73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 73:1–2

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑوں میں لپٹنے والے ،

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو (نماز میں) کھڑے رہا کیجئے،1۔

1۔ (آپ ان معاندین کے ہفوات کا خیال نہ کیجئے تو جہ حق تعالیٰ ہی کے ذکر و عبادت کی طرف رکھیے) مستند حدیثی روایتوں میں آتا ہے (جو ہر ” تاریخی “ روایت سے مستند تر ہیں) کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں تبلیغ و دعوت کا کام شروع فرمادیا، تو بڑے بڑے ” عقلاء قوم “ نے (آج کل ہی کے عقلاء فرنگ “ کی طرح) آپ ﷺ کے متعلق غور وخوض شروع کیا کہ آپ ﷺ کے دعوے صحیح تو بہرحال ہو ہی نہیں سکتے پھر (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کا اصل مرض ہے کیا، اپنے کمیٹی گھر (دارالندوہ) میں جمع ہوئے اور کسی نے کہا کہ ” یہ کاہن ہوگئے ہیں “ غیب کی خبریں دینا اور سچی پیشگوئیاں کرنا کہانت ہی کا ایک حصہ ہے “۔ بعض نے کہا کہ ” نہیں یہ تو دماغی عارضہ معلوم ہوتا ہے، جس وقت جنون کا دورہ پڑتا ہے۔ اسی جوش و خروش کے عالم میں ایسا پرزور پرجوش کلام دماغ سے ابلنے لگتا ہے “۔ ایک اور بزرگوار بولے ” یہ کچھ نہیں اصل میں یہ ساحر ہیں، یہ اثر سحر ہی کا ہے کہ اپنے کلام سے بھائی بھائی میں جدائی ڈلوادی “۔ وقس علی ہذا۔ آپ ﷺ کو جب یہ خبریں پہنچیں تو قدرۃ آپ ﷺ کو انقباض قلب ہوا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (آیت) ” یایھا المزمل “۔ خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ آپ حالت غم میں کپڑے اوڑھ لپیٹ کر لیٹ رہے تھے۔ ملاطفت خاص کے طور پر آپ ﷺ کو مخاطب بھی اسی نام سے کیا گیا۔ بعض صوفیوں نے اپنے ہاں کی خرقہ پوشی کی سند بھی اس لفظ مزمل سے حاصل کی ہے۔ شب بیداری کا معمول بھی مشائخ وصوفیہ نے انہیں آیتوں سے نکالا ہے۔ فقہاء امت کا اس پر اتفاق ہے کہ قیام اللیل (رات کو سواٹھ کر کی جانے والی عبادت) فرض نہیں ہے۔ البتہ اس کا اجر و مرتبہ بہت زائد ہے اور احادیث اس کے فضائل سے لبریز ہیں۔ لاخلاف بین المسلین فی نسخ فرض قیام اللیل وانہ مندوب الیہ ترغب فیہ وقدروی عن النبی ﷺ اثار کثیرۃ فی الحث علیہ والترغیب فیہ (جصاص)
Ayahs 73:3–4

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

مگر ہاں تھوڑی رات یعنی آدھی رات یا اس سے کچھ کم رکھیے ،

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ بڑھا دیجئے اور قرآن خوب صاف صاف پڑھئے،2۔

2۔ (کہ سامعین کو ایک ایک لفظ صاف سنائی دے اور سمجھ میں آجائے) قال ابن عباس بینہ تبیینا (جصاص) قال طاؤس بینہ حتی یفھمہ (جصاص) (آیت) ” نصفہ .... قیلا “۔ یہ سب (آیت) ” قلیلا “ اول کی تشریح ہے۔ کل کے مقابلہ میں نصف کو قلیل ہی کہا جائے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ کم وبیش نصف حصہ شب میں آرام کیجئے۔ باقی نصف میں ذکر و عبادت۔ (آیت) ” منہ .... علیہ “۔ ضمیرہ دونوں جگہ (آیت) ” نصفہ “۔ کی جانب ہے۔ یعنی من النصف اوعلی النصف۔ (آیت) ” ورتل القران ترتیلا “۔ ترتیل کے معنی لفظ کو منہ سے صاف طور پر ادا کرنے کے ہیں۔ الترتیل ارسال الکلمۃ من الفم بسھولۃ واستقامۃ (راغب) ۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم آپ پر عنقریب ایک بھاری کلام ڈالنے کو ہیں،3۔

3۔ یعنی قرآن جیسی عظیم الشان کتاب نازل کرنے کو ہیں۔ رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کو ابھی کچھ ہی روز ہوئے تھے۔ یہ آیتیں اسی وقت کی ہیں۔ (آیت) ” قولا ثقیلا “۔ قول ثقیل سے مراد اس کلام کا صاحب جلالت و عظمت ہونا ہے۔ نزول وحی ثقیل مادی وجسمانی اعتبار سے بھی تھا۔ روایتوں میں آیا ہے کہ نزول وحی کے وقت سردی کے موسم میں بھی آپ ﷺ کے پسینہ آجاتا، اور اگر آپ ﷺ اونٹنی پر ہوتے تو وہ بوجھ سے بیٹھنے لگتی۔ بعض نے قول ثقیل سے کنایہ بقائے دوام سے مراد لیا ہے۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کے وقت اٹھنے میں (دل و زبان کا) خوب میل رہتا ہے، اور بات خوب ٹھیک نکلتی ہے،4۔

4۔ رات کے سناٹے میں ذکر و عبادت میں جی کا لگنا، نماز وتلاوت قرآن میں حلاوت کا زیادہ محسوس ہونا، طبیعت میں نشاط کا پید اہونا، یہ سب چیزیں تجربہ ومشاہدہ کی ہیں جس کا جی چاہے خود تجربہ کرلے۔ پیغمبر اور پھر پیغمبر اعظم کیلئے اس حکم کی اہمیت بالکل ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” ناشءۃ اللیل “۔ یعنی رات میں سونے کے بعد پھر کھڑا ہونا۔ (آیت) ” وطا “۔ وطا کے لفظی معنی کچلنے کے ہیں۔ گویا رات کو سو کر نماز کیلئے اٹھنا نفس کو روند ڈالنا، کچل ڈالنا ہے۔ اور اس سے نفس شکستہ اور منکسر ہوجاتا ہے۔ اور انسان کے ظاہر و باطن میں، یا زبان ودل کے درمیان موافقت خوب پیدا ہوجاتی ہے۔ عن الحسن اشد موافقۃ بین السر والعلانیۃ (مدارک) والمقصود ان قیام اللیل ھو اشد مواطاۃ بین القلب واللسان (ابن کثیر) ۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بیشک آپ کے لئے دن میں بہت مشغولی ہے،5۔

5۔ محمد ﷺ بن عبداللہ مکی سے بڑھ کر مشغول پروگرام آج تک دنیا میں کسی کا نہیں ہوا۔ ہر لمحہ طاعت الہی و خدمت خلق ہی کی نذر رہتا تھا۔ ضائع آپ ﷺ نے اپنی عمر گرامی کا ایک منٹ بھی نہیں ہونے دیا۔ (آیت) ” سبحا طویلا “۔ سبح کے لفظی معنی تیرنے اور تیز چلنے کے ہیں، اور اس کے تحت میں آپ ﷺ کی دینی ودنیوی ہر ہر مشغولی آگئی۔ حقیقتا آپ ﷺ کی تو ہر دنیوی مشغولی بھی دینی ہی تھی، اور ضروری آرام و تفریح بھی عین طاعت ہی تھے۔
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور آپ اپنے پروردگار کے نام کو یاد کرتے رہئے اور سب سے ٹوٹ کر اسی کی طرف متوجہ رہئے،6۔

6۔ یعنی اللہ کے ساتھ تعلق ہر دوسرے تعلق پر غالب وحاکم رہے۔ (آیت) ” اذکرو تبتل “۔ یہ دونوں حکم بلاقید وقت کے ہیں، صوفیہ نے یہیں سے دوام ذکر کا مسئلہ مستنبط کیا ہے۔ لیکن محققین صوفیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ان احکام کی تعمیل کے لئے ذکر وتبتل کا درجہ ادنی بھی کافی ہے۔ (آیت) ” واذکر ..... تبتیلا “۔ ذکر لسانی کی تعلیم یہاں ترتیبا پہلے واقع ہوئی ہے اور مراقبہ کی اس کے بعد۔ عارفین نے اس سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ مقام ذکر مقدم ہے اور مقام فکر مؤخر۔ (آیت) ” واذکر اسم ربک “۔ ذکر الہی کے عموم میں نماز، تلاوت، اشغال، اذکار، درس علوم دین سب شامل ہیں۔ وذکر اللہ یتناول التسبیح والتھلیل والتکبیر والصلوۃ وتلاوۃ القران ودراستہ العلم (مدارک)
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ پروردگار ہے مشرق ومغرب کا کوئی معبود اس کے سوا نہیں، اسی کو (اپنا) چارہ ساز بنائے رکھئے،7۔

7۔ اس آیت پر پہنچ کر ذرا ملک کی اس فضا کا نقشہ ذہن کے سامنے لے آئیے، جس میں توحید کی یہ آواز اول اول بلند ہوئی تھی، ایک تجارت پیشہ قوم جو اپنی آزادی وخود مختاری، اپنی اقبال مندی، اور اپنی شرافت نسب پر نازاں تھی، اور اپنے جاہلی دین واخلاق اور مشرکانہ تہذیب و تمدن میں مست، توحید اور پاکبازی کے نام سے نا آشنا۔ اس مغرور قوم کے آگے اس کا ایک، جو اس وقت تک نہ ثروت ووجاہت میں ممتاز تھا نہ ملک گیری وفوج کشی میں، تن تنہا کھڑے ہو کر صدا یہ بلند کررہا ہے کہ جن دیویوں دیوتاؤں کی پرستش تم بشتہاپشت سے کرتے چلے آرہے ہو، سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف ایک کو مانو، اپنے فیش کو بدلو، اپنے دین کو بدلو، شرابیں چھوڑو، عریانیاں چھوڑو، قماربازیاں چھوڑ وخونخواریاں چھوڑو، سودی کاربار چھوڑو، غرض دین کے ساتھ ساتھ اپنی دنیا بھی بدل ڈالو۔ خیال تو کیجئے کہ اس داعی کو کس دل وجگر، کس ہمت وعزم کا ہونا چاہیے۔ (آیت) ” رب المشرق والمغرب “۔ ان الفاظ سے شرک کے ان تمام پہلوؤں کی بھی تردید نکل آئی جو مشرک جاہلی قوموں نے آفتاب وماہتاب، طلوع و غروب، دن اور رات اور مختلف سمتوں کے تقدس وغیرہ سے متعلق قائم کر رکھے ہیں۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور ان باتوں پر صبر کئے رہئے جو یہ لوگ کہتے ہیں، اور ان سے خوبصورتی کے ساتھ الگ ہوجائیے،8۔

8۔ (یعنی ان سے شکایت وانتقام کی فکر میں بھی نہ پڑیئے۔ (آیت) ” واھجرھم ھجرا جمیلا “۔ جمیل یہ ہے کہ ترک تعلق تو تمام کرلیا جائے۔ لیکن نفرت و حقارت کے ساتھ نہیں بلکہ خیرخواہی کے ماتحت اور حق تعالیٰ کے لئے۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ سالک اہل دنیا سے احتراز تو رکھے۔ لیکن ساتھ ہی ان کی ہوا خواہی میں بھی لگا رہے۔
Ayah 73:11

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے اور ان صاحب نعمت اہل تکذیب کو چھوڑے رہئے اور ان لوگوں کو تھوڑی مہلت اور دیتے رہئے،9۔

9۔ (میں خود ہی وقت مناسب پر ان سے نپٹ لوں گا) (آیت) ” وذرنی والمکذبین “ یعنی میرے اور ان مکذبیوں کے باب میں صبر وانتظار سے کام لیجئے (آیت) ” اولی النعمۃ “۔ یہ قریش مکہ ایک تجارت پیشہ، مرفہ الحال قوم تھے، انہیں کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 73:12–14

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

ہمارے ہاں تو بیڑیاں ہی ہیں اور دوزخ ہے ،

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں پھنس جانے والی غذا ہے اور عذاب دردناک ہے،

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

) یہ اس روز) جس روز کہ ہلنے لگیں گے زمین اور پہاڑ اور پہاڑ ریگ رواں ہوجائیں گے،10۔

10۔ (اور اڑتے پھریں گے) یہاں پھر ایک بارذھن کے سامنے اس قوم کو لے آئیے، جو قیامت اور روز جراء کے یکسر منکسر ہیں۔ اور حشرونشر کے تخیل ہی کو مضحکہ خیز اور اپنی روشن خیالی پر ایک داغ سمجھ رہے ہیں۔
Ayah 73:15

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہارے پاس ایک رسول بھیجا ہے تم پر گواہ بنا کر جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا،11۔

11۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ (آیت) ” شاھدا علیکم “۔ یعنی یہ رسول ﷺ تمہارے متعلق حشر میں یہ گواہی آکر دیں گے کہ ان لوگوں نے میری تبلیغ و دعوت سے اثر کس کس قسم کا لیا۔
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

تو فرعون نے اپنے رسول کی نافرمانی کی، تو ہم نے ان کو خوب سخت پکڑ میں لیا،12۔

12۔ (انہیں کا سا انجام تمہیں بھی پیش آنے والا ہے، اگر تم نے اصلاح حال نہ کرلی) فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ ممکن ہے اس لئے دیا گیا ہو کہ یہود عرب کے توسط سے قریش حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کارناموں سے اور فرعون کے انجام سے خوب واقف ہوچکے تھے۔
Ayahs 73:17–18

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

سو تم اس دن (کی مصیبت) سے کیسے بچو گے، جو بچوں کو بوڑھا کردے گا ،

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا، بیشک (اللہ کا) وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا،13۔

13۔ عرب کا ٹھیک، آج کے فرنگستان کی طرح اصلی روگ آخرت فراموشی بلکہ آخرت سے انکار تھا۔ قرآن مجید اس لئے ابتدائی مکی سورتوں میں بار بار اور مؤثر انداز میں اسی موضوع کا دہرا دہرا کرکے لاتا ہے۔ (آیت) ” یجعل الولدان شیبا “۔ عربی محاورہ میں یہ کنایہ ہے غایت شدت وہیبت سے۔ (آیت) ” منفطربہ “۔ یعنی آسمان یوم قیامت کی سختی سے پھٹ جائے گا۔ ب سبیبہ ہے۔ بہ اے بیوم القیامۃ یعنی انھا تنفطر بشدۃ ذلک الیوم (مدارک) اے بسببہ یعنی بشدتہ وھو لہ (ابن کثیر) (آیت) ” وعدہ “۔ ضمیر فاعل یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب ہے۔ اے الفاعل وھو اللہ عزوجل (مدارک) یہ بھی جائز ہے کہ مفعول کی جانب سمجھی جائے اور معنی یہ لئے جائیں کہ وہ یوم موعود ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ المصدر مضاف الی المفعول وھو الیوم (مدارک)
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے، سو جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف کا راستہ اختیار کرلے،14۔

14۔ یعنی یہ قرآن ہدایت نامہ ہے تو سب ہی کے لئے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھائیں گے، جو اٹھانا چاہیں گے، جو فائدہ اٹھانے کا قصد کریں گے۔ (آیت) ” تذکرۃ “ یعنی ہدایت نامہ اور وہ بھی کیسا جامع بلیغ، مؤثر ودلنشین ! (آیت) ” فمن ..... سبیلا “۔ متکلمین نے اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ طالب سالک محروم نہیں رکھا جاتا۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ والوں میں سے کچھ لوگ رات کی دو تہائی اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات کھڑے رہتے ہیں اور رات اور دن پورا اندازہ اللہ ہی کرسکتا ہے،15۔ اسے معلوم ہے کہ تم لوگ اسے پورے احاطہ میں نہیں لاسکتے، سو اس نے تمہارے حال پر توجہ کی، سو تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو،16۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض آدمی بیمان ہوں گے اور بعض سفر کریں گے ملک میں اللہ کی روزی کی تلاش میں اور بغض اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے سو تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو،17۔ اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو، اور اللہ کو اچھی طرح قرض دو ،18۔ اور جو بھی نیک عمل اپنے لئے آگے بھیج دو گے، اس کو اللہ کے پاس پہنچ کر اس سے اچھا اور اجر میں بڑھا ہوا پاؤ گے اور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو، بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے ۔19۔

15۔ ( جو تم نہیں کرسکتے) (آیت) ” ان ...... معک “۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ ایک گروہ صحابہ کی بھی شب بیداری کی یہ شہادت قرآن مجید خود دے رہا ہے۔ مستند روایتوں میں آتا ہے کہ یہ حضرات اتنی اتنی دیر تک رات میں کھڑے رہتے تھے کہ پیروں پر ورم آجاتا تھا۔ انھم قامواحتی انتفخت اقدامھم۔ (مدارک) (آیت) ” ان ربک یعلم “۔ مشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ ان الفاظ میں نظر رحمت اور توجہ خاص چھپی ہوئی ہے۔ یعنی جو شب بیداری کرتے ہیں ان پر نظر خاص ہے۔ 16۔ یعنی تمہارے اخلاص نیت لیکن اس کے ساتھ تمہاری عملی دشواریوں کو دیکھ کر تمہارے اوپر نماز تہجد فرض نہیں، تاہم بطور استحباب جتنا چاہو قرآن اس میں پڑھ لیاکرو۔ (آیت) ” علم ان لن تحصوہ “۔ یعنی حق تعالیٰ نے خوب دیکھ لیا کہ تم لوگ اتنی مدت تک قیام بڑی مشقت اور تعب کے بعد ہی کرسکتے ہو۔ اے لن تطیقوا قیامہ علی ھذہ المقادیر بشدۃ ومشقۃ (مدارک) (آیت) ” فتاب علیکم “۔ یعنی جب تمہارے رسوخ فی الدین کی خوب آزمائش ہوگئی، تو اب تہجد گزاری کی فرضیت تم سے ساقط کی جاتی ہے۔ فخفف علیکم واسقط منکم فرض قیام اللیل (مدارک) (آیت) ” فاقرء وا ماتیسرمن القران “۔ قران کو یہاں صلوۃ کے معنی میں لے کر یہ مراد بھی لی گئی ہے کہ جتنی نماز آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لیاکرو، وقیل الن المراد بالقران الصلوۃ لانہ بعض ارکانھا اے فصلوا ماتیسر علیکم (مدارک) 17۔ یہاں دشواری اور تعب کی بنیادی دوسری ہیں۔ اس لئے حکم تیسیر بھی یہاں از سر نو ارشاد ہوا۔ آیت میں تین قسم کے لوگ بیان ہوئے، جن پر تہجد کی پابندی دشوار تھی، (آیت) ” سیکون منکم مرضی “۔ پہلی قسم کے معذور، یہ لوگ ارشاد ہوئے یعنی مریض، اس حکم کی علت اپاہجوں اور زیادہ بورھوں کو بھی شامل ہے۔ (آیت) ” اخرون ..... فضل اللہ “۔ معذوروں کی یہ دوسری قسم مسافروں کی ارشاد ہوئی اس کے تحت میں کل وہ لوگ آگئے جو وطن سے خواہ تجارت کے لئے نکلے ہوئے ہوں۔ خواہ طلب علم کے لئے یا اور کسی جائز غرض سے۔ (آیت) ” اخرون ...... سبیل اللہ “۔ اس کے تحت میں سارے غازی اور مجاہدین آگئے۔ فقہاء مفسرین نے یہایہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ قرآن مجید نے یہاں تاجروں اور مجاہدوں کو مساوی درجہ میں رکھ دیا ہے۔ اور کیوں نہ ہو حلال ذریعہ معاش کی تلاش بھی تو جہاد ہی ہے۔ سوے بین المجاھد والمکتسب لان کسب الحلال جہاد (مدارک) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ طالبین سالکین کے ساتھ مجاہدات واوراد میں مرشدین جو رعایت و سہولت کا برتاؤ رکھتے ہیں۔ اس کی ماخذ یہی آیتیں ہیں۔ 18۔ یعنی حق تعالیٰ کی راہ میں اور اس کے دین کے شیوع و استحکام کے لئے اخلاص، حسن نیت وخوشدلی کے ساتھ خرچ کرو۔ (آیت) ” قرضاحسنا “۔ اس پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” الزکوۃ “۔ عبادت بدنی اور مالی کے یہ احکام تو مستقل اور ہر ملک وزمانہ کے لئے ہیں۔ 19۔ (تو تمہارے طلب مغفرت پر کیوں نہ تمہارے ساتھ مغفرت و رحمت کا برتاؤ کرے گا) (آیت) ” ھو .... اجرا “۔ یعنی دنیوی اغراض میں خرچ کرنے سے جو عوض اور نفع مرتب ہوتا ہے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر یہ پائدار اور دائمی اجر ملے گا۔ (آیت) ” وما ...... عنداللہ “۔ کوئی خفیف ساخفیف بھی عمل خیر حق تعالیٰ کے ہاں ضائع جانے والا نہیں۔