Al-Muzzammil 73:7

Al-Muzzammil · from ayah 7

73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا ۟ؕاِنَّ لَـكَ فِى النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, for you by day is prolonged occupation.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Muzzammil

All translations of 73:7

دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

دن میں تو تم لمبی مصروفیت میں رواں دواں رہتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک آپ کے لئے دن میں بہت سی مصروفیات ہوتی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ تیرے لیے دن میں ایک لمبا کام ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

دن کے وقت تو آپ کو لمبی چوڑی مصروفیات ہوتی ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دن میں بھی تمہارے لیے کافی تسبیح کا موقع ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلا شبہ دن (کے اوقات) میں آپ کے لئے بہت کام ہوتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک آپ کے لئے دن میں بہت مشغولی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا دن کے اوقات میں تو آپ ﷺ کے لیے بڑی مصروفیات ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دن میں تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

You are indeed much occupied during the day with the affairs of the world.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, in daytime, you have a lengthy work to do.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, in daytime, you have a lengthy work to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, for you in the day is lengthy Sabh.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thou hast by day a chain of business.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, for you by day is prolonged occupation.

— Saheeh International

During the day, you are preoccupied with many activities.

— Muhammad Sarwar

Surely you have in the day time a long occupation.

— Muhammad Habib Shakir

Verily there is for thee by day occupation prolonged.

— Abdul Majid Daryabadi

True, there is for thee by day prolonged occupation with ordinary duties:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 73:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

رسول اللہ کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کرلیں، جیسے فرمان ہے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16؀) 32۔ السجدة :16) ، ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں، حضور ﷺ پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَمِنَ الَّيْلِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْمُزَّمِّل 6 اصل میں لفظ ناشئۃ الیل استعمال کیا گیا ہے جس کے متعلق مفسرین اور اہل لغت کے چار مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ ناشئہ سے مراد نفس ناشئہ ہے، یعنی وہ شخص جو رات کو اٹھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد رات کے اوقات ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں رات کو اٹھنا۔ اور چوتھا قول یہ ہے کہ اس لفظ کا اطلاق محض رات کو اٹھنے پر نہیں ہوتا بلکہ سو کر اٹھنے پر ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ اور مجاہد نے اسی چوتھے قول کو اختیار کیا ہے۔ سورة الْمُزَّمِّل 7 اصل میں لفظ اشد وطاً استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں اسے ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ رات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا . لفظ سبح کے لفظی معنے جاری ہونے اور گھومنے پھرنے کے ہیں اسی سے پانی میں تیرنے کو بھی سبح اور سباحت کہا جاتا ہے کہ پانی میں بغیر کسی رکاوٹ کے گھومنا پھرنا تیراکی کے ساتھ آسان ہے۔ یہاں مراد سبح سے دن بھر کے مشاغل ہیں جن میں تعلیم و تبلیغ اور اصلاح خلق کے لئے یا اپنی معاشی مصالح کے لئے چلنا پھرنا سب داخل ہیں۔ اس آیت میں قیام الیل کے حکم کی تیسری حکمت و مصلحت کا بیان ہے یہ بھی آنحضرت ﷺ اور پوری امت کے لئے عام ہے وہ یہ کہ دن میں تو رسول اللہ ﷺ اور اسی طرح دوسرے سبھی حضرات کو بہت سے مشاغل چلنے پھرنے کے رہتے ہیں۔ فراغ بالی سے عبادت میں توجہ مشکل ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’سبح طویل‘ کی تاویل: عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی یہ لیے ہیں کہ دن میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے کام ہیں یعنی دن میں چونکہ دوسرے بہت سے دھندے گھیرے رہتے ہیں، نماز کے لیے دلجمعی کا وقت مشکل ہی سے میسر آتا ہے، اس وجہ سے شب میں تم کو تہجد کے اہتمام کا حکم دیا گیا۔ لفظ ’سبح‘ کے اندر، ازروئے لغت، اس معنی کی گنجائش موجود ہے لیکن ہمارا دل مختلف وجوہ سے اس تاویل پر نہیں جمتا۔ اول وجہ یہ ہے کہ قیام لیل کے لیے پچھلے پہر کا وقت اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے نہیں منتخب فرمایا ہے کہ دن میں آدمی کے سامنے دوسری بہت سی مشغولیتیں ہیں بلکہ قرآن کے متعدد اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یعنی رات کو نماز اور تلاوت زیادہ مفید اور موثر ہے، یعنی اس پر ہمیشگی کر، دن ہو یا رات، اللہ کی تسبیح و تمحید اور تکبیر و تہلیل کرتا رہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: یعنی دن کا وقت چونکہ دوسرے کاموں میں مصروفیت کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اس میں اتنی دلجمعی کے ساتھ عبادت مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان لک .................... طویلا (73:7) ” دن کے اوقات میں تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں “۔ لہٰذا دن کو ان مصروفیات میں گزرنا چاہئے اور رات کو اللہ کے لئے مختص کرنا چاہئے اور نماز اور ذکر میں مصروف رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی دن میں لوگوں کو سمجھانا اور دوسرے کئی طرح کے مشاغل رہتے ہیں۔ گو وہ بھی آپ ﷺ کے حق میں بالواسطہ عبادت ہیں۔ تاہم بلاواسطہ پروردگار کی عبادت اور مناجات کے لیے رات کا وقت مخصوص رکھنا چاہیے۔ اگر عبادت میں مشغول ہو کر رات کی بعض حوائج چھوٹ جائیں تو کچھ پروا نہیں۔ دن میں ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا۔ } ”یقینا دن کے اوقات میں تو آپ ﷺ کے لیے بڑی مصروفیات ہیں۔“ دن کے اوقات میں تو آپ ﷺ کو بہت سی دوسری مصروفیات کا سامنا ہوتا ہے۔ دعوت کے سلسلے میں طرح طرح کے لوگوں سے ملنا اور ان کی کڑوی کسیلی باتیں سننا بذات ِخود ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ ان مصروفیات میں آپ ﷺ کی توجہ بٹی رہتی ہے۔ لیکن رات کی تنہائیوں میں تو بس آپ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کا رب ہے۔ اس وقت آپ ﷺ پوری توجہ اور دلجمعی سے اپنے رب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6 تہجد کا لغوی مفہوم :۔ پانچ نمازوں کی فرضیت تو معراج کو ہوئی تھی۔ اس سے پہلے آپ ﷺ بھی اور دوسرے صحابہ کرام ؓ بھی یہی رات کی نماز ہی پڑھا کرتے تھے۔ نماز باجماعت کا بھی کوئی اہتمام یا حکم نہیں تھا۔ صحابہ کرام ؓ اپنے اپنے گھروں میں یہ نماز اپنے اپنے طور پر ادا کرلیا کرتے تھے۔ جب معراج میں پانچ وقت نمازیں فرض ہوئیں تو یہ نماز صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے فرض رہ گئی باقی مسلمانوں سے اس کی فرضیت ساقط کردی گئی۔ البتہ اس کے ادا کرنے کی ترغیب ضرور دی گئی۔ اب اس نماز کی حیثیت عام مسلمانوں کے لیے سنت موکدہ کی ہے۔ اس کے اوقات بھی مختلف تھے۔ کئی مسلمان اسے رات کے ابتدائی حصہ میں ادا کرلیا کرتے تھے۔ بعض دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ محمد ﷺ بن عبداللہ مکی سے بڑھ کر مشغول پروگرام آج تک دنیا میں کسی کا نہیں ہوا۔ ہر لمحہ طاعت الہی و خدمت خلق ہی کی نذر رہتا تھا۔ ضائع آپ ﷺ نے اپنی عمر گرامی کا ایک منٹ بھی نہیں ہونے دیا۔ (آیت) ” سبحا طویلا “۔ سبح کے لفظی معنی تیرنے اور تیز چلنے کے ہیں، اور اس کے تحت میں آپ ﷺ کی دینی ودنیوی ہر ہر مشغولی آگئی۔ حقیقتا آپ ﷺ کی تو ہر دنیوی مشغولی بھی دینی ہی تھی، اور ضروری آرام و تفریح بھی عین طاعت ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ان لک فی النھار سبحا طویلا، یہاں سبح سے دن بھر کے مشاغل مراد ہیں جن میں تعلیم، تبلیغ، اصلاح خلق یا اسے معاشی مصالح کے لئے چلنا پھرنا داخل ہے، مذکورہ مشاغل کی وجہ سے میں عبادت کے لئے وقت نکالنا دشوار ہوتا ہے، اس کے علاوہ شورو شغب کی وجہ سے یکسوئی میں خلل پڑنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے، رات کا وقت اس کام کے لئے نہایت موزوں و مناسب ہے، لہٰذا بقدر ضرورت آرام کے ساتھ قیام لیل کی عبادت بھی یکسوئی اور اطمینان قلبی کے ساتھ ہوجائے گی۔ فائدہ : حضرات فقہاء نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ علماء و مشائخ جو تعلیم و تربیت اور اصلاح خلق کی خدمتوں میں لگے رہتے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ یہ کام دن ہی تک محدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان لک فی النھار سبحا طویلا . اَلسَّبْحُ ۔ تیزی سے جانا۔ پانی میں تیرنے کو سباحت اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دن میں ضروری کاموں کی تکمیل ‘ تبلیغ اور دعوت دین کے لیے آپ کو ادھر ادھر جانا پڑتا ہے اور ان امور میں آپ مشغول رہتے ہیں۔ رات فراغت کا وقت ہوتا ہے اس لیے آپ کو رات کو نماز پڑھنی چاہیے گویا یہ جملہ گزشتہ حکم کی علّت ہے۔ نمازِ شب کے فضائل کا بیان حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو ہمارا رب نچلے آسمان پر نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے ‘ کوئی ہے کہ مجھ سے دعا کرے اور میں قبول کروں ‘ کوئی ہے کہ مجھ سے مانگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–9

(7۔ 9) اور آپ کو دن میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوب موقع رہتا ہے اور اپنے پروردگار کے حکم سے نماز پڑھیے یا یہ کہ اس کی توحید بیان کیجیے اور اپنی نماز دعا اور عبادت خالص اللہ ہی کے لیے کرو اسی کی عبادت کر کے اپنا پروردگار بناؤ یا کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے فتح وثواب کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اسی کو ذمہ دار بناؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان لک فی الھار سبحاً طویلاً :”سبحا“ اور ”سباحۃ“ (ف) کا اصل معنی تیرنا ہے ، جیسے فرمایا (والسبحت سبحاً (النازعات : 3)”اور جو تیرے تیرنے والے ہیں ! تیزی سے تیرنا۔“ مراد ادھر ادھر آنا جاا، کام کاج اور مشغولیت ہے، یعنی دن کے وقت آپ کو گھر کے کام، فکر معاش، تبلیغ دین، مہمان نوازی، مسلمانوں کے معاملات کی اصلاح اور جہاد فی سبیل اللہ، غرض بیشمار مصروفیات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جتنا مشغول وقت گزارا ہے ایسا مشغول وقت گزارنے والا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ایسی مشغولیت میں دن کے وقت ذکر الٰہی، قیام اور تلاوت کیلئے الگ وقت ناکلنا ممکن نہیں تھا، اس لئے خاص ان کاموں کے لئے رات کو اٹھنے کی تاکید…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

سبحا طویلا کا معنی مفہوم۔ مسئلہ نمبر 5۔ ان لک فی النھار سبحا طویلا۔ عام قرات میں حاء غیر معجمہ کے ساتھ ہے یہاں آپ کو ضروریات کے لیے آناجانا پڑتا ہے۔ سبح کا معنی دوڑنا اور چکرلگانا ہے اسی سے پانی میں تیرنے والا ہے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں مارتا اور فرس سابح ہے جو گھوڑا بہت تیز دوڑتا ہے۔ امراء القیس کا شعر ہے۔ مسح اذا ما السابحات علی الونی، اثرن الغبار بالکدید المرکل۔ وہ بہت تیز دوڑنے والا ہوتا ہے جب کہ تیز رفتار گھوڑے تھکاوٹ کے وقت سخت جگہ غباراڑاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سبح سے مراد فراغت ہے یعنی دن کے وقت کام کاج کے لیے آپ کے پاس فراغت ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ دن کے وقت آرام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

59۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن نصر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہی اشد وطأ یہ نفس کو خوب زیر کرتا ہے یعنی یہ قول تیرے لیے بہت زیادہ موافق ہے آیت واقوم قیلا یعنی فارغ کرنے والا ہے تیرے دل کو۔ 60۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشد وطا یعنی تو اپنے کانوں کو اپنی آنکھوں کو اور اپنے دل کو ایک دوسرے کے موافق کرلے آیت واقوم قیلا اور قراءت کو ثابت کرنے والا ہے۔ 61 عبدالرزاق وعبد بن حمید وبن نصر نے قتادہ (رح) سے آیت اشد وطأکے بارے میں روایت کیا کہ رات کا قیام خیر اور نیکی میں ثابت قدم رکھتا ہے آیت واقوم قیلا اور قراءت پر اجر مرتب کرنے والا ہے۔ 62۔ ابن جریر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان لَكَ فِي النَّهَارِ : بیشک آپ ﷺ کے لیے دن میں ] [سَبْحًا طَوِيْلًا : طویل مصروفیت ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًاؕ007﴾ (بےشک آپ کو دن میں لمبا کام رہتا ہے) آپ کے مشاغل منتشر ہیں اور متفرق ہیں۔ امور خانہ داری بھی ہے آنے جانے والے لوگ بھی ہیں دعوت و ارشاد کا کام بھی ہے اس لیے لمبی نماز پڑھنے کے لیے رات تجویز کی گئی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–14

حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔ مشرکین مکہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” ان لک فی النہار “ سبحا طویلا، مہمات میں طویل تصرف و اشتغال یعنی دن بھر آپ دوسرے مہمات و مشاغل میں مصروف رہتے ہیں اور عبادت کے لیے بالکلیہ فارغ نہیں ہوسکتے، اس لیے رات کے لمحات کو غنیمت جانیں اور رات کو اٹھ کر اللہ کی عبادت بجا لائیں (سبحا طویلا) ای تقلبا وتصرفا فی مہماتک واشتغالا بشواغلک فلا تستطیع ان تتفرغ للعبادۃ فعلیک بھا فی اللیل (روح ج 29 ص 105) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

کوائف اور مضامین سورة : اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ لَكَ فِي النَّہَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا۝ 7 ۭ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ سبح السَّبْحُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

1 ؎ مواطاۃ بمعنی مطابقہ ہے کمافی قولہٖ تعالیٰ لیواطئو عدۃ ماحرم اللہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ لَـکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلاً ۔ (المزمل : 7) (بیشک آپ کے لیے دن کے وقت بہت مصروفیات ہیں۔ ) سَبْح…کے لفظی معنی جاری ہونے اور گھومنے پھرنے کے ہیں۔ اسی سے پانی میں تیرنے کو بھی سَبْح اور سیاحت کہا جاتا ہے۔ کیونکہ پانی میں بغیر کسی رکاوٹ کے گھومنا پھرنا تیراکی کے ساتھ آسان ہے۔ قِیَامُ الَّـیْل کی ایک اور حکمت اس آیت کریمہ میں قیام اللیل کی تیسری حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے کہ رات کو نصف شب یا اس سے کچھ کم یا زیادہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں کھڑے رہنے اور عبادت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اور رات کو بطور خاص اس کے لیے مقرر فرمایا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دن میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–10

فہم القرآن ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔ نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : اِنَّ لَکَ فِی النَّھَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا (بےشک تم کو دن میں بہت کام رہتا ہے) اپنے مشاغل اور مہمات میں بہت آنا جانا پڑتا ہے۔ پس رات کو اپنے رب کی عبادت کیلئے فارغ کرلیں۔ نمبر 2۔ لمبی فراغت ہے نیند اور آرام کیلئے سبحًاؔ فراغت کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ان ناشئۃ الیل کی تفسیر 6 ۔” ان ناشئۃ اللیل “ یعنی اس کی تمام گھڑیاں اور اس کی ہر گھڑی ” ناشئہ “ ہے اس کے ساتھ نام رکھی گئی اس لئے کہ وہ ظاہر ہوتی ہے اس سے ” نشات السحابۃ “ ہے جب بادل ظاہر ہو اور ہر چیز جو رات کو پیدا ہو اور ظاہر ہو تو اس کو ” نشافھونا شیئ “ کہا جاتا ہے اور جمع ” ناشئۃ “ ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے ابن عباس ؓ اور ابن زبیر سے اس کے بارے میں سوال کیا تو دونوں نے فرمایا رات ساری ناشئہ ہے۔ سعید بن جبیر اور ابن زید فرماتے ہیں رات کی جس گھڑی قیام کرے تو ” فقد نشا “ (اور وہ کھڑا ہوا) اور وہ حبشی لغت میں قیام ہے ۔ کہا جاتا ہے ” نشا “ فلاں یعنی کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–9

1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اسی لیے فرمایا (اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا) دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوت ہیں۔ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا پڑجاتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–7

قول باری ہے (ان ناشئۃ اللیلھی اشد وطا، درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن الزبیر ؓ کا قول ہے کہ جب تم رات کے وقت اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوجائو یعنی نماز پڑھو تو یہی رات کا اٹھنا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ ” پوری رات جب کوئی شخص اٹھ کر نماز پڑھتا رہے تو ایسا شخص رات کو اٹھنے والا کہلائے گا۔ عشاء کی نماز کے بعد کا وقت رات کو اٹھنے کا وقت ہے۔ “ حسن سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ قول باری (اشد وطاو اقوم قیلا ۔ نفس پر قابو پانے کے لئے زیادہ کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے) کے متعلق حسن کا قول ہے کہ ” یہ جسم کو زیادہ مشقت میں ڈالنے کا ذریعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

10 سبح طویل کا معنی و مطلب ؟ اور ذکر دوام کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا بلاشبہ آپ ﷺ کے لئے دن میں بہت کام ہوتا ہے : دین حلق کی تبلیغ و خدمت اور خلق خداوندی کی اصلاح و خیر خواہی کا کام، جس کا دائرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی جائے گا، اس لئے دن کے اوقات میں آپ ﷺ کو وہ یکسوئی میسر نہیں آسکتی، جو کہ رات کی ان گھڑیوں میں صنیب ہوتی ہے، یہ اس آیت کریمہ ا ایک اور مشہور و معروف مطلب ہے، جو عام طور پر لیا جاتا ہے اور جو اس بات پر مبنی ہے کہ " سجا " کے معنی یہاں پر شغل اور کام کے ہیں جبکہ اس کا ایک اور مطلب بعض اہل علم نے یہ مراد لیا ہے کہ آپ کے لئے اے پیغمبر دن کے وقت میں بھی تسبیح کا کافی موقع ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة المزمل۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اے کمبل پوش یہ بات ایک خوبصورت انداز محبت میں ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ راتوں کو اٹھیں یعنی قیام فرمائیں اور اللہ کی عبادت کریں اور تھوڑا وقت آرام کریں قیام کے لیے آدھی رات یا اس سے کچھ کم زیادہ کرلیاکریں اس میں نہایت خوبصورت انداز سے قرآن کی تلاوت کریں۔ نماز تہجد۔ یہ آیات ابتدائے اسلام کی ہیں اور ان میں آپ پر اور مسلمانوں پر تہجد کی نماز فرض کی گئی نیز رات کا اکثر حصہ قیام کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر درست طریقے سے اور خوبصورت انداز می پڑھنے کا حکم ہوا چناچہ آپ اور صحابہ کرام سال بھر تک تہجد ہی ادا فرماتے رہے جس میں طویل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 17 یعنی دوسری ضرورتوں کے لئے تو دن میں بڑا وقت مل جاتا ہے اس لئے رات کو اپنے رب کی عبادت کیجیے۔ جس کے دوسرے معنی مشغولیت کے بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(73:7) ان لک فی النھار سبحا طویلا : ان حرف مشبہ بالفعل سبحا موصوف اسم ان طویلا صفت لک فی النھار اس کی خبر سبحا یہ سبح یسبح (باب سمع) کا مصدر ہے جس کے معنی مشغول ہونا۔ تیزی سے تیرنا۔ امام راغب فرماتے ہیں :۔ سبح کے معنی پانی اور ہوا میں تیز گزرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دن کے وقت ضروری کاموں کی تکمیل ، تبلیغ، اور دعوت دین کے لئے آپ کو مصروفیت رہتی ہے رات فراغت کا وقت ہوتا ہے اس لئے آپ کو رات کو نماز پڑھنی چاہیے۔ گویا کہ جملہ گزشتہ حکم کی علت ہے۔ (تفسیر مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ المزمل۔ کپڑوں میں لپٹنے والا۔ قم۔ کھڑا ہوجا۔ انقص کم کرلے۔ گھٹالے۔ رتل۔ صاف صاف پڑھ۔ سنلقی۔ ہم بہت جلدڈالیں گے۔ قول ثقیل۔ بھاری کلام۔ ناشئۃ۔ رات کو اٹھنا۔ بیدار ہونا۔ وطئہ ۔ مشقت۔ روندنا۔ اقومل قیلا۔ زیادہ درست بات۔ سبح طویل۔ زیادہ کام۔ زیادہ مشغولیت۔ تبتل۔ کاٹ ڈال۔ تبتیل۔ خوب کٹنا۔ ھجر۔ چھوڑ دینا۔ مھل۔ مہلت دے۔ لدینا۔ ہمارے پاس۔ انکال۔ بیڑیاں۔ زنجیریں۔ ذاغصۃ۔ گلے میں پھنس جانے والا۔ ترجف۔ کانپے گی۔ کشیب۔ ریت کے ٹیلے۔ مھیل۔ نیچے دھکیلا گیا۔ بیل۔ سخت۔ عبرت ناک۔ شیب۔ بوڑھا۔ منفظر۔ پھٹ جانے والا۔ ثلثی الیل۔ دو تہائی رات۔ تیسر۔ آسان ہوگا۔ اعظم اجرا۔ بہت بوڑھا ہوا ثواب۔ تشریح : سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) یعنی دن میں لوگوں کو وعظ ونصیحت اور دوسرے کئی طرح کے مشاغل رہتے ہیں گو وہ بھی آپ کے حق میں بالواسطہ عبادت ہیں تاہم بلاواسطہ پروردگار کی عبادت اور مناجات کے لیے رات کا وقت مخصوص رکھنا چاہیے۔ اگر عبادت میں مشغول ہوکررات کی بعض حوائج چھوٹ جائیں تو کچھ پروا نہیں دن میں ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–10

سورة المزمل 1: المزمل کے معنے لفظ اس شخص کے بھی ہیں جو ایک بارعظیم کو اپنے کندوں پر اٹھالے ۔ اور نبوت و رسالت سے زیادہ بڑھ کر اور کون بار عظیم ہوسکتا ہے ۔ اس لئے فرمایا ۔ کہ اے وہ شخص جو نبوت کی گراں بار ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔ اٹھ اور رات کو چندے حضور خداوندی میں قیام کر ۔ رات بھر نہیں ۔ کیونکہ تمہیں دن کو بھی دین کی نشرواشاعت کے سلسلہ میں بہت کام کرنا ہے ۔ غور فرمائیے ۔ ایسا شخص جو رات کی تاریکیوں میں جبکہ ساری کائنات سورة ی ہے ۔ اپنے قلب کو نور اور روشنی سے بھررہا ہے ۔ اور اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہے ۔ کیا وہ جھوٹا ہوسکتا ہے جس کے ذوق عبودیت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ رات بھر عبادت میں مصروف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) بے شک آپے لئے دن میں طویل شغل اور بہت کام رہتا ہے۔ یعنی دن میں آپ کو بہت کام رہتا ہے تبلیغ کا کام ، خدمت خلق ، مریصوں کی عیادت، جنازے کی متابعت ، فقراء اور غربا کی خبرگیری، فصل مقدمات اور مسلمانوں کے بیشمار کام، غرض چونکہ آپ کو دن میں لمبے چوڑے شغل رہتے ہیں اس لئے آپ کے لئے مخصوص عبادت اور توجہ الی اللہ کے لئے رات کا وقت بہتر اور مناسب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دن کو لوگوں کو سمجھاتا ہے عبادت کا وقت مقرر کر رات کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–9

ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اب آپ ﷺ کو ان میں بھی بہت ہی مشغولیتیں ہوں گی ۔ 7 (سبحا) مشغول ہونا۔ تیزی سے تیرنا۔ یہ سبح یسبح کا مصدر ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں سبح کے معنی پانی اور ہوا میں تیز گزرنے کے ہیں جیسے بولا جاتا ہے سبح سبحار سباحۃ اور حسب ذیل معافی میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ (1) آسمان میں ستاروں کی گردش کے لئے جیسے (وکل فی فلک یسبحون) ” اور ہر کوئی اپنے چکر میں تیر رہا ہے۔ “ (2) گھوڑے کے دوڑنے کے لئے جیسے (والسبحت سبحاً ) ” اور قسم ہے ان گھوڑوں کے رب کی جو تیزی سے پیرنے والے ہیں۔ “ (3) کسی کام جلد لگ جانے کے لئے جیسے (ان لک فی النھار سبحا طویلاً ) ” بلاشبہ آپ کو ان میں بہت مشغول رہنا ہوگا۔ “ زیر نظر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ‌ سَبْحًا طَوِيلًا (Surely, in daytime, you have a lengthy work to do... 73:7). The word sabhun, literally means, 'to flow, walk or move about' from which we also get the sense 'of swimming in the water' because when a swimmer swims in the water, he moves about in it freely without any obstruction. Here the word signifies 'long chain of engagements in the day' which refers to multifarious duties to be performed with alacrity, such as educating the people, preaching to them, reforming humanity, performing domestic chores, discharging social responsibilities and moving…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

6 About the meaning of the word nashi'at a!-/ail, as used in the original, the commentators and lexicographers have expressed four different viewpoints: (1) That nashi'at implies the person himself who rises at night; (2) that it implies the hours of night; (3) that it means the rising by night; and (4) that it does not only apply to the rising in the night but rising after having had some sleep, Hadrat `A`ishah and Mujahid have adopted this fourth viewpoint. 7 The word ashaddu wat'an as used in the Text is so vast in meaning that it cannot be explained in any one sentence. Its one meaning…

Read the full tafseer →