Explained with ayahs 1–9
رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…
Read the full tafseer →سورة الْمُزَّمِّل 5
مطلب یہ ہے کہ تم کو رات کی نماز کا یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ ایک بھاری کلام ہم تم پر نازل کر رہے ہیں جس کا بارا ٹھانے کے لیے تم میں اس کے تحمل کی طاقت پیدا ہونی ضروری ہے، اور یہ طاقت تمہیں اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھو اور آدھی آدھی رات یا کچھ کم و بیش عبادت میں گزارا کرو۔ قرآن کو بھاری کلام اس بنا پر بھی کہا گیا ہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کردکھانا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلے میں اٹھنا، اور اس کے مطابق عقائد و افکار، اخلاق و آداب اور تہذیب و تمدن کے پو رے نظام میں انقلاب برپا کردینا ایک…
Read the full tafseer →(آیت) اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا ثقیل کے معنی بھاری کے ہیں اور قول ثقیل سے مراد قرآن ہے کیونکہ اس کے بیان کردہ حلال و حرام اور جائز اور ناجائز کے حدود کی دائمی پابندی طبعی طور پر بھاری ہے بجز اس کے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو آسان بنا دے اور قرآن کو قول ثقیل اس وجہ سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ ایک خاص وزن اور شدت محسوس فرماتے تھے جس سے سخت سردی کے زمانے میں بھی آپ کی پیشانی پیسینہ پسینہ ہوجاتی تھی اور اگر اس وقت کسی اونٹنی پر سوار ہیں تو وہ اس کے بوجھ سے اپنی گردن ڈال دیتی تھی جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں (صحیح بخاری وغیرہ)
اس آیت میں اس…
Read the full tafseer →’قول ثقیل‘ سے مراد:
یہ اس مقصد عظیم کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے قیام لیل کی یہ ہدایت فرمائی گئی۔ ارشاد ہے کہ ہم عنقریب تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس بھاری بات کے تحمل کے لیے ایک پیشگی ریاضت اور تیاری کے طور پر آپ کو اس کا حکم ہوا۔ اس بھاری بات سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں اہل تاویل سے مختلف اقوال منقول ہیں لیکن ان کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہے اس وجہ سے ان کے نقل کرنے میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ استاذ امامؒ اس سے اس انذار عام کو مراد لیتے ہیں جس کا حکم اگلی سورہ میں
’یٰٓاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ ہ قُمْ فَاَنْذِرْ‘ (المدثر ۷۴: ۱-۲)
(اے چادر میں لپٹنے والے، اٹھ اور انذار…
Read the full tafseer →5۔ 1 رات کا قیام چونکہ نفس انسانی کے لئے بالعموم گراں ہے، اس لئے یہ جملہ خاص طور پر فرمایا کہ ہم اس سے بھی بھاری بات تجھ پر نازل کریں گے، یعنی، قرآن، جس کے احکام و فرائض پر عمل، اس کی حدود کی پابندی اور اس کی تبلیغ اور دعوت، ایک بھاری جانفسانی کا عمل ہے۔ بعض نے ثقالت سے وہ بوجھ مراد لیا ہے جو وحی کے وقت نبی ﷺ پر پڑتا تھا جس سے سخت سردی میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے تھے۔
Read the full tafseer →3: اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ چونکہ یہ سورت ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی، اس لیے قرآن کریم کا بیشتر حصہ ابھی نازل ہونا باقی تھا۔
Read the full tafseer →انا سنلقی ............ ثقیلا (73:5) ” ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں “۔ اس سے مراد یہ قرآن ہے ، اور قرآن مجید سے آگے پھر مزید احکامات ہیں۔ قرآن مجید کلامی اعتبار سے ثقیل نہیں ہے ، یہ تو آسان ہے۔ اور اس سے نصیحت حاصل کرنا بھی بہت سہل ہے لیکن سچائی کے ترازو میں یہ بہت ہی وزن دار ہے اور اس کے اثرات بہت دور رس ہیں اور اس نظام کے قیام کی ذمہ داریاں بھاری ہیں۔
لو انزلنا .................... خشیة اللہ (59:12) ” اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ جھک جاتے اور اللہ کے ڈر سے ریزہ ریزہ ہوجاتے “۔ اس لئے اللہ نے اس قرآن کو ایک ایسے دل پر نازل فرمایا جو پہاڑ سے بھی زیادہ…
Read the full tafseer →10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی ریاضت کو تو بھاری بوجھ آسان ہو۔ " اور وہ بوجھ ایسا ہے کہ جس کے سامنے شب بیداری کو سہل سمجھنا چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد پے بہ پے قرآن تم پر نازل کریں گے جو اپنی قدرو منزلت کے اعتبار سے بہت قیمتی اور وزن دار اور اپنی کیفیات و لوازم کے اعتبار سے بہت بھاری اور گراں بار ہے۔ احادیث میں ہے کہ نزول قرآن کے وقت آپ ﷺ پر بہت گرانی اور سختی گزرتی تھی۔ جاڑے کے موسم میں آپ ﷺ پسینہ پسینہ ہوجاتے تھے۔ اگر اس وقت کسی سواری پر سوار ہوتے تو سواری تحمل نہیں کرسکتی تھی۔ ایک مرتبہ آپ کی فخذ مبارک زید بن ثابت کی ران پر تھی۔ اس وقت وحی نازل ہوئی۔ زید بن ثابت کو ایسا محسوس ہوا کہ…
Read the full tafseer →آیت 5{ اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا۔ } ”ہم عنقریب آپ ﷺ پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔“
اس سے مراد رسالت انذار و تبلیغ کی ذمہ داری ہے ‘ جس کے بارے میں پہلا حکم سورة المدثر کی ابتدائی آیات میں آیا تھا۔ واضح رہے کہ سورة المزمل کی زیر مطالعہ آیات غالباً ابتدائی نو آیات تیسری وحی کی صورت میں نازل ہوئیں ‘ جبکہ اس کے بعد نازل ہونے والی چوتھی وحی سورة المدثر کی ابتدائی آیات پر مشتمل تھی۔
اس آیت میں حضور ﷺ کو اس عظیم ذمہ داری کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جس کا بوجھ عنقریب آپ ﷺ کے کندھوں پر پڑنے والا تھا۔ اخلاق و کردار کے اعتبار سے تو حضور ﷺ پہلے ہی انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز…
Read the full tafseer →5 عظیم ذمہ داری کیا ہے :؟ بھاری کلام سے مراد وہ احکام ہیں جو معاشرہ میں انقلاب کے سلسلہ میں آپ ﷺ کو دیئے جانے والے تھے۔ سب سے پہلے آپ ﷺ نے خود ان احکام پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنا تھا پھر اس دعوت کو ساری دنیا کے سامنے پیش کرنا اور ان کے مقابلہ میں اٹھنا تھا۔ مشرکانہ عقائد کے خلاف اور جاہلی تہذیب و تمدن کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن معاشرہ میں محبت و موانست اور بھائی بندی کی فضا پیدا کرنا تھی۔ پھر انہی کو متحد کرکے پوری دنیائے کفر سے ٹکر لینا تھی اور اللہ کی مہربانی اور مدد کے ساتھ دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ کے مقابلہ میں غالب کرنا تھا۔ یہ تھیں…
Read the full tafseer →3۔ یعنی قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل کرنے کو ہیں۔ رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کو ابھی کچھ ہی روز ہوئے تھے۔ یہ آیتیں اسی وقت کی ہیں۔ (آیت) ” قولا ثقیلا “۔ قول ثقیل سے مراد اس کلام کا صاحب جلالت و عظمت ہونا ہے۔ نزول وحی ثقیل مادی وجسمانی اعتبار سے بھی تھا۔ روایتوں میں آیا ہے کہ نزول وحی کے وقت سردی کے موسم میں بھی آپ ﷺ کے پسینہ آجاتا، اور اگر آپ ﷺ اونٹنی پر ہوتے تو وہ بوجھ سے بیٹھنے لگتی۔ بعض نے قول ثقیل سے کنایہ بقائے دوام سے مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →انا سنلقی علیک قولا ثقیلا، مطلب یہ ہے کہ تم کو رات کی نماز کا حکم اس لئے دیا جا رہا ہے کہ ایک بھاری کام ہم آپ ﷺ پر نازل کرنے والے ہیں جس کا بار اٹھانے کے لئے آپ ﷺ میں تحمل کی صلاحیت پیدا ہونی ضروری ہے اور طاقت اسی طرح حاصل ہوسکتی ہے کہ راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر نماز کے لئے اٹھو اور آدھی آدھی رات یا کچھ کم و بیش عبادت میں گزارا کرو، قرآن کو بھاری کام اس بنا پر بھی کہا گیا کہ اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کردکھانا، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلہ میں اٹھنا اور اس کے مطابق عقائد و افکار، اخلاق و آداب اور تہذیب و تمدن کے پورے نظام میں انقلاب برپا کردینا، ایک ایسا کام…
Read the full tafseer →انا سنلقی علیک قولا ثقیلا . بعض کا قول ہے کہ قولاً ثقیلاً سے مراد ہے نماز شب کا حکم ‘ کیونکہ نماز شب
نفس کے لیے بہت گراں ہے۔ اس تفسیر پر یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید اور ضمیمہ ہے اور سنلقی میں سین استقبال کیلئے نہیں ہے صرف تاکید کے لیے ہے۔ بعض کے نزدیک قرآن مراد ہے ‘ محمد بن کعب نے کہا : منافقوں پر قرآن بھاری ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں اس صورت میں یہ قول آیت : کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ کی طرح ہوگا۔ مشرکوں پر وہ امر گراں ہے جس کی تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔ حسن بن فضل کا قول ہے کہ میزان میں بھاری ہوگا۔ میں کہتا ہوں ‘ اسی کی مثال وہ حدیث ہے ‘ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو کلمے ہیں جو زبان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) ہم تم پر بذریعہ جبریل امین ایک کلام نازل کرنے کو ہیں جو امر و نہی حلال و حرام وعد و وعید کے اعتبار سے سخت ہے، یا یہ کہ بھاری ہے یا یہ کہ جو اس کی مخالفت کرے اس کے لیے بھاری ہے یا یہ کہ رات کو نماز پڑھنے میں بھاری ہے۔ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہونے میں آدمی کو نشاط حاصل ہوتا ہے جبکہ ثواب سمجھ کر پڑھے یا یہ کہ دل و زبان کا خوب میل ہوتا ہے اور قرآن کریم خوب صاف پڑھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) انا سنلقی علیک…: اس آیت میں اور اس کے بعد والی دو آیتوں میں رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ وحی الٰہی کا بھاری بوجھ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنے کے لئے رات کا قیام اور اس میں پورے غور و فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہایت ضروری ہے۔
(2) قولاً ثقیلاً“ (بھاری کلام) سے مراد وحی الٰہی ہے جو اترتے وقت بھی بھاری ہے، ہر کلام اور ہر چیز سے بھاری ہے، اس پر عمل بھاری ہے اور اسے تمام دنیا تک پہنچانے کا فریضہ بھی بہت بھاری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :(1) نزول وحی کے وقت آپ ﷺ پر بہت بوجھ پڑتا تھا، جسے برداشتک رنا آپ پر بہت بھاری تھا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سخت سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی اور…
Read the full tafseer →انا سنلقی علیک قولا ثقیلا۔
اس آیت کا تعلق اس آیت کے ساتھ ہے جس میں رات کا قیام فرض کیا گیا یعنی رات کی نماز فرض کرنے کے ساتھ ہم آپ پر قول ثقیل القا کریں گے جس کا اٹھانا مشکل ہوگا کیونکہ رات سونے کے لیے ہوتی ہے جس کو رات کے اکثر حصہ میں قیام کا حکم دیا گیا ہو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتا مگر اسے نفس پر سختی کرنا پڑتی ہے اور شیطان سے مجاہدہ کرنا پڑھتا ہے یہ چیز بندے پر بڑی بھاری ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہم آپ کی طرف قرآن وحی کریں گے وہ قول ثقیل ہے جس کے شرعی احکام پر عمل ثقیل ہے قتادہ نے کہا، اللہ کی قسم اس کے فرائض اور اس کی حدود ثقیل ہیں، مجاہد نے کہا، اس کا حلال اور حرام ثقیل ہے۔ حضرت حسن…
Read the full tafseer →قرآن کریم تلاوت کرنے والے سے ملاقات کرے گا
ج 34۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن قیامت کے کے دن اپنے پڑھنے والے سے ملاقات کرے گا۔ جب اس کی قبر اس سے پھٹے گی۔ تو وہ دبلے پتلے متغیر رنگ والے آدمی کی طرح ہوگا۔ اور اس سے کہے گا کیا تو نے مجھے پہچان لیا ؟ وہ کہے گا میں نے تجھ کو نہیں پہچانا۔ وہ کہے گا میں تیرا ساتھی قرآن ہوں۔ جس نے تجھ کو پیاسا رکھا سخت گرمی میں اور تجھ کو رات کے وقت جگائے رکھا۔ بیشک ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے۔ بلاشبہ تو آج کے دن یہ تجارت کے پیچھے ہے پھر اسے دائیں ہاتھ میں ملک دیا جائے گا اور بائیں ہاتھ میں…
Read the full tafseer →[انا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ : بیشک ہم ڈالیں گے آپ ﷺ پر ] [قَوْلًا ثَـقِيْلًا : ایک وزنی قول ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 5 ۔ میں اس عظیم مقصد کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے قیام لیل کی یہ ہدایت دی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس بھاری بات کے تحمل کے لیے ایک پیشگی ریاضت اور تیاری کے طور پر یہ حکم ہوا، اس بھاری بات سے کیا مراد ہے، اس کے جواب میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ زیادہ قرین قیاس رائے یہ ہے کہ اس سے مراد انذارِ عام ہے جس کا حکم اگلی سورة میں قُمْ فَاَنْذِرْ اور اس کے بعد جہادِ عظیم کی تیاری کے لیے دیا گیا جس سے آپ ﷺ کو صحابۂ کرام (رح) کو اقامت دین کی راہ میں سابقہ…
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا 005﴾ (بلاشبہ ہم آپ پر ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہیں) بھاری کلام سے قرآن مجید مراد ہے جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت قرآن شریف کا کچھ حصہ نازل ہوچکا تھا اکثر حصہ نازل ہونا باقی تھا دشمنوں کی طرف سے معاندانہ سلوک بھی ہونے وال تھا اور دعوت و ارشاد کی مزید ذمہ داری سونپی جانے والی تھی۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم تم پر عنقریب ایک بڑا بھاری کلام ڈالیں گے۔ کلام کو پہنچانے پر دشمنوں کی طرف سے معاندانہ روش سامنے آنے کی وجہ سے جو آپ کو تکلیف پہنچی تھی اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ جس وقت آپ پر وحی آتی تھی آپ کو بڑی مشقت برداشت کرنا پڑتی تھی۔
ام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →5:۔ ” انا سنلقی “ قول ثقیل سے مراد قرآن ہے اسے ثقیل (بھاری، کٹھن، مشکل) اس لیے فرمایا کہ اس کے مضامین توحید، حشر و نشر وغیرہ مشرکین پر نہایت شاق ہیں یا اس کے احکام وفرائض اور شرائع و حدود پر عمل کرنا نہایت مشکل ہے۔ (مدارک، قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
کوائف اور مضامین سورة :
اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…
Read the full tafseer →اِنَّا سَـنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًاٍ 5
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
1 ؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو بڑا شوق تھا مگر خدا پاک جسم کی محافظت رکھنے کے لیے آپ کو تمام رات کے جاگنے سے روکتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً ۔ (المزمل : 5)
(ہم آپ ﷺ پر عنقریب ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ )
قِـیَامُ الَّـیْل کا سبب
رات کو نماز کا جو حکم دیا گیا اور پھر اس میں قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کی گئی، پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ ہم آپ ﷺ پر ایک قول ثقیل یعنی بھاری کلام ڈالنے والے یعنی نازل کرنے والے ہیں۔ اس کے تحمل اور اس مقصدعظیم کی ادائیگی کے لیے ایک پیشگی ریاضت کا حکم دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ کے اندر وہ قوت پیدا ہوجائے جس سے آپ ﷺ قولِ ثقیل کا حق ادا کرسکیں۔
قولِ ثقیل سے مراد
سوال یہ ہے کہ قول ثقیل کیا ہے ؟ اکثر اہل تفسیر نے اس سے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
فہم القرآن
ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔
نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے…
Read the full tafseer →باوجاہت کلام :
5 : اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ (ہم تم پر ڈالنے کو ہیں) عنقریب آپ پر ہم اتاریں گے۔ قَوْلًا ثَقِیْلًا (ایک بھاری کلام) قرآن مجیدکیون کہ اس میں اوامر، نواہی ہیں جن کا کرنا مکلفین پر گراں اور بھاری گزرتا ہے۔ نمبر 2۔ منافقین پر بھاری ہے۔ نمبر 3۔ وزن والا کلام ہے اور وجاہت والا پیغام ہے۔ احمقانہ اور سطحی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →4 ۔” اوزد علیہ “ نصف پر دو تہائی تک۔ نبی کریم ﷺ کو ان مراتب کے درمیان اختیار دیا ہے۔ پس نبی کریم ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ان مقداروں پر قیام کرتے تھے اور ایک شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ رات کا تہائی کب ہوتا ہے اور رات کا نصف کب ہوتا ہے اور دو تہائی کب ہوتا ہے تو وہ صبح تک قیام کرتا اس خوف سے کہ وہ واجب مقدار کی حفاظت نہ کرسکا ہو اور یہ ان پر بڑا مشکل ہوا حتیٰ کہ ان کے پائوں سوج گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور ان سے تخفیف کردی اور اس کو اپنے قول ” فاقرئوا ما تیسر من القرآن علم ان سیکون منکم مرضی “ سے منسوخ کردیا ہے۔ پس آیت کے اول اور آخر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →کیونکہ فرمایا (اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا) یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے یعنی وہ معانی عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غور و فکر کیا جائے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
قول باری ہے (ورتل القران ترتیلا۔ اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” اسے پوری طرح واضح کرکے پڑھو۔ “ طائوس کا قول ہے۔ اسے اس طرح واضح طور پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو کہ تمہارا ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم ومدعا کو سمجھ لے۔ “ مجاہد کا قول ہے ” ایک لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ پیوستہ کرکے آہستہ آہستہ پڑھو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قیام اللیل کی فرضیت کے نسخ کے متعلق مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نیز یہ کہ قیام اللیل مستحب ومندوب ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ قیام اللیل کی ترغیب وتحریض کے متعلق حضور ﷺ سے بہت سی روایات مروی ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی…
Read the full tafseer →8 قیام اللیل کے مقصد عظیم کی طرف اشارہ : سو قیام اللیل کے اس حکم و ارشاد کے مقصد عظیم کی طر اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یقیناً ہم آپ پر ایک بڑی بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ یعنی قرآن مجید، جو کہ ملک الملوک احکم الحاکمین رب العالمین کا کلام ہے، جس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم اس کو کسی ہپاڑ پر اتار دیتے تو وہ بھی اس کے آگے سرنگوں ہوجاتا، اور پھٹ پڑتا کما قال تعالیٰ " لو انزلنا ھذا القران علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ " الایۃ (الحشر :21) اور روایات میں وارد ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو سخت سردی کے دنوں میں بھی آپ ﷺ کی پیشانی مبارک عرق آلودہ جاتی، اونٹنی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →ف 14 شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو۔ “ مطلب یہ ہے کہ رات کو عبادت کر کے اپنے آپ کو سختی برداشت کرنے کا عادی بنایئے۔ آئندہ آپ پر قرآن اور تبلیغ کا گرانبار فریضہ ڈالا جانے والا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں سردی کے موسم میں جب آپ پر وحی آتی تو آپ کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہوجاتی۔ (بخاری)
Read the full tafseer →(73:5) انا سنلقی علیک قولا ثقیلا : انا مرکب ہے ان حرف مشبہ بالفعل سے اور نا ضمیر جمع متکلم سے۔ بیشک ہم۔
سنلقی : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل قریب کے معنی دیتا ہے۔ نلقی مضارع جمع متکلم القاء (افعال) مصدر سے۔ ہم عنقریب ڈالنے والے ہیں آپ پر ایک بھاری بات کا بوجھ۔
قولا ثقیلا : موصوف و صفت مشبہ۔ بھاری بات، مراد قرآن مجید ۔ بعض کے قول کے مطابق قولا ثقیلا سے مراد ہے نماز شب کا حکم۔ کیونکہ نماز شب نفس کے لئے بہت گراں ہے۔ اس تفسیر پر یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید اور ضمیمہ ہے اور سنلقی میں س استقبال کے لئے نہیں ہے صرف تاکید کے لئے ہے۔ لغات القرآن میں اس سے مراد دعوت و تبلیغ اسلام لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی نہایت جلیل وباعظمت۔ مراد اس سے قرآن مجید ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ ہم آپ پر قرآن نازل فرمائیں گے جس سے اوامر نواہی اور تکالیف شاقہ ہیں جو مکلفین پر بھاری ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
[3] یعنی قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة المزمل
1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…
Read the full tafseer →(5 ) ہم عنقریب آپ پر بہت وزنی فرمان اور بھاری کلام نازل کریں گے۔ مراد قرآن شریف ہے قول ثقیل یہ کہ اپنے دلائل و احکام کی عظمت کے لحاظ سے تمام ادیان باطلہ پر بھاری ہے نزول کے وقت کا ثقل تو ظاہر ہے کہ سرد ی کے موسم میں پسینے آتے تھے اور پسینہ ٹپکتا تھا اگر سواری پر سوار ہوتے تو نزول وحی کے وقت وہ بوجھ سے دب جاتی تھی غرض کلام الٰہی کے نزول کے وقت جو ثقل اور بوجھ ہوتا تھا اس کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو۔
خلاصہ : یہ کہ شب بیداری اور ریا ض کی علت بیان فرمائی کہ جس قدر ریاضت کرو گے تو نفس کی استعداد اکمل اور اقوی ہوگی اور اس استعداد کا قوی کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم آپ ﷺ پر ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں
۔ 5 مخاطب محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم آپ پر عنقریب ایک بہت بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں گویا بتایا جا رہا ہے کہ نبوت و رسالت کا جو پیغام آپ کو پہنچایا ہے یہ اتنا آسان کام نہیں بلکہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے اس میں احکام و فرائض کا ایک طویل سلسلہ ہو گا جس کے مطابق آپ کو چلنا ہوگا اور آپ کے ماننے والوں کو ان کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اس بوجھ کا اندازہ کوئی معلولی بات نہیں ہے یہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے کیونکہ یہ انفرادی طور پر اٹھانے کی چیز نہیں ہے اس کے لئے اجتماع لازم و ضروری ہے اور پھر یہ…
Read the full tafseer →إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ('We are going to send down to you a weighty discourse... 73:5) ' The word thagil means 'heavy' and the phrase 'weighty discourse' refers to the Qur'an, because the Qur'anic teachings of lawful and unlawful are permanently binding and carrying them out is the weightiest task for human nature, except those for whom Allah makes it easier. According to oft-quoted Ahadith, whenever a revelation descended upon the Holy Prophet t, he went into a trance and felt a peculiar sensation, so that even on an extremely cold day drops of sweat fell from his…
Read the full tafseer →5 That is, "You are being commanded to stand up in the Night Prayer because We are going to send down on you a weighty word, to bear the burden of which you must develop necessary power in yourself, and you can develop this power only by abandoning your ease and comfort of the night and by standing up in the Prayer and passing half the night or thereabout in the worship of your Lord. "The Qur'an has been called a weighty Word also for the reason that acting on its commands, demonstrating its teaching practically, extending its invitation in the face of the whole world, and bringing about a…
Read the full tafseer →