہے کہ اس آیت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت پر پہلے قیام شب واجب تھا ‘ پھر منسوخ کردیا گیا۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ ؓ قیام شب کرتے تھے لیکن کسی کو معلوم نہ ہوتا تھا کہ تہائی رات کب ہوئی اور نصف کب ہوئی اور دو تہائی کب ہوئی۔ اس طرح ساری رات قیام میں گزرتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) محمد رات کو نماز کے لیے کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات یعنی نصف رات یا رات کے دو حصے نماز پڑھا کرو اور قرآن کریم کو خوب صاف صاف ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو یعنی ایک آیت اور دو آیات اور تین آیات یہاں تک کہ قرات پوری کرو۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (الخ)
بزاز، طبرانی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص کا کوئی نام تجویز کرو جس سے لوگ بھاگتے ہیں، تو بعض کہنے لگے کہ کاہن ہیں اس پر لوگوں نے کہا کاہن نہیں ہیں تو پھر بعض کہنے لگے کہ مجنوں ہیں اس پر بھی بعض نے کہا کہ مجنوں نہیں ہیں، پھر بعض کہنے لگے کہ ساحر ہیں اس پر بھی لوگ کہنے لگے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(1) قم الیل الا قلیلاً …: تھوڑا حصہ چھوڑ کر سایر رات کا قیام کر۔”نصفۃ“ ”الیل“ سے بدل ہے، مگر اس ”الیل“ سے جس میں سے ”قلیلاً“ کا استثنا ہوچکا ہے۔ ”قلیلاً“ کا لفظ چونکہ مجمل ہے، اس لئے اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر جس حصے کا قیام کرنا ہے وہ کتنا ہونا چاہیے۔ فرمایا رات کا نصف قیام کریں یا نصف سے کچھ کم کرلیں یا نصف سے زیادہ کرلیں۔ اس سورت کی آخری آیت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ان آیات کے نزول کے بعد رات کی دو تہائی کے قریب اور رات کے نصف اور رات کی تہائیکے برابر قیام کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”نصف سے کچھ کم“ کا مطلب ثلث اور ”نصف سے زیادہ“ کا مطلب دو ثلث کے قریب…
Read the full tafseer →ترتیل سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 8۔ ورتل القرآن ترتیلا۔ قرآن کی قرات میں جلدی نہ کرو بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اور معانی میں تدبر کرتے ہوئے پڑھو، ضحاک نے کہا، اسے حرف حرف کرکے پڑھو، مجاہد نے کہا، اللہ تعالیٰ کے ہاں قرات قرآن میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ سمجھ کر پڑھتا ہے ترتیل سے مراد بڑی خوبصورتی سے منظم ومرتب کرنا اس سے، ثغر رتل ورتل یعنی عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ اور فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں جب کہ دانت خوبصورت اور نمایاں ہوں۔ اس کا بیان کتاب کے مقدمہ میں گزرچکا ہے، حضرت حسن بصری نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک آیت…
Read the full tafseer →16۔ فریابی نے ابن عباس ؓ سے کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ یعنی آپ دو یا تین آیتیں پڑھتے تھے۔ پھر رک جاتے تھے اور جلدی جلدی نہ پڑھتے تھے۔
قرآن کریم کو واضح اور صاف پڑھنا
17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن منیع فی مسندہ ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا۔ سے مراد ہے کہ آپ قرآن مجید کو خوب واضح انداز میں پڑھیں۔
18۔ احمد وابو داوٗد والترمذی وصححہ والنسائی والحاکم وصححۃ والبیہقی نے اپنی سنن میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صاحب قرآن سے قیامت کے دن کہا جائے گا۔ پڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر…
Read the full tafseer →[اَوْ زِدْ عَلَيْهِ : یا آپ ﷺ (چاہیں تو) زیادہ کریں اس (نصف) پر ] [وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ : اور آپ ﷺ ترتیل سے پڑھیں قرآن کو ] [تَرْتِيْلًا : جیسا ترتیل کا حق ہے ]
نوٹ۔ 1: ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ تیز تیز رواں دواں مت پڑھو بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھہرو تاکہ ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مدّعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کے عظمت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا ذکر ہے تو دل جذباتِ تشکر سے لبریز ہوجائے۔ کہیں عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ رسول اللہ ﷺ کی قرأت کا طریقہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
﴿قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًاۙ002 نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًاۙ003 اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ یعنی نصف رات قیام کرو یا نصف سے کچھ کم کر دو یا نصف سے کچھ بڑھا دو ۔ نصف سے کم کا مصداق ایک ثلث ہے اور نصف سے کچھ زیادہ کا مصداق دو ثلث ہے اللہ تعالیٰ نے رات کو قیام فرمانے کا حکم دیا اور مقدار وقت میں تین صورتوں کا اختیار دے دیا۔
رات کو قیام کرنے کے ساتھ ہی ﴿ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًاؕ004﴾ بھی فرمایا یعنی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، یوں تو جب بھی قرآن کی تلاوت کی جائے ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کریں اور جلدی جلدی نہ پڑھیں جس سے حروف کٹیں اور معنی مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →4:۔ ” ورتل القران “ ترتیل سے قرآن مجید کے ہر ہر لفظ کو جدا جدا اور واضح کر کے پڑھنا، خوبصورتی اور صحت سے ان کو ادا کرنا اور غور و تدبر سے سمجھ کر پڑھنا مراد ہے (قرطبی، مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
کوائف اور مضامین سورة :
اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…
Read the full tafseer →اَوْ زِدْ عَلَيْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا 4 ۭ
زاد
الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65]
( زی د ) الزیادۃ
اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔
رتل
الرَّتَلُ : اتّساق الشیء وانتظامه علی استقامة، يقال : رجل رَتَلُ الأسنان، والتَّرْتِيلُ : إرسال الکلمة من الفم بسهولة واستقامة . قال تعالی: وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
1 ؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو بڑا شوق تھا مگر خدا پاک جسم کی محافظت رکھنے کے لیے آپ کو تمام رات کے جاگنے سے روکتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ ۔ قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیلْ ۔ نِصْفَہٗٓ اَوِانْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً ۔ اَوْ زِدْعَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً ۔ (المزمل : 1 تا 4)
(اے چادر میں لپٹنے والے ! رات کو نماز میں کھڑا رہا کیجیے، مگر تھوڑا حصہ۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلیجئے۔ یا اس پر کچھ زیادہ کرلیجئے، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے۔ )
پہلی آیت میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کو ایک ایسے لفظ سے مخاطب فرمایا ہے جس سے آپ ﷺ کی ایک خاص کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اس خطاب میں انتہائی دلنوازی اور محبت پائی جاتی ہے۔
مَزَّمِّل کا مفہوم
مزمل دراصل متزمل ہے۔ بابِ تفعل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الجن کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو وحی اپنے رسول پر بھیجتا ہے اس کی حفاظت کے لیے اس کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کرتا ہے تاکہ اس کی وحی من و عن اس کے رسول تک پہنچ جائے۔ الرّسول ﷺ کے منصب کا پہلا تقاضا ہے کہ رسول اس وحی کو یاد رکھے اور اسے لوگوں تک پہنچائے۔ یاد رکھنے کے لیے آپ کو تہجد پڑھنے کا حکم ہوا تاکہ ایک طرف آپ کو قرآن پر غور کرنے کا موقع ملے اور دوسری طرف آپ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اپنے آپ پر ضبط کرنے کے عادی ہوجائیں کیونکہ تہجد اس کے آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو آدمی کو اپنی طبیعت پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ چادر اوڑھ کر آرام فرما تھے کہ…
Read the full tafseer →دو میں ایک کا چنائو :
4 : اَوْ زِدْ عَلَیْہِ (یا اس سے کچھ بڑھا دو ) نصف سے بڑھا دو ۔ دو ثلث تک اور مقصود اس سے دو باتوں میں سے ایک کا چنائو ہے اور وہ دونوں یہ ہیں۔ نمبر 1۔ نصف سے کم نمبر 2۔ نصف سے زائد۔ اگر نصفہ کو قلیلاً سے بدل قرار دیا جائے۔ تو پھر تین چیزوں میں یہ اختیار بنے گا نمبر 1۔ مکمل آدھی رات کا قیام۔ نمبر 2۔ اس میں سے کچھ کم قیام۔ نمبر 3۔ آدھی رات سے زائدقیام۔ باقی نصف کو کل کے مقابلہ میں قلیل کہا گیا۔ ورنہ قلیل کا مطلقاً استعمال نصف سے کم پر آتا ہے اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنے متعلق ایک ہزار درھم کا اقرار کر کے الا قلیلًا سے استثناء کیا۔ تو اس پر نصف سے زائد رقم…
Read the full tafseer →3 ۔” نصفہ اوانقص منہ قلیلا “ تہائی تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →اَوْ زِدْ عَلَيْهِ ) یا نصف سے کچھ زیادہ۔ یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ( وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا) اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ کیونکہ ترتیل قرآن سے تدبر اور تفر خاصل ہوتا ہے۔ اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
قول باری ہے (ورتل القران ترتیلا۔ اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” اسے پوری طرح واضح کرکے پڑھو۔ “ طائوس کا قول ہے۔ اسے اس طرح واضح طور پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو کہ تمہارا ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم ومدعا کو سمجھ لے۔ “ مجاہد کا قول ہے ” ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ پیوستہ کرکے آہستہ آہستہ پڑھو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قیام اللیل کی فرضیت کے نسخ کے متعلق مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نیز یہ کہ قیام اللیل مستحب ومندوب ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ قیام اللیل کی ترغیب وتحریض کے متعلق حضور ﷺ سے بہت سی روایات مروی ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی…
Read the full tafseer →6 یا آدھی ات سے کچھ زیادہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا یا اس پر کچھ بڑھا دو ۔ یعنی اس نصف پر کچھ بڑھا دو ، جس سے وہ دو ثلث ہوجائے جیسا کہ بعد میں فرمایا گیا ادنی من ثلثی اللیل پس قیام الیل تو فرض تھا مگر اس کے وقت کی مقدار میں تین صورتوں میں اختیار دیا گیا نصف شب ثلث شب اور ثلثی لیل یعنی آدھی ات یا ایک تہائی یا دو تہائی شب (بیان القرآن، روح، کبیر اور مراغی وغیرہ) ۔ سو اوقات قیام کے بارے میں تو اختیار دیا گیا کہ خواہ وہ آدھی رات ہو یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ لیکن اسلوب کلام اور انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ترجیح آدھی رات ہی ہے کہ اسی کو معیار اور مدار قرار دے کر اسی پر کمی بیشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 12 مطلب یہ ہے کہ آدھی رات عبادت کیجیے اور آدھی رات سویئے یا دو تہائی رات عبادت کیجیے اور تہائی رات سویئے۔ علی ہذا القیاس چناچہ آنحضرت اور آپ کے ساتھ بعض صحابہ انہی مختلف مقداروں میں تہجد کی نماز پڑھا کرتی تھے۔ یہ حکم جیسا کہ صحیحین اور سنن کی کتابوں) میں حضرت عائشہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے …ایک سال تک رہا۔ اگلے سال جب اسی سورة کی آخری آیات نازل ہوئیں تو اس میں تخفیف کردی گئی۔ (شوکانی)13 یعنی اس طرح کہ ہر ایک طرف کا الگ الگ پتا چلے اور پڑھتے وقت قرآن کا مفہوم بھی ذہن میں آئے حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ ہر آیت پر قطع (وقف) فرماتیت ہے۔ متعدد احادیث میں قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت…
Read the full tafseer →(73:4) او زد علیہ : او بمعنی یا۔ زد فعل امر، واحد مذکر حاضر ، زیادۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ علیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب نصف لیل کی طرف راجع ہے۔ یا نصف شب سے کچھ بڑھا دیا کرو۔
آیات 3 - 4 کا مطلب یہ ہوا کہ ساری رات کی بجائے کچھ کم وقت عبادت کیا کرو نصف شب یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ۔
ورتل القران ترتیلا۔ واؤ عاطفہ رتل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ترتیل (تفعیل) مصدر سے۔ ترتیلا مصدر تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ جملہ کا عطف قم الیل پر ہے۔ ترتیل کا معنی ہے الفاظ کا منہ سے درستی کے ساتھ بسہولت ادا کرنا۔ آہستہ آہستہ واضح اور صاف طور پر پڑھنا۔
الترتیل : ھو التوقف والترسل والتمہل والافھام وتبیین القرأۃ حرفا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی رعایت وقوف اورادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تابمکان صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[2] جس وقت ان آیات کا نزول ہوا نبی ﷺ چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے اللہ نے آپ ﷺ کی اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اب وہ دور گزر گیا جب آپ ﷺ پاؤں پھیلا کر سوتے تھے۔ اب آپ ﷺ پر ایک کار عظیم کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے جس کے تقاضے کچھ اور ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة المزمل
1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…
Read the full tafseer →(4) یا نصف رات سے کچھ بڑھا دیا کرو اور قرآن کو ٹھہرا ٹھہرا صاف اور واضح پڑھا کرو۔
حضرات مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سورت میں مزمل سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے اور ازراہ تلطف یہ خطاب حضور ﷺ کو فرمایا ہے نبی کریم ﷺ کی عام عادت تھی کہ آپ ایک کمبل جو چود ہاتھ طویل تھا اپنے تمام جسم پر لپیٹ لیا کرتے تھے یہ کمبل اتنا لمبا تھا کہ بعض دفعہ اس کا حصہ حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ بھی اوڑھ لیا کرتی تھیں یا یہ کہ آپ پر جب پہل مرتبہ وحی آئی تو آپ پر فرشتے کی آواز سے ہیبت طاری ہوگئی۔ اور آپ غار حرا سے مکان میں تشریف لائے اور فرمایا مجھے کپڑا اڑھائو مجھے آج ایک دہشت ناک واقعہ پیش آیا اور شاید اس نئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…
Read the full tafseer →یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر
۔ 4 پیچھے فرمایا تھا کہ آپ کا جاگنا آدھی رات تک ہو یا اس سے کچھ کم ہو جتنا کہ آپ آسانی سے جاگ سکیں اور اس طرح یہ بھی کہ رات کے لمبا ہونے اور چھوٹا ہونے کا امکان چونکہ موجود ہے اس لئے چھوٹی رات میں کم اور بڑی رات میں زیادہ قیام کیا جاسکتا ہے اس لئے اس آیت میں فرما دیا کہ اگر طبیعت زیادہ چاہتی ہے تو آپ آدھی رات سے زیادہ بھی جاگ سکتے ہیں اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ اس جاگنے اور قیام کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ تو اس کی وضاحت اس طرح فرما دی کہ جتنا حصہ رات کا بھی آپ جاگیں وہ آدھا یا آدھے سے کم یا آدھے سے زیادہ بہرحال اس کا مقصد قرآن کریم کی تلاوت…
Read the full tafseer →وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا '...and recite the Qur'an clearly with tartil (in a distinct and measured tone). [ 73:4] '. The word tartil , according to Imam Raghib as explicated in al-Mufradat, originally means 'to put together and arrange well the component parts of a word and speech and make it distinct'. The purport of the verse is to say that the Qur'an must not be recited in haste, but in a leisurely manner, distinctly, deliberately and in well-measured tone. At the same time, it is necessary to reflect on its meaning and message. [ Mazhari ]. The clause wa rattil is grammatically…
Read the full tafseer →3 This is an explanation of the duration of time commanded to be spent in worship. In it the Holy Prophet (upon whom be peace) was given the option to spend half of the night in the Prayer, or a little less than that, or a little more than that. But the style shows that half the night has been regarded as preferable, for the measure is the same, which may be decreased or increased, as the people may like and choose.
4 "Recite the Qur'an ......": Do not recite it quickly and in haste, but slowly and distinctly: pause at every verse so that the mind understands the meaning and purport of Divine…
Read the full tafseer →