73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsانوار البیان

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

(73:1) یایھا : یا حرف ندا۔ ایھا۔ بمعنی کونسا، جس، کس کس، کیا کیا ؟ یہ اسفتہامیہ بھی ہوتا ہے۔ اور شرطیہ بھی۔ صفت بھی واقع ہوتا ہے۔ بحالت نداء ای ، ایۃ منادی معرف باللام کو حرف نداء سے ملاتا ہے۔ ھا حرف تنبیہ ہے جو ای ایہ اور اپنے مابعد کے اسم معرف باللام کے درمیان فصل کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نداء میں جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایہا اور مؤنث میں ایھا کو یا حرف نداء کے ساتھ بڑھا دیا جاتا ہے مذکر کی مثال آیت ھذا۔ مؤنث کی مثال :۔ یایھا النفس المطمئنۃ (89:27) اے اطمینان پانے والی روح۔ یایھا : اے۔ المزمل : منادی۔ تزمل (تفعل) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے اصل میں المتزمل تھا ت کو ز میں مدغم کیا گیا۔ کپڑے میں لپٹنے والا۔
Ayah 73:2

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

(73:2) قم الیل : قم ، قوم قومۃ وقامۃ (باب نصر) مصدر سے فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے بمعنی تو کھڑا ہواکر۔ نماز (نفل) پڑھا کر۔ الیل مفعول فیہ۔ رات بھر ۔ ساری رات۔ الا قلیلا : الا حرف استثناء قلیلا مستثنیٰ ۔ ای یسرا منہ، اس سے تھوڑا کم۔
Ayah 73:3

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

(73:3) نصفہ : مضاف مضاف الیہ۔ اس کا نصف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الیل کی طرف راجع ہے۔ نصفہ بدل ہے من الیل سے۔ بدیں وجہ منصوب ہے۔ اوانقص منہ قلیلا : او بمعنی یا۔ منہ ای من نصف الیل، نصف رات سے۔ انقص فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ نقص (باب ضرب) مصدر۔ تو کم کر۔ قلیلا مفعول انقص کا تھوڑا ساکم۔ یا اس سے تھوڑا سا کم کرو۔ یعنی نصف شب سے بھی تھوڑا سا کم۔
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

(73:4) او زد علیہ : او بمعنی یا۔ زد فعل امر، واحد مذکر حاضر ، زیادۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ علیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب نصف لیل کی طرف راجع ہے۔ یا نصف شب سے کچھ بڑھا دیا کرو۔ آیات 3 - 4 کا مطلب یہ ہوا کہ ساری رات کی بجائے کچھ کم وقت عبادت کیا کرو نصف شب یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ۔ ورتل القران ترتیلا۔ واؤ عاطفہ رتل فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ترتیل (تفعیل) مصدر سے۔ ترتیلا مصدر تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ جملہ کا عطف قم الیل پر ہے۔ ترتیل کا معنی ہے الفاظ کا منہ سے درستی کے ساتھ بسہولت ادا کرنا۔ آہستہ آہستہ واضح اور صاف طور پر پڑھنا۔ الترتیل : ھو التوقف والترسل والتمہل والافھام وتبیین القرأۃ حرفا حرفا (الخازن) ۔ ترتیل سے مراد ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا۔ آہستہ آہستہ پڑھنا۔ بغیر جلدی کے اطمینان سے پڑھنا۔ سوچ سمجھ کر پڑھنا اور قرأت میں ایک ایک حرف کو واضح طور پر ادا کرنا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ :۔ رسول کریم ﷺ سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا۔ تو آپ نے فرمایا : لا تتثرہ نثر الدقل ولا تھزہ ھزا لشعر قفوا عنہ عجائبہ وحرکوایہ القلوب ولا یکن ہم احدکم اخر السورۃ (روح المعانی) ۔ جس طرح تم جلدی جلدی ردی کھجوریں پھینکتے چلے جاتے ہو اور بال کاٹتے چلے جاتے ہو ایسا نہ کرو۔ جب کوئی نادر نکتہ آئے تو ٹھہر جاؤ اپنے دل کو اس کی اثر انگیزی سے متحرک کرو، تمہیں اس سورة کو جلدی جلدی ختم کرنے کی فکر نہ ہو۔ رتل القران ترتیلا : ای فی اثناء ما ذکر من الیقام۔ یعنی اثناء قیام میں ۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے

(73:5) انا سنلقی علیک قولا ثقیلا : انا مرکب ہے ان حرف مشبہ بالفعل سے اور نا ضمیر جمع متکلم سے۔ بیشک ہم۔ سنلقی : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل قریب کے معنی دیتا ہے۔ نلقی مضارع جمع متکلم القاء (افعال) مصدر سے۔ ہم عنقریب ڈالنے والے ہیں آپ پر ایک بھاری بات کا بوجھ۔ قولا ثقیلا : موصوف و صفت مشبہ۔ بھاری بات، مراد قرآن مجید ۔ بعض کے قول کے مطابق قولا ثقیلا سے مراد ہے نماز شب کا حکم۔ کیونکہ نماز شب نفس کے لئے بہت گراں ہے۔ اس تفسیر پر یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید اور ضمیمہ ہے اور سنلقی میں س استقبال کے لئے نہیں ہے صرف تاکید کے لئے ہے۔ لغات القرآن میں اس سے مراد دعوت و تبلیغ اسلام لیا ہے۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے

(73:6) ان ناشئۃ الیل ہی اشد وطاو اقوم قیلا : ان حرف مشبہ بالفعل ناشئۃ الیل مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ہی اشد وطا اس کی خبر ناشئۃ (منصوب بوجہ عمل ان) مصدر بروزن اسم فاعل ۔ رات کو خواب سے بیدار ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ ن، ش ء مادہ۔ النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا۔ اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ولقد علمتم النشاۃ الاولی (56:62) تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے۔ آیت زیر مطالعہ کا ترجمہ ہوگا :۔ کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے ۔ یہاں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں۔ ہی ضمیر واحد مؤنث غائب ناشیئۃ الیل کی طرف راجع ہے اشد نہایت سخت شدۃ سے جس کے معنی سخت اور قوی کے ہیں افعل التفضیل کا صیغہ ہے وطا اسم ہے۔ تکلیف، مشقت، دشواری، و ط ء حروف مادہ۔ مفردات راغب میں ہے :۔ وطؤ الشیء فھو وطی کے معنی کسی چیز کے پامال ہونے کے ہیں الوطاء پر وہ شے جو پاؤں کے نیچے روندی جائے۔ جیسے فراش وغیرہ۔ وطاتہ برجلی وطا ووطئہ کسی چیز کو پاؤں کے نیچے روندنا۔ وطأ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ ازروئے نفس کشی۔ واقوم قلیلا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ ہے اقوم، قیام سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے جس کا معنی راست ہونے اور اعتدال پر رہنے کے بھی آتے ہیں ، سب سے سیدھا۔ سب سے معتدل۔ قیلا منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ واقوم قیلا اور وہ یعنی قیام لیل بات کرنے کے لحاظ سے یعنی ذکر کرنے یا دعا مانگنے کے لحاظ سے بھی بہت موزوں اور درست ہے۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

(73:7) ان لک فی النھار سبحا طویلا : ان حرف مشبہ بالفعل سبحا موصوف اسم ان طویلا صفت لک فی النھار اس کی خبر سبحا یہ سبح یسبح (باب سمع) کا مصدر ہے جس کے معنی مشغول ہونا۔ تیزی سے تیرنا۔ امام راغب فرماتے ہیں :۔ سبح کے معنی پانی اور ہوا میں تیز گزرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دن کے وقت ضروری کاموں کی تکمیل ، تبلیغ، اور دعوت دین کے لئے آپ کو مصروفیت رہتی ہے رات فراغت کا وقت ہوتا ہے اس لئے آپ کو رات کو نماز پڑھنی چاہیے۔ گویا کہ جملہ گزشتہ حکم کی علت ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

(73:8) واذکر اسم ربک واؤ عاطفہ ہے جملہ کا عطف قم الیل پر ہے۔ اذکر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) مصدر۔ تو یاد کر۔ اسم مضاف ربک مضاف مضاف الیہ۔ مل کر اسم کا مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل اذکر کا۔ اپنے رب کا نام لیا کر۔ وتبتل الیہ تبتیلا ۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تبتل فعل امر واحد مذکر حاضر تبتل (تفعل) مصدر سے۔ جس کے معنی سب سے الگ ہوکر اللہ کے لئے عبادت اور نیت کے خالص کرنے کے ہیں۔ یعنی تو اخلاص نیت اور عبادت میں سب سے منقطع ہوجا۔ مصدر تبتیلا (مفعول مطلق) کو تاکید کے لئے لائے ہیں۔ واعدہ کے مطابق مفعول مطلق فعل کے باب سے تبتلا ہونا چاہیے تھا لیکن کیونکہ بتل تبتل دونوں ہم معنی ہیں اس لئے باب تفعیل کا مصدر ذکر کردیا۔ تاکہ قوافی کی رعایت ہوجائے۔
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

(73:9) رب المشرق والمغرب۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) یہ جملہ خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے۔ کلام یوں ہوگا۔ ھو رب المشرق والمغرب۔ (2) یہ جملہ مبتداء ہے اور لا الہ الا ھو اس کی خبر ہے۔ لا الہ الا ھو : لا۔ لاء نہی ہے الہ کا نصب لا کے عمل سے ہے۔ الا حرف استثناء ہے ھو مستثنیٰ ۔ ماسوائے الوہیت کی نفی کا ذکر ہے۔ یعنی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ یہ خدا کی صفت ہے۔ فاتخذہ وکیلا :سببیہ ہے اتخذ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) مصدر ہے۔ تو بنالے۔ تو پکڑ رکھ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے۔ وکیلا : وکل سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے منصوب بوجہ مفعول کے ہے بمعنی کارساز ۔ مددگار، نگہبان۔ ذمہ دار۔ مطلب یہ کہ اللہ کی الوہیت منفردہ اس کے کارساز ہونے کی علت ہے جب اللہ ساری مخلوق کا رب ہے اور الوہیت میں منفرد ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ تمام معاملات اسی کے سپرد کر دئیے جائیں۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو

(73:10) واصبر علی ما یقولون واؤ عاطفہ ہے ما موصولہ ہے۔ یقولون مضارع جمع مذکر غائب صلہ۔ اپنے موصول کا۔ مطلب یہ ہے کہ جو یہ کافر خرافات بکتے ہیں۔ تم کو شاعر۔ کاہن۔ ساحر۔ مجنون وغیرہ کہتے ہیں تم اس پر صبر کرو۔ واھجرہم ھجرا جمیلا واؤ عاطفہ اھجر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھجر باب نصر مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ دور رہنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جمیل بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ بمعنی بہتر۔ خوب تر۔ عمدہ۔ مطلب یہ کہ ان سے عمدگی کے ساتھ کنارہ کش ہوجاؤ۔ اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردو۔
Ayah 73:11

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور انکو تھوڑی سی مہلت دیدو

(73:11) ذرنی : ذر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب فتح، سمع) سے مصدر۔ جس کے معنی چھوڑ دینے کے ہوتے ہیں۔ ن وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم کی ہے۔ تو مجھے چھوڑ دے۔ والمکذبین اولی النعمۃ۔ واؤ عاطفہ۔ المکذبین اسم فاعل جمع مذکر (بحالت نصب۔ بوجہ مفعول) تکذیب (تفعیل) مصدر سے۔ المکذبین کا عطف ذرنی پر ہے یا المکذبین مفعول معہ ہے ۔ (مدارک التنزیل) ۔ اولی النعمۃ موصوف و صفت مل کر صفت ہے المکذبین کی۔ مال دار۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ آپ مجھے اور (ان) جھٹلانے والے مالداروں کو (اپنی حالت پر) چھوڑ ئیے۔ ومہلہم قلیلا : اس کا عطف ذرنی پر ہے۔ واؤ عاطفہ۔ مہل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تمہیل (تفعیل) مصدر سے۔ بمعنی مہلت دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع المکذبین ہے۔ قلیلا ای زمانا قلیلا تھوڑی سء مدت کے لئے۔ تھوڑی سی مہلت۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور آپ ان کو تھوڑی سی مہلت دیں ۔ یعنی آپ تھوڑا سا انتظار کریں ان کو سزا ملنے ہی والی ہے۔ یقولون میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب اور واھجرھم میں ضمیر ہم مفعول جمع مذکر غائب اور المکذبین اولی النعمۃ سے مراد کفار مکہ اور سرداران قریش ہیں۔ مقاتل بن حیان نے کہا ہے کہ آیت وذرنی ۔۔ الخ کا نزول مقتولین بدر کے بارے میں ہوا۔ کچھ ہی مدت گزری تھی کہ وہ بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔ یا اس سے مراد دنیاوی زندگی کی مہلت ہے۔
Ayah 73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے

(73:12) ان لدینا انکالا وجحیما : ای ان لدینا للکفرین فی الاخرۃ انکالا وجحیما۔ تحقیق آخرت میں ہمارے پاس کافروں کے لئے بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ان حرف تحقیق ہے لدینا مرکب ہے لدی (اسم ظرف) پاس ، نزدیک، مضاف اور نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ سے۔ ہمارے پاس۔ انکالا : نکل کی جمع ہے جس کے معنی سخت قید اور آہنی لگام کے ہیں۔ بیڑیاں۔ جحیما جحم سے (باب سمع) بروزن فعیل بمعنی فاعل، دہکتی ہوئی آگ۔ انکالا اور جحیما منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں۔
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے

(73:13) وطعاما ذاغصۃ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ذا بمعنی صاحب بحالت نصب مضاف، غصبۃ مضاف الیہ۔ دونوں مل کر صفت طعاما کی۔ غصبۃ سکی چیز کا حلق میں پھنسنا۔ وہ ہڑی جو حلق میں پھنس جائے یہاں مراد درخت زقوم یا ضریع یا غسلین جو دوزخیوں کی خوراک ہوگی۔ اور (ہمارے پاس کے لئے) ایسی خوراک ہے جو حلق میں پھنس جانے والی ہے نہ نیچے اترنے نہ باہر نکل سکے ۔ ای ذاغصبۃ یاخذ بالحلق لاھو نازل ولاھو خارج۔ وعذابا الیما۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے اس کا عطف جحیما پر ہے یا طعاما پر ہے اور ہمارے پاس ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ان لدینا ۔۔ الیما۔ حکم سابق کی علت ہے یعنی ان جھٹلانے والے دولت مندوں سے نپٹنے کا کام تم ہم پر چھوڑ دو کیونکہ ان کے لئے ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ، بھڑکتی ہوئی آگ ، حلق میں پھنسنے والا کھانا۔ اور درد ناک عذاب الیم ہے۔ حکم سابق کی علت (مظہری) تعلیل للامر (بیضاوی)
Ayah 73:14

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں

(73:14) یوم ترجف الارض والجبال، یوم ظرف زمان ہے جس میں کسی فعل کا وقوع ہوتا ہے اس سے پہلے لدینا انکالا وجحیما میں فعل کا معنی موجود ہے۔ مدارک التنزیل میں ہے :۔ یوم منصوب بما فی لدینا من معنی الفعل (مکذبین کے لئے یہ بیڑیاں، یہ بھڑکتی ہوئی آگ یہ حلق میں پھنس جانے والی خوراک اور یہ درد ناک عذاب ہم نے اس دن کے لئے رکھا ہوا ہے (یوم ترجف الارض الخ) جس دن زمین اور پہاڑ لرز جائیں گے الخ۔ ترجعف مضارع واھد مؤنث غائب رجف (باب نصر) مصدر۔ وہ لرزے گی۔ وہ کانپنے لگے گی۔ وہ کانپے گی۔ وکانت الجبال کثینا مہیلا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور پہاڑ ریت کے بہتے ٹیلے ہوجائیں گے۔ کانت ماضی واحد مؤنث غائب۔ کون (باب نصر) مصدر سے افعال ناقصہ سے ہے الجبال اس کا اسم کثینا مہیلا اس کی خبر۔ کثینا الرمل المجتمع ریت کا ٹیلہ۔ (موصوف) مہیلا، رملا سائلا متناثرا۔ ایسی ریت کا ڈھیر جو کہ ہوا کے جھونکوں سے یا کوئی ٹھوکر لگنے سے پانی کی طرح بہنے لگتا ہے (صفت کثیبا کی) ۔ مہیلا اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر۔ ہیل باب ضرب مصدر سے ریگ رواں ریگ سیال اصل میں مہیول تھا۔ واؤ کو حذف کرکے ی کو ساکن کیا (تفسیر حقانی) ۔
Ayah 73:15

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے

(73:15) انا ارسلنا الیکم رسولا : کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ یہ خطاب مکہ کے المکذبین اولی النعمۃ سے۔ شاھدا علیکم : ای یشھد یوم القیامۃ بما صدر منکم من الکفر والعصیان (روح المعانی) جو کفر و نافرمانی تم سے صادر ہوتی ہے قیامت کے روز وہ اس کی گواہی دے گا۔ شاھدا۔ گواہ، حاضر ہونے والا۔ شہادت دینے والا۔ بتانے والا۔ شھادۃ وشھود (باب سمع ) مصدر سے اسم فاعل کا سیغہ واحد مذکر۔ بنی کریم ﷺ کے اسماء گرامی میں سے ہے کیونکہ آپ قیامت میں امت کے گواہ اور دنیا میں تعلیم ربانی کے بتانے والے ہیں۔ شاھدا صفت ہے رسولا کی۔ کما : ک تشبیہ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ کہ جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ ارسلنا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تمہاری طرف رسول کو بھیجنا ایسا ہی ہے جیسا فرعون کے پاس رسول کو بھیجا تھا۔
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اسکو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔

(73:16) فعصی :تعقیب کا ہے عصی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب عصیان باب ضرب مصدر۔ اس نے نافرمانی کی۔ اس نے کہا نہ مانا۔ اس نے اطاعت نہ کی۔ الرسول : پیغمبر، رسول۔ یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ فاخذنہ اخذا وبیلا :سببیہ ہے اخذنا ماضی جمع متکلم اخذ (باب نصر) مصدر ہم نے پکڑا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع فرعون ہے۔ اخذا مفعول مطلق (پکڑ) (موصوف) وبیلا۔ وبل یوبل ونل و ویوم (باب کرم) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ سخت، ناخوشگوار یہ صفت ہے ۔ اخذ کی۔ ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

(73:17) فکیف تتقون :بمعنی پس، پھر۔ کیف حرف استفہام ہے۔ بمعنی کیسے۔ کس طرح ۔ کیونکر۔ تتقون مضارع جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر بمعنی ڈرنا۔ پرہیز کرنا بچنا۔ پھر تم کیسے بچ سکو گے (خطاب کفار مکہ سے ہے) ۔ ان کفرتم : ان شرطیہ کفرتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر کفر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی انکار کرنا۔ یوما : ای عذاب یوم۔ اس صورت میں یوما کا تعلق تتقون سے ہے۔ یوما مضاف الیہ ہے اور لفظ عذاب مضاف۔ مضاف کو حذف کرکے کے بعد مضاف الیہ کو اس کی جگہ کردیا اور اسی کا اعراب دیدیا۔ (مظہری) ترجمہ ہوگا :۔ (اے کفار مکہ جب فرعون کو حضرت موسیٰ کی نافرمانی کی پاداش میں غرق کردیا گیا اور وہ واصل یہ جہنم ہوگیا) تو پھر تم اس روز کے عذاب سے کیسے بچ سکتے ہو۔ یجعل الولدان شیبا : یہ جملہ یوما کی صفت ہے اور یجعل کا فاعل بھی یوما ہی ہے۔ فائدہ : یجعل کی نسبت یوما کی طرف مجازی ہے۔ حقیقت میں اس روز بچوں کو بوڑھا بنانے والا تو خدا تعالیٰ ہی ہے لیکن روز قیامت کو بچوں کو بوڑھا بنانے والا قرار دینا بطور مبالغہ ہے۔ اصل کلام یوں ہے :۔ یوم یجعل اللہ فیہ الولدان شیبا۔ جس روز کہ اللہ بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ (تفسیر مظہری) الوالدان : ولد کی جمع ، بچے ، بچیاں ، لڑکے ، لڑکیاں۔ شیبا۔ بوڑھے۔ (بوجہ مفعول منصوب ہے) اشیب کی جمع ہے جیسے ابیض کی جمع بیض ہے۔ یہ جملہ یوما کی صفت ہے۔
Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔

(73:18) السماء منفطر بہ : منفطر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انفطار (انفعال) مصدر۔ پھٹ جانے والا۔ یعنی پھٹ جائے گا۔ (اسم فاعل بمعنی مستقبل) ۔ فطر (مصدر۔ مجرد ثلاثی) بمعنی ہست سے نیست کرنا۔ عدم سے وجود میں لانا۔ پیدا کرنا۔ لغوی لحاظ سے فطر کے مفہوم میں پھاڑ کر وجود میں لانا یعنی پیدا کرنا۔ اسی مناسبت سے اس کا مفہوم قرار پایا۔ بہ میں ب سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب یوما کے لئے ہے یعنی آسمان اس روز (اس کی شدت سے) پھٹ جائے گا۔ یا ب بمعنی فی ہے : اس روز میں آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ جملہ یوما کی صفت ثانیہ ہے۔ وکان وعدہ مفعولا ۔ : کان افعال ناقصہ میں سے ہے وعدہ مضاف مضاف الیہ مل کر اسم کان ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ وعدہ اس کا وعدہ یعنی وعدہ عذاب۔ مفعولا خبر ہے کان کی۔ کیا ہوا۔ ہوگیا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ خدا کا وعدہ عذاب پورا ہو کر رہے گا۔ یہ جملہ یوما کی صفت ثالثہ ہے۔ ان دونوں جملوں کا عطف ۔ اول جملہ پر بغیر حرف عطف کے ہوگا۔ جیسے خلق الانسان ۔ علمہ البیان (55:3-4) کا عطف علم القرآن پر بغیر حرف عطف کے ہے۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے

(73:19) ان ھذہ تذکرۃ : ان حرف مشبہ بالفعل ھذہ اس کا اسم۔ تذکرۃ اس کی خبر۔ ھذہ : ای ایات القران، الایات الناطقۃ بالوعید (مدارک التنزیل عذاب کے متعلق آیات۔ ایات الموعدۃ۔ (بیضاوی) وعدہ عذاب کے متعلق آیات۔ تذکرۃ۔ نصیحت ، یاد دہانی۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے ۔ بیشک یہ قرآنی آیات۔ یا یہ قرآن ایک نصیحت ہے۔ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ پھر جو چاہے اپنے رب کی طرف آنے کا راستہ اختیار کرے۔ سبیلا بوجہ مفعول منصوب ہے
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کھبی) دو تہائی رات کے قریب اور (کھبی) آدھی رات اور (کھبی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑہتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ ترپاؤ گے اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(73:20) ان وان۔ تحقیق ۔ بےشک، یقینا، یہ دونوں حرف تحقیق ہیں اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہیں۔ خبر کی تاکید و تحقیق مزید کے لئے آتے ہیں۔ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ تقوم : مضارع واحد مذکر حاضر، قیام (باب نصر) ۔ تو کھڑا ہوتا ہے۔ تو اٹھتا ہے (نماز کے لئے) ۔ ادنی : دنو۔ (باب نصر) سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے بمعنی زیادہ قریب زیادہ نزدیک۔ زیادہ کم۔ یہ جب اکبر کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے معنی اصغر یعنی دوسرے کی بہ نسبت چھوٹے اور کم کے آتے ہیں جیسے ولا ادنی من ذلک ولا اکبر (58:7) اور نہ اس سے کم اور زیادہ ۔ اور جب خیر کے مقابلہ میں اس کا استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی ارذل کے یعنی بہت گھٹیا کے ہوتے ہیں۔ جیسے اتستبدلون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر (2:61) بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں لیتے ہو۔ اور جب اقصی کے مقابلہ میں آتا ہے تو اس کے معنی زیادہ قریب اور زیادہ نزدیک کا ہوتا ہے ۔ جیسے ذلک ادنی ان یعرفن (33:59) یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ جلد پہچانی جایا کریں۔ ادنی واحد مذکر ادان جمع۔ دنیا واحد مؤنث دنی جمع مؤنث۔ من ثلثی الیل : من حرف جار ثلثی (دو تہائی) ثلث کا تثنیہ بحالت جر۔ نون تثنیہ اضافت کے سبب سے حذف ہوگیا۔ ثلثی مضاف الیل مضاف الیہ۔ رات کا دو تہائی۔ انک تقوم ۔۔ الجملہ مفعول ہے فعل یعلم کا۔ ونصفہ وثلثۃ ہر دو کا عطف ادنی پر ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الیل کے لئے ہے۔ رات کا نصف۔ رات کا ایک تہائی۔ وطائفۃ۔ اس کا عطف تقوم کے ضمیر فاعل پر ہے۔ من تبعیضیہ ہے الذین معک موصول و صلہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ آپ اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں ان میں سے ایک گروہ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب۔ اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) ایک تہائی رات (نماز تہجد میں) کھڑے ہوتے ہیں۔ طائفۃ۔ گروہ۔ جماعت۔ بعض لوگ، کچھ لوگ۔ ایک اور ایک سے زائد سب طائفۃ کہلاتا ہے۔ طوف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ واللہ یقدر الیل والنھار۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف ربک پر ہے۔ یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تقدیر (تفعیل) مصدر۔ وہ اندازہ رکھتا ہے بجائے ضمیر کے اسم ظاہر (لفظ اللہ) کو ذکر کیا۔ یعنی اللہ ہی مقدار شب و روز سے واقف ہے تم ان کی واقعی مقدار سے ناواقف ہو۔ اس وقت گھڑی یا کوئی دوسرا آلہ وقت شناسی کا نہ تھا ۔ ان لن تحصوہ : ان مصدریہ۔ لن تحصو، مضارع نفی تاکید بہ لن صیغہ جمع مذکر احصاء (افعال) مصدر سے احاطہ کرنا۔ شمار کرنا۔ یہاں احصاء کے معنی اوقات کا شمار گھڑیوں کا گننا۔ اور ضبط اوقات مراد ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہے جس کا مرجع تقدیر لیل و نہار ہے۔ یا اس میں ان مخففہ ہے ان ثقیلہ سے۔ ہ ضمیر شان محذوف ہے۔ کلام یوں ہے :۔ علم انہ لا یصح منکم ضبط الاوقات (کشاف) ترجمہ :۔ اس کو علم ہے کہ تم صحیح طور پر رات دن کے اوقات کا اندازہ کرسکو گے۔ وقیل : کان الرجل یصلی الیل کلہ مخافۃ ان لا یصیب ما امر اللہ بہ من القیام (الخازن) یعنی بعض لوگ ساری ساری رات نماز میں کھڑے رہتے اس خوف سے کہ شاید ابھی وہ وقت پورا نہیں ہوا جو منشاء الٰہی ہے۔ فتاب علیکم : میںسببیہ ہے تاب ماضی واحد مذکر غائب توب وتوبۃ (نصر) مصدر۔ بمعنی توبہ کرنا۔ پھر آنا۔ باز آنا۔ جب اس کا استعمال علی کے صلہ کے ساتھ آئے تو اس کا معنی توبہ قبول کرنا۔ معاف کرنا ہوتا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس بدیں سبب اس نے مہربانی کی تم پر۔ (نصف وثلث شب کی قید اٹھادی) ۔ فاقرء وا ما تیسر من القران :سببیہ ہے۔ پس یہ سبب نصف شب و ثلث شب کی قید اٹھ جانے کے اب جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن (تہجد میں) پڑھ لیا کرو۔ اقرء وا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قراء ۃ (نصر، فتح) مصدر سے تم پڑھو۔ تم پڑھ لیا کرو۔ ما تیسر : ما موصولہ۔ تیسر اس کا صلہ۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ تیسر (تفعل) مصدر۔ جس کے معنی آسان ہونا کے ہیں۔ جتنا آسان ہو۔ علم ان سیکون منکم مرضی۔ علامہ پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔ علم کا فاعل اللہ ہے اور ان مخففہ ہے اور فاقرء وا کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوسرا فاقرء وا کی تاکید نہیں ہے بلکہ جو نئی مصلحت متقضی تخفیف تھی اس کے بیان کے لئے ہے۔ اسی لئے حکم کو اس پر متفرع کیا ہے۔ (جدا فرمایا ہے ) (مظہری) ۔ من تبعیضیہ ہے۔ ترجمہ :۔ اس نے جانا کہ تم میں سے بعض بیمار بھی ہوں گے۔ واخرون یضربون فی الارض۔ اور (بعض) دوسرے لوگ زمین میں سفر کے لئے نکلیں گے۔ ضرب فی الارض۔ زمین پر چلنا۔ پھرنا ۔ سفر کرنا۔ یعنی زمین پر مختلف مقامات و ممالک کا سفر کریں گے۔ یبتغون من فضل اللہ۔ جملہ یضربون کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔ یبتغون مضارع جمع مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر۔ بمعنی ڈھونڈھنا۔ تلاش کرنا۔ طلب کرنا۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا فضل ، مراد تجارتی نفع۔ علم، ثواب، روزی، رزق۔ اللہ کے فضل کی تلاش میں۔ اللہ کا فضل ڈھونڈتے ہوئے۔ واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ۔ اور بعض دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے بھی یعنی جہاد کے لئے۔ یقاتلون مضارع جمع مذکر غائب۔ مقاتلۃ و قتال مصدر سے بمعنی لڑائی کرنا ۔ جنگ کرنا۔ قتال کرنا۔ فاقرء وا ما تیسر منہ : ای فاقرء وا ما تیسر من القران (اوپر ملاحظہ ہو) یعنی بیمار لوگ، طالب علم، طالب تجارت۔ حج کو جانے والے۔ مثلا شیان رزق۔ جہاز کو جانے والے ، قیام شب (دو ثلث رات) نصف شب۔ اس کا نصف، اس کا ثلث) کی سنت کو ادا نہیں کرسکیں گے۔ لہٰذا ایک مخصوص حصہ شب بیداری ختم کردی گئی۔ اب جس قدر آسان اور اتنا حصہ شب جاگ لیا کرو۔ اور جتنا قرآن مجید آسانی سے اس وقت پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ واقیموا الصلوٰۃ اور (فرض) نماز ادا کیا کرو۔ اقیموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اقامۃ (افعال) مصدر سے جس کا معنی ٹھہرنے اور قائم کرنے، درست رکھنے کے ہیں ۔ یعنی نماز کو مداومت کے ساتھ پڑھا کرو۔ جملہ کا عطف فاقرء وا پر ہے۔ واتوا الزکوۃ۔ اس جملہ کا عطف بھی سابقہ جملہ کی طرح فاقرء وا پر ہے۔ اتوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ ایتاء (افعال) مصدر سے۔ تم دو ۔ تم دیا کرو۔ یعنی فرض زکوۃ ادا کیا کرو۔ واقرضوا اللہ قرضا حسنا۔ یہ جملہ بھی معطوف ہے اس کا عطف بھی حسب بالاجملہ سابقہ فاقرء وا پر ہے اور اللہ کو قرض حسنہ دیا کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے زکوۃ کے علاوہ دوسرا صرف خیر ہے جیسا کہ رشتہ داروں سے سلوک ، مہمان نوازی۔ حضرت پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے اس سے عام اطاعت الٰہیہ مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زکوۃ کو اچھے طریقہ پر ادا کرنا مراد ہو لفظ اقرضوا قرضا حسنا میں حسنا اس امر پر دلالت کر رہا ہے اور معاوضہ دینے کے وعدہ کی طرف طبائع کو مائل کرنا مقصود ہے۔ اقرضوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اقراض (افعال) مصدر سے تم قرض دو اللہ کو اللہ مفعول اقرضوا کا۔ قرضا مفعول ثانی حسنا صفت ہے قرضا کی۔ وما تقدموا لانفسکم من خیر۔ جملہ مبتداء ہے۔ تجدوہ عبد اللہ۔ اس کی خبر۔ مام موصولہ ہے۔ من خیر میں من تبعیضیہ نہیں ہے بلکہ بیان جنس کے لئے ہے جو نیکی۔ جونسی نیکی۔ تقدموا مضارع جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر۔ تم آگے بھیجو گے تم آگے بھیجو۔ اصل میں تقدمون تھا۔ ن اعرابی عامل کے سبب سے ساقط ہے۔ تم پاؤ گے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع خیر ہے یعنی تم اس نیکی کو اللہ کے ہاں پاؤ گے۔ ھو خیرا و اعظم اجرا : اعظم اجرا دونوں تجدوا کے مفعول ثانی ہیں اس لئے منصوب ہیں۔ ھو ضمیر فعل ہے۔ اور اجرا بوجہ تمیز کے منصوب ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے ہاں (جاکر) بہتر اور بڑے اجر کی چیز پاؤ گے۔ استغفروا اللہ امر جمع مذکر حاضر استغفار (استفعال) مصدر ۔ تم مغفرت مانگو اللہ سے۔ تم اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو ان اللہ غفور رحیم : بیشک اللہ تعالیٰ قصوروں کو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ فائدہ : آخرت کے لئے نیکیاں کرنے کی تلقین کرکے بتایا کہ محض اپنی نیکیوں پر اعتماد اور بھروسہ کرکے نہ بیٹھ رہو۔ کیونکہ آدمی کی کوئی نیکی قصور سے خالی نہیں ہوتی۔ کتنی بڑی نیکی ہی سرزد ہو بارگاہ خداوندی کے شایان شان نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ساتھ اپنی عاجزی ، قصور اور حقارت کا اقرار شامل نہ ہو۔ لہٰذا نیکی کرتے ہوئے بھی اپنی کوتاہیوں کی معانی مانگتے رہو۔ بیشک وہی قصوروں کو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ تھوڑے عمل کا بھی بہت بڑا ثواب دینے والا ہے۔