Explained with ayahs 1–9
رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الْمُزَّمِّل 6
اصل میں لفظ ناشئۃ الیل استعمال کیا گیا ہے جس کے متعلق مفسرین اور اہل لغت کے چار مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ ناشئہ سے مراد نفس ناشئہ ہے، یعنی وہ شخص جو رات کو اٹھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد رات کے اوقات ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں رات کو اٹھنا۔ اور چوتھا قول یہ ہے کہ اس لفظ کا اطلاق محض رات کو اٹھنے پر نہیں ہوتا بلکہ سو کر اٹھنے پر ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ اور مجاہد نے اسی چوتھے قول کو اختیار کیا ہے۔
سورة الْمُزَّمِّل 7
اصل میں لفظ اشد وطاً استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں اسے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ رات…
Read the full tafseer →(آیت) اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ لفظ ناشہ بوزن عافیت مصدر ہے جس کے معنی ہیں رات کی نماز کے لئے کھڑا ہونا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ سونے کے بعد رات کی نماز کے لئے اٹھنا ناشتہ الیل ہے اس معنی کے لحاظ سے لفظ ناشتہ اللیل بمعنے تہجہد ہوگیا کیونکہ تہجد کے لفظی معنے بھی رات میں سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنے کے ہیں۔ ابن کیسان نے فرمایا کہ آخر رات کے قیام کو ناشتہ اللیل کہا جاتا ہے۔ ابن زید نے فرمایا کہ رات کے جس حصے میں بھی کوئی نماز پڑھی جائے وہ ناشتہ الیل میں داخل ہے اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد ہر نماز ناشتہ الیل میں داخل ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس اور…
Read the full tafseer →قیام لیل کی حکمت:
یہ اللہ تعالیٰ نے حکمت بتائی ہے اس بات کی کہ آپ کو قیام لیل کا یہ حکم کیوں دیا گیا۔ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ وقت سکون قلب و دماغ کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور فہم قرآن کے لیے سب سے زیادہ سازگار و مددگار ہے۔
’نَاشِئَۃٌ‘ ہمارے نزدیک ’نشأ‘ سے، جس کے معنی اٹھنے کے ہیں ’عَاقِبَۃٌ‘ اور ’عَافِیَۃٌ‘ کے وزن پر مصدر یا حاصل مصدر ہے۔ ’نَاشِئَۃَ الَّیْلِ‘ کے معنی ہوں گے قیام لیل یا شب خیزی۔ اس لفظ ہی سے یہ بات نکلی کہ تہجد کا وقت درحقیقت شب میں کچھ سو کر اٹھنے کے بعد یعنی پچھلے پہر کا ہے۔ اس وقت اٹھنا اگرچہ اس اعتبار سے ایک مشکل کام ہے کہ اس وقت کی نیند بہت محبوب ہوتی ہے لیکن اس امتحان میں…
Read the full tafseer →6۔ 1 دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کو قرآن زیادہ واضح اور حضور قلب کے لئے زیادہ موثر ہے، اس لئے کہ اس وقت دوسری آوازیں خاموش ہوتی ہیں۔ فضا میں سکون غالب ہوتا ہے اس وقت نمازی جو پڑھتا ہے وہ آوازوں کے شور اور دنیا کے ہنگاموں کے نذر نہیں ہوتا بلکہ نمازی اس سے خوب محفوظ ہوتا اور اس کی اثر آفرینی کو محسوس کرتا ہے۔
Read the full tafseer →4: یعنی رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے سے انسان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ اور رات کے وقت میں چونکہ شور و غل نہیں ہوتا، اس لیے تلاوت اور دعا ٹھیک ٹھیک اور حضور قلب کے ساتھ ادا ہوتی ہیں۔ دن کے وقت یہ فائدے کم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →ان ناشئة .................... قیلا (73:6) ” درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے “۔ اور قرآن کو ٹھیک ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں وے۔ اس سے مراد عشاء کے بعد اٹھنا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رات کے وقت اٹھنا جسم کے لئے باعث مشقت ہے اور۔
اقوام قیلا (73:6) ” یعنی بھلائی میں مضبوط طریقہ ہے (مجاہد) کیونکہ دن کی جدوجہد کے بعد تھکاوٹ کا غلبہ ہوتا ہے اور نرم بستر بہت جاذبیت رکھتا ہے۔ یہ جسم کو روندنے کے لئے بہت ہی موثر ہے۔ لیکن جو شخص یہ عمل کرتا ہے ، وہ گویا اعلان کرتا ہے کہ اس پر روحانیت غالب ہے ، اور اس نے اللہ کی دعوت پر لبیک کہہ دیا ہے۔…
Read the full tafseer →11 یعنی رات کو اٹھنا کچھ آسان کام نہیں۔ بڑی بھاری ریاضت اور نفس کشی ہے جس سے نفس روندا جاتا ہے اور نیند آرام وغیرہ و خواہشات پامال کی جاتی ہیں۔ نیز اس وقت دعا اور ذکر سیدھا دل سے ادا ہوتا ہے۔ زبان اور دل موافق ہوتے ہیں۔ جو بات زبان سے نکلتی ہے ذہن میں خوب جمتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ ہر قسم کے شور و غل اور چیخ پکار سے یکسو ہونے اور خداوند قدوس کے سماء دنیا پر نزول فرمانے سے قلب کو ایک عجیب قسم کے سکون وقرار اور لذت و اشتیاق کی کیفیت میسر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6{ اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّــیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْأً } ”یقینا رات کا جاگنا بہت موثر ہے نفس کو زیر کرنے کے لیے“
{ وَّاَقْوَمُ قِیْلًا۔ } ”اور بات کو زیادہ درست رکھنے والا ہے۔“
یہ نہایت سکون و اطمینان کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت بندے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 تہجد کا لغوی مفہوم :۔ پانچ نمازوں کی فرضیت تو معراج کو ہوئی تھی۔ اس سے پہلے آپ ﷺ بھی اور دوسرے صحابہ کرام ؓ بھی یہی رات کی نماز ہی پڑھا کرتے تھے۔ نماز باجماعت کا بھی کوئی اہتمام یا حکم نہیں تھا۔ صحابہ کرام ؓ اپنے اپنے گھروں میں یہ نماز اپنے اپنے طور پر ادا کرلیا کرتے تھے۔ جب معراج میں پانچ وقت نمازیں فرض ہوئیں تو یہ نماز صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے فرض رہ گئی باقی مسلمانوں سے اس کی فرضیت ساقط کردی گئی۔ البتہ اس کے ادا کرنے کی ترغیب ضرور دی گئی۔ اب اس نماز کی حیثیت عام مسلمانوں کے لیے سنت موکدہ کی ہے۔ اس کے اوقات بھی مختلف تھے۔ کئی مسلمان اسے رات کے ابتدائی حصہ میں ادا کرلیا کرتے تھے۔ بعض دوسرے…
Read the full tafseer →4۔ رات کے سناٹے میں ذکر و عبادت میں جی کا لگنا، نماز وتلاوت قرآن میں حلاوت کا زیادہ محسوس ہونا، طبیعت میں نشاط کا پید اہونا، یہ سب چیزیں تجربہ ومشاہدہ کی ہیں جس کا جی چاہے خود تجربہ کرلے۔ پیغمبر اور پھر پیغمبر اعظم کیلئے اس حکم کی اہمیت بالکل ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” ناشءۃ اللیل “۔ یعنی رات میں سونے کے بعد پھر کھڑا ہونا۔ (آیت) ” وطا “۔ وطا کے لفظی معنی کچلنے کے ہیں۔ گویا رات کو سو کر نماز کیلئے اٹھنا نفس کو روند ڈالنا، کچل ڈالنا ہے۔ اور اس سے نفس شکستہ اور منکسر ہوجاتا ہے۔ اور انسان کے ظاہر و باطن میں، یا زبان ودل کے درمیان موافقت خوب پیدا ہوجاتی ہے۔ عن الحسن اشد موافقۃ بین السر والعلانیۃ (مدارک)…
Read the full tafseer →ان ناشئۃ اللیلھی اشد، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ رات کو عبادت کے لئے اٹھنا اور دیر تک کھڑے رہنا چونکہ طبیعت پر بار ہوتا ہے کیونکہ نفس اس وقت آرام کا طالب ہوتا ہے اس لئے یہ عمل ایک ایسا مجاہدہ ہے جو نفس کو دہانے اور اس پر قابو پانے کی بڑی زبردست تاثیر رکھتا ہے اس مجاہدہ کے بعد جو ایک روحانی قوت پیدا ہوگی اور وہ اس طاقت کو خدا کے احکام میں استعمال کرے گا تو زیادہ مضبوطی کے ساتھ دین حق کی دعوت کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے کام کرسکتا ہے۔
دوسرا مطلب یہ کہ دل و زبان کے درمیان موافقت پیدا کرنے کا یہ بڑا موثر ذریعہ ہے کیونکہ رات کے ان اوقات میں بندے اور خدا کے درمیان کوئی دوسرا حائل نہیں ہوتا۔
تیسرا…
Read the full tafseer →ان ناشءۃ الیل . ازہری نے کہا : ناشءۃ بروزن فاعلۃ عافیۃ کی طرح مصدر ہے یعنی رات کو کھڑے ہونا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : سونے کے بعد رات کو (نماز کے لیے) اٹھنا ‘ اس صورت میں ناشءۃ الیل اور تہجد کا ایک ہی معنی ہوگا۔ ابن کیسان نے کہا : آخر شب میں اٹھنا ناشءۃ الیل ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا حبشی زبان میں نَشَأَ کا معنی ہے قامَ (اٹھا ‘ کھڑا ہوا) اس لیے رات کی جس ساعت میں قیام ہو وہ ناشءۃ ہے۔ ابن زید کا بھی یہی قول ہے۔ عکرمہ ؓ نے اوّل شب میں قیام کو ناشءۃ کہا ہے۔
بغوی نے حضرت امام زین العابدین کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام حسین ؓ مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے اور فرماتے تھے یہ ناشءۃ الیل ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) ہم تم پر بذریعہ جبریل امین ایک کلام نازل کرنے کو ہیں جو امر و نہی حلال و حرام وعد و وعید کے اعتبار سے سخت ہے، یا یہ کہ بھاری ہے یا یہ کہ جو اس کی مخالفت کرے اس کے لیے بھاری ہے یا یہ کہ رات کو نماز پڑھنے میں بھاری ہے۔ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہونے میں آدمی کو نشاط حاصل ہوتا ہے جبکہ ثواب سمجھ کر پڑھے یا یہ کہ دل و زبان کا خوب میل ہوتا ہے اور قرآن کریم خوب صاف پڑھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ان ناشئۃ الیلھی اشد …:”ناشئۃ الیل“ (رات کا اٹھنا) ”نشاء ینشا“ (ف ، ک) کا مصدر بروزن ”عافیۃ“ اور ”کاذبۃ“ ہے۔ نشاء من مکانہ“ وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ ”وطاً“ ”وطی یطا“ (س) کا مصدر ہے، پاؤں سے روندنا کچلنا۔ ”اقوم“ زیادہ سیدھا، زیادہ درست۔ ”قلیلاً“ ”قولاً“ کی طرح مصدر ہے۔
(2) یعنی رات کا اٹھنا طبیعت پر بہت بھاری اور نفس کو کچلنے میں دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ واضح رہے کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ جسمانی ایذا برداشت کرلیتے ہیں بےخوابی کی ایذا کے سامنے ان کے حصول بھی جو بدلے جاتے ہیں۔ نیند جیسی مرغوب چیز چھوڑ کر قیام کا مشکل ترین عمل کرنے سے نفس میں مشقت اٹھانے کی اتنی قوت پیدا ہوگی کہ وہ رحی الٰہی…
Read the full tafseer →ان ناشئۃ اللیل۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔
ناشئۃ اللیل سے کیا مرا ہے ؟
اس میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ ان ناشئۃ اللیل علماء نے کہا : ناشئۃ اللیل سے مراد رات کے اوقات اور گھڑیاں ہیں کیونکہ اسکے اوقات یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے ہیں جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، نشاء الشئی ینشا۔ جب وہ ابتدا کرے اور ایک چیز کے بعد دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو، ناشئۃ یہ نشات سے فاعلہ کا وزن ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، اومن ینشوا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیرمبین (الزخرف) مراد یہ ہوگا رات کی گھڑیاں پروان چڑھ رہی ہیں تو اسم کی بجائے وصف پر اکتفا کیا ناشئۃ کو مونث ساعۃ کے لفظ کی وجہ سے ذکر کیا ہے کیونکہ ہر گھڑی جنم…
Read the full tafseer →41۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رات کا قیام کرنا حبشی زبان میں کیونکہ جب آدمی کھڑا ہوتا تو وہ کہتا نشأ۔
42۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے قیام اللیل۔
43۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ناشءۃ اللیل سے مراد ہے رات کا اول حصہ۔
44۔ ابن المنذر وابن الضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ساری رات ہی…
Read the full tafseer →[ان نَاشِئَةَ الَّيْلِ : بیشک رات کا سو کر اٹھنا ] [هِيَ اَشَدُّ : یہ زیادہ سخت ہے ] [وَطْـاً : بلحاظ پامال کرنے کے ] [وَّاَقْوَمُ قِيْلًا : اور زیادہ سیدھی ہے بلحاظ بات کے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطْاً ﴾ (بلاشبہ رات کا اٹھنا خوب زیادہ مشقت والا ہے) یعنی اس سے نفس پر دباؤ پڑتا ہے اور نفس کو خوب تکلیف ہوتی ہے۔ یہ تکلیف بظاہر تکلیف ہے اور دنیاوی تکلیف ہے لیکن اس میں نفس کا فائدہ بھی بہت ہے۔ نماز تہجد کی وجہ سے جو درجات بلند ہوں گے ان کی وجہ سے انسان ساری تکلیفیں بھول جائے گا۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بلاشبہ جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر اندر سے اور جن کا اندر باہر سے نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان لوگوں کے لیے تیار فرمایا ہے جو کھانے کھلائیں اور سلام پھیلائیں اور رات کو نماز پڑھیں جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔ (الترغیب والترہیب جلد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →6:۔ ” ان ناشئۃ اللیل “ یہ قم اللیل کی علت ہے، ناشئۃ، نشابمعنی قام کا مصدر ہے جیسا کہ عافیۃ ہے۔ مراد قیام اللیل ہے۔ وطا، مواطاۃ موفاقت، قیلا سے قراءۃ قرآن مرد ہے۔ (روح، قرطبی) ۔ آپ کو رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ رات سکون و اطمینان کا وقت ہوتا ہے شور وشغب نہیں ہوتا، اس لیے آدمی جو کچھ زبان سے پڑھتا ہے دل پورے یقین کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس طرح دن کی نسبت رات کے وقت دل اور زبان میں زیادہ مواقت کا موقع فراہم ہوجاتا ہے نیز یکسوئی اور سکون کی وجہ سے تلاوت بہت زیادہ درست اور صحیح ادا ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
کوائف اور مضامین سورة :
اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…
Read the full tafseer →اِنَّ نَاشِـئَۃَ الَّيْلِ ہِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا 6 ۭ
نشأ
النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
1 ؎ مواطاۃ بمعنی مطابقہ ہے کمافی قولہٖ تعالیٰ لیواطئو عدۃ ماحرم اللہ
Read the full tafseer →اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ھِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلاَّ ۔ (المزمل : 6)
(بیشک رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے نہایت خوب ہے۔ )
نَاشِئَۃَ الَّیْلِ کا مفہوم اور اس کی حکمت
نَاشِئَۃٌ … عَاقِبَۃٌ اور عَافِیَۃٌ کے وزن پر مصدر یا حاصل مصدر ہے۔ یہ نشأ سے ہے۔ اس کے معنی اٹھنے کے ہیں۔ نَاشِئَۃَ الَّیْلِکے معنی رات کی نماز کے لیے اٹھنا ہے جسے قیام اللیل یا شب خیزی کہا جاسکتا ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ تہجد کا وقت درحقیقت شب میں سو کر اٹھنے کے بعد یعنی پچھلے پہر کا ہے۔ اکثر آئمہ لغت و تفسیر کے نزدیکنَاشِئَۃَ الَّیْلِرات کے قیام کو کہتے ہیں، چاہے وہ سونے کے بعد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
فہم القرآن
ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔
نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے…
Read the full tafseer →رات کو پیدا ہونے والی عبادت :
6 : اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ (بیشک رات کا اٹھنا)
قراءت : ورش کے علاوہ بقیہ نے ہمزہ سے پڑھا۔ ناشئہ : مراد قیام لیل ہے۔
قولِ ابن مسعود ؓ :
یہ نشاء سے مصدر ہے اذاقام و نہض کے معنی میں ہے اس کا وزن فَاعِلَۃٌ ہے جیسے عافیۃٌ نمبر 2۔ ایسی عبادت جو رات کو پیدا ہوتی ہے اس لئے ناشئہ کہہ دیا۔ نمبر 3۔ رات کی گھڑیاں وہ بھی ایک گھڑی کر کے پیدا ہوتی ہے۔
امام زین العابدین (رح) :
مغرب و عشاء کے درمیانی نماز پڑھتے اور کہتے یہ ناشئۃ الیل ہے۔ (گویا صلوٰۃ اوابین کو یہ نام دیتے) ھِیَ اَشَدُّ وَطْاً (وہ بہت زیادہ موثر ہے روندنے میں) موافقت میں۔
قراءت : وِطاۃ شامی، ابو عمرو واطئی سے ہے…
Read the full tafseer →آیت انا سنلقی علیک قولا ثقیلا کی تفسیر
5 ۔” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت۔ حسن (رح) فرماتے بیشک آدمی البتہ سورت کو جلدی ختم کردے گا لیکن اس پر عمل کرنا ثقیل ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” ثقیلا “ اللہ کی قسم ! اس کے فرائض وحدود ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ثقیل ہیں اس وجہ سے کہ اس میں امر ، نہی اور حدود ہیں۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں وعد اور وعید اور حلال و حرام میں ثقیل ہے اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں منافقین پر ثقیل ہے۔ حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں زبان پر ہلکی بات ہے اور ترازو میں وزنی ہے۔
فرائؒ فرماتے ہیں ” ثقیلا “ ہلکی سطحی بات نہیں ہے اس لئے کہ وہ ہمارے رب کی کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چناچہ فرمایا (اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ ) یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا (هِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا) نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، قلب ولسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہوجاتا ہے یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
قول باری ہے (ان ناشئۃ اللیلھی اشد وطا، درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن الزبیر ؓ کا قول ہے کہ جب تم رات کے وقت اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوجائو یعنی نماز پڑھو تو یہی رات کا اٹھنا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” پوری رات جب کوئی شخص اٹھ کر نماز پڑھتا رہے تو ایسا شخص رات کو اٹھنے والا کہلائے گا۔ عشاء کی نماز کے بعد کا وقت رات کو اٹھنے کا وقت ہے۔ “ حسن سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔
قول باری (اشد وطاو اقوم قیلا ۔ نفس پر قابو پانے کے لئے زیادہ کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے) کے متعلق حسن کا قول ہے کہ ” یہ جسم کو زیادہ مشقت میں ڈالنے کا ذریعہ…
Read the full tafseer →9 قیام اللیل کی عظمت و اہمیت کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ رات کا اٹھنا دماغ کی یکسوئی اور دلجمعی اور فہم کلام کے لئے بڑا ہی کارگر ہے۔ اس لئے قیام اللیل کی عبادت اور رات کی تنہائیوں میں کی جانے والی تسبیح و تہلیل انسانی قلب و روح کی تقویت کے لئے ایک خاص اثر رکھتی ہے، اللھم شرقنا بہ بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین بہرکیف اس سے قیام اللیل کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ یہ وقت قلب و دماغ کے سکون کے لئے سب سے زیادہ موزوں اور فہم قرآن کے لئے سب سے زیادہ سازگار و مددگار ہے، ناشئہ جو کہ نشاء سے ماخوذ ہے، عاقبتہ اور عافیتہ کی طرح مصدر یا حاصل مصدر ہے، پس ناشئہ اللیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نماز تہجد کا حکم
تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة المزمل۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔
نماز تہجد۔
یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…
Read the full tafseer →ف 15 کیونکہ وہ نفس پر بہت شاق گزرتا ہے۔16 کیونکہ اس وقت دل و دماغ حاضر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(73:6) ان ناشئۃ الیل ہی اشد وطاو اقوم قیلا : ان حرف مشبہ بالفعل ناشئۃ الیل مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ہی اشد وطا اس کی خبر ناشئۃ (منصوب بوجہ عمل ان) مصدر بروزن اسم فاعل ۔ رات کو خواب سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ ن، ش ء مادہ۔ النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا۔ اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ولقد علمتم النشاۃ الاولی (56:62) تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔
آیت زیر مطالعہ کا ترجمہ ہوگا :۔ کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے ۔ یہاں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں۔ ہی ضمیر واحد مؤنث غائب ناشیئۃ الیل کی طرف راجع ہے اشد نہایت سخت شدۃ سے جس کے معنی سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔
تشریح : سورة…
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی رات کو اٹھنا کچھ آسان کام نہیں بڑی بھاری ریاضت اور نفس کشی ہے جس سے نفس کچلا جاتا ہے اور نیند آرام وغیرہ خواہشات پامال کی جاتی ہیں نیز اس وقت دع اور ذکر سیدھادل سے ادا ہوتا ہے زبان اور دل موافق ہوتے ہیں جو بات زبان سے نکلتی ہے ذہن میں خوب جمتی چلی جاتی ہے کیونکہ ہر قسم کے شوروغل اور چیخ و پکار سے یک سو ہونے اور خداوند قدوس کے سماء دنیا پر نزول فرمانے سے قلب کو ایک عجیب قسم کے سکون وقرار اور لذت واشتیاق کی کیفیت میسر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
[3] یعنی قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة المزمل
1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…
Read the full tafseer →(6) بیشک رات کا اٹھنا نفس کو پامال کرنے کے اعتبار سے بہت موثر اور بات کہنے کے اعتبار سے بہت ٹھیک ہے - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بڑی ریاضت یہ کہ نفس روندا جاتا ہے ٹوٹتا ہے اور اس وقت دعا اور ذکر سیدھا ادا ہوتا ہے دل سے۔
خلاصہ : یہ کہ رات کو نیند چھوڑ کر اٹھنا پھر وضو کا اہتمام کرنا نماز میں کھڑے رہنا اس نفس خوب ہی پامال ہوتا ہے ۔ پھر رات کی تنہائی اور خاموش اور غل غپاڑے سے یک سوئی قلب کو اطمینان ۔ یہ سب باتیں اس امر کی مویدہوتی ہیں کہ جو بات نکلتی ہے اور جو دعا ہوتی ہے یا ذکر الٰہی اور دعا وغیرہ وہ سب دل سے نکلتی ہے اور زبان و دل میں موافقت ہوتی ہے اور جو بات نکلتی ہے سیدھی نکلتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…
Read the full tafseer →بلاشبہ رات کا اٹھنا سختی سے روند ڈالتا ہے اور بات کو سیدھا کردیتا ہے
۔ 6 (ناشتۃ) مصدر بروزن اسم فاعل رات کو خواب بستر سے اٹھ کھڑا ہونا جب کہ نیند ایک بہت پیاری چیز ہوتی ہے اور اس سے وہی چیز جگا سکتی ہے جو اس سے بھی بھاری ہو اور سونے والا اس کی اہمیت کو سمجھتا ہو۔ (وطا) اسم تکلیف مشقت ، دشواری ، فرمایا جا رہا ہے کہ رات کا جاگنا ایک بہت ہی بھاری چیز ہے اور یہ بھی کہ صرف نیند سے بیدار رہی نہیں ہونا ہے بلکہ بستر کو چھوڑنا ہے ، حالات کے مطابق گرمی ہو یا سردی وضو کرنا ہے ، نماز میں کھڑا ہونا ہے اور تن تنہا رہ کر غور و فکر کرنا ہے اور وہ بھی اس ذات اقدس کے متعلق جو انسان کی دسترس سے دراء الوراء ہے…
Read the full tafseer →إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ ('Truly, rising by night [ for prayer of tahajjud ] is the most effective way to subdue (one's self) and to make speech more upright.... 73:6). The word nashi'ah, on the grammatical measure of ` afiyah, is an infinitive noun which signifies 'to rise by night for prayer'. Sayyidah ` A'ishah ؓ said that nashi'at-ul-lail means 'to rise by night for night-prayer after sleeping'. According to this definition, nashi'at-ul-lail refers to tahajjud prayer. Furthermore, the word tahajjud itself, literally, means 'to sleep at night and then wake up to perform the prayer'. Ibn…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 About the meaning of the word nashi'at a!-/ail, as used in the original, the commentators and lexicographers have expressed four different viewpoints: (1) That nashi'at implies the person himself who rises at night; (2) that it implies the hours of night; (3) that it means the rising by night; and (4) that it does not only apply to the rising in the night but rising after having had some sleep, Hadrat `A`ishah and Mujahid have adopted this fourth viewpoint.
7 The word ashaddu wat'an as used in the Text is so vast in meaning that it cannot be explained in any one sentence. Its one meaning…
Read the full tafseer →