73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsسراج البیان

Ayahs 73:1–10

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے (ف 1) جھرمٹ مارنے والے

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو کھڑا رہ مگر تھوڑا

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات یا تھوڑا اس سے کم کر

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے زیادہ کر اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر صاف پڑھ

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم تجھ پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کا اٹھنا نفس کو سخت مجلنے والا اور قول کو زیادہ درست کرنے والا ہے

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن میں تجھے لمبا شغل رہتا ہے

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام یاد کر اور سب سے الگ ہوکر اس کی طرف متوجہ رہ

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں سو تو اسی کو کار ساز بنا

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو وہ کہتے ہیں اس پر صبر کر اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دے

سورة المزمل 1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف رہتا ہے ۔ اور شفقت خداوندی اس کو سخت اور شدید ریاضت سے روک دیتی ہے ۔ کیا اس کے متعلق یہ گمان بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ خدا کی طرف سے مامور نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ توتیلا ۔ قرآن کا باداد مخارج حروف سہج سہج اور صاف صاف پڑھنا ایسا نہ ہو کہ دنیا کی محبت ذوق عبودیت پر غالب آجائے ناشیۃ الیل ۔ شب بیداری اشدوظا ۔ خواہشات نفس کے کچلنے میں زیادہ شدید ہے تبطل یعنی پوری جمعیت خاطر کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مصروف ہونا چاہیے ۔
Ayahs 73:11–19

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے اور جھٹلانے والے کو جو نعمت (آسودگی) چھوڑدے اور انہیں تھوڑی سے مہلت دے

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے پاس بیڑیاں اور آگ کا ڈھیر ہے

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور کھانا جو گلے میں اٹکے اور درد ناک عذاب

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کا پنیں گے اور پہاڑ ریت کے بھربھرے ٹیلے ہوجائیں گے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا ہے جو تم پر گواہ ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے رسول کی نافرمانی کی ۔ (ف 2) سو ہم نے اسے سخت پکڑ میں دھرپکڑا

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

سو اگر تم کافر ہوگئے سو اس دن سے کیونکر بچوگے جو لڑکوں کو بوڑھا بنادے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

اس دن آسمان پھٹ جائے گا ۔ خدا کا وعدہ پورا ہونے والا ہے

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ تو نصیحت ہے سو جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف راہ پکڑے

امراء کیوں مخالفت کرتے ہیں ! 1: حضور ﷺ نے جب اپنی بعثت کا اعلان کیا ۔ تو حسب دستور جن لوگوں نے انکار کیا ۔ وہ مفلس اور قلاش لوگ نہ تھے ۔ بلکہ وہ لوگ تھے ۔ جو صاحب مال ومنال تھے ۔ اور ابتداء سے یہ سنت چلی آرہی ہے ۔ کہ حق وصداقت کی مخالفت میں بھی روسا کا طبقہ پیش پیش رہتا ہے ۔ اور اس کی وجہ غالباً یہ ہے ۔ کہ غرباء کا دین سے کوئی تصادم نہیں ہوتا ۔ ان کی آرزوئیں اور خواہشیں نہایت محدود اور ادنی قسم کی ہوتی ہیں ۔ مگر یہ اکابر سیادت و قیادت کے خلاں اور منصب وجاہ کے متوالے ہوتے ہیں ۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں ۔ کہ قانون واخلاق کی کوئی پابندی ان پر عائد نہ ہو ۔ مذہب کی پہلی لڑائی انہیں اغراض کی اصلاح کے لئے ہوتی ہے ۔ ان کی ریاست چھن جاتی ہے ۔ ان کی قیادت باقی نہیں رہتی ۔ دولت و ثروت بھی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ مذہب قانون واخلاق کی مساوات کی بناء پر ان خواہشات نفس کی تکمیل نہیں ہونے دیتا ۔ اور مطالبہ کرتا ہے ۔ کہا نسانی خون اور انسانی حرمت و اعزاز کے سلسلہ میں بڑے چھوٹے اور امیروغریب کا کوئی امتیازباقی نہ رکھا جائے پھر اس پر اکتفا نہیں کرتا ۔ بلکہ اپنی تربیت کے لئے ان غریبوں کو چن لیتا ہے ۔ جن کو یہ لوگ حقیر و ذلیل جانتے ہیں ۔ اور پھر ان کی روحانیتوں کو اتنا مجلی کردیتا ہے ۔ کہ یہ ان لوگوں پر حکومت کرتے ہیں ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اگر یہ اربات تنعم آپ کے پیغام کو نہیں مانتے ۔ اور آپ کی راہ میں مشکلات کا ایک پہاڑ حائل کرنا چاہتے ہیں ۔ تو قطعاً پرواہ نہ کریں ۔ ان کو پسند ہے مہلت دیں ۔ اس کے بعد ان کو ہمارے پاس پاجولاں ۔ کشاں کشاں آتا ہے ۔ ان کے لئے جہنم ہے ۔ اور ایسا کھانا ہے ۔ جو گلے میں پھنس کر رہ جائے ۔ جہاں آگ ہے ۔ تپش ہے ۔ اور عذاب الیم ہے ۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو اس دنیائے دوں پر ناز ہے ۔ اور یہ اس زندگی کی بھول میں ہیں ۔ حالانکہ یہ ساری بساط الٹنے کو ہے ۔ یہ زمین اپنی وسعتوں اور شادا ہوں کے باوجود اللہ کے بیک ارادہ تحریک متاثر ہوکر کانپے گی ۔ اور یہ پہاڑ اپنی بلندیوں سمیت لرزیں گے ۔ اور یوں ہوجائینگے ۔ جس طرح سبالو کا شیلہ ہوتا ہے ۔ شاہد اسے غرض یہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن اللہ کے حضور میں آپ تمہاری تکذیب اور تمہارے ایمان کی گواہی دینگے اور بتائیں گے ۔ کہ کن لوگوں نے دعوت اسلام کو قبول کیا ۔ اور اللہ کی رضا کے جو یا ہوئے ۔ اور کون محروم رہے ۔ اور اس کے سخط وغضب کا ہدف بنے ۔ حل لغات :۔ انکالا ۔ بیڑیاں خاغصۃ ۔ جو حلق کے نیچے نہ اتر سکے مھیلا ۔ سر سبز متعلق ازھیل بسنے ضرور بخت بیٹھا ہوا وسیلا ۔ سخت ۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تیرا رب جانتا ہے ۔ کہ تو قریب دوتہائی رات اور آدھی رات اور تہائی رات کھڑا رہتا ہے اور ان میں سے (بھی) جو تیرے ساتھ ہیں ایک جماعت اٹھتی ہے ۔ اور اللہ رات اور دن کا اندازہ کرتا ہے ۔ اس نے معلوم کرلیا کہ تم اس (قیام لیل) کو نباہ نہ سکوگے (پورا نہ کرسکوگے) سور وہ تم پر مہربان ہوا ۔ اب قرآن میں سے جس قدر (ف 1) آسان ہو پڑھو ۔ خدا کو معلوم ہے کہ بعض تم میں بیمار ہوں گے اور بعض اللہ کا فضل (ف 2) (روزی) تلاش کرتے زمین میں پھریں گے اور بعض اللہ کی راہ میں لڑتے ہونگے ۔ پس قرآن میں جس قدر آسمان ہو پڑھو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض حسنہ دو ۔ اور جو بھلائی تم اپے لئے آگے بھیجو گے اس کو الل ہ کے پاس بہتر اور ثواب میں بڑا پاؤ گے ۔ اور اللہ سے معافی مانگو بیشک اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے

دین اسلام میں یسرو آسانی ہے 1: یعنی اسلام میں سراسریسرو آسانی ہے ۔ اس میں تعذیب نفس کے اصول کو مدار تقویٰ وزہد قرار نہیں دیا گیا ۔ اس لئے کہ عبادت کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ کہ آپ رات بھر قرآن حکیم کی تلاوت کرتے ہیں ۔ بلکہ یہ ہیں ۔ کہ جس قدر آپ کا نفس بشاشت اور ذوق کے ساتھ قرآن پڑھ سکتا ہے پڑھے اور یہاں معلوم ہوا کہ اب ملال اور تھکن کے آثار ہیں چھوڑ دے ۔ اسلامی عبادت کا تخیل 2: قرآن حکیم کی تعلیمات چونکہ انسان کے ہر طبقہ کے لئے یکساں قابل عمل ہیں ۔ اس لئے اس میں طاقت ووسست کا اندازہ کرکے عبادت کا معیار ایسا مقرر کیا ہے ۔ جو ساری نوع انسانی کے لئے لائق قبول ہو ۔ اس کے نزدیک عبادت وزہد کے لئے تعذیب نفس کی ضرورت نہیں ۔ اور نہ اس کی ضرورت ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کو دو طبقوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ ایک وہ جو دنیا اور اس کے مشاغل کو ترک کرکے اپنی جان کو ہر نعمت وآسودگی سے محروم کرکے رہبانیت تحمل اختیار کرلے ۔ اور صرف عبادت کا ہورہے ۔ اور پھر اس کے لئے عبادت کا جو کورس مقرر ہو ۔ وہ سخت ہو اور طویل و عریض ہو اور دوسرے جو دنیا کے کاروبار میں مشغول ہو اور دن رات اپنی اور بنی نوع کی خدمت میں مصروف ومنہمک رہے اس کے لئے نصاب جو ہو مختصر اور آسان ہو ۔ بلکہ یہ ریاضت اور زہد کا کورس جس کو اسلام پیش کرتا ہے ۔ ایسا ہے ۔ کہ ہر شخص کے لئے برابر برکت اور سعادت کا موجب ہے ۔ ہمیں نہ دنیا سے محرومی ہے ۔ نہ روح کو ناقابل برداشت تکلیفوں اور مصیبتوں میں مبتلا کرنے کا سوال ۔ یہ انسانوں کو دیندار اور غیر دیندار دو طبقوں میں تقسیم نہیں کرتا ۔ اس کے معیار عبادت میں سب کے لئے کسب زار کا مرقع ہے ۔ چناچہ فرمایا کہ ہم جانتے ہیں ۔ آپ اور آپ کے پاکباز ساتھی ۔ قیام لیل کے سلسلہ میں دو تہائی رات کے قریب یا کبھی نصف اور یک تہائی رات تک تلاوت وقرآت اور قیام و سجود میں مشغول رہتے ہیں ۔ یہ بہت زیادہ ہے ۔ ہم جانتے ہیں ۔ ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہونگے جو مریض ہونگے ۔ اور کچھ ایسے ہونگے ۔ جو تلاش روزگار میں دن بھر مارے مارے پھرتے ہونگے اور کچھ ایسے ہونگے جن کی شجاعانہ خدمات کی میدان جہاد میں ضرورت ہوگی اس لئے آپ لوگوں کو اجازت ہے کہ ماتیسر پر اکتفا کریں ۔ اور صرف اس حد تک پڑھیں کہ طبیعت پر بار نہ ہو ۔ گویا کہ باری تعالیٰ نے بیماروں ، روزگار کے خواستگاروں اور مجاہدین کو موقع دیا ہے ۔ کہ سب حسب توفیق واستطاعت عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کرسکیں ۔ اور عبادت کو بہرآئند ناگوار نہ سمجھیں ۔ حل لغات : ۔ کتاب علیکم ۔ تم پر اظہار عنایت کیا ہے ۔ تخفیف فرمائی ہے مرضی ۔ مریض کی جمع ہے ۔