73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

) الْمُزَّمِّلُ ) کا معنی بھی (المدثر) کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ نے رسول اللہ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبرائیل کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف ہوئے آپ نے ایک معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ آپ کے پاس جبرائیل آئے اور کہا۔ پڑھیے۔ آپنے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا۔ جبرائیل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبرائیل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالاخر رسول اللہ نے پڑھا یہ وحی وتنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی آپ اپنے گھروالوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکی طاری تھی آپ نے فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو ۔ پھر اللہ نے آپکو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر وحی پے درپے نازل ہوئی حتی کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ سبحان اللہ۔ وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کردیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کردیں، یہاں اللہ نے آپ کو افضل ترین عبادت نماز کو موکد ترین اور بہترین اوقات پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔
Ayahs 73:2–3

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

یہ آپ پر اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا (قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا) رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔ پھر اسکا اندازہ مقرر کردیا، چناچہ فرمایا (نصفہ او انقص منہ) نصف رات یا نصف میں سے بھی (قلیلا) کچھ کم کردیجئے۔ ایک تہائی کے لگ بھگ ہو۔
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

اَوْ زِدْ عَلَيْهِ ) یا نصف سے کچھ زیادہ۔ یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ( وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا) اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ کیونکہ ترتیل قرآن سے تدبر اور تفر خاصل ہوتا ہے۔ اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے

کیونکہ فرمایا (اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا) یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے یعنی وہ معانی عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غور و فکر کیا جائے،
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے

پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چناچہ فرمایا (اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ ) یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا (هِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا) نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، قلب ولسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہوجاتا ہے یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

اسی لیے فرمایا (اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا) دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوت ہیں۔ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا پڑجاتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

(وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ ) اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے۔ (وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ ) اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لاتعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

(رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ) یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق ومغارب کو شامل ہے، پس اللہ تعالیٰ مشارق ومغارب ان کے اندر جوانو اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب، ان کا خالق اور مدبر ہے۔ (اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ) اس بالا وبلند ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا) پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو

جب اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر نماز اور عمومی طور پر ذکر الہی کا حکم دیا۔۔۔ جس سے بندہ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور مشقت اعمال بجالانے کامل کہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپکو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اسے سب وشتم کرتے ہیں نیز یہ کہ آپ اللہ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کرسکے نہ کوئی آپ کو لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہوجائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاجا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
Ayah 73:11

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور انکو تھوڑی سی مہلت دیدو

فرمایا (وَذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ ) مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجئے۔ میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا۔ (اُولِي النَّعْمَةِ ) یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انہوں نے سرکشی کارویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی۔ العلق 6۔ 7) ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بےنیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے۔
Ayah 73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے

یعنی ہمارے پاس (اَنْكَالًا) سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے (وَّجَحِــيْمًا) اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے

(وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ) اور گلوگیر کھانا۔ یہ اچھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بےانتہا گندی بدبو کی بنا لگے گا۔ (وَّعَذَابًا اَلِـــيْمًا) اور انتہائی دردناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
Ayah 73:14

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں

(يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ ) جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ( وَكَانَتِ الْجِبَالُ ) اور زمین پر مضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ( كَثِيْبًا مَّهِيْلًا) ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
Ayahs 73:15–16

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اسکو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے کہ اس نبی امی و عربی کے بھیجے جانے پر۔۔ جو خوش خبری دینے والا، تنبیہ کرنے والا اور امت پر ان کے اعمال کے ذریعے سے گواہ ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس نعمت جلیلہ کا اعتراف کرو، اپنے رسول کا انکار کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے بچو، ایسا نہ ہو کہ تم فرعون کی مانند ہوجاؤ، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اس کی طرف مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ نے اس کو اللہ کی طرف دعوت دی اور اسے توحید کا حکم دیا مگر اس نے حضرت موسیٰ کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے برعکس اس نے آپ کی نافرمانی کی۔ پس اللہ نے اس کو بڑے وبال یعنی انتہائی شدت کے ساتھ پکڑ لیا۔
Ayahs 73:17–18

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔

یعنی تمہیں قیامت کے دن کیسے نجات حاصل ہوسکتی ہے، وہ ایسا دن ہے جس کا معاملہ نہایت ہولناک اور جس کا خطرہ بہت عظیم ہوگا۔ جو بچوں کو بوڑھا، اور بڑے بڑے جمادات کو پگھلا کر رکھ دے گا، پس اس کے خوف سے آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ( كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا) یعنی اس کا وقوع لازمی ہے، کوئی چیز اس کے سامنے حائل نہیں ہوسکتی۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے

یہ وعظ جس کے ذریعے سے اللہ نے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کی خبر دی ہے، ایک یاد دہانی ہے جس سے اہل تقوی نصیحت پکڑتے ہیں اور اہل ایمان (برائیوں) رک جاتے ہیں۔ (فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا) پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے یعنی وہ راستہ جو اسے اس کے رب تک پہنچاتا ہے وہ راستہ اللہ کی شریعت کی اتباع کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعایل نے اس کو کھول کھول کر بیان کیا اور پوری طرح واضح کردیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ نے بندوں کو ان کے افعال پر قدرت اور اختیار عطا کیا ہے ایسے نہیں جیسے جبریہ کہتے ہیں کہ بندوں کے افعال ان کی مشیت کے بغیر واقع ہوتے ہیں کیونکہ یہ نقل اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کھبی) دو تہائی رات کے قریب اور (کھبی) آدھی رات اور (کھبی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑہتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ ترپاؤ گے اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں اللہ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ نصف رات، ایک تہائی رات یا دو تہارئی رات قیام کیا کریں اور اصل بات یہ ہے کہ احکام میں آپ اپنی امت کے لیے نمونہ ہیں اللہ نے اس مقام پر ذکر فرمایا کہ آپ نے اور آپ کے ساتھ اہل ایمان کی ایک جماعت نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ان کے لیے اس میں انتہائی آسانی پیدا کردی ہے چناچہ فرمایا (وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ) یعنی اللہ تعالیٰ دن اور رات کی مقدار کو جانتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے اور کتنا باقی ہے۔ (عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ ) یعنی وہ جانتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے اور کتنا باقی ہے کیونکہ اس کی مقدار کی معرفت کا حصول، واقفیت اور مزید مشقت کا تقاضا کرتا ہے تو اللہ نے تمہارے لیے تخفیف کردی ہے اور تمہیں صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے جو تمہارے لیے آسان ہے خواہ وہ مقدار سے زیادہ ہو یاکم۔ ( فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۭ ) لہذا پڑھو قرآن میں سے جو آسان ہو۔ یعنی اس میں سے جس کی تمہیں معرفت حاصل ہے اور جس کی قرات تم پر شاق نہیں گزرتی۔ بنابریں قیام لیل کرنے والا نمازی صرف اس وقت نماز پڑھنے پر مامور ہے جب تک اس میں نشاط ہے، جب وہ اکتاہت، کسل مندی یا اونگھ وغیرہ کا شکار ہوجائے تو اسے آرام کرنا چاہیے اسے طمانیت اور راحت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بعض ایسے اسباب ذکر فرمائے جو تخفیف سے مناسبت رکھتے ہیں، چناچہ فرمایا (عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ ) وہ جانتا ہے تم میں سے بیمار بھی ہوں گے۔ دو تہائی شب، نصف شب یا ایک تہائی شب کی نماز ان پر شاق گزرے گی، پس مریض اتنی ہی نماز پڑھے جو اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ مشقت کی صورت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر بھی مامور نہیں بلکہ اگر نفل نماز پڑھنے میں اس کے لیے مشقت ہے تو وہ اسے چھوڑ دے اور اسے اسی طرح نماز کا اجر ملے گا جس طرح وہ صحت مند ہونے کی حالت میں پڑھتا رہا ہے۔ (وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ) یعنی اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ تم میں مسافر بھی ہیں جو تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں تاکہ وہ مخلوق سے بےنیاز اور ان سے سوال کرنے سے باز رہیں۔ پس مسافر کے احوال سے تخفیف مناسبت رکھتی ہے اسی لیے اس میں سے اس کے لیے فرض نماز میں تخفیف کردی گئی ہے اور اس کے لیے ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کرنا اور چار رکعتوں والی نماز میں قصر کرنا مباح کردیا ہے۔ (وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ) اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد بھی کرتے ہیں لہذا تم باآسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو تخفیفوں کا ذکر فرمایا ہے اول وہ تخفیف جو صحت مند اور اپنے گھر میں مقیم شخص کے لیے ہے جو وقت کے تعین کا مکلف ہوئے بغیر اپنی راحت اور نشاط کی رعایت رکھتا ہے بلکہ وہ فضیلت والی نماز کی کوشش کرتا ہے اور یہ رات کے نصف اول کے بعد ایک تہائی رات تک قیام کرنا ہے دوسری تخفیف مسافر کے لیے ہے خواہ یہ سفر تجارت کے لیے ہو یا عبادت، یعنی جہاد اور حج وغیرہ کے لیے ہو پس وہ اتنی مقدار کی رعایت رکھ سکتا ہے جو اس کو تکلیف نہ دے۔ پس ہر قسم کی حمد وثنا اللہ کے لیے ہے جس نے امت کے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی بلکہ اس نے اپنی شریعت کو آسان بنایا اور اس نے اپنے بندوں کے احوال، ان کے دین، ابدان، اور دنیا کے مصالح کی رعایت رکھی۔ پھر اللہ نے دو عبادتوں کا ذکر فرمایا جو ام العبادات اور ان کا ستون ہیں یعنی نماز قائم کرنا جس کے بغیر دین درست نہیں رہتا اور زکوۃ ادا کرنا جو ایمان کی دلیل ہے اور اس سے حاجت مندوں اور مساکین کے لیے ہمدردی حاصل ہوتی ہے لہذا فرمایا (وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ) یعنی نماز کو اس کے ارکان، اس کی حدود، اس کی شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کرو۔ (وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اور زکوۃ ادا کرتے رہو اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہو۔ یعنی سچی نیت اور ثبات نفس سے، خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پاک مال میں خرچ کرنا، اس میں صدقات واجبہ اور صدقات مستحبہ دونوں داخل ہیں، پھر عام بھلائی اور بھلائی کے کاموں کی ترغیب دی۔ فرمایا ( وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا) اور جو نیک عمل تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اس کو اللہ کے ہاں بہتر ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے۔ نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ بیشمار گنا ملتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں کی ہوئی ذرہ بھر بھلائی کے مقابلے میں ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کے گھر میں دنیا کی لذتوں سے کئی گنا زیادہ لذتیں اور شہوات ہیں اس دنیا میں کوئی بھلائی کی ہو اور نیکی، آخرت کے دائمی گھر میں بھلائی اور نیکی کی بنیاد، اس کا بیج، اس کی اصل اور اساس ہے۔ ہائے افسوس ان اوقات پر جو غفلت میں گزر گئے اور حسرت ہے ان زمانوں پر جو غیر صالح اعمال میں بیت گئے، ہے کوئی مددگار اس دل کا جس پر اس کے پیدا کرنے والے کی کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی اور نہ اس ہستی کی ترغیب کوئی فائدہ دیتی ہے جو اس پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتی ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرسکتا ہے۔ اے اللہ ہر قسم کی حمد وثنا تیرے ہی لیے ہے، تیرے ہی پاس شکایت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں (ولا حول ولاقوۃ الابک) ۔ ( وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) بھلائی اور نیکی کے کاموں کی ترغیب دینے کے بعد، استغفار کا حکم دیا جس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بندہ ان کاموں میں کوتاہی سے پاک نہیں جن کا اسے حکم دیا گیا ہے یا تو وہ ان کاموں کو سرے سے کرتا ہی نہیں یا انہیں ناقص طریقے سے کرتا ہے، پس اسے استغفار کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ بندہ دن رات گناہ کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت اور مغفرت سے ڈھانپ نہ لے تو وہ ہلاک ہوجائے گا۔