73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 73:1–3

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑوں میں لپٹنے والے

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیامت کرو۔ مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی آدھی رات یا آدھی سے کچھ کم

1۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم نے الدلائل میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کا ایسا نام رکھو جس سے لوگ کوئی نتیجہ اخذ کرسکیں پھر انہوں نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں پھر انہوں نے کہا یہ مجنون ہے تو دوسروں نے کہا یہ مجنون نہیں ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا یہ جادوگر ہے تو دوسروں نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک دوست کو اپنے دوست سے جدا کردیتا ہے تو اس پر مشرک متفرق ہوگئے یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی آپ اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے اور اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا آیت یا ایہا المزمل اے کپڑا اوڑھنے والے آیت یا ایہا المدثر اے چادر لپیٹنے والے۔ 2۔ احمد ومسلم وابوداوٗد والنسائی ومحمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعد بن ہشام (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتائیے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا کیا تو نے یہ سورة نہیں پڑھی۔ آیت یا ایہا المزمل میں نے کہا کیوں نہیں ؟ پھر عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے آغاز میں قیام اللیل کو فرض کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ ایک سال تک قیام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے آخری حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا پھر اللہ تعالیٰ نے تخفیف اور رخصت کو اس سورت کے آخر میں نازل فرمایا۔ تو رات کا قیام نفل ہوگیا فرض ہونے کے بعد۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ قرآن میں آیت یا ایہا المذمل قم اللیل الا قلیلا۔ نازل ہوا یہاں تک کہ ایک آدمی رسی باندھ کر لٹک جاتا تھا۔ اسی حکم پر آٹھ ماہ عمل کرتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ وہ اس کی رضا اور خوشنودی کو چاہتے ہیں تو ان پر رحم فرمایا اور ان کو فرض نماز کی طرف لوٹادیا۔ اور قیام اللیل کو چھوڑدیا۔ 4۔۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں والحاکم وصححہ نے جبیر بن نفیر (رح) سے روایت کی کہ میں نے عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے رات کو قیام کرنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کیا تو نے نہیں پڑھا۔ آیت یا ایہا المزمل میں نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہی ان کا قیام تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا راتوں کو کم سونا 5۔ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد ومحمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ بہت کم رات کو سوتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا آیت قم اللیل الا قلیلا۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن وابی حاتم ومحمد بن نصر والطبرانی والحاکم وصححہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کہ جب سورة مزمل کا اول حصہ نازل ہوا۔ تو صحابہ کرام تقریباً اتنا وقت قیام کرتے تھے۔ جتنا رمضان کے مہینہ میں قیام کرتے تھے یہاں تک کہ اس کا آخر حصہ نازل ہوا۔ اور اس کے اول اور آخر کے درمیان تقریباً ایک سال کا فاصلہ ہے۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن نصر نے ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ یہ سورة آیت یا ایہا المزمل نازل ہوئی تو ایک سال تک اس حکم پر قیام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے قدم اور ان کی پنڈلیوں پر ورم آگیا۔ پھر یہ آیت فاقرء وا ما تیسر منہ نازل ہوئی تو لوگوں نے آرام پایا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن جریر جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا المزمل قم اللیل الا قلیلا۔ نازل ہوئی۔ تو نبی اکرم ﷺ اس حال پر دس سال ٹھہرے رہے اور قیام اللیل فرمایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا اور آپ کے صحابہ کرام ؓ میں سے ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ قیام کرتی رہی۔ دس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ان ربک یعلم انک تقوم سے لے کر آیت فاقیموا الصلوۃ تک تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تخفیف فرمادی دس سال کے بعد۔ 9۔ ابو داوٗد فی ناسخہ ومحمد بن نصر وابن مردویہ والبیہقی فی السنن عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مزمل میں فرمایا آیت قم اللیل الا قلیلا نصفہ۔ رات کو قیام کر مگر تھوڑا ساحصہ یعنی اس کا آدھا اور وہ آیت جس میں ہے آیت والنہار علم ان لن تحصوہ فتاب علیکم فاقرء وا ماتیسر من القراٰن۔ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو نباہ نہیں سکتے سو اس نے تم پر رحم کیا پس پڑھو جتنا قرآن میں سے آسان ہو آیت ناشءۃ اللیل یعنی رات کا اٹھنا اس کا اول ہے اور ان کی نماز رات کے اول حصہ میں ہوتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تم اس کو شمار کرلو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر قیام اللیل میں سے فرض کیا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ انسان جب سوجاتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ کب جاگے گا اور فرمایا آیت واقوم قیلا اور بات بھی صحیح نکلتی ہے۔ یعنی وہ زیادہ مناسب ہے کہ آپ قرآن کی قراءت کو سمجھیں آیت ان لک فی النہار سبحا طویلا۔ بیشک دن میں آپ کے لیے بڑا کام ہے یعنی لمبی فراغت ہے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المزمل اے چادر اوڑھنے والے یہ آیت نازل ہوئی اور اس وقت آپ ایک مخمملی چادر میں تھے۔ 11۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا المزمل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ آپ نے س امر کو چھپا رکھا ہے۔ سو آپ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ 12۔ ابن ابی شبیبہ وابن نصر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المزمل سے مراد ہے کہ آپ نے اس امر کو چھپا رکھا ہے سو آپ کے ساتھ اٹھیں اور فرمایا آیت یا ایہا المدثر سے مراد ہے کہ آپ نے اس امر کو چادر کے ساتھ ڈھانپ رکھا ہے سو آپ اس کام کو لے کر کھڑے ہوجائیں۔ 13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا المزمل کے بارے میں روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کپڑا اوڑھے ہوئے تھے کہ آپ کو خطاب ہوا آیت یا ایہا المزمل۔ 14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا المزمل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے اے وہ جو کہ اپنے کپڑوں کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔ 15۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المزمل سے نبی ﷺ کی ذات مراد ہے۔
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھو

16۔ فریابی نے ابن عباس ؓ سے کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ یعنی آپ دو یا تین آیتیں پڑھتے تھے۔ پھر رک جاتے تھے اور جلدی جلدی نہ پڑھتے تھے۔ قرآن کریم کو واضح اور صاف پڑھنا 17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن منیع فی مسندہ ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا۔ سے مراد ہے کہ آپ قرآن مجید کو خوب واضح انداز میں پڑھیں۔ 18۔ احمد وابو داوٗد والترمذی وصححہ والنسائی والحاکم وصححۃ والبیہقی نے اپنی سنن میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صاحب قرآن سے قیامت کے دن کہا جائے گا۔ پڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا۔ بلاشبہ تیری منزل اس آخری آیت کے پاس ہے جو تو پڑھے گا۔ 19۔ دیلمی نے سند واہ کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جب تو قرآن پڑھے تو اس کو آہستہ پڑھ اور خوب واضح انداز میں پڑھ۔ اور اس کو ردی کھجوریں کی طرح بکھیر نہ دے اور نہ تو اسے جلدی جلدی کاٹ بالوں کے کاٹنے کی طرح اور ٹھہر جاؤ اس کے عجائبات کے بیان کے وقت۔ اور اس کے ذریعہ دلوں کو حرکت دو ۔ اور تم میں سے کسی کا مقصد سورة کے آخر تک پہنچنا نہ ہو۔ 20۔ ابن ابی شیبہ وابن نصر اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ علقمہ (رح) نے عبداللہ ؓ کے پاس پڑھا تو انہوں نے فرمایا اس کو آہستہ آہستہ پڑھو کیونکہ وہ قرآن کو زینت دینے والا ہے۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القرآن ترتیلا اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ یعنی قرآن مجید کو خوش الحانی اور صحیح ادائیگی کے ساتھ پڑھو۔ 22۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن نصر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ کی عام قراءت مد تھی۔ 23۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القرآن ترتیلا سے مراد ہے کہ قرآن مجید کو خوب واضح اور بین طریقے سے پڑھو۔ 24۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں روایت کیا کہ تم قرآن کو واضح قراءت کے ساتھ پڑھو۔ 25۔ فریابی وعبد بن حمید وابن نصر والبیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القرآن ترتیلا سے مراد ہے کہ قرآن کا بعض بعض کے پیچھے پڑھو یعنی تسلسل کے ساتھ پڑھو۔ 26۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں فرمایا کہ قرآن کی واضح تفسیر کرو۔ 27۔ العسکری نے المواعظ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے س قول آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید کو خوب واضح انداز میں پڑھو۔ اور اس کو ردی کھجوروں کی طرح نہ بکھیرو۔ اور بالوں کے کاٹنے کی طرح اسے نہ کاٹو۔ اور اس کے عجائبات پر ٹھہر جاؤ اور اس کے ذریعہ دلوں کو حرکت دو ۔ اور تم میں سے کسی کا ارادہ سورت کے آخرت تک پہنچنا نہ ہو۔ 28۔ ابن ابی شیبہ نے ابو ملیکہ (رح) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بعض ازواج سے روایت کیا کہ ان سے نبی ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر ان سے کہا گیا کہ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے۔ پھر انہوں نے خوب اچھی طرح ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی۔ 29۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سے لوگ قراءت کے لحاظ سے خوبصورت ہیں ؟ فرمایا جب تو اس کو پڑھتا ہوا سنے اور یہ خیال کرے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔ 30۔ ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرا جو ایک آیت پڑھتا اور روتا تھا۔ اور اس کو بار بار لوٹا رہا تھا۔۔ پھر اس نے کہا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا آیت ورتل القرآن ترتیلا یہی ترتیل ہے۔ 31۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید ؓ دونوں سے روایت کیا کہ قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا۔ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ کیونکہ تیری منزل وہ ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔ 32۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن اپنے پڑھنے والے کے لیے قیامت کے دن سفارش کرے گا اور کہے گا اے میرے رب ! آپ نے مجھے اس کے پیٹ میں محفوظ کیا میں نے اس کو رات میں جگایا اور میں نے اس کو بہت سی خواہشات سے روکا اور ہر عمل کرنے والے کے لیے اس کے عمل کی جزاء ہے جو اس نے کہا تو اس سے کہا جائے گا اپنے ہاتھ کو پھیلا تو اس کو رضامندی سے بھردیا جائے گا اور اس کے بعد اس پر غصہ نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کو کہا جائے گا۔ پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ چانچہ ہر آیت کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا۔ اور ہر آیت کے بدلے میں ایک نیکی زیادہ کی جائے گی۔ 33۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک بن قیس (رح) سے روایت کیا اے لوگو ! اپنی اولاد کو اور اپنے اہل و عیال کو قرآن سکھاؤ کیونکہ جس کو مسلمانوں میں سے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آئیں گے اور اس کو گھیر لیں گے اور اس سے کہیں گے تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا جنت کے درجوں میں یہاں تک کہ وہ دونوں اس کو وہاں اتاریں گے جہاں اس کا قرآن کا علم ختم ہوجائے گا۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

بیشک ہم آپ پر پر عنقریب ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہی

قرآن کریم تلاوت کرنے والے سے ملاقات کرے گا ج 34۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن قیامت کے کے دن اپنے پڑھنے والے سے ملاقات کرے گا۔ جب اس کی قبر اس سے پھٹے گی۔ تو وہ دبلے پتلے متغیر رنگ والے آدمی کی طرح ہوگا۔ اور اس سے کہے گا کیا تو نے مجھے پہچان لیا ؟ وہ کہے گا میں نے تجھ کو نہیں پہچانا۔ وہ کہے گا میں تیرا ساتھی قرآن ہوں۔ جس نے تجھ کو پیاسا رکھا سخت گرمی میں اور تجھ کو رات کے وقت جگائے رکھا۔ بیشک ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے۔ بلاشبہ تو آج کے دن یہ تجارت کے پیچھے ہے پھر اسے دائیں ہاتھ میں ملک دیا جائے گا اور بائیں ہاتھ میں خلد اور اس پر وقار کا تاج رکھا جائے گا۔ اور اس کے والد کو ایسے دو جوڑے پہنائے جائیں گے کہ دنیا والے ان دونوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ اور وہ کہیں گے۔ کس وجہ سے یہ جوڑے ہم کو پہنچائے گئے۔ ان سے کہا جائے گا تمہارے بیٹے کے قرآن یاد کرنے کی وجہ سے پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا۔ اور وہ اپنے درجے کو پہچان لے گا اور وہ برابر چڑھنے میں لگا رہے گا جب تک وہ اسے ترتیل کے ساتھ پڑھتا جائے گا۔ 35۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن نصر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا سنلقی علیک قولا ثقیلا ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات کا بوجھ ڈالنے والے ہیں۔ یعنی یہ بوجھ ہوگا اللہ کی طرف سے اس کے فرائض اور اس کی حدود کا۔ 36۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن نصر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ قولا ثقیلا سے مراد ہے ایسا قول جس کے مطابق عمل ثقیل ہے۔ 37۔ ابن نصر وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ قولا ثقیلا سے مراد ہے کہ وہ بھاری ہوگا ترازوں میں قیامت کے دن۔ 38۔ احمد وعبد بن حمد وابن جریر وابن نصر والحاکم وصححہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی طرف جب وحی اترتی تھی۔ اور آپ اپنی اونٹنی پر ہوتے تھے۔ تو وہ اپنی گردن کا اگلا حصہ زمین پر رکھ دیتی تھی۔ یعنی بیٹھ جاتی تھی۔ اور پھر ادھر ادھر جانے کی طاقت نہ رکھتی تھی۔ یہاں تک کہ آپ سے یہ کیفیت دور ہوجاتی۔ 39۔ احمد نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں گھنٹی کی آواز سنتا ہوں پھر میں اس وقت خاموش ہوجاتا ہوں۔ اور کبھی میری طرف وحی اس حال میں آتی ہے کہ میں یہ گمان کرتا ہوں کہ میری جان قبض کی جار ہی ہے۔ 40۔ الحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جب وحی نازل ہوتی تھی تو ہم سے کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ آپ کی طرف اپنی نگاہ کو اٹھائے یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بلاشبہ رات کا اٹھنا خوب زیادہ مشقت والا ہے اور اس وقت بات خوب ٹھیک طرح ادا ہوتی ہے

41۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے رات کا قیام کرنا حبشی زبان میں کیونکہ جب آدمی کھڑا ہوتا تو وہ کہتا نشأ۔ 42۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے قیام اللیل۔ 43۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ناشءۃ اللیل سے مراد ہے رات کا اول حصہ۔ 44۔ ابن المنذر وابن الضریس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ساری رات ہی ناشءۃ ہے۔ 45۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم والحاکم وصححۃ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان ناشءۃ اللیل سے مراد ہے قیام اللیل حبشی زبان میں۔ قرآن کریم حبشی زبان میں 46۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان ناشءۃ اللیل سے مراد ہے قیام اللیل حبشی زبان میں۔ 47۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ابو میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ حبشی زبان میں نشأ کہتے ہیں کھڑے ہونے کو۔ 48۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ناشءۃ اللیل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس رات میں کھڑا ہوا تو میں نے انشأت کیا۔ یعنی میں نے قیام اللیل کیا۔ 49۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ عشاء کے بعد ہر چیز ناشۂ ہے۔ 50۔ عبدبن حمید وابن نصر اور بیہقی نے اپنی سنن میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ عشاء کے بعد ہر نماز ناشءۃ اللیل ہے۔ 51۔ عبد بن حمید وابن نصر نے ابو مجلز (رح) سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ عشاء کے بعد صبح تک ہر نماز ناشۂ ہے۔ 52۔ فریابی وعبد بن حمید وابن نصر نے مجاہد (رح) سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ وقت ہے جس میں تو تہجد پڑے سو تو رت کے وقت تہجد پڑھ۔ 53۔ ابن ابی شیبہ فی المصنف وابن نصر والبیہقی نے اپنی سنن میں انس بن مالک ؓ سے آیت ان ناشءۃ اللیل کے بارے میں روایت کیا کہ س سے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت مراد ہے۔ 54۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 55۔ ابن نصر والبیہقی نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان ناشءۃ اللیل سے مراد ہے مغرب اور عشاء کے درمیان قیام کرنا۔ مغرب و عشاء کے درمیان نفل پڑھنا 56۔ ابن المنذر نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ آپ کو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس بارے میں ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت میں کیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا یہ ناشۂ میں سے ہے۔ 57۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت ان ناشءۃ اللیل یاء کے ہمزہ کے ساتھ آیت اشد وطأ میں واو کے نصب اور طاء کے جزم کے ساتھ یعنی موافقت کرنا۔ 58۔ ابو یعلی وابن جریر ومحمد بن نصر وابن الانباری نے المصاحف میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت ان ناشءۃ اللیل ہی اشد وطأ واصوب قیلا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا ہم تو اس کو یوں پڑھتے ہیں آیت واقوم قیلا تو انس ؓ نے فرمایا بلاشبہ اصوب واقوم واھیا واشبا سب کا ایک ہی معنی ہے۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بلاشبہ دن میں آپ کو زیادہ کام میں مشغولیت رہتی ہے

59۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہی اشد وطأ یہ نفس کو خوب زیر کرتا ہے یعنی یہ قول تیرے لیے بہت زیادہ موافق ہے آیت واقوم قیلا یعنی فارغ کرنے والا ہے تیرے دل کو۔ 60۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشد وطا یعنی تو اپنے کانوں کو اپنی آنکھوں کو اور اپنے دل کو ایک دوسرے کے موافق کرلے آیت واقوم قیلا اور قراءت کو ثابت کرنے والا ہے۔ 61 عبدالرزاق وعبد بن حمید وبن نصر نے قتادہ (رح) سے آیت اشد وطأکے بارے میں روایت کیا کہ رات کا قیام خیر اور نیکی میں ثابت قدم رکھتا ہے آیت واقوم قیلا اور قراءت پر اجر مرتب کرنے والا ہے۔ 62۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تو اقوم قیلا اور بات بھی صحیح نکلتی ہے سے مراد ہے کہ رات کا قیام اس سے زیادہ قریب ہے کہ آپ قرآن کی سمجھ حاصل کریں۔ آیت ان لک فی النہار سبحا طویلا بیشک دن میں آپ کے لیے بڑا کام ہے۔ یعنی فراغت ہے۔ آیت وتبتل الیہ تبتیلا اور سب سے الگ ہو کر اسی کی طرف آجاؤ یعنی اللہ کے لیے انتہائی اخلاص اختیار کیجیے۔ 63۔ عبد بن حمید وابن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے الکنی میں ابن عباس ؓ سے آیت ان لک فی النہار سبحا طویلا کے بارے میں روایت کیا کہ السبح سے مراد ہے کسی حاجت اور نیند کے لیے فارغ ہونا۔ 64۔ عبد بن حمید وابن نصر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سبحا طویلا سے مراد ہے لمبی فراغت۔ 65۔ عبدبن حمید نے ابو مالک اور ربیع رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور آپ اپنے رب کا نام یاد کرتے رہیں اور قطع تعلق کر کے اسی کی طرف متوجہ رہیں

66۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن نصر وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سبحا طویلا سے مراد ہے لمبی فرغت آیت وتبتل الیہ تبتیلا سے مراد ہے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے دعوت اور عبادت کرو۔ 67 فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتبتل الیہ تبتیلا سے مراد ہے کہ سوال اور دعا صرف اور صرف اسی سے کرو پورے اخلاص کے ساتھ۔ 68۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتبتل الیہ تبتیلا سے مراد ہے کہ اس کے لیے مخلص ہوجاؤ پورے اخلاص کے ساتھ۔
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق کا رب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں سو اپنے کام سپرد کرنے کے لیے صرف اسی کو اپنا کارساز بنائے رہو

69۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت رب المشرق والمغرب رب کے کسرہ کے ساتھ۔ 70 عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت رب امشرق والمغرب سے مراد ہے وجہ اللیل اور وجہ النہار۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے علیحدگی اختیار کیجیے

71 ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واھجرہم ھجرا جمیلا یعنی ان کو چھوڑ دیجیے یعنی ان سے اعراض کیجیے آیت وقل سلام اور ان سے سلام کہہ دیجیے جان چھڑانے کے لیے اور یہ حکم تلوار سے پہلے کا ہے یعنی جنگ کی اجازت سے پہلے کا ہے۔
Ayah 73:11

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھ اور ان جھٹلانے والو کو جو نعمت والے ہیں چھوڑدیجیے اور انہیں تھوڑے دنوں کی مہلت دیجیے

1۔ ابو یعلی وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومہلہم قلیلا نازل ہوئی اور مجھے جھٹلانے والے دولتمندوں کو چھوڑ دو ۔ تو ان کو تھوڑی سی مہلت ملی یہاں تک کہ بدر کا واقعہ رونما ہوا۔ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے آیت وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کی اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایمان والے غریب لوگ اپنے مالداروں سے جنت میں چالیس سال پہلے داخل ہوں گے۔ اور ان کے مالداروں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا والوں کے بادشاہ تھے اور ان کے حکمران تھے تم نے جس طرح کے وہاں کئے ہیں ویسا ہی تم کو بدلہ عطا کیا ہے۔ آیت ومہلہم قلیلا اور ان کو تھوڑی سی مدت مہلت دے دو ۔ یعنی جنگ تک۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وذرنی والمکذبین اولی النعمۃ ومہلہم قلیلا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک ان کو اللہ کے لیے طلب بھی ہے اور حاجت بھی ہے آیت ان لدینا انکالا بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں۔ یعنی ان کے لیے ہمارے پاس بیریاں ہیں۔
Ayah 73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیش ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور دوزخ ہے

4۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت لدینا انکالا سے مراد ہے بیڑیاں۔ 5۔ احمد فی الزہد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان لدینا انکالا سے مراد ہے بیڑیاں۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 7۔ عبد بن حمید نے حماد اور طاؤس رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 8۔ ابن جریر و بیہقی نے البعث میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ انکالا سے مراد ہے آگ کی بیڑیاں۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان لدینا انکالا سے مراد ہے بیڑیاں اللہ کی قسم یہ انتہائی بھاری ہیں ی کبھی، جدا نہ ہوں گی۔ پھر رونے لگے۔ 10۔ عبد بن حمید نے ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ وہ بیڑیاں ہیں اللہ کی قسم ! جو ان سے کبھی نہیں کھلیں گی۔ 11۔ عبد بن حمید نے ابو عمران وابن ابی الدنیا فی صفۃ النار وعبد اللہ فی زوائد الزہد وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وطعاما ذا غصۃ اور گلے میں اٹکنے والا کھانا کہ اس کھانے کے کانٹے ہوں گے اور وہ حلق کو پکڑے گا نہ نیچے اترے گا اور نہ باہر آئے گا۔
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب ہے

جہنمیوں کی خوراک 12۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وطعاما ذا غصۃ سے زقوم کا درخت مراد ہے۔ 13۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 14۔ احمد فی الزہد وہناد وعبد بن حمید ومحمد بن نصر نے حمران (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت ان لدینا انکالا وجحیما وطعاما ذا غصہ و عذابا الیما جب آپ الیما پر پہنچے تو بےہوش ہوگئے۔ 15۔ ابو عبید فی فضائلہ واحمد فی الزہد وابن ابی الدنیا نعت الخائفین وابن جریر وابن ابی داوٗد فی الشریعۃ وابن عدی فی الکامل والبیہقی فی شعب الایمان حمران بن امین کے طریق سے ابو حرب بن ابو اسود ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے ایک آدمی کو آیت ان لدینا انکالا و جحیما پڑتے سنا تو آپ بےہوش ہوگئے۔
Ayahs 73:14–15

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کا تودہ بن جائیں گے جو ڈھلا جارہا ہو

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا جو تمہارے اوپر گواہ ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا

16۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کثیبا مہیلا ریگ سیال میں المہیل سے مراد ہے جب آپ اس میں سے کوئی چیز لے لیں تو اس کا دوسرا حصہ تیرے پیچھے چلا آئے یہاں ریت کے بہتے ہوئے ٹیلے مراد ہیں۔ 17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کثیبا مہیلا سے مراد ہے بہنے والی ریت اور فرمایا آیت واخذ وبیلا سخت پکڑ سے پکڑنا یعنی شدید گرفت۔
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے رسول کی نافرمانی کی سو ہم نے اسے پکڑ لیا سخت پکڑ لیا

18۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت اخذا وبیلا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے سخت پکڑنا کہ اس سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ خزی الحیاۃ وخزی الممات وکلا اراہ طعاما وبیلا ترجمہ : زندگی کی رسوائی اور موت کی رسوائی اور ہر ایک کے بارے میں میں خیال کرتا ہوں کہ وہ شدید ضرر رساں کھانا ہے
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

سو اگر تم کف کرو گے تو اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا

1۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان شیبا پھر تم کس طرح بچو گے اگر تم نے انکار کیا اس دن جو لڑکوں کو بوڑھا کردے گا یعنی تم اس دن کس طرح بچو گے اگر تم کفر کرتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم ! اس دن وہ قوم نہیں بچے گی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان شیبا۔ پھر تم کس طرح بچو گے اگر تم نے انکار کیا اس دن جو لڑکوں کو بوڑھا کردے گا یعنی تم اس دن کس طرح بچو گے اگر تم کفر کرتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم ! اس دن وہ قوم نہیں بچے گی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فکیت تتقون ان کفرتم یوما کے بارے میں روایت کیا کہ کونسی نماز کے ذریعہ تم اس دن سے بچ سکو گے ؟ کون سے روزے کے ذریعہ تم بچ سکو گے ؟ 3۔ ابونیعم نے الحلیہ میں خیثمہ ؓ سے آیت فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان شیبا۔ آیت وہ دن لڑکوں کو بوڑھا کردے گا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آواز دینے والا قیامت کے دن آواز دے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کی جماعت دوزخ کی آگ کے لیے نکالی جائے گی پس اس سبب سے یہ دن بچوں کو بوڑھا بنادے گا۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے آیت فکیف تتقون ان کفرتم یوما یجعل الولدان کے بارے میں روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ہمارے رب آدمی (علیہ السلام) کو بلائیں گے اور ان سے فرمائیں گے اے آدم ! آگ کا حصہ نکالو آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔ اے میر رب مجھے کوئی علم نہیں۔ مگر جو آپ نے مجھ کو سکھایا ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگے کا حصہ نکالوں جو آگ کی طرف ہانکے جائیں گے حالانکہ رزق کو جمع کرانے والے ہوں گے اس وقت کی طرح اور جب آگ کا حصہ نکلے گا تو ہر بچہ بوڑھا ہوجائے گا۔ 4۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت یوم یجعل الولدان شیبا پڑھی اور فرمایا یہ قیامت کے دن ہوگا۔ اور اس دن اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے۔ کھڑے ہوجائیے اور اپنی اولاد میں سے ایک جماعت آگ کی طرف بھیجئے آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے۔ اے میرے رب کتنے ہوں ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے اور ایک نجات پائے گا۔ یہ بات مسلمانوں پر بہت بھاری ہوئی۔ تو آپ نے فرمایا جب آپ نے ان کے چہروں پر خوف وہراس کے آثار دیکھے کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد بہت ہے۔ اور یاجوج ماجوج آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے۔ اور ان میں سے کوئی آدمی نہیں مرے گا یہاں تک کہ اس کی پشت میں سے ہزار آدمی وارث بن جائیں پس ان میں اور ان جیسے لوگوں میں تمہارے لیے لشکر ہیں۔
Ayahs 73:18–19

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

آسمان پھٹ جائے گا اس میں اس کا وعدہ کیا ہوا ہے

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

بلاشبہ یہ ایک نصیحت ہے سو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے

6۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا یعنی قیامت کے دن کی وجہ سے آسمان بوجھل اور بھاری ہوجائے گا۔۔ 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ یعنی آسمان اس کے سبب بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ 8۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت السماء منفطر بہ کے بارے میں روایت کیا کہ حبشی زبان میں اس سے مراد ہے کہ آسمان بھر جائے گا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ منفطر بہ یعنی اس دن کے سبب آسمان انتہائی بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا 10۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا ؂ 10۔ ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ منفطر بہ یعنی آسمان پھٹ جائے گا قیامت کے دن کے سبب۔ 11۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے منفطر بہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ قیامت کے خوف سے آسمان پھٹ جائے گا۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا شعر نہیں سنا۔ طبا ہن حتی اعض اللیل دونہا افاطیر وسمع رواء جذورہا ترجمہ : اس نے نہیں کھینچا یہاں تک کہ رات کے وقت ان کے نیچے پھٹنیں ظاہر ہوئی اور ان کی جڑوں کو رواء کا نام دیا گیا۔ 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت السماء منفطر بہ کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان پھٹ جائے گا یعنی اللہ کے خوف سے آسمان بوجھل اور بھاری ہوجائے گا۔ 13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ سے مراد ہے کہ ا سدن کی شدت اور اس کے خوف کی وجہ سے آسمان بوجھل ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول آیت ان ربک یعلم انک تقوم بیشک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کھڑے ہوتے ہیں تقریبا رات کے دو تہائی، تقریبا رات کا نصف اور تقریبا رات کا ایک تہائی۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ والوں میں ایک جماعت رات کے دو تہائی حصہ کے قریب اور آدھی رات اور تہائی رات کھڑے رہتے ہیں اور اللہ رات اور دن کو مقدر فرماتا ہے اور اللہ کو علم ہے کہ تم اس کو ضبط نہیں کرسکتے سو اس نے تمہارے حال پر مہربانی فرمائی سو تم قرآن سے اتنا حصہ پڑھ لو جو آسان ہو۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے مریض آدمی ہوں اور بعض وہ لوگ ہوں گے جو زمین میں سفر کرتے ہیں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہی اور کچھ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی راہ میں قتال کریں گے سو تم قرآن میں سے اتنا حصہ پڑھ لیا کرو جو آسانی سے پڑھا جاسکے اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض حسن دیدو اور اپنی جانوں کے لیے جو بھلائی بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس پا لوگے اس سے اچھا اور خوب بڑے ثواب والا اور اللہ سے مغفرت طلب کرو، بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے اور مہربان ہے

14۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن و سعید بن جبیر رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ آیت علم ان لن تحصوہ وہ جانتا ہے کہ تم اس کو نباہ نہیں سکتے۔ یعنی تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد رحمہا للہ سے روایت کیا کہ آیت فاقرء وا ماتیسر منہ پس پڑھو جتنا قرآن میں سے آسان ہو۔ یعنی ان کو قیامت کرنے میں رخصت دے دی گئی۔ آیت علم ان لن تحصوہ یعنی تم ہرگز رات کو قیام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے فتاب علیکم سو اس نے تم پر رحم کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنین کی خصال کے بارے میں ہم کو خبر دیتے ہوئے فرمایا آیت علم ان سیکون منکم مرضی اسے علم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے آیت کے آخر تک۔ 16۔ عبد بن حمید وابن نصر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اس سورة کے شروع میں قیام اللیل فرض کردی گئی تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے رات کو قیام کیا یہاں تک کہ ان کے پاؤں پر ورم آگیا اور اس سورة کے آخری آیات کو اللہ تعالیٰ نے ایک سال تک روکے رکھا۔ پھر اس کے آخر میں تخفیف اور رخصت کو نازل کرتے ہوئے فرمایا آیت علم ان سیکون منکم مرضی سے لے کر آیت فاقرء وا ماتیسر منہ تک۔ اسے علم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ اور لوگ بھی جو اللہ کی فضل تلاش کرتے ہوئے زمین پر سفر کریں گے اور کچھ اور لوگ ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔ پس پڑھو جو اس میں سے آسان ہو۔ پس اس وجہ سے جو کچھ اس سے پہلے حکم تھا وہ منسوخ ہوگیا اور فرمایا آیت واقیموا الصلوۃ واٰتو الزکوۃ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ یعنی یہ دونوں فریضے واجب ہیں ان دونوں میں کوئی رخصت نہیں۔ 17۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ پر آیت یا ایہا المزمل قم اللیل الا قلیلا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی مکمل ایک سال تک قیام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں پر ورم آگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل فرمائی آیت ان ربک یعلم سے لے کر آیت ماتیسر منہ تک۔ حسن ؓ نے فرمایا ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں۔ جس نے اس قیام اللیل کو فرض ہونے کے بعد نفل بنا دیا اور رات کا قیام ضرر ہے۔ آپ (علیہ السلام) کے پاؤں مبارک پر ورم آنا 18۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت یا ایہا المزمل قم اللیل الا قلیلا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ ایک سال تک اسی حکم پر ٹھہرے رہے یعنی اس پر عمل کرتے رہے اور ان پر یہ حکم بھاری گزرا اور ان کے پاؤں پر ورم آگیا پھر اس حکم کو سورة کے آخر نے منسوخ کردیا یعنی آتی فاقرء وا ماتیسر منہ پس پڑھو جو کچھ اس میں سے آسان ہو۔ 19۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت فاقرء وا ما تیسر منہ کے بارے میں فرمایا یہ کہ سو آیتیں ہیں۔ 20۔ الدارقطنی والبیہقی فی السنن وحسناہ نے قیس بن ابی حازم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے پہلی رکعت میں الحمد للہ اور سورة بقرہ کی پہلی آیات پڑھیں پھر رکوع کیا پھر فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہی آیت فاقرء وا ماتیسر منہ۔ 21۔ احمد و بیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم فاتحۃ الکتاب اور قرآن مجید میں سے جو کچھ آسان ہو وہ پڑھیں۔ 22۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے بعد کوئی ایسی حالت نہیں جس پر مجھے موت آئے اور وہ میرے نزدیک اس حالت سے زیادہ پسندیدہ ہو کہ مجھے موت آئے اور میں اپنے کجاوے کے دونوں حصوں کے درمیان ہوں اور اللہ کے فضل میں سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت واٰخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ واٰخرون یقاتلون فی سبیل اللہ۔ اور کچھ لوگ اور بھی ہیں جو اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے زمین پر سفر کریں گے۔ اور کچھ لوگ اور ہوں گے جو اللہ کی را میں جہاد کریں گے۔ 23۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مال کمانے والا نہیں جو طعام یعنی غلہ کو لے آتا ہے مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی ایک شہر کی طرف اور اسے اس دن کے بھاؤ سے اس کو فروخت کرتا ہے۔ تو اس کا مرتبہ اللہ کے نزدیک شہید کے مرتبہ کی طرح ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت واٰخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ واٰخرون یقاتلون فی سبیل اللہ (روایت ضعیف الاسناد ہے۔ تخریج احادیث الاحیاء، المغنی عن حمل الاسفار جلد 1۔ ص 516)