Ayah 73:1یایھا المزمل . ( مُزَّمِّلٌ اسم فاعل ہے ‘ اس کا مصدر تزمّلٌ ہے) تزملٌ کی تاء کو زاء میں ادغام کردیا گیا ‘ اس کا معنی
ہے کپڑوں میں لپٹ جانا۔ تَزَمَّل ثِیَابَہٗ اس نے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیے۔ مدثر کے بھی یہی معنی اور یہی اصل ہے۔ تبلیغ رسالت سے پہلے ابتداء وحی میں رسول اللہ ﷺ کو اسی خطاب سے مخاطب کیا گیا۔ اسوقت دہشت کے مارے حضور ﷺ کپڑے لپیٹے ہوئے تھے۔ اس زمانہ کے بعد پھر نبی ﷺ اور رسول ﷺ فرماکر خطاب کیا گیا۔
حضرت جابر کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ توقف وحی کے متعلق بیان فرما رہے تھے کہ میں پیدل جا رہا تھا ‘ اچانک ایک آواز سنی ‘ اوپر نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو حراء میں میرے پاس آیا تھا ‘ کرسی پر بیٹھا آسمان و زمین کے درمیان (معلق) موجود تھا ‘ مجھے اس سے اتنا ڈر لگا کہ قریب تھا زمین پر گر جاؤں ‘ گھر لوٹ کر آیا تو میں نے گھر والوں سے کہا : مجھے کپڑے اڑھاؤ۔ اس وقت اللہ نے یایھا المدثر سے فاھجر تک آیتیں نازل فرمائیں۔ پھر وحی مسلسل ہوگئی اور پے درپے آنے لگی۔ (متفق علیہ)
صحیحین میں حضرت عائشہ کی روایت کردہ طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے پاس جا کر فرمایا : مجھے کپڑے اڑھاؤ ‘ مجھے کپڑے اڑھاؤ ‘ گھر والوں نے کپڑے اڑھا دیئے۔ یہاں تک کہ آپ کی دہشت جاتی رہی۔ ہم اس حدیث کو سورة اقراء میں ذکر کریں گے۔ بزار اور طبرانی نے ضعیف سند سے بیان کیا ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا : مشورہ گھر (چوپال) میں قریش نے جمع ہو کر کہا : اس شخص کا کوئی خاص نام رکھ دو کہ لوگ اس نام کو لے کر (مکہ) سے باہر نکلیں (اور وہ نام اطراف ملک میں مشہور ہوجائے) لوگوں نے کہا : اس کو کاہن کہو ‘ دوسرے کہنے لگے : یہ کاہن تو نہیں ہے۔ کہنے لگے : دیوانہ کہہ دو ‘ دوسروں نے کہا : یہ دیوانہ بھی نہیں ہے۔ کہنے لگے : ساحر کہو۔ بولے : ساحر بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ ﷺ کپڑا اوڑھ کر لیٹ گئے اس وقت جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور یایھا المزمل اور یایھا المدثر کہا۔
Ayah 73:2قم . یعنی نماز پڑھ ‘ قیام سے نماز مراد ہے۔ جزء بول کر کل مراد لیا ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قیام رکن صلوٰۃ ہے یہی اجماعی فیصلہ ہے۔
الیل . رات بھر۔ اللیل ظرف زمان ہے حرف جر (فی) کا حذف بتارہا ہے کہ پوری رات مراد ہے جیسے بولا
جاتا ہے : صمت شہرًا میں نے پورے مہینہ کے روزے رکھے لیکن صمت فی الشھر کا یہ معنی نہیں ہے۔ میں نے مہینہ میں روزے رکھے یعنی مہینہ کے بعض حصوں میں۔
الا قلیلا . اس استثناء کی وجہ سے قیام کا حکم رات کے کچھ حصہ میں باقی رہ گیا لیکن استثناء مبہم ہے جس کی وجہ سے
اس بات میں بھی ابہام رہ گیا کہ رات کے کتنے حصہ میں قیام کا حکم باقی ہے ‘ اس ابہام کو دور کرنے کے لیے فرمایا۔
Ayah 73:3نصفہ . یہ اللیل سے بدل ہے جبکہ لیل سے قلیل کا استثناء کرلیا گیا ہو تو گویا بدل کل ہے (بدل بعض نہیں
حالانکہ نصف لیل کل لیل کا جزء ہے مگر استثناء کے بعد لیل سے مراد کل لیل نہیں۔ جزء لیل مراد ہے اور وہ جزء باقی بعینہٖ نصف لیل ہے ‘ اسلئے بدل کل ہوگیا) کیونکہ قاعدہ ہے کہ استثناء کے بعد جو حصہ باقی رہتا ہے وہ منطوق کے حکم میں ہوتا ہے (پس استثناء کے بعد کل لیل باقی نہیں بلکہ جزء لیل باقی رہا اور اسی جزء سے نصفہ بدل ہے پس) اصل کلام یوں ہوا کہ رات کے بعض حصہ میں نماز پڑھو ‘ یعنی آدھی رات۔
بعض اہل تفسیر نے نصفہ کو قلیل کا بدل اور بیان قرار دیا ہے۔ مستثنیٰ کی تعیین نصفہ کہنے سے ہوگئی اور استثناء کے بعد جو حصہ باقی رہ گیا ‘ اس کا ابہام دور ہوگیا (یعنی آدھی رات حکم قیام سے مستثنیٰ ہے۔ لامحالہ آدھی باقی رہی) حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ لفظ قلیل کا نصف پر اطلاق اس لیے کیا گیا کہ کل کے مقابلہ میں نصف قلیل ہی ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نصف رات میں نماز نہ پڑھنا یعنی سونا معمولاً سونے سے کم ہی ہوتا ہے کیونکہ اللہ نے رات آرام کے لیے بنائی ہے ‘ ایک بات یہ بھی ہے کہ جب آدھی رات تہجد کی نماز کے لیے ہوگئی تو دوسرے نصف میں مختلف مشاغل بھی ہوئے ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں ‘ کھانا ‘ پینا ‘ قضائے حاجت وغیرہ تو سونے کے لیے آدھی رات سے کم حصہ باقی رہا۔
بعض لوگوں نے نصفہ کو اللیل سے بدل قرار دیا ہے اور استثناء اس نصف سے مانا ہے ‘ گویا اصل کلام یوں تھا : قم نصف الیل الا قلیلا۔ آدھی رات نماز پڑھو ‘ مگر آدھی رات میں سے بھی کچھ حصہ مستثنیٰ ہے اس صورت میں لفظ نصف کے ذکر سے پہلے استثناء لازم آئے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی قباحت ہوگی کہ نصف کا لفظ چونکہ اللیل سے بدل بعض ہوگا اور بدل بعض قصر میں استثناء کی طرح ہوتا ہے تو قصر استثنائی کا قصر بدل سے تقدم ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ بیان کے بعد بھی کلام مجمل رہے گا۔
او انقص منہ قلیلا . قم پر عطف ہے یعنی وہ نصف جو استثناء کے بعد باقی رہتا ہے اس میں سے کچھ اور کم کر لو
اس وقت نصف النصف یعنی چہارم حصہ سے کچھ زیادہ قیام ہوگا۔
Ayah 73:4او زد علیہ . یا نصف سے جتنا چاہو زیادہ کرلو۔ اس آیت میں جس قیام کا حکم دیا گیا ہے وہ چوتھائی شب سے زیادہ ہوا ‘ خواہ گھڑی بھری کی زیادتی ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں قیام کا حکم وجوبی ہے کیونکہ امر کا اصل تقاضاء وجوب ہے۔ اس جگہ بغوی کے کلام کا جو حصہ حضرت عائشہ ؓ وغیرہ کی حدیث سے مستفاد ہے۔ مقتضی یہ ہے کہ اس آیت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت پر پہلے قیام شب واجب تھا ‘ پھر منسوخ کردیا گیا۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ ؓ قیام شب کرتے تھے لیکن کسی کو معلوم نہ ہوتا تھا کہ تہائی رات کب ہوئی اور نصف کب ہوئی اور دو تہائی کب ہوئی۔ اس طرح ساری رات قیام میں گزرتی تھی تاکہ کہیں واجب مقدار فوت نہ ہوجائے۔ یہ بات صحابہ ؓ پر بہت شاق گزرتی تھی ‘ یہاں تک کہ ان کے پاؤں پر ورم آگیا تھا۔ آخر میں اللہ نے رحم فرمایا ‘ حکم میں تخفیف فرما دیا اور آیت : فاقرؤوا ما تیسر منہ سے حکم کو منسوخ کردیا۔ اب قیام سنت رہ گیا (وجوب ساقط ہوگیا) ۔
سعید بن ہشام کا بیان ہے ‘ میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا : امّ المؤمنین مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق بتائیے۔ فرمایا : کیا تو قرآن نہیں پڑھتا ؟ میں نے عرض کیا : پڑھتا کیوں نہیں ہوں ‘ فرمایا : تو رسول اللہ ﷺ کا خلق قرآن تھا۔ میں نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ کے قیام شب کے متعلق فرمائیے۔ فرمایا : کیا تو یایھا المزمل نہیں پڑھتا ؟ میں نے عرض کیا : پڑھتا کیوں نہیں ہوں۔ فرمایا : اس سورت کے شروع میں اللہ نے قیام فرض کردیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ سال بھر تک رات کو قیام کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ پاؤں سوج گئے۔ سورت کی آخری آیات کو بارہ مہینے تک اللہ نے آسمان پر روکے رکھا۔ پھر سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرما دی۔ اس کے بعد قیام شب نفل ہوگیا۔ ابوداؤد ‘ نسائی ‘ بغوی اور حاکم و ابن جریر نے اسی طرح کی روایت حضرت ابن عباس ؓ کی نقل کی ہے۔
مقاتل اور ابن کیسان کا بیان ہے کہ یہ واقعہ (یعنی فرضیت قیام شب) پنجگانہ نماز کے فرض ہونے سے پہلے کا ہے جو مکہ میں تھا جب پانچ نمازیں فرض ہوگئیں تو فرضیت قیام منسوخ ہوگئی۔
میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ فرضیت قیام رسول اللہ ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھی کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : ان ربک یعلم انک تقوم ادنٰی من ثلثی اللیل و نصفہ و ثلثہ و طآئفۃ من الذین معک۔ اللہ جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات سے کم اور آدھی رات اور تہائی رات نماز پڑھتے ہو اور تمہارے ساتھیوں کا ایک گروہ بھی نماز پڑھتا ہے۔ اس آیت میں من الذین کا مِنْ تبعیضیہ ہے جو بتارہا ہے کہ بعض صحابہ ؓ نماز شب پڑھتے تھے اور بعض نہیں پڑھتے تھے (اگر عمومی فرض ہوتا تو سب پڑھتے) ۔
سوال اگر فرضیت قیام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص ہوتی تو مندرجہ ذیل آیت میں امت سے بار کم کرنے کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے (جب امت پر فرض ہی نہ تھا تو تخفیف فرض کے معنی ہی کیا ہوسکتے ہیں) ۔
اللہ نے (حکم تخفیف کے سلسلہ میں) فرمایا : علم ان سیکون منکم مرضٰی و اخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ و اٰخرون یٰقتلون فی سبیل اللہ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ آئندہ تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے ‘ کچھ فضل خدا (روزی) کی طلب میں سفر کریں گے ‘ کچھ راہ خدا میں جہاد کریں گے۔ اس آیت کا تقاضا ہے کہ امت کی حالت اور ضعف کے پیش نظر حکم میں تخفیف کی گئی ہے۔
جواب فرض تو رسول اللہ ﷺ پر ہی تھا لیکن تخفیف ‘ امت کے ضعف کو دیکھ کر کی گئی کیونکہ جس عمل پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت کی ہو (خواہ برطریق وجوب یا بطور نفل) اس کا اتباع سنت ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ امت اس پر عمل کرے مگر برطریق وجوب نہیں (کہ اس کو ترک کرنے والا مستحق عذاب ہوجائے) بلکہ اس طور پر ترک کرنے والے کو صرف ملامت کی جائے۔ اللہ نے فرمایا ہے : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الاٰخر۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ مسنون صرف وہی چیز ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے بطور نفل مداومت کی ہو۔ نفل کے ساتھ اس تعریف کو مقید کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ صوم وصال سے احتراز ہوجائے ( رسول اللہ ﷺ نے تہ کے روزے رکھے اور مداومت کی لیکن امت کے لیے تہ کا روزہ رکھنا مسنون نہیں) ۔
علماء کا یہ قول غلط ہے کیونکہ اصل چیز رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور اتباع ہے۔ خواہ حضور ﷺ نے وہ کام بطور وجوب کیا ہو یا بطور نفل۔ ہاں ! یہ ضروری ہے کہ امت کے حق میں وہ عمل حرام یا مکروہ تحریمی نہ ہو۔ جیسے تہ کا روزہ ‘ ایک وقت میں چار عورتوں سے زائد سے نکاح (یہ دونوں کام رسول اللہ ﷺ نے کیے مگر امت کیلئے جائز نہیں) مداومت رسول کو نفل مداومت کے ساتھ مشروط کرنا بےاصل بات ہے۔
و رتل القرآن ترتیلا . اس کا عطف قم اللیل پر ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ بالاتفاق ترتیل قرآن مستحب ہے
اور جب اس کا عطف قیام کے حکم پر ہے تو اس عطف کا تقاضا ہے کہ قیام بھی مستحب ہو (واجب نہ ہو) مگر یہ استدلال غلط ہے (کیونکہ اوّل تو امر کا امر پر عطف نہیں چاہتا کہ دونوں وجوبی یا استحبابی ہوں۔ دوسرے یہ کہ اگر وجوب یا استحباب میں شرکت بھی عطف کی وجہ سے ضروری قرار دی جائے تب بھی مسئلہ برعکس ہونا چاہیے۔ معطوف حکم معطوف علیہ میں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اعراب اور نوعیت اول کی ہو وہ دوسرے کی ہونی چاہیے ‘ وجوب و استحباب میں اس کو کیا دخل ہے اور بالفرض شرکت وجوب و استحباب ہی ضروری ہو تو اوّل واجب ہے اس لیے دوسرے کو بھی واجب ہونا چاہیے ‘ نہ یہ کہ دوسرا مستحب ہے اس لیے اول کو بھی مستحب ہونا چاہیے۔ اوّل اصل ہے اور دوسرا اس کی فرع۔ فرع کا حکم اصل کا حکم ہوتا ہے نہ یہ کہ اصل کا حکم فرع کے حکم کے موافق ہو) ۔
حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا پڑھ اور ترقی کر اور ترتیل کر۔ تیری منزل اس آخری آیت کے پاس ہے جو تو پڑھتا تھا۔ (احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ نسائی)
ترتیل کا معنی ہے سہولت اور اسی کے ساتھ زبان سے لفظ کو نکالنا۔ صراح و قاموس۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : رتل القرآن۔ قرآن کو کھول کر بیان کر۔ حسن بصری (رح) سے بھی یہی مطلب منقول ہے ‘ مجاہد نے کہا : ترتیل کا معنی ہے ایسی قراءت جس میں اِرْسال ہو۔ قتادہ (رح) نے کہا : حضرت انس سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی قراءت کیسی تھی ؟ فرمایا : کھینچ کر تھی۔ پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی قراءت ‘ اللہ اور الرحمن اور الرحیم کو کھینچ کر کی۔ (بخاری)
میں کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لام کے بعد اور الرحمن کی میم کے بعد الف کا اظہار ایک حرکت کے برابر کیا اور الرحیم میں وقف کی حالت میں دو حرکتوں کی برابر بھی مد جائز ہے اور وصل کی حالت میں تو بالاجماع الرحیم میں بھی ایک ہی حرکت کے برابر مد کیا جائے گا۔ حضرت امّ سلمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت دریافت کی گئی تو آپ نے قراءت ِ نبوی کی تشریح کرتے ہوئے ایک ایک حرف کھول کر پڑھا۔ یعنی فرمایا کہ ایک ایک حرف علیحدہ علیحدہ پڑھتے تھے (تمام حروالگ الگ سمجھ میں آجاتے تھے) ۔ (ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ نسائی) یہ بھی حضرت امّ سلمہ ؓ سے منقول ہے کہ حضور ﷺ : قراءت توڑ دیتے تھے۔ (یعنی) الحمد اللہ ربّ العالمین پڑھ کر ٹھہراو کرتے تھے ‘ پھر الرحمن الرحیم پڑھ کر ٹھہراؤ کرتے تھے۔ (ترمذی) میں کہتا ہوں ‘ ترتیل کے اندر خوش آوازی سے قرآن پڑھنا بھی شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ اللہ کسی چیز کی طرف اتنا متوجہ نہیں ہوتا جتنا نبی کی خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ (ہم نے اَذِنَ کا ترجمہ متوجہ ہونا کیا ‘ لفظی ترجمہ ہے کان لگانا) ۔ (بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ کی دوسری روایت میں ہے ‘ اللہ (سننے میں) اتنی توجہ کسی چیز کی طرف نہیں کرتا جتنی اس خوش آواز نبی کی طرف کرتا ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا ہو۔ (بخاری و مسلم)
یہ بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جو قرآن کی قراءت میں تغنی نہ کرے وہ ہم سے غیر متعلق ہے۔ (بخاری) تغنی سے مراد گانا نہیں ہے یہ تو حرام ہے بلکہ خوش آوازی سے پڑھنا مراد ہے۔ بعض روایات میں خوش آوازی سے پڑھنے کی صراحت بھی آئی ہے۔
حضرت حذیفہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرآن کو عرب کے لہجوں اور آوازوں میں پڑھو۔ اہل عشق اور یہود و نصاری کے لَے سے پرہیز کرو۔ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن میں گٹکری لگائیں گے جیسے گانے اور نوحہ کرنے میں گٹکری کی جاتی ہے۔ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا۔ ان کے دل اور ان کی اس کیفیت کو پسند کرنے والوں کے دل فتنہ زدہ ہوں گے۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
فائدہ قرآن کے نصیحت آفریں الفاظ و معانی پر غور کرنا ‘ عذاب کی آیت کو پڑھ کر ڈرنا اور ثواب کی آیت پڑھ کر امیدوار ہونا وغیرہ ترتیل کے فوائد ہیں۔
بغوی نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن کو نہ بکھیرو ‘ نہ شعروں کی طرح گاؤ ‘ اس کے عجائب پر ٹھہراؤ کرو۔ اس سے دلوں کو ہلا دو اور سورت کو آخر تک ختم کرنا ہی تمہارا اصل مقصود نہ ہو۔
حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز شب پڑھی۔ آپ ﷺ جب بھی جنت کے ذکر والی آیت پر پہنچتے تو ضرور ٹھہر کر اللہ سے جنت کی درخواست اور جب بھی دوزخ کے ذکر والی آیت پر پہنچے تو ٹھہر کر دوزخ سے پناہ مانگی۔
حضرت عبید ملکی صحابی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے قرآن والو ! قرآن کو سرہانہ نہ بناؤ اور اوقاتِ شب و روز میں اس کی تلاوت کرو اور جیسا حق ہے ویسی تلاوت کرو۔ قرآن کو پھیلاؤ ‘ قرآن کو خوش آوازی سے پڑھو ‘ قرآن کے مضامین پر غور کرو تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو ‘ اس کی قراءت جلدی جلدی نہ کرو۔ اس کی تلاوت (کا بھی) ثواب ہے۔ (بیہقی)
حضرت سہل بن سعد ساعدی نے فرمایا : ہم قرآن پڑھ رہے تھے ‘ اچانک حضور اقدس ﷺ برآمد ہوئے اور فرمایا : اللہ کی کتاب ایک ہے۔ تم میں علماء بھی ہیں اور تم میں کالے ‘ گورے بھی ہیں۔ قرآن پڑھو ‘ اس زمانہ سے پہلے پڑھو جب کہ کچھ لوگ ایسے آئیں گے کہ قرآن پڑھیں گے اور ایسے درست حروف ادا کریں گے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے مگر قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا۔ وہ فوری اجر قرآن کے طالب ہوں گے۔ اجر قرآن میں تاجیل نہیں کریں گے (یعنی ثواب آخرت کے طالب نہیں ہوں گے) ۔
Ayah 73:5انا سنلقی علیک قولا ثقیلا . بعض کا قول ہے کہ قولاً ثقیلاً سے مراد ہے نماز شب کا حکم ‘ کیونکہ نماز شب
نفس کے لیے بہت گراں ہے۔ اس تفسیر پر یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید اور ضمیمہ ہے اور سنلقی میں سین استقبال کیلئے نہیں ہے صرف تاکید کے لیے ہے۔ بعض کے نزدیک قرآن مراد ہے ‘ محمد بن کعب نے کہا : منافقوں پر قرآن بھاری ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں اس صورت میں یہ قول آیت : کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ کی طرح ہوگا۔ مشرکوں پر وہ امر گراں ہے جس کی تم ان کو دعوت دے رہے ہو۔ حسن بن فضل کا قول ہے کہ میزان میں بھاری ہوگا۔ میں کہتا ہوں ‘ اسی کی مثال وہ حدیث ہے ‘ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں میزان میں بھاری ہوں گے ‘ رحمن کو پیارے ہیں یعنی سبحان اللہ وبحمدہ ‘ سبحان اللہ العظیم۔ (بخاری و مسلم)
مقاتل نے کہا قرآن ثقیل ہے اس لیے کہ اس میں امر ‘ نہی اور حدود ہیں۔ قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ ابو العالیہ نے کہا وعدہ اور وعید کی وجہ سے ثقیل ہے۔ ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ قرآن میں سخت اوامرو نواہی ہیں۔ وعدۂ ثواب اور وعید عذاب ہے اور قیامت کا تذکرہ ہے اور جن لوگوں کو ان کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ‘ ان کے لیے یہ بار ہیں۔ خصوصاً رسول اللہ ﷺ پر تو اس کا بار مزید ہے۔ آپ ﷺ خود بھی اس بار کو اٹھانے پر مامور ہیں اور امت سے اٹھوانے پر بھی۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے سورة ہود اور اس کی ساتھ والی (سورتوں) نے بوڑھا کردیا۔ یہ حدیث عتبہ بن عامر اور ابو جحیفہ کی روایت سے طبرانی نے نقل کی ہے۔ حضور ﷺ کی مراد یہ ہے کہ اس میں اللہ نے حکم دیا ہے : فاستقم کما امرت ومن تاب معک۔ تم بھی حسب الحکم استقامت رکھو اور تمہارے ساتھ جو لوگ مؤمن ہیں وہ بھی استقامت رکھیں (اس دوہرے حکم نے رسول اللہ ﷺ کو بوڑھا کردیا) یا یہ مراد ہے کہ اس میں قیامت کا اور گزشتہ اقوام پر غالب آنے کا ذکر ہے (اس ہیبت نے حضور ﷺ کو بوڑھا کردیا) آخر الذکر مطلب کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو حاکم نے ابوبکر کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے سورة ہود اور الواقعہ اور المرسلات اور عم یتساء لون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا۔ ترمذی بروایت حضرت ابن عباس ؓ اور حاکم بروایت حضرت ابوبکر ؓ اور ابن مردویہ بروایت حضرت سعد۔ اسی قسم کی روایت حضرت انس ؓ سے بھی آئی ہے جس کو عبداللہ بن احمد نے بیان کیا ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ مجھے سورة ہود اور اس کے ساتھ والیوں نے بوڑھا کردیا کیونکہ ان میں قیامت کا تذکرہ اور قوموں کے واقعات کا بیان ہے۔
بعض لوگوں نے کہا غور کرنے والے کے لیے قرآن ثقیل ہے کیونکہ غور کرنے کے لیے اس کو مزید باطنی تصفیہ اور فکری تجرید کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کے معانی کا استحکام اور متانت اس کی طالب ہے یہ توجیہ گزشتہ اور آئندہ (آیات) کے مناسب ہے اس لیے غور کرنے اور سمجھنے کے لیے ترتیل ہے اور رات کو اٹھنا دل اور زبان کے درمیان موافقت پیدا کرنے کے لیے بہت سخت ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوفی کے باطن کے لیے قرآن ثقیل ہے کیونکہ مخلوق کے دل پر خالق بزرگ و برتر جلوہ پاش ہوتا ہے۔ فراء کے قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ فراء نے کہا : قرآن ثقیل ہے خفیف اور لچر نہیں ‘ ہمارے رب کا کلام ہے۔
ہمارے شیخ اجل ‘ مرشد کامل نے فرمایا کہ حقیقت قرآن کا انکشاف سالک کے باطن کے لیے بڑا وزنی ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ نے فرمایا : انا سنلقی علیک قولًا ثقیلاً ۔ میں کہتا ہوں اس معرفت کی تائید آیت : لو انزلنا ھٰذا القراٰن علٰی جبل لرایتہ خاشعًا متصدعًا من خشیۃ اللہ سے ہوتی ہے اور یہی معنی ہے اس قول کا کہ قرآن کو قبول کرنا ثقیل ہے۔
حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی اترتی تھی تو آپ ﷺ بےچین ہوجاتے تھے اور چہرۂ مبارک فق ہوجاتا تھا۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ بھی سر جھکا لیتے تھے اور صحابہ ؓ بھی۔ جب کیفیت وحی زائل ہوجاتی تو سر اٹھاتے تھے۔
صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حارث بن ہشام نے خدمت مبارک میں عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ پر وحی کس طرح آتی ہے ‘ فرمایا : کبھی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور یہ زیادہ تکلیف رساں ہوتی ہے ‘ کیفیت وحی دور ہوتی ہے تو میں اس کو محفوظ کرچکا ہوتا ہوں ‘ کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں آکر کلام کرتا ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے ‘ میں یاد رکھتا ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے خود دیکھا کہ آپ ﷺ پر وحی اتر رہی تھی ‘ سخت سردی کا دن تھا ‘ جب وحی منقطع ہوئی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹا پڑ رہا تھا۔ (متفق علیہ)
یہ بھی احتمال ہے کہ ثقیل کا معنی یہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کا رخ پہلے اللہ کی طرف تھا ‘ توجہ الی اللہ میں (ہمہ تن) مشغول تھے۔ غار حراء کی تنہائی میں شبہا شب عبادت کرتے تھے ‘ اسی حالت میں حکم ہوا : قم فانذر اور انذر عشیرتک الا قربین۔ اب دعوت ‘ تبلیغ ‘ ہدایت اور تکمیل کے لیے مخلوق کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا اور یہ امر دشوار اٹھانا پڑا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ گھر والوں کی طرف جانا اور اس کے لیے توشہ لینا پھر لوٹ کر حضرت خدیجہ الکبریٰ کے پاس جانا اور غذا حاصل کرنا یہ امر ثقیل تھا۔ (کذا فی الصحیحین فی حدیث عائشہ) دوسروں کو ہدایت کرنا اور کامل بنانا اگرچہ خود کمال حاصل کرنے اور خلوت میں رہنے سے افضل ہے مگر کبھی یہ عمل صوفی کی طبیعت کے خلاف ہوتا ہے اور ابتداء میں صوفی خیال کرتا ہے کہ اللہ کی طرف رخ کرنے اور خلوت میں رہنے سے مخلوق کی طرف رخ کرنا اور اس کو ہدایت کرنا ادنیٰ ہے (مگر حقیقت اس کے خلاف ہے) اسی لیے کہا گیا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے (کیونکہ ولی کا رخ خدا کی طرف اور نبی کا رخ مخلوق کی ہدایت کی طرف ہوتا ہے) اس قول کی مراد یہ ہے کہ نبی کی ولایت اس کی نبوت سے افضل ہوتی ہے کیونکہ ولایت میں اللہ کی طرف توجہ ہوتی ہے اور نبوت میں مخلوق کی طرف۔ مگر حضرت شیخ مجدد الف ثانی (رح) نے فرمایا ہے : یہ قول تحقیق پر مبنی نہیں ہے۔ ولایت کا درجہ (کسی کا ہو ‘ ولی کا ہو یا نبی کا) نبوت کے درجے سے ادنیٰ ہے ‘ نبوت بہرحال ولایت سے افضل ہے کیونکہ صوفیہ کی نظر میں نبوت نام ہے سیر ذات کا اور ولایت نام ہے سیر صفات کا اور دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اصطلاح صوفیہ میں خدا کی طرف رخ کرنے کو عروج اور مخلوق کی طرف متوجہ ہونے کو نزول کہتے ہیں۔ دونوں سیروں میں صوفی کو دونوں مقام پیش آتے ہیں۔ مقام ولایت میں اترنے والے کی توجہ خواہ مخلوق کی طرف ہو مگر عروج کی انتہا تک چونکہ اس کی رسائی نہیں ہوتی اس لیے کمال کی طلب میں اس کا رخ اوپر کے مراتب کی طرف ہوتا ہے اور مقام نبوت پر پہنچ جانے والا کمال کو پہنچ چکا ہوتا ہے اور کمال عروج تک پہنچ جانے کے بعد ہی اس کا نزول خلق کی طرف ہوتا ہے اس لیے وہ بالکل مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے تاکہ دوسروں کو حسب حکم خداوندی کامل بنا دے۔ خواہ یہ عمل اس کی طبیعت اور مراد کے خلاف ہی ہو۔ لہٰذا اس کا درجہ افضل اور اکمل ہوتا ہے اور جب تک یہ دوسری زندگی (یعنی تبلیغ و ارشاد کی زندگی) باقی رہتی ہے یہ جہاد باقی رہتا ہے (کہ نبی کی طبیعت یکسو ہو کر اللہ کی طرف مکمل توجہ رکھنی چاہتی ہے اور حکم خداوندی اس کو تبلیغ و ارشاد کے لیے مخلوق کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کرتا ہے) آخر اس تبلیغی زندگی سے فارغ ہو کر نبی رفیق اعلیٰ سے مل جاتا ہے اور اس وقت بالکل مراتب عالیہ کی طرف اس کا رخ ہوجاتا ہے اور دونوں قسم کے مراتب اس کو نصیب ہوتے ہیں۔ ایک تو اپنی زندگی کی تکمیل کا ثواب۔ دوسرا ان لوگوں کے ہدایت یاب ہونے کا ثواب ‘ جو نبی کی رہنمائی سے راہ راست پر چلے۔
غرض یہ کہ انا سنلقی کا جملہ یا سابق جملہ کا ضمیمہ اور تاکید ہے یا قیام شب کی حکمت بیان کرنے کے لیے مستقل جملہ ہے کیونکہ قیام شب سے نفس کی ریاضت ہوتی ہے اور طبیعت کی مخالفت کی مشق ہوتی ہے یا یہ کہ نماز بجائے خود رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ احمد ‘ نسائی اور بیہقی نے حضرت انس کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز میرے لیے خنکئ چشم بنادیگئی ہے۔ ابوداؤد نے ایک خزاعی صحابی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت بلال ؓ سے) فرمایا : بلال ! نماز کی اقامت کہہ کر ہم کو سکھ پہنچاؤ۔ گویا مخلوق کی طرف متوجہ ہونے کا جو بار رسول ﷺ پر پڑتا تھا اس کی تلافی تہجد سے ہوجاتی تھی یا یوں کہا جائے کہ نبی ﷺ کے تہجد کا اثر براہ راست نفوس امت پر پڑتا ہے۔ پس قیام شب سے امت کے نفوس کو متاثر کرنا مقصود ہے تاکہ امت والے جب نبی ﷺ کے قولکوسنیں تو مان لیں جیسے دعوت نبی کو سن کر جنات نے مانا تھا ‘ یا یہ کہا جائے کہ (قیامت کے دن) مقام شفاعت میں قیام کرنے سے قیام شب کو خاص تعلق ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا : ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک عسآی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًا۔
Ayah 73:6ان ناشءۃ الیل . ازہری نے کہا : ناشءۃ بروزن فاعلۃ عافیۃ کی طرح مصدر ہے یعنی رات کو کھڑے ہونا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : سونے کے بعد رات کو (نماز کے لیے) اٹھنا ‘ اس صورت میں ناشءۃ الیل اور تہجد کا ایک ہی معنی ہوگا۔ ابن کیسان نے کہا : آخر شب میں اٹھنا ناشءۃ الیل ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا حبشی زبان میں نَشَأَ کا معنی ہے قامَ (اٹھا ‘ کھڑا ہوا) اس لیے رات کی جس ساعت میں قیام ہو وہ ناشءۃ ہے۔ ابن زید کا بھی یہی قول ہے۔ عکرمہ ؓ نے اوّل شب میں قیام کو ناشءۃ کہا ہے۔
بغوی نے حضرت امام زین العابدین کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام حسین ؓ مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے اور فرماتے تھے یہ ناشءۃ الیل ہے۔ عکرمہ ؓ اور امام حسین ؓ کے اقوال بظاہر اس مقام کے مناسب نہیں (یعنی اس جگہ مراد نہیں ہیں) کیونکہ رسول اللہ ﷺ پچھلی رات کے قیام پر مامور تھے۔ حسن نے کہا : عشاء کے بعد ہر نماز ناشءۃ ہے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ ناشءۃ اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اسم فاعل (اٹھنے والا) ہی یہاں مراد ہے۔ یعنی خوابگاہ سے عبادت کے لیے اٹھنے والا نفس۔ یہ اسم فاعل نشأَ من مکانہٖ سے بنا ہے (فلاں شخص اپنی جگہ سے اٹھ گیا یعنی) رات کی تمام ساعتوں میں اٹھا۔ رات کی ہر ساعت بھی ناشءۃ ہے کیونکہ ہر ساعت آغاز نشوء کا وقت ہے (گویا اس وقت ناشءۃ بمعنی ظرف ہوگا) اسی سے ہے نشات السحابۃ و بدت بادل اٹھا اور نمودار ہوا۔ پس جو واقعہ رات کو پیدا ہو اور نمودار ہو وہ ناشی ہے اور ناشی کی جمع ناشءۃ ہے۔ ابن ملیکہ نے بیان کیا میں نے حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن زبیر ؓ سے ناشءۃ کے معنی دریافت کیے ‘ دونوں نے فرمایا : پوری رات ناشءۃ ہے۔ اس تقدیر پر ناشءۃ کی لیل کی طرف اضافت بیانیہ ہوگی۔
ھی اشد وطا . ابن عامر اور ابو عمر کی قراءت میں وِطَاءً ہے وِطَاءٌ کا معنی ہے موافقت ‘ یعنی قیام شب کے اوقات میں قلب کی موافقت زبان سے خوب ہوتی ہے (زبان سے تلاوت اور قلب میں حضور ہوتا ہے) دن میں قلب کی طرف سے زبان کی موافقت رات کی برابر نہیں ہوتی۔ جمہور کی قراءت میں وَطْأً ہے وطأً کا معنی ہے بار یعنی دن کی نماز سے رات کی نماز کا زیادہ بار پڑتا ہے کیونکہ رات سونے اور آرام کرنے کے لیے ہوتی ہے اسی ( ثقل کے) معنی میں ہے یہ حدیث : اللّٰھم اشدد و طأتک علٰی مضر۔ اے اللہ ! اپنی طرف سے قبائل مضر پر سخت دکھ مسلط فرما۔ آدمی جب ثقیل ترین عبادت کا عادی ہوجاتا ہے تو باقی احکام تکلیفیہ کی برداشت اس کے لیے آسان ہوجاتی ہے اور جو کام نفس پر زیادہ گراں گزرتا ہے اور زیادہ وزن ڈالتا ہے بشرطیکہ اس میں حدود سنت سے تجاوز نہ ہو ‘ وہ میزان کے پلڑہ کو بھاری کرنے والا اور نفس کو زیادہ متاثر بنانے والا ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اوّل رات کی نماز زیادہ بار ڈالنے والی ہوتی تھی۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے فرض کی ہوئی نماز سب (اگر اوّل رات میں پڑھ لی جائے تو اس) کا احصاء ہوجاتا ہے (ناغہ نہیں ہوسکتی) کیونکہ جب آدمی سو جاتا ہے تو معلوم نہیں کس وقت بیدار ہو۔ قتادہ نے آیت کا ترجمہ کیا ہے نیکی میں جمانے والی اور قراءت کو محفوظ رکھنے و الی اور فراء نے کہا : رات کو اٹھنا ‘ نماز شب کی تیاری کو پختہ کرنے والا ہے اور دن کی نماز ‘ نمازی کے لیے زیادہ سہل ہے کیونکہ دن کام کاج کے لیے ہے اور رات خلوت و عبادت کے لیے۔ یوں بھی ترجمہ کیا گیا ہے کہ رات کو اٹھنا بہت زیادہ چستی پیدا کرنے والا ہے کیونکہ جس چیز کا بار نفس پر زیادہ پڑتا ہے۔ صوفی کے لیے اسی میں زیادہ لذت ہوتی ہے۔ ابن زید نے کہا : دن کے مقابلہ میں رات کا وقت زیادہ فارغ البالی کا ہوتا ہے۔ رات کے وقت نہ ضروریات زندگی پیش آتی ہیں ‘ نہ دوسری رکاوٹیں۔ حسن ؓ نے کہا : نیکی میں خوب جمانے والا اور شیطان سے محفوظ رکھنے والا ہے۔
واقوم قیلا . رات میں سکون ہوتا ہے ‘ آوازیں خاموش ہوتی ہیں ‘ اس لیے قیام شب میں قراءت نہایت درست اور الفاظ کی ادائیگی خوب ہوتی ہے۔
Ayah 73:7ان لک فی النھار سبحا طویلا . اَلسَّبْحُ ۔ تیزی سے جانا۔ پانی میں تیرنے کو سباحت اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دن میں ضروری کاموں کی تکمیل ‘ تبلیغ اور دعوت دین کے لیے آپ کو ادھر ادھر جانا پڑتا ہے اور ان امور میں آپ مشغول رہتے ہیں۔ رات فراغت کا وقت ہوتا ہے اس لیے آپ کو رات کو نماز پڑھنی چاہیے گویا یہ جملہ گزشتہ حکم کی علّت ہے۔
نمازِ شب کے فضائل کا بیان
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو ہمارا رب نچلے آسمان پر نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے ‘ کوئی ہے کہ مجھ سے دعا کرے اور میں قبول کروں ‘ کوئی ہے کہ مجھ سے مانگے اور میں عطا کروں۔ کوئی ہے کہ مجھ سے مغفرت کا طالب ہو اور میں اس کے گناہ معاف کر دوں۔ (بخاری و مسلم) مسلم کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ پھر اللہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے ‘ کوئی ایسی ہستی کو قرض دینے والا ہے جو نہ مفلس ہے ‘ نہ حق تلفی کرنے والی۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ رات میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اگر ٹھیک اس ساعت میں کوئی مسلمان دنیا اور آخرت کی بھلائی کا خدا سے خواستگار ہوتا ہے تو اللہ اس کو ضرور ہی عطا فرماتا ہے۔ (مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داؤد کی نماز تھی اور سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داؤد کا روزہ تھا۔ داؤد آدھی رات سو جاتے تھے ‘ پھر اٹھ کر ایک تہائی رات نماز پڑھتے تھے پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے تھے ‘ ایک دن روزہ رکھتے تھے ‘ ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)
حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز شب کا التزام کرو۔ یہ تم سے پہلے گزرے ہوئے صالحین کا طریقہ ہے۔ رب کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ‘ گناہوں کو ساقط کرنے والا اور خطاؤں سے روکنے والا ہے۔ (ترمذی)
حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین آدمیوں (کی حالت) کو دیکھ کر اللہ ہنستا ہے (یعنی پسند فرماتا ہے) ایک وہ آدمی جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ ایک وہ جماعت جو نماز میں ہمہ تن مشغول رہتی ہے اور ایک وہ جماعت جو جہاد میں منہمک ہوتی ہے۔ (شرح السنۃ للبغوی)
حضرت عمرو ؓ بن عیینہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ بندہ سے رب کا قرب رات کے آخری حصہ میں ہوتا ہے۔ اگر تم سے ہو سکے کہ اس وقت اللہ کی یاد کرنے والوں میں سے ہوجاؤ تو ہوجاؤ۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حاملین قرآن (قرآن کے حافظ و عالم) اور راتوں والے (راتوں کو نماز پڑھنے والے) میری امت میں سب سے افضل ہیں۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
Ayah 73:8واذکر اسم ربک . قم اللیل پر عطف ہے۔ ذکر رب سے مراد ہے شبانہ روز برابر ذکر میں مشغول رہنا کہ نہ کسی وقت سستی پیدا ہو ‘ نہ غفلت لیکن ایسا ذکر زبان سے تو ہو نہیں سکتا زبان اور دوسرے اعضاء سے تسبیح ‘ حمد ‘ نماز اور قراءت وغیرہ جو کچھ کیا جاتا ہے کسی وقت اس میں نیت کی سستی آ ہی جاتی ہے۔ لامحالہ قلبی ذکر مراد ہے۔ حقیقت میں قلبی ذکر ہی ذکر ہے کیونکہ یاد نام ہے غفلت کو دور کردینے کا۔ جیسا کہ حدیث : ذاکر اللہ فی الغافلین بمنزلۃ الصابر فی الغارمین میں ذکر کا غفلت سے مقابلہ کرنا بتارہا ہے۔ غفلت کے مقابل ذکر کو لانے کا اقتضاء ہی یہ ہے کہ ذکر غفلت کو دور کرنے کا نام ہے ‘ دل کی غفلت کی حالت میں نہ کوئی نماز قابل اعتبار ہے ‘ نہ تسبیح ‘ نہ قراءت ۔ جو نمازی نماز کی طرف سے غافل ہیں ‘ ان کے لیے تباہی ہے۔
ہم نے ذکر سے دوام ذکر اس لیے مراد لیا ہے کہ واذکر کا عطف قم اللیل پر ہے اور عطف معنی کی مغایرت چاہتا ہے۔ مطلق ذکر تو قیام شب میں بھی ہوتا ہے اور ترتیل قرآن کے ذیل میں بھی اس لیے واذکر میں دوام ذکر مراد ہونے سے کلام نئے معنی کے لیے مفید ہوجائے گا۔ محض تاکید معنی سے اضافہ معنوی اولیٰ ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک ذکر رب سے مراد یہ ہے کہ تلاوت قرآن ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے شروع کرو۔
مسئلہ نماز سے باہر اگر سورة فاتحہ پڑھی جائے یا کوئی دوسری سورت ابتداءً شروع کی جائے یعنی سابق سورت سے ملا کر نہ پڑھی جائے بلکہ تلاوت کا آغاز ہی کسی سورت سے کیا جائے تو دونوں صورتوں میں شروع میں بسم اللہ پڑھنی باجماع علماء مسنون ہے ہاں ! اگر دو سورتیں (ایک کے بعد دوسری) پڑھی جائیں تو دوسری سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کے متعلق علماء کا اختلاف ہے۔ ابن کثیر ‘ قالون اور عاصم سورة انفال و براءت کو چھوڑ کر ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل ہیں۔ خواہ کوئی سورت پہلی سورت سے ملا کر پڑھی جائے یا ابتداءً پڑھی جائے۔ دونوں حالتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہاں ! انفال اور براءت پر بسم اللہ نہ پڑھنا اجماعی مسئلہ ہے۔ باقی ائمۂ قراءت دوسورتوں کے درمیان بسم اللہ نہیں پڑھتے۔ ان میں سے حمزہ ؓ کے ساتھی تو اوّل سورت کے آخری لفظ کو دوسری سورت کے شروع لفظ سے ملا کر پڑھتے ہیں اور ورش و ابو عمرو ابن عامر اوّل سورت کے ختم پر سکتہ کرتے ہیں ‘ مگر قطع نہیں کرتے۔ لیکن کسی سورت کو اگر درمیان سے شروع کیا جائے تو سب ائمہ کے اقوال میں بسم اللہ سے شروع کرنے یا بسم اللہ کے نہ پڑھنے کا قاری کو اختیار ہے۔ یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب نماز سے باہر تلاوت کی جائے ‘ نماز کے اندر قراءت کی حالت اس سے الگ ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک سورة فاتحہ بلکہ ہر سورت کی ابتدائی آیت بسم اللہ ہے۔ اس لیے سورة فاتحہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھنی واجب ہے اور دوسری سورتوں کے ساتھ مسنون ‘ پھر (قراء تِ سورت کی طرح) بسم اللہ بھی جہر کے ساتھ پڑھی جائے گی۔
باقی تینوں اماموں کے نزدیک بسم اللہ کسی سورت کا ابتدائی جزء نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) قائل ہیں کہ بسم اللہ قرآن مجید کی آیت تو ہے مگر دو سورتوں کو جدا جدا کرنے کے لیے نازل کی گئی ہے۔ لہٰذا پڑھی نہ جائے۔ امام مالک (رح) قائل ہیں کہ بسم اللہ قطعاً نماز میں نہ پڑھی جائے ‘ نہ سو رۂ فاتحہ کے ساتھ ‘ نہ کسی دوسری سورت کے ساتھ۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک صرف سورة فاتحہ کے ساتھ بسم اللہ چپکے چپکے پڑھنی مسنون ہے ‘ دوسری سورتوں کے ساتھ بالکل نہ پڑھی جائے۔ ایک روایت میں امام محمد (رح) کا قول آیا ہے کہ ہر سورت کے ساتھ چپکے چپکے بسم اللہ پڑھنی مستحب ہے۔ ہم نے سورة فاتحہ کی تفسیر میں دلائل کے ساتھ بیان کردیا ہے کہ بسم اللہ نہ سورة فاتحہ کا جزو ہے نہ کسی دوسری سورت کا اور نماز میں جہر کے ساتھ اس کو پڑھنا نہ تو رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے ‘ نہ خلفاء اربعہ ؓ سے۔ شافعیہ نے بسم اللہ کو جہر کے ساتھ پڑھنے کے متعلق نو حدیثیں ذکر کی ہیں ‘ جن کو دارقطنی اور خطیب نے نقل کیا ہے اور ابن جوزی نے سب حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ دارقطنی کا قول ہے کہ بسم اللہ کو جہر کے ساتھ پڑھنے کی جو حدیث بھی رسول اللہ ﷺ سے نقل کی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ صحابہ ؓ کے بالجہر پڑھنے کی کچھ روایتیں صحیح ہیں ‘ کچھ ضعیف۔
ابوداؤد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو جہر کے ساتھ پڑھتے تھے (اس زمانہ میں مسیلمہ کو رحمن یمامہ کہا جاتا تھا۔ مکہ والوں نے (جب بسم اللہ میں) لفظ رحمن سنا تو کہنے لگے محمد ﷺ یمامہ کے معبود کو پکارتے ہیں۔ اس پر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو پوشیدہ پڑھنے کا حکمدے دیا اور آپ ﷺ وقت وفات تک بسم اللہ کو پوشیدہ ہی پڑھتے رہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بسم اللہ جہر کے ساتھ پڑھتے تھے۔ حضرات خلفائے اربعہ ‘ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت عمار بن یاسر ‘ حضرت عبداللہ بن مغفل ‘ حضرت عبداللہ بن زبیر ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عالی مرتبہ تابعین مثلاً حسن بصری ‘ شعبی ‘ سعید بن جبیر ‘ ابراہیم نخعی ‘ قتادہ ‘ عمر بن عبدالعزیز ‘ اعمش اور ثوری وغیرہ ان حضرات میں سے کسی سے بالجہر پڑھنا ثابت نہیں بلکہ جہر نہ کرنا ثابت ہے البتہ معاویہ ؓ عطاء (رح) طاؤس (رح) اور مجاہد (رح) سے بسم اللہ کی جہری قراءت منقول ہے۔ (کذا ذکر ابن الجوزی)
و تبتل الیہ . اور ماسوی اللہ سے کٹ کر اللہ کی طرف رخ کرلو۔
تبتیلا . تبتیل باب تفعیل کا مصدر ہے۔ تعلق کاٹ دینا۔ بجائے تَبَتُّلٌ (باب تفعل کا مصدر اور تَبَتَّلَ کا مفعول مطلق) کے آیات کے فواصل کی رعایت سے باب تفعیل کا مصدر ذکر کیا۔ اس کے علاوہ اس طرف اشارہ بھی ہے کہ تبتل (کٹ جانا) اکثر کسبی امر ہوتا ہے جو گہری نظر اور کوشش کا محتاج ہے اس لیے پہلے تبتیل (کاٹ دینے) کا فعل ہوتا ہے پھر تبتل (کٹ جانا) اسی لیے تبتل کی تفسیر میں حسن بصری (رح) نے اجتہد (کوشش کر) کہا ہے۔ ابن زید نے کہا : دنیا اور مافیہا کو چھوڑ کر ان چیزوں کی طلب کرنا جو خدا تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں ‘ تبتل ہے۔ گویا یوں فرمایا کہ رب کے سوا اپنے دل کا رشتہ ہر چیز سے توڑ لو اور اللہ ہی کی طرف ہوجاؤ۔
تبتل سے مراد یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے ملنا چھوڑ دو اور حقوق عباد کی ادائیگی میں کوتاہی کرو اور جس تعلق و رشتہ داری کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو کاٹ دو ۔ اسلام میں سادھو پن تو قطعاً نہیں ہے ‘ تم پر اپنے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی ‘ بچوں کا بھی حق ہے اور مہمان کا بھی حق ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ حسی اور علمی تعلقات سے دل کی وابستگی نہ رکھو۔ صوفیہ کا قول ہے کہ ہم جس راستہ کو قطع کرنے کے در پے ہیں اس کی دو منزلیں ہیں ‘ پہلی منزل ہے مخلوق سے کٹ جانے کی اور دوسری منزل ہے حق سے جڑ جانے کی۔ ایک دوسرے کے لیے لازم ہے اسی لیے اللہ نے دونوں کے درمیان واو عاطفہ جو جمعیت پر دلالت کرتا ہے ‘ ذکر کیا ہے اور پہلے وصول حق کو واذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ فرما کر ذکر کیا پھر تَبَتَّلْ (مخلوق سے انقطاع) کو بیان کیا کیونکہ مخلوق سے کٹ جانے کی اصل غرض ہی حق سے جڑ جانا ہے (لہٰذا مقصود اصلی کو پہلے ذکر کیا) ۔
ہم نے ذکر اللہ کی تعبیر وصول حق سے اس لیے کی کہ جس یاد میں سستی کا گزر نہ ہو اور غفلت ادھر ہو کر نہ گزرے وہ علم حضوری ہوگا۔ علم حصولی کا تصور وہاں بداہتہً ممکن نہیں ‘ کیونکہ علم حضوری اسی کو تو کہتے ہیں جس میں عالم کے سامنے خود معلوم حاضر ہو (اس کی صورت حاصل نہ ہو) جب معلوم خود پیش نظر رہے تو یہی دوام حضور ہے۔ یہی وصول و اتصال ہے اسی کو اتحاد اور بقاء کہتے ہیں۔ الفاظ مختلف ہیں ‘ مطلب سب کا ایک ہے۔ متقدمین اسی کو اخلاص کہتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا تھا ‘ اللہ کے لیے کامل اخلاص اختیار کرو۔
رہی یہ بات کہ بجائے واذکر ربک کے واذکر اسم ربک فرمایا۔ لفظ اسم کو بڑھایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تبتلجس کو فنا بھی کہا جاتا ہے ‘ اسماء صفات کے علم کا نام ہے ‘ ذات سے تعلق رکھنے والے علم کا نام تبتل نہیں ہے علم الذات تو وراء الوراء یعنی حجابات سے بھی پرے ہے (دنیا سے کٹ جانے والے کی رسائی ذات تک نہیں ‘ صرف صفات تک ہوتی ہے ‘ ذات نامعلوم الحقیقت ہے) ۔
یہ بھی امکان ہے کہ ذکر سے مراد ہو وہ ذکر لسانی جس کی موافقت دل سے ہو رہی ہو اور دوام ذکر سے مراد ہو دوام عرفی یعنی بشری طاقت کے موافق بکثرت ذکر کرنا۔ یہ کثرت ذکر تبتل تک پہنچا دیتی ہے۔ انقطاع از خلق تک پہنچنے کا یہ ذریعہ ہے بشرطیکہ براہ راست توفیق شامل حال ہو جیسے انبیاء اور بعض اولیاء کے لیے ہوتی ہے یا شیخ کی کشش (کے بعد توفیق الٰہی مددگار) ہو۔ اس تقدیر پر تبتل پر ذکر کا مقدم ہونا طبعی ہے (ذریعہ کو نتیجہ پر تقدم ہوتا ہی ہے ‘ ذکر ذریعہ ہے اور تبتل نتیجہ) ۔
مذکورہ تفسیر کی صورت میں واذکر اسم ربک میں اسم ذات کی تکرار کی طرف اشارہ ہوگا اور رب المشرق والمغرب میں (بشرطیکہ رب کو جد کے ساتھ ربک کی صفت قرار دیا جائے) تمام ممکنات کو اللہ کا محیط ہونا اور لا اِلٰہ الاّ ہُو میں نفی و اثبات کا بیان ہوگا۔ یہ دونوں چیزیں کمال ولایت حاصل کرنے والوں کے طریقہ کی بنیاد ہیں۔ اس وقت قم الیل اور رتل القراٰن اور واذکر اسم ربک تینوں الگ الگ احکام ہوں گے۔ اس تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چاروں امور یعنی نماز ‘ تلاوت قرآن اور ذکر اسم ذات اور ذکر نفی و اثبات قرب کے درجات اور مراتب حاصل ہونے کی بناء ہیں لیکن اوّل الذکر دونوں چیزیں آخری حد پر پہنچنے والوں کے لیے ہیں اور آخری دونوں امور ابتدائی مدارج طے کرنے والوں کے لیے اور چونکہ آیت مذکورہ میں اوّل ترین مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں اور انتہائی کمال تک پہنچنے والوں میں آپ کا درجہ سب سے اونچا ہے اس لیے جو دو امور اہل انتہا کے لیے مخصوص ہیں ‘ ان کا ذکر پہلے کردیا گیا۔ 1
Ayah 73:9رب المشرق والمغرب . اگر رفع کے ساتھ ربُّ کو پڑھا جائے جو ابن کثیر ‘ نافع ‘ ابو عمر اور حفص کی قراءت ہے تو خبر ہوگی ‘ مبتداء محذوف ہوگا یا مبتداء ہوگا اور خبر محذوف ہوگی اور ربِّ کو زیر کے ساتھ پڑھا جائے جیسا کہ باقی اہل قراءت کے نزدیک ہے تو ربک سے بدل ہوگا یا حرف قسم محذوف ہوگا اور لَا اِلٰہَ الاَّ ھُو جواب قسم ہوگا۔
لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا . فاتخذہ میں فاء سببی ہے یعنی اللہ کی الوہیت منفردہ اس کے کارساز ہونے کی علّت ہے۔ جب اللہ ساری مخلوق کا رب ہے اور الوہیت میں منفرد ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ تمام معاملات اسی کے سپردکر دیئے جائیں۔
تعلیم تبتل سے دماغ میں ایک وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ ہر انسان دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ تمدن کے بغیر معاشیات اور ضرویات حیات کی فراہمی کا نظام ابتر ہوجائے گا ‘ پھر تبتل اور مخلوق سے قطع تعلق کی صورت میں نظام معاشی کیسے چلے گا ؟ اس وہم کو دفع کرنے کے لیے فرمایا : رب المشرق والمغرب ..... یعنی سارے سنسار کا مالک و حاکم اللہ ہے ‘ تمام انسان ‘ انسانوں کی بستیاں ‘ تمام آدمیوں کے افعال ‘ اعمال ‘ منافع اور دل اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی حاکم اعلیٰ ہے نہ معبود برحق ‘ نہ اس کی اجازت اور مشیت کے بغیر کوئی کسی کو نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے ‘ لہٰذا اسی کے سپرد اپنے تمام معاملات کر دو ‘ اسی کو اپنا ذمہ دار ‘ کارساز مانو۔ وہی سب سے اچھا کارساز ہے۔ اس کی ذمہ داری کے بعد تم کو کسی دوسرے کی ضرورت ہی نہیں۔
حضرت عمر کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم خدا پر پورا توکل کرلو ‘ جیسا کہ توکل کا حق ہے تو جس طرح وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے ‘ تم کو بھی دے گا ‘ پرندے صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
یہ بھی حضرت عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : روح القدس (یعنی جبرئیل) نے میری روح میں یہ بات پھونک دی ہے کہ کوئی شخص اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرتا۔ لہٰذا تم اللہ سے تقویٰ رکھو اور اچھے راستہ سے رزق کی طلب کرو۔ یہ حدیث بیہقی نے شعب الایمان میں اور بغوی نے شرح السنۃ میں نقل کی ہے۔
حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ترک دنیا یہ نہیں ہے کہ حلال کو حرام بنا دیا جائے اور مال کو برباد کردیا جائے بلکہ زہد یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھوں میں موجود چیز پر خدا کے ہاتھ میں موجود رہنے والی چیز سے زیادہ اعتماد نہ ہو (یعنی اپنے جمع شدہ مال پر جیسا بھروسہ ہوتا ہے ویسا ہی بھروسہ مال نہ ہونے کی صورت میں اللہ کی رزاقی کا ہو) اور اگر کوئی مصیبت تم پر آپڑے تو اس کے ثواب کی (اتنے وثوق کے ساتھ) تم کو رغبت ہو کہ تم اس دکھ کے زائل نہ ہونے کی رغیبت کرنے لگو۔ (ترمذی)
ہمارے شیخ اعظم ‘ امام برحق ‘ حضرت مولٰنا یعقوب کرخی (رح) نے فرمایا کہ آغاز سورت سے اس آیت تک مختلف مقامات سلوک کی طرف اشارہ ہے۔ رات کی خلوت ‘ تلاوت ‘ ذکر ‘ نفی ماسوا اور توکل باللہ سلوک کے مختلف مدارج ہیں لیکن مقامات سلوک میں سب سے اونچا درجہ جفاء اعداء پر صبر کرنے کا ہے ‘ اسی کی طرف مندرجۂ ذیل آیت میں اشارہ کیا اور فرمایا :
..........
1 رب المشرق والمغرب اور لَا اِلٰہَ الاَّ ھُو میں صفات کا بیان ہے۔ احاطۂ ربوبیت و مالکیت اللہ کے علم وقدرت کی ہمہ گیری پر دلالت کر رہا ہے اور لَا اِلٰہَ الاَّ ھُو میں الوہیت غیر کی نفی اور اللہ کے لیے حاکمیت و معبودیت کا اثبات ہے۔ جب صوفی یہ دونوں مراتب صفات طے کرلیتا ہے اور افعال وصفات کا اس کو علم ہوجاتا ہے تو اسم ذات کا ذکر کرتا ہے ‘ پہلے غیر اللہ کی الوہیت کی نفی اور اللہ ہی کی الوہیت کا اثبات کرتا تھا ‘ اب اس کو اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی ہی نظر نہیں آتی جو جاذب نظر و توجہ ہو سکے اس لیے اسم ذات کا ذکر ہوتا ہے اور آخر تمام کائنات سے اس کی قلبی وابستگی ختم ہوجاتی ہے۔ ہر شے سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ آخری معراج اس کو حاصل ہوجاتی ہے وہ واصل بحق ہوجاتا ہے اور ہمہ تن توجہ الی اللہ میں ڈوب جاتا ہے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 73:10واصبر علی ما یقولون . یعنی کافر جو خرافات بکتے ہیں تم کو کاہن ‘ شاعر ‘ مجنون وغیرہ کہتے ہیں اس پر تم صبر کرو۔
واھجرھم ھجرا جمیلا . ان سے اچھی طرح کنارہ کش رہو ‘ بدلہ نہ لو ‘ ان کے معاملہ کو اللہ کے سپرد کر دو ۔
اس آیت کا حکم آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Ayah 73:11و ذری المکذبین اول النعمۃ . اور ان مالدار ‘ عیش پرست ‘ تکذیب کرنے والوں کو میرے ہی حوالے کر دو
میں تمہاری طرف سے ان کو سزا دینے کے لیے کافی ہوں۔ تم رنجیدہ نہ ہو ‘ اولی النعمۃ سے مراد قریش کے سردار ہیں اور المکذّبین میں واؤ عاطفہ نہیں بلکہ مع کے معنی میں ہے۔
و مھلھم قلیلا . اور ان کو کچھ مہلت یا کچھ زمانہ کے لیے ڈھیل دے دو ‘ یعنی اس وقت تک کہ یہ خود ہی مر
جائیں یا اللہ ان سے لڑنے کا حکم نازل فرما دے اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے ان کو عذاب دے اور مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے۔
مقاتل بن حبان نے کہا : اس آیت کا نزول مقتولین بدر کے بارے میں ہوا ‘ کچھ ہی مدت گزری تھی کہ وہ بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔
Ayah 73:12ان لدینا . یہ حکم سابق کی علّت ہے۔
انکالا . نکل کی جمع۔ بھاری قید ‘ بیڑی۔ بیہقی نے حسن بصری کا قول نقل کیا کہ انکال آگ کی بیڑیاں ہونگی۔
و جحیما
Ayah 73:13و طعاما ذا غصۃ . یعنی ایسا کھانا جس سے پھندہ لگے گا ‘ نہ اندر اترے گا ‘ نہ باہر نکلے گا۔ ابن جریر
اور ابن ابی الدنیا نے اس کو آگ کی صفات میں شمار کیا ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک ا سے زقوم (تھوہر) کا درخت مراد ہے۔ عبداللہ بن احمد نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ضریع (سینڈھ یا تھوہر) دوزخ کے اندر کانٹوں (یا خار دار جھاڑی) کی طرح ایک چیز ہوگی جو ایلوے سے زیادہ تلخ ‘ مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے زیادہ گرم ہوگی۔ جب دوزخی کو کھلائی جائیگی تو نہ پیٹ میں جائیگی ‘ نہ منہ تک لوٹ کر آئے گی ‘ بیچ میں اٹکی ہوئی رہے گی۔ نہ فربہی پیدا کرے گی ‘ نہ بھوک کو دفع کریگی۔
و عذابا الیما . ابن ابی الدنیا نے حضرت حذیفہ ؓ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ دوزخیوں پر آگ کے سانپ اور بچھو
گریں گے ‘ اگر ان میں سے ایک سانپ مشرق میں پھونک مارے تو مغرب والے جل جائیں اور اگر ان میں سے ایک بچھو دنیا والوں کو کاٹ لے تو سب سوختہ ہوجائیں۔ وہ سانپ اور بچھو دوزخیوں پر گریں گے اور ان کے گوشت و پوست کے درمیان داخل ہوں گے۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ؓ نے فرمایا : دوزخیوں میں سب سے آسان عذاب ابو طالب پر ہوگا۔ ان کو آگ کے دو چپل پہنائے جائیں گے ‘ جن سے ان کا بھیجا کھولے گا۔
مسلم نے بروایت حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کیا ہے کہ دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے دونوں چپل اور (چپلوں کے) تسمے آگ کے ہوں گے ‘ جن کی وجہ سے ہانڈی کے ابال کی طرح اس کا دماغ کھولے گا۔ وہ خیال کرے گا کہ اس پر سب سے سخت عذاب ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔ حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
Ayah 73:14یوم ترجف الارض والجبال . یوم ظرف زمان ہے (جس میں کسی فعل کا وقوع ہوتا ہے) اس سے پہلے لدینا
انکالاً و جحیمًا میں فعل کا معنی موجود ہے۔
ایک شبہ بظاہر زمین اور پہاڑوں میں زلزلہ ‘ نفخۂ اوّل سے پہلے آئے گا اور کافروں کو قید و بند اور دوزخ کا عذاب ‘ حشر کے بعد ہوگا ‘ پھر کافروں کو عذاب نفخۂ اوّل سے پہلے یعنی زلزلہ کے دن کیسے ہوگا ؟
ازالہ قیامت کا دن کسی محدود مقدار کا نام نہیں بلکہ نفخۂ اوّل کے پہلے سے اس وقت تک کہ جتنی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں پہنچ جائیں ‘ قیامت ہی کا دن کہلاتا ہے۔
و کانت الجبال کثیبا مھیلا . اس کا عطف ترجف پر پڑا۔ ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن
عباس ؓ نے کثیبًا مھیلاً کا ترجمہ کیا ہے ریگ سیال یعنی ایسا ریت کہ اگر اس کا کوئی حصہ تم اٹھا لو تو اس کی جگہ دوسرا (فوراً ) آجائے۔ یہ قول کلبی کا ہے۔
Ayah 73:15انا ارسلنا الیکم . اہل مکہ کو خطاب ہے۔
رسولا . اس کلام میں نیرنگی ہے ‘ پہلے خطاب کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف تھا اور علٰی ما یقولون میں
کافروں کا ذکر بصیغۂ غائب کیا تھا ‘ یہاں خطاب کافروں سے ہے اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر بصورت غائب ہے۔ اس کلام سے سابق کلام کی تاکید بھی ہوتی ہے کیونکہ پہلے فرمایا تھا : انا سنلقی علیک قولًا ثقیلاً اور یہاں فرمایا : انا ارسلنآ الیکم رسولاً دونوں آیتوں کا مضمون ایک ہی طرح کا ہے۔
شاھدا علیکم . تمہارے قبول یا انکار کی شہادت دینے والا۔
کما ارسلنا . یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تمہارے پاس رسول کو بھیجنا ایسا ہی ہے جیسا فرعون کے پاس رسول
کو بھیجا تھا (مطلب یہ کہ روانگی میں مساوات اور مشابہت ہے۔ اگرچہ رسولوں میں بڑا فرق مراتب ہے) ۔
الی فرعون رسولا . یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
Ayah 73:16فعصی فرعون الرسول . الرسول سے مراد حضرت موسیٰ ہیں۔
فاخذناہ اخذدا و بیلا . سخت بھاری پکڑ ‘ طعام و بیل ‘ ثقیل کھانا جو ہضم پر بار ہو۔ وابلٌ۔ بڑی بارش۔ اللہ نے
فرعون کو سمندر میں غرق کر کے آگ میں داخل کیا۔ اگر تم اپنے رسولوں کی نافرمانی کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے گا (یعنی تمہیں تباہ کیا جائے گا ‘ پھر جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ )
Ayah 73:17فکیف تتقون ان کفرتم . اے اہل مکہ اگر اپنے رسول کا انکار کرو گے تو کس طرح بچو گے۔
یوما . اس دن کے عذاب سے۔ یومًا کا تعلق تتقون سے ہے اور یوماً مضاف الیہ تھا۔ لفظ عذاب مضاف تھا۔
مضاف کو حذف کرنے کے بعد مضاف الیہ کو اس کی جگہ کردیا اور اسی کا اعراف دے دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یومًا کا تعلق کفرتم سے ہو اور تتقون کا مفعول محذوف ہو۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر روز قیامت کا انکار کرو گے تو عذاب سے کیسے بچو گے۔ اگر یومًا کو کفرتم سے متعلق قرار دیا جائے گا تو یومًا کی تاویل بیوم سے کرنی ہوگی (یعنی مجرور کو بحذف حرف جر منصوب بنانے پڑے گا ‘ کیونکہ کفَر بغیر حرف جر کے مفعول کی طرف متعدی نہیں ہوتا) ۔
یجعل الولدان شیبا . شِیْبٌ‘ اَشْیَبُ کی جمع ہے۔ جیسے بِیْضٌ‘ اَبْیَضُ کی جمع ہے۔ یہ جملہ یومًا کی صفت
ہے اور یجعل کا فاعل بھی یومًا ہی ہے لیکن جعل کی نسبت یومًا کی طرف مجازی ہے (حقیقت میں اس روز بچوں کو بوڑھا بنانے والا تو خدا ہے لیکن روز قیامت کو بچوں کو بوڑھا بنا دینے والا قرار دینا بطور مبالغہ ہے ‘ جیسے صام نھارہٗ ۔ میں روزہ رکھنے کی نسبت نہار کی طرف مجازی (مبالغہ کے لیے) ہے۔ اصل کلام یوں تھا : یومًا یّجعل اللہ فیہ الولدان شیبًا۔ جس روز کہ اللہ بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔
یعنی شدت ہیبت اور طول مدت کی وجہ سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے ‘ اس قول کی بناء یا تو مفروضۂ عمومی پر ہے (یعنی عام طور پر فرض کرلیا گیا ہے کہ شدت ہیبت سے بال سفید ہوجاتے ہیں اور انتہائی غم بوڑھا کردیتا ہے ‘ اسی کلیہ پر کلام کی بناء ہے) یا بطور تمثیل و تشبیہ ہے (کہ جیسے زیادہ افکار کی وجہ سے بچوں کی ابھرتی ہوئی قوّت ضعیف ہوجاتی ہے اور پیری جلد آجاتی ہے ‘ ایسے ہی قیامت کے مصائب بڑے بڑے طاقتور اور بلند عزم رکھنے والوں کو ضعیف کردیں گے) ۔
حضرت ابوسعید ؓ خدری کی مرفوع روایت ہے کہ اللہ (قیامت کے دن) فرمائے گا : آدم ! حضرت آدم جواب دیں گے حاضر ہوں ‘ دست بستہ حاضر ہوں۔ ہر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ فرمائے گا ‘ دوزخ کا حصہ الگ کرلو۔ آدم ( علیہ السلام) عرض کریں گے دوزخ کا حصہ کتنا ؟ اللہ فرمائے گا نو سو ننانوے فی ہزار۔ اس وقت (ایسا ہول ہوگا کہ) بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حمل والی کو اسقاط ہوجائے گا (یا بچے بوڑھے ہوجائیں اور ہر حمل والی کو اسقاط ہوجائے) اور تم لوگوں کو نشہ میں خیال کرو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے وہ ایک (نجات یافتہ) کون ہوگا ؟ فرمایا : خوش ہو تم میں سے ایک (دوزخی) اور یاجوج ماجوج میں سے ہزار ہوں گے۔ پھر فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ‘ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چہارم حصہ ہو گے ‘ ہم نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت میں ایک تہائی ہو گے ‘ ہم نے یہ سن کر تکبیر کہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت میں آدھے ہو گے۔ ہم نے تکبیر کہی۔ فرمایا : تم (دوزخی) لوگوں میں ایسے ہو گے جیسے سفید بیل کی کھال پر ایک سیاہ بال یا سیاہ بیل کی کھال میں ایک سفید بال۔ (بخاری و مسلم)